PDA

View Full Version : جس وقت رب کو پاوّ تو بس اُسی کے ہو جاوّ



گلاب خان
12-02-2010, 10:27 PM
ثمرین بخاری ۔لاہور
خیالِ رب کیا کہنے اس ذات کے، جو انسان کہ ہی اندر سے ایک نقشِ حیرت کی ماند اُبھارتا ہے اور انسان کی روح کے آخری کونے تک پھیل جاتا ہے یہ مقام کُچھ اتنا حیرت انگیز ہے کہ انسان ایک لمحے کو تو سمجھ ہی نہیں پاتا کہ یہ کیا ہے کون ہے جو یک دم میرے اندر مثلِ آفتاب منور ہو گیا ، اور جب انسان کے لیے ادراک کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں اور وہ رب کو پا لیتا ہے تو پھر کُچھ اور یاد نہیں رہتا ، کیوں کہ جہاں رب ہو وہاں کوئی اور نہیں ہو سکتا سوا خود “اسی کے اور جہاں سے رب چلا جائے وہاں سب آ سکتے ہیں سوا “ رب “ کے اور جس نے رب کو کھو کر باقی سب کو پایا در حقیقت سب کھو دیا اور جس نے سب کو کھو کر رب کو پا لیا حقیقت میں اُسی نے سب کُچھ پا لیا -

اس لیے جس وقت رب کو پاوّ تو بس اُسی کے ہو جاوّ ورنہ دُنیا اور ماورائے دُنیا میں کہیں جائے بناہ نہ ملے گی نہ سر پہ آسمان باقی رہتا ہے نہ پاوں تلے زمین،اللہ کو تلاش کرنے کے لیے انسان کو جنگلوں میں جانے کی ضرورت ہے نہ ہی کہیں دشت کی خاک چھاننے کی ، نہ تو وہ پہاڑوں کی چوٹی پر ملے گا نہ ہی سمندروں کی عمیق گہرائی میں رب تو ہر وقت اپنے بندوں کے ساتھ ہے سوتے میں جاگتے میں کھاتے پیتے میں آتے جانے وہ ہر دم ساتھ ہے جو ہماررے ہی اندر بستا ہو اُس کی تلاش میں زمین و آسمان کو ایک کرنا چہ معنی، رب انسان میں بستا ہے اور ہر انسان رب میں ، بس جس کی نظر جہاں تک دیکھ سکے وہاں تک رب ہی رب کو پائے گا ، خدا تو انسان کی روح میں مستور ہے بس ایک اپنے اندر جھانکے کی ضرورت ہےاپنے اندر ہر طرف اللہ ہی روشن ہو گا پھر وہ ہی نظر جب باہر کی جانب اُٹھے گی تو کانیات کی ہر شے کو اس کا مظہر پاوّ گے -

اور جب انسان رب کو پا لیتا ہے تو اُس کی روح جسم کے قید خانے سے آذاد ہو کر فضا میں چار سو پھیل جاتی ہے مرنا جینا صرف اُن کہ لیے ہے جو نہ تو رب کی پہچان کر پاتے ہیں نہ کرنا چاہتے ہیں رب کی پہچان بندے کو موت کہ خوف سے ماورا کر دیتی ہے کیوں کہ خدا کو پانے کی پہلی شرط ہی یہ ہے کہ اپنے نفس کو اپنی ہستی کو اس ذاتِ لامحدود کے حوالے کر دیا جائے اس میں خود کو فنا کر کہ ہی بقا کو پایا جا سکتا ہے اور اس بقا کو پاتے ہی انسان ماورائے حیات کے اسرار ورموز سے واقف ہو پاتا ہے اور یہ ہی واقفیت اس کو موت سے بے پروا کر دیتی ہے کیوں کہ انسان جان جاتا ہے کہ موت سے خوف زدہ ہونے کی ضرورت نہیں کیوں کہ موت کُچھ نہیں سوا اس کہ ، کہ تم کو پھر سے اُسی حالت میں لوٹا دیتی ہے جہاں سے تمھارا آغاز تھا تم پہلے بھی روح تھے پھر تم کو جسم کے پنجرے میں ایک محدود مدت کے لیے مقید کر دیا جاتا ہے اور موت تم کو اس قید سے آزادی دلانے کا نام ہے اور جو جیز آزادی کا پروانہ ہو اس سے خوف زدہ ہونا نادانوں کا کام ہے ہوش مندوں کا نہیں -

جب خدا کی محبت میں خود کو مُکمل طور سے گُم کر لو تو خدا کے بندوں کے لیے اس کی مخلوق کہ لیے اپنی ہستی کو وقف کر دو اپنی ذات کو رب کہ بنایی تمام مخلوق میں اسی طرح سے تقسیم کرنا جیسے، سورج اپنی روشنی کو بانٹتا ہے ، جسے بادل خود کے لیے نہیں برستا ، جیسے ہوا اپنے لیے نہیں چلتی ، جیسے چاند اپنے لیے نہیں چمکتا ، جیسے پھول خود اپنے لیے نہیں کھلتا ،جیسے ستارے اپنے لیے نہیں ٹمٹماتے ،جیسے درخت اپنے بھل خود نہیں کھاتا ، بس اسی طرح سے خدا کی محبت میں ڈوبے اپنے وجود کو اس زبردست حکمت والے رب کی ہر تخلیق میں خود کو تقسیم کر دو اور یہ عمل ہمیشہ بلا تفریق کرو ، بلکل اسی طرح کے سمندر کا پانی ، پھول کی خوشبو ، بجلی کی چمک چاند کی ٹھنڈی چاندانی ، پوا کی تازگی شبنم کی نرمی ، دھنک کے سات رنگ ،سمندروں میں چھُپے موتی ہر ایک کے لیے ہیں تمھارا وجود بھی ایسا ہی ہونا چاہیے اور تمھاری ذات سے ہر ایک کو خدا کی ان تمام تخلیقات کی طرح ہی فیض پُہنچاوّ-

یہ بھی یاد رہے کہ گرتے ہوئے کو سہارا دہنے کے لیے بہت ضروری ہے کہ پہلے تم خود کھڑے ہوئے ہو، کیوں کہ ایک گرا ہوا دوسرے گرتے پوئے کو سہارا نہیں دے سکتا ، خود کو زمین کی مثال پر سنوارو ، جو ہر قسم اور ہر طرح کے پودے کو خود میں سمانے کی اور پنپنے کی اجازت دیتی ہے ، جب تم زندہ ہوتے ہو تو تمھارے لیے غذا مہیا کرتی ہے اور جب موت تمھارے جسموں کو بنجر کر ڈالتی ہے تب ماں کی ماند تم کو اپنے سینے میں سمیٹ لیتی ہے باوجود اس کہ ، کے تم کتنے گُناہ گار ہو اور اسی زمین کو کس تکبر اور غرور سے اپنے قدموں تلے روند کے گُزر جاتے تھے بس اچھے بُرے ، بڑے چھوٹے ہر ایک کے بن جاوّ کہ یہ ہی حق پرستوں کا شیوا ہے -

وہ پُکار جو رب کی طرٍف بُلانے کے لیے ہو، ہر وہ ذات اپنے اندر جذب کر لے گی جس میں حق کی ہلکی سی بھی کوئی کرن روشن ہو گی ۔حق کی مثال اس سورج کی طرح ہے جس پر ماضی کتنی ہی گہری گرد کی چادر لپیٹ دے اس کی شعاعیں پوری کاینات کو ہر صورت منور کرتی رہیں گیں، اور حق ہی وہ سچائی ہے جو مستقبل میں ہاتھ پھلائے ہم کو اپنی طرف بُلا رہا ہے دیر نہ کرو اور ماضی کی روشنی میں مستقبل کا حیسن سفر طے کرو اس سے پہلے کہ ، موت روح کو جسموں سے اُڑا لے جائے کیوں کے فلاح صرف اُن کے لیے ہے جو روح کے جسموں کی قید میں رہتے ہوئے حق یعنی اللہ کی پہچان پا لیں -