PDA

View Full Version : موبائیل سے جینا حرام



گلاب خان
12-02-2010, 11:26 PM
آج کل موبائیل کی دھوم ہے کیا وزیر کیا سیکرےٹری‘ کیا کمشنر کیا کونسلر کیا عام آدمی اور کیا ہاتھ گاڑی و پاٹی والے‘ ہر ایک کے ہاتھ میں موبائیل نظر آئے گا جو جتنا بڑا ہے اس کے پاس اتنا ہی قیمتی موبائیل۔ بڑے بڑے بزنس مینوں کے پاس ایک سے زائد موبائیل ہوتے ہیں لیکن عام آدمیوں کے پاس بالخصوص نوجوانوں کے پاس قیمتی موبائیل نہیں ہوتے مگر ان قیمتی موبائیلوں کی ہوبہو نقل کرکے چائنا نے بازاروں میں موبائیل کی بھرمار کرکے لوگوں کا جینا حرام کردیا ہے اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ ۲۱ ویں صدی کا حےرت انگیز کارنامہ موبائیل ہے جس سے آدھے سے زائد کام ہوجاتے ہیں موبائیل سے دنیا سمٹ گئی ہے۔ دنیا کے کسی بھی کونے میں بڑی آسانی سے سکنڈوں میں بات کرکے حال چال پوچھا جاسکتا ہے لیکن بے شمار خوبےوں کے ساتھ ساتھ موبائیل میں بہت زیادہ خامیاں بھی ہیں اور موبائیل کی وجہ سے امن پسند لوگوں کا جینا حرام ہوگےا ہے۔ چائنا کے موبائیل کی آواز جہاں بہت تےز ہوتی ہے وہیں اس کا استعمال اتنی شدت سے ہوتا ہے کہ لوکل ٹرےن ہو‘ بس ہو‘ یا عام راستہ ہر جگہ نوجوان چائنا کا موبائیل لئے تےز آواز میں کہیں گانا سنتے ہوئے ملیں گے کہیں قوالی سنی جارہی ہے تو کہیں ڈسکو میوزک پر گانا ہورہا ہے بسوں اور ٹرےنوں میں تو موبائیل کے گانوں سے اس قدر شور رہتا ہے کہ سفر مشکل ہوجاتا ہے مگر کوئی کسی کو منع نہیں کرسکتا۔ اگر کسی کو بہت خراب لگتا ہے تو وہ صرف گھور کر رہ جاتے ہیں موبائیل کے غلط استعمال سے سماج میں برائیاں بھی بہت زیادہ پھےل رہی ہیں کالج کے طلباءو طالبات کے لئے موبائیل نعمت اور عشق لڑانے کا انتہائی موثر ذریعہ بن گےا ہے جہاں دیکھو وہاں کوئی ایک کونا پکڑے دنیا سے بے خبر موبائیل پرگفتگو میں مصروف ہےں راستوں میں کان میں ایئر فون لگائے کچھ لوگ اس طرح محوئے گفتگو رہتے ہیں جنہیں دیکھ کر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ کوئی پاگل بڑبڑاتے ہوئے جارہا ہے اس سے بھی زیادہ دلچسپ مناظر تو ایس ٹی ڈی کے اطراف دیکھنے کو ملتا ہے جہاں لوگ فون پر باقاعدہ جھگڑا کرتے نظر آتے ہیں اس طرح ہاتھ ہلاہلا کر ڈانٹتے اور گالیاں دےتے ہیں جیسے جس سے وہ بات کررہے ہیں وہ سامنے کھڑا ہو۔ گویا موبائیل کے غےر ضروری استعمال سے جینا حرام ہوگےا ہے۔ اس پر سرکار‘ پولس یا سماج و فلاح تنظےموں کو توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ گھپلوں کا بول بالا - بدعنوانوں کا منہ کالا آج کل پورے ملک میں گھپلوں کا شور اور بدعنوان سیاست دانوں کی مخالفت ہورہی ہے اپوزیشن برسر اقتدار پارٹےوں کے خلاف محاذ کھولے ہوئے ہے پارلیمنٹ کے اجلاس میں ٹوجی اسپیکٹرم گھپلا‘ آدرش سوسائٹی گھپلہ دولت مشترکہ کھےلوں میں بدعنوانیاں اور کروڑوں کی بندر بانٹ سمیت کئی چھوٹے بڑے گھپلوں کی زبردست گونج کے دوران آج پارلیمنٹ کا سرمائی اجلاس ختم ہوگےا۔ مہاراشٹر اسمبلی اجلاس کے دوسرے روز آج ناگپور میں اپوزیشن نے کانگریس این سی پی محاذ کو آڑے ہاتھوں لیا۔ ملک کی کئی رےاستوں میں ٹوجی اسپیکٹرم گھپلے کے خلاف احتجاجی مورچے نکالے جارہے ہیں مرکزی وزیر اے راجہ کو اسی معاملے میں استعفیٰ دینا پڑا۔ آدرش سوسائٹی گھپلے میں وزیر اعلیٰ اشوک چوان کو کرسی چھوڑنی پڑی یعنی چاروں طرف گھپلوں کا بول بالا ہے اور بدعنوان لیڈروں کا منہ کالا ہورہا ہے۔ اپوزیشن پوری طاقت کے ساتھ گھپلوں کے معاملے کو اٹھائے ہوئے ہے لیکن اس سے عام آدمی کو کوئی فرق نہیں پڑتا۔ کئی ہزار کروڑ روپئے کے گھپلوں اور بدعنوانیوں سے سرکاری خزانے پر اثر پڑا ہے عام آدمی مہنگائی سے پریشان ہے اس کے لئے دو وقت کی روٹی کے لالے پڑگئے ہیں اس کی فکر کسی سیاستدان کو نہیں ہے جب کہ ہر سیاستدان انہی عام لوگوں کے ووٹوں سے منتخب ہوکر اقتدار کی کرسیوں پر جاتا ہے۔ یہ صحیح ہے کہ بدعنوان سیاستدانوں نے کئی ہزار کروڑ کا گھپلا کیا اور اسی وجہ سے ان کی رسوائی ہورہی ہے۔ کانگریس محاذ سرکار خواہ وہ مرکز کی ہویا رےاست کی بدعنوان لوگوں کو کنارے لگانے پر آمادہ ہے لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا اتنی بڑی بدعنوانیوں میں ملوث سیاستدانوں کو محض استعفیٰ لیکر کرسی سے ہٹا دےنا ہی کافی ہے؟ جبکہ انہی بڑے بڑے گھپلوں کی وجہ سے مہنگائی بڑھی ہے لیکن جس طرح اس کی آڑ میں ذخیرہ اندوزوں اور منافع خوروں نے اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں روز بروز من مانی طرےقے سے اضافہ کرنا شروع کیا ہے اس پر قابو پانا ضروری ہے کم از کم گیہوں‘ دال‘ چاول‘ تےل شکر کے دام مستحکم کردینا چاہئے۔ آج پیاز ۳۵ روپئے فی کلو مل رہی ہے جبکہ یہی پیاز زیادہ سے زیادہ دس روپئے کلو ملتی تھی یہی حال تےل‘ شکر‘ چاول‘ اور گیہوں کا بھی ہے گھپلوں کا بول بالا ہے بدعنوانوں کا منہ کالا ہے۔ کیا مہنگائی بڑھانے والوں پر بھی گرفت ہوگی یا پھر عام آدمی اسی طرح سسکتا رہے گا۔