PDA

View Full Version : وکی لیکس کے تماشے!



گلاب خان
12-02-2010, 11:15 PM
وکی لیکس تماشہ سردست ناقابل فہم ہے۔ امریکہ کا واویلا تو ظاہر کرتاہے کہ یہ سب کچھ امریکی انتظامیہ کی مرضی کے خلاف ہورہا ہے اور وکی لیکس کے نئے انکشافات سے نہ صرف’دوست ممالک‘ سے امریکہ کے تعلقات خراب ہوجائیں گے بلکہ خفیہ دستاویزات کی اشاعت سے ہزاروں امریکیوں کی زندگیاں بھی خطرے میں پڑجائیں گی۔ ویسے امریکہ نے یہ نہیں بتایا کہ آخر وہ کون سے ہزاروں امریکی ہیں؟ لیکن سوال یہ ہے کہ ’ویب سائٹ‘ وکی لیکس اور اس کے مالک جولین اسانج کو اس کی اجازت ہی کیوں دی گئی ہے؟ امریکی قانون کے مطابق تیس سال سے قبل خفیہ (کلاسیفائیڈ) دستاویزات کی اشاعت نہیں کی جاسکتی ۔ تو آخر امریکی انتظامیہ کے کس شعبے نے وکی لیکس کو صرف دس سال پرانی خفیہ دستاویزات کو عام کرنے کی اجازت دی ؟ اعلیٰ سطحی سرکاری اجازت کے بغیر تو یہ کام ہرگز ممکن نہیں ۔ لہٰذا ہم جہاں تک سمجھ سکے ہیں وکی لیکس کے نام نہاد انکشافات اور اس پر اس سے زیادہ نام نہاد واویلا دونوں محض ڈراما ہیں اور وکی لیکس کو کسی خاص مقصد کے تحت یہ ڈرامہ اسٹیج کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔ ہمارے نزدیک وکی لیکس کے یہ انکشافات بھی تلبیس حق وباطل‘ جھوٹ اور سچ کی آمیز شن کا بہترین نمونہ ہیں۔ نہ اس میں سب کچھ سچ ہے نہ سب کچھ جھوٹ لیکن اس تلبیس نے سچ کو بھی مشتبہ بنادیا ہے اور یہی تلبیس کا مقصد اصلی ہے کہ جھوٹ کی فراوانی اور آرائش کے ذریعے سچ کو ہمیشہ کے لئے مشکوک بنادیا جائے ۔مثلاً یہ تو سچ ہوسکتا ہے امریکہ کے نزدیک افغانستان کے کٹھ پتلی صدر حامد کرزئی کے سوتیلے بھائی احمد ولی کرزئی نہایت بدعنوان اور ممنوعہ ڈرگس کے تاجر ہیں اور یہ بھی سچ ہوسکتا ہے کہ سعودی عرب کے کنگ عبداللہ عراق کے وزیر اعظم نوری المالکی کو پسند نہیں کرتے اور آصف علی زرداری کو پاکستان کی ترقی کی راہ کا سب سے بڑا روڑا سمجھتے ہیں اور یہ کہ انہوں نے زرداری کا ذکر کرتے ہوئے یہ کہا کہ ” جب سرسڑ جائے تو پورے جسم کا متاثر ہونا یقینی ہے “ لیکن وکی لیکس کے تازہ انکشافات کے اس حصے پر ہرگز یقین نہیں کیا جاسکتا کہ ” خادم حرمین شریفین نے بذات خود امریکہ سے درخواست کی ہو کہ ایران پر حملہ کرکے اس کے ایٹمی پروگرام کو تباہ کردیا جائے“ یا یہ کہ کنگ عبداللہ نے امریکہ سے ایران کے تعلق سے کبھی یہ کہا ہو کہ ” سانپ کا سرکچلنا ضروری ہے“! صاف ظاہر ہے اس کا مقصد سوااس کے اورکچھ نہیں ہے کہ سعودی عرب اور ایران کے تعلقات کو خراب کیا جائے جو 1979 کے بعد سے کبھی اتنے اچھے نہیں رہے جتنے آج‘ انقلاب اسلامی کے اکتیس برس بعد‘ ہیں۔ مزیدیہ کہ اس کا مقصد یہ بھی ہے کہ اُمّت مسلمہ کو کسی بھی قیمت پر متحد نہ ہونے دیا جائے اور نہ صرف عرب وعجم کے نسلی اختلافات کو بانس پر چڑھائے رکھا جائے بلکہ مسلکی اختلافات کے جھنڈے کو اتحاد کے قدموں میں روندے جانے سے بہر قیمت بچایاجائے۔ وکی لیکس کے تازہ شمارے میں تویہ بھی ہے کہ امریکہ نہ صرف ایران کو ایٹمی طاقت بننے سے روکنے کے لئے ہرممکن کارروائی کررہا ہے بلکہ وہ اس خدشے سے بھی پریشان ہے کہ کہیں اسرائیل اس مقصد کے حصول کے لیے ایران پر حملہ نہ کردے“۔ سوال یہ ہے کہ جب امریکہ بھی یہی چارہا ہے اور بقول وکی لیکس کے سعودی عرب اور اسرائیل بھی چاہتے ہیں تو امریکہ کو 2005 سے آج تک ایران پر حملہ کرنے سے کس چیز نے روکا ہوا ہے؟ اور سوال یہ بھی ہے کہ امریکہ کے لئے آخر اس میں ” پریشانی“ کی کیا کیا بات ہے کہ اسرائیل ہی ایران پر حملہ آور ہوجائے؟ جواب یہ ہے کہ سعودی عرب کے تعلق سے تو جو کچھ کہا گیا ہے وہ محض جھوٹ اور دو برادر مسلم ملکوں کے درمیان خواہ مخواہ کشیدگی پیدا کرنے کی سازش کے سوا اور کچھ نہیں ہے اور جہاں تک خود امریکہ یا اسرائیل کے ایران پر حملہ نہ کرسکنے کا سوال ہے تو اس کا سبب یہ ہے کہ ایک طرف حزب اللہ اور حماس‘ اسرائیل کے ناقابل تسخیر ہونے کا بھرم خاک میں ملاچکے ہیں تو دوسری طرف خود امریکہ کو اس کے معاشی بحران اور اقتصادی بدحالی نے اس لائق نہیں چھوڑا کہ وہ افغانستان اور عراق جیسا کوئی تیسرا ویت نام اپنے لیے تخلیق کرسکے۔ وکی لیکس کے اس سمجھے بوجھے اقدام (Calculated Move ) کا دوسرا مقصد سی آئی اے‘ ایف۔ بی آئی اور موساد وغیرہ کو مزید بدنام ہونے سے محفوظ رکھنا ہے تاکہ وہ آزادی سے دنیا بھر میں دہشت گردی پھیلاتی رہیں اور اس کا الزام کمزوروں کے سرجاتا رہے ۔ اس کے ثبوت تو زمانہ ہوا مل چکے ہیں کہ بڑی طاقتوں کے سفارت خانے بالعموم جاسوسی کے اڈے ہوتے ہیں اور ” سفارت کاری“ جسے کہتے ہیں اس کا دوسرا نام منافقت ہے ۔ ورنہ پرولیا پرہتھیاروں کی برسات (۱۷ دسمبر ۱۹۹۵) سی آئی ہے ہی کاکارنامہ تھی اور 26/11 کاذمہ دار ڈیوڈ کول مین ہیڈلی بھی سی آئی اے ہی کا آدمی ہے اور نہ صرف سی آئی اے بلکہ امریکی انتظامیہ کو بھی سب کچھ معلوم ہے کہ فی الواقع ان زنگاری پردوں کے پیچھے کون ’ محبوب‘ پوشیدہ ہے!