PDA

View Full Version : سفر کے اداب



گلاب خان
12-02-2010, 11:53 PM
اللہ تعالی نے قرآن کریم میں مختلف مقامات پر لوگوں کو سفر کرنے کی ترغیب دی ہے کہ وہ قدرت کے مناظر دیکھیں ،قوموں کے عروج و زوال اور ا ن کے احوال کو جانیںاوراُن کی ہلاکت کے اسباب میں غور وفکر کریں اور ان سے نصیحت و عبرت پکڑیں۔
دنیا میں بہت کم ایسے لوگ ہوں گے جو زندگی بھر ایک ہی مقام پر مقیم ہوتے ہوں ،بلکہ ہر آدمی کو اپنی حاجت و ضرورت کے لیے سفر کرنا ہی پڑتاہے ،چاہے یہ سفر دنیوی [جیسے کاروباری اورتفریح وغیرہ کاسفر]ہویا دینی [جیسے طلب علم اورحج وغیرہ کا سفر]۔
سفر چاہے کتنا ہی آرادم دہ کیوں نہ ہو گھر جیسا سکون میسر نہیں آسکتا،اس میں تھکاوٹ اور مشکلات کا ہونا طبیعی امر ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: [سفر عذاب کا حصہ ہے ] ،[ اگر لوگوں کو سفر کی صعوبتوں کا ادراک ہوجائے تو کوئی شخص جان بوجھ کر تنہا سفر کرنا پسند نہ کرے ]، لہذا اسلام نے گھر سے نکلنے والے اس غریب الدیار مسافر کی قدم قدم پر رہنمائی فرمائی ہے اورجہاں اس نے :سفر میںقصر ، جمع بین الصلاتین ، تین دن تک موزوں پر مسح ، عورت کومحرم کے بغیر سفر نہ کرنے کی ہدایات دیں ،وہیں بہت سی سنتیں اورآداب بھی بتائے ہیں تاکہ اس کے دین و ایمان ،جان و مال اور اہل وعیال کی حفاظت ہوسکے ،شیطانی ماحول اور مخلوق کے شر سے بچ کر اللہ کی حفاظت میں اس کا سفر خوشگوار گزرے ،لہذا ایک مسافر کو چاہیے کہ وہ مندرجہ ذیل سفر کی سنتوں اور آداب کا اہتمام کرے :
(۱) سفر سے قبل استخارہ کرنا مستحب ہے : لوگ دور جاہلیت میں اپنے سفر سے قبل پرندوں اور تیروں سے بدفالی لیتے تھے اور اس کے ذریعہ یہ جاننے کی کوشش کرتے کہ ان کا یہ سفر کامیاب ہوگا یا نہیں ؟ یہ ایک شرکیہ طریقہ ہے ،اس کے بجائے رسول اللہ ﷺ نے توحید، توکل علی اللہ اور قضاءوقدر پر رضامندی کی دعا سکھائی ہے ۔ جس میں انسان کے لیے سعادت اور برکت ہے :
جابررضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہمیں تمام امور میں استخارہ کرنے کی ویسے ہی تعلیم دیتے تھے جیسے آپ ﷺ ہمیں قرآن کی سورت کی تعلیم دیتے تھے ،آپ ﷺ فرماتے : اِذَا ھَمَّ اَحَدُکُم± بِال±ا¿َم±رِ فَل±یَر±کَع± رک±عَتَی±نِ مِن± غَی±رِ ال±فَرِی±ضَةِ،ثُمَّ ل±یَقُل± : جب تم میں سے کوئی کسی کام کا ارادہ کرے تو اسے چاہیے کہ فرض کے علاہ دور کعت (نفل )نماز پڑھے پھریہ دعا پڑھے :
َ اَللّٰھُمَّ اِنِّی± اَس±تَخِی±رُکَ بِعِل±مِکَ وَاَس±تَق±دِرُکَ بِقُد±رَتِکَ وَاَس±ئَلُکُ مِن± فَض±لِکَ ال±عَظِی±مِ فَاِنَّکَ تَق±دِرُ وَلَا اَق±دِرُ وَتَع±لَمُ وَلَا اَع±لَمُ وَاَن±تَ عَلَّامُ ال±غُیُو±بِ ، اَللّٰھُمَّ اِن± کُن±تَ تَع±لَمُ اَنَّ ھٰذَا ال±اَم±رَ خَی±رµ لِّی± فِی± دِی±نِی± وَمَعَاشِی± وَعَاقِبَةِ اَم±رِی± فَاق±دُر±ہُ لِی± وَ یَسِّر±ہُ لِی± ثُمَّ بَارِک± لِی± فِی±ہِ ، وَاِن± کُن±تَ تَع±لَمُ اَنَّ ھٰذَا ال±اَم±رَشَرّµ لِّی± فِی± دِی±نِی± وَ مَعَاشِی± وَعَاقِبَةِ اَم±رِی± فَاص±رِف±ہُ عَنِّی± وَاص±رِف±نِی± عَن±ہُ وَاق±دُر± لِیَ ال±خَی±رَ حَی±ثُ کَانَ ثُمَّ اَر±ضِنِی± بِہِ۔ (بخاری )۔
اے اللہ !میں ( اس کام میں ) تجھ سے تیرے علم کی مدد سے خیر مانگتاہوں اور تجھ سے تیری قدرت کے ذریعے قدرت مانگتاہوں اور میں تجھ سے تیرا فضلِ عظیم مانگتاہوں ، بے شک تو (ہر چیز پر )قادر ہے اور میں (کسی چیز پر ) قادر نہیں ، تو (ہر کام کے انجام کو ) جانتاہے اور میں (کچھ ) نہیں جانتااور تو تمام غیبوں کا جاننے والا ہے ، اے اللہ ! اگر تو جانتاہے کہ یہ کام (جس کا میں ارادہ رکھتاہوں ) میرے لئے میرے دین ، میری زندگی ، اور میرے انجام کار کے لحاظ سے بہتر ہے تو تواسے میرے لئے مقدر کردے اور آسان کردے ، پھر اس میں میرے لئے برکت پیدا فرمااور اگر تیرے علم میں یہ کام میرے لئے میرے دین ، میری زندگی اور میرے انجام کار کے لحاظ سے برا ہے تو تو اس اس (کام ) کو مجھ سے اور مجھے اس سے پھیر دے اور میرے لئے بھلائی مہیا کر جہاں (کہیں بھی) ہو ، پھر مجھے اس کے ساتھ راضی کردے ۔
(۲) مسافر کوسفر سے قبل الوداعی ملاقات کرنا مستحب ہے : مسافر کو چاہیے کہ وہ سفر سے قبل اپنے اہل وعیال ، رشتہ دار اور احباب سے الوداعی ملاقات کرے اور ان سے دعائیں لے کیونکہ یہ نبی کریم ﷺ کا طریقہ ہے :
۱۔ قَزَعَة رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ابن عمر نے ان سے فرمایا کہ آو¿ میں تمہیں ویسے ہی الوداع کروں جیسے رسول اللہ ﷺ نے مجھے الوداع فرمایا تھا(پھر انہوں نے یہ دعا پڑھی ): اَس±تَو±دِعُ اللّٰہَ دِی±نَکَ ، وَ اَمَانَتَکَ ، وَخَوَاتِی±مَ عَمَلِکَ ۔ ( احمد ، ترمذی،ابوداود : صحیح) ۔ میںاللہ تعالی سے تمہارے دین ،تمہاری امانت ( یعنی اہل وعیال ، مال وغیرہ ) ۔ اور تمہارے آخری عمل کی حفاظت طلب کرتاہوں ۔
۲۔ انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی کریم ﷺ کے پاس آیا اور کہا کہ میں سفر کرنا چاہتاہوں تو آپ نے اسے یہ دعا دی :
زَوَّدَکَ اللّٰہُ التَّق±وَیٰ، وَغَفَرَ ذَن±بَکَ ، وَ یَسَّرَ لَکَ ال±خَی±رَ حَی±ثُ مَا کُن±تَ۔ اللہ تمہیں تقوی سے مالامال کرے ،تمہارے گناہ معاف فرمائے اور تم جہاں کہیں رہو تمہارے لیے خیر میسر کردے ۔ ( ترمذی ، حاکم ،صحیح الجامع ) ۔
۳۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص سفر کا ارادہ کیا تو رسول اللہ ﷺ کے پا س آیا اور کہا : یا رسول اللہ مجھے وصیت فرمائیں ، تو آپ نے فرمایا:تقوی اختیار کرواور ہر اونچائی پر چڑھتے ہوئے تکبیر ( اللہ اکبر) کہو ، جب وہ شخص جانے لگا تو آپ نے اس کے حق میں یہ دعا دی کہ : ( اَللّٰھُمَّ اط±وِ لَہُ ال±ا¿َر±ضَ، وَھَوِّن± عَلَی±ہِ السَّفَرَ)۔ اے اللہ زمین کو اس کے لیے لپیٹ دے اور اس پر سفر آسان کردے ۔ ( ترمذی:حسن)۔
( ۳) مسافر کو بھی چاہیے کہ اپنے پیچھے چھوڑنے والے لوگوں کو دعا دے : سفر پر جانے والے کو رسول اللہ ﷺ وصیت فرماتے کہ اپنے پیچھے چھوڑجانے والوں کے لیے دعا کریں کہ اللہ تعالی انہیں اپنی حفاظت اور امان میں رکھے :
۰ موسی بن وردان کہتے ہیں کہ میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس آیا تاکہ انہیں اپنے سفر سے پہلے الوداعی دعا دوں ، تو انہوں نے فرمایا : اے میرے بھتیجے کیا میں تمہیں ایسی دعا نہ سکھاو¿ں جسے رسول اللہ ﷺ نے مجھے سکھایا ہے کہ میں کسی کو (سفر سے قبل )الوداع کروں تو (اسے یہ )دعادوں : میں نے کہا ، کیوں نہیں ؟ تو انہوں نے فرمایا کہ تم کہو: اَس±تَو±دِعُکَ اللّٰہَ الَّذِ¸± لَا تَضِی±عُ وَدَائِعُہُ۔(بیہقی ،احمد،ابن ماجہ : صحیح )۔ میں تمہیں اُس اللہ کی حفاظت میں دیتاہوں جس کی امانتیں ضائع نہیں ہوتیں ۔
۰ ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اِنَّ اللّٰہَ اِذَا اس±تُو±دِعَ شَی±ئًا حَفِظَہُ۔ ( صحیح الجامع :۸۰۷۱)۔ یقینا جب کوئی چیز اللہ کی حفاظت میں دی جائے تو اللہ تعالی اس کی حفاظت فرماتاہے۔
آج کل سفر کے وقت الوداعی دعائیں دینے اور لینے کی یہ سنت ترک کردی گئی ہے جس پر بہت کم ہی لوگ عمل پیرا ہیں،لہذامسافر اور مقیم کو چاہیے کہ وہ مذکورہ دعاو¿ں کے ذریعہ ایک دوسرے کو الوداع کرنے کی اس سنت کو زندہ کریں ۔
(۴) تنہا سفر کرنا مکروہ اور ناپسندیدہ ہے : اس کے بہت سے نقصانات ہیں جس سے نبی کریم ﷺ نے امت کو خبردار کیا ہے :
۰ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا : لَو± یَع±لَمُ النَّاسُ مَا فِی± ال±وَح±دَةِ مَا اَع±لَمُ مَا سَارَ رَاکِبµ بِلَی±لٍ وَح±دَہُ۔ اگرلوگ جان لیتے کہ تنہا (سفر کرنے ) میں کیا (خطرات) ہیں جو میں جانتاہوں تو کبھی کوئی سوار تنہار ات میں نہ چلتا۔(بخاری ، مسلم ،احمد،ترمذی)۔
۰ عبداللہ بن عمر وبن العاص سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا : ایک شخص سفر سے واپس ہوا رسول اللہ ﷺ نے اس سے پوچھا : تمہارے ساتھ کون تھے ؟ اس نے کہا کوئی نہیں ،آپ نے فرمایا: الرَّاکِبُ شَی±طَانµ وَالرَّاکِبَانِ شَی±طَانَانِ، وَالثَّلَاثَةُ رَک±بµ۔ ایک مسافر شیطان ہے ، دومسافر دو شیطان ہیں اور تین مسافر جماعت ہیں۔ ( ابوداود،ترمذی،حاکم،بیہقی :حسن)۔
امام خطابی فرماتے ہیں کہ تنہا سفر کرنا شیطانی عمل ہے ،دو آدمیوں کے سفر کا بھی یہی حکم ہے ، لیکن جب تین ہوجائیں تو وہ جماعت ہے ۔ تنہا سفر کرنے والا اگر مرجائے تو اس کے غسل اور کفن دفن کا انتظام نہیں ہوسکے گا اور نہ ہی وہ کسی کو اپنے مال وغیرہ کی وصیت کرسکتاہے، لیکن جب تین آدمی ہوں تو باہمی تعاون سے یہ سارے کام انجام دے سکتے ہیں ۔(عون المعبود : جلد رابع:۷/۱۹۱)۔
علامہ البانی فرماتے ہیں : شاید اس حدیث سے مراد : صحراءکا سفر ہے جہاں مسافر بہت کم ہی کسی کو دیکھ پاتاہے ، اس میں آج کل کا سفر داخل نہیں ہے جو معروف راستوں میں ہوتا ہے جن پر بہت سی سواریاں چلتی پھرتی ہیں ۔واللہ اعلم۔ (السلسلة الصحیحة :ج۱، ص:۲۹، حدیث: ۲۶)۔
(۵) سفر میں جب تین سے زائد آدمی ہوں تو ان میں سے ایک کو اپنا امیر بنالینا مستحب ہے :
۰ رسول اللہ ﷺ نے امت کو اجتماعیت کی ترغیب دی ہے ، آپ ﷺ نے فرمایا : یَدُ اللّٰہِ عَلَی ال±جَمَاعَةِ۔جماعت پر اللہ کا ہاتھ ہے۔ ( ترمذی ،صحیح الجامع : ۵۶۰۸)۔
۰ ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اِذَا خَرَجَ ثَلَاثَةµ فِ¸± سَفَرٍ فَل±یُو¿َمِّرُو±ا اَحَدَھُم± ۔ ( ابوداود: وقال الالبانی : حسن صحیح)۔جب تین آدمی سفر کریں تو اپنے میں سے ایک کو اپنا امیر بنالیں۔
امیر کو چاہیے کہ اپنے ہم سفر ساتھیوں کی مصلحت کو پیش نظر رکھتے ہو ئے ان کی مناسب رہنمائی کرے اورمامورین کو چاہیے کہ اس کی اطاعت کریں الا یہ کہ اگروہ کسی گنا ہ کا حکم دے تو اس کی اطاعت نہ کریں ۔ ان اصولوں پر عمل کرنے سے ہم سفر ساتھیوں کے مابین اتفاق رہے گا اور باہمی ناچاکی کے بغیر سفر خوشگوار گزرے گا۔
(۶) سفر میں کتا یا گھنٹی ساتھ رکھنا منع ہے : ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : لَا تَص±حَبُ ال±مَلَائِکَةُ رُف±قَةً فِی±ھَا کَل±بµ وَ لَا جَرَسµ ۔(مسلم،احمد ،ترمذی)۔جس قافلے میں گھنٹی اور کتا ہو فرشتے ان کے ساتھ نہیں ہوتے ۔
گھنٹی سے اس لیے منع کیا گیا ہے کہ وہ شیطان کی بانسری ہے ، جیساکہ ایک حدیث میں اس کی صراحت بھی آئی ہے کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اَل±جَرَسُ مَزَامِی±رُ الشَّی±طَانِ ۔ (مسلم ، احمد، ابوداود)۔ گھنٹی شیطان کی بانسری ہے ۔
سفر میں کتا نہ رکھنے کا سبب یہ ہے کہ: چونکہ کتا پالنا منع ہے اس لیے جو شخص سفر میں کتا رکھتاہے وہ فرشتوں کی صحبت ،ان کی دعائے مغفرت اور نیکی میں ان کے تعاون سے محروم ہوجاتاہے اور ایک سبب یہ بھی ذکر کیا گیاہے کہ وہ ناپاک ہے ۔واللہ اعلم۔ ( عون المعبود: مجلد۴،جزئ۷/۲۶۱)۔
شریعت کا مقصد یہ ہے کہ ایک مسافر شیطانی ماحول سے بچ کر اسلامی آداب اور ماثور دعاو¿ں کا اہتمام کرے، تاکہ اُ سے فرشتوں کی صحبت کا شرف حاصل ہو جو مسافر کے حق میں دعائیں کرتے ہیں اور اللہ کے حکم سے اس کی حفاظت کرتے رہتے رہیں ۔
(۷) جمعرات کے دن اور صبح سویرے سفر پر نکلنا مستحب ہے : کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : اَنَّ النَّبِ¸َّ ﷺ خَرَجَ یَو±مَ ال±خَمِی±سِ فِ¸± غَز±وَةِ تَبُو±کَ وَکَانَ یُحِبُّ ا¿َن± یَخ±رُجَ یَو±مَ ال±خَمِی±سِ۔(بخاری )۔ نبی کریم ﷺ غزوہ تبوک میں جمعرات کے دن نکلے اور آپ ﷺ جمعرات کے دن سفر پر نکلنے کو پسند فرماتے تھے ۔ (بخاری)۔
۰ اور امام احمد اوربخاری کی روایت میں ہے کہ :قَلَّ مَا کَانَ رسول اللہ ﷺ یَخ±رُجُ اِذَا اَرَادَ سَفَرًا اِلَّا یَو±مَ ال±خَمِی±سِ ۔ (احمد،بخاری)۔ رسول اللہ ﷺ جب کسی سفر کا ارادہ کرتے تو جمعرات کے علاوہ (دوسرے دنوں میں ) بہت کم نکلتے ۔
۰ رسول اللہ نے صبح کے وقت میں برکت کی دعا فرمائی ہے : اَللّٰھُمَّ بَارِک± لِا¿ُمَّتِ¸± فِ¸± بُکُو±رِھَا۔ اے للہ میری امت کے لیے اس کے صبح کے وقت میں برکت عطا فرما۔ صخر الغامدی بیان کرتے ہیں کہ: آپ ﷺجب کوئی لشکریاوفد روانہ کرتے تو انہیں صبح سویر ے روانہ کرتے۔ صخرایک تاجر آدمی تھے وہ صبح سویر اپنا مال تجارت کے لیے بھیجتے تھے ، چنانچہ وہ مالدار ہوگئے اور ان کا مال زیادہ ہوگیا۔(احمد ، ابوداود،ترمذی،ابن ماجہ ،صحیح ابن حبان ، صحیح الجامع : ۰۰۳۱)۔
۰ مسئلہ : جمعہ کے دن زوال کے بعد سفر کرنامنع ہے : اس کی تفصیل آگے آئیگی ۔
(۸) سفر کی دعا وںکا اہتمام کرنا: قسم قسم کی سواریوں پر سکون و اطمینان کے ساتھ ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہونا ؛اللہ کی نعمت اور اس کا فضل ہے ، سواری اور سفر کی جتنی دعائیں آپ ﷺسے ماثور ہیں ان میں اللہ کی حمدوثنا اور گناہوں کی مغفرت کاذکر ہے جو دراصل نعمت الہی کی قدر اور اس کے شکر کا طریقہ ہے،لہذا ان سواریوں پر سوارہونے والوں اور مسافروںکوچاہیے کہ وہ اپنے منعم کا شکر بجالائیں اور اس سلسلے میں وارد دعاو¿ں کا اہتمام کریں:
الف : سواری پر سوار ہونے کی دعا :
علی بن ربیعہ سے روایت ہے کہ میںعلی رضی اللہ عنہ کے پاس تھا کہ ان کے پاس سواری لائی گئی ،جب انہوں نے اپنا پیر سوار ی پر رکھا تو :[ بِس±مِ اللّٰہِ ، اَل±حَم±دُلِلّٰہِ ]کہا ، پھر جب سوار ی پر بیٹھ گئے تو یہ دعا پڑھی :( سُب±حَانَ الَّذِی± سَخَّرَلَنَا ھٰذَا وَمَا کُنَّا لَہ¾ مُق±رِنِی±نَ ، وَاِنَّا اِلٰی رَبِّنَا لَمُن±قَلِبُو±نَ۔ [ال±حم±دُ اللّٰہِ،ال±حم±دُ اللّٰہِ،ال±حم±دُ اللّٰہِ]۔[اللّٰہُ اَک±بَرُ،اللّٰہُ اَک±بَرُ،اللّٰہُ اَک±بَرُ]، سُب±حَانَکَ اِنِّ¸± ظَلَم±تُ نَف±سِ¸± فَاغ±فِر±لِ¸± فَاِنَّہُ لَا یَغ±فِرُ الذُّنُو±بَ اِلَّا اَن±تَ)۔پھروہ ہنس دیئے ۔ میں نے پوچھا : اے امیر المو¿منین ! آپ کیوں ہنس رہے ہیں ؟جواب دیا کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو دیکھا کہ آپ نے ویسا ہی کیا جیسا میں نے کیا پھر آپ ﷺنے ہنس دیا ۔ میں نے پوچھا یا رسول اللہ : آپ کیوں ہنس رہے ہیں ؟ تو آپ ﷺنے فرمایا : اِنَّ رَبَّکَ یُع±جِبُ مِن± عَب±دِہِ اِذَا قَالَ اغ±فِر±لِ¸± ذُنُو±بِ¸±، یَع±لَمُ اَنَّہُ لَا یَغ±فِرُ الذُّنُو±بَ غَی±رِ¸±۔ بیشک تمہارا رب اپنے بندے سے خوش ہوتاہے جب بندہ (اغ±فِر±لِ¸± ذُنُو±بِ¸±:اے میرے رب تو میرے گناہوںکو بخش دے )کہتاہے ،وہ جانتا ہے کہ میرے علاوہ کوئی گناہوں کو نہیں بخشتا۔(ابوداود ، ترمذی:صحیح )۔
ب : سفر کی دعا : ابن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیںکہ رسول اللہ ﷺجب سفر پرنکلنے کے لیے سواری پر بیٹھتے تو تین بار (اللّٰہُ اَک±بَرُ)کہتے پھر یہ دعا پڑھتے : ﴾ سُب±حَانَ الَّذِی± سَخَّرَلَنَا ھٰذَا وَمَا کُنَّا لَہ¾ مُق±رِنِی±نَ، وَاِنَّا اِلٰی رَبِّنَا لَمُن±قَلِبُو±نَ﴿اَللّٰھ مَّ اِنَّا نَس±اَلُکَ فِی± سَفَرِنَا ھٰذَا ، اَل±بِرَّ وَالتَّق±وٰی ، وَمِنَ ال±عَمَلِ مَا تَر±ضٰی ۔ اَللّٰھُمَّ ھَوِّن± عَلَی±نَا سَفَرَنَا ھٰذَا، وَاط±وِ عَنَّا بُع±دَہ¾، اَللّٰھُمَ اَن±تَ الصَّاحِبُ فِی± السَّفَرِ وَال±خَلِی±فَةُ فِی± ال±اَھ±لِ ، اَللّٰھُمَّ اِنَّ¸± اَعُو±ذُ بِکَ مِن± وَعَثَائِ السَّفَرِ، وَکَابَةِ ال±مَن±ظَرِ، وَسُو±ئِ ال±مُن±قَلَبِ فِی± ال±مَالِ وَال±اَھ±لِ۔( مسلم ) ۔ پاک ہے وہ ذات جس نے اس (سواری) کو ہمارے تابع کردیا،حالانکہ ہم اسے اپنے قابومیں نہیں کرسکتے تھے ،اور یقینا ہم اپنے رب کی طرف لوٹ کرجانے والے ہیں ، اے اللہ !ہم اپنے اس سفر میں تجھ سے نیکی (کرنے)،تقوی(برائی سے بچنے ) اور ایسے عمل کا سوال کرتے ہیں جس سے توراضی ہو ، اے اللہ !ہم پر ہمارایہ سفر آسان کردے اور ہمارے لیے اس کی دوری لپیٹ دے ۔ اے اللہ !توہی سفر میں (ہمارا) ساتھی (مددگار)ہے ،اور اپنے اہل (وعیال) کا محافظ ہے ،اے اللہ ! میں تجھ سے سفر کی مشقت سے ، اہل وعیال اور مال ودولت میں غمزدہ منظرسے ،(سفر سے )واپسی کے بعد بری حالت سے پناہ طلب کرتاہوں ۔
ج۔ دوران سفر جب اونچائی پر چڑھیں تو[ اَللّٰہُ اَک±بَر]کہنا چاہیے اور جب نیچے کی طرف آئیں تو[ سُب±حَانَ اللّٰہ] کہنا چاہیے۔ (بخاری)۔
(۹) مسافر کی دعا قبول ہوتی ہے ، لہذا مسافر کو چاہیے کہ اپنے لیے، اپنے والدین کے لیے ، اپنے اہل وعیال اور عام مسلمانوں کے لیے کثرت سے دعائیں کرے :
۰ انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ثُلَاثُ دَعَوَاتٍ لَا تُرَدُّ : دَع±وَةُ ال±وَالِدِ ، وَ دَع±وَةُ الصَّائِمِ ، وَ دَع±وَةُ ال±مُسَافِرِ ۔ تین (لوگوں کی ) دعائیں رد نہیں ہوتیں : ۱۔ والدین کی دعا ( اولاد کے حق میں ) ۔ ۲۔ روزہ دار کی دعا۔ ۳۔ مسافر کی دعا ۔ (سنن کبری للبیہقی :حسن ) ۔
۰ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ثُلَاثُ دَعَوَاتٍ یُس±تَجَابُ لَھُنَّ، لَا شَکَّ فِی±ھِنَّ : دَع±وَةُ ال±مَظلُو±مِ ، وَدَع±وَةُ ال±مُسَافِرِ، وَدَع±وَةُ ال±وَالِدِِلِوَلَدِہِ۔ تین لوگوں کی دعائیں قبول ہوتی ہیں اس میں کوئی شک نہیں : ۱۔ مظلوم کی بددعا ( ظالم کے حق ) ۔ ۲۔ مسافر کی دعا ۔ ۳۔ والدین کی دعا ( اولاد کے حق میں ) ۔ ( ابن ماجہ،ابوداود، ترمذی :حسن )۔
(۰۱) سفر میں سحر کے وقت صبح سے کچھ پہلے یہ دعا پڑھنا مستحب ہے : ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ جب سفر میں سحر(صبح)کرتے تو کہتے : سَمِعَ سَامِعµ بِحَم±دِ اللّٰہِ وَ حُس±نِ بَلَائِہِ عَلَی±نَا رَبَّنَا صَاحِب±نَا وَ اَف±ضِل± عَلَی±نَا، عَائِذًا بِاللّٰہِ مِنَ النَّارِ ۔ ( مسلم، ابوداود)۔سننے والے نے ہم سے اللہ کی حمد اور ہم پر اس کے اچھے انعام کی (شکرگزاری) کو سن لیا،اے ہمارے رب تو ہماری حفاظت اور مدد فرما،ہمیں ہمیشہ اپنے فضل واحسان سے مالامال فرما۔ جہنم سے اللہ کی پناہ !۔
(۱۱) سفر میں سواری پر عام نفل نماز پڑھنا سنت ہے : سواری چاہے جانور ہو یا موجودہ ترقی یافتہ سواریاںان پر وتراور عام نفل نماز ادا کرنا سنت ہے اس کے لیے سمتِ قبلہ بھی ضروری نہیں ہے ، اگر میسر ہوتو صرف تکبیر تحریمہ کے وقت قبلہ رخ ہونا افضل ہے ۔یہ ایک ایسی سنت ہے جو مسلمان مسافروں کے درمیان اجنبی ہوگئی ہے ، بہت کم لوگ ہوں گے جو موجودہ سواریو ں پر وتر یا نفل نماز ادا کرتے ہوں :
۰ عبداللہ بن عمر سے روایت ہے کہ : ا¿َنَّ رَسُو±لَ اللّٰہِ ﷺ کَانَ یُسَبِّحُ عَلَیٰ ظَھ±رِ رَاحِلَتِہِ حَی±ثُ کَانَ وَج±ھُہُ، یُو±مِی¿ُ بِرَا¿±سِہِ وَکَانَ اب±نُ عُمَرَ یَف±عَلُہُ۔رسول اللہ ﷺ اپنی سواری کی پیٹھ پر،چاہے اُس کا رخ جدھرے بھی ہو ،اپنے سر سے اشارہ کرتے ہوئے ، نفل نماز ادا کرتے تھے۔ (سالم بن عبداللہ بن عمر کہتے ہیں کہ ) ابن عمر بھی اس پر عمل کرتے تھے ۔(بخاری )۔
۰ عبداللہ بن عمر سے روایت ہے کہ : کَانَ النَّبِ¸ُّ ﷺ یُصَلِّ¸± فِ¸± السَّفَرِ عَلَی رَاحِلَتِہِ،حَی±ثُ تَوَجَّھَت± بِہِ، یُو±مِی¿ُ اِی±مَائً، صَلَاةَ اللَّی±لِ اِلَّا ال±فَرَائِضَ،وَیُو±تِرُ عَلَیٰ رَاحِلَتِہِ ۔ نبی کریم ﷺ سفر میں اپنی سواری پرفرائض کے علاوہ تہجد کی نماز اشارةًپڑھتے تھے ، خواہ وہ جدھر بھی رخ کرلے اور وتربھی اپنی سواری پر پڑھتے تھے ۔ (بخاری ، مسلم ، احمد ترمذی )۔
٭ واضح رہے کہ سفر میں فرائض سے پہلے اور بعد کی سنت مو¿کدہ پڑھناثابت نہیں ہے سوائے فجر کی سنت اور وتر کے البتہ تہجد اورعام نفل نماز پڑھنا ثابت ہے ۔ (بخاری مع الفتح :باب من تطوع فی السفر فی غیر دبر الصلوات و قبلھا)۔
(۲۱) سواری میں کوئی خرابی پیدا ہوجائے تو شیطان کو یا سواری کو گالی نہیں دینا چاہیے بلکہ[بسم اللہ ] کہناچاہیے:
۰ ایک صحابی فرماتے ہیں : میں نبی کریم ﷺ کے پیچھے سوار تھا ، آپ ﷺ کی سواری کو ٹھوکر لگی ، میں نے کہا : شیطان برباد ہو ، آپ نے فرمایا : [شیطان برباد ہو] نہ کہو ، کیونکہ جب تم ایسا کہو تو شیطان گھر کے بقدر بڑا ہوجاتاہے اور کہتا ہے : میری طاقت کی وجہ سے ( ایسا ہوا ہے ) ۔ لیکن (اس کی بجائے) : [بسم اللہ ]کہو۔ کیونکہ جب تم ایسا کہو تو شیطان چھوٹا ہوجاتاہے ، یہاں تک کہ مکھی کے برابر ہوجاتاہے ۔ ( احمد،ابوداود: صحیح ) ۔ (الآداب الشرعیہ ج۲۔ص:۲۱۵)۔
۰ ابوبرزہ اورعمران بن حصین رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ایک سفر میں تھے کہ ایک انصاری عورت اپنے اونٹ پر سوار تھی(جس پر بعض لوگوں کا سامان لدا ہواتھا)جب وہ دوپہاڑوں کے مابین پہنچی تو اس پر پہاڑکی چڑھائی گراں گزری ،اچانک اس نے نبی کریم ﷺ کو دیکھ لیا تو اونٹ کو ڈانٹا اور اس پر لعنت برسائی ، رسول اللہ ﷺنے سنا تو فرمایا : خُذُو±ا مَا عَلَی±ھَا وَدَعُو±ھَا فَاِنَّھَا مَل±عُو±نَةµ ۔ اس پر ( تمہارا )جوکچھ سامان ہے اسے اتارلو اور اسے چھوڑ دو اس لیے کہ وہ لعنت زدہ ہے ۔ ایک اور روایت میں آپ کا ارشاد ہے کہ: لَا تُصَاحِبُنَا نَاقَةµ عَلَی±ھَا لَع±نَةµ۔ ایسی اونٹنی ہمارے ساتھ نہ رہے جس پر لعنت ہے ۔ (مسلم،ابوداود،ابن ابی شیبہ)۔اس اونٹنی سے لوگوں کا سامان اتار لینے اوراس کاکجاوا نکال دینے کا حکم دیا تاکہ وہ عورت اس پر سواری نہ کرسکے، اس عورت کے حق میں بطورسزا آپ نے ایسا کیا تاکہ کوئی شخص جانور (سواری) کو لعن طعن نہ کرے ۔ عمران کہتے ہیں کہ (جب رسول اللہ ﷺ نے اس اونٹ سے فائدہ اٹھانے سے منع فرمایا )تو میں اسے دیکھتا تھا کہ وہ لوگوں کے مابین بازارمیں گھومتی پھرتی تھی لیکن کوئی اس سے تعرض نہ کرتا تھا۔ (شرح مسلم نووی،تہذیب سنن ابی داود لابن القیم،عون المعبود)۔
(۳۱) جب کسی قریہ یا شہر کو دیکھ لے اور اس میں داخل ہونا چاہے تو یہ دعا پڑھیں:
اَللّٰھُمَّ رَبَّ السَّمٰوٰتِ السَّب±عِ وَمَا اَظ±لَل±نَ ، وَرَبَّ ال±اَرَضِی±نَ السَّب±عِ وَمَا اَق±لَل±نَ ، وَرَبَّ الشَّیَاطِی±نِ وَمَا اَض±لَل±نَ ، وَرَبَّ الرِّیَاحِ وَمَا ذَرَی±نَ، اَس±اَلُکَ خَی±رَ ھٰذِہِ ال±قَر±یَةِ وَخَی±رَ اَھ±لِھَا، وَخَی±رَ مَا فِی±ھَا، وَاَعُو±ذُبِکَ مِن± شَرِّھَا وَشَرِّ اَھ±لِھَا ، وَشَرَّ مَافِی±ھَا۔ اے اللہ ساتوں آسمانوں کے رب اور ان چیزوں کے رب جن پروہ سایہ کیے ہیں اور ساتوں زمینوں کے رب اور ان چیزوں کے رب جن کو وہ اٹھائے ہیں اور شیطانوں کے رب اور ان چیزوں کے رب جن کوانہوں نے گمراہ کیا ہے اور ہواو¿ں کے رب اور ان چیزوں کے رب جن کووہ اڑائے(اوربکھرے) ہیں ، میں تجھ سے اِس بستی کا خیر اور اُس کے باشندوں کا خیر اور اس میں موجودہ تمام چیزوں کا خیرمانگتاہوں اور میں اس قریہ کے شر سے اوراس کے باشندوں کے شر سے اور اس میں موجودہ تمام چیزوں کے شر سے تیری پناہ طلب کرتاہوں ۔ (عمل الیوم واللیلة للنسائی : صححہ الا¿لبانی فی السلسلة:۹۵۷۲)۔
(۴۱) دوران سفر کسی جگہ پڑاو¿ کریں توصرف ایک اللہ کی پناہ طلب کریں : جاہلیت میں لو گ دوران سفر جب کسی جگہ پر پڑاو¿ ڈالتے تو اس جگہ کے جنات کی پناہ طلب کرتے کہ اس علاقے کے شر سے ان کی حفاظت کریں ، اللہ تعالی نے ان کے بارے میں فرمایا: ﴾وَ اَنَّہُ کَا نَ رِجَالµ مِّنَ ال±اِن±سِ یَعُو±ذُو±نَ بِرِجَالٍ مِّنَ ال±جِنِّ فَزَادُو±اھُم± رَھَقًا﴿۔ ( الجن : ۶)۔ بات یہ ہے کہ چند انسان بعض جنات سے پناہ طلب کیا کرتے تھے جس سے جنات اپنی سرکشی میں اور بڑھ گئے ۔
اہل جاہلیت کا یہ عمل شرک ہے کیونکہ نفع اور نقصان کا مالک صرف اللہ تعالی ہے اس لیے اسلام نے مسلمانوںکوتعلیم دی کہ ہرچیز کے شر سے محفوظ رہنے کے لیے صرف ایک اللہ کی پناہ مانگنا چاہیے :
خولہ بنت حکیم سلمیہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ : مَن± نَزَلَ مَن±زِلًا ثُمَّ قَالَ :[ اَعُو±ذُ بِکَلِمَاتِ اللّٰہِ التَّامَّاتِ مِن± شَرِّ مَا خَلَقَ ]لَم± یَضُرُّشَ¸±ئµ حَتّٰی یَر±تَحِلَ مِن± مَن±زِلِہِ ذٰلِکَ۔ (مسلم ،احمد، ترمذی ) ۔ جو شخص کسی جگہ پر اترے پھریہ دعا پڑھے : اَعُو±ذُ بِکَلِمَاتِ اللّٰہِ التَّامَّاتِ مِن± شَرِّ مَا خَلَقَ۔ (میں اللہ کے مکمل کلمات کے ذریعہ اس کی مخلوق کے شر سے پنا ہ طلب کرتاہوں ) ۔ تو اس کو کوئی چیز نقصان نہیں پہنچائے گی یہاں تک کہ اس جگہ سے کوچ کرجائے ۔
مسافر کواپنے سفر کے دوران کھانے پینے ، آرام کرنے اور قضائے حاجت وغیرہ کے لیے اترنے کی ضرورت پڑتی ہے ، ممکن ہے جس جگہ وہ اترے وہاں :موسم کی خرابی ،زہریلے جانور،کیڑے مکوڑے ، شیاطین ،چوراوردشمن وغیرہ پائے جاسکتے ہیں لہذا اِس قسم کی تمام مخلوق کے شر سے پناہ مانگنے کے لیے مذکورہ پڑھ لینا چاہیے ۔
۰ یہ دعا کسی بھی جگہ پر اترنے یا قیام کرنے کے وقت پڑھ سکتے ہیں صرف سفر کے لیے ہی خاص نہیں ہے ۔
(۵۱) دوران سفر اجتماعیت کے ساتھ پڑاو¿ کرنا اور اجتماعیت کے ساتھ کھانا مستحب ہے : اس لیے کہ اللہ تعالی نے اجتماعیت میں قوت و طاقت ،اور برکت رکھی ہے جبکہ انتشار اور تفرقہ میں کمزوری ،دشمنوں کا تسلط اور بے برکتی ہے ۔ ابوثعلبہ الخشنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ صحابہ کرام جب کسی منزل پر پڑاو¿ ڈالتے تو وادیوں اور گھاٹیوں میں پھیل جاتے تھے ، رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا: اِنَّ تَفَرُّقَکُم± فِ¸± ھٰذِہِ الشِّعَابِ وَال±ا¿َو±دِیَةِ اِنَّمَا ذٰلِکُم± مِنَ الشَّی±طَانِ۔فَلَم± یَن±زِل± بَع±دَ ذٰلِکَ مَن±زِلًا اِلَّا ان±ضَمَّ بَع±ضُھُم± اِلَی بَع±ضٍ حَتّٰی یُقَالَ لَو± بُسِطَ عَلَی±ھِم± ثَو±بµ لَعَمَّھُم± ۔ (ابوداود، احمد:صحیح)۔ یقینا تمہارا ان گھٹایوں اور وادیوں میں پھیل جانا شیطان کی جانب سے ہے ، اس کے بعد جب وہ کسی منزل پر پڑاو¿ کرتے تو ایک دوسرے سے ایسے مل جاتے تھے کہ کہاجاتا کہ اگر ان پر کوئی کپڑا ڈالا جائے تو ان سب کو ڈھانک لے۔
اِکھٹے کھانے میں برکت ہے : صحابہ کرام نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا: یا رسول اللہ ہم لوگ کھانا کھاتے ہیں لیکن سیرنہیں ہوتے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : فَلَعَلَّکُم± تَف±تَرِقُو±نَ ؟ قَالُو±ا: نَعَم± ۔ قَالَ : فَاج±تَمِعُو±ا عَلَیٰ طَعَامِکُم± وَاذ±کُر±و±ا اس±مَ اللّٰہِ عَلَی±ہِ یُبَارَک± لَکُم± فِی±ہِ۔ (ابوداود ، احمد:حسن)۔ شاید تم لوگ الگ الگ کھاتے ہو؟ انہوں نے کہا :ہاں ، آپ ﷺ نے فرمایا : تم اپنے کھانے پر اکھٹے ہوجاو¿ اور بسم اللہ کہہ کر کھاو¿ تمہیں اس میں برکت ہوگی ۔
فائدہ : مستحب ہے کہ ہر مسافر کچھ نفقہ (پیسہ) سفر کے عام اخراجات کے لیے ایک شخص کے پاس جمع کردے تاکہ کھانے وغیرہ کے لیے وہ ان میں سے سب پر خرچ کرتا رہے ۔
امام احمد رحمہ اللہ تعالی سے پوچھاگیا : کیا آدمی تنہا کھائے یا جماعت کے ساتھ شریک ہوجائے؟ فرمایا: جماعت کے ساتھ شریک ہوجائے کیونکہ اس میں باہمی تعاون ہے،............ اور کچھ نفقہ (پیسہ )ڈال کر سب کے ساتھ شریک ہونا مناسب ہے۔ حسن بصری جب سفر میں جاتے توعام لوگوں کے ساتھ خود بھی اپنا نفقہ ڈال دیتے اور رازداری میںاس کے علاوہ کچھ مزید بھی ڈال دیتے تھے ۔ ( کتاب الآداب الشرعیة لابن مفلح: ج:۲،ص:۴۸۲۔۵۸۲)۔
(۶۱) سفر کے دوران راستے میں آرام کرنے کی ضرورت پڑے تو راستے سے ہٹ کر سوئیں : ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اِذَا سَافَر±تُم± فِ¸± ال±خَص±بِ فَا¿َع±طُو±ا ال±اِبِلَ حَظَّھَا مِنَ ال±اَر±ضِ، وَاِذَا سَافَر±تُم± فِ¸± السَّنَةِ فَبَادِرُو±ا بِھَا نَقِیَّھَا، وَ اِذَا عَرَّس±تُم± فَاج±تَنِبُو±ا الطَّرِی±قَ فَاِنَّھَا طُرُقُ الدَّوَابِّ وَمَا¿وَیٰ ال±ھَوَامِّ بِاللَّی±لِ۔ جب تم سفر میں سرسبز وشادب علاقے سے گزرو تو اونٹ (سواری)کو اس زمین سے اس کا حق دے دو اور جب بنجر علاقے سے گزرو تو وہاں سے جلداز جلدنکل جاو¿ ۔ اور جب رات میں پڑاو¿ کرو تو راستہ سے بچو(اُس سے ہٹ کر پڑاو¿ کرو) اس لیے کہ یہ راستے رات کے وقت جانوروں کی گزرگاہ اور کیڑے مکوڑوںکی پناہ گاہ ہوتے ہیں۔
امام نووی فرماتے ہیں : یہ سفر میں چلنے اور پڑاو¿ ڈالنے کا ایک ادب ہے جس کی طرف رسول اللہ ﷺ نے رہنمائی فرمائی ہے ، اس لیے کہ کیڑے مکوڑے اور زہریلے جانوراور درندے راتوں میں راستوں میں چلتے پھرتے ہیں........ جب انسان راستے میں سوجائے تو اس پر سے موذی جانور وغیرہ گزریںتو نقصان پہنچاسکتے ہیں،لہذا راستے سے دور رہنا چاہیے ۔ (شرح مسلم : ۷،جزئ۳۱ص:۹۵)۔ گاڑیوں کی پارکنگ میں بھی احتیاط برتنا چاہیے رات کے وقت راستوں پر سے گزرنے والی دیگر گاڑیوں سے ٹکٹر کے حادثات پیش آسکتے ہیں ۔
(۷۱) سونے سے قبل نماز فجر کو بیدار ہونے کے مختلف وسائل اختیار کرلینا چاہیے :مثلا الارام گھڑی وغیرہ؛ رسول اللہ ﷺ اس کے لیے احتیاط کرلیا کرتے تھے :
۰ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ جب غزوہ خیبر سے واپس ہوئے تو رات میں چلتے رہے یہاں تک کہ جب نیند کا غلبہ ہوا توسونے کے لیے اتر پڑے اور بلال رضی اللہ عنہ سے فرمایا : رات میں ہماری نگرانی کرنا ۔ (مسلم ، ابوداود )۔ اور نسائی اور احمد کے نزدیک جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ اپنے سفر میں فرماتے : آج کو ن ہماری نگرانی کرے گا۔ لَا نَر±قُدُ عَن± صَلَاةِ الصُّب±ح ۔ کہیں ہم نماز فجر کو چھوڑ کر نہ سوجائیں ؟ بلال رضی اللہ عنہ نے کہا میں نگرانی کروں گا........۔(نسائی ، احمد)۔
۰ قتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ : رسول اللہ ﷺ جب سفر میں ہوتے اور رات میں سونے کے لیے پڑاو¿ ڈالتے تو اپنی سیدھی کروٹ لیٹتے اور جب صبح کی نماز سے کچھ پہلے اتر کر سونا چاہتے تو اپنی کہنی کو کھڑا کرتے اور اپنی ہتھیلی پر سر رکھ کر لیٹ جاتے ۔ (مسلم ، احمد)۔
(۸۱) اپنی ضرورت پوری کرنے کے بعد بغیرکسی تاخیر کے اپنے گھروالوں کے پاس لوٹنا چاہیے : مسافر کے لیے مستحب ہے کہ جب اپنی ضرورت پوری کرلے توجلداز جلد وطن لوٹ جائے اور اپنی ضرورت سے زیادہ نہ ٹھہرے ۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : : اَلسَّفَرُ قِط±عَةµ مِنَ ال±عَذَابِ یَم±نَعُ اَحَدُکُم± طَعَامَہُ وَشَرَابَہُ وَنَو±مَہُ ، فَاِذَا قَضَیٰ نَھَمَتَہُ فَل±یُعَجِّل± اِلَیٰ اَھ±لِہِ ۔ ( بخاری ،مسلم،احمد،ابن ماجہ )۔ سفر عذاب کا ایک حصہ ہے جو تم میںسے ایک آدمی کو کھانے پینے اور سونے سے روکتاہے ، لہذا جب اپنی ضرورت پوری کرلے تو اپنے گھر والوں کی طرف جلدی لوٹ جائے ۔
(۹۱) سفر سے واپس لوٹتے وقت سفر کی مذکورہ دعاکے ساتھ یہ دعا بھی پڑھیں: آئِبُو±نَ ، تَائِبُو±نَ ، عَابِدُو±نَ ، لِرَبِّنا حَامِدُو±نَ۔( مسلم ) ۔ ہم واپس لوٹنے والے ، توبہ کرنے والے ،اپنے رب کی عبادت کرنے والے اور( اس کی) حمد(وشکر) کرنے والے ہیں ۔
٭ یہ دعا سفرسے لوٹتے وقت اور پھر شہر یا بستی سے قریب ہونے کے وقت بھی پڑھنا چاہیے :
۰ انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ جب مدینہ کے قریب ہوجاتے تو یہ دعا پڑھتے : آئِبُو±نَ ، تَائِبُو±نَ ، عَابِدُو±نَ ، لِرَبِّنا حَامِدُو±نَ۔ آپ ﷺ برابر یہ دعا پڑھتے رہتے یہاں تک کہ مدینہ میں داخل ہوجاتے ۔ (بخاری ، مسلم)۔
۰ ابن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اللہ ﷺ جب کسی غزوہ یاحج یا عمرہ کے سفر سے واپس لوٹتے تو ہراونچی جگہ پر تین بار[ اللہ اکبر] کہتے پھر یہ دعا پڑھتے: لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَح±دَہُ لَا شَرِی±کَ لَہُ ، لَہُ ال±مُل±کُ وَلَہُ ال±حَم±دُ وَھُوَ عَلیٰ کُلِّ شَ¸±ئٍ قَدِی±رµ، آئِبُو±نَ ، تَائِبُو±نَ ، عَابِدُو±نَ ، لِرَبِّنا حَامِدُو±نَ، صَدَقَ وَع±دَہُ،وَنَصَرَعَب±دَہُ ،وَھَزَمَ ال±ا¿َح±زَابَ وَح±دَہُ۔(بخاری ،مسلم)۔
(۰۲) مسافر کو رات کے وقت اپنے گھروالوں کے پاس نہیں آنا چاہیے : جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اِذَا طَالَ اَحَدُکُم± ال±غَی±بَةَ فَلَا یَط±رُق± اَھ±لَہُ لَی±لًا ۔(بخاری)۔ جب کوئی طویل مدت تک غائب رہے تو رات کے وقت اپنے گھروالوں کے پاس نہ آئے ۔ (بخاری )۔
۰ جابر رضی اللہ عنہ کی ایک اور روایت میںہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اِذَا قَدِمَ ا¿َحَدُکُم± لَی±لًا فَلَا یَا¿±تِیَنَّ ا¿َھ±لَہُ طُرُو±قًا حَتَّیٰ تَس±تَحِدَّ ال±مُغِی±بَةُ وَتَم±تَشِطَ الشَّعِثَةُ۔ جب تم میںکا کوئی رات میں سفر سے لوٹے تو رات میں اپنے گھر والوں کے پاس نہ جائے یہاں تک کہ وہ عورت جس کا شوہر غیرحاضرہے وہ اپنے زیر ناف کے بال صاف کرلے اور جس کے بال پراگندہ ہیں وہ کنگی کرلے ۔ (مسلم)۔
ایک روایت میں جابر رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ : نَھَی رَسُو±لُ اللّٰہِ ﷺ ا¿َن± یَط±رُقَ الرَّجُلُ ا¿َھ±لَہُ لَی±لًا یَتَخَوَّنُھُم± ا¿َو± یَل±تَمِسُ عَثَرَاتِھِم± ۔ رسول اللہ ﷺنے منع فرمایا ہے کہ آدمی خبرگیری کرنے کے لیے یا غلطیوں کو ٹٹولنے کے لیے رات میں اپنے گھر والوں کے پاس آئے ۔ (مسلم )۔
امام نووی فرماتے ہیں: رات کے وقت سفر سے اپنی بیوی کے پاس اچانک آنا مکروہ ہے ۔ خاص کر جو اپنے سفرمیں طویل مدت ٹھہرا ہو، البتہ جس کی مدت سفر مختصر ہو اور اس کی بیوی کوتوقع ہے کہ اس کا شوہر رات میں لوٹ سکتاہے تو رات میں اپنے گھروالوں کے پاس آنے میں کوئی حرج نہیں ہے ۔ (شرح مسلم نووی : ۷/ جزء۳۱،ص: ۱۶)۔ خصوصا آج کل ٹیلفون سے اطلاع کردی جائے تو پھر رات میں اپنی بیوی کے پاس آنے میں کوئی حرج نہیں ہے ۔
(۱۲) وطن لوٹنے کے بعد مسجد جاکر دورکعت نماز ادا کرنا مستحب ہے : کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ: اَنَّ رَسُو±لَ اللّٰہِ ﷺ کَانَ لَا یَق±دَمُ مِن± سَفَرٍ اِلَّا نَھَارًا فِ¸± الضُّحَیٰ فَاِذَا قَدِمَ بَدَا¿َ بِال±مَس±جِدِ فَصَلَّی فِی±ہِ رَک±عَتَی±نِ ثُمَّ جَلَسَ فِی±ہِ۔سول اللہ ﷺ جب چاشت کے وقت سفر سے واپس ہوتے تو پہلے مسجد میں جاتے ،دو رکعت نماز پڑھتے ،پھر (گھرمیں جانے سے قبل لوگوں کی ملاقات کے لیے )اس میں بیٹھ جاتے ۔ (بخاری ، مسلم ۔عون المعبودجزئ:۷،ص:۲۳۳)۔
جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں ایک سفر میں نبی کریم ﷺ کے ساتھ تھا جب ہم مدینہ واپس ہوئے تو آپ نے مجھ سے فرمایا : اُد±خُلِ ال±مَس±جِدَ فَصَلِّ فِی±ہِ رَک±عَتَی±نِ ۔ مسجد میں جاو¿ اور اس میں دو رکعت نماز ادا کرلو۔ ( بخاری ) ۔۔
٭ سفرسے متعلق بعض مسائل :
۱۔ جمعہ کے دن سفر کرنے کا حکم : جمعہ کے دن زوال کے بعد جب اذان ہوجائے تو سفر کے لیے نکلنا جائز نہیں ہے ، اس لیے کہ اللہ تعالی نے اذان کے بعد جمعہ کے لیے چل پڑنے اور خرید و فروخت چھوڑنے کا حکم دیا ہے ۔﴾ یَا اَیُّھَا الَّذِی±نَ آمَنُو±ا اِذَا نُو±دِیَ لِلصَّلَاةِ مِن± یَّو±مِ ال±جُمُعَةِ فَاس±عَو±ا اِلَیٰ ذِک±رِ اللّٰہِ وَ ذَرُو±ا ال±بَی±عَ﴿۔(سورہ الجمعہ : ۹) ۔ اے ایمان والو جب جمعہ کے دن نماز کے لیے آذان ہوجائے تو اللہ کے ذکر (خطبہ) کے لیے دوڑ پڑواور خریدوفروخت چھوڑدو۔
۲۔ عورت کو بغیر محرم کے سفر کرنا منع ہے :
۰ ابن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے نبی کریم ﷺ کو کہتے ہوئے سنا ہے کہ : لَا یَخ±لُوَنَّ رَجُلµ بِام±رَا¿َةٍ وَلَا تُسَافِرَنَّ ام±رَا¿َةµ اِلَّا وَمَعَھَا مَح±رَمµ ، فَقَامَ رَجُلµ فَقَالَ : یَا رَسُو±لَ اللّٰہِ اُک±تُتِب±تُ فِ¸± غَز±وَةِ کَذَا وَکَذَا وَخَرَجَت± ام±رَا¿َتِ¸± حَاجَّةً ، قَالَ : اذ±ھَب± فَحُجَّ مَعَ ام±رَا¿َتِکَ۔ کوئی مرد آدمی کسی اجنبی عورت کے ساتھ تنہائی اختیار نہ کرے اور کوئی عورت محرم کے بغیر ہرگز سفرنہ کرے ، ایک شخص اٹھا اور کہا: اے اللہ کے رسول فلاں فلاں غزوہ میں میرانام لکھ دیا گیا ہے اور میری بیوی (تنہا) حج کے لیے نکل گئی ہے ؟ ! آپ نے فرمایا : تم بھی چلے جاو¿ اور اپنی بیوی کے ساتھ حج کرو۔ (بخاری ،مسلم)۔
یہ ایک واضح دلیل ہے کہ عورت کو محرم کے بغیر سفر کرنا جائزنہیں ہے ۔ امام نووی فرماتے ہیں : اس حدیث میں باہمی تعارض والے امور میں اہم کو مقدم رکھنے کی بات بیان کی گئی ہے ؛ جب اُس شخص کا سفرِ جہاد اس کی بیوی کے سفرِ حج سے ٹکرا گیا تو بیوی کے ساتھ حج کرنے کو مقدم رکھا گیا ؛ اس لیے کہ غزوہ میں اس کی جگہ دوسرا جاسکتاتھا لیکن حج میں اس کی بیوی کے ساتھ کوئی دوسرا اجنبی شخص نہیں جاسکتاتھا۔ ( شرح مسلم : مجلد ۵، جزئ:۹/۳۹)۔
آج کے پرفتن دور میں تو عورت کا تنہا سفر کر نا خود اس کے لیے اور دوسرو ں کے فتنوں سے خالی نہیں ہے اور اس کے علاوہ عورت جو کہ ایک کمزور مخلوق ہے اسے بہت سی ایسی ضرورتیں پیش آسکتی ہیں جنہیں صرف ایک محرم ہی ادا کرسکتاہے ۔
۳۔ ابن حجر فرماتے ہیں : بغیر ضرورت کے اپنے اہل وعیال کو چھوڑ کر دور رہنا ( مثلا تفریحی پروگرام اور ٹورپر جانا) مکروہ ہے ، خاص کر جس کو یہ اندیشہ ہو کہ اس کی غیر حاضری میں اس کے اہل وعیال کا نقصان ہوگا ۔(فتح الباری : ۳/۰۳۷)۔
۴۔ آج کل کی نئی سواریوں پرمجبوری کے وقت فرض پڑھنا جائزہے یا نہیں ؟ یاپھر اپنی منزل پر پہنچ کرتاخیر سے پڑھنا چاہیے ؟ کیا فرض نماز کی ادائیگی کے وقت بھی قبلہ رخ ہونا ضروری ہے ؟ ۔
جواب : اگر سواری اپنے اختیار کی نہیں ہے ، اگر نماز میں لگ جائیں تو سواری کے چھوٹ جانے کا اندیشہ ہے اور اگر نماز کو منزل پر پہنچنے تک تاخیر کرنے سے نماز کا وقت بھی ختم ہوسکتاہے تو اپنی استطاعت بھر جیسا ممکن ہوسکے نماز ادا کرلے اس لیے کہ اللہ تعالی نے فرمایا:﴾ لَا یُکَلِّفُ اللّٰہُ نَف±سًا اِلَّا وُس±عَھَا﴿اللہ تعالی کسی جان کو اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتا۔(البقرة : ۶۸۲)۔ اور اللہ تعالی کا فرمان ہے کہ : ﴾وَ مَا جَعَلَ عَلَی±کُم± فِ¸± الدِّی±نِ مِن± حَرَجٍ﴿ ۔ اور تم پر دین کے بارے میں کوئی تنگی نہیں ڈالی ۔(الحج : ۸۷) ۔ ﴾فَاتَّقُو±ا اللّٰہَ مَا اس±تَطَع±تُم± ﴿۔پس جہاں تک تم سے ہوسکے اللہ سے ڈرتے رہو۔ ( التغابن : ۶۱)۔
۰ رہایہ مسئلہ کہ سواری کا رخ قبلہ کی طرف نہ ہوتو کیا مسافر اپنی سواری پر نماز پڑھ سکتا ہے ،یا پھر شروع سے آخرتک یا صرف شروع میں قبلہ رخ ہونا کافی ہے ؟ ۔
جواب : یہ مسئلہ دراصل نماز پڑھنے والے پر منحصر ہے کہ اگر قبلہ رخ ہونا ممکن ہوتو اس پر عمل کرنا چاہیے کیونکہ قبلہ رخ ہونا واجب ہے ، اس لیے کہ فرض نمازوں میں چاہے سفر میں ہو یا حضرمیں قبلہ رخ ہوئے بغیر نماز درست نہیں ہوتی اور اگر قبلہ رخ ہونا ممکن نہیں ہے تو حتی المقدور اللہ سے ڈرتے ہوئے (جیسے ممکن ہو نماز ادا) کرلیں ۔ ( فتاوی اللجنہ الدائمة :رقم فتوی: ۵۷۳۱)۔
۵۔ موزوں پر مسح کرنا : مسافر کے لیے وضو کے وقت تین دن اور تین راتیں اپنے موزوں پر مسح کرنے کی اجازت ہے ۔ شرط یہ ہے کہ وہ موزے پہننے سے قبل وضو کرکے موزے پہن لے۔ (مسلم)۔
۶۔ نمازوں میں قصر کرنا:
۰ سفر میں مسافر کے لیے اس بات کی رخصت دی گئی ہے وہ چار رکعت والی نماز وںکو دو رکعت پڑھے ،اس کو قصر کہتے ہیں ۔ (بخاری ،مسلم)۔البتہ مسافر اگر مقیم کے پیچھے نماز پڑھے تو مسافر کو پوری نماز پڑھنی چاہیے ۔ (احمد ، مالک)۔
۰ چار رکعت والی نمازیں تین ہیں: ظہر ، عصر اور عشاء۔ مغرب اور فجر کی نمازوں میں قصر نہیں ہے ۔
۰ مسافتِ سفر : اونٹ کے ذریعہ یا پیدل ایک دن اور ایک رات کی مسافت کو سفر کہاجاتاہے جو تقریبا اَسی (۰۸) کلو میٹر کے برابرہے۔ لہذا جو شخص اَسی (۰۸) کلو میٹریا اس سے زیادہ کاسفر کرے تواسے قصر کرنے کی اجازت ہے ۔
۰ مدتِ قصر : چار دن تک اگر کسی جگہ قیام کا ارادہ ہے تو قصر کرسکتے ہیں ۔ اگر چاردن سے زیادہ قیام کا ارادہ ہے تو پوری نماز پڑھنی چاہیے ۔ (تحفہ الاخوان باجوبة مھمة فی ارکان الاسلام لابن باز، ص: ۳۲۱) ۔( شرح بلوغ المرام ازصفی الرحمن مبارکپوری، فقہ الحدیث ج۱، ص:۸۷۵) ۔
۰ اگر مسافر حالت تردد میں ہے کہ آج واپس ہوجاو¿ں گا ، کل واپس ہوجاو¿ں گا تو جب تک وہ اپنے وطن واپس نہ لوٹے اس وقت تک قصر کرسکتاہے ۔ (امام ترمذی نے اس سلسلہ میں اہل علم کا اجماع نقل کیا ہے ، دیکھیے : جامع ترمذی : ۸۴۵بحوالہ فقہ الحدیث ج۱،ص:۷۷۵)۔
٭ وضاحت : قصر کے لیے سفر کی مسافت اور مدت کی تعیین ؛ اہل علم کا ایک اجتہادی مسئلہ ہے نبی کریم ﷺ سے قطعی طورپر کوئی تعیین وارد نہیں ہے لہذا اہل علم کے جو بھی اقوال اقرب الی الحدیث ہیں انہیںاختیار کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے ۔ مذکورہ تعیین علامہ ابن باز وغیرہ جیسے اہل علم کی تحقیق ہے جو اقرب الی الحدیث ہے ۔
۷۔ جمع بین الصلاتین : یعنی دو نمازوں کو ایک وقت میںجمع کرکے پڑھنا۔ سفر میں جمع بین الصلوتین جائز ہے ، مثلاً: ظہر اور عصر کو ظہر کے وقت یا عصر کے وقت ملا کر پڑھنا ، اسی طرح مغرب اور عشاءکو مغرب کے وقت یا عشاءکے وقت ملا کر پڑھنا ۔ معاذ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ا غزوہ تبوک کے(سفر ) میںاگر سورج ڈھلنے سے پہلے کوچ کرتے تو ظہر کو مو¿خر کرتے اور عصر کے وقت دونوں کو ایک ساتھ جمع کرکے پڑھتے ، اور اگر سورج ڈھلنے کے بعد کوچ کرتے توعصرکو مقدم کرتے اور ظہر کے وقت دونوں کو جمع کرکے پڑھتے، پھر نکل پڑتے ، اور آپ مغرب اور عشاءمیں بھی اسی طرح کرتے ۔
اور اگر مغرب سے پہلے کوچ کرتے تو مغرب کو مو¿خر کرتے اور عشاءکے وقت دونوں کو جمع کرکے پڑھ لیتے اور اگر مغرب کے بعد کوچ کرتے تو عشاءکومقدم کرتے اورمغرب کے وقت دونوں کو جمع کرکے پڑھ لیتے ۔ (ابوداود، ترمذی : صحیح ) ۔
۸۔ مسافر کو رمضان میں روزے ترک کرنے کی اجازت ہے اور دیگر ایام میں ان کی قضاءواجب ہے ۔ (البقرة : ۶۸۱)۔
٭ وضاحت : مُس±تَحَب :ایسا کام جس کے کرنے میں ثواب ہو اور اس کو نہ کرنے سے کوئی گناہ نہ ہو ۔ [اس کو مندوب ،نفل اور سنت بھی کہا جاتاہے ]۔
٭ مراجع :
۱۔ کتاب الآداب للشلہوب ۔
۲۔ فقہ الادعیہ والاذکار ج۳۔ للدکتور عبدالرزاق ۔
۳۔ فہم حدیث اردو جلد ۲۔ ص: ۱۶۱تا۵۶۱۔
۴۔ کتاب الآداب الشرعیة لابن المفلح ج ۲،ص: ۰۲۴تا ۹۲۴۔
۵۔ غذاءالالباب فی شرح منظومة الآداب ۔
۶۔ مختصرزادالمعاد از محمد بن عبدالوہاب (مترجم )سعید احمد قمرالزمان ندوی ۔
تحرير: حافظ عبد الحفيظ عمري -كويت

تانیہ
12-15-2010, 12:20 AM
تھینکس فار شیئرنگ...جزاک اللہ ...بہت خوب