PDA

View Full Version : میری صُبح ، میری شام ، میری رات میں تُم ہو



Jafar Bashir
04-03-2012, 12:28 AM
میری صُبح ، میری شام ، میری رات میں تُم ہو
جو بھی کروں بات مری بات میں تُم ہو

کل پُکارا کسی کو نام سے تیرے
ہر وقت مری جان خیالات تُم ہو

غم غلط ہوتا نہیں ، پی کے بھی دیکھ لیا
ساغر و مینا و خرابات میں تُم ہو

جرّاح نے ڈھونڈا بہت قطرہ خُوں نہ ملا
دل اور جان مری ذات میں تُم ہو

قریبِ مرگ ہیں جس کے غم میں جعفرؔ
اُس نے پُوچھا بھی نہیں کیسے حالات میں تُم ہو

این اے ناصر
04-04-2012, 09:21 AM
میری صُبح ، میری شام ، میری رات میں تُم ہو
جو بھی کروں بات مری بات میں تُم ہو

کل پُکارا کسی کو نام سے تیرے
ہر وقت مری جان خیالات تُم ہو

واہ بہت خوب جناب۔ بہت اچھی شاعری ہے۔

نگار
04-04-2012, 05:43 PM
جرّاح نے ڈھونڈا بہت قطرہ خُوں نہ ملا
دل اور جان مری ذات میں تُم ہو

قریبِ مرگ ہیں جس کے غم میں جعفرؔ
اُس نے پُوچھا بھی نہیں کیسے حالات میں تُم ہو



زبردست کمال کی شاعری آپ نے کی ہے۔۔۔۔لا جواب
شکریہ

Jafar Bashir
04-04-2012, 11:27 PM
پسندیدگی کے لئے احباب کا بے حد مشکور ھوں۔۔۔۔۔