PDA

View Full Version : رزق حلال کی فضیلت اور برکت



گلاب خان
12-02-2010, 11:56 PM
اﷲ رازق ہے
ہر مسلمان کا عقیدہ ہے کہ اﷲ تعالیٰ ساری کائنات کا خالق و رزق رساں ہے ، ارشاد باری ہے : ” میں نے جنوں اور انسانوں کو صرف اس لئے پیدا کیا ہے کہ وہ میری عبادت کریں ، میں نہ ان سے روزی مانگتا ہوں اور نہ چاہتا ہوں کہ وہ مجھے کھانا کھلائیں ، بے شک اﷲ ہی روزی رساں ہے ، زبردست طاقت کا مالک ہے،، ۔( ذاریات :56-58)
انسانوں سمیت ہر جاندار کا رزق اسی پر ہے جیسا کہ ارشاد ہے:”زمین پر جو جانور بھی پایا جاتا ہے ،اس کی روزی اﷲ کے ذمے ہے ، وہ ہر ایک کے دنیاوی (عارضی ) اوراخروی (دائمی ) ٹھکانوں کو جانتا ہے ، ہر بات کھلی کتاب ( لوح محفوظ ) میں لکھی ہوئی ہے،، ۔ (ھود :6)
نیز وہ جسے چاہتا ہے بغیر اسباب کے بھی رزق دیتا ہے جیسا کہ حضرت مریم 3 کو آسمان سے رزق نازل فرماتا تھا ، فرمان ربانی ہے : ”جب بھی زکریا2 اس کے پاس محراب میں جاتے ، اس کے پاس کھانے کی چیزیں پاتے ، وہ پوچھتے کہ اے مریم ! یہ چیزیں کہاں سے تیرے لئے آئی ہیں ؟ وہ کہتیں کہ یہ اﷲ کے پاس سے ہے ، بے شک اﷲ جسے چاہتا ہے بے حساب روزی دیتا ہے ،، ۔ ( آل عمران :37)
ہر مسلمان کا اس بات پر بھی ایمان ہونا چاہئے کہ اس کے اس دنیا میں آنے سے پہلے ہی اس کا رزق لکھا جا چکا ہوتا ہے ، جیسا کہ حضرت عبد اﷲ بن مسعود 5سے روایت ہے کہ رسول کائنات حضرت محمد مصطفی 1 نے فرمایا : ” بے شک تم میں سے ہر شخص کی پیدائش اس کے ماں کے پیٹ میں چالیس دن تک ( بصورت نطفہ ) جمع کی جاتی ہے ، پھر اتنا ہی عرصہ وہ خون بستہ کی شکل میں رہتا ہے ،پھر اتنی ہے مدت وہ گوشت کے لوتھڑے کی شکل میں رہتا ہے ، پھر ایک فرشتہ بھیجا جاتا ہے جو اس میں روح پھونکتا ہے ، اور اسے چار کلمات لکھنے کا حکم دیا جاتا ہے : 1) اس کا رزق ۔2) اس کی موت۔ 3) اس کا عمل ۔4) اور کیا یہ نیک بخت ہوگا یا بدبخت ،،۔( بخاری :3208 ، مسلم :2643)
حدیث قدسی میں حضرت ابوذر 5 سے مروی ہے کہ رسول اﷲ 1
اپنے رب سے روایت فرماتے ہیں : ” اے میرے بندو! تم میں سے ہر شخص گمراہ ہے ، سوائے اس کے جسے میں نے ہدایت عطا کی ، تم مجھ سے ہدایت طلب کرو میں تمہیں ہدایت دوں گا ۔ اے میرے بندو!تم میں سے ہر شخص بھوکا ہے سوائے اس کے جسے میں نے کھلایا ، تم مجھ سے کھانا مانگو میں تمہیں کھلاو ں گا ۔ اے میرے بندو!تم میں سے ہر شخص ننگا ہے ، سوائے اس کے جسے میں نے پہنایا ، تم مجھ سے لباس طلب کرو ، میں تمہیں کپڑے پہناو ں گا ۔ اے میرے بندو!تم صبح شام گناہ پر گناہ کئے جاتے ہو اور میں تمہارے سارے گناہوں کو بخشتا رہتا ہوں ، تم مجھ سے معافی طلب کرو ، میں تمہارے گناہوں کو بخش دوں گا ۔اے میرے بندو!تم نہ تو اس بات پر قادر ہوکہ کہ مجھے نقصان پہنچا سکو اور نہ ہی اس بات کی طاقت رکھتے ہو کہ مجھے فائدہ پہنچا سکو ۔ اے میرے بندو!تمہارے اول سے لے کر آخر تک ، انسان سے لیکر جن تک ، تمام کے تمام اس کائنات کے سب سے زیادہ متقی شخص کی طرح ہوجائیں تو اس سے میری سلطنت میں کوئی اضافہ نہیں ہوگا ۔ اے میرے بندو!تمہارے اول سے لے کر آخر تک ، انسان سے لیکر جن تک ، تمام کے تمام اس کائنات کے سب سے زیادہ بدکار شخص کی طرح ہوجائیں تو اس سے میری سلطنت میں کوئی کمی نہیں ہوگی ۔ اے میرے بندو!تمہارے اول سے لے کر آخر تک ، انسان سے لیکر جن تک ، تمام کے تمام ایک میدان میں جمع ہوجائیں ، اور مجھ سے مانگتے جائیں اور میںہر شخص کی دلی مرادیں پوری کردوں ، اس سے میرے خزانوں میں اتنی بھی کمی نہیں آئے گی جتنا کہ سوئی کو سمندر میں ڈبونے سے سمندر کے پانی میں کمی ہوتی ہے ۔( مسلم )


ایک بدو عورت کا رب کی رزاقیت پر ایمان
ابو عبد اﷲ جعفر برقی کہتے ہیں : میں نے ایک بیابان میں ایک بدو خاتون کو دیکھا جس کی کھیتی کڑاکے کی سردی ، زور دار آندھی اور موسلادھار بارش کے سبب تباہ ہوچکی تھی ۔ لوگ اس کے ارد گرد جمع تھے اور اس کی فصل تباہ ہونے پر اسے دلاسا دے رہے تھے ۔ اس نے اپنی نگاہ آسمان کی طرف اٹھائی اور کہنے لگی :
اے پروردگار ! پس ماندگان کی عمدہ دیکھ بھال کے لئے تجھ ہی سے امید وابستہ کی جاتی ہے ، جو کچھ تباہ وبرباد ہوگیا اس کی تلافی تیرے ہی ہاتھ میں ہے ، اس لئے تو اپنی نرالی شان کے مطابق ہمارے ساتھ معاملہ فرما ، کیونکہ ہمیں یقین ہے کہ ہماری روزی کا بندوبست تیرے ہی ذمہ ہے اور ہماری آرزوئیں اور تمنائیں تجھ ہی سے وابستہ ہیں ،،۔
ابو عبد اﷲ جعفر برقی کہتے ہیںکہ میں ابھی اس خاتون کے پاس ہی تھا کہ ایک آدمی وہاں آن پہنچا ، ہمیں اسکے بارے میں کوئی علم نہیں تھا کہ کہاں سے آیا ہے ؟ مقصد کیا ہے ؟جب اسے اس عورت کے عقیدے ، منہج اور اﷲ تعالیٰ سے تعلق کا پتہ چلا تو اس نے 500 دینار نکالے اور اس عورت کی خدمت میں پیش کرکے اپنی راہ چلتا بنا۔ ( نساءذکیات جدّا :44 )
اسی طرح کا ایک اور واقعہ ہے کہ ایک فقیر محتاج ، بادیہ نشین عورت جنگل میں خیمہ لگائے ہوئے تھی ، اپنی ضروریات کے لئے اس نے ارد گرد کھیتی کر رکھی تھی ، گذر اوقات اسی سے کرتی تھی ، ایک دن طوفان آیا ، بجلی چمکی اور کڑکی اور آسمان سے ژالہ باری ہوئی اور کھیتی تباہ وبرباد ہوگئی ۔ جب طوفان تھم گیا ، اس عورت نے خیمہ سے سر نکالا ، اپنی کھیتی کو دیکھا ، ہر چیز تباہ وبرباد ہوچکی تھی ، اس نے حسرت بھری نگاہوں سے اسے دیکھا اور پھر اپنا منہ آسمان کی طرف کیا اور کہنے لگی :
” یا ربّ ! اصنع بی ما تشاء، فنّ رزقی علیک ،،اے میرے پرور دگار ! جو جی چاہے کر ( تجھ کو کون پوچھنے والا ہے ) ( ہاں اتنی بات ضرور ہے کہ ) میرا رزق تو تیرے ہی ذمہ ہے ۔ (سنہری کرنیں : عبد المالک مجاہد )
اکل حلال کا حکم
اﷲ تعالیٰ نے اپنے انبیاءورسل4 کو اکل حلال کا حکم دیا ہے ۔ ارشاد باری ہے : ” اے میرے پیغمبرو ! پاکیزہ چیزیں کھاو اور نیک عمل کرو ، بے شک میں تمہارے اعمال کو خوب جانتا ہوں ،،۔( مومنون :51)
امام بن رجب حنبلیؒ اس آیت کی تشریح میں فرماتے ہیں : تمام پیغمبر اور ان کی امتیں ” طیبات ،، یعنی حلال کھانے اور نیک عمل کرنے کا حکم دی گئی ہیں ، اس لئے کہ حلال اور نیک اعمال کی قبولیت میں گہرا رشتہ ہے ، اگر کھانا حلال کا نہ ہوگا تو نیک اعمال بھی اﷲ کے پاس مقبول نہیں ہوں گے ،،۔( نضرة النعیم : 493)
نیز یہی حکم مومنوں کو بھی دیا گیا : ” اے ایمان والو ! ہماری عطا کردہ پاکیزہ چیزیں کھاو اور اﷲ کا شکر ادا کرو ، اگر واقعی تم اس کی عبادت کرتے ہو ،،۔ ( بقرہ :172)
امام بن کثیرؒ اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں : اکل حلال دعا اور عبادت کی قبولیت کا سبب ہے ، جب کہ اکل حرام دعا اور عبادت کی قبولیت کو روک دیتا ہے ،،۔ ( تفسیر بن کثیر )
اور یہی حکم عام انسانوں کو بھی دیا گیا کہ وہ پاکیزہ و حلال چیزیں کھائیں : ” اے لوگو ! زمین میں جتنی حلال پاکیزہ چیزیں ہیں انہیں کھاو اور شیطان کے نقش قدم کی اتباع نہ کرو ، بے شک وہ تمہارا کھلا دشمن ہے ،،۔ ( بقرہ :168)
امام بن کثیرؒ اس کی تفسیرمیں فرماتے ہیں :” اﷲ تعالیٰ نے اس آیت میں روئے زمین کی ان تمام چیزوں کو کھانے کا حکم دیا ہے جو اسکی جانب سے حلال ہیں اور اپنی فطرت میں پاکیزہ ہیں اور جسکے کھانے سے جسم اور عقل پر برے اثرات مرتب نہیں ہوتے ،،( تفسیر بن کثیر )
ہاتھ کی کمائی کی تعریف
اسی لئے رسول پاک نے اپنی کئی احادیث مبارکہ میں اس کمائی کی سب سے زیادہ تعریف فرمائی ہے جسے انسان اپنے ہاتھ کے ہنر اور محنت ومزدوری سے حاصل کرتا ہے ،بیشتر انبیاء4 اپنے ہاتھ کے ہنر سے کسب معاش فرماتے تھے ، حضرت نوح 2اور حضرت زکریا 2 نجار تھے ، حضرت موسیٰ2 اور دیگر کئی انبیاء4 انے بکریاں چرائی تھیں ، حضرت داود2 لوہار تھے ، حضرت ایوب2کپڑے کے کاروباری تھے ، حضرت عیسیٰ 2 اپنی والدہ حضرت مریم کے ساتھ سوت کاتا کرتے تھے ،اور رسول اکرم 1چمڑے اور کپڑے کا کاروبار فرماتے تھے ، کیونکہ اس میں حرام کا شائبہ بہت ہی کم رہتا ہے ۔
1 )حضرت مقدام 5سے مروی ہے کہ رسول اﷲ 1نے فرمایا : کسی شخص نے آج تک اپنے ہاتھ کی کمائی ہوئی غذا سے زیادہ بہتر غذا نہیں کھایا ہے ، اور اﷲ کے نبی حضرت داود 2 اپنے ہاتھ کی کمائی سے کھاتے تھے ،،۔ ( بخاری )
2)حضرت ابو ہریرہ 5سے روایت ہے کہ رسول اﷲ 1نے فرمایا :
” اﷲ تعالیٰ پاک ہے اور وہ پاکیزہ کو ہی قبول کرتا ہے ، اس نے اس معاملے میں مومنوں کو بھی وہی حکم دیا ہے جوکہ اس نے اپنے رسولوں کو دیا ہے ،پھر آپ نے ایسے شخص کا تذکرہ فرمایا جو لمبا سفر(حج ) کرتا ہے ، پریشان بال اور غبار آلود جسم کے ساتھ ( میدان عرفات میں کھڑے ہوکر ) اپنے دونوں ہاتھوں کو دعا کے لئے بلند کرکے کہتا ہے : اے میرے رب ! اے میرے پالن ہار ! لیکن اس کی دعا کہاں سے قبول ہوگی جب کہ اس کا کھانا ، پینا ، لباس اور غذا حرام کا ہے ؟ (مسلم )
3)حضرت ابوہریرہ 5سے کہتے ہےں کہ میں نے رسول اﷲ 1 کو فرماتے ہوئے سنا :” تم میں سے کوئی صبح صبح جنگل جائے ، اور اپنی پیٹھ پر لکڑیوں کا ایک گٹھا لاد لائے اور اسے بکا کر اس سے صدقہ وخیرات بھی کرے اور لوگوں کے مال سے بے پرواہ ہوجائے تو یہ اس کے حق میں اس بات سے کہیں بہتر ہے کہ وہ کسی سے بھیک مانگے چاہے وہ اسے دے یا نہ دے ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اونچا ( دینے والا )ہاتھ نچلے (مانگنے والے ) ہاتھ سے بہتر ہے ۔اور تم ( دینے میں ) ان سے شروع کرو جن کی کفالت تمہارے ذمہ ہے ،،۔ ( بخاری )
صرف حلال ہی کیوں
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ انسان صرف حلال اور پاکیزہ ہی چیزیں کیوں کھائے ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ عموما جانوروں میں یہ دیکھاجاتا کہ جو جانور جس طرح کی غذا کھاتا ہے اس کے خون اور گوشت میں اس غذا کے اثرات پائے جاتے ہیں ، حتی کہ وہ حلال جانور جو گندگی کھاتے ہیں رسول اکرم 1ان پر سواری کو نا پسند فرماتے تھے ، حتی کہ اس جانور کا گوشت اور دودھ بھی استعمال نہیں فرماتے تھے جوکہ گندگی کھاتا ہو ۔ انسان بھی اگر ایسی حرام غذا استعمال کرتا ہے جسے اس کے رب نے اس کے جسم اور عقل کے لئے نقصان دہ قرار دیا ہو تو اس کے کھانے سے اس کا جسم اور عقل متاثر ہوجاتے ہیں ۔ کئی چیزیں ایسی ہیں جو اپنی اصل میں تو حلال ہیں ، لیکن ان کی کمائی ایسے ذرائع سے کی گئی ہو جو حرام ہیں ، مثلا : جھوٹ بول کر ، دھوکہ دے کر ، چوری کرکے، سود کھا کر ، بغیر مجبوری کے بھیک مانگ کر وغیرہ ۔ اگر انسان اس طرح کی کمائی سے بے شک وہ پاک چیزیں ہی کھاتا ہو لیکن اس کمائی کی ہونے کی وجہ سے اس کے اثرات اس کی روح پراور عبادت اور اس سے متعلق چیزوں پر مرتب ہوتے ہیں ، جس سے اس کے دل سے رحم وکرم کے جذبات ختم کردئے جاتے ہیں ۔
امام الہند مولانا ابو الکلام آزاد ؒ سے پوچھا گیا : ” ڈاکو بہتر ہے یا سود خور ،، ؟ آپ نے جواب میں فرمایا : سود خور سے ڈاکو کئی درجہ بہتر ہے ، اس لئے کہ اس کے دل کے اندر رحم وکرم کے جذبات ہوتے ہیں ، کیونکہ تاریخ میں کئی ایسے ڈاکو ملتے ہیں جو مالداروں کو لوٹتے اور غریبوں پر خرچ کرتے تھے ، لیکن ایک سودخور کا دل رحم سے خالی اور اس کی آنکھیں زندگی سے عاری ہوتے ہیں ، کوئی مر بھی جائے تو وہ اس کے کفن سے بھی اگر سود وصول کرسکتا ہے تو کرلے گا ۔ ( تبرکات آزاد )
اسی لئے رسول اکرم 1نے فرمایا :
سود کی کمائی سے حاصل کردہ ایک درہم اﷲ کے نزدیک ستر مرتبہ بدکاری کرنے سے بھی زیادہ سخت ہے ۔ ( ابوداود )
اور ایک حدیث میں ہے کہ حرام کا ایک لقمہ کھانے کی وجہ سے اﷲ تعالیٰ بندے کی چالیس دن کی عبادت قبول نہیں فرماتا ۔( ترمذی )
نیز ارشاد ہے : اگر کوئی شخص ایسا لباس پہنتا ہے جس میں نو درہم تو حلال کے ہیں اور ایک درہم حرام کا ہے ، تو یہ لباس جب تک اسکے جسم پر رہے گا اﷲ تعالیٰ اس کی کسی عبادت کو قبول نہیں فرماتا ۔ (ابن ماجہ)
صحابہ کرام 7 کا احتیاط
حضرت سیدنا ابوبکر صدیق5 فرماتے تھے کہ : ” ہم حلال کے ستر حصے اس خدشہ کی بنا چھوڑ دیتے تھے کہ کہیں ہم حرام کے ایک حصے میں نہ پھنس جائیں ،،۔( ریاض الصالحین )
انسان کے دل میں جب حلال کےلئے تڑپ پیدا ہوجاتی ہے تو وہ نہ صرف ہر حرام بلکہ مشتبہ چیزوں سے بھی اپنے دامن کو پاک رکھتا ہے ، اگر غلطی سے کوئی چیز اس کے پیٹ میں چلی جائے تو اس وقت تک اسے قرار نہیں آتا جب تک کہ وہ اسے باہر نہ نکال دے ۔ اس کے بعد بھی وہ اﷲ تعالیٰ سے لرزاں ترساں رہتا ہے کہ کہیں قیامت کے دن اس کے پیٹ میں باقی رہ جانے والے ذرات کے متعلق سوال نہ ہوجائے ۔
ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ 6 فرماتی ہیں کہ سیدنا ابوبکر صدیق 5 کا ایک غلام تھا جو انہیں خراج کی رقم دیا کرتا تھا ،اور آپ اس کی کمائی کی رقم سے بھی کھاتے تھے ، ایک دن وہ کوئی چیز ( دودھ ) لے کر آیا ، آپ نے اسے نوش فرمالیا ، جب آپ پی چکے تو اس نے کہا : کیا آپ کو پتہ ہے کہ یہ کونسی کمائی کا ہے ؟ آپ نے فرمایا : بتاو کس کمائی کا ہے ؟ اس نے کہا : میں نے اسلام لانے سے قبل ایک شخص کے لئے کہانت ( غیب کی خبر دینا ) کی تھی ، حالانکہ میں اس فن کو اچی طرح جانتا نہیں تھا ، سچی بات تو یہ ہے کہ میں نے اسے دھوکہ دےا تھا ۔ آج وہ شخص مجھے ملا ،اس نے مجھے کچھ پیسے دئے ، اور جو آپ نے نوش کیا ہے وہ اسی کمائی کا ہے ۔ سیدنا ابوبکر صدیق 5 نے اپنے منہ میں انگلیاں ڈالیں اور پیٹ میں جو کچھ تھا قے کردیا ۔ ( بخاری ) ایک روایت میں ہے کہ : اتنا قے کیا کہ خون آنے لگا پھر فرمایا : اے اﷲ میرے بس میں جتنا تھا وہ میں نے کردیا ، اور جو میرے بس میں نہیں اس پر میرا مواخذہ نہ فرما ،،۔ ایک اور روایت میں ہے کہ آپ نے فرمایا: ”اگر یہ غذا میری جان کے ساتھ ہی باہر نکل سکتی تو بھی میں اسے باہر نکال دیتا ،،۔
اکل حلال کی برکات
1)اکل حلال اﷲ تعالیٰ کی محبت اور اس کی جنت تک رسائی حاصل کرنے کا راستہ ہے ۔ 2)یہ دعاوں کی قبولیت کا سبب ہے ۔3 )اس سے عمر میں برکت اور مال میں بڑھوتری ہوتی ہے ۔4)دنیا کی سعادت اور آخرت میں جنت کا موجب ہے ۔ 5)باتوں میں شیرینی اور اعمال میںجاذبیت پیدا کرتا ہے ۔6)حلال کمائی سے نسل میں برکت ہوتی ہے ۔ 7)اپنی محنت کی کمائی انسانی شرافت اور رفعت کا باعث ہے ۔
حدیث قدسی میں حضرت ابوذر 5 سے مروی ہے کہ رسول اﷲ 1
اپنے رب سے روایت فرماتے ہیں : ” اے میرے بندو! میں نے اپنی
ذات پر ظلم کو حرام کرلیا ہے اور تم پر بھی آپس میں اسے ایک دوسرے پر حرام قرار دیا ہے ، اس لئے تم ایک دوسرے پر ظلم نہ کرو ۔ اے میرے بندو!تم میں سے ہر شخص گمراہ ہے ، سوائے اس کے جسے میں نے ہدایت عطا کی ، تم مجھ سے ہدایت طلب کرو میں تمہیں ہدایت دوں گا ۔ اے میرے بندو!تم میں سے ہر شخص بھوکا ہے سوائے اس کے جسے میں نے کھلایا ، تم مجھ سے کھانا مانگو میں تمہیں کھلاوں گا ۔ اے میرے بندو!تم میں سے ہر شخص ننگا ہے ، سوائے اس کے جسے میں نے پہنایا ، تم مجھ سے لباس طلب کرو ، میں تمہیں کپڑے پہناوں گا ۔ اے میرے بندو!تم صبح شام گناہ پر گناہ کئے جاتے ہو اور میں تمہارے سارے گناہوں کو بخشتا رہتا ہوں ، تم مجھ سے معافی طلب کرو ، میں تمہارے گناہوں کو بخش دوں گا ۔اے میرے بندو!تم نہ تو اس بات پر قادر ہوکہ کہ مجھے نقصان پہنچا سکو اور نہ ہی اس بات کی طاقت رکھتے ہو کہ مجھے فائدہ پہنچا سکو ۔ اے میرے بندو!تمہارے اول سے لے کر آخر تک ، انسان سے لیکر جن تک ، تمام کے تمام اس کائنات کے سب سے زیادہ متقی شخص کی طرح ہوجائیں تو اس سے میری سلطنت میں کوئی اضافہ نہیں ہوگا ۔ اے میرے بندو!تمہارے اول سے لے کر آخر تک ، انسان سے لیکر جن تک ، تمام کے تمام اس کائنات کے سب سے زیادہ بدکار شخص کی طرح ہوجائیں تو اس سے میری سلطنت میں کوئی کمی نہیں ہوگی ۔ اے میرے بندو!تمہارے اول سے لے کر آخر تک ، انسان سے لیکر جن تک ، تمام کے تمام ایک میدان میں جمع ہوجائیں ، اور مجھ سے مانگتے جائیں اور میںہر شخص کی دلی مرادیں پوری کردوں ، اس سے میرے خزانوں میں اتنی بھی کمی نہیں آئے گی جتنا کہ سوئی کو سمندر میں ڈبونے سے سمندر کے پانی میں کمی ہوتی ہے ۔ے میرے بندو! یہ تمہارے اعمال ہیں جسے میں نے شمار کرکر کے رکھا ہے اور پھر ہر ایک کا میں بھرپور بدلہ دوں گا ، جو شخص بھلا بدلہ پائے تو وہ اﷲ کا شکر ادا کرے ، اور جو اس کے سوا پائے تو سوائے اپنے آپ کے اور کسی کو ملامت نہ
ے میرے بندو! یہ تمہارے اعمال ہیں جسے میں نے شمار کرکر کے رکھا ہے اور پھر ہر ایک کا میں بھرپور بدلہ دوں گا ، جو شخص بھلا بدلہ پائے تو وہ اﷲ کا شکر ادا کرے ، اور جو اس کے سوا پائے تو سوائے اپنے آپ کے اور کسی کو ملامت نہ کرے ۔( مسلم )

تانیہ
12-15-2010, 12:19 AM
جزاک اللہ