PDA

View Full Version : اُس کو بھی وصلٍ یار کی چاہت نہیں رہی



تا بی
03-19-2012, 06:08 PM
ہم نے بھی انتظار کے دیپک بجھا دیئے
آیا کبھی خیال تو آنکھیں چھلک پڑیَ
آنسو کسی کی یاد میں کتنے بہا دیئے
ہواکی ڈور پر چل کر کبھی آتا تھا جو ملنے
اُسی نے کہکشاں کی راہ میں پہرے بٹھا دیئے
کھنک آٹھتی تھی اس کی روح جن باتوں کی مستی میں
اُنہیں مصموم لفظوں سے کئی نقطے آٹھا دیئے
محبت میں میرے دل کو فریب آرزو دے کر
اُلفت کے معنی آج کل فرصت بتا دیئے
بے تابی دل کہنے گئی تو جواب میں
حجروفراق کے کئی قصے سناو دیئے
دل تو فگار تھا ہی نئی بات کیا ہے نیل
دوچار زخم اور جو اُس نے لگا دیئے

این اے ناصر
03-19-2012, 10:28 PM
ہم نے بھی انتظار کے دیپک بجھا دیئے
آیا کبھی خیال تو آنکھیں چھلک پڑیَ
آنسو کسی کی یاد میں کتنے بہا دیئے

بہت خوب تابی ویر۔

سیما
03-20-2012, 10:00 PM
بہت خوب تابی بھائی شکریہ