PDA

View Full Version : موروثی سیاست ، زائرہ عابدی



بےباک
03-26-2012, 07:31 PM
موروثی سیاست ،
زائرہ عابدی ،

منصور اپنی دھن کا ایسا پکّا تھا کہ کہ ہزار بار انکار کے باوجود سردار سلطان زیشان جیسے ہی شہر میں وارد ہوتے وہ ان کو فون کر کے حال احوال دریافت کر تا اور پھر ان سے اگلا سوال کرتا
سر آ جاؤں ! انٹرویو کے لئے ?اور سردار سلطان ذیشان بڑے ہی میٹھے لہجے میں اس کو جواب دیتے ،اوہ پتّر میں تجھے کیسے بتاؤں کتنی ایمرجنسی میں آیا ہوں ،بس اس بار بخش دے ،اگل بار آؤں گا تو سب سے پہلے تیرے اخبار کے لئے انٹرویو دوں گا۔
او کے سر !منصور تائید میں جواب دے کر خدا حافظ کہتا لیکن اس بار انہوں نے اس کے فون کے جواب میں پیار بھرے لہجے میں کہا آجاؤ پتّر ۔ او کے ،،،سر !کب آؤں منصور نے پھر سوال کیا ، تو اسی میٹھے لہجے میں گویا ہوئے ، پتّر کل دوپہر کا کھانا ہمارے ساتھ کھاؤ
سر اس کی کیا ضرورت ہئے منصور نے کچھ جھجھکتے ہوئے کہا تو وہ بولے ، پتّر یہ تو ہماری ریت ہے ہم اپنے مہما ن کی راہوں میں اپنی آنکھیں بچھاتے ہیں

،لیکن سر منصور کا جملہ ادھورا تھا کہ انہوں نے پوچھا کیا بات ہے تم کچھ ،،اور ابھی انکا جملہ ادھورا تھا کہ منصور ایک دم ہی کہ گیا سر میرا فوٹو گرافر بھی ساتھ ہوتا ہے ۔
اور پھر سردار سلطان ذیشان کے لہجے کی مٹھاس منصور کے کانوں میں رس گھول گئی۔
تو آئے بھئ جم جم آئے ،وہ بھی آئے ،تم بھی آؤ جھجھک کس بات کی ہے ,,ٹھیک ہے ناں !اور منصور نے پھر سکون کی سانس لے کر کہا ٹھیک ہے سر کل حاضر ہوتے ہیں۔
اگلے دن منصور اور حسیب سے پہلے کا وقت انہوں نے اپنے حلقے کے ان بااثر افراد کے لئے مخصوص کیا تھا جوان کے انتخابی حلقے میں انکےووٹوں کی حفاظت پر مامور تھے ،،سردار سلطان ذیشان نے اس وقت چائنا سلک کریم کلر بوسکی کے کرتے کے ساتھ سفید لٹّھے کی گھیردار کھڑکھڑاتی شلوار زیب تن کی ہوئی تھی جس پر ان کی اونچے شملے والی سنہری تلّے کے کام والی دستار دمک رہی تھی پیروں میں سنہر ی زرتار کھسّہ پہنے وہ حقیقی معنوں میں جدّی پشتی جاگیردار نظر آرہے تھے ،ہاتھ میں راڈو گھڑی پہننے کی باری آئی تو انکو اچانک ہی فریزر میں رکھّی ہوئ وہ بٹیریں بھی یاد آگئیں جن کو شکار کرتے ہوئے ان کی یہ بیش قیمت گھڑی گم ہو گئی تھی اور جسے ان کا وفادار ملازم شانو بدقّت تمام کئی گھنٹے کی جدوجہد کے بعد ڈھونڈ کر لایا تھا
بٹیریں ذہن میں آتے ہیں ہی انہوں نے شانو کو آواز دی تو وہ بوتل کے جن کی مانند حاضر ہو گیا جی سرکار ! کیا حکم ہے ، شانو نے اپنے انگوچھے کو بلا سبب کندھے سے اتار کر سلطان ذیشان سے سوال کیا ،شانو جی ! زرا فریزر سے بٹیریں بھی نکال کر بھون لجئے ،آج ہم دوپہر کا کھا نا میڈیا کے بندوں کے ساتھ کھائیں گے اور شانو انتہائی تابعداری کے ساتھ اپنے آقا کے حکم کی تعمیل کے لئے حسب عادت دونوں ہاتھ جوڑ کراور اچھّا سائیں کہہ کر پلک جھپکتے میں وہاں سے الٹے پیروں جا چکا تھا آنے والے مہمان رخصت ہوگئے اور سردار سلطان ذیشان نے گھڑی دیکھی تو جرنلسٹ منصور کے آنے میں کچھ وقت باقی تھا وہ آہستہ آہستہ ٹہلتے ہوئے لاؤنج سے گزرے تو شانو سے کہتے گئے کہ ہم کچھ دیر کے لئے تخلیے میں ہیں آنے والے مہمانوں کو کچھ دیر ہمارا انتظار کرنا ہوگا ،شانو نے پھر تابعداری سے سر ہلایا,, وہ تواپنی بات ختم کر کے لاؤنج سے چلے گئے اور شانو جلدی جلدی اپنے معمول کے کام میں مشغول ہو گیا

،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،، ،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،، ،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،، ،،،،،
اس مرتبہ سلطان ذیشان اپنے شہری بنگلے کے بجائے شہر سے کچھ دور ایک پر فضاء مقام پر بنی ہوئی ایک دوسری عالیشان حویلی میں آ کراقامت گزین ہوئے تھے جس کی وجہ سے منصور کو فاصلہ طے کرنے میں زیادہ وقت لگا لیکن کچھ دیر ہی سہی وہ اور حسیب, مووی کیمرے کے ساتھ با لآخر منزل مقصود تک پہنچ ہی گئے ،

بڑا سا آہنی گیٹ باوردی گیٹ کیپر نے کھولا اور شانو تو جیسے گیٹ پر ہی ان دونوں کی آمد کا منتظر تھا انہیں دیکھتے ہی اس کی باچھیں کھل گئیں اور اس نے دونوں کے سامنے ہاتھ جوڑ کر کہا ،سلام بابو صاحب ،وعلیکم سلام منصور اور حسیب نے جواب دیا ،بابوصاحب ،سردار سائیں آپ ہی کا انتظار کر
ر ہے ہیں،
پھر وہ انہیں ساتھ لے کر سبزے کی دو رویہ روش کے اندر کیاریوں میں مہکتے ہوئے خوشبو دار پھولوں کےدرمیان چلتا ہوا حویلی کے مہمان خانے تک لا کر کچھ رکا اور پھر کہنے لگا آپ تشریف رکھّیں ،میں سائیں سلظان کو آپ کی آمد کے لئے بتا دوں

منصور نے جیسے ہی نیم تاریک ہال میں پہلا قدم رکھّا انتہائ دبیز قالین میں پیر دھنس جانے کے سبب وہ اوندھے منہ گرتے گرتے بچا اور اس کے منہ سے بے اختیار نکلا ،الٰہی خیر! سنبھل کے یار حسیب نے ایک دم جو کہا تو منصور نے سنبھلتے سنبھلتے سر گوشی کی یار شگون اچھّا نہیں ہے

منصور اللہ کو مانو ،،کیا وہمی عورتوں کی طرح کی باتیں سوچنے لگے حسیب نے کچھ خفگی سے کہا اور پھر وہ صوفوں پر بیٹھ گئے ،ہال نیم تاریک تو تھا لیکن ہا ل کی نیم تاریکی کے باوجود ہر شئے ذرا نظر جما کر واضح دیکھی جاسکتی تھی ان کے عین سامنے سنہری زرتار زربفت کے غلاف پہنے ہوئے گاؤ تکئےرکھے ہوئے بیش قیمت ایک بڑا اور کشادہ تخت مثل تخت طاؤس کے تھا جس کے دونوں جانب کانسی کے ببر شیروں کے مجسّمے بھی اپنے جاہ و جلال کے ساتھ موجود تھے دونو ں نےنیم تاریک کمرے میں طائرانہ نظریں دوڑائیں اور انہی لمحات میں شانو نے آ کر کمرے میں دیوقامت فانوس روشن کیے، اسے بقعہ ءنور بنا دیا شانو توکمرہ روشن کر کے اور شربت ۔ پانی کے جگ اور گلاس رکھ کر واپس چلا گیا اور وہ دونون کمرے کی نوادرات وعجائبات کی دنیا میں گم ہو گئے ,, انہوں نے دیکھا کہ ہال میں جگہ جگہ حنوط شدہ باز ،شکرے الّو اس طرح سجے ہوئے تھے جیسے کہ ابھی ابھی اڑان بھرتے ہوئے آ کر کمرے میں بیٹھ گئے ہوں ان کے سامنے ہی مستطیل دیوار پر کئی ببر شیر وں کی کھالیں اپنے اپنے شکار کرنے والے ہتھیار کے ہمراہ سجی ہوئی تھیں اور ان کے ساتھ سردار سائیں کی بھی تصاویر میں جلوہ گری بتا رہی تھی کہ یہ کس کے ہاتھوں شکار ہوئے ہیں شیشے کے قد آدم شوکیسز میں سجے ہوئے دنیا بھر کے نوادرات سردار سلطان کے اعلٰی ذہنی معیاراور دولت کی فراوانی کی نشاندہی کر رہے تھے

وہ دونو ابھی ہال میں موجود اشیاء کے اوپر چپکے چپکے تبصرہ ہی کر رہے تھے کہ انہیں کسی کی آمد کا احساس ہوااور وہ ذرا سنبھل کر بیٹھے ہی تھے کہ سردار سلطان ذیشان بھی کمرے میں وارد ہو گئے اور حسیب اور منصو ر نے مستعد کھڑے ہوکر ان کو گرم جوشی سے سلام کیا جاگیر دار سردار سلطان ذیشان نے دونو ن کو باری باری شفقت اور محبّت سے گلے لگایا
اور پھر ان دونوں کےحال احوال دریافت کر کے منصور سے مخاطب ہوئے ،کہو پتّر آنے میں دشواری تو نہیں ہوئ ،تو منصور نے کہا جناب کچھ دشواری ہوئی لیکن پتہ میں نے جیب میں ہی رکھ لیا تھا اس سے مدد لے کر پہنچ گیا ،
سردار سائیں کے چہرے پر اس کی بات پر مسکراہٹ آئی اور انہوں نے کہا ہاں ! خاصے ہوشیار دکھائ دیتے ہو ،اور پھر منصور نے مسکراتے ہوئے ان سے کہا اب انٹرویو ہو جائے تو انہوں نے بھی کہا،بلکل پتّر ،
منصور نے ان سے پہلا سوال کیا
یہ ذاتی سوال ہے کہ اس سے پہلے آپ جب بھی کراچی آتے تھے تو شہر میں ہی اپنے بنگلے زیشان ہاؤس میں ٹھہرتے تھے ،اس بار آپ نے شہر سے باہر اس حویلی کا ا نتخاب کیوں کیا ،سردار ذیشان کے کشادہ چہرے پر پھر مسکراہٹ نے قبضہ کیا اور وہ آ ہستہ آ ہستہ گویا ہوئے ،پتّر ہم جدّی پشتی ر ئیس لوگ ہیں ،یہ ہماری ذاتی جائدایں ہیں جب جہاں موڈ بن گیا وہیں ڈیرے لگا دئے

اچھّا سر ایک سوال یہ ہے کہ آپ زیادہ تر وطن سے باہر ہی رہتے ہیں قومی اسمبلی کے اجلاس میں بھی آپ موجود نہیں تھے ،
پتّر تم خود انصاف سے کام لو جب قومی اسمبلی کا اجلاس ہی کئی کئی مہینے کے توقف سے بلایا جائے گا تو کیا مجھے کالے کتّے نے کاٹا ہے کہ میں پاکستان کے اینوئیں چکّر لگاتا بیٹھوں ،مجھے قومی اسمبلی کے اجلاس کی خبر تو ملی تھی پر میں ان دنوں ذرا مصروف تھا اس لئے حاضر نہیں ہو سکا ۔
اوریہ دوسرا سوال ہے کہ ابھی جب کہ آپ کے حلقہء انتخاب میں سیلابی پانی نے بڑی تباہی مچائ تب بھی آپ وہاں نہیں گئے بلکہ میڈیا نے خبر لگائی کہ آپ نے باہر سے فون کر کے اپنی فصلیں بچا نے کے لئے بند توڑ نے کا حکم دیا ،آپ کی فصلیں بچ گئیں لیکن چار سو دیہات مال مویشی کے ساتھ ڈوب گئے ، منصور کی بات پر سردار کے چہرے پر ایک ثانیے کے لئے ایک تاریک سا سایہ لہرا کر گزرا پھر وہ سنبھل کر بولے دیکھو پتّر، پانی کا رخ گوٹھو ں کی جانب میر ے کہنے سے نہیں موڑا گیا یہ تو اللہ سائیں کی بھیجی ہوئی تباہی تھی ،اب جس کی قسمت میں ایسی تبای لکھی ہو اس کے لئے میں تو کچھ نہیں کر سکتا ہوں
لیکن سائیں کم سے کم آپ اپنے حلقے میں آ کر اپنے ووٹروں کی دیکھ بھال کر کے ان کی کچھ اشک شوئی تو کرسکتے تھے ،
پتّر ان دنوں میرے بیٹے کا ایڈمشن امریکہ کی سب سے مشہور یونیورسٹی میں ہونا تھا اور پھر مجھے خود بھی ذاتی طور پر میئر سے ملاقات کرنی تھی اس لئے نہیں آ سکا اور پھر میرے آ جانے سے کیا ہونا تھا جو ہونا تھا وہ ہو چکا تھا،
منصور نے پھر ان سے کہا
مجھے آپ سے یہ پوچھنا ہے کہ آ ج کل آ پ کے مخالفین میں ایک اور ایشو بھی زیر بحث ہے کہ آپ کے حلقے میں آپ ہی کے پاس گزشتہ کئی برسوں سے آپ کی ہی عملداری ہے پھر بھی آپ کے ووٹر پیر میں جوتی نہیں پہن سکتے ہیں اور ان کے بچّو ں کے لئے آج تک ایک پرائمری اسکول تک نہیں کھولا گیا ہے۔
بھئ ،،،،،،پتّر ذرا سا سوچو یہ ہمارے پرکھوں کی زمینیں معمولی چیز تو نہیں ہیں آخر ان کی دیکھ بھال کون کرے گا ,, اگر میں نے ان کے بچّوں کے لئے اسکول بنایا تو میری زمینیں ویران نہیں ہو جائیں گی وہ پڑھیں گے یا زمینوں پر کام کریں گے پڑھ لکھ کر ان کو شہروں کی ہوا لگ جائے گی ناں
اور جوتی پہننے ان کا شیوہ ہی نہیں ہے اس میں میرا تو کوئی قصور نہیں ہے،

اچھّا سر اس مرتبہ الیکشن میں آپ کے دشمنوں نے منصوبہ بنایا ہے کہ وہ آ پکی غیر موجودگی کو ایشو بنا کر الیکشن میں آپ کی پوزیشن کو کمزور کرنا چاہیں گےاور یہ بھی میرے پاس مستند خبر ہےآپ کے ووٹروں کو کچھ لے دے کر توڑنے کی کوشش کی جارہی ہے اور یہ کہ اس بار آپ کے حلقے سے ایک اور امّیدوار آپ کے مدّ مقابل الیکشن لڑنے کو کھڑا ہو رہا ہے ، منصور نے اپنی بات ختم کی تو سلطان ذیشان نے ایک بے ساختہ قہقہہ لگایا اور پھر ان کے چہرے پر ایک رعو نت بھری مسکراہٹ پھیلی اورپھر وہ اپنے دائیں ہاتھ سے اپنی بل دار مونچھوں کو مزید بل دیتے ہوئے کھنکتی ہوئی رعونت بھرے لہجے میں کہنے لگے پتّر پہلی بات تو یہ کہ ہم الیکشن کو ایک ڈھونگ سمجھ کر اس میں حصّہ لیتے ہیں ہماری تمام تیّاری پہلے سے ہوتی ہے سب کو معلوم ہوتا ہے کہ کس کو جیتنا ہےاور جہاں تک ہمارے ووٹروں کو توڑنے کی بات ہے تو ایسا ممکن ہی نہیں ہے۔ پتّر ، میرے بندے شکاری عقاب کی طرح ان لوگوں کو نظروں میں رکھتے ہیں اور کو ئی بھی میرے مد مقابل امیّدوار کھڑا کرنے کی جراءت نہیں کر سکتا ہے ،،،ہاں ،،،،جس کسی کو اپنی قضاء کو آواز دینی ہو گی تو ضرور ایسی حماقت کرے گا،
یعنی اس کا مطلب ہے کہ آپ چاہئے ملک میں رہیں یا نہ رہیں الیکشن میں آپ کی کامیابی یقینی ہے ،
ہاں پتّر ایسا ہی سمجھ لو اور ان کے جواب کے ساتھ ہی شانو نے کمرے میں آ کر کہا سائیں کھانا لگا دیا ہے اور الٹے پیروں واپس لوٹ گیا سلطان سائین نے پھر منصور اور حسیب دونوں سے کہا چلو پتّر باقی باتیں کھانے کی میز پر ہو جائیں گی۔
کھانے کی میز انواع اقسام کے کھانوں سے بھری ہوئی تھی ،بھنی ہوئی بٹیریں ،، ماش کی سفید شاہی دال ،زعفرانی چاول ،متنجن ،زردہ نورتن ،اور سردار ذیشان اصرار کر کر کے ان کو ہر ہر چیز کھلا رہے تھے ،کھانے کی میز پر انہون نے بتایا کہ سیاست ان کے خاندانی وراثت ہے اور ان کے فور فادر بھی سیاست دان ہی تھے ،اور اب ان کے بعد ان کا بیٹا ان کی جگہ لے گا۔
اور پھر جیسےہی کھانا تمام ہوا ان کے پاس ان کے کچھ خاص مہمان آ گئے اور منصور بھی حسیب کے ہمراہ واپس اخبار کے دفتر آ گیا
آئندہ چند روز کے اندر ہی منصور نے حسیب کی کھینچی ہوئی سلطان ذیشان کی تصاویر کے ہمراہ ان سے لئے گئے انٹرویو کا پورٹ فولیو اپنے میگزین میں دینے کے لئے تیّار کرلیا تھا بس پرنٹنگ کا مرحلہ باقی تھا ،الیکشن کی قربت کے سبب وہ دونوں بھی کافی مصروف رہے تھے لیکن آج ان دونوں کو گھر پہنچ کر آرام اور نیند کی کمی بھی پوری کرنی تھی رات نو بجے گھر پہنچ کر منصور کھا نا کھاتے ہی بستر میں گہری نیند سو گیا تھا البتّہ حسیب کے گھر میں کچھ مہمان آ گئے تھے جس کی وجہ سے اسے سوتے سوتے پھر دیر ہی ہو گئ تھی ،ابھی حسیب کی آنکھ لگی تھی کہ اس کے سر ہانے رکھّا ہوا سیل فون شور مچانے لگا گہری نیند کی خمار بمشکل آنکھیں کھول کر اس نے نمبر دیکھا اور پھر نیند بھری آواز میں بولا کیا ہے یار ? ذرا کیمرہ ریڈی کر کے جلدی سے آجاؤ،منصور نے جواب دیا تو وہ بولا کیوں کیا ہوا ،،،یار وہ سلطان ذیشان کو ان کی حویلی کے عقب سے آنے والے نامعلوم قاتلوں نے مار ڈالا ہے ابھی ابھی مجھے دفتر سے ایڈیٹر کا فون آیا ہے ، ساتھ میں ان کا مستقبل کا وزیر بیٹا اور محافظ بھی مارے گئے ہیں زرا جلدی آجاؤ ۔کل صبح سردار ذیشان کے مرڈر کی پہلی گرما گرم خبر ہمارے پیپر کی ہو گی,,, اچھا یار آتا ہوں پھرمنصور نے فون بند کر دیا اور حسیب نیند میں ڈوبے ہوئے دماغ کو جگا کر جب منصور کے پاس جانے کے لئے گھر سے نکلا تو بے اختیار اس کے کانوں میں سردار ذیشان کا جملہ سرسرا تے ہوئے کہنے لگا ،پتّر ہم مقدّر کے سکندر لوگ ہیں سیاست اور جاگیر ہمارا خاندانی ورثہ ہے ،مگر وقت کے بے رحم فیصلے نے ان کو سیاست ،جاگیر اور زندگی سے ایک پل میں محروم کر دیا تھا ۔
ختم شد۔
،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،، ،،،،،،
نوٹ : # ایک افسانہ بھی بھیج رہی ہوں یہ میرا ایک مطبوعہ افسانہ ہے جو صرف میری اسٹوری بک ً رنگ شفق ًمیں پرنٹ ہوا ہے انشاللہ مزید کی کوشش جاری رکھّوں گی۔
اللہ حافظ و ناصر
دعاگو آپ کی باجی زائرہ

این اے ناصر
05-05-2012, 12:54 PM
شئیرنگ کاشکریہ۔