PDA

View Full Version : افغانستان امن مذاکرات !ڈرامے کا ایک اورمنظر!



گلاب خان
12-02-2010, 11:13 PM
افغانستان کی تاریخ یوںتوجنگوںسے بھری پڑی ہے لیکن ۱۹۸۰ ءکی دہائی میں سوویت یونین کی افواج کی آمد کے بعدسے یہ ملک بڑی طاقتوںکے ٹکراو¿ کا مرکزبن گیا۔ جنگوںکے بعدصلح اوراس کے بعد پھرسے جنگ کے اصول پر چل کربڑی طاقتوںنے اپنے مفادات حاصل کرنے کی جس طرح یہاں کوششیں کی ہیںوہ سب کے سامنے ہیں جب کچھ طاقتوں کے مفادات جنگ اور پھرصلح کے اصول پر چل کرحاصل ہوتے ہوںتو یہ قطعی ضروری نہیں ہے کہ جنگ کی جووجہ بتائی جارہی ہووہ حقیقی ہواورجنگ کے بعد صلح کی کوششیں بھی حقیقی ہوں۔ یوںتوایسے ہی مراحل سے گذرنے کے لئے عراق کی مثال بھی صحیح ہے لیکن یہاں میںافغانستان میںرونما ہونے والے واقعات کی طرف قارئین کی توجہ دلانا چاہتا ہوں۔ افغانستان میںشاہ نجیب اللہ کی دعوت پر آئے سوویت فوجیوں کونکالنے کے لئے امریکہ نے سعودی عرب کے شدت پسند نظریہ پاکستان کے ڈھانچہ اوراپنے ہتھیارو ں کا جس طرح استعمال کیا ہے وہ سب کے سامنے ہے۔ اس کے بعد صبغت اللہ مجددی اوربرہان الدین ربانی کی حکومت کا قیام ‘ ان کی حکومت کو کمزورکرانے کے لئے مجاہدین کے بدلے ہوئے روپ طالبان کوتقویت دینا ‘طالبان حکومت کے قیام کواپنے اتحادی ممالک پاکستان اورسعودی عرب سے تسلیم کرانا پھر ۲۰۰۱ میںامریکہ میں ہوئے دہشت گردانہ حملوںکا بدلہ لینے کے لئے سب سے پہلے افغانستان کی طالبان حکومت کواکھاڑ پھینکنا ایک ڈرامے کے مختلف مناظر سے زیادہ کچھ نظر نہیں آتے۔ گذشتہ دنوں امریکہ کی راجدھانی واشنگٹن سے شائع ہونے والے اخبارنیویارک ٹائمس نے ایک نہایت دلچسپ خبریہ دی ہے کہ گذشتہ کئی ماہ سے افغانستان حکومت کی امریکی اورناٹو حکام کے تعاون سے طالبان کے ساتھ جاری امن مذاکرات میںطالبان کی نمائندگی کرنے والا اصل شخص ملّا اخترمحمد منصور نہیںبلکہ ان کی نقل کرکے آنے والا بہروپیاتھا۔ اخبارنے کہا کہ کسی جاسوسی ناول کی طرح امریکی اور افغان حکام کا اب یہ کہنا ہے کہ وہ جس شخص سے مذاکرات کرتے رہے ہیں۔ وہ اصل ملّا منصورنہیںتھا اور اس وجہ سے مذاکرات سے کچھ حاصل نہیںہوا ہے ۔اخبار نے کابل میں ایک مغربی سفارتکار کے حوالے سے کہا ہے کہ ”یہ وہ نہیںتھا اورہم نے اس کوبہت سی رقم بھی دی ۔ اب امریکی حکام نے یہ تصدیق کردی ہے کہ جس شخص سے وہ مذاکرات کررہے تھے وہ نہ توملّا منصورتھا اورنہ ہی اس کا کسی طالبان رہنما سے کوئی تعلق تھا۔ اخبار کے مطابق ناٹواور افغان حکام نے اس شخص سے تین ملاقاتیں کیں اورپاکستان سے ناٹو فوجی طیارہ کے ذریعہ کابل لایاگیا تھا۔اس کی ملاقات صدرحامد کرزئی سے بھی کرائی گئی تھی ۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ وہ اس شخص کے بارے میںشروع سے ہی مشکوک تھے کہ یہ وہی ملّا اخترمحمد منصورہے جوطالبان کی قیادت میں ملّا عمر کے بعددوسرے نمبرپر ہے ۔ قندھار میںتیسری ملاقات کے بعداس شخص کے بارے میں شک میں مزیداضافہ ہوگیا۔ ایک اورشخص نے جوملا منصور کوکئی برس پہلے مل چکا تھا کہا ہے کہ یہ شخص ملّا منصورسے نہیںملتا۔ ایک مغربی سفارتکار نے اعتراف کیا ہے کہ مذاکرات کرنے کے لئے اس شخص کو خطیررقم دی گئی ہے ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ امریکی اورافغان حکام گذشتہ ماہ تک ان مذاکرات کے بارے میں کافی پرامیدتھے ۔ امریکی فوجی کمانڈر جنرل پیٹرئس نے کہا تھا کہ مذاکرات سے ظاہرہوتاہے کہ طالبان قیادت جن کے عام ارکان امریکی فوجی کارروائیو ںسے شدید دباو¿ کا شکار ہیںاب جنگ کومذاکرات کے ذریعہ حل کرناچاہتے ہیں۔ نیویارک ٹائمس نے انکشاف کیا ہے کہ وہائٹ ہاو¿س نے انہیںافغانستان کے امن مذاکرات کے بارے میں ایک مضمون میں ملّا منصور اوردیگرطالبان رہنماو¿ںکے نام شائع نہ کرنے کی درخواست کی تھی اور خدشہ ظاہرکیا تھاکہ ان کا نام ظاہر ہونے سے ان کی جانوں اورمذاکرات کا عمل خطرے میں پڑسکتاہے ۔ چندامریکی حکام کا کہنا ہے کہ ہوسکتاہے کہ یہ شخص خطیررقم حاصل کرنے کے لئے فریب دے رہا ہے جبکہ کچھ حکام کا خیال ہے کہ یہ شخص طالبان کی طرف سے بھیجا گیا کوئی ایجنٹ ہوسکتاہے ۔ ایک امریکی اہلکار جو مذاکرات کے عمل سے براہ راست وابستہ تھانے کہا ہے کہ طالبان امریکیوں اورہماری خفیہ ایجنسیوںسے زیادہ چالاک ہیںاورہمارے ساتھ کھیل کررہے ہیں ۔ یہ خبرسامنے آنے کے بعد یہ یقین ہوگیا کہ افغانستان میںجنگ اور اس کے بعدصلح اورپھرسے جنگ والے ڈرامے کا ہی حالیہ امن مذاکرات ایک حصہ تھے ‘ یہ ابھی قت بتائے گا کہ اس خبرکوعام کرکے اورخودکو فریب خرد ظاہر کرکے امریکہ کیاحاصل کرناچاہتاہے ۔ ممکن ہے اس کے بعد کسی دوسری سازش پرعمل شروع ہو۔ نقلی طالبان رہنما سے امریکہ ‘ ناٹواور افغان حکام نے مذاکرات شروع کردیں اور اسے انعام کے طورپر بڑی رقمیںبھی ادا کردی گئیں یہ ڈرامے کا غیر معمولی دلچسپ مرحلہ ہے ۔ حکام حکومتوںکو کس طرح بے وقوف بنانے کے عادی ہوتے ہیں‘وہ میڈیا کو کس طرح استعمال کرتے ہیں اوران سب مراحل میںبناوٹی کامیابی حاصل کرنے کے لئے کس قدر غیر ذمہ دار افراد اس عمل میں شامل ہوجاتے ہیںیہ سب سامنے آرہا ہے ۔حکومتیں بھی اپنی شبیہہ بہتر بنانے کے لئے کیسی کیسی حرکتیں کرتی ہیںیہ دیکھ کر حقائق کو سمجھنے میں آسانی ہوتی ہے ۔ افغانستان میں طالبان سے مذاکرات کے لئے بہت حد تک سنجیدگی ظاہر کی گئی تھی۔ اسی سال مارچ میں امریکی صدر بارک اوبامہ کی افغانستان کے صدرحامدکرزئی سے فون پر اس موضوع پر تفصیل سے بات ہوئی ۔ صدر کرزئی نے امن مذاکرات کے لئے جاری کوششوںکی تفصیلات صدراوباومہ کودیں جس کا امریکہ نے خیرمقدم کیا ۔ اس سے پہلے امریکہ کے وزیردفاع رابرٹ گیٹس اورامریکہ کے افغانستان میںفوجی کمانڈر جنرل پیٹریٹ نے کہا تھا کہ طالبان کے اعلیٰ رہنماو¿ں سے مذاکرات ابھی مشکل ہیں البتہ نچلی اور درمیانی سطح کے طالبان کو اپنی جانب راغب کیاجاسکتاہے ۔
واضح رہے کہ دسمبر ۲۰۰۹ ءمیں صدراوبامہ نے افغانستان میں ۳۰ہزار اضافی فوج بھیجنے کا فیصلہ لیاتھا ۔ افغانستان میں امریکہ کی ایک لاکھ اورناٹو ممالک کی ۴۰ہزار افواج پہلے سے ہی موجود ہیں۔ ۲۰۱۱ءکے وسط میںصدراوبامہ افغانستان سے امریکی افواج کا مرحلہ وار انخلاءکرنے کے خواہشمند ہیں۔ اب یہ کہا جارہا ہے کہ ۲۰۱۴ ءکے بعدبھی محدود تعداد میں امریکی فوجی افغانستان میںموجود رہیںگے۔ گذشتہ ماہ تک امریکی حکام ‘ افغان حکومت اورطالبان کے درمیان امن مذاکرات سے کافی پرامیدتھے ۔ ۷اکتوبر کووہائٹ ہاو¿س کے پریس سیکریٹری رابرٹ گبس نے کہا تھا کہ امریکی حکومت کرزئی حکومت اور طالبان کے درمیان مذاکرات کی حمایت کرتی ہے البتہ القاعدہ سے متعلق امریکی پالیسی میںکوئی تبدیلی نہیں آئی ہے ۔ ۱۴اکتوبر کوامریکی وزیرخارجہ ہلیری کلنٹن نے امیدظاہرکی تھی کہ کچھ طالبان جنگجو ہتھیار ترک کرکے حکومت میں شامل ہوجائیںگے۔ ایک ٹیلی ویژن پروگرام میںانہوںنے کہا تھاکہ طالبان کے نچلی سطح کے ایسے جنگجو و¿ں کی تعداد بڑھ رہی ہے جو ہتھیار چھوڑکر سماج میں واپس آرہے ہیں۔ صدرکرزئی کے ذریعہ مقررکردہ طالبان سے مذاکرات کرنے والوں کی کونسل کے رہنما اورسابق صدر برہان الدین ربانی نے گزشتہ ماہ یہ دعویٰ کیا تھاکہ دونوںطرف کے افراد امن کے لئے رضامند ہیں۔
البتہ انہوںنے کہا کہ کچھ کوششیں ناکام ہونے کا بھی اعتراف کیاتھا۔افغانستان کے صدرحامدکرزئی نے ۱۷نومبر کوعیدالاضحیٰ کے موقع پر ناراض طالبان عناصر کو امن مذاکرات میں شریک ہونے کی دعوت دی تھی ۔ اس سے پہلے مبینہ طورپر طالبان کے رہنما ملّا عمر نے حکومت کے ساتھ مذاکرات کو”پرفریب افواہ قرار دیاتھا۔ کچھ خبررساں ایجنسیوں نے بتایاہے کہ طالبان کی نمائندگی کرنے والا نقلی رہنما ملا اختر محمدمنصور پاکستان کے بلوچستان صوبے کی راجدھانی کویٹہ کا چھوٹا دکاندار ہے جسے برطانوی فوجی طیارے کے ذریعہ دوبارکابل لایاگیاتھااور صدرحامدکرزئی سے بھی ملاقات کرائی گئی تھی ۔ کچھ لوگوںکا خیال ہے کہ اس شخص کوپاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی نے یہ معلوم کرانے کے لئے بھیجا تھاکہ افغانستان حکومت طالبان کے ساتھ امن مذاکرات کس فارمولے کے تحت چاہتی ہے ۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ افغانستان کا جغرافیائی محل وقوع ایسا ہے جہاںبحالی امن سے اس پورے خطے اورجنوبی ایشیا میں غیرمعمولی ترقی ہوگی۔ افغانستان میں قدرتی وسائل کی حالیہ دریافت سے یہ بھی طے ہے کہ اگریہاں ۲۰برس بھی پرامن حالات میسرہوگئے تویہاں غیرمعمولی ترقی ہوگی۔ اس سے علاقائی تعاون اورترقی کے بھی مزید امکان ہیں۔موجودہ حالات میں بین الاقوامی برادری اورخاص طورسے اقوام متحدہ اورعلاقائی حکومتوںکو افغانستان کی جنگ اور اس کے بعدجاری ہوئے امن مذاکرات کی حقیقت جاننے کا حق ہے ۔ آخر امریکہ ‘ناٹو اوران کے اتحادی ممالک بین الاقوامی برادری کوکب تک ذہنی یرغمال بنائے رکھے گی ۔ مہینوںاور برسوںتک جوخبریں مرحلے وار بتائی جاتی ہیں آخرمیں انکی حقیقت کچھ اورہی سامنے آتی ہے ۔ان سب منصوبوںپرعمل درآمد کرانے کےلئے صہیونی میڈیا بہت ہی ڈرامائی اندازمیں ان کا مددگار ثابت ہوتاہے ۔ (مضمون نگار سے 0981127415 یا ahmadkazmi@hotmail.com پر رابطہ کیاجاسکتاہے )