PDA

View Full Version : نو مسلموں سے انٹرویو ۔ وہ کیوں مسلمان ہوئے ؟؟



بےباک
04-04-2012, 06:29 AM
ماھانہ رسالہ ارمغان ھندوستان سے بصد شکریہ ،
نسیم ہدایت کے جھونکے (انٹرویو)

سدرہ ذات الفیضین (مثنیٰ)

سدرہ ذات الفیضین ۔ ]مثنیٰ[ : السلام علیکم
فاطمہ : وعلیکم السلام مثنیٰ باجی
س : آپ مدھیہ پر دیش سے کل آنے والی تھیں نا، کل آگئی تھیں یا آج آئیں ؟
ج : نہیں ۔ تو ہم کل ہی گئے تھے، کل نظام الدین میں حضرت کے ایک دوست کا گیسٹ ہاؤس ہے وہیں رک گئے تھے، کل شام حضرت سے ملاقات بھی ہو گئی تھی، حضرت نے مجھے حکم دیا تھا کہ میں آپ کے پاس آ کر ارمغان کے لئے انٹرویو دوں، اور نسیم ہدایت کے جھونکے جو اَب دنیا میں چل رہے ہیں ان میں، میں بھی حضرت یوسف علیہ السلام کے خریداروں میں ایک بڑھیا کی طرح شامل ہوجائوں
س : ماشاء اللہ ! آپ نے حضرت یوسف کا قصہ پورا سنا ہے، یا پڑھا ہے؟
ج : مثنیٰ باجی، محبت کرنے والے سارے بڑے اپنے بچوں کی تربیت اور ان میں بڑا بننے اور ان کی ترقی کے لئے قصے سناتے ہیں، نانی، دادی، ماں اپنے بچوں کو بہادروں، بادشاہوں، بڑے عالموں، اور دنیا کے بڑے بڑے لوگوں کی کہانیاں سناتی ہیں کہ ہمارے بچے میں بڑا بننے کا اور دنیا میں کچھ کرنے شوق پیدا ہو، ہمارے اللہ سے زیادہ کون صحیح سمجھ سکتا ہے کہ بندوں کو کن بڑوں کی طرح بننا چاہئے ہمارے اللہ نے بار بار نبیوں کے قصے اپنے قرآن مجید میں دہرائے ہیں، وہ اسی لئے تو ہیں کہ ہم بار بار پڑھیں اور اس کے ایک ایک حصے اور پہلو پر غور کرکے اس سے سبق حاصل کریں، اور ان کی وہ صفات ہمارے اندر پیدا ہوں، قرآن مجید میں حضرت یوسف علیہ السلام کے قصہ کو تواحسن القصص کہا ہے نا باجی، اس کو سیکڑوں بار پڑھ کر بھی جی نہیں بھرتا ۔
س : قرآن میں تو بڑھیا کا ذکر نہیں ہے؟
ج : یوسف علیہ السلام کی بِکری کا تو ہے، وشروہ بثمن بخس دراہم معدودۃ نہیں پڑھا آپ نے، تفسیروں میں تفصیل ہے نا ۔
س : ماشاء اللہ آپ نے تفسیر پڑھی ہے، اچھا تو آپ یہ بھی بتائیے کہ آپ نے پڑھائی کہاں کی ہے؟
ج : قطر کی ایک آن لائن یونیورسٹی ہے بلال فلپس چوکی میں، اس میں پڑھ رہی ہوں اور قرآن مجید حفظ بھی کررہی ہوں ۲۳؍ پارے الحمد للہ ہوگئے ہیں ۔
س : ماشاء اللہ آپ اس میں کب سے پڑھ رہی ہیں ؟
ج : پانچ سال سے پڑھ رہی ہوں ۔
س : ماشاء اللہ آپ کا تلفظ بالکل بھی نہیں لگ رہاہے کہ آپ کسی ہندو فیملی سے آئی ہیں ۔
ج : میں ہندو فیملی سے آئی کہاں ہوں، ہمارے نبی ﷺ کی خبر کے مطابق ہر بچہ فطرت اسلام پر پیداہو تا ہے، ہم لوگوں کی خاندا ن اور فیملی تو وہ ہوتی ہے جس پر بچہ پیدا ہو تا ہے، ہماری فیملی مسلمان ہوئی نا بہن۔ ہاں اصل میں نے پہلے تجوید پڑھی ہے انٹرنیٹ پر، اس سے مجھے بہت فائدہ ہوا۔
س : یہ بات تو ٹھیک ہے مگر یہ بھی تو ہے کہ اس کے والدین اسے یہودی، عیسائی اور مجوسی بنادیتے ہیں، تو آپ کے والدین نے تو آپ کو ہندو بنایا تھا نا؟
ج : ہاں یہ بات بالکل صحیح ہے، اس طرح تو میں بالکل اسلام مخالف گھرانے، بستی اور صوبہ میں بڑی ہوئی ہوں ۔
س : اس کی تفصیلات بتائیے؟
ج : میں مدھیہ پردیش کے ضلع دھار کے ایک ایسے قصبہ سے تعلق رکھتی ہوں جس میں ایک گھر بھی مسلمان کا نہیں، میرے والد راجپوت ٹھاکربرادری سے تعلق رکھتے ہیں، وہ بی جے پی کے بہت سر گرم کارکن رہے ہیں، اسلام کے خلاف جو بین الاقوامی پروپیگنڈہ چل رہا ہے، اس سے وہ حد درجہ متأثر رہے، ہر مسلمان ان کے خیال میں دہشت گرداور ہندوستان کا دشمن، پاکستانی دہشت گرد تھا، وہ پرائمری اسکول میں سرکاری ٹیچر تھے اور اب ہیڈ ماسٹر ہیں، ان کے تین کلاس کے ساتھیوں کے علاوہ کسی مسلمان سے ان کا ذاتی تعلق بھی نہیں، میرا ایک بڑا بھائی، ایک بڑی بہن اور ایک چھوٹا بھائی ہے۔اصل میں ہمارا گھرانہ رائے پور کی طرف کاہے، ہمارے دادا جی سرکاری ملازمت کی وجہ سے دھار میں آگئے تھے اس لئے میرے ایک چچا اور ایک تاؤ، بس ان کی اولادیں، پورے پریوار میں کل ملاکر( یعنی خونی رشتہ کے) ۱۹؍لوگ ہمارے قصبہ میں ہیں، رائے پور کے رشتہ داروں سے کچھ خاص تعلق بھی نہیں، یعنی آنا جانا نہیں رہا۔
س : آپ کی تعلیم پہلے کہاں ہوئی؟
ج : اپنے قصبہ کے ایک پرائمری اسکول سے جہاں والد صاحب پڑھاتے تھے پانچویں کلاس پاس کی، اس کے بعدہائی اسکول ایک سرسوتی ودّیا پیٹھ سے کیا، وہیں سے انٹر میڈیٹ کیا، بعد میں ایک کمپیوٹر کا کورس بھی کیا، اسلام قبول کرنے کے بعد اسکول کی تعلیم متأثر رہی، مسلسل آزمائشوں سے جوجھتی رہی، اتنا کچھ بھی بس نہ جانے کیسے کرلیا۔
س : اپنے اسلام قبول کرنے کے بارے میں بتائیے؟
ج : میرا اسلام قبول کرنا بس ایک پہیلی ہے، جس کے لئے کسی بوجھ بجھکڑ کی ضرورت پڑے گی، اصل میں پہیلی کیا سچی حقیقت یہ ہے کہ رات کی تاریکی سے صبح کی پو پھاڑنے والا یخرجہم من الظلمات الی النور (وہ اللہ ان کو تاریکیوں سے نور کی طرف نکالتا ہے ) کا فیصلہ ہر جگہ ہر گھر میں سب کی زندگی میں کرتا ہی رہتا ہے، اس کی ایک کرن ہمارے گندے خاندان پر بھی پڑ گئی۔
س : کس طرح، ذرا تفصیلات بتائیے؟
ج : تفصیلات ایسی گھناؤنی ہیں کہ ذکرکرنا بھی مشکل اور سننا بھی آپ کے لئے مشکل، اور لکھنا اور نقل کرنا شاید ناممکن ہوگا۔
س : کچھ تو اندازہ ہے، ذرا اشارہ میں بتائیے؟
ج : اصل میں بات میرے ایک محترم رشتہ دارحقیقی چچا کی شرم ناک حرکت سے شروع ہوئی، جو اَب خود اپنی حرکت پر اس قدر نادم ہیں کہ اس سے زیادہ ممکن نہیں، اوراب وہ نہ صرف مسلمان بلکہ ایک دردمند داعی ہیں، اب اس کا ذکر یقینا اچھا نہیں مگر وہ حرکت ہی اس روشنی کا ذریعہ بنی، اور اس کے بغیر اللہ تعالی کی شان ہدایت کا ذکر ادھورا رہے گا، اس لئے بات تو وہیں سے شروع کرنی پڑے گی، اصل میں میرے ایک چچا بچپن میں غلط صحبت میں رہنے لگے تھے، اور ان کو شراب کی لت لگ گئی تھی، اب شراب پی کر انسان جو کرلیتا ہے اور جہاں تک پہنچ جاتا ہے، وہ اس انسان کا فعل نہیں بلکہ اس نجس شی کا اثر ہوتا ہے، اس لئے تو نشہ کی حالت میں نماز کی اجازت نہیں، اور ہوش و حواس جو کھوجائیں تو آدمی شرعی احکام کا مکلف نہیں رہتا، مارچ ۲۰۰۸ء کی بات ہے، میرے والد اسکول گئے ہوئے تھے، میری والدہ بھائی کو لے کر پڑوس میں چلی گئی تھیں، میں گھر میں اکیلی تھی، میرے چچا نشہ کی حالت میں آگئے، نہ جانے کون سا شیطان ان پر آیا، وہ ہم سے بہت محبت بھی کرتے تھے، کبھی خواب میں بھی ہمیں ان سے ایسی حرلت کی امیدنہیں تھی، بس شاید اللہ کو خاندان کی ہدایت منظور تھی، بس ان پر نشہ کا شیطان پوری طرح سوار ہوگیا، انھوں نے مجھے کمرہ میں بند کرلیا اور میرے ساتھ وہ سب کچھ کرنا چاہا جس کا وہ ہوش و حواس میں خواب بھی نہ سوچ سکتے تھے، میں اپنی عزت بچانے کی کوشش کرتی رہی، اور ایک گھنٹہ چیختی بھی رہی، مگر آواز کمرہ کے باہر نہ جا سکی، میرے سارے کپڑے پھٹ گئے، کئی بار میں ہمت ہار جاتی، کہ اب وہ منھ کالا کرکے چھوڑیں گے، مرتا کیا نہیں کرتا، بس میرا ان پر بس چل گیا اور وہ بے ہوش ہوگئے۔میں پھٹے کپڑے لپیٹ کر باہر بھاگی، باہر ایک بوری جسم کو چھپانے کے لئے لی، دوسرے کمرے میں چادرلی، اپنے تائے کے گھر گئی وہاں جاکر بہن کے کپڑے پہنے، اور میں نے گھراور قصبہ چھوڑنے کی سوچ لی، بس میں بیٹھ کر اندور گئی، راستہ بھر سوچتی رہی، مجھے کیا کرنا چاہئے، کئی بار خیال آیا کہ تھانہ میں جاکر ایف آئی آر درج کراؤں پھر خیال آیا کہ پولیس والے خود درندے ہوتے ہیں وہ مجھے اپنی کسٹڈی میں رکھیں گے، پھر کسی ناری نکیتن میں رکھیں گے، ایک ناری نکیتن کی گندی کہانی میں نے اخبار میں دودن پہلے پڑھی تھی، کبھی سوچتی یہ کرنا چاہئے، کبھی سوچتی وہ کرنا چاہئے، اپنے قصبہ، اپنے خاندان یہاں تک کہ پورے معاشرہ اور دھرم سے نفرت اور کراہیت میرے پورے وجود کو جلائے دے رہی تھی، اندور تک کے سفر میں میرے دماغ اور دل میں مختلف خیالات آتے رہے، اور آخری فیصلہ جس پر مجھے اطمینان ہوا یہ تھا کہ مجھے ایسے گھرانہ، خاندان اور معاشرہ کو چھوڑدینا چاہئے، اس کے لئے مضبوط فیصلہ یہ ہے کہ اسلام قبول کرلینا چاہئے۔
س : اسلام کا خیال آپ کوکیوں آیا ؟
ج : اصل میں میں نے توکہا اللہ کی رحمت تھی، مگر بظاہر گیند بہت زور سے لگی تھی، تو ری ایکشن بھی اسی رفتار سے تھا، بودھ دھرم تو ہندو دھرم کا حصہ ہے، عیسائی ہوکر بھی کچھ ہندو دھرم سے اتنا دور ہونا ممکن نہیں جتنا میرے اندر جذبہ تھا، پوری دنیا میں سارے مذاہب کی ضد بس اسلام میں تھی، تو انفعال میں اس وقت میرے ری ایکشن کے جذبات کی تسکین کامل معاشرہ کو جھلا دینے والا فیصلہ اسلام ہی ہوسکتا تھا، اس لئے میں نے جذبات میں یہ فیصلہ لیا اور فیصلہ لے کر جمے رہنا میرے اللہ نے میری فطرت کا خاص حصہ بنایا ہے، اس کے لئے مجھے کسی ایسے مسلمان کی تلاش ہوئی جو مجھے مسلمان کرسکے، اندور بس اڈہ پر اتر کر میں نے جامع مسجد کا پتہ معلوم کیا، لوگوں نے کہا یہاں بہت سی مسجدیں ہیں، ایک مسلمان نے مجھے آزاد نگر مدرسہ کا پتہ بتایا، میں وہاں گئی، مولانا صاحب ملے تو انھوں نے کہا مسلمان ہونے کے لئے آپ کو بھوپال قاضی کے پاس جانا پڑے گا۔
س : آپ کے پاس خرچ کہاں سے آیا؟
ج : یہ خود اللہ کی طرف سے ایک فیصلہ ہے، میں گھر سے نکل رہی تھی تو میں نے دروازے کے باہر دیکھا کہ ایک پرس پڑاہے، میں نے دیکھا کہ وہ میری ماں کا پرس ہے، جو ان سے جاتے وقت گر گیا ہوگا، اس میں 5600/=روپئے تھے، جو میرے اللہ نے میرے اسلام کے انتظام کے لئے گروائے تھے۔
س : تو پھر آپ بھوپال گئیں ؟
ج : ہاں میں بھوپال گئی، اور وہاں قاضی صاحب کے پا س گئی، وہ بہت ہنسے، مجھے بہت دکھ بھی ہوا، انھوں نے مجھ سے مسلمان ہونے کی وجہ معلوم کی تومیں نے بتایا، مجھے اپنے خاندان اور معاشرہ سے نفرت ہو گئی ہے، انھوں نے کہا اس کے لئے مسلمان ہونا ٹھیک نہیں ہے، اسلام کو پڑھئے، آپ ابھی نابالغ ہیں بالغ ہوکر مسلمان ہونا ہوگا، میں نے کہامیرا دماغ، میرا دل بالغ ہے، آپ مجھے مسلمان کرلیجئے، مگرانھوں نے منع کردیا، میں تاج المساجد بھی گئی، بہت سے مسلمانوں اور مولانا لوگوں کے پاس گئی، لیکن کوئی بھی تیار نہیں ہوا، میراخیال تھاکہ میں دھن کی پکی ہوں، مایوس ہوکر کئی بار خیال آیا میں گھر واپس چلی جاؤں مگر میری انا مجھے روک دیتی، میری انا مجھ سے کہتی کہ فیصلہ لے کر واپس ہونا بہت بڑی ہار ہوگی، میرا نام لکشمی بائی میرے والد نے رکھا تھا۔
س : آپ بھوپال میں کہاں رہیں ؟
ج : شاہ جہاں آباد مرکزمیں گئی وہاں بھی مولانا نے منع کردیا، رات کا وقت تھا وہاں پر ایک بے چاری پریشان حال بیوہ ایک جھونپڑی میں رہتی تھی، انھوں نے مجھے اپنے گھر رکھا مجھ پر ترس کھایا، میں بھوپال میں دو مہینے ان کے گھررہی۔
س : آپ کے گھروالوں نے آپ کوتلاش نہیں کیا؟
ج : بہت تلاش کیا، پہلے اسلام قبول کرنے کی بات سن لیجئے
س : سنائیے، پہلے آپ وہ بات پوری کرلیجئے ؟
ج : رحمت آپا جن کے یہاں میں رہ رہی تھی، وہ مجھے لے کر ایک آپا جان کے یہاں گئیں جو جمعرات کو عورتوں کا اجتماع کرتی تھیں، انھوں نے جاکر میرے بارے میں بتایاوہ بھی ہنسنے لگیں، میں پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی تو وہ مجھ سے لپٹ گئیں، مجھے گود میں لے کر بہت پیار کیا، کہامیری بچی کیوں رورہی ہے، میں تجھے ضرورمسلمان بناؤں گی، پھر انھوں نے مجھے روتے روتے کلمہ پڑھوادیا، پھر مجھ سے معلوم کیا تم اپنا نام بھی بدلوگی؟ کیا نام رکھوں ؟ میں نے کہا، حضرت محمد ﷺ کی بیٹیوں میں سے کوئی نام رکھ دو، تو انھوں نے میرا نام فاطمہ رکھا۔انھوں نے کل پھر آنے کے لئے کہا، اور کہا آج مجھے ایک شادی میں جانا ہے، کل میں تمھیں کتابیں منگاکر دوں گی، اگلے روز دوپہرکو میں ان کے یہاں رحمت آپا کو لے کر گئی، تو انھوں نے نوکتابیں مجھے دیں : آپ کی امانت آپ کی سیوا میں، مرنے کے بعدکیاہوگا؟، بہشتی زیور، رہبر انسانیتﷺ، نسیم ہدایت کے جھونکے تین حصے، اسلام کے پیغمبر، اور اسلام کیا ہے؟ یہ میرے لئے مکمل نصاب تھا، ان کتابوں کو میں نے رحمت آپا کے یہاں رہ کر پڑھا، ان کو پڑھ کر میرے جذبات کا رخ بدل گیا، میں اپنے چچا کو بالکل بے قصورسوچ کراللہ کی طرف سے ان کو ہدایت کا ذریعہ سمجھ رہی تھی، مجھے گھر پریوار کو چھوڑنے کے بجائے ان کو دوزخ سے بچانے کی فکر سوار ہو گئی تھی، مجھے اپنے گھروالوں کی فکرہوئی، مجھے اندازہ تھا کہ میرے گھروالوں میں سے کسی کو میرے گھر سے نکلنے کی وجہ معلوم نہیں ہو گی، نہ جانے کیا کیا افواہیں میرے بارے میں اڑ رہی ہوں گی، گھروالے کسی لڑکے کے ساتھ جانے اور نہ جانے کیا کیا سوچ رہے ہوں گے، مگر مرنے کے بعد کی دوزخ سے بچانے کے لئے یہ الزامات اور اس پر گھروالوں کا عتاب سب چھوٹی چیزیں تھیں، نسیم ہدایت کے جھونکوں میں ’’حرا‘‘ جو تقریبا میری عمر کی تھی، نے اپنی جان دے کر اللہ کی محبت میں ایمان کے لئے جل کر پورے گھرانہ کے لئے ایمان اور جنت کا راستہ کھولا، مجھے بھی قربانی دینی چاہئے، رحمت آپا مجھے منع کرتی رہیں اور اپنے بھتیجہ سے شادی کرکے اپنے بھائی کے گھر میں رکھنے کے لئے خوشامد کرتی رہیں، مگر میں نے فیصلہ کرلیا اور رحمت آپانے بھی مجھے اجازت دے دی، میں واپس گھر پہنچی۔
س : گھر میں کیا خبریں تھیں ؟
ج : میرے والد گھر آئے تو والدہ تو نہیں آئی تھیں، میرے چچا تین گھنٹے تک ننگے بے ہوش پڑے رہے، ان کی غلط صحبت اور شراب کی لت سے ان سے سب بد ظن تھے، مجھے گھرمیں نہیں پایا تومیری تلاش ہوئی، دوتین روز سب جگہ تلاش کے بعد میں نہیں ملی تو تھانہ میں رپورٹ درج کرائی، میرے اسکول میں تحقیق کی گئی کہ کسی لڑکے سے کوئی تعلق تو نہیں، مگر یہ بھی خیال تھا کہ چاچا نے کوئی حرکت کی ہو، میں گھر پہنچی تو پہلے تو گھروالے بہت غصہ تھے، مجھ سے وجہ معلوم کرتے تھے، میرے سامان کو ٹٹولا، تلاشی لی گئی تو اسلام پر کتابیں تھیں، سب برہم ہوگئے، اس لئے اپنی ماں کو چاچا کی حرکت بتانی پڑی، اور ساتھ ہی ساتھ میں نے اپنے اسلام قبول کرنے کی کہانی بھی بتائی، سب بھایئوں نے چاچا کو بلاکر بری طرح مارا، میں ان کو منع کرتی رہی کہ ان کی خطا نہیں ہے، میرے مالک نے مجھے سچی راہ دکھانے کے لئے ان پر شیطان چڑھاکر مجھے سچ کی راہ دکھائی، اس پر وہ مجھ پر غصہ ہوگئے اور مجھے بھی مارا، میں پٹتی رہی اور حرا کی نقل میں ان لوگوں سے کہتی رہی تم مجھے مار رہے ہو، مگر مرنے کے بعد ایک بڑی مار کا سامنا ہونے والا ہے، اس سے صرف اسلام ہی بچا سکتا ہے، میرا بھائی بڑے غصہ میں آیا اس نے لوہے کی کرسی اٹھاکر میرے سر میں ماردی، جس سے میرا سر پھٹ گیا اور خون بہنے لگا، میرے تایا نے لوگوں کوروکا کہ یہ مر جائے گی، ابھی کچی عمر ہے سمجھانے کی کوشش کرو، پیار سے سمجھاؤ، ایک ایک کرکے مجھے گھروالے سمجھاتے رہے، ، میری ایک بہن جو مجھ سے زیادہ تعلق رکھتی تھی، میری ماں نے اسے بلوایا کہ وہ اب مجھے سمجھائے مگر اسلام اب میرے لئے ایسی چیز نہیں تھا کہ جسے چھوڑا جا سکے، میرے لئے حرا کا نمونہ تھا کہ خوشی میں اللہ کی محبت میں جل کر جان دے دی، یا پیارے نبی کی روشن زندگی کہ سب کچھ سہتے رہے اور قولو لا الہ الا اللہ کی خیر خواہی میں لگے رہے۔روز ایک نیا دن میرے ایمان کو بڑھانے کے لئے آتا، اور پھر مجھے اس مخالفت اور دشمنی میں اللہ کا نور نظر آتا، دو سال تک ہر دن کی ایک داستان ہے، جس کے لئے ایک کتاب چاہئے، گھر والوں کے ساتھ کبھی کبھی پڑوسی بھی شامل ہوجاتے، میرے ایک ماما مجھے رائے پور اپنے گھر لے گئے، وہاں بہت سے سیانوں سے ٹونے ٹوٹکے کروائے، جس کا اثر میرے دماغ پر ہوا، مجھے بھول کا مرض ہوگیا، مگر میں سورہ علق اور سورہ ناس پڑھتی رہی، اللہ نے اس کا اثر زائل کردیا، وہاں میرے ماما کی لڑکی نے اسلام قبول کرلیا، بھائی بھی کتاب پڑھنے لگاتو ماما نے مجھے واپس بھیج دیا کہ یہ تو سارے گھروالوں کو ادھرم کردے گی، گھر پر آکر پھر مار پیٹ، ایک بار مجھے زہر بھی دیا گیا، ایک بار میرے ہاتھ کی دونوں ہڈیاں توڑ دیں، دو روز تک ہاتھ ٹوٹا رہا، کوئی پٹی کرانے کو بھی تیار نہیں، میری بوا کو معلوم ہوا وہ آئیں اور پلاستر کر وا لائیں، ایک دفعہ میرے بھائی نے اس زور سے سریہ مارا کہ میری پنڈلی کی ہڈی میں فریکچر آگیا، مگر میری ہر چوٹ میرے اللہ بہت جلدی ٹھیک کردیتے، میرے اللہ کاکرم ہوا کہ جب بھی مجھے مارا جاتا، ستایا جاتا مجھے اچھے خواب دکھتے، ، کبھی جنت دکھائی جاتی کبھی کسی صحابی کی زیارت ہوتی، کبھی پیارے نبی ﷺ کی بھی زیارت ہوئی، گھر والے میری ثابت قدمی جسے وہ ضد اور ہٹ دھرمی سمجھتے تھے، سے عاجز آگئے۔
س : آپ کے گھر والے سب اسلام میں آگئے، وہ کس طرح ہوا، ذرا بتائیے؟
ج : ہاں بتارہی ہوں، میں ان کی ساری مخالفت کو فانہم لا یعلمون سمجھتی تھی، کیونکہ سیرت پاک کے روشن خطوط میرے ساتھ تھے، اس لئے میں راتوں کو اپنے اللہ کے سامنے بہت روتی تھی اور گھروالوں کے لئے ہدایت کی دعا کرتی تھی، کبھی کبھی اس کیفیت کے ساتھ دعا کرتی کہ میرا گمان ہو تا کہ آج اگر جنت کو زمین پر اتروانے کی ضد کروں گی تو میرے اللہ اتار دیں گے، دعا کے بعد میراسارا دکھ دور سا ہوجاتا، اللہ کے حضور اس بھکارن کی صدا کو قبولیت سے نوازا گیا، ایک دن میری ماں میرے پاس ایک بجے رات تک روتی رہی، اور بولی کہ لکشمی تو نے گھر کو کیسا نرک بنا رکھا ہے، تو واپس نہ آتی تو اس سے اچھا تھا، میں نے کہامیں پھر گھر سے جانے کو تیار ہوں، بس میری آپ سے ایک شرط ہے کہ دو کتابیں آپ کو دیتی ہوں آپ پڑھ لیجئے، اس کے بعد آپ اگر کہیں گی میں گھر سے چلی جاؤں گی، وہ اس پر راضی ہوگئیں، میں نے’ آپ کی امانت ‘اور’ نسیم ہدایت کے جھونکے‘ ان کو دی، وہ بولیں اب تو میرا دماغ تھک گیا ہے، اچھا کل پڑھوں گی، اگلے روز انھوں نے آپ کی امانت پڑھنا شروع کی، میں غور سے ان کے چہرہ کو دیکھتی رہی، ان کے چہرہ پر ان کے دل سے کفر و شرک کے چھٹنے کا اثر دیکھتی رہی، اور اس امید پر خوش ہوتی رہی، پڑھ کر اچانک وہ کتاب بند کرکے بولیں، بس لکشمی میں نہیں پڑھتی توتو مجھے مسلمان بنا دے گی، میں نے کہا آپ ایک راجپوت گھرانہ کی استری(عورت)ہیں آپ نے زبان دی ہے، یہ دونوں کتابیں آپ کو پڑھنا پڑیں گی، میں نے ان کے پاؤں پکڑ لئے، میری ماں میری بات مانو، ورنہ موت کے بعد بہت پچھتانا پڑے گا، میری خوشامد سے وہ پڑھنے لگیں، پوری کتاب پڑھ کر وہ بولیں لکشمی بات تو بالکل سچی ہے، مگر تیری طرح ہمت کون کرسکتا ہے، سب تو لکشمی بائی نہیں ہوسکتیں، میں نے کہااس کے لئے آپ کو دوسری کتاب پڑھنی پڑے گی۔نسیم ہدایت کے جھونکے پڑھنا شروع کیا، میں نے عبد اللہ اہیر کا انٹرویو نکال کر دیا، تھوڑی دیر میں میری خوشی کی انتہا نہیں رہی کہ ان کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے اس کے بعد میں نے دوسری کتاب سے زینب چوہان اور عائشہ کے انٹرویو پڑھوائے، بس ان کے دل کی دنیا بدل گئی، رات کو وہ دیر تک مجھ سے باتیں کرتی رہیں، اور میری ضد اور خوشامد پر کہ ماں جب آپ کی سمجھ میں آگیا ہے تو اب دیر کرنا ہرگز ٹھیک نہیں ہے، اب تک تو آپ اللہ کے یہاں یہ کہہ سکتی تھیں کہ مجھے معلوم نہ تھا، اب تو بات صاف ہوچکی ہے، نہ جانے صبح کو آنکھ کھلے گی کہ نہیں، ایک بجے رات کو میں نے ان کو کلمہ پڑھوایا، اب تو بیان نہیں کرسکتی کہ میری کیسی عید ہوگئی تھی، اب میرے لئے گھرمیں رہنا بالکل آسان ہوگیا تھا، ماں کے اسلام قبول کرنے کے بعدمجھے اپنی ساری دعاؤں کے قبول ہونے کا یقین سا ہوگیا، میں نے دعا کے صدقہ کے طور پر اپنے والد کے اسلام کے قبول کرنے کی خوشی میں چالیس روزے رکھنے کی نذر مانی، اور دعا کا اہتمام کیا، ایک رات وہ بھی مجھ سے کہنے لگے، لکشمی شروع میں تو تو اپنے چاچا کی وجہ سے مسلمان ہوئی، مگر اتنی مشکل کے بعد اب تجھے اسلام پر کون سی چیز ہٹ دھرم بنارہی ہے، میں نے ان سے بھی آپ کی امانت آپ کی سیوا میں اور’ ہمیں ہدایت کیسے ملی؟‘ پڑھنے کو کہا، وہ لے کر کھول کر دیکھنے لگے، دو شبد پڑھے تو وہ پڑھنے لگے، رات کو سوئے تو انھوں نے اپنے کوداڑھی اورٹوپی میں نماز پڑھتے دیکھا اور جب وہ مسجد میں گئے تو ان کو ایسا لگا کہ آسمان سے ٹھنڈی پھوار جس میں نور بھی ہے، ان کے اوپر برس رہا ہے، انھوں نے اس میں عجیب سکون دیکھا اور مجھ سے لے کر’ اسلام کیا ہے؟‘ کتاب پڑھی، مرنے کے بعد کیاہوگا؟رہبرانسانیت، اسلام کے پیغمبر پڑھیں، اور نسیم ہدایت کے جھونکے تینوں حصے پڑھے، پھر مجھ سے کہا کہ مولانا کلیم صاحب سے مجھے کسی طرح ملوا دے، بہت کوشش کے باوجود رابطہ نہیں ہوسکا، اس کے بعد انھوں نے ایک اور خواب دیکھا، جس کے بعد وہ خود بھی مسلمان ہونے کو کہنے لگے، اللہ کا شکر ہے کہ میں نے ان کو کلمہ پڑھوایا، بڑے بھائی ہم لوگوں کے فیصلہ سے ناراض رہے اور چھ مہینے کے لئے گھر چھوڑ کر چلے گئے، وہ گوالیر رہے، وہاں بہت پریشان رہے، ایک مسلمان لڑکے نے ان کے ساتھ بہت سلوک کیا، وہ گھر آئے اور دو تین سمجھانے کے بعد مسلمان ہوگئے، اور چھوٹا بھائی اور بہن تو والد صاحب کے ایک دو دن کے بعد ہی مسلمان ہوگئے تھے، اب چاچا پر کوشش شروع کی اور اللہ کا شکر ہے کہ وہ بھی ۲۰۰۸ء کے بھوپال اجتماع سے چالیس دن لگا چکے ہیں، میرے اللہ کا کرم ہے میرے خونی رشتہ کا کوئی قریبی عزیز ہمارے گھر انہ میں کافر و مشرک نہیں رہا۔
س : ماشاء اللہ آپ واقعی بہت خوش قسمت ہیں، ارمغان میں بہت سے لوگوں کے انٹرویو شائع ہوتے ہیں مگر جس قدر آپ کے ساتھ اللہ نے کرم فرمایا، یہ بالکل انوکھا ہے۔
ج : الحمد للہ میں اس اللہ کی رحمت کے قربان، کہ میرے چاچا پر شہوت اور درندگی کا شیطان سوار کراکے اللہ نے مجھے اور چاچا اور سارے خاندان کو دعوت دلواکر ہدایت سے نوازا، حضرت نے نسیم ہدایت کے جھونکے کے شروع میں واقعی کیسی سچی بات لکھی ہے : ہدایت کی کیسی ہوا اللہ نے چلائی ہے۔
س : ابی سے آپ کا رابطہ کب سے ہے؟
ج : پہلی ملاقات کل ہوئی، فون پرالبتہ ایک مہینہ پہلے ملاقات ہوئی تھی، ایک بار ہم بھوپال آئے تھے معلوم ہوا تھا کہ آنے والے ہیں، مگر حضرت کا پروگرام ملتوی ہوگیا تھا، مایوس ہوکر واپس گئے تھے، ہاں دل سے تعلق تو اپریل ۲۰۰۸ء سے ہے جب سے کتابیں پڑھی ہیں، مگر ملاقات پہلی بار کل ہوئی ہے۔
س : ماشاء اللہ بہت خوب آپ کی داستان ہے، اللہ تعالی آپ کی استقامت کا کوئی حصہ ہمیں بھی عطا فرمائیں آپ ہمارے لئے ضرور دعا کریں ۔
ج : میں وظیفہ سمجھ کر بلا ناغہ آپ کے خاندان اور نسلوں کے لئے دعا کر تی ہوں، اور مثنیٰ باجی شاید ہی کوئی بدقسمت مسلمان ہوگا جو آپ کے گھرانہ کو جانتا ہو اور آپ کے لئے دعا نہ کرتا ہو۔
س : جزاکم اللہ خیرا، ارمغان کے قارئین کو کوئی پیغام دیں گی ؟آپ کی باتیں تو ایسی ہیں کہ سنتے ہی جائیں، یہ جی چاہتا ہے۔ مگر آپ بھی تھک جائیں گی اس لئے باقی پھر کسی وقت بات ہوگی ۔
ج : جی بہتر ہے، ہمیں جانا بھی ہے گاڑی میں، بس میری درخواست تو ارمغان کے قارئین سے یہ ہی ہے کہ اگر آدمی اپنے نبی ﷺ کے اسوہ سے روشنی لیتے ہوئے دھن سوار کرلے کہ دوزخ سے انسانیت کو بچانا ہے تو اس وقت ہدایت کا فیصلہ اللہ کی طرف سے تھوک میں ہورہا ہے، نہ جانے کتنے خالد بن ولید، سیف من سیوف اللہ، اور کتنی لکشمی بائی فاطمہ اور رقیہ بن سکتی ہیں ۔
س : واقعی بالکل سچی بات ہے، اللہ مبارک فرمائے، واقعی یہ سوچ خودبہت مبارک ہے۔ شکریہ بہن فاطمہ بہت شکریہ
ج : شکریہ تو آپ کا بہن مثنیٰ، میرے لئے کس قدر خوشی کی بات ہے کہ نسیم ہدایت کے جھونکے کی ایک کڑی آپ نے مجھ گندی کو بنانے کا شرف بخشا۔
س : اچھا السلام علیکم ورحمۃ اللہ
ج : وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ۔ استودعکم اﷲ دینکم وخواتیم اعمالکم

بےباک
04-04-2012, 06:37 AM
افریقی باکسرز اسلام کے سایہ میں
براعظم افریقہ سے تعلق رکھنے والے 9 باکسرز نے کراچی میں بے نظیر بھٹوشہید انٹرنیشنل باکسنگ ٹورنمنٹ کے دوران عیسائیت سے تائب ہوکر اسلام قبول کرلیا ۔
مفتی نعیم کے ہاتھوں اسلام قبول کرنے کے بعد یہ نوجوان باکسرز بہت خوش اور مطمئن دکھائی دے رہے تھے ۔ان میں سے چھ کا تعلق سنٹرل افریقن ریپبلک سے ہے اور تین کیمرون کے شہری ہیں ۔
واضح رہے کہ یہ باکسرز بے نظیر بھٹو شہید انٹرنیشنل باکسنگ ٹورنمنٹ میں شرکت کے لیے حکومت پاکستان کی دعوت پر اپنے کوچ اور باکسنگ فیڈریشن کے صدر کے ہمراہ کراچی آئے تھے ۔ کے پی ٹی اسپورٹس کامپلکس میں ان کے مقابلے جاری تھے ۔ یہ ٹورنمنٹ اس وقت پاکستان سمیت دنیا بھر کے میڈیا کی توجہ کا مرکز بن گیاجب 4 جنوری 2010 کی شب وسطی افریقن ریپبلک سے تعلق رکھنے والے 6 باکسروں کی جانب سے اسلام قبول کرنے کی اطلاعات موصول ہوئیں ۔ بعد ازاں ان باکسرز کے لیے 5جنوری کی دوپہر2بجے پاکستان باکسنگ فیڈریشن کی جانب سے مقامی ہوٹل میں تقریب کا انعقاد کیا گیا جس میں ممتاز عالم دین مفتی نعیم کو خصوصی طور پر مدعو کیا گیا تھا ۔ صحافیوں اور دیگر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کو اس وقت خوشگوار حیرت کا سامنا کرنا پڑا جب تقریب کے منتظمین کی جانب سے اعلان کیا گیا کہ6وسطی افریقی باکسرز کے ساتھ کیمرون سے تعلق رکھنے والے تین باکسرز بھی اسلام قبول کر رہے ہیں ۔ بعدازاں مفتی صاحب نے 9 باکسروں کو کلمہ طیبہ پڑھاکر انہیں دائرہ اسلام میں داخل کیا ۔ اس موقع پر مفتی نعیم کی جانب سے ان کے قبول اسلام کی ایک سند تیار کرکے نوجوانوں کو دے دی گئی ۔ قبول اسلام کی بابرکت اور روح پرور تقریب کے بعد مہمان باکسرز نے اپنے کوچ کے ہمراہ واپس کے پی ٹی اسپورٹس کامپلکس چلے گئے ۔ ”امت “ کی جانب سے نومسلم باکسرز اور ان کے کوچ سے خصوصی ملاقات کا اہتمام کیا گیا ۔ جب ”امت“ ٹیم کے پی ٹی اسپورٹس کامپلکس پہنچی تو وہاں مختلف ممالک کے باکسرز کے درمیان مقابلے جاری تھے اور رنگ کے اطراف موجود عام شائقین کے ساتھ نومسلم نوجوان افریقی باکسرز بھی بیٹھے ہوئے مقابلوں سے لطف اندوز ہو رہے تھے ۔ وسطی افریقہ سے تعلق رکھنے والے 6نومسلم نوجوان سفید کاٹن کے شلوار ، قمیص پہنے اور سروں پر سفید ٹوپیاں لگائے الگ ہی دکھائی دے رہے تھے ۔
9 افریقی باکسرز کے قبول اسلام کا سارا کریڈٹ ان کے کوچ محمد کلام بے کو جاتا ہے ۔ ”امت ‘’ کی جانب سے انٹرویو کی خواہش ظاہر کرنے پر ان باکسرز کے کوچ محمدکلام بے نے ”امت “کے سوالوں کے جواب دیتے ہوئے بتایا کہ ان کا تعلق سنٹرل افریقن ریپبلک کے شہر بنگوی سے ہے اور 1967ءسے باکسنگ کے مقابلوں میں حصہ لے رہے ہیں ۔ ان کا کہنا تھا کہ الحمد للہ وہ پیدائشی مسلمان ہیں اور انہوں نے اپنی ٹیم کے عیسائی کھلاڑیوں کے ساتھ ہمیشہ برادرانہ اور دوستانہ رویہ رکھا جس کی وجہ سے باکسرز اسلام کی تعلیمات سے متاثر تھے ۔ محمد کلام کے مطابق جب وہ حکومت پاکستان کی درخواست پر اپنی ٹیم کے 6کھلاڑیوں کے ہمراہ کراچی پہنچے تو پاکستان باکسنگ فیڈریشن کے عہدہ دار رات 2بجے ایر پورٹ پر استقبال کے لیے موجود تھے ۔ یہ افریقی کھلاڑی پاکستانی آفیشلز اور دیگر لوگوں کے حسن سلوک اور مہمان داری سے اس قدر متاثر ہوئے کہ اگلی ہی رات انہوں نے اپنے کوچ سے دائرہ اسلام میں داخل ہونے کی خواہش ظاہر کردی ۔ محمد کلام بے اپنے کھلاڑیوں کے اس فیصلے پر خوشی سے سرشار ہوگئے اور انہوں نے فوری طور پر پاکستان فیڈریشن کے حکام کو مطلع کیا وسطی افریقہ کے جن کھلاڑیوں نے اسلام قبول کیا ان کے افریقی نام اور مفتی نعیم کی جانب سے رکھے گئے اسلامی نام کچھ اس طرح سے ہیں :
٭ سیلی بانگے (اقبال حسین )
٭کبوڈو آئی گور (محمداکرام)
٭نیام بونگوی (عبیدالرحمن )
٭بانگوی (تیمور حسین )
٭این گو کو (محمدعلی)
٭ین ڈراسا (علی اکبر)
جبکہ کیمرون سے تعلق رکھنے والے باکسرز کے نام
٭میمدوا (محمد یاسر)
٭کیچی می (محمد راشد)
٭ٹچ ویم (محمد احمد) رکھے گئے ہیں ۔
وسطی افریقہ ٹیم سے تعلق رکھنے والے باکسرز کا کہنا تھا کہ وہ پاکستانی عوام کے اخلاق اور حسن سلوک سے بہت متاثر ہوئے ہیں ۔ یہاں جس گرم جوشی سے ان کا استقبال کیا گیا اور بعد ازاں خلوص ومحبت کے رویے کو وہ زندگی بھر نہیں بھول سکتے ۔ ان کا کہنا تھا کہ ممکن ہے ہمیں اسلام قبول کرنے کی وجہ سے اپنے اہل خانہ اور دوستوں کی جانب سے مخالفت کا سامنا کرنا پڑے تاہم وہ تمام مشکلات کو جھیلنے کے لیے تیار ہیں ۔ ان کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے تمام باتیں ان کے ذہنوں میں موجود تھیں تاہم ان کے کوچ محمد کلام بے ان کی بہت ہمت افزائی کر رہے تھے اور اسلام سے متعلق بہت سی باتیں بھی سکھا رہے تھے ۔
نومسلم باکسر محمد علی کا کہنا تھا یہ امکان بہت کم ہے کہ انہیں اپنے اہل خانہ یا دوستوں کی جانب سے کسی مخالفت یا رویے کا سامنا کرنا پڑے کیوں کہ گزشتہ کچھ عرصے سے ان کے ملک میں خواتین اور مردوں کی جانب سے اسلام قبول کرنے کے رجحان میں بہت زیادہ اضافہ ہوا ہے۔
تمام نومسلم کھلاڑیوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ اپنے وطن جاکر تبلیغ دین کا کام کریں گے ۔ ان کھلاڑیوں کی عمریں24سے 30سال کے درمیان ہیں۔ان کے چہروں سے خوشی اور سکون جھلک رہا تھا ۔
بشکریہ ۔ ماہنامہ مصباح ۔ الکویت

بےباک
04-04-2012, 06:40 AM
بھائی مزمل (سوہن ویر) سے دلچسپ ملاقات
س: السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
ج : وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

س:مزمل بھائی آپ کا نمبر بھی آہی گیا؟
ج : جی احمد بھائی ،میں نے آپ سے کتنی بار کہا کہ میرا انٹرویو بھی لے لو۔

س:تمھارا حال تمھیں خود معلوم ہے کیسا تھا،کیا وہ اس لائق تھاکہ اسے چھپوایا جائے،وہ تو ایسا حال تھا کہ اسے چھپایاجائے بس،پھر یہ بات بھی تھی کہ ابی جس کے بارے میں فرماتے ہیں میں ان سے ہی بات کرتا ہوں،میں نے ابی سے تمھاری بات کہی تھی،تو ابی کہتے تھے ذرا انتظار کرلو اس کا حال ذرا اس لائق ہونے دو۔
ج: مشہور ہے کہ بارہ برس میں کوڑی کے دن بھی بحال ہو جاتے ہیں،احمد بھائی مجھے بارہ برس اسلام قبول کئے ہوئے ہو گئے،بلکہ اگر میں کہوں کہ اسلام قبول کرنے کا ڈھونگ بھرے ہوئے ،تویہ بھی صحیح ہے۔

س:مزمل واقعی ہم پر تمھارا احسان ہے کہ تمھاری وجہ سے ہم نے ابی کو پہچانا اور ہمیں معلوم ہو ا کہ کسی کو برداشت کرنا اور صبر کرنا کس کو کہتے ہیں،ورنہ اچھے اچھے ہمت ہار جاتے ہیں؟
ج:احمد بھائی آپ حضرت کے گھر میں سب سے نرم، برداشت کرنے والے اور رحم دل ہیں،آپ نے بھی مجھے دو دفعہ پھلت سے بھگایا ،لیکن حضرت دونوں دفعہ مجھے اپنی گاڑی میں بٹھاکر ساتھ لے آئے۔

س: اچھا اب ڈیڑھ سال سے تم نے کوئی ڈرامہ نہیں کیا، کہتے ہیں چورچوری سے جائے ،ہیرا پھیری سے نہیں جاتا،تو کیا اب تمھارے دل میں پرانی حرکتیں کرنے کی بات نہیں آتی۔
ج: الحمدللہ میرے اللہ کا کرم ہے(روتے ہوئے)اب کچھ بھی نہیں آتی۔

س:تمھیں کلمہ پڑھے ہوئے کتنے دن ہوئے؟
ج:کون ساوالا کلمہ پڑھے ہوئے، میں نے توبیسو ں بار کلمہ پڑھا ہے۔

س:تم نے اسلام قبول کرنے کے لئے کلمہ کب پڑھا؟
ج: مولوی احمد! میں نے ہر دفعہ اسلام قبول کرنے کے لئے کہہ کر کلمہ پڑھا،سب سے پہلا ڈرامہ میں نے ۹جون ۱۹۹۸ء میں کلمہ پڑھنے کا کیا، جب تھانہ بھون کے ایک بڑے آدمی چودھری صاحب مجھے حضرت کی خدمت میں لے کر آئے تھے،اس کے بعد میں ضرورت کے لحاظ سے بار بارکلمہ پڑھ کر مسلمان ہونے کا ڈرامہ کرتا رہا،لیکن ۳مارچ ۲۰۰۹ء کو مجھے حضرت نے جامع مسجد پھلت میں دس بج کر بائیس منٹ پر کلمہ پڑھوایاتھااس کے بعدسے کوشش کرتا ہوں کہ اس پر جمع رہوں، ہمارے حضرت کہتے ہیں کہ مجھے ہر وقت ڈر رہتا ہے کہ ایمان رہا کہ نہیں،اس خوف سے مغرب کے بعد اور فجر کے بعد ایک دفعہ روزانہ ایمان قبول کرنے کے لئے کلمہ پڑھتا ہوں،آپ نے تو سنا ہو گا،کوئی نومسلم آکر کہتا ہے کہ میں نومسلم ہوں،حضرت معلوم کرتے ہیں کب مسلمان ہوئے؟تووہ بتاتا ہے کہ دو مہینے ہوگئے،دو سال ہوگئے۔حضرت کہتے ہیں کہ آپ تو مجھ سے پرانے مسلمان ہو،میں نے ابھی فجر کے بعد اسلام قبول کیا ہے یا مغرب کے بعد، حضرت تو یہ بھی فرماتے ہیں کہ ہر بچہ سچے نبی کی سچی خبر کے مطابق مسلمان پیدا ہو تا ہے،تو اب آپ نو مسلم کہاں ہوئے آپ تو پیدائشی مسلمان ہیں،الحمد للہ ۹ جون سے روزانہ صبح وشام ایمان کی تجدید کرتا ہوں دن رات میں کبھی کبھی درمیان میں بھی کلمہ پڑھ لیتاہوں،کہ شاید ابھی موت کا وقت قریب ہو۔

س:آج کل تم کہاں رہ رہے ہو؟
ج:میں آج کل حضرت کے حکم سے سہارن پور کے ایک مدرسہ میں پڑھ رہا ہوں،یہ تو آپ کے علم میں ہے کہ میں اگست ۲۰۰۹ء میں چارمہینے جماعت میں لگا کر آیا،اور قرآن شریف ناظرہ اور حفظ سات مہینے میں مکمل کیا،۵ اپریل ۲۰۱۰ء کو میرے حضرت ہمارے مدرسہ میں تشریف لائے،میرے ختم قرآن کی دعا ہوئی،حضرت پر اس قدر رقت طاری تھی کہ تقریر کرنا مشکل ہوگیااور چالیس منٹ کی دعا کرائی،سارا مجمع روتا رہا،حضرت نے پروگرام کے بعدکھاناکھاتے ہوئے یہ بات کہی کہ آج مجھے مزمل کے حفظ کی جتنی خوشی ہوئی اگر اللہ نے بخش دیا اور جنت میں جانا ہوا تو شاید اتنی خوشی بس اس روز ہو گی،اس کے بعدمیں نے دَور کیا اور الحمد للہ میں نے جماعت میں عادل آباد میں وقت لگایا،اور ساتھیوں کو قرآن شریف سنایا،اس سال الحمد للہ عربی پڑھنی شروع کردی ہے،میں نے حضرت سے وعدہ کیا ہے کہ انشاء اللہ جلد حضرت کو عا لمیت کی سند دکھانی ہے ، ثم انشاء اللہ۔

س:قرآن مجید توآپ کا الحمد للہ اب بالکل پکا ہو گیا ہے،مگر آپ نے بڑی عمر میں حفظ کیا ہے اس لئے یاد کرتے رہنا چاہئے؟
ج :حضرت سے میں نے معلوم کیاتھا کہ ہمارے نبی صلی اللھ علیھ وسلم کا کتنا قرآن پڑھنے کا معمول تھاتو حضرت نے بتایا کہ ایک منزل روزانہ ،اور بہت سے صحابہ کرام کا بھی آپ صلی اللھ علیھ وسلم کی اتباع میں اس معمول کا ذکر آتا ہے،میں نے عید کے بعد سے تہجد میں ایک منزل پڑھنا شروع کیا ہے،چند دنوں کے علاوہ جب مجھے ڈینگو ہوگیا تھا الحمد للہ ابھی تک ناغہ نہیں ہوا،ہمارے مدرسہ میں صفر گھنٹے میں ترجمہ قرآن پڑھایا جاتا ہے، الحمد للہ مجھے خاصا قرآن سمجھ میںآنے لگا ہے،کبھی کبھی بہت ہی مزا آتا ہے۔

س:شروع میں جب ۱۹۹۸ء میں تم نے کلمہ پڑھا تھا تو اس وقت تمھارا ارادہ مسلمان ہونے کا تھا کہ نہیں؟
ج :اصل میں آپ کو معلوم ہے، میں تھانہ بھون کے قریب ایک بھنگی خاندان میں پیدا ہوا،ہمارے خاندان والے گاؤں کے چودھریوں کے یہاں صفائی وغیرہ کرتے تھے،میرے پتاجی دسویں کلاس تک پڑھے ہوئے تھے،اور سوسائٹی میں ملازم ہوگئے تھے، میری ماں بھی پڑھی لکھی ہیں،وہ ایک پرائمری اسکول میں ٹیچر ہیں انھوں نے ہی مجھے پڑھایا،میں بہت ذہین تھا،ہائی اسکول میں فرسٹ ڈویزن پاس ہوا،گیارہویں کلاس میں پہلے مجھے شراب کی لت لگی پھراور دوسرے خطرناک نشوں کا عادی ہوگیا،اوراس طرح کے لڑکوں کے ساتھ بری سنگتی (صحبت) ہوگئی،ان میں ایک دو مسلمان بھی تھے،انٹر پاس کرکے میری ماں مجھے ڈاکٹربنانا چاہتی تھیں،مگرمیں آوارہ لڑکوں کے ساتھ لگ گیا،کچھ رفتار میری ایسی تیز تھی کہ جدھر جاتا آگے نکل جاتاتھا،تھانہ بھون میں ایک گوجر زمین دار کے بیٹے کے ساتھ میرے تعلقات بڑھے جو نشہ کی وجہ سے بنے تھے،ان کے یہاں حضرت ایک بار ناشتہ کے لئے آئے تھے،میں وہاں موجود تھا،حضرت سے چودھری صاحب کے بڑے بیٹے نے میری ملاقات کرائی،تو حضرت نے ان کے بیٹے جو میرے ساتھی تھے الطاف سے کہاکہ اپنے دوست کی خبر لوورنہ یہ تمھیں دوزخ میں پکڑ کر لے جائے گا،الطاف کے بڑے بھائی نے مجھ سے کہا: سوہن ویر کب تک تو اچھوت رہے گا مسلمان ہوجا،میں نے کہا اگر میں مسلمان ہو جاؤں گاتومسلمانوں میں میری شادی ہو جائے گی؟ اس نے کہا: ہو جائے گی۔میں نے سوچا: چلو دیکھتے ہیں،ایک دفعہ مسلمان ہو کر دیکھتے ہیں،اگر جمے گا تو اچھا ہے ورنہ پھر اپنے گھر آجاؤں گا۔میرے پتاجی (والد)کا تو شراب کی لت میں 25 سال کی عمر میں انتقال ہو گیا تھا،میری ماں میری وجہ سے بہت پریشان رہتی تھی،الطاف کے بڑے بھائی مسرور مجھے لے کر پھلت پہنچے،حضرت نے مجھے کلمہ پڑھوایا، میرٹھ بھیج کر میرے کاغذ بنوائے اور مجھے جماعت کے لئے دہلی مرکز بھیج دیاگیا،ہماری جماعت بھوپال گئی،حضرت نے یہ کہہ کر پیسے اباّالیاس سے دلوائے کہ یہ قرض ہے،جماعت سے واپس آکر تم کام پر لگو گے تو واپس کرنے ہیں،جب یہ جیب خرچ ختم ہو گیا تو میں نے امیر صاحب سے کہا کہ میں نے گھر فون کیا تھا ،میری ماں بہت بیمار ہے مجھے بلایا ہے،امیر صاحب سے سترہ سو روپئے لے کر میں جماعت سے واپس آگیا،سترہ سو روپئے شراب اور گولیوں وغیرہ میں خرچ کئے اور تھانہ بھون پہنچا،وہاں لوگوں سے کہاکہ جماعت سے مجھے امیر صاحب نے بھگا دیا کہ تم نو مسلم ہو ہمیں مرواؤگے کیا؟ تمھارے گھر والے ہمارے سر ہوجائیں گے، یہ کہااور مجھے بھگا دیا،مجھے کرایہ کے پیسے بھی نہیں دئیے،الطاف نے حضرت کو فون کیا حضرت نے کہا کہ ہم معلوم کریں گے، ایسا نہیں ہو سکتا،پھر بھی اگر کوئی جماعت علاقہ میں کام کررہی ہو، اس میں جوڑ دیں،انھوں نے تھانہ بھون مر کز جاکر معلوم کیا تو معلوم ہوا کہ کیرانہ کے علاقہ میں ایک اچھی جماعت کام کر رہی ہے،مجھے جماعت کے ایک ساتھی لے کر کیرانہ جاکر دوسری جماعت میں جوڑکرچلے آئے،جماعت میں امیر صاحب نے خرچ کی رقم امانت کے طور پر ایک ماسٹر صاحب کے پاس رکھ دی تھی،تین روز تومیں ہمت کرکے جماعت میں رہا،مگر میرے لئے مشکل تھا کہ میں اتنی محنت کروں،میں نے رات ماسٹر صاحب کے جواہر کٹ سے پیسے نکالے اور فرار ہو گیا،جب تک پیسے رہے تفریح کرتا رہا اورپھرپھلت پہنچا،حضرت سے بڑی مشکل سے وقت لے کر تنہائی میں ملاقات کی،حضرت سے معافی مانگی اورکہا کہ پہلے میری شادی کرادیں،حضرت نے مجھے سمجھایا کہ جب تک تم اپنے پیروں پر کھڑے نہیں ہو گے کون اپنی لڑکی دے گا،تم خود سوچو،ا گر تمھاری کوئی بیٹی ہو توتم بے روزگار لڑکے سے شادی کیسے کروگے؟کچھ صبر کرو،اپنے حال کو بناؤ،دیکھو تمھاری زندگی کا یہ اہم موڑ ہے، ہمیں تم سے صرف تمھارے مستقبل کے لئے تعلق ہے،تم اچھی زندگی گذاروگے تو خوشی ہوگی،مجھے بہت سمجھایا،مگر میری سمجھ میں بات نہ آئی، واپس آیااوردینک جاگرن کے دفتر میں کھتولی جاکر ایک خبر بنوائی:’’شادی کا وعدہ پورا نہ ہونے پر ہندو جوان نے اسلام لوٹایا‘‘ اور اسلام قبول کرنے کا سرٹیفکٹ ایک لڑکے کے ہاتھ حضرت کے پاس بھجوادیااور حضرت سے کہلوادیا کہ اسلام مجھے نہیں چاہئے،گھر واپس چلا گیا،ماں مجھے دیکھ کر بہت ناراض ہوئی،لیکن جب میں نے دینک جاگرن دکھایا کہ اسلام چھوڑ کر آیا ہوں تو بہت خوش ہوئی۔گھر رہ کر پھر وہی کام ماں کو لوٹنا،شروع میں ماں جھیلتی رہی مگر ایک روز جب میں نے زیادہ نشہ کرکے گاؤں کے ایک لڑکے سے لڑائی کی تو وہ بہت پریشان ہوگئی اور بولی بس سوہن مجھے ایسے بیٹے سے اچھا ہے کہ میں بغیر بیٹے کے رہوں ،اور میرے گھر سے منھ کالا کرکے مجھے نکال دیا، ایک دوروز میں گھر سے اِدھر اُدھر رہا،مجھے کہیں ٹھکانہ نہیں ملا تومیں نے ہمت کرکے حضرت کو فون کیا،اتفاق سے فون مل گیا،حضرت سے میں نے کہا کہ میں مزمل آپ کا بھگوڑا بول رہا ہوں،حضرت نے کہا:ہمارا بھگوڑاکون ہو تا،میرا بیٹا مزمل بول رہا ہے،حضرت نے پوچھا: کہاں ہو؟میں نے کہا:مظفر نگر،حضرت نے کہا:پھلت آجاؤ، ملاقات پر بات ہو گی،میں نے کہا پھلت میں مجھے کون آنے دے گا ،حضرت نے کہا آجاؤ میں آج پھلت میں ہوں،پھلت پہنچا،حضرت نے گلے لگایا، رات کو دیر تک سمجھاتے رہے،اور بولے بیٹاجو کچھ تم اچھا برا کررہے ہو اپنے ساتھ کررہے ہو،تم ہمیں ستربار دھوکہ دوگے ہم فخر کے ساتھ دھوکہ کھائیں گے،اور حضرت عمر کا واقعہ سنایا،حضرت عمر فرماتے تھے دین کے نام پر کوئی ہمیں دھوکہ دے گا تو ہم ستر مرتبہ فخر سے دھوکہ کھائیں گے،مجھے زور دیتے رہے کہ تم جماعت میں ایک پورا چلہ لگالو،میں نے آمادگی ظاہر کی،میرے کاغذات تلاش کرائے تو نہیں مل سکے، دوبار ہ میرٹھ بھیج کر کاغذات بنوائے اور مجھے مرکز نظام الدین بھیج دیا گیا،اس بار ایک جاننے والے ساتھی کو سمجھا کر میرے ساتھ کیا، جماعت میں میرا وقت متھرا میں لگا،نشہ کی عادت میرے لئے بہت بڑا مسئلہ تھا،میں بہت ہمت کرتا تھا مگر رکا نہیں جاتاتھا،دوبار میں نے باہر جا کر شراب پی لی،امیر صاحب نے حضرت کو فون کیا،حضرت نے ایک صاحب کو مظفر نگرسے نشہ چھڑانے کی دوا لے کر بھیجا،اس کو کھانے سے نشہ کا مسئلہ حل ہوگیا،مگر اپنی آزاد طبیعت کی وجہ سے میں پورے چلہ میں نے ساتھیوں کی ناک میں دم رکھا،مگر امیر صاحب حضرت کے ایک مرید تھے،ان سے حضرت نے کہہ دیاتھا، اگرآپ نے مزمل کا چلہ پورا لگوادیاتو آپ کو داعی سمجھیں گے ورنہ آپ فیل ہوجائیں گے،انھوں نے لوہے کے چنے چبائے مگر جماعت سے واپس نہیں کیا،چونکہ میرا ذہن بہت اچھا تھا،بالکل نہ کرنے کے بعد بھی میں نے نماز مکمل مع نماز جنازہ کے یاد کرلی،اور کھانے کے،سونے کے آداب،مختلف دعائیں یاد کرلیں،چلہ لگا کر آیا تو حضرت بہت خوش ہوئے، امیر صاحب کو بہت مبارک باد دی اور مجھے دہلی میں ایک جاننے والے کے یہاں نوکری پر لگوادیا،چار ہزار روپئے ماہانہ اور کھانا رہنا طے ہوا،ریسپشن پر ڈیوٹی تھی،وہا ں پر ایک لڑکی سے میرے تعلقات ہوگئے،اورمیں اسے لے کر فرار ہو گیا،لڑکی کے گھروالوں نے کمپنی کے مالک اور میرے خلاف ایف آئی آر کردی،سب کو پریشان ہونا تھا،حضرت نے کسی طرح افسروں سے سفارش کرکے کیس کو ڈیل کیا،لڑکی ایک برہمن کی تھی،میں نے اسے کلمہ پڑھوایا اور الہ آبادلے جا کر قانونی کاروائی کروائی،کمپنی میں تین اور نومسلم کام کرتے تھے،کمپنی والوں نے حضرت سے کہا کہ ان سبھی کو کہیں اور کام پر لگا دو،حضرت نے کہا ان کو رزق دینے والے اللہ ہیں، آپ جیسے کتنے لوگوں کو اللہ نے ان کی خدمت کے لئے مالدار بنایا ہے،حضرت ان تینوں کو لے کر آگئے اوراسی دن کوشش کرکے ان تینوں کو کام پر لگوادیا،میری یہ شادی زیادہ دن نہیں چل سکی اور میں نے اس لڑکی کو چھ مہینہ بعد طلاق دے دی۔

س: ان دنوں آپ کہاں رہے؟
ج :میں نے حضرت کا نام لے کر کان پور میں ایک صاحب کو اپنا باپ بنالیاتھا اور ان کے یہاں ہم دونوں رہے۔

س:انھوں نے ایسے میں تمہیں رکھ لیا
ج :میں حضرت کے تعلق کے لوگوں کو نگاہ میں رکھتا تھا، حضرت سے کوئی ملنے آیافورا فون نمبر لے لیا،ایک دو فون خیریت اور دعا کے لئے کرتا تھا حضرت بھی بیٹا بیٹا ان کے سامنے کرتے تھے ، لوگ سمجھتے کہ یہ حضرت کا بہت خاص ہے،بس میرا کام نکلتا رہتاتھا۔

س:اس طرح اندازاً تم نے کتنے لوگوں سے پیسے اینٹھے ہوں گے؟
ج :لاکھوں روپئے میں نے حضرت کے تعلق سے لوگوں سے وصول کئے اورسیکڑوں ایسے لوگ ہو ں گے جن سے میں نے فائدہ بلکہ حقیقت میں نقصان اٹھایا،دسیوں معاملے تو آپ کے سامنے بھی آئے،دوبار آپ نے ،ایک بار شعیب بھائی نے مجھے پھلت سے بھگادیا،آپ نے تو وارننگ دی تھی کہ آج کے بعد تمھیں پھلت میں دیکھا تو اپنی موجودگی میں منھ کالا کرکے نکال دوں گا۔

س:اس لڑکی کا کیاہوا؟
ج:اس کا اسلامی نام میں نے آمنہ رکھاتھا،گھروالے اسے مارنا چاہتے تھے،طلاق کے بعد اس کے لئے پھلت کے علاوہ کوئی جگہ نہیں تھی،حضرت کے پاس وہ پہنچی،حضرت نے اس کو میرٹھ کے کسی مدرسہ میں بھیجا،کچھ روز پڑھایا،عدت کا وقت گذرنے کے بعدغازی آباد کے ایک جاننے والے کے بیٹے سے اس کی شادی کردی۔

س:اس کے بعد کیا ہوا؟
ج:مجھ پر ایک بہت شاطر شیطان سوار تھا،روز روز نئے کھیل سجھاتا تھا،میں نے حضرت سے کچھ بڑی رقم اینٹھنے کی سوچی میں نے مظفر نگرانٹلی جینس کے دفتر میں رابطہ شروع کیا اور وہاں ایک راجپوت انسپکٹر سے دوستی کرلی،اورکہاپھلت میں دھرم بدلوانے کاکام ہوتا ہے،اور بڑی رقم ان کے پاس باہرسے آتی ہے۔

س:کیا تم سمجھتے ہو کہ ایسا ہے؟
ج : مجھے خوب معلوم ہے کہ حضرت کا مزاج تو یہاں کے لوگوں سے بھی چندہ کرنے کا نہیں ہے،بس ویسے ہی شیطانی میں میں نے ایسا کہا،میں نے کہا کہ میں وہاں سے آپ کو بڑی رقم دلواسکتا ہوں، مگر اس میں سے25%مجھے دینا ہوگا،وہ تیار ہو گئے انھوں نے ایک آئی بی کارکن کو جس کا پاؤں ایک حادثہ میں کٹ گیا تھا، میرے ساتھ بھیجا،اور ایک اور ساتھی کو ساتھ لیا، میں تو راستہ میں رک گیا اور ان کو وہاں بھیج دیا،ابا الیاس صاحب اور ماسٹر اکرم کاپتہ بتادیا،وہ دونوں پھلت پہنچے کہ ہم مسلمان ہونا چاہتے ہیں، حضرت تو نہیں ملے،ماسٹراکرم کے پاس گئے ،ان سے باتیں ہوئیں،انھوں نے مولانا عمر صاحب سے ان کو ملوایا،محمودبھائی بھی آگئے، انھوں نے ان کو اسلام کا تعارف کروایااور بتایا کہ ہم لوگ تو پیسے لے کر مسلمان کرتے ہیں،ہم توکلمہ پڑھواکر اسلام دیتے ہیں،اس کے لئے کوئی رقم دینے یا شادی وغیرہ کا کیا تک ہے،ہمارے یہاں تو اگر آپ سرٹیفکٹ لیں گے تو پانچ سو روپئے فیس ہے،وہ دینی پڑے گی،ہم آپ کو مدرسہ کی رسید دیں گے،یہ لوگ اور بحثیں کرتے رہے ،وہاں پر کچھ ملا نہیں تومایوس ہوکر واپس آئے،مجھ پر بہت برسے ،وہاں سے’’ آپ کی امانت‘‘لے کر آئے،اس کو پڑھ کر بہت متأثر تھے،میں نے کہا اتنی آسانی سے بات بننے والی نہیں،وہ میرے اصرار پر دو تین مرتبہ گئے،کچھ ہاتھ نہیں آیا انھوں نے مجھے دھمکایاکہ تمھارے خلاف مقدمہ بنادیں گے،میں مایوس واپس آیا،پھرمیں نے بجرنگ دل اورشیوسینا والوں کو بھڑکانے کی کوشش کی،شیو سینا والوں نے پھلت کہلوایا بھی کہ پھلت والے یہ دھرم بدلوانے کا کام یاتو بند کردیں ورنہ ہم انتظام کریں گے،حضرت نے ان کے پاس ساتھیوں کو بھیجا،اور ان سے کام کا تعارف کرایااور دفتر والوں سے پھلت آنے کو کہا، باری باری وہ لوگ آتے رہے اور پھر معاملہ ٹھنڈا ہوگیا،

س: اس کے بعد ایک بار ’پور قاضی ‘میں بھی توتم نے شادی کی تھی؟
ج :حضرت کے تعلق کے ایک قاضی جی سے میں نے بہت رو روکر اپنا حال سنایا اور ان سے کہا کہ میں نے حضرت کو بار بار نہ چاہتے ہوئے بھی دھوکہ دیا،اب میں اس وقت تک حضرت کو منھ نہیں دکھانا نہیں چاہتا جب تک ایک اچھا مسلمان نہ بن جاؤں، قاضی جی نے مجھ پر ترس کھاکر مجھے اپنے گھر رکھ لیا، ان کے یہاں کوئی اولاد نہیں تھی،میں ان کی دوکان پر بیٹھنے لگا،انھوں نے بجنور ضلع کے ایک گاؤں میں اپنے رشتہ داروں میں میری شادی کرادی بے چاروں نے خودہی شادی وغیرہ کے انتظامات کئے۔

س:انھوں نے آپ کے بارے میں تحقیق نہیں کی؟
ج:انھوں نے حضرت سے معلوم کیا تھا،حضرت نے کہا ہم داعی ہیں،اور داعی طبیب ہوتا ہے،آخری سانس تک مایوس ہونا اصول طب کے خلاف ہے،کوشش کیجئے،کیا خبر اللہ نے اس کی ہدایت آپ کے حصہ میں لکھی ہو۔

س:اس کے بعد کیا ہوا؟ اس لڑکی کو بھی تم نے طلاق دے دی ہے نہ؟
ج :بس آٹھ مہینے میں اس کے گھر والوں کا اور قاضی جی کے سارے خاندان والوں کا ناک میں دم کرکے،مار پیٹ کر تین طلاق دے کر بھاگ آیا۔

س:اس کے بعد کیا ہوا؟
ج :میں دربدر بھٹکتا رہا،اس دوران ایک بارہمت کرکے پھلت پہنچا،ماسٹر اسلام مجھے مل گئے، حضرت تو نہیں تھے، انھوں نے مجھے ڈرایا،بہت برا بھلا کہا کہ تو نے سب لوگوں کا اعتماد ختم کردیا، ہر نومسلم مہاجرسے یہاں کے لوگ بدظن ہوگئے ہیں،میں ان سے بہت لڑا اور چلا آیا،کئی بار غلط لوگوں کے ساتھ لگا،دوبار دودو مہینہ کی جیل میں بھی رہا،حضرت کے کسی جاننے والے نے ضمانت کرائی،اللہ کا شکر ہے کہ جن لوگوں نے مقدمہ کرایا تھا حضرت کی سفارش سے انھوں ے واپس لے لیا،جیل میں البتہ میں نے دولوگوں کو کلمہ پڑھوایا،حضرت سب لوگوں سے کہتے تھے کہ دیکھو اس کی وجہ سے پانچ لوگ جیل میں اور ایک برہمن کی لڑکی آمنہ مسلمان ہوئی،اب ان کی نسلوں میں قیامت تک کتنے لوگ مسلمان ہوں گے،اب اگر یہ ہماری زندگی کو جیل خانہ بھی بنادے تو ہم نے محنت وصول کرلی۔

س:سب گھر والے اور تعلق والے تمھاری وجہ سے ابی سے بحث بھی کرتے تھے،ابی اکثر،بگڑے ہوئے لوگوں اور نو مسلموں کے لئے کہتے ہیں کہ جیسی روح ویسے فرشتے،نیک لوگوں کے پاس نیک لوگ آتے ہیں،بدوں کے پاس بد آتے ہیں،ہم فاسق و فاجردھوکہ باز دھونگیوں کے پاس پاک باز اور نیک لوگ کہاں رہنے لگے،دیکھو شرابیوں کے پاس شرابی،جواریوں کے پاس جواری جمع ہوتے ہیں،ہم جیسے بدکاروں کے پاس کہاں نیک لوگ جمع ہونے والے ہیں،امی جان کا انتقال ہوا تو فرمانے لگے کہ امی جان نہیں رہیں تو ہمیں کیسی کمی محسوس ہورہی ہے،حالانکہ اپنے گھرکے سارے عزیز بھائی بہن بیوی بچے موجود ہیں،یہ بیچارے نومسلم ان کا کوئی بھی نہیں،اپنا سگا بیٹاکتنے عیبوں میں پھنس جاتا ہے،کبھی کسی سے ذکر بھی نہیں کرتا،نہ گھر سے نکالتا ہے، یہ بیچارے دربدر پھرتے ہیں، ذرا سی بات ان سے ہوجائے تو لوگ انھیں نکال دیتے ہیں،پرانا مسلمان سارے عیب کرے تو کوئی خیال نہیں،یہ کل کا مسلمان سوچتے ہیں کہ فرشتہ بن جائے اور سب دھتکارتے ہیں،یہ کہہ کر ابی بار بار رونے لگتے ہیں۔
ج :ایک روز جب میں پچھلی بار آیا تھا،تو میں حضرت سے ملا تو میں نے یہ بھی کہاکہ آپ نے مجھے اتنی بار ایسی بری حرکت کرنے کے باوجود بار بار موقع دیا،حضرت نے فرمایا کہ مجھ سے بری حرکت کون کرنے والا ہوگا،میرے بیٹے تم مجھ سے تو ہزار درجہ بہتر ہو،بس اللہ نے میرے عیب چھپا رکھے ہیں۔

س:اس دوران تم کتنی بار جماعت میں گئے؟
ج :ان بارہ سالو ں میں مجھے سترہ بار جماعت میں بھیجا گیا، ایک بار چلہ لگایااور آخر میں تین چلے تو پورے کئے ،ورنہ دھوکہ دے کر بھاگتا رہا،اسی زمانہ میں مجھے ۲۱ بار کام سے لگایا،یا کاروبار کرایا،مگر میں کوئی کام کرنے کے بجائے دھوکہ دیتا رہا۔

س:اب تمھارے دل میں وہ باتیں نہیں آتیں؟
ج : الحمد للہ نہیں آتیں،مجھے ایسا لگتا ہے وہ شیطان جو مجھ پر سوار تھا وہ میرے حضرت کی برکت سے مجھے چھوڑ کر چلا گیا ہے، ۲ مارچ ۲۰۰۹ء کو پھلت کے ایک صاحب نے میری ایک حرکت پرمجھے بہت مارا،حضرت سفر سے رات کو دیر سے تشریف لائے، صبح دس بجے مجھے دیکھا، میرا پورا جسم زخمی تھا،حضرت مجھے پکڑ کر جامع مسجد لے گئے،مسجد جاکر دورکعت نماز پڑھی،اور مجھے دیکھتے رہے اور باربار چومتے رہے،میرے بیٹے کب تک تم ایسی ذلت برداشت کرتے رہوگے،اور اگر اسی طرح رہے تو پھر دوزخ کی مار کس طرح سہوگے،چلو آؤ اللہ سے دعا کریں بہت دیر تک دعا کی،میں آمین کہتا رہا،پھر بولے مزمل آؤ دونوں سچے دل سے توبہ کریں بس،ایسی توبہ جس کے بعد لوٹنا نہ ہو،مجھے توبہ کرائی،ایمان کی تجدیدکرائی،اور مجھ سے وعدہ لیاکہ بس اب مسلمان داعی بن کر میری عزت کی لاج رکھوگے،اور سب کو دکھادوگے کہ انسان کبھی بھی اچھا بن سکتا ہے،میں نے وعدہ کیا اگلے روز چار مہینے کی جماعت میں چلاگیا،اور الحمد للہ جماعت میں داڑھی رکھی اورخوب دعا کا اہتمام کیا،حضرت نے جماعت سے واپس آکر کام پر لگنے کو کہا،میں نے حافظ عالم بننے کی خواہش کا اظہار کیا،داخلہ ہوگیا ، الحمد للہ حفظ مکمل ہوگیا،انشاء اللہ بہت جلد عا لمیت کا نصاب مکمل کرلوں گا،میرا ارادہ ہے کہ عالمینی داعی بنوں، اس کے لئے ایک گھنٹے میں نے انگریزی اچھی کرنے کے لئے پڑھنی شروع کردی ہے الحمد للہ اس وقفہ میں میرے مدرسہ میں سب لوگ خصوصا اساتذہ اور ذمہ دار مجھے بہت چاہتے ہیں بلکہ مجھ سے دعا کراتے ہیں ۔

س:ماشاء اللہ، ارمغان کے قارئین کیلئے کوئی پیغام دیں؟
ج:بس حضرت کی بات ہی میں کہوں گاکہ ہر مسلمان ایک داعی ہے اور ہر داعی ایک طبیب ہے،کسی مریض سے آخری سانس تک مایوس ہونا یا مرض کے برا ہونے کی وجہ سے مریض کو اپنے در سے دھتکارنا اصول طب کے خلاف ہے،ہر انسان اللہ کی بنائی ہوئی شاہکار مخلوق ہے اس کو احسن تقویم پر اللہ نے اپنے ہاتھوں سے بنایا ہے،اس سے مایوس نہیں ہونا چاہئے،بس اس کے لئے دل میں درد رکھ کراس کی اصلاح اور اسے دعوت دینے کی فکر رکھنی چاہئے،شاید مجھ سے زیادہ برا انسان تو اللہ کی زمین میں کوئی اور ہو؟جب میں اپنے لئے انسان بننے کا ارادہ کرکے یہاں تک آسکتا ہوں تو کسی سے بھی مایوس ہونے کی کیا وجہ ہے،دوسری درخواست قارئین ارمغان سے دعا کی ہے، کہ اللہ تعالی موت تک مجھے استقامت عطا فرمائے اور میرے حضرت نے جو مجھ سے ارمان بنائے ہیں اور حضرت فرماتے بھی ہیں کہ میری حسرت ہے کہ مزمل اللہ تعالی تمھیں پیارے نبی کے آنکھوں کی ٹھنڈک بنائے میری تمنا ہے کہ اللہ تعالی مجھے پیارے نبی کی آنکھوں کی ٹھنڈک بنائیں۔

س:شکریہ بھائی مزمل! واقعی ایک زمانہ تھا کہ تمھارا نام سن کر ہم سبھی کو غصہ آجاتا تھا،مگر الحمد للہ اب تم سے ملنے کی بے چینی رہتی ہے۔
ج : جی احمد بھائی! میں اسی لائق تھااور ہوں، بس میرے اللہ کا کرم ہے کہ اس نے دل کا رخ موڑ دیا ہے۔

س:شادی کے بارے میں تمھارا کیا ارادہ ہے؟
ج: اب شادی میرے لئے کوئی بات نہیں رہی،الحمد للہ میرے اللہ نے میرا دل اپنی طرف پھیر دیا ہے،اب مجھے خلوت میں اپنے رب کے حضور راز ونیاز کا مزا میرے رب نے مجھ گندے کو لگادیاہے،قرآن یہ کہتا ہے: ان قرآن الفجرکان مشہودا،صبح کا قرآن مجید تو آمنے سامنے کا ہے، بس ایسے جمیل محبوب سے سامنا ہو نے لگے تو ساری حسینائیں اندھیرا لگتی ہیں، الحمدللہ میرے اللہ کے کرم سے نالہ نیم شبی کی بادشاہت میرے اللہ نے مجھے عطا فرمادی ہے،اس کی وجہ سے ہر ایک کے سامنے ہاتھ پھیلانے سے میرے اللہ نے مجھے بچالیا ہے۔

س:آج کل اخراجات وغیرہ کس طرح چل رہے ہیں؟
ج :اللہ کے کرم سے نالہ نیم شبی کی بادشاہت نے دل کو مال دارکردیا ہے، اس کی برکت سے ہاتھ پھیلانے سے اللہ نے بچالیا ہے، الحمد للہ اب مجھے خرچ کی ضرورت نہیں،میں چھٹی میں مزدوری کرلیتا ہوں،میں نے امتحان کی چھٹی میں مزدوری کی، اور ایک ہزار روپئے حضرت کی خدمت میں ہدیہ کئے،کب سے حضرت آپ کو لوٹتا رہا یہ حقیر ہدیہ قبول کر لیجئے، حضرت نے بہت گلے لگایا اور بڑی قدر سے قبول کرلیا،اب ہاتھ اوپر کرلیا ہے اور اللہ سے سوال کیا ہے کہ اللہ اب کسی کے آگے ہاتھ نہ پھیلوائیں، مجھے امید ہے کہ اللہ تعالی اب کسی کا محتاج نہ کریں گے۔

س:اچھا بہت شکریہ السلام علیکم
ج : وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

بشکریہ: ارمغان http://www.armughan.in/

بےباک
04-04-2012, 06:44 AM
’سوشیلا‘ سے ’سمیرہ‘ بننے تک

صفات عالم محمد زبیرتیمی (کویت)

ملک نیپال کے مشرقی حصہ میں واقع ضلع مورنگ کی رہنے والی 28 سالہ خاتون ’سوشیلا‘ تین سال قبل روزگارکی تلاش میںکویت آئیں، اس عرصہ میں شاید معاشی حالت کوئی خاص بہتر نہ ہوسکی تاہم ایمان کی گرانمایہ دولت سے ضرور مالا مال ہوئی ہیں۔ماہ رواں کے اوائل میں انہوںنے اسلام قبول کیا ہے، اور اپنا نام’ سوشیلا ‘سے ’سمیرہ ‘ منتخب کیا ہے ،قبول اسلام کے وقت ان کا ایمانی جذبہ ،دینی حمیت اور دعوتی رغبت دیکھ کرایسا محسوس ہورہا تھا گویا یہ کوئی دینی گھرانے کی پروردہ خاتون ہے ، ناچیز کے لیے ان کے قبولِ اسلام کا منظربیحد ایمان افزا تھا ۔ قبول ِ اسلام کے فوراً بعد اس نومسلمہ کے کیسے دینی جذبات تھے‘ اسے جاننے کے لیے ہم ذیل کے سطور میں ان سے کی گئی گفتگو کا خلاصہ پیش کررہے ہیں ۔

سوال :آپ اپنے خاندانی پس منظر کی بابت کچھ بتائیں گی ۔

جواب: میں ہندوگھرانے میں پیدا ہوئی ،میرے ماں باپ ہندو ہیں، باپ کی مذہبی رسوم سے کوئی خاص دلچسپی نہیں تھی تاہم ماں پابندی سے ”مہیش “ کی پوجا کرتی تھیں ، پر شروع سے ہی میری طبیعت ایسی واقع ہوئی کہ میں نے پوجا وغیرہ سے بالکل رغبت نہیں رکھا ۔

سوال :کیسے آپ اسلام سے متعارف ہوئیں ؟

جواب : جب میں پہلی بار کویت آئی توجس آفس نے مجھے بلایا تھا وہاں کچھ مسلمان کام کرتے تھے،ان کے واسطے سے مجھے نیپالی زبان میں IPCکی دعوتی مطبوعات ملیں ، میں نے پڑھا تو مجھے احساس ہوا کہ اسلام بہت اچھا دھرم ہے ،اس میں ساری عبادتیں محض ایک اللہ کے لیے انجام دی جاتی ہیں ۔ میں نے نیپالی زبان میں ”جزءعم“ اور” قرآن کیا ہے ؟ “ کا مطالعہ کیا تو مجھے عجیب طرح کا سکون ملنے لگا ۔

سوال : آپ نے گویا قرآن کا بھی مطالعہ کیا ہے ؟

جواب : صرف تیسواں پارہ کا مطالعہ اب تک کرسکی ہوں، البتہ میری خواہش ہے کہ مکمل قرآن کا مطالعہ کروں ، کاش کہ نیپالی زبان میں بھی قرآن دستیاب ہوتا۔چھ ماہ قبل میں ایک مسلمان سے گذارش کی تھی کہ مجھے نیپالی زبان میں قرآن چاہیے، اس نے کہا : چھ دینار میں ملے گا ، میں نے کہا: کوئی بات نہیں تم مجھے لاکر دو۔ لیکن پھر بھی وہ نہ لاسکا اور اب تک میںقرآن سے محروم ہوں ۔

(ابھی میں آپ کو قرآن لاکر دیتا ہوں،میں اٹھا اور فوراً نیپالی زبان میں ترجمہ قرآن لاکر اس کے ہاتھ میں تھمادیا ، قرآن پاتے ہی ایسا لگا جیسے اسے اپنی کوئی گم شدہ چیز مل گئی ہو۔ خوشی سے اس کا چہرہ دمکنے لگا، عالم بے خودی میں قرآن کو لے کر چومنے لگی،ایسا کرتے ہوئے سمیرہ کی آنکھیں ڈبڈبا آئیں اور زبان پر ’تھینک یو ، تھینک یو ‘کے الفاظ جاری ہوگئے ،” آپ کی میں بہت بہت شکرگذار ہوں کہ آپ نے مجھے قرآن دیا“سمیرہ نے کہا ۔سمیرہ کے یہ الفاظ کیا تھے گویامیرے لیے تازیانہ عبرت ،میں تھوڑی دیر کے لیے سکتے میں پڑگیا اور قرآن کے تئیں اپنے معاملے پر نظر ثانی کرنے لگا ،پھر اپنے جذبات پر قابو پاتے ہوئے اس سے پوچھا :)

سوال : آپ نے ابھی چند منٹوں قبل اسلام قبول کیا ہے ، آپ کے پاس اسلام کی معلومات بھی زیادہ نہیں ہے پھربھی آپ کے دل میں قرآن کے تئیں ایسی محبت وعقیدت ؟

جواب:جہاںتک میرے اسلام کی بات ہے تو کلمہ اگرچہ ابھی پڑھی ہوں تاہم دل میں اسلام دوسال سے بیٹھا ہوا ہے۔گویامیںدوسال سے مسلمان ہوں، میںنے گذشتہ رمضان میںروزے بھی رکھنا شروع کیا تھا لیکن میری کفیلہ مجھے منع کرتی رہی کہ تم مسلمان نہیں ہوروزہ مت رکھو ، چنانچہ میں نے روزہ رکھنا چھوڑ دیا۔ قرآن میرے لیے نسخہ کیمیا ثابت ہواہے، قرآن کی آیتوں سے میں بیحد متاثر ہوئی ہوں ،جب کبھی مجھے گھریلو ٹینشن ہوتا ہے تیسواں پارہ کا ترجمہ پڑھنے بیٹھ جاتی ہوں جس سے مجھے یک گونہ سکون ملتا ہے ۔

سوال : آپ نے اسلام قبول کرلیا اور آپ ماشاءاللہ اسلام کے تئیں اچھا جذبہ رکھتی ہیں تو کیا آپ کی خواہش نہیں ہوتی کہ آپ کے گھر والے بھی اسلام اپنائیں ۔

جواب : جہاں تک میرے والدین کی بات ہے تو میری پوری تمنا ہے کہ والدین اسلام قبول کرلیں ،ابھی میں اسلام کے متعلق ان کو نہ بتائی ہوں البتہ میں نے اپنے شوہر سے اسلام قبول کرنے کی خواہش کا اظہار کردیا ہے اس بات کو سن کر انہوں نے مجھے دھمکی بھی دی ہے کہ اگر اسلام قبول کرلی تو نیپال میں لوٹ کر نہیں آسکتی ۔ مجھے کوئی پرواہ نہیں ہے ،اللہ پاک نے مجھے نرک (جہنم ) سے بچالیا ہے ،اس لیے اب میں ہرطرح کی تکلیف برداشت کرنے کے لیے تیار ہوں ۔

سوال :آپ کی کیا خواہش ہے ؟

جواب :میری پہلی خواہش یہ ہے کہ میں قرآن عربی زبان میں پڑھنا سیکھ جاؤں ،میں سمجھتی ہوں کہ شاید آپ لوگ اس سلسلے میں میرا تعاون ضرور کریں گے،اگر مجھے بھی عربی پڑھنا سکھادیں تو میں اپنے رب کے کلام کو عربی زبان میں پڑھ سکتی ہوں ۔

سوال : اور بھی کوئی خواہش ہے آپ کی ؟

جواب : میں دعا کرتی ہوں کہ اللہ پاک مجھے جنت میں جگہ دے ۔ اگر وہ مجھے جہنم میں ڈال دے تو میں کچھ اعتراض نہیں کرسکتی لیکن مجھے اللہ سے پوری امید ہے کہ وہ مجھے جنت میں ضرورداخل کرے گا ۔

سوال: آپ کی دوستی کیسی عورتوں سے ہے ؟

جواب : میری کچھ نیپالی سہیلیاں اسلام قبول کر چکی ہیں ،ان کو میں پسند کرتی ہوں ۔ اور جولڑکیاں مسلم نہیں ہوتی ہیں ان سے مجھے کراہیت سی محسوس ہوتی ہے ۔میں کبھی کبھی اپنی سہیلیوں کو اسلام کی دعوت دیتی ہوں اور کہتی ہوں کہ اسلام بہت اچھا مذہب ہے ،یہاں تک کہ دعوتی کتابیں بھی پڑھ کر سناتی ہوں ۔ ان میں سے کچھ تو دلچسپی لیتی ہیں جب کہ اکثر مذاق اڑانے لگتی ہیں ایسی لڑکیوں کو میں سخت ناپسند کرتی ہوں ۔

عزیز قاری ! اسلام کے تئیں یہ جذبات ہیں ایسی خاتون کے جس نے اب تک اللہ کے لیے ایک سجدہ بھی نہیں کیا ہے،ہم نے اس کی باتوں کو بلاکم وکاست آپ کے سامنے پیش کردیا ہے اب اپنا احتساب کریں کہ اسلام کے تئیں ہم نے کیا کیا ؟ قرآن سے ہمارا کیسا لگاؤ ہے ؟ غیروں تک ہم نے کس حد تک اسلام کا پیغام پہنچایا ہے ؟ کل قیامت کے دن یہ کفار ومشرکین جب ہمارا دامن پکڑیں گے تو اس وقت ہمارا کیا جواب ہوگا۔ ؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بشکریہ ۔ماہانہ مصباح الکویت

بےباک
04-04-2012, 06:46 AM
جیل سے ہدایت تک۔ پون کمارکیوٹ عرف محمد عمر

مولانا اعجازالرحمن شاہین قاسمی

ایڈیٹر ماہنامہ ”سروشانتی “دہلی

جیل سے ایڈیٹر ماہنامہ ”سروشانتی “دہلی کے نام ایک نومسلم کا خط جو ابھی جیل میں سرگرم داعی ہے اور اب تک اکیس لوگوں کی ہدایت کا ذریعہ بن چکا ہے

آج ہماری صفوں میں انتشار کیوں ہے ؟ اتنی بڑی تعداد میں ہوتے ہوئے بھی ہم بے وزن کیوں ہیں؟ ہر طرف کیوں مسلمانوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے ؟ ہمارے دینی شعائر داڑھی ،برقعہ اور مذہبی شخصیتوں کا مذاق کیوں اڑایا جا رہا ہے ؟ یہ وہ سوالات ہیں جومسلم عوام کے ذہن میں گردش کر رہے ہیں ؛ اور یہ وہ حالات ہیں جن سے امت مسلمہ کا ہر طبقہ جوجھ رہا ہے۔

آج امت کی پستی اور بدحالی کا سبب یہ ہے کہ امت مسلمہ اپنے اصل کام کو چھوڑ چکی ہے ،اپنی ذمہ داری سے منہ موڑ چکی ہے۔ آج اسلام کی طرف دعوت دینے کے بجائے مسلک کی طرف دعوت دی جا رہی ہے۔ قرآن وحدیث کی بلا واسطہ نشرواشاعت کے بجائے مسالک کے قالب اور حلیے میں اسلام کو پیش کیا جا رہا ہے۔ آج کفروشرک کی تردید و تکفیر کی جگہ ایک مسلک دوسرے مسلک کی تردید و تکفیر پر اپنا پورا سرمایہ اور طاقت صرف کر رہا ہے۔ جس کی وجہ سے ہماری صفوں میں انتشار ہے اور اسی رویہ نے ہمیں دشمنوں کے لیے اور زیادہ لقمہ تر بنا دیا ہے۔ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے دائرہ میں رہتے ہوئے بنا کسی تاخیر کے دعوت کا کام شروع کر دیں، سب کے لیے دعائيں کريں اور کسی مسلک کو نشانہ بنا کر جنگ وجدال کا ذريعہ نہ بنائیں ،اللہ رب العزت سے اصلاح کے لیے دعا کریں۔ ہم دنیا میں جنگ و جدال اور فساد پیدا کرنے کے لیے نہیں آئے، ہمارا کام دنیا سے جنگ و جدال اور فساد کو ختم کرنا تھا، ہم نے جب یہ کام چھوڑ دیا تو ہم خود ہی اختلاف کے شکار ہو گئے۔ ہمارا کام دنیا کو کفر و شرک ، زنا، جھوٹ، چوری اور دوسری برائیوں سے بچانا تھا ،ہم نے جب یہ کام چھوڑ دیا تو ہم خود ہی ان برائیوں کے شکار ہو گئے۔ ہمارا مشن ،ہمارا مقصد اور ہمارا کام صرف اور صرف ایک ہے ۔ اسلام کی دعوت ، اسلام کی ضیافت ، اسلام کی اشاعت۔

ذیل کایہ خط ایک ایسے غیر مسلم قیدی کاہے جو جیل سے ہمارے ہندی ماہنامہ’ سرو شانتی‘ کے دفتر ميں لکھا گیا ہے۔ ہندوستان کے جیلوں میں بند مسلم وغیرمسلم قیدیوں کو بڑی تعداد میں یہ ہندی ماہنامہ بھیجا جاتا ہے اورہمیں ان کے تاثرات بھی موصول ہوتے رہتے ہیں، جو ہمیں شدت کے ساتھ اس بات کا احساس کراتے ہیں کے ہمیں دعوت الی اللہ کا کام اورزیادہ تیزی سے کرنا چاہیے۔ کاش امت مسلمہ اس کام کی اہمیت وضرورت اوراسکی حکمت کو سمجھتی اور اس کے لیے اپنی زندگی اور وسائل کو وقف کر دیتی۔(اعجازالرحمن شاہین قاسمی)

اورنگ آ باد جیل سے پون کمار کيوٹ کی طرف سے ہندی ماہنامہ’ سرو شانتی‘ کے ایڈیٹر مولانا اے آر شاہين قاسمی صا حب اور نگرا ں حضرت مولانامحمد کلیم صدیقی صاحب کی خدمت میں تسلیمات!

ایڈیٹرصاحب! آپکاہندی ماہنامہ’ سرو شانتی‘ اس جیل میں شا ہد انصا ری بھائی کے پاس آتا ہے،اللہ کے کرم سے مجھے پڑھنے کے لیے شاہد بھائی بھيج ديتے ہیں۔ يہ رسالہ مجھے بہت اچھا لگتا ہے ۔لوگوں کو دین دنيا کی سچائی کی پہچان کرانے کا بہت اچھا ذریعہ ہے۔اس لیے میں اپنی سچی کہانی لکھ کر بھیج رہا ہوں تاکہ جولوگ سچ جاننے کی کوشش میں لگے ہیں انہیں سچائی کی پہچان ہو سکے۔

میرا نام پون کمار کیوٹ ہے ، میں یوپی میں مہارراج گنج ضلع کا رہنے والا ہوں، میری پیدائش ایک کیوٹ خاندان کے ہندودھرم میں ہوئی ہے ۔ میں اپنی کہانی جیل سے شروع کررہاہوں، میں اپنے دھرم کا کٹر تھا ، ہندودھرم کے حساب سے ہر دیوی دیوتا کو بھگوان کے روپ میں مانتا تھا لیکن سب سے زیادہ بجرنگ بلی کی پوجا کرتا تھا ۔ ہر منگل کو اپواس (روزہ ) بھی رکھتا تھا۔ مسلمانوں کے رویے کی وجہ سے مجھے اسلام اور مسلمانوں سے سخت نفرت تھی ۔ اسکے پہلے میں ہندو یووا وا ہنی کا ممبر بھی تھا ۔

2005ءمیں جیل میں آیا،میرے اوپر ڈکیتی کے کئی کیس تھے ۔ایک دن جیل میں اپنے دوست وجے کے ساتھ گھوم رہاتھا کہ دیکھا سبھی مسلمان قیدی اکٹھے ہورہے ہیں،پتہ لگانے پر معلوم ہوا کہ آج ان کی عید کا دن ہے ،دل نے کہا تم بھی ان کے ساتھ شریک ہوجاو ،پھر اپنے دل کی بات اپنے دوست وجے سے بتادی ۔وہ بھی تیارہوگیا،ہم دونوں وہاں گئے،ان میں سے ایک مسلمان جس کا نام نواب تھا اس سے ہم نے نماز میںشرکت کی خواہش ظاہر کی تو اس نے کہا:کیوں نہیں ضرور شریک ہوسکتے ہو۔ میں نے کہا :مجھے توپڑھنا نہیں آتا۔ انہوں نے کہا: پڑھا تو بہت کچھ جاتا ہے ،لیکن آپ لوگ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ پڑھنااور اس کا مطلب بھی بتایا جواچھا لگا۔اس طرح ہم ان کے ساتھ شریک ہوگئے ،ایک مولاناتقریرکرنے کے لیے آئے تھے ، ان کی باتیں سن کر کچھ مسلمان رو بھی رہے تھے ۔ان کی باتیں مجھے بہت اچھی لگ رہی تھیں ،اس سے پہلے میں نے ایسی باتیں نہیں سنی تھیں ۔

نماز کے بعد سب لوگ شیر خرمہ پینے لگے ،ایک کٹوری میں تین تین لوگ جھوٹا کرکے کھاتے تھے ،مجھے تھوڑی دیر کے لیے یہ منظر اچھا نہیں لگا پھر دل میں خیال آیا کہ ان میں کتنی محبت ہے کہ اونچ نیچ اور چھوت چھات نہیں دیکھتے چنانچہ میں نے بھی شیر خرمہ پی لیا ۔

نواب بھائی سے میں نے سوال کیا کہ مسلمان کتنی طرح کے ہوتے ہیں ؟ تو انہوں نے کہا:مسلمان ایک ہی طرح کا ہوتا ہے جو اللہ اور اس کے رسول صلى الله عليه وسلم کا حکم مانتا ہے ۔

اب میں زیادہ تر نواب بھائی کے ساتھ گھومتاتھا ۔ نواب بھائی نماز پڑھتے تو میں ان کے پاس بیٹھا رہتا تھا اور قرآن پڑھتے تو میں بھی سنتا تھا ۔ مجھے نماز اور قرآن پڑھنے کا یہ منظر بڑا اچھا لگتا تھا ۔

قریب ایک مہینہ تک میں اسلام سے متعلق جانکاری لیتا رہا ۔ ایک دن میں نے نواب بھائی سے کہا : مجھے مسلمان بننا ہے ، یہ سن کر وہ بہت خوش ہوئے ،میں نے کہا: میرا ختنہ کرادو ، تو بولے : ختنہ کرانے سے کوئی مسلمان نہیں بنتا ہے ۔ بلکہ سچے دل سے گواہی دینے سے مسلمان بنتا ہے کہ ” اللہ ہی عبادت کے لائق ہے اس کے سواکوئی لائق عبادت نہیں اور محمد صلى الله عليه وسلم اللہ کے رسول ہیں‘ ‘ ۔

نواب بھائی نے مجھے نہلایا ‘ پھر کلمہ پڑھا دیا اورمیرا نام محمد عمر رکھا اور کہا تمہاری کہانی حضرت عمر رضي الله عنه سے ملتی جلتی ہے۔ اس ليے تمہارا نام عمر مناسب ہے۔ اسلام قبول کرنے کا وہ دن میری زندگی ميں بہت اہم دن ہے ۔ ميں اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں کہ اس نے مجھے اسلام کی گرانقدر دولت سے نوازا ہے۔ 2006ءميں پھر اورنگ آباد جیل ميں آگیا ۔ اللہ کے کرم سے یہاںنماز پانچوں وقت کی ہوتی تھی۔ ميں نے الحمدللہ یہاں پر تین بار قرآن معنی کے ساتھ پڑھا ۔ قرآن کے مطالعہ سے مجھے بہت ساری معلومات ہوئیں،بہت ساری سچائیوں کی جانکاری ملی ۔ تاہم اس وقت تک ميں داعی نہيں تھا ۔اسلام پر عمل کرتااوربس۔ لیکن اس وقت میری زندگی میں اہم موڑ آیا جب ميں نے محمد صلى الله عليه وسلم کی سیرت پاک پڑھی، مجھے بہت رونا آیا کہ انہوں نے اسلام پھیلانے کے ليے کتنی تکلیفیں سہیں تب جاکر اسلام پوری دنیا ميں پھیلا۔ بالآخراللہ تعالی اس گنہگار بندے سے بھی اپنے دین کا کام لینے لگا ۔ ميں نے جیل ميں اسلام کی دعوت کھلے عام دینا شروع کردیا ۔ میرا مقصد اتنا تھا کہ ميں اپنے رب کا دین لوگوں تک پہنچا دوں۔ ایک دن ميں پانچ پانچ ‘ چھ چھ لوگوں کو اسلام کی دعوت دیتا ،پھر شام تک ان سے جواب مانگتا ۔ جب ان ميں سے کوئی ایمان نہيں لاتا تو ميں اسے صرف اتنا کہتا کہ گواہ رہنا :ميں نے تم تک اللہ کا پیغام پہونچا دیا۔ رفتہ رفتہ میری باتوں کا لوگوں پر اثر ہونے لگا ۔ لوگ ایمان لانے لگے ،لوگ اسلام قبول کرنے کے لیے موقع اور وقت مانگتے تھے ۔ ميں نے سوچا کہ اسلام قبول کرنا کوئی کھیل نہيں ہے چنانچہ ميں ٹائم دینے لگا ۔ اللہ کا شکر ہے کہ 21 لوگوں نے میرے ہاتھ پر اسلام قبول کیا (تازہ رپورٹ کے مطابق مزید2 کا اضافہ ہوا ہے )۔ ان21 لوگوں ميں بہت سے ایسے لوگ تھے جومیرے قبولِ اسلام کی وجہ سے مجھ سے نفرت کرتے تھے ۔جب کوئی مجھ سے اسلام کے تعلق سے سوال کرتاہے توميں اسے یہی کہتا ہوں کہ اگر تم سچے ہندو ہو تو کم سے کم اپنے دھرم کے وید وں اورپُرانوں کی باتوں کو تو مانوجس میں واضح طورپربتایا گیا ہے کہ اللہ (ایشور) ایک ہے، صرف وہی پوجا کے لائق ہے۔ اسلام دھرم ہمارا بھی دھرم ہے۔ محمد صلى الله عليه وسلم ہمارے بھی رہبر ہيں۔

آج بھی ميں اسلام کی دعوت دیتا ہوں ، ليکن يہاں ایسا ماحول ہو گیاہے کہ اگر کوئی ہندو میرے ساتھ بيٹھتا یا بات کرتا ہے تومتعصب قسم کے لوگ اس کے ذہن میں طرح طرح کے وساوس ڈالتے ہیں” پون کے پاس مت بیٹھوورنہ وہ تمہيں مسلمان بنا دے گا“ ۔ یہاں تک کی اسلام کی کتابيں بھی پڑھنے سے منع کرتے ہيں۔ کیونکہ انہيں معلوم ہے کہ اگر پون کے ساتھ دس دن رہا تو ضرور اسلام قبول کر لیگا، متعددبار ایسا ہوا کہ ان کے منع کرنے کے باوجود بھی کئی لوگ ميرے پاس بیٹھتے رہے اور انہوں نے اسلام قبول کرلیا۔

اسلام سچا دھرم ہے، اس لبے ميں اسکے بارے ميں بتانے سے کسی سے نہيں ڈرتا اگر ميرے دل ميں آیا کہ فلاں آدمی کو اسلام کی دعوت دینا ہے تو ميں اسے اچھے اخلاق کے ساتھ دعوت دیتا ہوں۔ ميں نے اپنے گھر والوں کو بھی خط کے ذریعہ اسلام کی دعوت دی ہے۔ ميرے گھر والوں کو سمجھ ميں آیا ہے۔ ميری امی کہتی ہے: تیرے آنے کے بعد ہم سوچیں گے۔ امید ہے کہ میرے گھروالے اسلام قبول کر ليں گے۔اللہ انہيں ہدایت دے۔( آمبن)

میں اتنا کہنا چاہتا ہوں کی اسلام کوئی نیا دھرم ، یا صرف مسلمانوں کا دھرم نہیں ہے۔ بلکہ اسلام ہی سناتن دھرم ہے محمد صلى الله عليه وسلم صرف مسلمانوں کے پیغمبر نہیں ہیں بلکہ ہر ہندو کے رہنما اور پیغمبر ہیں اس بات کی تصدیق ویدوں اور پرانوں نے کیاہے ۔ اگر میری بات جھوٹ لگ رہی ہو تو ڈاکٹرایم اے شری واستو کی کتاب ”حضرت محمدصلى الله عليه وسلم اور بھارتیہ دھرم گرنتھ “پڑھ سکتے ہیں سچائی خود بخود ہر ہندو کے سامنے آجائے گی۔

مجھے اسلام قبول کرنے کے بعد سب سے زیادہ مسلمانوں سے تکلیف پہونچی ہے۔ ميں سوچتا ہوں کہ محمد صلى الله عليه وسلم کے زمانے ميں اسلام قبول کرنے والوں کو غیروں سے تکلیف پہونچتی تھی‘ لیکن آج مسلمانوں سے تکلیف ہو رہی ہے۔ خیر مجھے صبر اس بات سے ہے کہ جن مسلمانوں سے تکلیف ہورہی ہے ‘ انہيں اسلام کے بارے ميں علم نہيں ہے۔ قرآن ميں کیا لکھاگیا ہے‘ نبی صلى الله عليه وسلم نے کیا کہا ہے ؟ یہ بھی انہيں پتہ نہيں ہے۔ اس بات کی بھی خوشی ہے کہ ايسے مسلمان بہت کم ملے ہيں۔ زیادہ تر سچے مسلمان ہی ملتے ہيں۔ انہيں مجھ سے مل کر بہت خوشی ہوتی ہے۔ میری ہر مسلمان سے گذارش ہے کہ اسلام کو سمجھنے کی کوشش کریں ۔ قرآن کو ترجمہ و تشریح کے ساتھ سمجھ کر پڑھیں۔اور نبی صلى الله عليه سلم کی حدیثوں کابھی مطالعہ کریں، غیر مسلموں اور نومسلموں کے ساتھ اچھے اخلاق سے پیش آئیں، نومسلموں کی مدد کریں۔ا نہیںپناہ دیں‘ انہیں اپنا بھائی سمجھیں اوراللہ کے دین کو لوگوں تک پہونچائيں۔

مجھے اللہ کی ذات سے امید ہے کہ میں اسی مہینے میں رہا ہو جاﺅں گا پھر بھی میری رہائی کے لیے اللہ سے دعا کریں۔ اللہ ہم سب کو سیدھے راستے پر چلنے کی توفیق دے (آمین)

اللہ حافظ

پون کمارکیوٹ عرف محمد عمر

بےباک
04-04-2012, 06:49 AM
سونیا جین کے قبول اسلام کی کہانی

میرا نام سونیا جین تھا، چاندنی چوک دہلی میں جین مت کے ایک مذہبی گھرانے میں۲جون ۱۹۷۵ء کو میں پیدا ہوئی ۔ میری ماں مومنہ خاتون (سابقہ نرملا جین) کا قبول اسلام کے بعد دو سال قبل انتقال ہوا۔ ( اللہ تعالی اپنے سایہ رحمت میں ان کو جگہ دے۔آمین)جب کہ میرے والد پون کمار جین میرے بچپن ہی میں چل بسے تھے۔ میری بہن انورادھا جین جو فی الحال گجرات میں اپنے بال بچوں کے ساتھ مقیم ہیں، ان پر بھی اسلام کی سچائی واضح ہوچکی ہے۔ اس کا وہ بار بار اظہار کر چکی ہیں ، لیکن اپنے شوہر کی وجہ سے پس و پیش میں ہیں۔ اللہ تعالی انہیں جلد ہی ہدایت کی توفیق دے۔ آمین ہم سب ان کے ليے دعا کر رہے ہیں۔ میرا ایک بھائی بھی ہے جس کا نام پلے پارول کمار گپتا تھا، اب مشرف بہ اسلام ہونے کے بعد محمد عمران ہے۔ میں نے چاندنی چوک کے جین اسکول میں بارہویں پاس کی۔ اس کے بعد تعلیم ترک کردی، البتہ گھر پر رہ کر کچھ کچھ پڑھ لیا کرتی تھی۔ میں اپنی ماں اور دوسرے رشتہ داروں کے ساتھ جین مندر بھی جایا کرتی تھی، جہاں ہم سب پاٹھ میں شرکت کرتے، پوجاکرتے، پری کرما کرتے،(پھیرے لگاتے) ۔

ہمارا ماحول اس وقت پورا جینی تھا۔ کسی دوسرے ماحول کی ذرا بھی جانکاری نہیں تھی، جین مندروں میںجب ہمارے رشتہ دار بالکل ننگے سادھوﺅںکے چرنوںکو چھوتے تومیں ہمیشہ اسے نفرت کی نگاہ سے دیکھتی۔ میری نگاہیںشرم کے مارے زمین میں گڑجایا کرتی تھیں۔ میری سمجھ میں نہیں آیا کرتا تھا کہ آخر ایسا کیوں ہوتا ہے ؟ لیکن چونکہ ہمارے رشتے دار ایسا کرتے تھے اور ہم دیکھتے آرہے تھے، اس ليے میں چپ سادھ لیتی۔

اسی طرح زندگی کے دن گزرتے رہے حتی کہ میں ۱۹ سال کی ہوگئی۔ میری ماں ان دنوں ایک کمپیوٹر ڈیزائننگ اینڈ پروسیسنگ کمپنی میں کام کرتی تھیں۔ اس کمپنی کے پروپرائٹر محترم عشرت صاحب تھے، جو اب میرے رفیق حیات ہیں۔ عشرت صاحب کا رویہ اپنے اسٹاف کے ساتھ مساویانہ تھا۔ وہ سارے اسٹاف کے ساتھ ایک دستر خوان پر بیٹھ کر لنچ کیا کرتے تھے، جہاں مسلمانوں کے علاوہ دوسرے مذاہب کے ماننے والے بھی شامل ہوتے تھے۔ ان میں شاکا ہاری ( سبزی خور)بھی تھے اور مانساہاری(گوشت خور)بھی۔ ہم لوگ شدھ شاکاہاری ( خالص سبزی خور) تھے، لیکن میری ماں نے سب کے ساتھ کھانے پر کمپرومائز کرلیا تھا۔ کچھ عرصہ کے بعد وہاں ایک آسامی نکلی تومیری ماں نے مناسب سمجھا کہ میں بھی ان کے ساتھ کام کروں ۔ یہ جنوری ۹۵ ۱۹ءکی بات ہے ، جب میں پہلے روزوہاں کام کرنے آئی تو میری ماں اس بات پر کافی پریشان تھیں کہ میں کس طرح سب کے ساتھ مل کر لنچ کروں گی ؟ جبکہ وہاں دوسرے اسٹاف مانساہاری( گوشت خور)بھی ہیں، اس ليے انہوں نے سب سے پہلے عشرت صاحب سے بات کی کہ میں تو آپ لوگوں کے ساتھ مل کر کھالیتی ہوں ،لیکن میری بیٹی سونیا جین بڑی مذہبی ہے اور شدھ شاکاہاری( خالص سبزی خور ) ہے، وہ ہمارے ساتھ کھانا کھانے کے ليے رضامند نہیں ہے، اس ليے وہ الگ تھلگ کھالیا کرے گی۔ عشرت صاحب نے ان کی بات سن کر مجھے آفس میں طلب کیا اور پوچھا :

آپ کو گوشت یوں ہی نا پسند ہے یا آپ کے نزدیک یہ پاپ ہے ؟

” یہ تو بہت بڑا پاپ ہے “۔ میں نے اپنے علم کے مطابق جواب دیا، جو میں اپنے پرکھوں سے سنتی آئی تھی۔

” اگر یہ پاپ دنیا سے ختم ہوجائے اور سارے ہی لوگ سبزی کھانے لگیں تو کیسا رہے گا ؟ “۔عشرت صاحب نے پوچھا

” یہ تو بہت اچھا رہے گا۔ “ میں نے جواب دیا: انہوںنے کہا: ” اچھا یہ بتاﺅ کہ اس وقت آلو کا کیا بھاﺅ ہے ؟ “ میں نے کہا : ” یہی کوئی چار پانچ روپے کلو۔ “ انہوںنے کہا : ” اگر سب لوگ گوشت خوری ترک کردیں اور ساگ سبزی کھانے لگیں تو آلو سو روپے کلو ہوجائے گا، کیوں کہ۵ ۹ فیصد لوگ مانساہاری( گوشت خور ) ہیں، پھر بتا ئيے کہ سب کے جیون (زندگی) کی گاڑی کیسے چلے گی اور لوگ کس طرح سے اپنا پالن پوسن (گزر بسر) کریں گے ؟ “

ان کی بات سن کر میری عقل کی پرتیں کھل گئیں اور میری سمجھ میں آگیا کہ جو بات وہ کہہ رہے ہیں صحیح کہہ رہے ہیں۔ یہی میرا ٹرننگ پوائنٹ تھا ‘جب میں نے عقیدت سے نہیں عقل سے سوچا۔ میں نے اسی دم سب کے ساتھ مل کر کھانے کے لیے حامی بھر لی اور اتنا ہی نہیں ، بلکہ جب کھانے پر بیٹھی تو عشرت صاحب کے ٹفن میں سے مرغ کی ٹانگ بھی حلق سے اتر گئی۔

عشرت صاحب اس کے بعد وقتاً فوقتاًمجھے اسلام کے بارے میں بتاتے رہے اور میں ان کی باتوں کو بڑے غور سے سنتی اور اپنی عقل کااستعمال کرتی تو عقل بھی انہیں کی باتوں کی تصدیق کرتی ۔دھیرے دھیرے اسلام کے ليے میري دلچسپی میں اضافه ہونے لگا۔ ایک دن عشرت صاحب نے دنیا کے نقشے کو سامنے رکھ کر بتایا کہ مکہ دنیا کا مرکز ہے ، جہاں سے اسلام کی روشنی برابر دنیا کے کونے کونے میںپہنچتی ہے، جس طرح کمرے کے سنٹر میں بلب روشن ہوتواس کی روشنی کمرے کے ہر جانب برابر جاتی ہے، اس کے بر عکس جین دھرم صرف ہندوستان میں محصور ہے اور اس کا پھیلاﺅ ممکن نہیں۔ یہ بات میرے دل کو چھوگئی۔ پھر میرا ضمیردن بہ دن مجھے کچوکے لگانے لگاکہ میں غلطی پر ہوں اور اسلام ہی اصل سچائی ہے ۔ جب بھی عشرت صاحب مجھے کوئی بات بتاتے تووہ اس سلسلہ میں عقلی اور منطقی استدلال ﭘﯾﺶ کرتے اور یہی وہ بات تھی، جس کے آگے مجھے ڈھیر ہونا پڑا۔ دوسری بات یہ تھی کہ خود عشرت صاحب کا رویہ اپنے اسٹاف کے ساتھ بڑا نرم تھا۔ وہ سب کے ساتھ مساویانہ سلوک روا رکھتے اور ہر ایک کے ساتھ بڑی شفقت ومحبت کا معاملہ کرتے۔ ان کا اخلاق بڑا کریمانہ تھا۔ انہوںنے جین دھرم میں مہاویر سوامی کی پرتیما(مورتی) کی جو تشریح کی ‘میںاس سے بہت متاثر ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ ان کا خود کا پہناواننگ (عریانیت)تھا اور وہ دوسرے لوگوں کو کپڑے پہننے کے ليے کہہ رہے ہیں۔ یہ قول و عمل کا تضاد میری سمجھ سے بالاتر تھا۔ ان سب وجوہات کی بناءپر میرا دل اسلام کی طرف مائل ہونے لگا۔

۴۱ مارچ۱۹۹۵ءمیری زندگی کا وہ مبارک دن تھا، جب میں مشرف بہ اسلام ہوئی۔ عشرت صاحب کا یہ معمول تھا کہ وہ ہر جمعہ کو آفس بند کرکے سورئہ کہف كي تلاوت کرتے تھے۔ میرے اندر تجسس ابھر ا کہ وہ اتنے اہتمام سے کیا پڑھتے ہیں ؟ جب میں نے ان کو سورئہ کہف کی تلاوت کرتے سنا تو میرے دل کی اندرونی کیفیت کچھ عجیب سی ہوگئی۔ ایک طرح کی بیداری پیدا ہوگئی۔ پھر عشرت صاحب نے مجھ سے کہا کہ تم آگ کا ایندھن بننے سے کب بچوگی ؟ میں نے از خود رفتگی میں کہا کہ بہت جلد انہوںنے کہا کہ کیا خبر ، یہ سانس جو تم لے رہی ہو ، آخری ہو ؟ پھر اچانک میں بڑے جوش میں بولی کہ ابھی اور اسی وقت ! پھر عشرت صاحب نے مجھے کلمہ پڑھایا اور میں مسلمان ہوگئی۔ میں نے اسی دم یہ دعا کی ” اے اللہ! جس طرح تو نے مجھے آگ سے بچایا ہے، اسی طرح میری ماں اور میرے بھائی کو بھی بچالے “۔ اللہ تعالی کے یہاں میری یہ دعا بھی قبول ہوگئی۔ شروع میں تو میری ماں اور بھائی دونوں نے میری مخالفت کی ۔ میرا بھائی تو عشرت صاحب کا جانی دشمن ہوگیا، لیکن جب میں نے ان کو خود اسلام کے بارے میں کچھ معلومات دیں اور بتایا کہ میں نے بہت سوچ سمجھ کر یہ قدم اٹھا یا ہے ، پھر ان کے سامنے نماز وغیرہ پڑھنے لگی تو وہ بہت متاثر ہوئے اور دونوں نے ہی اللہ کے فضل سے اسلام قبول کرلیا۔

میری ماں نے میری شادی عشرت صاحب سے کردی، جن کی بیوی کا کینسر کے مرض میں شادی کے تین چار سال بعد انتقال ہوگیا تھا۔ ان کے تین بچے تھے۔ ان بچوں سے مجھے جو پیار ملا اور کہیں نہیں ملا۔ میرا ان سے بہت گہرا رشتہ ہے۔ میں اس پر اللہ کا جتنا شکر ادا کرتی ہوں کم ہے ۔ میری ابھی ایک بچی ہے، جس کا نام ناز ہے اور میں اسے اسلام کی اشاعت کے ليے تیار کر رہی ہوں ، کیونکہ جب میں نے اسلام قبول کرلیاتو اب ایک بہت بڑی ذمہ داری کو قبول کیا ہے اور اپنے اوپر اسلام کی تبلیغ کو فرض کرلیا ہے۔ میں کوشش کرتی ہوں کہ لوگ حلقہ اسلام میں زیادہ سے زیادہ آئیں۔ ہم اپنے اخلاق سے،اپنے کردار سے قرآن کا مکمل نمونہ بنيں تاکہ لوگوں میں اسلام کی سچائی جاگزیں ہو۔ میں اسلام سے متعلق مختلف کتابوں کا بھی مطالعہ کرتی رہتی ہوں ۔ قرآن مجید کو میں نے سمجھ کر پڑھا اور مجھے لگا کہ حقوق العباد پر اسلام کا بہت زور ہے اور یہی حقوق العباد اسلام کا دائرہ وسیع کرنے میں بھی بہت معین ہے۔ ہمیں اپنی دعوت میں خوش اخلاقی کو مقدم رکھنا چاہيے۔ ا ب تک اللہ کے فضل سے میری ماں اوربھائی کے علاوہ تین اور لوگوں نے اسلام قبول کیا ہے ۔ یہ میمونہ خاتون(سنینا کپور) محمد یوسف (راجن کپور) اور محمد زید( ستیش کمار ) ہیں ۔ میری اپنی کوشش ہے اور تمام لوگوں سے استدعا ہے کہ ہم میں سے ہر شخص داعی بنے اور دعوت کو جاری رکھے، اپنے بچوں کی اسلامی نہج پر تربیت کرے تاکہ وہ اسلام کے داعی بن کر ابھریں۔

بےباک
04-04-2012, 06:52 AM
میں نے اسلام کیوں قبول کیا ؟
سابق برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیر کی سالی لورین بوتھ کا قبولِ اسلام
انگریزی سے ترجمہ: عبدالجلیل منشی (کویت)
ajmunshi@yahoo.com

”میں اسلام قبول کرنے کے لیے ہرگز سرگرم نہ تھی، نہ ہی میں اسلام کا مطالعہ کر رہی تھی، بات دراصل یہ ہے کہ جب آپ ایک مسلم معاشرے میں مسلمانوں کے درمیان رہ کرایک طویل عرصے سے کام کر رہے ہوں تو لامحالہ ان سے روزمرہ کی گفتگو کے دوران اُن کے دین اور قرآن کے متعلق کچھ نہ کچھ معلومات حاصل ہوتی ہی رہتی ہیں، میں یہ سمجھتی ہوں کہ میں نے اتفاقاً مسلمانوں کے ساتھ رہتے ہوئے تھوڑا بہت قرآن کے بارے میں جانا، اس دوران یہ بھی اندازہ ہوا کہ اگر آپ نے اسلام میں دلچسپی لیتے ہوئے اسکے بارے میں جاننے کی خواہش ظاہرکی تو مسلم اُمہ کی تمام تر محبت،یگانگت اور خلوص کو آپ یقینا محسوس کئے بنا نہ رہ سکیں گے“۔

اپنے اسلام قبول کرنے کے حوالے سے 43 سالہ لورین بوُتھ نے کہا کہ سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ میں نے اسلام،مسلمانوں کی محبت اور دوستی میں قبول نہیں کیا بلکہ جن حالات میں میں مسلمانوں کے درمیان رہ کر اک طویل مدت تک کام کرتی رہی ہوں اس دوران نہ جانے کس وقت میرا اللہ سے ربط قائم ہو گیا ، میں نے اللہ کو زیادہ سے زیادہ جاننے کی کوشش کی اور اب میں امید کرتی ہوں کہ میں اپنی اس کوشش میں کسی حد تک کامیاب ہوسکی ہوں۔

اسلام کی جانب یہ سفر میری زندگی کانہایت خوشگوار سفر ہے،مجھے نہیں معلوم کہ میں کب اس راہ کی مسافر بنی، حالات سازگار ہیں اور ساتھی مسافر گرمجوش، اس سفر میں میں مسلسل آگے بڑھ رہی ہوں اور وقت کی گرم آندھی اور راہ کی تمام رکاوٹوں کے باوجود اسلام کے راستے پر میرا یہ سفر تیزی سے گامزن ہے۔

اگر مجھ سے یہ سوال پوچھا جائے کہ ایک انگریز صحافی، ایک تنہا دو بچوں کی ماں نے مغربی میڈیا کے سب سے ناپسندیدہ مذہب کو کس طرح قبول کیاتو اس کے جواب میں میں اپنے اس انتہائی روحانی تجربے کا حوالہ ضرور دینا چاہوں گی جو مجھے ایران کی ایک مسجد میں ہواجس نے میرے دل کی دنیا بدل دی ،مگر اسلام قبول کرنے کے حوالے سے اگر ماضی میں جھانکا جائے تو اسکی بنیاد غالباً اس وقت پڑ گئی تھی جب میں جنوری 2005ء میں اکیلی فلسطینی علاقے ویسٹ بنک (مغربی کنارہ) میں برطانوی جریدے ’دی میل‘کے لیے فلسطینی صدارتی انتخابات کی کوریج کے لیے پہونچی تھی، یہاں میں یہ بات واضح کر دو ں کہ اپنے اس سفر سے پہلے مجھے کبھی بھی مسلمانوں یا عربوں کے ساتھ رہنے کا اتفاق نہیں ہوا تھا

جب میں نے اپنا مشرقِ وسطی کا یہ سفر شروع کیا تھا تو میرا ذہن مغربی میڈیاکے اس پروپگنڈہ کی وجہ سے سخت مخدوش تھا جو اس نے دنیا کے اس حصے کے لوگوں کے بارے میں جو محمد صلى الله عليه وسلم کے ماننے والے تھے جاری رکھا ہوا تھا اور انہیں بنیاد پرست ، متعصب،مذہبی انتہاءپسند، خودکش حملہ آور، ا غوا کاراور جہادی قرار دیاجاتا تھا جبکہ میرا یہ تجربہ ان تمام تصورات کے بالکل برعکس ثابت ہوا۔

میں فلسطینی مغربی کنارے کے علاقے میں اس حال میں داخل ہوئی تھی کہ میرے جسم پر میرا کوٹ بھی نہیں تھا کیونکہ تل ابیب کے ہوائی اڈے پر اسرائیلی حکام نے میرا سوٹ کیس اپنے قبضے میں لے لیا تھا، اور میں ’رام اللہ‘ کے مرکزی علاقے میں شدید سردی سے ٹھٹھرتی ہوئی چلی جا رہی تھی کہ یکایک ایک بوڑھی فلسیطینی خاتون نے میرا ہاتھ تھام لیا، تیزی سے عربی زبان میں کچھ بڑبڑاتے ہوئے وہ مجھے ملحقہ گلی میں واقع ایک گھر میں لے گئی، سب سے پہلے میرے ذہن میں جس خدشے نے جنم لیا وہ یہ تھا کہ کیا میں ایک بوڑھی عورت کے ہاتھوں اغواء ہوگئی ہوں،کئی منٹ تک میں خاموشی سے اسے اپنی بیٹی کے کمرے میں موجود کپڑوں کی الماری سے کچھ ڈھونڈتے ہوئے دیکھتی رہی ، بالآخراس نے الماری سے ایک کوٹ،ایک حجاب اور ایک ٹوپی نکالی اور مجھے دیکر دوبارہ اسی گلی میں چھوڑ دیا جہاں سے وہ مجھے اپنے گھر لے گئی تھی۔میرے سر پر گرمجوشی سے بوسہ دیا،اور اپنی راہ ہولی، حیرت کی بات یہ ہے اس سارے عمل کے دوران ہمارے درمیان ایک لفظ کا بھی تبادلہ نہ ہوا۔

یہ سخاوت اور فیاضی کی ایک زندہ مثال تھی جسے میں کبھی نہ بھول پاؤں گی اور جس کا مجھے اس کے بعد وہاں رہتے ہو ئے کئی موقعوں پر بارہا تجربہ ہوا۔حقیقت یہ ہے کہ ہماری عملی زندگی میں روحانی گرمجوشی کا ایسا مظاہرہ شاذ ونادر ہی دیکھنے میں آتا ہے۔

اس سفر کے بعد آنے والے تین برسوں میں میرا مقبوضہ علاقوں میں متعدد بار جانے کا اتفاق ہوا۔ ابتداً میرا وہاں اپنے صحافتی امور کی انجام دہی کے سلسلے میں جانا ہوتا رہا مگر جوں جوں وقت گزرتا گیا میرے وہاں کے سفر کی نوعیت میں تبدیلی آتی گئی اور پھر میں نے فلسطینی عوام کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کرنے اور انکے لیے امدادی کام کرنے والے گروپوں کےساتھ مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں آنا جانا شروع کردیا۔

اس دوران میں نے وہاں ہر مذہب اور عقیدے کے حامل فلسطینیوں کی بدحالی اور تکالیف کو کھلی آنکھوں سے دیکھا اوردل سے محسوس کیا۔یہاں میں نے یہ بھی دیکھا کہ ان فلسطینی مسلمانوں کے ساتھ ساتھ عیسائی عقیدے کے لوگ بھی جو تقریباً دو ہزار برس سے ارضِ مقدس پر رہ رہے ہیں وہ بھی مسلمانوں کی طرح اسرائیلی جارحیت کا شکار ہیں۔

وہاں آتے جاتے اور فلسطینی مسلمانوں کے درمیان رہتے ہوئے ان شاءاللہ، ماشاءاللہ اور الحمد للہ جیسے کلمات میری زبان کا حصہ بنتے رہے جو فلسطینی مسلمان اپنے روزمرہ کی گفتگو میں شکر ، تعریف اور امید کے اظہار کے طور پر استعمال کرتے تھے۔اس سرزمین کے لوگوں کے حوالے سے مغربی میڈیا نے جوخوفناک تاثر مغرب کے لوگوں کے اذہان میں پیدا کردیا ہے اور جسکا دہشتناک تصور لے کر میں پہلی بار اس خطے میں آئی تھی اب اتنا عرصہ ان لوگوں میں رہنے کے بعد وہ تاثر یکسر غائب ہوگیا تھا ۔ اب میں بغیرکسی خوف و تردد کے مختلف مسلم گروپوں سے ملنے لگی تھی ا ور اس طرح اس سرزمین کے ذہین،عقلمند اور سب سے بڑھ کر مہربان اور فیاض لوگوں کے درمیان مجھے رہنے اور انہیں سمجھنے کا موقع ملا۔

فلسطین کی مسلمان خواتین‘ اسلام سے میری خصوصی لگن اور پسندیدگی کا سبب بنیں، آپ اندازہ کریں کہ سر سے پیر تک برقع میں ملفوف خواتین کو ایک انگریز عورت نے کس نظر سے دیکھا ہوگا۔ اسکے برعکس یورپ میںپیشہ ور خواتین اپنی خوبصورتی اور ظاہری وضع قطع کی زیادہ سے زیادہ نمائش میں خوشی محسوس کرتی ہیں اور وہاں ایسا کرنا روزمرہ کے معمولات میں شامل ہے ،بالکلمعیوب نہیں سمجھا جاتا۔

جب کبھی مجھے کسی پروگرام کو نشر کرنے کے لیے ٹیلیویژن سٹیشن پر مدعو کیاجاتاتھا تو میں یہ دیکھ کر حیران ہو جاتی تھی کہ خواتین میزبان پندرہ منٹ کے دورانیہ کے سنجیدہ نوعیت کے پروگرام پیش کرنے سے پہلے گھنٹہ بھر تک بالوں کی تزئین وآرائش اور میک اپ پر صرف کیا کرتی تھیں۔کیا اسی کا نام آ ز ادی ہے؟ میں سوچتی ہوں کہ اس آزاد مغربی معاشرے میں لڑکیوں اور خواتین کو کتنا حقیقی احترام دیا جاتا ہے۔

2007 ءمیں مجھے لبنان جانے کا اتفاق ہوا، میں نے وہاں چار دن یونیورسٹی کی طالبات کے ساتھ گزارے جو سب کی سب حجاب پہنی ہوئی تھیں اور جن کے سر کے بال تک نظر نہیں آتے تھے۔ وہ خوبصورت، خودمختار اور صاف گوتھیں۔ا ور قطعاً ایسی ڈرپوک اور بزدل نہیں لگ رہیں تھیں کہ کوئی زبردستی انکی مرضی کے برخلاف انہیں پکڑ کر انکی شادی کر دیتا جیسا کہ میرے ذہن میں تصور تھاجو میں نے مغرب کے اخباروں میں پڑھ کر قائم کیا تھا۔

جتنا زیادہ وقت میں مشرقِ وسطیٰ میں گزار رہی تھی اتنی ہی زیادہ تبدیلی میں اپنے اندر محسوس کر رہی تھی،میں انہیں خود کومسجد میں لے جانے کے لیے کہتی ، اپنے آپ کو میں یہ کہہ کر مطمئن کرلیتی کہ میں سیاحت کررہی ہوں مگر درحقیقت مساجد مجھے بے حد دلکش لگتی تھیں، مجسموں سے پاک اور خوبصورت غالیچوں سے آراستہ۔

لوگ مجھ سے پوچھتے ہیں کہ میں نے اب تک کتنا قرآن پڑھا ہے اور میں یہ کہتی ہوں کہ میں نے اب تک صرف سو صفحات کا باترجمہ مطالعہ کیا ہے مگر اس سے پہلے کہ میری اس بات کو کوئی طنزیہ نظروں سے دیکھے میں صرف یہ گزارش کرنا چاہتی ہوں کہ اس عظیم کتاب کی ایک وقت میں دس لائنیں پڑھنا چاہیے، مکمل تدبرکے ساتھ۔ اسطرح کہ جو کچھ آپ پڑھ رہے ہوں اس کو اچھی طرح سمجھ بھی رہے ہوں اور اگر ممکن ہو تو ان دس لائنوں کو زبانی یاد بھی کرلینا چاہیے۔ کہنے کا مقصد یہ ہے کہ اس قرآن کو اللہ کی نازل کی ہوئی کتابِ ہدایت سمجھ کر پڑھنا چاہیے نہ کہ کوئی رسالہ سمجھ کر۔میں ان شاءاللہ عربی زبان بھی سیکھنے کی کوشش کروں گی مگر اس میں خاصہ وقت لگے گا۔

اسلام کی تعلیمات سے واقف ہونے کے لیے بہت زیادہ مطالعے کی ضرورت پڑتی ہے، شمالی لندن کی چند مساجد سے میرا رابطہ ہے اور پُرامید ہوں کہ میں کم از کم ہفتہ میں ایک بار وہاں جایا کروں۔

لباس کے بارے میں بات کرتے ہوے لورین صاحبہ کہتی ہیں کہ اعتدال پسند انہ لباس کا انتخاب اتنا مشکل معاملہ نہیں ہے جتنا سمجھا جاتا ہے۔ حجاب پہننے کا مطلب یہ ہے کہ اب آپ باہر پہلے سے بھی زیادہ کم وقت میں جاسکتے ہیں کیونکہ حجا ب کی وجہ سے آپ کو بہت سارا وقت بالوں کی آرائش میں ضائع نہیں کرنا پرے گا۔ چند ہفتے قبل جب میں نے پہلی بار اپنے سر پرحجاب باندھا تو مجھے بہت شرم سی محسوس ہوئی تھی۔ چونکہ ان دنوں سردی کا موسم تھا تو میراحجاب پہننا کسی نے محسوس نہ کیا البتہ گرمی کے موسم میں حجاب پہن کر نکلناایک چیلنج ہے،مگر بریطانیہ ایک روادار ملک ہے اور ابتک مجھے کسی نے حقارت کی نظروں سے نہیں دیکھا،حجاب کے ساتھ نقاب میں اپنے لیے ضروری نہیں سمجھتی مگر برقع مجھے زیادہ موزوں محسوس ہوتاہے۔

اسلام قبول کرنے کے بعد میڈیا میں ردّعمل کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ظاہر ہے میرے اس عمل سے انہیں موقع ہاتھ آگیا اور بہتان اور دشنام طرازی کا سلسلہ شرو ع ہوگیا مگر حقیقتاً ان کا ہدف میری ذات نہیں تھی بلکہ اسلام کا غلط تصور جو انہوں نے اپنے ذہنوں میں قائم کر لیا ہے دراصل وہی سوچ اس سارے قصے کے پیچھے کارفرما تھی،مگر میں نے زیادہ تر منفی تبصرے نظرانداز کردئے کیونکہ کچھ لوگ روحانیت کے معنوں سے ناآشنا ہوتے ہیں اور اس موضوع پر انکے ساتھ کسی قسم کا بحث ومباحثہ انہیں مزیدخوفزدہ کردیتا ہے۔

میرے اسلام قبول کرنے کے اعلان کے بعد ایک مشورہ مجھے اچھا لگا اور میں نے اس پر عمل بھی کیا کہ میں ایسے مواد کامطالعہ نہ کروں جو ناگوار خاطر گزریں،نہ ہی بلاگس (Blogs)میں موجود منفی تبصروں پر کان دھروں ۔ اسطرح میں نے بہت سی تصوراتی اور ناخوشگوار باتوں کی طرف مطلق دھیان نہ دیابلکہ اپنی تمام تر توجہ اس بات پر مبذول کر لی ہے کہ مسلم امہ کے ساتھ زیادہ سے زیادہ پیار اور تعلق کو مضبوط ومربوط کیا جائے۔

اپنے پیشے کے حوالے سے تشویش ظاہر کرتے ہوئے انکا سوال یہ تھاکہ کیا حجاب پہن کر وہ اپنی موجودہ پوزیشن برقرار رکھنے میں کامیاب ہوسکیں گے ۔ مجھے علم ہے کہ بہت ساری مسلم خواتین نے ٹیلیویژن اور صحافت کے میدان میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں اور مستقل مزاجی کے ساتھ شائستہ مغربی لباس پہنتی ہیں،میں ابھی اسلام میں نئی نئی داخل ہوئی ہوں اور اسلام کے بنیادی اصولوں سے واقفیت حاصل کر رہی ہوں، اسلام سے میرے تعلقات کی نوعیت الگ قسم کی ہے۔ میرا قطعاًیہ نظریہ نہیں ہے کہ اسلام کے بعض اصول تو میں اپنا لوں اور بعض کو نظر انداز کردوںبلکہ میں اسلام کو مکمل طور پر اپنے اندر سمو لینا چاہتی ہوں۔مستقبل کے حوالے سے بھی غیر یقینی حالات کا شکار ہوں، میں روزانہ ہی کچھ نہ کچھ اپنے اندر تبدیلی اور ایک نیاپن محسوس کرتی ہوںاور سوچتی ہوں کہ یہ سلسلہ کہاں جاکر رکے گا ۔

اپنے معاشرتی تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے انکا کہنا ہے کہ میں اس حوالے سے اپنے آپ کو نہایت خوش قسمت سمجھتی ہوں کہ میرا اسلام قبول کرنا میرے اہم ترین رشتوں پر کسی طور بھی اثر انداز نہیں ہوا ہے۔ میرے اس فیصلے سے میرے غیر مسلم دوستوں کا ردّعمل تجسسانہ تھا نہ کہ مخالفانہ اور معاندانہ۔وہ مجھ سے پوچھتے ہیں کہ کیا تم بدل جاؤگی؟ کیا ہماری دوستی برقرار رہ سکے گی اور کیا ہم اب بھی شراب نوشی کے لیے جاسکیں گے؟ انکے پہلے دو سوالوں کا جواب تو میرے پاس اثبات میں ہے مگر تیسرے سوال کا جواب قطعا انکار میں۔جہاں تک میری والدہ کا تعلق ہے تو وہ میری خوشی میں خوش ہیں۔



میرے لیے یہ مناسب وقت نہیں ہے کہ میں کسی مرد سے تعلقات کے بارے میں سوچوں،میری ازدواجی زندگی انحطاط کا شکار ہے اور یہ طلاق پر منتج ہونے جا رہی ہے ، کسی مناسب وقت پر اگر میں نے دوبارہ شادی کے بارے میں سوچا تو وہ اسلامی اصولوں کے مطابق ہوگی اور میرا ہونے والا شوہر یقینا ایک مسلمان ہوگا۔

یہ تھی برطانیا کی اس خاتون کے اسلام قبول کرنے کے حوالے سے بات چیت۔

آئیے ہم سب ملکر اللہ کے حضور دعا کریں کہ وہ اس نومسلم بہن کواسلام پر ثابت قدم رکھے اور حالات کی سختیاں اور بادسموم کے مخالف جھونکے ان کے پایہ استقلال میں جنبش پیدا نہ کرسکیں بلکہ انکے عزم اورحوصلے روز افزوں جواں اور ہمت بلند سے بلند ہوتی جائے اور یہ دین کی داعی اوزبردست مجاہدہ بنے اور خصوصاً بریطانیا میں اسلام اور مسلمانوں کو ان کی وجہ سے تقویت ملے ۔ آمین ثم آمین۔

بےباک
04-04-2012, 06:58 AM
ابراہیم بھائی کی قربانی

قربانی خواہ صوری ہو یا معنوی ‘ ہے آخر قربانی ہی ، اسلام کی خاطرقیامت تک کفر و شرک سے اٹے ماحول میں پرورش پانے والے نومسلم مردوخواتین قربانی وفدائیت کا نمونہ پیش کرتے رہیں گے۔ ایسی ہی ایک قربانی پیش کی ہے ipc کے شعبہ دعوت سے منسلک ہمارے ابراہیم بھائی نے ، تولیجیے ان کی قربانی کاقصہ ہم انہیں کی زبانی قلمبندکر رہے ہیں ۔ (گفتگوپرمبنی…. صفات عالم )

میرا تعلق نیپال کے ترائی علاقے کے ضلع بارا سے ہے ، پیدائشی نام کدار ناتھ کھریل ہے، برہمن طبقہ کے کھریل خاندان میں پیدا ہوا ، خاندانی روایات کے مطابق مذہبی طورطریقے پر میری پرورش ہوئی،سترہ سا ل کی عمرمیں آٹھویں جماعت کاطالب علم تھاکہ نیپالی فوج میں ملازمت مل گئی،چنانچہ میں نے نوکری کرنے کے ساتھ ساتھ تعلیم بھی جاری رکھی ،اسی بیچ میٹرک کے ا، آئی اے کیا اور سترہ سال تک محکمہ افواج میں ملازمت کرتا رہا ۔ وہاں سے ریٹائرڈ ہونے کے بعدایک سال تک ذاتی کاروبار کیا، پھر مجھے 2004 کے اوائل میں ملازمت کے لیے کویت آنے کا موقع ملا جہاں مجھے قبول اسلام کی سعادت نصیب ہوئی۔

میرے قبول اسلام کا قصہ بڑاعجیب ہے، میرا ایک بنگلادیشی ساتھی تھا جو تلاوتِ قرآن کی بیحدپابندی کرتا تھا اور گاہے بگاہے مجھے بھی بٹھا کرقرآن سنایا کرتا تھا ، میں نے ایک دن اس سے پوچھا : ” تم لوگ کس کی پوجا کرتے ہو ؟ “اس نے مجھے مختصرلفظوںمیں بتایا کہ ” ہم مسلمان ایک اللہ کی عبادت کرتے ہیں کسی مورتی کی پوجا نہیں کرتے“ ۔یہ محض اس کا جواب نہیں تھا بلکہ میری زندگی کے لیے پہلا ٹرننگ پوائنٹ تھا ۔

ایک دن میں نے خواب میں دیکھا کہ کوئی نیک صفت بزرگ مجھے کہہ رہے ہیں:” تم اسلام میں آجاؤ“ ، میں نے جواب دیا : ”میںہندو ہوں اور میرے گھر والے اس سے راضی نہیں ہوسکتے“ ، اس نے کہا : ”تم پہلے اپنی فکرکرو اور سچائی قبول کرلو“۔ اسی کے بعد میرے اندر ایک طرح کا تجسس پیدا ہوگیا ،مجھے ایسا محسوس ہوتا تھا گویامیری کوئی شے کھوچکی ہے ،میں بار بار مسلم دوستو ں سے اسلام کے بارے میں پوچھتا رہتا ،جب مجھے اسلام کے تئیں بالکل اطمینان ہونے لگا تو ایک دن میں نے ایک کویتی سے کہا کہ ”میں اسلام قبول کرنا چاہتا ہوں“ ، اس نے بلاتاخیر مجھےipc پہنچا دیا ، یہاں میری ملاقات مولانا صفات عالم محمد زبیرتیمی صاحب سے ہوئی ،ان سے میں نے اپنا پورا قصہ سنادیا ، اولاً تو انہوں نے مجھ سے عرض کیا کہ محض خواب کی بنیاد پر اسلام قبول کرناکوئی معنی نہیں رکھتا ،بلکہ پہلی فرصت میں آپ کو اسلام کی کھوج کرنی چاہیے کیونکہ اسلام ہی آپ کا دھرم ہے جسے آپ کے خالق ومالک نے آپ کے لیے اورساری انسانیت کی رہبری کے لیے آخری شکل میں اتارا ہے، اسلام قبول کرنا دھرم بدلنا نہیں بلکہ اپنے پیدائشی دھرم کو پانا ہے ۔

پھر انہوں نے سنہرے انداز میںمیرے سامنے اسلام کا تعارف کرایا ، ان کی ایک ایک بات میرے دل میں اترتی گئی بالآخرمیں نے ایک گھنٹہ کی گفتگو کے بعد اسی وقت اسلام قبول کرنے کا فیصلہ کرلیا ۔

اس کے بعد میں ہمیشہ مولانا صفات عالم صاحب سے استفادہ کرتا رہا ،ہفتہ واری دروس میں حاضر ہوتا اور دیگراوقات میں بھی‘جب کبھی کسی طرح کااشکال پیدا ہوتا فوراً مولانا سے رابطہ کرکے تشفی بخش جواب حاصل کرلیتا ۔جب مولانا کرم اللہ تیمی صاحب ipc میں بحیثیت نیپالی داعی تشریف لائے توایک عرصہ تک ان سے بھی استفادہ کرنے کا موقع ملا، میں آئے دن اپنی معلومات میں اضافہ کرتا رہا ، میری دعوتی دلچسپی کو دیکھتے ہوئے ipc کے ذمہ داران نے مجھےipc میں کام کرنے کا زریں موقع فراہم کیا ،چنانچہ میںنے کمپنی چھوڑ دی اور تقریباً تین سال سے ipc میں بحیثیت داعی کام کررہاہوں ۔ فللہ الحمد والمنة

اس اثناءمیں نے اپنی اہلیہ کومتعدد بار اسلام کی دعوت دی، بالخصوص جب دوسال قبل دوماہ کے لیے گھر گیاتو پہلی فرصت میں ‘میںنے ان کواسلام بتایا اور انہوں نے اسلام قبول بھی کرلیا لیکن جب دومہینہ گزرنے کے بعدکویت آیا تو میرے سسر نے اس پر دباؤ ڈالا اور قسم کھالی کہ جب تک وہ اسلام سے نہ پھرے گی تب تک میں اس کا چہرہ بھی نہیں دیکھ سکتا ،حتی کہ وہ میرا مردہ منہ بھی نہیں دیکھ سکتی ۔ اب کیاتھا،وہ اپنے شیطان باپ کے جذبات کا خیال کرتے ہوئے مرتد ہوگئی، اس بیچ میںنے بارہا کوشش کی کہ وہ اسلام کو اپنالے لیکن اب وہ ماننے کو تیارنہ تھی حالانکہ میں اس سے بےحد محبت کرتا تھا۔میرے پاس ایک سترہ سال کی لڑکی ہے جو نرسنگ کی تعلیم حاصل کررہی ہے، ایک بیٹا آٹھویں جماعت میں زیرتعلیم ہے جبکہ دوسرا بیٹا ابتدائیہ میں پڑھتا ہے ، میری ہمیشہ یہی خواہش رہی کہ میرے گھر والے اسلام کو گلے لگالیں لیکن ہدایت اللہ کے ہاتھ میں ہے کوشش کے باوجود ناکام رہا ۔

ایک ماہ قبل میں سفرپرگیا اس امید کے ساتھ کہ میرے اہل خانہ اسلام قبول کرلیں گے کیونکہ ان کی باتوں سے مجھے توقع بندھنے لگی تھی ،حالانکہ انہوں نے منظم پلاننگ کے ساتھ مجھے بلایا تھا تاکہ دوبارہ کویت نہ لوٹ سکوں۔ جس روز گھر پہنچا، بیوی اور بچوں کوبٹھا کر دو گھنٹہ تک سمجھایا لیکن بیوی اپنی بات پر مصر رہی کہ وہ اسلام میں نہیں آے گی بالآخر میںنے اپنے چھوٹے بچے کے ساتھ رات گذاری، صبح میں بھی میں نے اہلیہ کو سمجھایا اور تاکید کی کہ اسلام نے ہم دونوں کے درمیان جدائی ڈال دی ہے، ازدواجی زندگی گذارنااسی وقت ممکن ہے جب تم اسلام میں آجاؤ ، میںدومہینہ کی فرصت لے کرگیاتھالیکن معاملہ اس قدر پیچیدہ ہوا کہ تقریبا ً ہفتہ عشرہ کے بعد ہی مجھے گھر سے نکلنا پڑا ۔ پہلے ہی دن میری سترہ سالہ بچی نے اپنی ماں کے اشارے پر میرے موبائل سے کویت کے سارے نمبرات ڈیلیٹ کردی ، میری بیوی خوشحال گھرانے سے تعلق رکھتی ہے ،اس کے ایک بھائی امریکہ میں اور ایک بھائی بلجیم میںرہتے ہیں ، میرے سسرال والوں کی پلاننگ تھی کہ کسی طرح میں ان کے دھرم میں لوٹ آؤں اور دوبارہ کویت نہ آسکوں ، امریکہ میں مقیم میرے نسبتی برادر نے مجھے سبز باغ دکھانے کی کوشش کی کہ چند سالوں تک گھر پرآرام کروں اوروہ مجھے اس اثناءکویت کی میری سالانہ آمدنی سے کہیںزیادہ رقم مہیا کریںگے ،پھر اس کے بعد مجھے امریکہ بلا لیں گے ،لیکن میں نے ان کی بات کو خاطر میں لائے بغیر دوٹوک جواب دیا کہ ایسا قطعاً ممکن نہیں ہے ،میں نے اسلام کو گلے لگایا ہے تو تادم حیات اس پر قائم رہوں گا اور کوئی طاقت مجھے اسلام سے پھیر نہیں سکتی۔

اسی بیچ دسہرہ کا تہوار آگیا اور میرے گھر والے مجھ پر زور ڈالنے لگے کہ میں بھی ان کے تہوار میں شرکت کروں، میں نے صاف صاف کہہ دیا کہ میں کسی صورت میں ان کا ساتھ نہیں دے سکتا، اِدھر بیوی رو رہی تھی تو اُدھر بچے رو رہے تھے،بلکہ سب نے کھانا تک نہیں کھایا لیکن میں اپنی بات پر اٹل رہابالآخر تھک ہار کر سب نے دوسرے دن کھانا کھا یا ۔

ہفتہ عشرہ تک میں نے دسیوں بار اہل خانہ کو اسلام کی دعوت دی ، اپنی محبت کا واسطہ دیا اور علیحدگی کی صورت میںمعاشرتی بگاڑ اور بچوں کے مستقبل کی بربادی سے ڈرایا لیکن میری بیوی اپنے بھائیوں اور باپ کے بہکاوے میں آکر دین میں میرا ساتھ نہ دے سکی، جب مجھے خطرہ محسوس ہوا کہ میرے خلاف یہ لوگ سازشیں کررہے ہیںکیونکہ دو سال قبل مجھے اس کا تجربہ ہوچکا تھاکہ چندشرارت پسندوں نے میری بیوی کی بیوقوفی سے مجھے جسمانی اذیت پہنچانی چاہی تھی‘ لیکن اسی وقت میرا ایک دیرینہ دوست پہنچ گیا جس سے میں بال بال بچ گیا، اس بار بھی اس طرح کے آثار دکھائی دینے لگے تو میں ایک دن خفیہ طور پر استعمال کے کپڑے لیے ،گھر سے نکل پڑا اور چند کلو میٹر دور میرے ایک دوست کا گھر ہے جہاں ایک ہفتہ چھپا رہا ، اس بیچ ٹکٹ کا انتظام کیا اور دو بارہ کویت آگیا ۔

واقعہ یہ ہے کہ میرے سسرال والوں نے ہی سارامعاملہ خراب کیا ہے جن کی میرے اہل خانہ کو پوری پشت پناہی حاصل ہے۔ مجھے اس بات کا کوئی افسوس نہیں کہ میں اپنے اہل خانہ اور اولاد سے بچھڑ گیا ہوں لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ وہ اسلام سے محروم رہ گئے ہیں ۔اخیرمیں قارئین سے میری درخواست ہے کہ وہ اللہ تعالی سے میرے اہل خانہ کی ہدایت کے لیے دعا کریں ۔

بےباک
04-04-2012, 07:00 AM
اور جناردن پرساد بنے محمد سہیل

عبدالصبور عبدالنور ندوی (سعودی عرب)

گزشتہ سات سال قبل جناردن پرساد ورما کی زندگی میں ایک بڑی تبدیلی آئی اور وہ محمد سہیل بن گئے، 18 برسوں سے سعودی عرب میں ملازمت کرنے والے محمد سہیل نے اپنی زندگی میں بڑے نشیب و فراز دیکھے ، قبول اسلام کے بعد انہوں نے بڑے مشکل حالات کا سامنا کیا ، اسلام کا آفاقی پیغام غیر مسلم بھائیوں تک پہونچانے میں ہمہ تن مصروف رہتے ہیں، ان کے ہاتھوں پر درجنوں افراد اسلام قبول کر کے سعادت بھری زندگی گزار رہے ہیں، ذیل میں ان سے کی گئی گفتگو کے اہم نکات پیش کئے جارہے ہیں۔

سوال: مختصر تعارف اور فیملی بیک گراونڈ؟

جواب: میرا نام جناردن پرساد ورما تھا، ہندو گھرانے میں جنم لیا، چار بھائی اور چار بہن ہیں، آٹھ برس کی عمر سے ہی ملازمت شروع کی، گھر کی خستہ حالت دیکھ کر فیصلہ کیا کہ پڑھائی اور کام دونوں ساتھ کروں گا۔ اترپردیش کے خلیل آباد سے نکل کر ممبئی گیا اور پڑھائی کے ساتھ ملازمت جاری رکھا، کچھ دنوں بعد میں نرنکاری ہو گیا اور پورے گھر کو بھی نرنکاری بنا دیا۔

سوال:نرنکاری بننے کا خیال کیسے آیا؟

جواب: جن دنوں میں ممبئی میں تھا، ڈرائیونگ کے پیشہ سے منسلک تھا، ایک روز چیمبور کے علاقے سے گزر رہا تھا، دیکھا ایک وسیع پنڈال میں جلسہ ہورہا ہے، میں رکا اور لوگوں سے اس کی تفصیل پوچھی، تو لوگوں نے بتا یا کہ نرنکاریوں کا جلسہ ہے،یہ لوگ پیڑ پودوں یا پتھروں کی پوجا نہیں کرتے،انہیں بھگوان نہیں مانتے، ان کا عقیدہ ہے کہ ہر شخص کے اندر بھگوان سمایا ہو اہے، لیکن ہم اسے دیکھ نہیں سکتے،اور جسے دیکھ نہیں سکتے وہی بھگوان ہے۔اسی لیے یہاں ہر ایک شخص بغیر کسی امتیاز کے ایک دوسرے کے پاوں چھوتا ہے،والدین اپنے بچوں کے اور بچے اپنے والدین کے پاوں چھوتے ہیں، یہ عقیدہ مجھے اس وقت بہت بھایا، پھر میں نرنکاری ہوگیا ،گاوں لوٹ کے آیا تو سارے گھر والوں کو نرنکاری بنا دیا، میرے گھر والے ابھی بھی نرنکاری ہیں۔

سوال:نرنکارسے اسلام کی طرف میلان کب بڑھا؟

جواب: جب میں ممبئی میں تھا تو نرنکاری بننے کے بعد اسلامی جلسوں میں جانے کا اتفاق ہوا، ایک مرتبہ ایک جلسہ کے خطیب نے کہا: آسمانی دھرم کو ہی ماننا چاہئے، اس کتاب پر عقیدہ مضبوط ہونا چاہئے جو آسمان سے اللہ نے اتارا ہے۔ اور وہ قرآن ہے، میں چونک پڑا، پھر برابر مسلمانوں کے جلسوں میں جاتا رہا، میں نے کئی مسلمانوں سے وہ کتاب مانگی کہ میں اسے پڑھنا چاہتا ہوں، کتاب کی دکان پر بھی گیا، لیکن سب نے یہ کہا کہ تم ہندو ہو، اس لیے یہ مقدس کتاب تمہیں نہیں دے سکتے۔ اسی دوران میں سعودی عرب ڈرائیونگ پیشہ کے لیے پہونچا، یہاں چند ہی دن گزرے تھے کہ میرے ساتھ ایک حادثہ ہوا اور میری گاڑی سے ایک شخص کی موت ہوگئی، مجھے جیل کی سلاخوں کے پیچھے دھکیل دیا گیا، ڈیڑھ سال کی قید ہوئی تھی، جیل میں ہی تھا کہ رمضان کا مہینہ آگیا، لوگوں کو روزہ رکھتے ہوئے دیکھ کر دل میں ہلچل مچی ، کہ مجھے بھی روزہ رکھنا چاہیے، پھر میں نے تجربہ کے طور پہ روزہ رکھنا شروع کیا، دلی سکون ملا، اس طرح میں نے 27 روزے رکھے، لوگوں نے مجھے ٹوکا کہ تم نماز کیوں نہیں پڑھتے ، صرف روزہ کیوں رکھتے ہو؟ میں نے انہیں کسی طرح ٹال دیا، پھر جیل سے رہائی کے بعد اسلام کے بارے میں ریسرچ شروع کیا۔اور نرنکار سے نفرت کی ابتدا ءہوئی۔

سوال:نرنکار سے نفرت کی وجہ؟

جواب: اسلام کا مطالعہ جوں ہی شروع کیا ، نرنکار سے نفرت ہونے لگی کیونکہ دونوں نظریات کے ما بین بڑا فرق پایا، انسانوں (مرد و خواتین) کا جو احترام اور عزت اسلام میں نظر آیا ، ان کے یہاں بالکل نا پید ہے، ایک چیز سے مجھے سخت نفرت ہوئی کہ نوجوان لڑکے اور لڑکیاں ایک دوسرے کے پاوں پکڑیں کیونکہ دونوں کے بدن میں بھگوان ہے، یہ فلسفہ مجھے سمجھ میں نہیں آیا، مجھے لگا کہ یہ تو بے حیائی اور فحاشی کو فروغ دینے والا مذہب ہے، اللہ معاف کرے میں نے دیکھا کہ کھلنڈرے نوجوان لڑکے، لڑکیوں کے پاوں پکڑنے کی حد پار کرجاتے ہیں، ہم اللہ سے سلامتی اور عافیت کے طالب ہیں۔

سوال:اسلام کے بارے میں ریسرچ کے دوران کن چیزوں کا سامنا کرنا پڑا؟

جواب: سب سے پہلے میں نے قرآن مجید کا ہندی ترجمہ حاصل کیا، کچھ کیسٹیں خریدیں، پڑھنا اور سننا شروع کیا، عام مسلمانوں سے اسلام کے بارے میں جب کچھ پوچھتا تو وہ لوگ مجھے دھتکار دیتے ، کہتے تم ہندو ہو، خاموش رہو، میرے ساتھیوں نے میرے ساتھ بڑا برا سلوک کیا، ہندو سمجھ کر بھارت اور پاکستان کے مسلمانوں نے مجھے بہت دکھ دیے، میرے پینے کے برتن میں گندے پانی کی آمیزش کر دیتے، میرے بستر پر کوڑا ڈال دیتے، حقارت بھری نگاہوں سے مجھے گھورتے، میں نے صبر کا گھونٹ پی کر اسلام کی حقانیت کے بارے میں تحقیق جاری رکھی، اس دوران مجھے مدینہ منورہ کا ٹرپ ملنے لگا، مدینہ شہر کا نان مسلم روڈ(حدود حرم کے باہر ) میری گزرگاہ تھا۔ اسی روڈ سے متصل ایک اونچی پارکنگ تھی، اور وہاں سے مسجد نبوی کے منارے دکھائی دیتے تھے،وہیں اپنی گاڑی روکتا اور مناروں کو تکتے تکتے سوجاتا، پھر رات میں خواب نظر آتا کہ دو سفید پوش باریش بزرگ آئے اور میرا ہاتھ پکڑ کر کہتے ہیں کہ تم یہاں کیا کر رہے ہو؟ چلو میرے ساتھ چلو، اتنے میں میری نیند کھل جاتی ہے، یہ خواب اسی جگہ پر میں نے بارہ مرتبہ دیکھا۔

سوال:: اس خواب کا آپ کے دل پر کیا اثر ہوا؟

جواب: مدینہ منورہ سے محبت بڑھتی گئی، جب بھی میں مدینہ سے گزرتا تو ایک رات وہاں قیام ضرور کرتا، اسلام کی طرف میلان بڑھتا گیا، سیرت نبوی کا مطالعہ کیا، اس طرح تحقیق کے سات سال گزر چکے تھے، اسلام قبول کرنے کی ٹھانی، اور ریاض کے سُلَی اسلامک سینٹر میں پہنچ کر اپنے اسلام کا اعلان کیا۔

سوال:: ماشاءاللہ ، اسلام کی کون سی خصوصیت نے آپ کو سب سے زیادہ متاثر کیا؟

جواب: عقیدہ توحید نے سب سے زیادہ متاثر کیا، ہندو دھرم میں جب کسی چیز کی ضرورت پڑتی ہے تو اس کے لیے مخصوص بھگوان کو پکارا جاتا ہے، بارش کے لیے الگ خدا ہے تو دولت کے لیے الگ، من کی مراد پوری کرنے والا کوئی اور ہے، کچھ اسی طرح کے نظریات نرنکار میں بھی پائے جاتے ہیں، لیکن اسلام میں ہر چیز کے لیے صرف ایک ہی اللہ ہے، اسی سے سب کچھ مانگنا ہے، اسی سے لو لگاناہے، ہندووں میں کروڑوں دیوی دیوتاوں کی پوجانے مجھے ہندو مت سے بیزار کردیا تھا، ایک اللہ کی عبادت اور اسی پر ایمان ویقین کا مضبوط عقیدہ نے مجھے اسلام کا دیوانہ بنا دیا۔ دوسری چیز اسلام میں خواتین کاجو مقام و مرتبہ ہے، اتنا بلند ہے کہ دوسرے مذاہب میں اس کی مثال نہیں ملے گی، خواتین کے پردے کی حکمت نے بھی مجھے بہت متاثر کیا۔

سوال: قبول اسلام کے بعد خاندان کا کیا رد عمل رہا؟

جواب:ابتداء میں تو والدین اور بھائیوں نے وعدہ کیا کہ آپ گھر آئیں ، جیسا کہیں گے، ویسا کرنے کو ہم سب تیار ہیں، گھر جانے کے بعد سب کو اسلام کی دعوت دی، مگر سب اپنے وعدے سے مکر گئے ، گھر والوں نے میرے گرد گھیرا تنگ کردیا، مجھے نماز سے روکنے کے لیے اڑچنیں ڈالتے، ایک ہفتہ مسلسل کھڑے ہوکر نماز پڑھی، گھر والے میرے چاروں طرف کھڑے رہتے اور ڈراتے دھمکاتے، نماز کے وقت ہینڈ پمپ کا ہتھا نکال دیتے تھے تا کہ میں وضو نہ کرسکوں، میری جائے نماز غائب کردیتے، میں نے کھیتوں میں نماز پڑھنا جاری رکھااور پورے خاندان کو سمجھاتا رہا، مگرو ہ ہٹ دھرمی سے باز نہ آئے۔

سوال: آپ کی بیوی اور بچوں کا رد عمل کیا رہا؟

جواب: پہلے بیوی نے تو اسلام قبول کرنے کی حامی بھر لی، میں نے اسے اسلام کی ساری تعلیمات بتائیں،مگراچانک اسے نجانے کیا ہوا کہ وہ آج کل کر کے ٹالتی گئی، اور خاندان کی دوسری خواتین اسے اکساتی رہیں اور وہ میرے خلاف بغاوت کرتی گئی، بچے بھی میرے مخالف ہوگئے، میرا بڑا لڑکا جس کا نام کنہیا لال ورما تھا،اب محمد ابراہیم ہے، میرے ساتھ آیا، اور وہ اس وقت میڈیکل کی تعلیم حاصل کر رہا ہے، کچھ دنوں کے بعد جب خاندان والوں کو لگا کہ میں سب کو مسلمان بنا کے چھوڑونگا، تو میری بیوی اور والد صاحب نے کرایہ پر غنڈے لے کر مجھے جان سے مارنے کی سازش رچی، میں ساری زمین جائداد اور دولت چھوڑ کر خالی ہاتھ نکل پڑا، میرے بڑے بچے کے علاوہ کوئی اور ساتھ نہیں آیا۔

سوال: گھر چھوڑنے کے بعد آپ نے کیا کیا؟

جواب: چونکہ میں سعودی عرب میں برسر روزگار ہوں، وہاں سے سعودی عرب واپس آگیا۔ اور یہاں اپنے علاقے کے کچھ مخلص بھائیوں سے ملاقات ہوئی، انہوں نے حوصلہ دیا، میری شادی کرادی، اور سدھارتھ نگر کے ایک قصبہ میں بسا دیا، وجزاہم اللہ خیرا۔

سوال:اسلام نے اخوت اور بھائی چارے کا جو درس دیا ہے، اس سے کتنا متاثر ہوئے؟

جواب: مجھے کسی بھی دھرم میں اخوت اور بھائی چارے کا وہ درس نہیں ملا ، جو اسلام میں ملا،مگر حیرت اس وقت ہوئی جب اسلام کے پیروکاروں میں اسلام کا یہ درس عظیم مفقود ملا، مجھے نہیں لگتا کہ عام مسلمانوں کو دیکھ کر کوئی اسلام قبول کرے گا، مسلمانوں کو اپنی حالت میں تبدیلی لانی ہوگی، اخلاقی طور پہ اپنا کردار بلند کرنا ہوگا، تبھی اسلام کی نشر و اشاعت کا دائرہ مزیدوسیع ہوگا، مجھے اللہ کی ذات سے امید ہے کہ اسلام پوری رفتار کے ساتھ دنیا میں پھلتا پھو لتا رہے گا۔

بےباک
04-04-2012, 07:06 AM
بسم اللہ الرحمن الرحیم


مریم جمیلہ کی کہانی خود ان کی زبانی
یہودیت سے مسلمان ہونے تک ۔۔۔مارگريت ماركیوس سے مریم جمیلہ تک ۔۔

مریم جمیلہ (پیدائشی نام: مارگریٹ مارکس) معروف مصنفہ، صحافی، شاعرہ اور مضمون نگار ہیں جو 23 مئی 1934ء کو نیو یارک کے ایک یہودی خاندان میں پیدا ہوئی۔ جنوبی افریقہ کے شہر ڈربن سے شائع ہونے والے مسلم ڈائجسٹ کے لیے تحاریر لکھنے کے بعد انہوں نے 24 مئی 1961ء کو اسلام قبول کر لیا۔ جمیلہ اسلام کے حوالے سے دو درجن سے زائد کتب کی مصنفہ ہیں۔ وہ پاکستان کے سید ابو الاعلیٰ مودودی کی تعلیمات سے بے حد متاثر تھیں۔ اس لیے اسلام قبول کرنے کے بعد انہوں نے پاکستان میں سکونت اختیار کی۔

ان کے اسلام قبول کرنے کی وجہ مسلم ڈائجسٹ میں سید مودودی کا چھپنے والا مضمون حیات بعد الموت تھا جس کے بعد انہوں نے 5 دسمبر 1960ء کو سید ابو الاعلیٰ مودودی سے بذریعہ خط پہلا رابطہ کیا۔

مودودی اور جمیلہ کے درمیان خط و کتابت کا یہ سلسلہ 1962ء تک جاری رہا۔ ان خطوط کا موضوع اسلام اور مغرب ہوتا تھا۔ دونوں کے خطوط بعد ازاں مولانا مودودی اور مریم جمیلہ کی خط و کتابت نامی ایک کتاب کے ذریعے شائع کیے گئے۔
ان کا پہلا خط جو مولانا مودودی رحمة اللہ کو لکھا ،انگلش میں ہے یہاں پڑھیے
http://www.islamunveiled.org/eng/ebooks/maryamj/maryamj_1.htm
باقی خطوط یہاں پر دستیاب ہیں ،
http://www.islamunveiled.org/eng/ebooks/maryamj/maryamj.htm
1962ء میں وہ لاہور پہنچیں جہاں انہوں نے موددوی اور ان کے اہل خانہ سے ملاقات کی۔ بعد ازاں انہوں نے پاکستان میں ہی محمد یوسف خان نامی شخص سے شادی کی۔ اس زمانے کے کرشن نگر، لاہور (اب اسلام پورہ) کے جماعت اسلامی کے کونسلر یوسف خان کے ساتھ قرار پائی۔ اور یاد رکھیے مریم جمیلہ یوسف خان صاحب کی دوسری بیوی بنی ،

وہ محمد پکتھال کے ترجمہ قرآن اور محمد اسد کی یہودیت چھوڑ کر اسلام کی کہانی سے بے حد متاثر تھیں۔

وہ آج کل لاہور میں رہائش پذیر ہیں۔

مریم جمیلہ کی کہانی خود ان کی زبانی نیاز سواتی سرسید احمد خان اور ابوالکلام آزاد کے ماڈرن ازم سے تعلق کے بارے میں مریم جمیلہ کی کتاب ”اسلام اینڈ ماڈرن ازم“ کے دو مضامین کے تراجم جسارت میگزین میں شائع ہوچکے ہیں۔ یہ دونوں تراجم ایک انکشاف کے طور پر لیے گئے اور قارئین جسارت نے اپنی ای میلز کے ذریعے مطالبہ کیا کہ مریم جمیلہ کی زندگی، ان کے کام اور ان کے قبولِ اسلام کے متعلق معلومات فراہم کی جائیں۔ زیادہ بہتر سمجھا گیا کہ روایتی تعارف کے بجائے ان کے ایک ایسے دلچسپ اور ایمان افروز انٹرویو کا انتخاب کیا جائے جو تعارف کے ساتھ ان کی شخصیت کا بھی احاطہ کیے ہوئے ہو۔ زیرنظر انٹرویو اسی خواہش کا مظہر ہے۔ ....

....٭٭٭........ سوال:۔ اسلام کے بارے میں آپ کو کیسے دلچسپی پیدا ہوئی؟

مریم جمیلہ:۔ میرا سابقہ نام مارگریٹ مارکیوس ہے۔ مجھے بچپن ہی سے موسیقی سے گہرا شغف تھا، خاص طور پر کلاسیکل اوپیرا اور سم فونی ((Somphony بہت پسند تھے جو کہ مغرب میں اعلیٰ نفاست کا معیار سمجھے جاتے ہیں۔ اسکول میں موسیقی میرا پسندیدہ مضمون تھا اور میں نے ہمیشہ اس میں اچھے نمبر لیے۔ یہ محض اتفاق تھا کہ ایک مرتبہ میں نے ریڈیو پر عربی موسیقی سنی، یہ موسیقی مجھے بھاگئی۔ اس تجربے نے مجھے مزید عربی موسیقی سننے پر مجبور کردیا۔ میں نے اپنے والدین کو اُس وقت تک چین نہیں لینے دیا جب تک کہ میرے والد صاحب نے مجھے نیویارک سے عرب موسیقی کا ایک ذخیرہ نہ خرید کر دے دیا۔ میرے والدین، رشتے داروں اور پڑوسیوں کے لیے عربی اور عرب موسیقی اس قدر تکلیف دہ ثابت ہوئی کہ جب بھی میں عرب موسیقی سنتی تو یہ سب مطالبہ کرتے کہ میں اپنے کمرے کی کھڑکیاں اور دروازے بند کرلوں تاکہ وہ کم سے کم متاثر ہوں۔ 1961ءمیں اسلام قبول کرنے کے بعد نیویارک کی مسجد میںگھنٹوں بیٹھ کر مشہور مصری قاری عبدالباسط کی تلاوت کی ریکارڈنگ سنتی۔ ایک دن ہم مسجد میں مہمانِ خصوصی کے طور پر مدعو تھے۔ چھوٹے قد، دبلے جسم اور سادہ لباس میں ملبوس ایک سیاہ فام نوجوان نے اپنا تعارف زنجبار (افریقہ) کے ایک طالب علم کی حیثیت سے کروایا اور سورة رحمن کی تلاوت کی۔ میں نے اس قدر خوش الحان تلاوت نہیں سنی تھی، حتیٰ کہ قاری عبدالباسط کی بھی نہیں۔ اس افریقی نوجوان کی تلاوت سن کر مجھے ایسا لگا کہ شاید حضرت بلال ؓ کی آواز بھی اسی طرح کی ہوگی۔ اسلام میں میری دلچسپی کا آغاز دس سال کی عمر سے ہوتا ہے جب میں یہودیوں کے سنڈے اسکول میں پڑھ رہی تھی۔ مجھے یہودیوں اور عربو ں کے مابین تاریخی روابط سے بے انتہا دلچسپی پیدا ہوگئی۔ مجھے اپنی نصابی کتب کے ذریعے معلوم ہوا کہ حضرت ابراہیم ؑ عربوں اور یہودیوں کے جدِّامجد ہیں، میں نے یہ بھی پڑھا کہ کس طرح قرونِ وسطیٰ کے یورپ میں عیسائیوں کے ہاتھوں یہودیوں کی زندگی عذاب بنادی گئی، جب کہ مسلم اسپین میں یہودیوں کو خوش آمدید کہا گیا۔ یہ اسلامی ثقافت کی برتر سخاوت تھی جس کی بدولت عبرانی زبان و ثقافت اپنے اعلیٰ ترین معیار تک جاپہنچی۔ صہیونیت کی اصل فطرت سے ناواقف ہونے کی بناءپر میرے ذہن میں یہ معصومانہ خیال آیا تھا کہ یہودی فلسطین واپس پلٹ کر اپنے سامی بھائیوں(عربوں) سے اپنے ان تعلقات کو مضبوط کریں گے جو حضرت ابراہیم ؑ کے توسط سے دونوں کے درمیان موجود ہیں۔ اس کے ساتھ ہی مجھے اس بات کا بھی یقین تھا کہ یہودی اور عرب ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کے ذریعے مشرق وسطیٰ میں ثقافت کے ایک نئے عہد کا آغاز کریں گے۔ یہودیت کی تاریخ سے اپنی انتہائی دل چسپی کے باوجود میں سنڈے اسکول میں خوش نہ تھی۔ اس تاریخی مطالعہ کے دوران میری تمام تر ہمدردیاں یورپی یہودیوں کے ساتھ رہیں جنہیں نازی دور میں شدید مصائب سے گزرنا پڑا، مگر یہ دیکھ کر مجھے شدید ذہنی دھچکا لگا کہ میرے ناصرف ہم جماعت بلکہ ان کے والدین بھی اپنے مذہب کے بارے میں سنجیدہ نہیں۔ یہودی عبادت گاہ میں بچے اپنی مذہبی کتابوں میں مزاحیہ کہانیاں رکھ کر پڑھتے رہتے اور اپنی مذہبی رسوم پر ہنستے رہتے۔ سنڈے اسکول میں تعلیم کے دوران بچے اس قدر شور مچاتے کہ اساتذہ کے لیے انہیں نظم وضبط میں لانا اور تدریس جاری رکھنا بے حد مشکل ثابت ہوتا۔ دینی تعلیمات پر عمل کے سلسلے میں ہمارے گھر کا ماحول بھی کوئی خوش گوار نہ تھا۔ میری بڑی بہن سنڈے اسکول سے شدید نفرت کرتی تھی، حتیٰ کہ اتوار کے دن میری والدہ کے سخت الفاظ اور آنسوﺅں کے بعد ہی اسے بستر سے نکال کر اسکول بھیجنا ممکن ہوپاتا تھا۔ بالآخر میرے والدین نے تھک ہار کر اسے سنڈے اسکول چھوڑنے کی اجازت دے دی۔ یہودیوں کے انتہائی مقدس دنوں میں معبد میں جاکر عبادت کرنے یا یوم کپور کا روزہ رکھنے کے بجائے میں اور میری بڑی بہن اپنے خاندان کے ساتھ تفریح اور بہترین ہوٹلوں میں تقریبات سے لطف اندوز ہوتے۔ جب ہم دونوں نے والدین کو قائل کرلیا کہ سنڈے اسکول کی تعلیمی حالت ناگفتہ بہ ہے تو انہوں نے ہم دونوں کو ایک الحادی اور انسان پرست تنظیم کے تعلیمی ادارے میں داخل کرادیا جو ”ایتھیکل کلچر موومنٹ“ کہلاتی تھی۔ یہ تنظیم انیسویں صدی میں فیلکس ایلڈر نے قائم کی۔ یہودیت کی تعلیم حاصل کرتے ہوئے آہستہ آہستہ فیلکس اس بات کے قائل ہوتے گئے کہ اخلاقی تعلیمات اضافی اور انسان کی تخلیق کردہ ہیں۔ اس سلسلے میں روحانیت کے مکتبہ فکر اور مذاہب غیر ضروری ہیں۔ ان نتائج پر پہنچنے کے بعد فیلکس نے ایک ایسا مذہب تشکیل دیا جو جدید دنیا سے زبردست مطابقت رکھتا تھا۔ اس تحریک کے سنڈے اسکول میں، میں نے گیارہ سال کی عمر سے پندرہ سال کی عمر تک پڑھا۔ اس اسکول کے زیر سایہ میرے خیالات بھی اس نہج پر ڈھلتے چلے گئے اور میں تمام روایات اور مذاہب کو فضول سمجھنے لگی۔ اٹھارہ سال کی عمر میں، میں نے صہیونی نوجوانوں کی مقامی تنظیم ”میزراکی ہزائر“ میں شمولیت اختیار کرلی، مگر جب مجھے احساس ہوا کہ صہیونیت کی فطرت ہی وہ چیز ہے جس نے یہودیوں اور عربوں کے درمیان حائل خلیج کو ناقابل عبور بنادیا ہے تو یہ تنظیم میں نے ازخود بے اطمینانی کے ساتھ چھوڑ دی۔ بیس سال کی عمر میں، میں نے نیویارک یونیورسٹی میں دورانِ تعلیم ”اسلام میں یہودیت“ کو اختیاری مضمون کے طور پر لیا۔ میرے استاد پروفیسر ربی ابراہام کاش تھے جو شعبہ عبرانیات کے سربراہ بھی تھے۔ پروفیسر صاحب اپنے تمام یہودی طلبہ کو یہ بات ذہن نشین کروانے میں کوئی دقیقہ اٹھا نہیں رکھتے تھے کہ اسلام یہودیت سے اخذ شدہ ہے۔ ہماری درسی کتاب جو مذکورہ پروفیسر صاحب کی تصنیف تھی، اس میں یکے بعد دیگرے قرآنی آیات کو انتہائی جاں فشانی سے یہودی کتب سے اخذ کردہ ثابت کرنے کی کوشش کی جاتی۔ اس طرح پروفیسر صاحب کا حقیقی مقصد اسلام پر یہودیت کی برتری ثابت کرنا ہوتا تھا۔ مگر ہوا یوں کہ ان کی اس کوشش کے نتیجے میں، میں قرآن کی حقانیت کی قائل ہوتی چلی گئی۔ جلد ہی مجھے احساس ہوا کہ صہیونیت، یہودیت کا ایک نسلی اور قبائلی پہلو ہے۔ جدید سیکولر قوم پرستانہ صہیونیت میری نگاہوں میں اس وقت گر گئی جب مجھے علم ہوا کہ صہیونی قائدین میں شاید ہی کوئی ایک یہودیت کی تعلیمات پر عمل پیرا ہو، اور راسخ العقیدہ یہودی تو ان میں کوئی بھی نہیں۔ اس طرح روایتی یہودیت کو اسرائیل میں بھی شدید نفرت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ جب میں نے دیکھا کہ امریکہ کے تمام اہم یہودی رہنما صہیونیت کے نہ صرف حمایتی ہیں بلکہ وہ اسرائیل کے ہاتھوں فلسطینیوں پر ہونے والی زیادتیوں پر ذرا سا دکھ بھی محسوس نہیں کرتے تو میں نے قلبی طور پر اپنے آپ کو یہودی سمجھنا چھوڑ دیا۔ نومبر 1954ءکی ایک صبح پروفیسر کاش نے اپنے خطاب میں منطقی دلائل سے پُر نظریہ پیش کیا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی پیش کردہ توحید اور ان پر نازل شدہ خدائی قوانین ہی اعلیٰ اخلاقی اقدار کی بنیاد ہیں۔ اگر اخلاقیات کو انسانی ساختہ مانا جائے جیسا کہ اس تحریک اور دیگر اس طرح کے ملحدانہ فلسفوں کا ماننا ہے تو اخلاقیات کو محض ارادہ ¿ انسانی، فوری ضرورت، سہولت اور حالات کے مطابق تبدیل ہوجانا چاہیے۔ مگر اس سب کا نتیجہ انفرادی و اجتماعی زندگی میں ابتری اور تباہی کے سوا کچھ نہ ہوگا۔ عقیدہ آخرت پر یقین (جیسا کہ ربی تلمود پڑھاتے ہوئے بتاتے ہیں) کے بارے میں پروفیسر کاش نے کہا کہ یہ محض خوش کن خیال نہیں بلکہ ایک اخلاقی ضرورت بھی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جو شخص روزِ آخرت جواب دہی کا حقیقی احساس رکھتا ہی، دراصل وہ اپنی تمام زندگی، اس کی عارضی خوشیوں کی قربانی کے لیے تیار رہتا ہے۔ ایسا شخص مشکلات کو آسانی سے برداشت کرتا ہے اور ابدی جنت کے حصول کے لیے قربانیاں دیتا ہے۔ یہ پروفیسر کاش کی جماعت تھی جہاں میں ایک انتہائی غیر معمولی اور حد درجہ شوق رکھنے والی لڑکی زینیٹا سے ملی۔ پہلی مرتبہ جب میں پروفیسر کاش کے کمرہ جماعت میں داخل ہوئی تو میں نے دو عدد خالی کرسیاں پائیں، ان میں سے ایک کرسی پر یوسف علی کے ترجمہ و تفسیر کی تین عدد خوب صورت جلدیں رکھی ہوئی تھیں۔ میں بھی وہیں بیٹھ گئی۔ میرے دل میں اس تفسیر کے مالک کے بارے میں تجسس کا شعلہ بھڑک اٹھا۔ پروفیسر کاش کی آمد سے تھوڑی دیر قبل طویل قد، سفید رنگت اور سرخی مائل بھورے بالوں والی ایک لڑکی میرے برابر والی نشست پر بیٹھ گئی۔ میں نے سوچا یہ ترکی، شام وغیرہ سے آنے والی کوئی غیر ملکی لڑکی ہوگی۔ زیادہ تر طلبہ جو راسخ العقیدہ یہودی سیاہ ٹوپی پہنے ایسے لڑکے تھے جو یہودی ربی بننا چاہتے تھے۔کمرہ جماعت میں صرف ہم دو لڑکیاں تھیں۔ ایک دن جب ہم کافی دیر کے بعد دارالمطالعہ سے باہر نکل رہے تھے تو اس نے اپنا تعارف کراتے ہوئے بتایا کہ اس کا تعلق ایک راسخ العقیدہ یہودی خاندان سے ہے۔ اس کے والدین 1917ءکے اشتراکی انقلاب سے چند سال قبل روس سے فرار ہوکر امریکہ پہنچے۔ میں نے محسوس کیا کہ میری نئی دوست غیر ملکیوں کی طرح انتہائی نپے تلے انداز میں انگریزی بولتی ہی، میرے اندازوں کی تصدیق اس نے یہ بتاکر کی کہ اس کے خاندان کے افراد اور دوست احباب آپس میں صرف ییڈش (جرمن یہودیوں کی زبان) میں گفتگو کرتے ہیں۔ اس لیے وہ اسکول جاکر ہی انگریزی سے واقف ہوئی۔ اس نے مجھے بتایا کہ اس کا نام زینیٹا لیبرمین تھا مگر حال ہی میں، زیادہ سے زیادہ امریکی بننے کے لیی، اس کے والدین نے اپنے خاندانی نام کو مختصر کرکے لیبرمین کے بجائے لین کردیا ہے۔ اس کے باوجود کہ اس کے والد نے ہمیشہ اسے عبرانی کی تعلیم دی، زینیٹا نے اپنا زیادہ تر وقت عربی پڑھنے میں لگادیا۔ بہرحال، بغیر کسی پیشگی اطلاع کے زینیٹا نے کلاس چھوڑ دی اور نصاب کے اختتام تک کبھی پلٹ کر واپس نہ آئی۔ کئی مہینے گزر گئے اور میں اسے بھول چکی تھی کہ اچانک مجھے اس کا پیغام ملا جس میں اس نے مجھ سے میٹرو پولیٹن میوزیم میں ملنے اور عربی خطاطی اور قرآن کے قدیم قلمی نسخوں کی نمائش میں شریک ہونے کی درخواست کی۔ اس نمائش کو دیکھتے ہوئے زینیٹا نے مجھے بتایا کہ وہ اپنے دو فلسطینی دوستوں کے سامنے اسلام قبول کرچکی ہے۔ میں نے پوچھا ”تم نے اسلام قبول کرنے کا فیصلہ کیسے کرلیا؟“ اس نے بتایا کہ گردے میں انفیکشن کی وجہ سے اس نے پروفیسر کاش کی کلاس ترک کردی تھی۔ زینیٹا کی حالت اس قدر دگرگوں تھی کہ اس کے والدین اس کی زندگی سے مایوس ہوچکے تھے۔ ”ایک دن جب میں بخار سے جل رہی تھی کہ مجھے اپنے برابر والے بستر کے سرہانے قرآن مجید ملا، میں نے اسے پڑھنا شروع کردیا۔ قرآنی آیات نے میرے دل کو اتنا متاثر کیا کہ میں رونے لگی۔ اسی لمحے مجھے اندازہ ہوا کہ شاید میں ٹھیک ہوجاﺅں گی۔ اس وقت میرے اندر اتنی ہمت پیدا ہوگئی کہ میں نے بستر سے اتر کر اپنے دو مسلم دوستوں کو بلایا اور کلمہٴ شہادت پڑھ لیا۔“ زینیٹا اور میں شامی ریستورانوں میں کھانا کھانے لگے۔ جب بھی ہمارے پاس رقم ہوتی ہم اس ریستوران میں آ کر بھنے ہوئے دنبے کے گوشت اور چاول یا دیگر عرب کھانوں سے لطف اندوز ہوتے۔ جب پروفیسر کاش ہمیں پڑھا رہے ہوتی، تو میں اپنے ذہن میں ”عہدنامہ قدیم“ اور ”تلمود“ کا قرآنی آیات اور احادیث سے تقابل کرتی تو یہودیت کو مسخ شدہ پاتی، نتیجتاً میں نے اسلام قبول کرلیا۔ سوال:۔ آپ کو کبھی یہ خدشہ محسوس ہوا کہ مسلمانوں میں آپ کو قبول نہیں کیا جائے گا؟ مریم جمیلہ:۔ اسلام اور اسلامی نظریات کے لیے میری بڑھتی ہوئی ہمدردی نے میرے اردگرد موجود یہودیوں کو مشتعل کردیا۔ ان کا خیال تھا کہ میں انہیں گمراہ کررہی ہوں۔ وہ مجھے کہا کرتے تھے کہ تمہاری یہ شہرت تمہارے آباو اجداد کے لیے شرم کا باعث اور تمہارے خاندان کے لیے نفرت کا سبب بنے گی۔ انہوں نے مجھے کہا کہ اگر تم نے اسلام قبول کرنے کی کوشش کی تو تمہیں مسلمانوں کے ہاں کبھی قبول نہیں کیا جائے گا۔ یہ خدشات میرے قبولِ اسلام کے بعد یکسر بے بنیاد ثابت ہوئے کیونکہ کسی مسلمان کی طرف سے مجھے میری یہودی وراثت سے کبھی وابستہ نہیں کیا گیا۔ قبولیت ِاسلام کے فوراً بعد مجھے اسلامی برادری نے انتہائی جوش و خروش سے خوش آمدید کہا۔ سوال:۔ آپ کے خاندان نے اسلام کے مطالعے پر اعتراض نہیں کیا؟ مریم جمیلہ:۔ میں 1954ءہی سے اسلام قبول کرنا چاہتی تھی مگر میرے خاندان نے مجھے اس سے باز رکھا۔ مجھے تنبیہ کی گئی کہ اسلام میری زندگی کو الجھاکر رکھ دے گا۔ کیوں کہ اسلام عیسائیت اور یہودیت کی طرح امریکی منظرنامے کا حصہ نہیں، مزید یہ کہ اسلام مجھے اپنے خاندان اور برادری سے الگ تھلگ کردے گا۔ اُس وقت میرا عقیدہ اس قدر پختہ نہ تھا کہ میں یہ دباﺅ برداشت کرسکتی۔ بہرحال کچھ دیگر وجوہات اور کچھ اندرونی کش مکش کے نتیجے میں، میں اس قدر بیمار ہوگئی کہ مجھے کالج کو خیرباد کہنا پڑا۔ اگلے دو سال تک میں اپنے گھر میں زیر علاج رہی اور میری حالت خراب ہوتی چلی گئی۔ 1957ءسے 1959ءتک، انتہائی مایوسی کے عالم میں میرے والدین مختلف نجی اور حکومتی ہسپتالوں میں میرا علاج کرواتے رہی، جہاں میں نے یہ تہیہ کرلیا کہ اگر صحت یاب ہوگئی تو اسلام قبول کرلوں گی۔ جیسے ہی میں صحت یاب ہوکر گھر پہنچی، میں نے نیویارک کے مسلمانوں سے ملنے کی ہر ممکن کوشش کی۔ خوش قسمتی سے میری ملاقات چند بہترین مسلم خواتین و حضرات سے ہوئی اور میں نے مسلم جریدوں میں مضامین و مقالات تحریر کرنا شروع کردیے۔ سوال:۔ اسلام قبول کرنے کے بعد آپ کے والدین اور دوستوں کا کیا رویہ رہا؟ مریم جمیلہ:۔ میں نے اسلام قبول کیا تو میرے والدین، رشتے داروں اور دوستوں نے اسے جنون سمجھا، کیوں کہ میں اسلام کے علاوہ کسی موضوع پر بات کرنے اور سوچنے کو تیار نہ تھی۔ لیکن تبدیلیٴ مذہب ان کے خیال میں خالصتاً ذاتی معاملہ تھا۔ اسے وہ ایک ایسا معاملہ سمجھتے تھے جسے مشغلے کے طور پر اختیار کیا جاسکتا ہے۔ مگر جیسے جیسے میں نے قرآن کا مطالعہ کیا یہ بات عیاں ہوتی گئی کہ اسلام کوئی مشغلہ نہیں بلکہ خود ایک زندگی ہے۔ سوال:۔ قرآن آپ کی زندگی پر کس طرح اثرانداز ہوا؟ مریم جمیلہ:۔ ایک شام میں جب عجیب سی اکتاہٹ اور بے خوابی محسوس کررہی تھی تو میری والدہ نے میرے کمرے میں داخل ہوکر پوچھا کہ وہ لائبریری جارہی ہیں اگر مجھے کوئی کتاب منگوانی ہو تو بتادوں۔ میں نے کہا کہ قرآن مجید کا انگریزی ترجمہ تلاش کریں، اگر مل جائے تو لے آئیں۔ ذرا سوچیں! مجھے کئی سال سے عربوں کے بارے میں جاننے کا جنون کی حد تک شوق تھا اور میں نے کتب خانے میں موجود عربوں سے متعلق ہر کتاب پڑھ ڈالی تھی، مگر یہ سوچا تک نہ تھا کہ قرآن مجید میں کیا لکھا ہے۔ بہرحال میری والدہ میرے لیے قرآن مجید کا انگریزی ترجمہ لے آئیں۔ قرآن کے لیے میں اس قدر بے چین تھی کہ میں نے یہ نسخہ ان کے ہاتھ سے تقریباً جھپٹ لیا اور اسے ایک رات میں ختم کرلیا۔ قرآن میں مجھے وہ قصص بھی ملے جو میں بچپن سے بائبل میں پڑھ چکی تھی۔ اپنی آٹھ سالہ ابتدائی مدرسے اور چار سالہ ثانوی مدرسے کی تعلیم اور ایک سالہ کالج کے زمانہ طالب علمی کے دوران میں نے انگریزی قواعد و انشائ، فرانسیسی، ہسپانوی، لاطینی، یونانی، حساب، جیومیٹری، الجبرا، یورپی و امریکی تاریخ، ابتدائی سائنس، حیاتیات، موسیقی اور فنون لطیفہ غرض کیا کیا نہیں پڑھا.... مگر نہیں پڑھا تو خدا کے متعلق کچھ نہ پڑھا۔ آپ تصور کرسکتے ہیں کہ میں اس معاملے میں کس قدر لاعلم تھی کہ میں نے پاکستان میں اپنی ایک قلمی دوست کو لکھا کہ میں اس لیے ملحدانہ خیالات رکھتی ہوں کہ میں اس بات پر یقین نہیں لاسکتی کہ خدا ایک باریش اور بزرگ آدمی ہے جو جنت میں اپنے تخت پر بیٹھا ہے۔ جب دوست نے پوچھا کہ یہ فضول معلومات تمہیں کہاں سے حاصل ہوئیں؟ تو میں نے سسٹین چیپل اول کا حوالہ دیا جو میں نے مائیکل اینجلو کے رسالی”لائف“ میں ”تخلیق“ اور ”حقیقی گناہ“ کے ضمن میں پڑھا تھا، لیکن جب میں نے قرآن پڑھا تو معلوم ہوا (یہاں دونوں حوالوں کا اردو ترجمہ لگائیں)۔ قرآن کا مطالعہ کرنے کے بعد جو سب سے پہلا خیال میرے ذہن میں آیا وہ یہ تھا کہ یہ سچا دین ہی.... مکمل طور پر خالص.... جو گھٹیا مصلحتوں اور منافقت سے بالاتر ہے۔ 1959ءکا سال میں نے اپنا بیشتر فارغ وقت نیویارک پبلک لائبریری میں اسلام کے بارے میں پڑھتے ہوئے گزارا۔ وہیں میں نے مشکوٰة المصابیح کی چار بھاری جلدوں کا مطالعہ کیا۔ اس مطالعے کے نتیجے میں، میں نے جانا کہ قرآن کا حقیقی و تفصیلی مطالعہ متعلقہ حدیث کے جانے بغیر ناممکن ہے۔ قرآنِ مقدس کی تشریح آقاصلی اللہ علیہ وسلم کے بغیر کیسے کی جاسکتی ہے جب کہ قرآن نازل ہی آپ پر ہوا۔ جب مشکوٰة کا مطالعہ کیا تو میں نے مانا کہ قرآن ایک الہامی کلام ہے۔ اگر پوچھا جائے کہ مجھے یہ یقین کیسے ہوا کہ قرآن اللہ کا نازل کردہ ہے نہ کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا تحریر کردہ (نعوذباللہ) تو میں کہوں گی کہ کائنات کے بنیادی سوالات کے بارے میں اس کے اطمینان بخش جوابات سے۔ یہ جوابات مجھے کہیں اور سے کبھی نہ مل سکے۔ بچپن میں، میں ہمیشہ موت سے خوف زدہ رہتی تھی، خاص طور پر اپنی موت کے بارے میں۔ موت سے متعلق ڈراﺅنے خواب دیکھنے کے بعد کبھی کبھی میں اپنے والدین کو چیختے ہوئے جگا دیتی اور ان سے پوچھتی کہ میں کیوں مروں گی اور مرنے کے بعد کیا ہوگا؟ وہ محض یہی بتاتے کہ موت ناگزیر ہے اور تمہیں اس کو قبول کرنا ہوا۔ مگر یہ صبر آزما سوال ہے۔ طبی علوم اس قدر حیرت انگیز طور پر ترقی یافتہ ہوچکے ہیں کہ ہوسکتا ہے میں سو سال کی عمر تک زندہ رہوں! میرے والدین، خاندان، ہمارے تمام دوست احباب موت کے بعد زندگی کو محض وہم سمجھ کر ٹھکرا چکے ہیں۔ ان کے خیال میں روزِ قیامت اور جنت و دوزخ کی جزا و سزا دور گزشتہ کے تصورات ہیں۔ اپنی لاحاصل کوشش کے دوران میں نے ”عہدنامہ قدیم“ کے تمام اسباق کا مطالعہ کیا تاکہ حیات بعدالممات کا کوئی واضح جواب پاسکوں، مگر ندارد۔ بائبل میں مذکورہ تمام انبیاءعلیہم السلام کو جزا وسزا اسی دنیا میں ملی۔ خاص طور پر حضرت ایوب علیہ السلام کے قصے میں معلوم ہوتا ہے کہ ان کی جائداد اور پیارے سب مشیت ِالٰہی سے تباہ ہوگئے اور خود انہیں اذیت ناک بیماری لاحق ہوئی تاکہ ان کے ایمان کی آزمائش کی جائے۔ حضرت ایوب ؑ (بائبل کے مطابق) سخت تکلیف میں خدا سے سوال کرتے ہیں کہ آخر ایک صالح شخص کو اتنی تکلیف اور صعوبت سے کیوں گزارا گیا؟ بالآخر خدا، ایوب ؑ کے تمام نقصانات کا ازالہ کردیتا ہی، مگر پورے قصے میں آخرت میں جزا کا خانہ مکمل طور پر غائب ہے۔ بہرحال حیات بعدالممات کے متعلق میں جو کچھ بائبل کی”عہد نامہ جدید“ میں پاسکی وہ قرآن میں اس موضوع پر موجود آیات کے مقابلے میں ایک مبہم اور الجھا دینے والا مواد تھا۔ مجھے یہودیت کی روایتی اور راسخ العقیدہ تعلیمات میں بھی حیات بعد الممات کے متعلق کوئی مواد نہ مل سکا بلکہ اس کے برعکس تلمود کی تعلیمات کے مطابق بدترین زندگی کو بھی موت کے مقابلے میں بہتر کہا گیا۔ میرے والدین کے فلسفے کے مطابق ہر شخص کو موت کے سوال سے بچتے ہوئے زندگی سے زیادہ سے زیادہ لطف اندوز ہونا چاہیے کیونکہ زندگی کا دورانیہ مختصر ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ زندگی کا مقصد خوشیوں کا زیادہ سے زیادہ حصول ہی، اور یہ مقصد اپنی صلاحیت کے زیادہ سے زیادہ اظہار، اپنے خاندان سے محبت، بہترین دوستوں کے ساتھ، بہترین معیار زندگی اور مختلف قسم کی تفریحات سے حاصل ہوتا ہے جن سے امریکہ بھرا پڑا ہے۔ میرے والدین زندگی کے بارے میں اپنی اس سطحی سوچ کا مسلسل اور دانستہ اظہار کرتے رہتے تھی، گویا یہ نظریہ اُن کے نزدیک ان کے بہترین مستقبل اور ابدی خوشیوں کی ضمانت تھا۔ زندگی کے تلخ تجربے کے ذریعے مجھے معلوم ہوا کہ عیش و عشرت کا طرزعمل درماندگی اور خستہ حالی کی طرف لے جاتا ہے۔ اس کے بجائے تکمیل ذات کا مقصد بغیر جدوجہد اور قربانی کے ناقابلِ حصول ہے۔ بچپن ہی سے میں اہم اور نمایاں ترین اہداف کو سامنے رکھتی تھی اور اپنی موت سے قبل بھی میں صرف یہ اطمینان اور ضمانت چاہوں گی کہ میں نے اپنی زندگی گناہوں اور فضول مقاصد کے حصول میں ضائع نہیں کی۔ میں نے اپنی پوری زندگی انتہائی سنجیدگی سے بسر کی ہے۔ غیرسنجیدگی اور سطحیت جو جدید دور کی ثقافت کا خاصہ ہی، میرے لیے ہمیشہ ناپسندیدہ اور قابلِ نفرت رہی ہے۔ ایک مرتبہ میرے والد نے اپنے غیر تسلی بخش دلائل کے ذریعے مجھے اس بات پر قائل کرنے کی کوشش کی کہ دنیا میں دیرپا اور دائمی اقدار نام کی کوئی چیز نہیں، اور جدید دور کے تمام لوگ نئے رجحانات کو لازمی سمجھ کر قبول کرچکے ہیں، لہٰذا ہمیں بھی انہی کے مطابق ڈھل جانا چاہیے۔ میں تو بہرحال دائمی اور ابدی اہمیت کے حامل مقاصد اور خوشیوں کی پیاسی رہی ہوں۔ یہ صرف قرآن ہے جہاں سے مجھے اس مقصد کا حصول ممکن نظر آیا۔ ہر وہ صالح عمل جو رب کی خوشنودی کے لیے کیا جائے کبھی ضائع نہیں ہوسکتا۔ ایسا شخص جو دکھاوے کا طلب گار نہ ہو، اس کا صلہ آخرت میں محفوظ کردیا گیا ہے۔ اس کے برعکس قرآن بتاتا ہے کہ جو لوگ محض دنیاوی فائدے کے حصول، نمود و نمائش اور آزادی کی خواہش سے ہٹ کر کوئی اخلاقی مقصد سامنے نہیں رکھتے وہ روزِ جزا خسارہ پانے والوں میں سے ہوں گے خواہ انہوں نے اپنی دنیاوی زندگی میں کتنی ہی کامیابیاں کیوں نہ حاصل کرلی ہوں۔ اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ ہمیں حقوق اللہ اور حقوق العباد کی ادائیگی کی طرف اپنی توجہ مبذول کرلینی چاہیے اور ایسی تمام بے مقصد سرگرمیوں کو ترک کردینا چاہیے جو اس مقصد کی راہ میں رکاوٹ ثابت ہوں۔ قرآن مجید کی یہ تعلیمات جن کی موثر وضاحت احادیث مبارکہ کے ذریعے ہوتی ہی، میرے مزاج سے مماثلت رکھتی ہیں۔ سوال:۔ اسلام قبول کرنے کے بعد عربوں کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہی؟ مریم جمیلہ:۔ ماہ وسال گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ حقیقت درجہ بدرجہ مجھ پر منکشف ہوتی گئی کہ یہ عرب نہ تھے جنہوں نے اسلام کو عظمت بخشی بلکہ یہ اسلام ہی تھا جس نے عربوں کو عظمت اور وقار عطا کیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس بارے مریم جمیلہ کہ مکمل کہانی روزنامہ امت سے نقل کی جائے گی ،انشاءاللہ

بےباک
04-04-2012, 07:40 AM
http://2.bp.blogspot.com/-kqqrQlewSRs/T1yKS2zmEcI/AAAAAAAABEM/Kt2sLS6g1yw/s1600/-----323123.jpg
بلبیرسنگھ: سابق صدر، شیو سینا یوتھ ونگ سےماسٹر محمد عامر کے
مسلمان ہونے کی کہانی خود اُن کی زبانی

محمد عامر صاحب ایم اے (انگلش ، ھسٹری اور پولیٹیکل سائینس ) کا مکمل انٹرویو
http://1.bp.blogspot.com/_GGXwINIk4Zg/TRL4tTW37pI/AAAAAAAAAEY/bTpiQ5xey18/s1600/balbir-akhbar.jpg
میرا تعلق صوبہ ہریانہ کے پانی پت ضلع کے ایک گاﺅں سے ہے میری پیدائش ۶(چھ) دسمبر ۱۹۷۰ءکو ایک راجپوت گھرانے میں ہوئی، میرے والد صاحب ایک اچھے کسان ہونے کے ساتھ ساتھ ایک پرائمری اسکول میں ہیڈ ماسٹر تھے، وہ بہت اچھے انسان تھے اور انسانیت دوستی ان کا مذہب تھا، کسی پر بھی کسی طرح کے ظلم سے انہیں سخت چڑ تھی ۱۹۴۷ءکے فسادات انہوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھے تھے وہ بہت کرب کے ساتھ ان کا ذکر کرتے اور مسلمانوں کے قتل عام کو ملک پر بڑا داغ سمجھتے تھے بچے کھچے مسلمانوں کو بسانے میں وہ بہت مدد کرتے تھے، اپنے اسکول میں مسلمان بچوں کی تعلیم کا وہ خاص خیال رکھتے تھے، میراپیدائشی نام بلبیر سنگھ تھا اپنے گاﺅں کے اسکول سے میں نے ہائی اسکول کر کے انٹرمیڈیٹ میں پانی پت میں داخلہ لیا، پانی پت شاید بمبئی کے بعد شیوسینا کا سب سے مضبوط گڑھ ہے، خاص طور پر جو ان طبقہ اور اسکول کے لوگ شیوسینا میں بہت لگے ہوئے ہیں، وہاں میری دوستی کچھ شیوسینکوں سے ہوگئی اور میں نے بھی پانی پت شاکھا میں نام لکھا لیا، پانی پت کے اتہاس (تاریخ) کے حوالے سے وہاں نوجوانوں میں، مسلمانوں خاص طور پر بابر اور دوسرے مسلمان بادشاہوں کے خلاف بڑی نفرت گھولی جاتی تھی، میرے والد صاحب کو جب میرے بارے میں معلوم ہوا کہ میں شیو سینا میں شامل ہوگیا ہوں تو انہوں نے مجھے بہت سمجھایا، انہوں نے مجھے اتہاس کے حوالے سے سمجھانے کی کوشش کی، انہوں نے بابر خاص طور پر اورنگ زیب کی حکومت کے انصاف اور غیر مسلموں کے ساتھ ان کے عمدہ سلوک کے قصے سنائے اور مجھے بتانے کی کوشش کی کہ انگریزوں نے غلط تاریخ ہمیں لڑانے کے لئے اور دیش کو کمزور کرنے کے لئے گھڑ کر تیار کی ہے، انہوں نے ۱۹۴۷ءکے ظلم اور قتل غارت گری کے قصوں کے حوالے سے مجھے شیوسینا سے باز رکھنے کی کوشش کی، مگر میری سمجھ میں کچھ نہ آیا۔

پھر اسی دوران ۱۹۹۰ءمیں ایڈوانی جی کی رتھ یاترا میںمجھے پانی پت کے پروگرام کی خاصی بڑی ذمہ داری سونپی گئی رتھ یاترا میں ان ذمہ داروں نے ہمارے روئیں روئیں میں مسلم نفرت کی آگ بھر دی میں نے شیواجی کی سوگندھ کھا ئی کہ کوئی کچھ بھی کرے میں خود ا کیلے جاکر رام مندر پر سے اس ظالمانہ ڈھانچہ کو مسمار کروں گا، اس یاترا میں میری کارکردگی کی وجہ سے مجھے شیو سینا کے یوتہ ونگ کا صدر بنا دیا گیا، میں اپنی نوجوان ٹیم کو لے کر ۳ اکتوبر کو ایودھیا گیا، راستہ میں ہمیں پولس نے فیض آباد میں روک دیا،میں اور کچھ ساتھی کسی طرح بچ بچا کر پھر بھی ایودھیا پہنچے، مگر پہنچنے میں دیر ہو گئی اور اس سے پہلے گولی چل چکی تھی اور بہت کوشش کے با وجود میں بابری مسجد کے پاس نہ پہنچ سکا میری نفرت کی آگ اس سے اور بھڑکی میں اپنے ساتھیوں سے بار بار کہتا تھا اس جیون سے مر جانا بہتر ہے رام کے دیش میں عرب لٹیروں کی وجہ سے رام کے بھگتوں پر رام جنم بھومی پر گولی چلا دی جائے، یہ کیسا انیائے اور ظلم ہے، مجھے بہت غصہ تھا، کبھی خیال ہوتا تھا کہ خود کشی کر لوں کبھی دل میں آتا تھا کہ لکھنو_ جا کر ملائم سنگھ کو اپنے ہاتھ سے گولی مار دوں، ملک میں فسادات چلتے رہے اور میں اس دن کی وجہ سے بے چین تھا کہ مجھے موقعہ ملے اور میں بابری مسجد کو اپنے ہاتھوں مسمار کروں۔ایک ایک دن کر کے وہ منحوس دن قریب آیا جسے میں اس وقت کاخوشی کا دن سمجھتا تھا میں اپنے کچھ جذباتی ساتھیوں کے ساتھ ایک دسمبر ۱۹۹۲ ءکو پہلے ایودھیا پہنچا میرے ساتھ سونی پت کے پاس ایک جاٹوں کے گاوں کا ایک نوجوان یوگیندر پال بھی تھا جو میرا سب سے قریبی دوست تھا،اس کے والد ایک بڑے زمیندار تھے اور وہ بھی بڑے انسان دوست آدمی تھے، انہوں نے اپنے اکلوتے بیٹے کو ایودھیا جانے سے بہت روکا اس کے تاو بھی بہت بگڑے مگر وہ نہیں رکا۔ہم لوگ چھ دسمبر سے پہلے کی رات میں بابری مسجد کے بالکل قریب پہنچ گئے اور ہم نے بابری مسجد کے سامنے کچھ مسلمانوں کے گھروں کی چھتوں پر رات گزاری، مجھے با ر بار خیال ہوتا تھا کہ کہیں ۳ اکتوبر کی طرح آج بھی ہم اس شبھ کام سے محروم نہ رہ جائیں، کئی بار خیال آیا کہ لیڈر نہ جانے کیا کریں، ہمیں خود جاکر کارسیوا شروع کرنی چاہیئے، مگر ہمارے سنچالک نے ہمیں روکا اور ڈسیپلن بنائے رکھنے کو کہا، اوما بھارتی نے بھاشن دیا اور کارسیوکوں میں آگ بھر دی میں بھاشن سنتے سنتے مکان کی چھت سے اتر کر کدال لے کر بابری مسجد کی چھت پر چڑھ گیا، یوگیندر بھی میرے ساتھ تھا، جیسے ہی اوما بھارتی نے نعرہ لگایا، ایک دھکا اور دو، بابری مسجد توڑ دو، بس میری مرادوں کے پورا ہونے کا وقت آگیا اور میں نے بیچ والے گنبد پر کدال چلائی اور بھگوان رام کی جے کے زور زور سے نعرے لگائے، دیکھتے دیکھتے مسجد مسمار ہوگئی، مسجد کے گرنے سے پہلے ہم لوگ نیچے اتر آئے، ہم لوگ بڑے خوش تھے رام للا کے لگائے جانے کے بعد اس کے سامنے ماتھا ٹیک کر ہم لوگ خوشی سے گھر آئے اور بابری مسجد کی دو دو اینٹیں اپنے ساتھ لائے، جو میں نے خوشی خوشی پانی پت کے ساتھیوں کو دکھائیں، وہ لوگ میری پیٹھ ٹھونکتے تھے، شیو سینا کے دفتر میں وہ اینٹیں رکھ دی گئیں اور ایک جلسہ کیا گیا اور سب لوگوں نے بھاشن میں فخر سے میرا ذکر کیا کہ ہمیں گرَو (فخر)ہے کہ پانی پت کے نوجوان شیوسینک نے سب سے پہلے رام بھکتی میں کدال چلائی، میں نے گھر بھی خوشی سے جاکر بتایا میرے پتا جی بہت ناراض ہوئے اور انھوں نے گہرے دکھ کا اظہار کیا اور مجھ سے صاف کہہ دیا کہ” اب اس گھر میں تو اور میں دونوں نہیں رہ سکتے، اگر تو رہے گا تو میں گھر چھوڑ کر چلاجاﺅں گا نہیں تو تو ہمارے گھر سے چلاجا، مالک کے گھر کے ڈھانے والے کی میں صورت دیکھنا نہیں چاہتا، میری موت تک تو مجھے کبھی صورت نہ دکھانا “مجھے اس کا اندازہ نہیں تھا، میں نے ان کو سمجھانے کی کوشش کی اور پانی پت میں جو سماّن (عزت) مجھے اس کارنامہ پر ملا وہ بتانے کی کوشش کی انھوں نے کہا کہ یہ دیش ایسے ظالموں کی وجہ سے برباد ہوجائے گا اور غصہ میں گھر سے جانے لگے، میں نے موقع کو بھانپا اور کہا آپ گھر سے نہ جائیے میں خود اس گھر میں رہنا نہیں چاہتا جہاں رام مندر بھگت کو ظالم سمجھا جاتا ہو اور میں گھر چھوڑ کر آگیا اور پانی پت میں رہنے لگا ۔

میرے اللہ کیسے کریم ہیں کہ ظلم اور شرک کے اندھیرے سے مجھے، نہ چاہتے ہوئے، اسلام کے نور اور ہدایت سے مالا مال کیا، مجھ جیسے ظالم کو جس نے اس کا مقدس گھر شہید کیا ہدایت سے نوازا، ہوا یہ کہ میرے دوست یوگیندر نے بابری مسجد کی اینٹیں لاکر رکھیں اور مائک سے اعلان کیا کہ رام مندر پر بنے ظالمانہ ڈھانچہ کی اینٹیں سوبھاگیہ(خوش قسمتی ) سے ہماری تقدیر میں آگئی ہیں سب ہندو بھائی آکر ان پر (موت دان ) پیشاب کریں، پھر کےا تھا،بھیڑلگ گئی، ہر کوئی آتا تھا اور ان اینٹوں پر حقارت سے پیشاب کرتا تھا مسجد کے مالک کو اپنی شان بھی دکھانی تھی چار پانچ روز کے بعد یوگیندر کا دماغ خراب ہوگیا، پاگل ہوکر وہ ننگا رہنے لگا، سارے کپڑے اتاراتھا، وہ عزت والے زمیندار چودھری کا اکلوتا بیٹا تھا، اس پاگل پن میں وہ بار بار اپنی ماں کے کپڑے اتار کر اس سے منھ کالا کر نے کو کہتا، بار بار اس گندے جذبہ سے اس کو لپٹ جاتا اس کے والد بہت پریشان ہوئے بہت سے سیانے اور مولانا لوگوں کو دکھایا، بار بار مالک سے معافی مانگتے، دان کرتے، مگر اس کی حالت اور بگڑتی تھی، ایک روز وہ باہر گئے تو اس نے اپنی ماں کے ساتھ گندی حرکت کرنی چاہی، اس نے شور مچایا دیا، محلہ والے آئے، تو جان بچی، اس کو زنجیر میں میں باند ھ دیا گیا، یوگیندر کے والد عزت والے آدمی تھے، انھوں نے اس کو گولی مارنے کا اراد ہ کرلیاکسی نے بتایا کہ یہاں سونی پت میں عیدگاہ میں ایک مدرسہ ہے وہاں بڑے مولانا صاحب آتے ہیں، آپ ایک دفعہ ان سے اور مل لیں، اگر وہاں کوئی حل نہ ہو تو پھر جو چاہے کرنا، وہ سونی پت گئے تو معلوم ہوا کہ مولانا صاحب تو یہاں پہلی تاریخ کو آتے ہیں اور پرسوں پہلی جنوری کو آکر ۲تاریخ کی صبح میں جاچکے ہیں، چودھری صاحب بہت مایوس ہوئے اور کسی جھاڑ پھونک کرنے والے کو معلوم کیا، معلوم ہواکہ مدرسہ کے ذمہ دار قاری صاحب یہ کام کر دیتے ہیں، مگر وہ بھی مولانا صاحب کے ساتھ سفر پر نکل گئے ہیں، عیدگاہ میں ایک دوکاندار نے انہیں مولانا کا دہلی کا پتہ بتایا کہ پرسوں بدھ میں حضرت مولانا نے (بوانے، دہلی )میں ان کے یہاں آنے کا وعدہ کیا ہے، وہ لڑکے کو زنجیر میں باندھ کر بوانہ کے امام صاحب کے پاس لے گئے، وہ آپ کے والد صاحب کے مرید تھے اور بہت زمانے سے ان سے بوانہ کے لئے تاریخ لیناچاہتے تھے مولانا صاحب ہر بار ان سے معذرت کررہے تھے، اس بار انھوں نے ادھر کے سفر میں دو روز کے بعد ظہر کی نماز پڑھنے کا وعدہ کر لیا تھا،بوانہ کے امام صاحب نے بتایا کہ حالات کے خراب ہونے کی وجہ سے ۶ (چھ)دسمبر ۱۹۹۲ءسے پہلے ہریانہ کے بہت سے امام اور مدرسین یہاں سے یوپی اپنے گھروں کو چلے گئے تھے اور ان میں سے بعض ایک مہینہ تک نہیں آئے اس لئے مولانا صاحب نے پہلی تاریخ کواس موضوع پر تقریر کی اور بڑا زور دے کریہ بات کہی کہ مسلمان نے ان غیر مسلم بھائیوں کو اگر دعوت دی ہوتی اور اسلام، اللہ اور مساجد کا تعارف کرایا ہوتا تو ایسے واقعات پیش نہ آتے، انھوں نے کہا کہ بابری مسجد کی شہادت کے بیک واسطہ ہم مسلمان ذمہ دار ہیں اور اگر اب بھی ہمیں ہوش آجائے اور ہم دعوت کا حق ادا کرنے لگیں تو یہ مسجد گرانے والے، مسجدیں بنانے اور کرنے والے بن سکتے ہیں، ایسے موقع پر ہمارے آقااللّھم اھد قومی فانھم لا یعلمون (اے اللہ، میری قوم کو ہدایت دے، اس لئے کہ یہ لوگ جانتے نہیں)فرمایا کرتے تھے۔یوگیندر کے والد چودھری رگھوبیر سنگھ جب بوانہ کے کے امام (جن کا نام شاید مولانا بشیر احمد تھا )کے پاس پہنچے، تو ان پر اس وقت اپنے شیخ کی تقریر کا بڑااثرتھا، انھوں نے چودھری صاحب سے کہا کہ میں جھاڑ پھونک کا کام کرتا تھا مگر اب ہمارے حضرت نے ہمیں اس کام سے روک دیا، کیونکہ اس پیشہ میں جھوٹ اور عورتوں سے اختلاط (میل ملاپ )بہت ہوتا ہے اور اس لڑکے پر کوئی اثر یا جادو وغیرہ نہیں بلکہ مالک کا عذاب ہے، آپ کے لئے ایک موقع ہے، ہمارے بڑے حضرت صاحب پر سوں بدھ کے روز دوپہر کو یہاں آرہے ہیں، آپ ان کے سامنے بات رکھیں، آپ کا بیٹا ہمیں امید ہے کہ ٹھیک ہو جائے گا، مگر آپ کو ایک کام کرنا پڑے گا، وہ یہ کہ اگر آپ کا بیٹا ٹھیک ہو جائے تو مسلمان ہونا پڑے گا، چودھری صاحب نے کہا کہ میرا بیٹا ٹھیک ہو جائے تو میں سب کام کرنے کو تیار ہوں۔تیسرے روز بدھ تھا چودھری رگھو بیر صاحب یو گیندر کو لے کر صبح ۸بجے بوانہ پہنچ گئے، دوپہر کو ظہر سے پہلے مولانا صاحب آئے، یو گیندر زنجیر میں بندھا ننگ دھڑنگ کھڑا تھا، چودھری صاحب روتے ہوئے مولانا کے قدموں میں گر گئے اور بولے کہ مولانا صاحب میں نے اس کمینہ کو بہت روکا، مگر یہ پانی پت کے ایک اوت کے چکر میں آگیا مولانا صاحب مجھے شما کرا دیجئے میرے گھر کو بچا لیجئے مولانا صاحب نے سختی سے انہیں سر اٹھانے کے لئے کہا اور پورا واقعہ سنا۔انہوں نے چودھری صاحب سے کہا کہ سارے سنسار کو چلانے والے سرو شکتی مان (قادر مطلق )خدا کا گھر ڈھا کر انہوں نے ایسا بڑا پاپ( ظلم ) کیا ہے کہ اگر وہ مالک سارے سنسار کوختم کردے تو ٹھیک ہے، یہ تو بہت کم ہے کہ اس اکیلے پر پڑی ہے، ہم بھی اس مالک کے بندے ہیں اورایک طرح سے اس بڑے گھنگھور پاپ (بڑے گناہ ) میں ہم بھی قصوروار ہیں کہ ہم نے مسجد کو شہید کرنے والوں کو سمجھانے کاحق ادا نہیں کیا، اب ہمارے بس میں کچھ بھی نہیں ہے بس یہ ہے کہ آپ بھی اس مالک کے سامنے گڑگڑ ائیں اور شمامانگیں اور ہم بھی معافی مانگیں، مولانا صاحب نے کہا، جب تک ہم مسجد میں پروگرام سے فارغ ہوں آپ اپنے دھیان کو مالک کی طرف لگا کر سچے دل سے معافی مانگیں اورپرارتھنا (دعا) کریں کہ مالک میری مشکل کو آپ کے علاوہ کوئی نہیں ہٹا سکتا، چودھری صاحب پھر مولانا صاحب کے قدموں میں گر گئے اوربولے جی میں اس لائق ہوتا یہ دن کیوں دیکھتا، آپ مالک کے قریب ہیں، آپ ہی کچھ کریں مولانا صاحب نے ان سے کہا کہ آپ میرے پاس علاج کے لئے آئے ہیں، اب جو علاج میں بتا رہا ہوں وہ آپ کوکرنا چاہنے، وہ راضی ہوگئے مولا نا صاحب مسجد میں گئے، نما ز پڑھی تھوڑی دیر تقریر کی اور دعا کی، مولانا صاحب نے سبھی لوگوںسے چودھری صاحب کے لئے دعا کو کہا، پروگرام کے بعد مسجد میں ناشتہ ہوا، ناشتہ سے فارغ ہو کر مسجد سے باہرنکلے تومالک کا کرم کہ یوگیندر نے اپنے باپ کی پگڑی اتار کر اپنے ننگے جسم پر لپیٹ لی تھی اورٹھیک ٹھاک اپنے والد صاحب سے بات کررہا تھا، سب لوگ بہت خوش ہوئے ، بوانہ کے امام صاحب تو بہت خوش ہوئے، انھوں نے چودھری صاحب کو وعدہ یاد دلایا اور اس کو ڈرایا بھی کہ جس مالک نے اس کو اچھا کیاہے اگر تم وعدہ کے مطابق مسلمان نہیں ہوتے ہوتو پھر یہ دوبارہ اس سے زیادہ پاگل ہوسکتا ہے، وہ تیار ہوگئے اور امام صاحب سے بولے، مولانا صاحب میری سات پشتیں آپ کے احسان کا بدلہ نہیں دے سکتیں، آپ کاغلام ہوں، جہاں چاہیں آپ مجھے بیچ سکتے ہیں، حضرت مولانا کو جب یہ معلوم ہوا کہ امام صاحب نے اس سے ٹھیک ہونے کا ایسا وعدہ کرلیا تھا، تو انھوں نے امام صاحب کو سمجھا یاکہ اس طرح کرنااحتیاط کے خلاف ہے۔چودھری صاحب کو مسجد میں لے جانے لگے، تو یوگیندر نے پوچھا پتا جی کہاں جارہے ہو انھوں نے کہا مسلمان بننے، تو یوگیندر نے کہا، مجھے آپ سے پہلے مسلمان بننا ہے اور مجھے تو بابری مسجد دوبارہ ضرور بنوانی ہے، خوشی خوشی ان دونوں کو وضو کرایا اور کلمہ پڑھوایا گیا، والد صاحب کا محمد عثمان اور بیٹے کا محمد عمر نام رکھا گیا، خوشی خوشی وہ دونوں اپنے گاﺅں پہنچے وہاں پر ایک چھوٹی سی مسجد ہے، اس کے امام صاحب سے جاکر ملے، امام صاحب نے مسلمانوں کو بتادیا، بات پورے علاقہ میں پھیل گئی، ہندﺅوں تک بات پہنچی، تو قوت دار لوگوں کی میٹنگ ہوئی اور طئے کیا کہ ان دونوں کو رات میں قتل کروایا جائے، ورنہ نہ جانے کتنے لوگوں کا دھرم خراب کریں گے، اس میٹنگ میں ایک مرتد بھی شریک تھا اس نے امام صاحب کو بتادیا، اللہ نے خیر کی ان دونوں کو راتوں رات گاﺅں سے نکالا گیا، پھلت گئے اور بعد میں جماعت میں ۴۰ چالیس دن کے لئے چلے گئے، یوگیندر نے پھر امیر صاحب کے مشورہ سے تین چلے لگائے، بعد میں ان کی والدہ بھی مسلمان ہوگئیں، محمد عمر کی شادی دہلی میں ایک اچھے مسلمان گھرانے میں ہوگئی اور وہ سب لوگ خوشی خوشی دہلی میں رہ رہے ہیں گاﺅں کا مکان اور زمین وغیرہ بیچ کر دہلی میں ایک کارخانہ لگالیا ہے۔

اصل میں میرے قبول اسلام کو اس کہانی سے الگ کرنا ممکن نہیں، اس لئے میں نے اس کا پہلا حصہ سنایا، اب آگے دوسرا حصہ سن لیجیے، ۹مارچ ۱۹۹۳ءکو اچانک میرے والد کا ہارٹ فیل ہوکر انتقال ہوگیا، ان پر بابری مسجد کی شہادت اور اس میں میر ی شر کت کابڑا غم تھا، وہ میری ممی سے کہتے تھے کہ مالک نے ہمیں مسلمانوں میں پیدا کیوں نہیں کیا، اگر مسلمان گھرانے میں پیدا ہوتے، کم از کم ظلم سہنے والوں میں ہمارا نام آتا، ظلم کرنے والی قوم میں ہمیں کیوں پیدا کردیا، انھوں نے گھر والوں کو وصیت کی تھی کہ میری ارتھی پر بلبیر نہ آنے پائے، میری ارتھی کو یا تو مٹی میں دبانا، یا پانی میں بہادینا، ظالم قوم کے رواج کے مطابق آگ مت لگانا بلکہ ہندﺅوں کے شمشان میں بھی نہ لے جانا، گھر والوں نے ان کی اِچھّا(خواہش ) کے مطابق عمل کیا اور آٹھ دن بعد مجھے ان کے انتقال کی خبر ہوئی، میرا دل بہت ٹوٹا، ان کے انتقال کے بعد بابری مسجد کا گرانا مجھے ظلم لگنے لگا اور مجھے اس پر فخر کے بجائے افسوس ہونے لگا اور میرا دل بجھ سا گیا، میں گھر کو جاتا تو میری ممی میرے والد کے غم کو یاد کرکے رونے لگتیں اور کہتیں کہ ایسے دیوتا باپ کو تونے ستاکر ماردیا تو کیسا نیچ انسان ہے میں نے گھر جانا بند کردیا، جون میں محمد عمر جما عت سے واپس آیا تو پانی پت میرے پاس آیا اور اپنی پوری کہانی بتائی دو مہینہ سے میرا دل ہر وقت خوف زدہ سا رہتا تھا کہ کوئی آسمانی آفت مجھ پر نہ آجائے، والد کا دکھ اور بابری مسجد کی شہادت دونوں کی وجہ سے ہر وقت دل سہما سہما سا رہتا تھا، محمد عمر کی کہا نی سن کرمیں اور بھی پریشان سا ہوا، عمر بھائی نے مجھ پر زور دیا کہ۲۳جون کو سونی پت میں مولانا صاحب آنے والے ہیں، آپ ان سے ضرور ملیں اور اچھا ہے کچھ دن ان کے ساتھ رہیں، میں نے پروگرام بنایا، مجھے پہنچنے میں دیر ہوگئی، عمر بھائی پہلے پہنچ گئے تھے اور مولانا صاحب سے میرے بارے میں پورا حال بتادیا تھا، میں گیا تو مولانا صاحب بڑی محبت سے ملے،اور مجھ سے کہا کہ آپ کی تحریک پر اس گناہ کو کرنے والے یوگیندر کے ساتھ مالک یہ معاملہ کر سکتے ہیں تو آپ کے ساتھ بھی یہی معاملہ پیش آسکتا ہے اور اگر اس دنیا میں وہ مالک سزانہ بھی دے تو مرنے کے بعد ہمیشہ کے جیون میں جو سزاملے گی آپ اس کا تصور بھی نہیں کرسکتے۔ایک گھنٹہ ساتھ رہنے کے بعد میں نے فیصلہ کرلیا کہ اگر مجھے آسمانی آفت سے بچنا ہے تو مسلمان ہوجانا چاہئے،مولانا صاحب دو روز کے سفر پر جارہے تھے، میں نے دو روزساتھ رہنے کی خواہش کا اظہار کیا، تو انھوں نے خوشی سے قبول کیا،ایک روز ہریانہ پھر دہلی اور خورجہ کا سفر تھا، دو روز کے بعد پھلت پہنچے دوروز کے بعد میں دل سے اسلام کے لئے آمادہ ہوچکا تھا، میں نے عمر بھائی سے اپنا خیال ظاہر کیا تو انھوں نے خوشی خوشی مولانا صاحب سے بتایا اور الحمد للہ میں نے ۲۵ جون ۱۹۹۳ ءظہر کے بعد اسلام قبول کیا مولانا صاحب نے میرا نام محمد عامر رکھا اسلام کے مطالعہ اور نماز وغیرہ یاد کرنے کے لئے مجھے پھلت رہنے کا مشورہ دیا، میں نے اپنی بیوی اور چھوٹے بچوں کی مجبوری کاذکر کیا تو میرے لئے مکان کا نظم کردیا گیا، میں چند ماہ پھلت آکر رہا اور اپنی بیوی پر کام کرتا رہا، تین مہینے کے بعد وہ بھی مسلمان ہو گئی۔ الحمدللہ

میں نے اپنی ماں سے اپنے مسلمان ہونے کے بارے میں بتایا، وہ بہت خوش ہوئیں اور بولیں کہ تیرے پتا کو اس سے شانتی ملے گی، وہ بھی اسی سال مسلمان ہوگئیں۔ آج کل میں ایک جونیرہا ئی ا سکول چلارہا ہوں، جس میں اسلامی تعلیم کے ساتھ انگریزی میڈیم میں تعلیم کا نظم ہے۔
میں نے عمر بھائی سے مل کر یہ پروگرام بنایا کہ اللہ کے گھر کو شہید کرنے کے بعد اس بڑے گناہ کی تلافی کے لئے ہم ان ویران مسجدوں کو آباد کرنے اور کچھ نئی مسجدیں بنانے کا بیڑا اٹھائیں، ہم دونوں نے طئے کیا کہ کام تقسیم کر لیں، میںتوویران مسجدوں کو آباد کراﺅں اور عمر بھائی نئی مسجد یں بنانے کی کوشش کریں اور ایک دوسرے کا تعاون کریں، ہم دونوں نے زندگی میں سو سو مسجدیں بنانے اور واگزارکرانے کا پروگرام بنایا ہے، الحمدللہ ۶چھ دسمبر ۲۰۰۴ءتک ۱۳ویران اور مقبوضہ مسجدیں ہریانہ، پنجاب اور دہلی اور میرٹھ کینٹ میں واگزار کراکے یہ پاپی آباد کراچکاہے(جولائی ۲۰۰۹ءتک ۶۷مسجدےں واگزار اور ۳۷نئی مسجد یںبنا چکے ہیں )عمر بھائی مجھ سے آگے نکل گئے وہ اب تک بیس مسجدیں نئی بنواچکے ہیں اور اکیسویں کی بنیاد رکھی ہے ہم لوگوں نے یہ بھی طے کیا ہے کہ بابری مسجد کی شہادت کی ہر برسی پر ۶د چھ سمبر کو ایک ویران مسجد میں نماز شروع کرانی ہے اور عمر بھائی کو نئی مسجد کی بنیاد ضرور رکھنی ہے، الحمدللہ کوئی سال ناغہ نہیں ہوا، البتہ سو کا نشانہ ابھی بہت دور ہے، اس سال امید ہے تعداد بہت بڑھ جائے گی، آٹھ مسجدوں کی بات چل رہی ہے، امید ہے وہ آئندہ چندماہ میں ضرور آباد ہوجائیں گی، عمر بھائی تو مجھ سے بہت آگے پہلے ہی ہیںاور اصل میں ہمارا کام بھی ان ہی کے حصہ میں ہے، مجھے اندھیرے سے نکالنے کا ذریعہ وہی بنے۔
میری والدہ کے علاوہ صرف ایک بڑے بھائی ہیں ہماری بھا بھی کا چار سال پہلے انتقال ہو گیا ان کی شادی مجھ سے بعد میں ہوئی تھی، ان کے چار چھوٹے چھوٹے بچے ہیں، ایک بچہ معذور سا ہے ہماری بھابھی بڑی بھلی عورت تھیں، بھائی صاحب کے ساتھ مثالی بیوی بن کر رہیں ان کے انتقال کے بعد بھائی بالکل ٹوٹ سے گئے تھے، میری بیوی نے بھابھی کے مرنے کے بعد ان بچوں کی بڑی خدمت کی، میرے بڑے بھائی خود بہت شریف آدمی ہیں، وہ میری بیوی کی اس خدمت سے بہت متاثر ہوئے، میںنے ان کو اسلام کی دعوت دی مگرمیری وجہ سے میرے والد کے صدمہ کی وجہ سے وہ مجھے کوئی اچھا آدمی نہیں سمجھتے تھے، میں نے اپنی بیوی سے مشورہ کیا میرے بچے بڑے ہیں اور بھائی مشکل سے جی رہے ہیں، اگر میں تمھیں طلاق دےدوں اور عدت کے بعد بھائی تیار ہوجائیں کہ وہ مسلمان ہوکر تم سے شادی کرلیںتو دونوں کے لئے نجات کا ذریعہ بن سکتا ہے، وہ پہلے تو بہت برامانی مگر جب میں نے اس کو دل سے سمجھانے کی کوشش کی تو وہ راضی ہوگئی، میں نے بھائی کوسمجھایا ان بچوں کی زندگی کے لئے اگر آپ مسلمان ہوجائیں اور میری بیوی سے شادی کرلیں تو اس میں کیا حرج ہے اور کوئی عورت ایسی ملنا مشکل ہے جو ماں کی طرح ان بچوں کی پرورش کرسکے، وہ بھی شروع میںتو بہت برامانے کہ لوگ کیا کہیں گے میں نے کہا عقل سے جو بات صحیح ہے اس کے ماننے میں کےاحرج ہے، باہم مشورہ ہوگیا، میںنے اپنی بیوی کو طلاق دی اورعدت گزار کر بھائی کو کلمہ پڑھوایا اور ان سے اس کا نکاح کرایا، الحمد للہ وہ بہت خوشی خوشی زندگی گزاررہے ہیں، میرے اور ان کے بچے ان کے ساتھ رہتے ہیں
حضرت مولانا کے مشورہ سے میں نے ایک نو مسلم عورت جو کافی معمر ہیں شادی کرلی ہے الحمد للہ خوشی خوشی ہم دونوں بھی رہ رہے ہیں۔
میری ہر مسلمان سے درخواست ہے کہ اپنے مقصد زندگی کو پہچانیں اور اسلام کو انسانیت کی امانت سمجھ کر اس کو پہنچا نے کی فکرکریں، محض اسلام دشمنی کی وجہ سے ان سے بدلہ کا جذبہ نہ رکھیں احمد بھائی میں یہ بات بالکل اپنے ذاتی تجربہ سے کہہ رہا ہوں کہ بابری مسجد کی شہادت میں شریک ہر ایک شیوسینک بجرنگ دلی اور ہر ہندو کو اگر یہ معلوم ہوتا کہ اسلام کیا ہے ؟ مسلمان کسے کہتے ہیں؟قرآن کیاہے اور مسجد کیا چیزہے تو ان میں سے ہر ایک مسجد بنانے کی تو سوچ سکتا ہے، مسجد گرانے کا تو سوال ہی نہیں ہو سکتا، میں یقین سے کہہ سکتاہوں کہ بال ٹھاکرے جی، ونئے کٹیار، اومابھارتی اور اشوک سنگھل جیسے سرکردہ لوگوں کو بھی اگر اسلام کی حقیقت معلوم ہوجائے اور یہ معلوم ہوجا ئے کہ اسلام ہمارا بھی مذہب ہے، ہمارے لئے بھی ضروری ہے، تو ان میں سے ہر ایک اپنے خرچ سے بابری مسجد دوبارہ تعمیر کرنے کو سعادت سمجھے گا، ۔ چلئے کچھ لوگ تو اسے ہیں جو مسلمان کی دشمنی کے لئے مشہور ہیں مگر ایک ارب ہندﺅوں میں ایسے لوگ ایک لاکھ بھی نہیں ہوں گے، ایک لاکھ بھی سچی بات یہ ہے کہ میں شاید زیادہ بتارہا ہوں، ننانوے کروڑ۹۹ لاکھ تو میرے والد کی طرح ہیں، جو انسانیت دوست بلکہ اسلامی اصولوں کو دل سے پسندکرتے ہیں، میرے والد (روتے ہوئے )کیا فطرتاََ مسلمان نہیں تھے مگر مسلمانوں کے دعوت نہ دینے کی وجہ سے وہ کفر پر مرگئے میرے ساتھ اور میرے والدکے ساتھ مسلمانوں کا کتنا بڑا ظلم ہے، یہ بات سچی ہے کہ بابری مسجدکو شہید کرنے والے مجھ سے زیادہ ظالم کون ہوسکتا ہے ؟مگر مجھ سے بہت زیادہ ظالم تو وہ مسلمان ہیں، جن کی دعوت سے غفلت کی وجہ سے میرے ایسے پیارے باپ دوزخ میں چلے گئے، مولانا صاحب سچ کہتے ہیں، ہم شہید کرنے والے بھی، نہ جاننے اور مسلمانوں کے نہ پہنچانے کی وجہ سے ہوئے، ہم نے انجانے میں ایسا ظلم کیا اور مسلمان جان بوجھ کران کو دوزخ میں جانے کا ذریعہ بن رہے ہیں، مجھے جب اپنے والد کے کفر پر مر نے کا رات میںبھی خیال آتا ہے تو میری نیند اڑ جاتی ہے، ہفتوں ہفتوںنیند نہیں آتی نیند کی گولیاں کھانی پڑتی ہیں، کاش مسلمانوں کو اس دردکااحساس ہو
۔میری ہر مسلمان سے درخواست ہے کہ اپنے مقصد زندگی کو پہچانیں اور اسلام کو انسانیت کی امانت سمجھ کر اس کو پہنچا نے کی فکر کریں، محض اسلام دشمنی کی وجہ سے ان سے بدلہ کا جذبہ نہ رکھیں احمد بھائی میں یہ بات بالکل اپنے ذاتی تجربہ سے کہہ رہا ہوں کہ بابری مسجد کی شہادت میں شریک ہر ایک شیوسنک بجرنگ دلی اور ہر ہندو کو اگر یہ معلوم ہوتا کہ اسلام کیا ہے ؟ مسلمان کسے کہتے ہیں؟قرآن کیاہے اور مسجد کیا چےزہے تو ان میں سے ہر ایک مسجد بنانے کی تو سوچ سکتا ہے، مسجد گرانے کا تو سوال ہی نہیں ہو سکتا، میں یقین سے کہہ سکتاہوں کہ بال ٹھاکرے جی ،ونئے کٹیار، اومابھارتی اور اشوک سنگھل جیسے سرکردہ لوگوں کو بھی اگر اسلام کی حقیقت معلوم ہوجائے اور یہ معلوم ہوجا ئے کہ اسلام ہمارا بھی مذہب ہے۔ہمارے لئے بھی ضروری ہے، تو ان میں سے ہر ایک اپنے خرچ سے بابری مسجد دوبارہ تعمیر کرنے کو سعادت سمجھے گا۔


بحوالہ ماہنا مہ ارمغان انڈیا

saleemi
04-04-2012, 12:10 PM
جناب بےباک صاحب ،میری آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے ، کتنی درد ناک تلخ خقائق سے بھرپور کہانیاں آپ نے لکھی ہیں ۔
انا للہ و انا الیہ راجعون ،
ہم مسلمان ہو کر بھی سیدھے نہیں چلتے ۔
جزاک اللہ آپ کو

بےباک
04-04-2012, 12:47 PM
ایک اور کہانی پڑھیے ۔
اس انسان کی کہانی جس کو نبی پاک محمد رسول اللہ نے خواب میں مسلمان ہونے کو کہا ،
درد ناک اور حیرت انگیز سچ ۔ کیسے کرشن لال سے غازی احمد بنا
ہم لوگوں کو اسلام ماں کی گود میں مل گیا اور ہم نے اس کی قدر نہ کی جبکہ کرشن لال نے جس گھرانے میں آنکھ کھولی تو اسے اپنے چاروں طرف شرک اور کفر کے اندھیرے نظر آئے۔ اسے ہدایت کی تلاش تھی وہ ہدایت کی دعا کرتا رہا آخر کار اسے ایک روشنی دکھائی دی جس کی طرف آقا مدنی صلی اللہ وعلیہ وسلم (میں اور میرے ماں باپ ان پر قربان) اشارہ فرما رہے تھے - قبولیت اسلام کی عجیب و غریب,قدم قدم پر چونکا دینے والی ، رونگٹے کھڑے کر دینے والی عشق الہی اور محبّت نبوی میں ڈوبی ہوئے عجب حقیقی داستان
خود پڑھ کر دیکھیں ،
کہ ہم جنہیں اسلام ماں کی گود میں ملا کیا ہم نے اس کی قدر کی؟
کتاب ایکروبیٹ ریڈر ( پی ڈی ایف ) سے کھلے گی ،آن لائین پڑھیں ۔

http://archive.org/stream/MinazZulumaat-i-IlanNoorByShaykhGhaziAhmad#page/n0/mode/2up

http://ia600606.us.archive.org/18/items/MinazZulumaat-i-IlanNoorByShaykhGhaziAhmad/MinazZulumaat-i-IlanNoorByShaykhGhaziAhmad.pdf
یا یہاں سے ڈاون لوڈ کریں ،
http://www.al-arif.org/component/content/article/82-nay-honay-walay-musalmano-ki-aap-beeti/352-maulana-professor-ghazi-ahmad.html
غازی احمد کے سکول کی ڈاکومنٹری یہاں دیکھیں ۔

http://www.youtube.com/watch?v=86GJAM5cdvU
http://www.youtube.com/watch?v=XL28gghAeeo

اس مجاھد غازی احمد کی زبانی اس کی کہانی سنیں ، جو کرشن لال سے غازی احمد بنا ۔ اللہ اکبر۔ یہاں آڈیو کی شکل میں ایک مکمل فائل موجود ہے آپ سنیے ،
http://www.youtube.com/watch?v=3ZP6LennBPc
باقی یہاں سات حصے کا انٹرویو ہے ،اس کے باقی لنک آپ کو یوٹیوب سے مل جائیں گے ، آپ اس کے باقی لنک خود دیکھیں ۔
http://www.youtube.com/watch?v=e9zj4Pu7LfY

بےباک
04-04-2012, 02:18 PM
نومسلم روسی دوشیزہ نے مظالم جھیل کر عہد اول کی یاد تازہ کر دی

محترمہ ام فاکہہ زنجانی، جدہ

یہ سچا واقعہ میں ایک نوجوان روسی لڑکی کا پیش کر رہی ہوں ۔ ایک دن ایک فلسطینی نوجوان اپنی والدہ اور بہنوں کے ساتھ کسی راستے سے گزر رہا تھا، اس وقت ایک حیران پریشان لڑکی ان کی طرف لپکی اور اس نے ان سے مدد مانگی، اس کی حالت دیکھ کر وہ اسے اپنے ساتھ گھر لے آئے، وہاں اس نے اپنی دکھ بھری کہانی کچھ یوں سنائی کہ وہ ایک روسی لڑکی ہے ، ایک تاجر نوکری کا جھانسا دے کر غریب نوجوان لڑکیوں کو کسی عرب ملک میں لایا کرتا اور ان کو بد کاری کے گھناؤنے پیشے میں لگا دیتا تھا، میں بھی چند دوسری لڑکیوں کے ساتھ نوکری کے لیے یہاں آئی تھی ، یہاں آنے کے بعداس تاجر نے اپنا گھناؤنا منصوبہ لڑکیوں کے سامنے رکھا، اس کے ناپاک ارادوں کو کو بھانپ کر میں اپنا پاسپورٹ اس سے کسی طرح نکلوا کر دوڑتی ہوئی کسی طرح شاہراہ پر آگئی ، یہاں خوش قسمتی سے میری ملاقات آپ لوگوں سے ہو گئی۔

اس کی درد بھری کہانی سن کر اس فلسطینی خاندان نے اسے اپنے گھر میں پناہ دینے کا ارادہ کیا ، ان لوگوں نے اس کے سامنے اسلام کا تعارف رکھا اور اسلام کی دعوت صحیح ڈھنگ سے پیش کرنے کے لیے اسے ایک اسلامی کتب خانہ لے گئے ،تاکہ وہ انگریزی زبان میں کچھ اسلامی کتابیں خرید کر اسلام کے بارے میں صحیح جانکاری حاصل کرسکے ، کتب خانہ والے کا کہنا ہے کہ جب یہ لوگ اس لڑکی کو میرے پاس لائے تو باقی عورتیں تو برقع میں تھیں، لیکن یہ روسی لڑکی برقع سے آزاد تھی اور چھوٹا لباس پہنے ہوئے تھی، وہ لوگ انگریزی زبان کی کچھ دینی کتابیں لے کر چلے گئے۔

کچھ ماہ بعد وہ فلسطینی نوجوان اور روسی دوشیزہ ایک بار پھر اسی کتب خانہ پر آئے ، اس باروہ لڑکی اسلام قبول کر چکی تھی اور پورے برقع میں تھی اور اس نوجوان کی شریک حیات بن چکی تھی ۔ اس نوجوان نے بتایا کہ میری بیوی نے بازار میں ایک برقع پوش کو دیکھا، جس کے جسم کا کوئی عضو ظاہر نہیں ہو رہا تھا، اسے دیکھ کر میری بیوی نے پوچھا کہ کیا اس کے جسم میں کوئی عیب ہے؟ میں نے اسے بتایا کہ یہ عورتیں اپنے اس عمل سے الله کو خوش کرنا چاہتی ہیں۔ اس پر میری بیوی نے فوراً فیصلہ کیا کہ اگر الله کی یہ پسند ہے تو میں آج سے اور ابھی سے برقع پہنوں گی ۔

وہ فلسطینی نوجوان اپنی شریک حیات کے ساتھ اکثر اسلامی کتابیں لینے کتب خانہ آتا رہتا تھا، چند ماہ بعد وہ دونوں غائب ہو گئے، 7,6 ماہ بعد وہ فلسطینی نوجوان پھر سے کتب خانہ آیا، دکان دار نے اتنے دنوں تک غائب رہنے کی وجہ پوچھی تو اس نے اپنی کہانی کچھ یوں سنائی ” میری بیوی کے پاسپورٹ کی مدت ختم ہو چکی تھی، اس کے لیے ضرور ی تھا کہ جہاں سے پاسپورٹ بنا ہے وہیں سے تجدید کروائی جائے ، اس کے لیے ہمیں روس جانا تھا، میری بیوی میرے ساتھ برقع میں ہی روس کے لیے روانہ ہوئی، ہوائی جہاز میں سبھی لوگ ہمیں تیکھی نظروں سے دیکھنے لگے، تھوڑی دیر بعد وہ ہمارا مذاق اڑانے لگے، مگر میری بیوی ان کی پروا کیے بغیرسکون سے بیٹھی رہی جب کہ میں بیٹھا بیٹھا جلتا رہا، روس میں ہوائی جہاز سے اترنے کے بعد میری بیوی نے کہا کہ میرے گھر والے بہت متعصب ہیں ،اس لیے ہم ایک کمرہ کرائے پر لے کر اس میں رہیں گے اور جب پاسپورٹ بن جائے گا ،اس کے بعد ہم ان سے ملنے جائیں گے۔

پاسپورٹ آفس میں میری بیوی نے جو فوٹودیا اس میں چہرے کے علاوہ بقیہ اعضا چھپے ہوئے تھے، افسر نے کہا ہمیں ایسا فوٹو دو جس میں تمہارا چہرہ، بال اورگردن وغیرہ کھلی ہوں، میری بیوی میرے کہنے کے باوجود اپنا برقع اتار کر فوٹو کھچوانے کو تیار نہیں ہوئی، افسر نے شاید ہمیں ٹالنے کے لیے کہہ دیا کہ تمہاری اس مشکل کو ماسکو دفتر میں بیٹھے ہوئے سیکریٹری جنرل ہی حل کرسکتے ہیں، ہم لوگ ماسکو پہنچے، وہاں بھی وہی رکاوٹ پیش آئی، میرے سمجھانے پر میری بیوی نے یہی کہا کہ جب میں الله کے دین کو سمجھ چکی ہوں تو کیسے میں اپنا برقع اتاروں اور سرکھول کر فوٹو بنواؤں؟ وہاں کا افسر بہت برا آدمی تھا، اس نے غصے میں کہا جب تک تم سرکھلی تصویر نہیں دو گی، ہم نہ تمہارا پرانا پاسپورٹ واپس کریں گے، نہ نیا جاری کریں گے۔

بیوی نے کہا کہ جو لوگ الله سے ڈرتے ہیں الله ان کی مدد کرتا ہے، ہم لوگ واپس کمرے پر آگئے، رات میں جب میری آنکھ کھلی تو میں نے دیکھا بیوی نماز پڑھ رہی ہے اور رو رو کر الله سے دعائیں کر رہی ہے ، صبح فجر کے لیے مجھے اٹھایا اور کہا کہ الله سے دعا کرو، الله ہماری مشکل ضرور آسان کرے گا اس کے بعد ہم پاسپورٹ آفس چلے گئے، ابھی ہم داخل ہی ہوئے تھے کہ ایک ملازم نے میری بیو ی کا نام پوچھا اورکہاتمہارا پاسپورٹ تیار ہو گیا ہے فیس جمع کراکرلے جاؤ۔ یہ سن کر میں حیران رہ گیا، میری زندگی میں اس طرح کا واقعہ پہلے کبھی پیش نہیں آیا تھا۔

اب ہم واپس اسی شہر پہنچے اور بیوی کے گھر والوں سے ملنے کے لیے گئے، اس کے بھائی بہن اور باپ سبھی اس کو برقع میں دیکھ کر کافی حیران تھے ،وہ سب مجھے گھر کے ایک کمرے میں بٹھا کر دوسرے کمرے میں چلے گئے ، دوسرے کمرے سے روسی زبان میں زور زور سے باتیں کرنے کی آوازیں آرہی ،تھیں پھر میں نے اپنی بیوی کی زوردار چیخ سنی، ساتھ ہی وہ سب تیزی سے میرے پاس آئے اوربری طرح میری پٹائی کرنے لگے، مجھے لگا کہ بس اب میں مرنے والا ہوں، میری سمجھ میں کچھ نہیں آرہا تھا کہ میں کیا کروں، میں نے دروازہ کھولا اور بھاگ کر اپنے کمرے میں چلا گیا، میں اپنی بیوی کی طرف سے بہت پریشان تھا کہ کہیں وہ اسے مار نہ دیں، کہیں میری بیوی اسلام سے پھر نہ جائے، مجھے اندیشہ ہونے لگا کہ شاید میری بیوی اب مجھ سے نہیں مل پائے گی، پوری رات میں اسی طرح کے خیالات میں مبتلا رہا، صبح کو حال معلوم کرنے اپنی بیوی کے گھر کی طرف گیا اور دور سے ہی اس کے گھر کے طرف دیکھتا رہا، اس کے تینوں بھائی اور باپ گھر سے باہر نکلے اور تھوڑی دیر میں پھر واپس آگئے،3 دن اسی طرح گزر گئے، اب میری امید دم توڑنے لگی، میں سوچنے لگا شاید میری میری بیوی مر چکی ہے۔ چوتھے دن جب وہ چاروں اپنے کام پر چلے گئے تو دروازہ کھلا اور مجھے میری بیوی دکھائی دی، جس کی نظریں کسی کو تلاش کر رہی تھیں، میں دوڑتا ہوا اس کے قریب گیا تو اسے دیکھ کر میرے حواس گم ہو گئے اس کا چہرہ اور پورا جسم خون میں لت پت تھا، اس نے ایک پھٹے ہوئے کپڑے سے اپنا جسم ڈھانپ رکھا تھا، ہاتھوں اور پیروں میں بیڑیاں پڑی ہوئی تھیں، اسے دیکھ کر میں رونے لگا، اس نے مجھے سمجھایا او رکہا میری حالت دیکھ کر پریشان مت ہو، الله کا شکر ہے میں ابھی تک اسلام پر قائم ہوں اور جو تکالیف میں جھیل رہی ہیں وہ ان کے بال برابر بھی نہیں، جو ہمارے پیارے نبی صلی الله علیہ وسلم، صحابہ کرام اور ان سے پہلے ایمان والوں نے برداشت کی تھیں ، تم کمرے پر میرا انتظارکرتے رہو، الله کی ذات سے ناامید مت ہونا، ہو سکے تو رات کے آخری حصے میں دعائیں کرنا، الله پاک ہماری دعا ضرور قبول کرے گا۔

میں اپنے کمرے پر واپس آگیا، تیسرے دن وہ کمرے پر آئی اور بولی، ہمیں فوراً یہ شہر چھوڑنا ہو گا۔ میں نے کہاہم فوراً ایئر پورٹ چلتے ہیں ۔اس نے کہا ہم ایئرپورٹ نہیں جائیں گے، میرے گھر والے وہاں مجھے تلاش کرنے ضرور پہنچ جائیں گے، ہم نے ٹیکسی لی اور5,4 شہروں کو پار کرکے ایسے شہر میں پہنچ گئے، جہاں ایئرپورٹ تھا ،وہاں سے پہلی پرواز سے اپنے ملک آگئے۔ گھر آکر میں نے سکون کی سانس لی، میری بیوی کے جسم کا کوئی حصہ ایسا نہیں تھا جو زخمی نہ ہو۔ اس نے اپنی آپ بیتی مجھے یوں سنائی کہ جب میں نے اپنے گھر والوں کو تاجر کی گھناؤنی حرکت کے بارے میں بتایا اور یہ بھی بتایا کہ اب میں مسلمان ہو چکی ہوں اور تم میرے شوہر ہو تو میرے باپ اور بھائیوں نے یک زبان مذہب تبدیل کرنے کا حکم دیا، مجھ پر تشدد کیا جانے لگا اور ہر بار مجھ سے اسلام سے پھر جانے کو کہا جاتا ، انکار کرنے پر پھر مارنا شروع کر دیتے۔

ایک دن میری بہن کو مجھ پر ترس آگیا، اس نے تمہیں گھر کے آس پاس دیکھا تھا، میری بہن کے پاس زنجیر کی کنجی تھی، جس کی مدد سے وہ مجھے حاجت کے وقت ستون سے کھول دیتی تھی، اس نے بھائیوں کے جانے کے بعد میری وہ زنجیر کھول دی، اس دن چند منٹوں کے لیے میری تم سے ملاقات ہو گئی تھی ،اس دوران میں اپنی بہن کو اسلام کے بارے میں بتاتی رہی تیسرے دن میری بہن نے اسلام قبول کرنے کی خواہش ظاہر کی، میں نے اس سے کہا ابھی تم اپنے اسلام کو ظاہر مت کرنا یہاں تک کہ میں آزاد ہو کر تمہاری مدد کے قابل نہ ہو جاؤں۔ جس دن میں آزاد ہوئی، اس دن میرے باپ اور بھائیوں نے بہت زیادہ شراب پی رکھی تھی جس کی وجہ سے وہ نشے میں دھت تھے، جب یہ لوگ مدہوش ہو گئے تو اس کا فائدہ اٹھا کر بھائی کی جیب سے چابی نکال کر میری بہن نے مجھے آزاد کر دیا، میں اپنی بہن سے یہ کہہ آئی ہوں کہ ان شاء الله جلد ہی میں تمہیں لینے آؤں گی۔

اس نوجوان نے آگے بتایا کہ میری بیوی کی حالت بہت خراب تھی، اس لیے واپس آنے پر سب سے پہلے اس کا علاج کرایا، الله کا شکر ہے اب وہ بالکل ٹھیک ہے، میں اپنے آپ کو بہت خوش نصیب سمجھتا ہوں کہ الله پاک نے ایسی نیک بیوی دی ہے۔
(ماہنامہ االفاروق)

بشکریہ : سرحدی

بےباک
04-04-2012, 02:26 PM
میں مسلمان کیسے ہوئی؟ایک تھائی خاتون کی قبول اسلام کی کہانی
قرآنی آیات کی معجزانہ تاثیر دیکھئے کہ آسٹریلیا کی ایک خاتون سورہ یٰسین کی آیات کا انگریزی ترجمہ پڑھ کر مشرف بہ اسلام ہو گئیں۔ ام امینہ بدریہ کی ایمان افروز داستان قبول اسلام انہی کی زبانی سنیے۔ وہ کہتی ہیں کہ میرے والد کا تعلق تھائی لینڈ سے تھا۔ وہ پیدائشی لحاظ سے مسلمان تھے لیکن عملی طور پر ان کا اسلام سے کوئی تعلق نہ تھا۔ جبکہ میری والدہ بدھ مت تھیں اور والد صاحب سے شادی کے وقت مسلمان ہوئی تھیں۔ وہ دونوں بعدمیں آسٹریلیا آ کر آباد ہو گئے تھے۔ میرا پیدائشی نام ( ٹے نی تھیا ) Tanidthea تھا۔ میں نے یونیورسٹی آف نیوانگلینڈ، آرمیڈیل سے ایم اے اکنامکس کیا اور بزنس مارکیٹنگ اور ہیومن ریسورسز کے مضامین پڑھے۔ پھر میں بطور ٹیوٹر پڑھانے لگی۔ اسی اثناءمیں شادی ہو گئی شادی اسلامی قانون کے مطابق ہوئی۔ میرے شوہر کمپیوٹر گرافکس ڈیزائنر تھے۔ وہ شادی کے وقت مسلمان ہوئے تھے لیکن نام کے مسلمان تھے۔ اسلام پر ہرگز عامل نہیں تھے۔
میرے باپ بھی نام کے مسلمان تھے اور انہیں دین کے بارے میں کچھ معلوم نہ تھا نہ انہوں نے ہمیں کچھ بتایا۔ یہی وجہ تھی کہ ہم بھی دین سے مکمل طور پر عاری تھے۔ میں کسی مذہب پر یقین نہیں رکھتی تھی۔ اللہ مجھے معاف کرے، میں ملحد تھی۔ میں جب اپنے شوہر کے ساتھ تقریباً ڈیڑھ سال کا عرصہ گزار چکی تو ایک وقت مجھ پر ایسا آیا کہ دنیا سے میرا دل اچاٹ ہو گیا اور میں پریشانی کی حالت میں تھی۔ اس پر میں نے سوچا کہ مجھے نماز پڑھنی چاہیے جیسا کہ میں نے ایک دفعہ اپنے والد صاحب کو کہیں پڑھتے ہوئے دیکھا تھا۔ لیکن جب میں نے اپنے شوہر کو اس کے بارے میں بتایا تو اس نے اس بات کا بہت برا مانا۔ اس نے کہا ( نعوذ باللہ ) کوئی اللہ واللہ نہیں ہے اور نہ نماز وغیرہ کچھ ہے۔ دریں اثنا میرے والدین وفات پا گئے تھے۔
تقریبا سات سال پہلے آسٹریلیا کی نیوساؤتھ ویلز سٹیٹ کے شہر آرمیڈیل کی ایک چھوٹی سی مسجد میں گئی جو کہ غیر ملکی مسلم طلبہ کیلئے تعمیر کی گئی تھی۔ وہاں سے میں نے انگلش ترجمے والا قرآن مجید پڑھنے کیلئے مستعار لیا۔ یہ قرآن مجید خادم الحرمین شریفین الملک فہد بن عبدالعزیز آل سعود ( سعودی عرب ) کی جانب سے شائع شدہ تھا۔ میں اسے گھر لے جا کر محض اس کی ورق گردانی ( Flip ) کر رہی تھی کہ سورہ یاسین کی ان آیات کا ترجمہ میرے سامنے آیا جن میں چاند اور سورج کی حرکت کے بارے میں سائنسی انداز میں بیان کیا گیا ہے: ” اور سورج اپنی معین راہ پر گردش کر رہا ہے یہ اللہ عزیز و علیم کی منصوبہ بندی ہے اور چاند کی ہم نے منزلیں مقرر کر رکھی ہیں یہاں تک کہ وہ ہر پھر کی کھجور کی سوکھی ٹہنی کی طرح ہو جاتا ہے۔ نہ سورج کی یہ مجال کہ چاند کو جا پکڑے اور نہ رات دن پر سبقت لے جا سکتی ہے اور یہ سب اپنے اپنے مدار میں گردش کر رہے ہیں۔ “ یہ ترجمہ پڑھنا تھا کہ میرے رونگٹے کھڑے ہو گئے اور میرے جسم میں ایک عجیب سی کیفیت پیدا ہوئی۔ میں نے سوچا کہ نبی علیہ السلام امی تھے۔ یعنی پڑھے لکھے نہ تھے لیکن اتنے بہترین سائنسی انداز میں جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان کیا ہے تو ضرور ان پر اللہ کی طرف سے وحی ہو سکتی ہے۔
بس اس لمحے میرے دل کی دنیا بدل گئی اور میں نے اللہ کی کتاب قرآن عظیم الشان کا مطالعہ اور اس میں غور و فکر شروع کر دیا۔ میں جب بھی اسلامی تعلیمات کا مطالعہ کرتی ہوں پہلے اپنے سابقہ عمل پر اللہ تعالیٰ سے استغفار کرتی ہوں اور پھر ان پر پورا پورا عمل کرنے کی کوشش کرتی ہوں۔ میں قبول اسلام کے بعد مسجد میں جاتی رہی۔ شروع شروع میں، میں پردہ نہیں کرتی تھی پھر جب نمازیوں نے مجھے بتایا کہ یہ گناہ ہے تو اسی دن سے میں نے اپنے گھر جا کر اسکارف لیا اور پہننا شروع کر دیا، نیز اسلام کا گہرائی سے مطالعہ کرنے لگی۔ میں نے خاصی کوشش کی کہ میں اپنے شوہر کو اسلام کے بارے میں قائل کر سکوں لیکن وہ نہ مانا، حالانکہ میری اس سے بیٹی بھی پیدا ہو چکی تھی۔ آخر میں نے اس سے کہا کہ یا اسلام قبول کر لو یا مجھے چھوڑ دو۔
تب اس نے مجھے طلاق دے دی اور مجھ سے اور میری بیٹی سے دستبردار ہو گیا۔ دریں اثنا میں انٹرنیٹ پر اپنے ایک پاکستانی بھائی عبدالصمد سے چیٹنگ کرنے لگی اور ان سے اسلام کے بارے میں معلومات حاصل کرتی رہی جو وہ مجھے وقتاً فوقتاً بہم پہنچاتے رہے۔ آخر میں نے فیصلہ کیا کہ میں آسٹریلیا سے اسلام کیلئے ہجرت کر لوں۔ میں نے پاکستان کی جانب ہجرت کرنے کو ترجیح دی۔ اسلام لانے سے پہلے میری بیٹی کا نام ( توان وارٹ ) تھا۔ اسلام قبول کرنے کے بعد میں اس کا نام تبدیل کر کے امینہ رکھ دیا۔ میں نے اپنا نام غزوہ بدر کی نسبت سے بدریہ رکھا تھا بیٹی کے حوالے سے میں ام امینہ کہلاتی ہوں۔ میں نے اپنی بیٹی کو آسٹریلیا کے کسی سکول میں بھجوانا مناسب نہ سمجھا کیونکہ وہاں تعلیم میں موسیقی اور ان کے پرچم کے آغے ادب و احترام کیلئے مختلف افعال کی ادائیگی شامل تھی جو کہ مجھے پسند نہیں تھی، لہٰذا میں نے اپنی بیٹی کو اپنے گھر ہی میں اسلام کی ابتدائی تعلیم و تربیت دی ہے۔
آسٹریلیا میں اکثریت عیسائی مذہب پر یقین رکھتی ہے لیکن الحمد للہ اب لوگ اسلام کی طرف متوجہ ہو رہے ہیں اور خاص طور پر خواتین بڑی تیزی سے اسلام کی طرف آ رہی ہیں۔ چند خواتین نے مسلمانوں کے ساتھ شادیاں کی ہیں۔ اکثر خواتین اپنے تحفظ اور احترام کیلئے اسلام کی طرف متوجہ ہو رہی ہے جو کہ صرف اسلام عطا کرتا ہے۔ آسٹریلیا کے مسلمانوں میں اکثریت عمل سے دور ہے لیکن وہاں ایسے لوگ بھی ہیں جو قرآن اور سنت پر مکمل عمل کر رہے ہیں لیکن مجھے بعض اوقات ایسے معلم علماءکے رویوں سے بہت دکھ ہوتا ہے جو اللہ کی خاطر حق بات نہیں کہتے بلکہ ایسے بیانات دیتے ہیں جن سے آسٹریلیا کے اہل اقتدار کو خوش کیا جائے۔ مثلا پچھلے دنوں ایک عالم دین سے انٹرویو کیا گیا تو اس نے یہ کہا کہ عراق میں جو مسلمان مر رہے ہیں وہ شہید نہیں ہیں۔
آج ہم جہاد کے نام سے بھی ڈر رہے ہیں جبکہ عراق کے لوگ کوئی جارحانہ لڑائی ( Offensive )نہیں لڑ رہے بلکہ اپنی بقا کی جگہ ( De fensive ) لڑ رہے ہیں اور یہ ان کا حق ہے کیونکہ ان پر جنگ مسلط کی گئی ہے۔ میں ہر چیز کیلئے اللہ تعالیٰ سے رہنمائی کی دعا کرتی رہتی ہوں کہ اے اللہ تو میری رہنمائی فرما اگر انسان اللہ تعالیٰ سے اخلاص کے ساتھ سیدھے راستے کی درخواست کرے تو اللہ تعالیٰ ضرور اپنے بندے کی رہنمائی فرماتا ہے۔ لہٰذا میں ہر کام میں صراط مستقیم کے لئے اللہ تعالیٰ سے دعا کرتی رہتی ہوں۔ اللہ تعالیٰ میری رہنمائی فرماتا ہے۔ میں پاکستانی مسلمان عورتوں سے بھی کہوں گی کہ وہ اپنے دین کی طرف متوجہ ہوں۔
دنیا کی کچھ حیثیت نہیں ہے یہ چند روزہ زندگی ہے اسے گزر ہی جانا ہے، اگر یہ حقیقت سمجھ لی جائے تو مال، جائیداد، پوت، ان سب کی حقیقت انسان پر آشکارا ہو جاتی ہے۔ اس لئے ان کو چاہیے کہ صحیح معنوں میں اسلام کو بطور دین قبول کریں اور رسم و رواج سے ہٹ کر اس پر عمل کرنا چاہیے۔ لیکن میں نے یہاں دیکھا ہے کہ اکثر عورتیں شرعی پردہ نہیں کرتیں۔ صرف رواجی پردہ کرتی ہیں، جب گھر سے باہر نکلنا ہوتا ہے تو خوب پردہ کر لیتی ہیں لیکن گھروں میں نوکروں، دیوروں اور رشتے داروں کے سامنے پردے کا حق ادا نہیں کرتیں جس کا سارا گناہ ان کے ساتھ ساتھ ان کے شوہروں کو بھی ہو گا۔ میں ان سے یہی کہوں گی کہ وہ اپنے اللہ کی طرف رجوع کریں۔ ان شاءاللہ ان کا یہ عمل دنیا و آخرت کی کامیابی کیلئے اجر کا ذریعہ ہو گا۔
میں مسلمان کیسے ہوئی؟ایک تھائی خاتون کی قبول اسلام کی کہانی ۔۔۔ ایرانی اہل سنت کی آفیشل ویب سائٹ

بےباک
04-04-2012, 02:29 PM
ناروے کی ایک سفید فام لڑکی جسے قبول اسلام پر گھر سے نکال دیا گیا تھا
میرا مسلمان ہونا میرے اہل خانہ کے لئے قابل قبول نہ تھا ۔ میری ماں نے مجھے گھر سے نکال دیا اور میں کئ دنوں تک ناروے کے مسلمان گھروں میں رہی۔ فارس نیوز ایجنسی کے مطابق اوسلو میں مقیم مونیکا ہانگسلم نے "اقرا ‏‏ء،، ٹیلی وژن پر اس موضوع پر گفتگو کرتے ہوۓ کہ اس نے کیوں اسلام قبول کیا کہا کہ میں نہ صرف پردے کو عورت کی توھین نہیں سمجھتی بلکہ میں اسے عورت کی سہولت اور آسانی کے لۓ انتہائی ضروری سمجھتی ہوں ۔ مونیکا کہتی ہیں میں نے اتفاقا اسلام قبول نہیں کیا ھے بلکہ یہ مسئلہ چند سال پرانا ھے میں اس علاقے سے تعلق رکھتی ہوں جہاں مرد رات کو نشہ میں دھت گھر آتے ہیں اور اپنی عورتوں کو تشدد کا نشانہ بنا کر اپنی اور اس کی زندگیوں کو تباہ کرتے ہیں ۔ میں نے اسلام کو ایک امن ، صلح اور رحمت کا دین سمجھ کر انتخاب کیا ھے اس سے پہلے کہ میں اسلام کو قبول کرتی میں نے قرآن مجید کا ترجمہ پڑھا اور اس کا انجیل سے موازنہ کیا اس کے بعد میں قرآن کی الہی تعلیمات کی مجزوب ہو گئي مونیکا کے بقول اس نے نہ صرف قرآن مجید کا مطالعہ کیا بلکہ فقہ اور سیرت پیغامبر سے بھی آشنائي پیدا کی۔ نومسلم مو نیکا کہتی ہیں یورپ میں لوگ انجیل کا نام تو لیتے لیکن بدقسمتی سے اس پر عمل نہیں کرتے لیکن جن مسلمانوں نے مجھے اسلام اور قرآن سے آشنا کیا وہ الهی اور قرآنی تعلمات پر عمل پیرا ہیں اور جو کچھ قرآن وسنت میں موجود ھے اس کا خاص خیال کرتے ہیں ۔ یہ وہ چند اھم چیزیں تھیں جن کو دیکھ کر میں نے اسلام قبول کیا ۔
مونیکا کہتی ہیں انجیل کا مطالعہ کرنے کے بعد بھی میں اس کے مطالب کو نہ تو صحیح سمجھ سکی اور نہ وہ قابل عمل تھے لہذا میں نے انجیل کو کنارے پر رکھ کر قرآن کا مطالعہ شروع کر دیا ۔ قرآنی مطالب نے مجھے حیران کر دیا اور میں نے ان سے بہت ذیادہ استفادہ کیا۔ میں سورہ توحید کے مطالعے اور تلاوت کوقرآن سے عشق کا آغاز اور اپنے لیے امن و سلامتی سمجھتی ہوں مونیکا کہتی ہیں میں اس پر بہت ذیادہ خوش ہوں کہ اس وقت میری بہت سی سہلییاں بھی اسلام قبول کر چکی ہیں اور میں بھی ایک مسلمان ہوں مونیکا اسلام قبول کرنے کے بعد اپنے خاندان کے رد عمل کی طرف اشارہ کرتے ہوۓ کہتی ہیں میرے گھرانے کے لیۓ میرا اسلام قبول کرنا ناقابل قبول تھا ۔ میری ماں نے مجھے گھر سے نکال دیا میں کافی عرصے تک مسلمان گھروں میں رہتی رہی۔ اس میں کوئي شک نہیں میرا مسلمان ہونا شروع میں میرے گھر والوں کے لیئے ایک بڑی مصیبت اور بحران کی مانند تھا لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ انہوں نے حقیقت کو تسلیم کر لیا اور مجھے گھر میں واپس بلا لیا ۔

مونیکا ہانگسلم نے اس سوال کے جواب میں کہ بعض لوگ اس طرح کے شکوک و شبھات کا اظہار کرتے ہیں کہ قرآنی تعلیمات میں عورتوں کے موجودہ امور کے بارے میں کوئی ھدایت نہیں ھے کہا ناروے کے زرائع ابلاغ اسلام کی صحیح تعلیمات اورحقیقی شناخت سے محروم ہیں ۔ وہ اسلام کی حقیقت کو لوگوں کو بتانے سے قاصر ہیں ۔ اسلام قبول کرنے کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچی ہوں کہ دین اسلام سے ذیادہ کوئي دین عورت کی عظمت اور احترام کا قائل نہیں ھے اسلام عورت کی آزادی اور احترام پر خصوصی توجہ دیتا ھے ۔

مغرب کی نظر میں عورت کی آزادی کا یہ مطلب ھے کہ وہ کپڑے اتارکر یا نیم برہنہ ہو کر سڑکوں پر گھومے پھرے آزادی کا حقیقی مفہوم یہ نہیں ھے میرا یہ عقیدہ ھے کہ اسلام نے عورت کو مکمل آزادی عطا کی ھے اور میں پردے کو عورت کی توھین نہیں بلکہ حجاب اور پردے کو عورت کی سہولت اور آسانی کے لیۓ ضروری سمجھتی ہوں ۔

مونیکا اپنی روز مرہ کی مصروفیات کی تفصیلات بتاتے ہوے کہتی ہیں میں آجکل ناروے کی بعض مسلمان خواتین کے ساتھ مل کر اسلامی تعلیمات کی تعلیم و تربیت کا پروگرام چلا رہی ہوں ۔ ناروے کے مسلمان اسلام کی وجہ سے گونا گوں مشکلات کا شکار ہیں ۔ یہاں کے مسلمان بچے مسلمان اساتذہ کی عدم موجودگی کی وجہ سے اسلامی تعلیمات سے دور ہیں لہذا مسلمان آبادی میں ایک مسجد کی تعمیر کا پروگرام بنایا گیا لیکن وسائل کی کمی کی وجہ سے یہ منصوبہ ابھی مکمل نہیں ہوا ھے۔ مونیکا مدینہ منورہ اور مکہ مکرمہ کی زیارت کے بارے میں کہتی ہیں میں جب مکہ مکرمہ پہنچی تو تو میرے اوپر ایک عجیب سی کیفیت طاری ہو گئی اور مسجد الحرام کی زیارت کے وقت تو مجھے ایسے محسوس ہواجیسے میں خدا کے بہت ہی قریب آ گئی ہوں ۔ میری آرزو ھے کہ یہ زیارت مجھے بار بار نصیب ہو اور اسلام پوری دنیا میں پھیل جاۓ ۔ مونیکا ایک شادی شدہ خاتون ہیں اور اس کے تین بچے ہیں جو قرآن پاک کو صحیح عربی لہجے میں تلاوت کرتے ہیں یہ پورا خاندان اسلام کے سا ۓ میں خدا پر ایمان رکھتے ہوۓ مطمئن زندگی گزار رہا ہے۔

بحوالہ ریڈیو اسلام

بےباک
04-04-2012, 02:56 PM
رنکل کماری سے فریال ، اور ڈاکٹر لتا کماری سے ڈاکٹر حفصہ کیسے بنی ،
رنکل کماری 16 جنوری 1992 کو ایک ہندو گھرانے میں پیدا ہوئی تھی،اس کا تعلق گھوٹگی کے علاقہ میرپور ماتھیلو سے ہے،اس نے ابتدائی تعلیم اپنے ہی علاقہ سے حاصل کی،2009میں اس نے میرپور ماتھیلو کے مہران پبلک ہائی اسکول سے میٹرک کی تعلیم مکمل کی،اسے ابتدا سے ہی اسلام کے مطالعہ کا شوق تھا،وہ ہمیشہ اسلامی کتب کا مطالعہ کیا کرتی تھی،انہی اسلامی کتب نے رفتہ رفتہ اس کے اندر انقلاب بپا کردیا،اس نے 24فروری2012کو”خانقاہ عالیہ قادریہ بھرچونڈی شریف “میں میاں عبدالحئی کے ہاتھ میں اسلام قبول کرلیا اور یوں وہ رنکل کماری سے ”فریال“بن گئی،اس کے بعد اس نے ایک مسلمان نوجوان نوید شاہ سے شادی کرلی،شادی اس کی اپنی مرضی سے ہوئی تھی،چنانچہ اس کا یہ عمل اس کے ہندو خاندان کے افراد کو ایک آنکھ نہیں بھایا،انہوں نے اس کے اس اقدام کو اپنی ”عزت“پر”ڈرون حملہ“تصور کیا،چونکہ یہ ان کی ناک کا مسئلہ تھا،اس لیے اس کے خاندان کے افراد اس پر دوبارہ اپنے مذہب کی طرف پھرجانے کے لیے دباﺅ ڈالنے لگے، انہوں نے اسے جان سے مار ڈالنے کی دھمکی بھی دی،لیکن اس کے پائے استقامت میں لرزش تک نہ آسکی،یوںوہ ان کے دباﺅمیں نہیں آئی،وہ اپنے رب کے سچے مذہب پر ڈٹی رہی،جب دباﺅ،دھمکی اور دھونس سے بیل منڈھے چڑھتی نظر نہیں آرہی تو انہوں نے اس کے خلاف جھوٹا کیس دائر کرنے کی کوشش کی،چنانچہ اس کے ارب پتی ماموں راجیش کمارنے اپنے اثرو رسوخ استعمال کرتے ہوئے اس کو جھوٹے مقدمہ میں پھنسادیا،اس کے ماموںکے پیپلز پارٹی کے اہم بندوں تک رسائی اور تعلقات ہیں،یوں اس بے گناہ نو مسلمہ کے خلاف کیس دائر ہوگیا،پٹیشن میں یہ کہا گیا کہ اس کو نوید شاہ نے اغوا کرکے اس سے زبردستی شادی رچالی ہے ،اس لیے ہماری بیٹی ہمارے حوالہ کی جائے،اس کے بعد اسے انصاف کے لیے دَردَر ٹھوکریں کھانی پڑیں، وہ کورٹ کچہری سے پولیس تھانے تک اِدھر اُدھردھکے کھاتی رہی،حالانکہ وہ اپنے شوہر کے ساتھ بیٹھ کرکراچی پریس کلب میں ببانگِ دہل کہہ چکی ہے کہ اس نے پورے ہوش و حواس کے ساتھ اپنی مرضی سے اسلام قبول کرکے نوید شاہ سے خود شادی کی ہے،اس کے اس جرم پراس کا میڈیاٹرائل کیا گیا ،ہیومن رائٹس کی تنظیموں ،قوم پرست رہنماﺅںاور ہندوبرادری کی طرف سے طعن و تشنیع کا نشانہ بنایا گیا،سیکولر صحافیوں نے بھی اپنے دل کی بھڑاس نکالی،دردمند مسلمانوں کی طرف سے لاکھ احتجاج اور خود اس کی فریاد و التجا کے باوجوداب وہ بے چاری دارالامان (شیلٹر ہوم)میں لے جائی جاچکی ہے،وہ آخر تک حکام کی طرف سے مینٹلی ٹارچر کرنے پرپاکستانیوں کو جھنجھوڑتی رہی کہ میں نے اسلام قبول کرکے کوئی اتنا بڑا جرم نہیں کرلیااور یہی پوچھتی رہی کہ کیا پاکستان میں اسلام قبول کرنا جرم ہے؟

اسی طرح آپ ”لتا کماری“کی کہانی بھی دیکھ لیں!یہ ڈاکٹریٹ کی ڈگری کی حامل ہے،اس نے بھی گزشتہ دنوں اسلام قبول کرلیا ہے،اب وہ ”لتا کماری“سے ڈاکٹر حفصہ بن چکی ہے،اسے بھی اپنی برادری کی طرف سے ہراساں کیا جارہا تھا،یہ اسی جرم کی پاداش میں کئی دنوں تک عدالتوں کے دَردَر اپنی جوتیاں چٹخانے کے بعد اب وہ بھی زبردستی دارالامان منتقل کردی گئی ہے،ان دونوں کو اسلامی جمہوریہ پاکستان کی ”اسلامی جمہوری حکومت“ کی جانب سے باعزت ملازمت،مناسب رہائش اور تحفظ فراہم کرنے کے بجائے الٹاان دونوں کو ہراساں کیا گیا،جو کہ انتہائی افسوسناک اور شرمناک عمل ہے،پرایوں کو چھوڑیئے !اپنوں نے ان کے ساتھ جو کیا ہے، اس سے ہر دردمند پاکستانی کا سر شرم سے جھک گیا ہے ، ”آزاد عدلیہ“ نے بھی اس موقع پر اندھے پن کا مظاہرہ کرکے انصاف کے ساتھ ایک انتہائی بے ہودہ مذاق کیا،جب چند دن پہلے معصوم آمنہ کو اسکی فرنچ ماں کے حوالے کیا جارہا تھا ،تب بھی وہ فلک شگاف چیخیں مارمارکر کہہ رہی تھی کہ اس نے اس کی کافر ماں کے پاس نہیں جانا،لیکن کسی کے کان میں جون تک نہیں رینگی،اب ان دونوں کو اسلام قبول کرنے کی اسلامی ملک میں جو سزا دی جارہی ہے،اس کی تاریخ میں نظیر نہیں ملتی،اس کے برعکس دنیا کی سب سے بڑی سیکولر ریاست ہندوستان کی انتہا پسند تنظیم شیو سینا کے سربراہ بال ٹھاکرے کو دیکھ لیں! جو زمانے کا ”ابوجہل“ہیں اور جن کا نام اسلام دشمنی کا ایک استعارہ ہے،جب ان کی پوتی ڈاکٹرنیہاٹھاکرے نے اسلا م قبول کیا،تب اس پر انہوں نے بھی اتنا خطرناک ردعمل نہیں کیا،کسی نے وہاں اس پرذہنی تشدد نہیں کیا،وہاں کے انتہائی متعصب میڈیا نے اس کے خلاف اس طرح پروپیگنڈہ نہیں کیا،جس طرح ہم فریال اور ڈاکٹر حفصہ کے ساتھ کر رہے ہیں،اسی طرح آپ برطانوی صحافی یوآنے رڈلی(yvonne ridley)کو دیکھ لیں،جنہوں نے افغانستان میں چند دن طالبان کے ساتھ بِتائے اور پھر مسلمان ہوگئیں،جس پر پوری دنیا ورطہء حیرت میں پڑگئی،لیکن کسی نے ان کے خلاف بھانچیں نہیں پھاڑیں،ٹونی بلیئر کی سالی نے بھی اسلام قبول کیا،لیکن ان کااس طرح میڈیا ٹرائل نہیں کیاگیا،امریکی گلوکارہ مسلمان ہوئی،اس کو کسی نے شیلٹر ہوم نہیں بھیجا،ہالی وُڈ اداکار بھی پچھلے دنوںمشرف بہ اسلام ہوئے لیکن وہاں کسی نے ان سے تند و ترش سوالات نہیں کیے ،پچھلے سال 5000سے زائد پورپین مرد و خواتین بھی اسلام کے دائرہ میں آئے،لیکن وہاںکسی نے ان کے خلاف گلا نہیں پھاڑا،لیکن پاکستان میں ایسا کیوں ہے؟کیا یہاں اسلام قبول کرنا واقعی کوئی گناہ ہے؟ایسا تو بھارت،برطانیہ اور کسی دوسرے ملک میں بھی نہیں ہوتا،انتہائی سینئر صحافیوں تک نے اس معاملہ میں ڈس انفارمیشن کا سہارا لیا،حقائق کو یکسر بدل کر یہ سوال کربیٹھے کہ کلاشنکوف کے سائے تلے اسلام قبول کروانا کیسا ہے؟ان کے ری ایکشن کو دیکھ کر ایسا لگ رہا ہے گویا واقعی فریال نے بہت بڑا اورناقابِل ِمعافی جرم کرلیا ہو،حالانکہ فریال بارہا کہہ چکی کہ اس نے اپنی مرضی سے با ہوش و حواس شادی کی ہے،لیکن پھر بھی اس کے خلاف یہ میڈیا کمپین گہری سازش نہیں تو اور کیا ہوسکتی ہے؟یہ پاکستان کے تمام ہی مسلمانوں کے ایک لمحہء فکریہ ہے!

ان دونوں کے کیسزسے قطع نظر اگر آپ پاکستانی معاشرے کو ہی دیکھ لیںتو آپ کو لگے گاکہ یہ صرف فریال اور ڈاکٹر حفصہ کی ہی کہانی نہیں،بلکہ یہاں دین پرکامل عمل پیرا تعلیم یافتہ نوجوان،چار دیواری میں سمٹی باپردہ خاتون اورمسجد کے ایک گوشہ میں لرزتے کانپتے بوڑھے تک آج اپنے معاشرے کے ظلم و ستم کا نشانہ بنے ہوئے ہیں،آج ہمارے ہی معاشرے میںشعائر ِاسلام کی پابندی کرنے والے کو حقیر ترین مخلوق سمجھا جاتا ہے،آج اسلامی جمہوریہ پاکستان میں واقعی اسلام کا نام لینا جرم بنادیا گیا ہے،یہاں اسلام پر کما حقہ عمل کرنا انگارہ ہاتھ میں لینے کے مترادف ہوگیاہے،شریعت ِ مطہرہ کے نفاذ کا نعرہ لگانے والا میڈیا کے لعن طعن اورتنقید کا نشانہ بنتا ہے،جہاں یہ سب کچھ ہوتا ہو،وہاں کے نقارخانوں میں ان دو طوطیوںکی آواز کون سنے گا؟

ذرابتایئے !محسنِ پاکستان کی شخصیت کا جرم کیا تھا؟ اسی اسلام،عالمِ اسلام اور پاکستان سے ہی محبت کی پاداش میں سپرد ِزنداں کردیے گئے،آپ امریکی عقوبت خانہ میںکسی” محمد بن قاسم“ کو آواز دیتی پابندِ سلاسل عافیہ صدیقی کو دیکھیں!اس کا جرم بھی یہی تھا کہ وہ اسلام سے بے تحاشا محبت کرتی تھی اور وہ حافظہ ¿ قرآن تھی، ہم نے اسے بھی انسان نما درندوںکے ہاتھوںفروخت کرڈالا،آپ لال مسجد میں راکھ بننے والی طالبات کو یاد کریں!ان کا جرم بھی یہی تھا کہ وہ اپنے پیارے وطن میں اسلامی نظام نافذکرنا چاہتی تھیں،دیکھیے!ان کا حشر کیا ہوا؟آپ سوات آپریشن کو ذرا یاد کیجیے!وہاںکے مکینوںکے خلاف آپریشن کیوں کیا گیا؟وہ صرف یہی چاہتے تھے ناں کہ ان کے ملک میں نظامِ عدل ریگولیٹ ہو،ان کے ساتھ کیسا سلوک کیا گیا؟جہادِ افغانستان اور جہادِ کشمیر کے مجاہدین کل تک ہیرو تھے اور آج دہشت گرد ہوگئے،اس افغان سفیر ملا عبدالسلام ضعیف کا کیا قصور تھا ،صرف یہی کہ وہ ایک خالص اسلامی مملکت کا نمائندہ تھا،جسے ہم نے خون آشام امریکی بھیڑیوں کے ہاتھوں میں فروخت کرڈالا،یہ صرف چند ایک واقعات ہیں،اس کے علاوہ میڈیا کے ذریعے اسلامی معاشرے کے خلاف جو جنگ لڑی جارہی ہے،وہ ایک الگ اور لامتناہی سلسلہ ہے،تفصیل میں جائیں تو پھر حقائق کے اور دَر کھلتے جائیں گے۔

سچ تو یہ ہے کہ آج پاکستان کے مسلمانوں سے ان کا اسلامی تشخص،اسلامی شناخت اور پہچان سلب کرنےکی ایک سوچی سمجھی منصوبہ بندی کے ساتھ سازش جاری ہے، و ہ پاکستان جو صرف اور صرف اسلام کے قلعہ کے طور پر وجود میں آیا تھا،جس کے لیے لاکھوں فرزندانِ توحید نے اپنی جانیں نچھاور کیں،جو آج بھی عالم ِ اسلام کی امیدوں کا محور و مرکز ہے،اس میںتو دو رائے ہو ہی نہیں سکتی کہ پاکستان اسلام کے نام پر حاصل کیا گیا ہے،لیکن آج یہاںقانون سازی سے لے کران کے نفاذ تک جو کچھ بھی ہورہا ہے ،وہ اکثر سراسر اسلام سے متصادم ،مخالف اور متضادہورہاہے،یہاں مخصوص لابیزاس کی اسلامی شناخت کو مٹانے پر تُلی ہوئی ہیں،پارلیمنٹ میںاس کا نام ”اسلامی جمہوریہ پاکستان“ سے بدل کر ”عوامی جمہوریہ پاکستان“رکھنے اوروزارتِ عظمی اورصدارتی امیدوار کے لیے مسلمان ہونے کی شرط کے خاتمہ کے لیے قرردادبھی پیش کی جاچکی ہے،اسلام کی حالت یہاں اس بوڑھے باپ جیسی ہوتی جارہی ہے، جسے اس کے بچے ”ایکسپائر“قرار دے کر گھر سے باہر فٹ پاتھ پہ بٹھادیتے ہیں،یہاں سیکولر لابیز،طاغوتی طاقتیں اور سامراجی قوتیںمنظم پلاننگ کے ساتھ اسلام کو دیس نکالا دینا چاہتی ہیں۔

لیکن ایک بات ہمیشہ یاد رہے!سیکولر ازم کے علمبردار لاکھ کوشش کرلیں،ان کا ”سیکولر پاکستان“ کا خواب کبھی شرمندئہ تعبیر نہیں ہوگا،یہ پاکستان ”لاالہ الااللہ “کے نعرے پر حاصل کیا گیا ہے،اس کی بنیادوں میںلاکھوں شہیدوں کا خون موجزن ہے،یہ مملکت ِخداداد شہیدوں کی امانت ہے،انہوں نے خدا کے دین کی خاطر قربانیاں دی ہیں،ان کو خدا اَکارت جانے نہیں دے گا،اس کی اساس بھی اسلام ہے اور منزل بھی،راہِ عمل بھی شریعت ِ محمدیہ ہے اور نظام ِ عمل بھی!اسلام نہیں تو کچھ بھی نہیں،اسلام اس ریاستِ خداداد کا لاحقہ ہے،اس سے اس کی یہ شناخت کوئی نہیں چھین سکتا،یہ قوم لوڈشیڈنگ،مہنگائی اور بدامنی کو سہہ جاتی ہے ، لیکن اپنے دین،مذہب اور شریعت کی خاطریہ کوئی کمپرومائز نہیں کرتی،دنیا کی کوئی طاقت نہیں ،جو اس سے یہ تشخص سلب کرسکے اور جویہاں اسلامی نظام کی راہ میں رکاوٹ بنے یا اپنی دریدہ دہنی کا مظاہرہ کرے گا،اس کا انجام بھی عبرت ناک ہوگا ،آپ سلمان تاثیراور شہباز بھٹی جیسے دریدہ دہن لوگوں کا انجام بھی دیکھ لیں!،وہ کس ٹریجڈی کا شکار ہوئے؟یہ قوم اسلام کی خاطر ہردکھ،تکلیف اور مصیبت کو جھیلنے کو ہمہ وقت تیار ہے اوریہ قوم پاکستان میںاپنی آخری سانس تک اسلام کی خاطر جدوجہدکرتی رہے گی،کیونکہ یہ ایک خدا کے ماننے والے ہیںاور اسی کی خاطرجیتے، لڑتے اور مرتے ہیں،یہ خدا کی جنگ ہے اور اس کے مدِ مقابل آنے والوں کو نوید ہو کہ دنیا کی پوری تاریخ گواہ ہے کی آج تک خدا سے کوئی نہیں جیت سکا ....!
بشکریہ ، محمد زاہر نورالبشر

بےباک
04-04-2012, 04:11 PM
راہول سے راحیل تک (اعظم طارق کوہستانی)

میں ظفر ٹاون سے قذافی ٹاون ایک انتہائی ضروری کام سے جارہا تھا۔ قذافی ٹاون نزدیک تھا اس لیے پیدل ہی رواں دواں ہوگیا۔ میرا ذہن اس کام میں ایسے اٹکا ہوا تھا کہ ایک آدمی سے زوردار ٹکر لگ گئی.... وہ 27 سے 28 سال کا نوجوان تھا ، جس کی آنکھوں پر چشمہ اور چہرے پر گھنی داڑھی تھی۔ اس کے چہرے پر ایسی غضب کی مسکراہٹ تھی کہ کاندھے میں شدید درد محسوس ہونے کے باوجود میرا غصہ کافور ہوگیا۔ ”معاف کیجیے گا“ کہہ کر وہ شخص مڑنے کو تھا کہ اس نے مجھے غور سے گھورنا شروع کیا۔ اس کی نگاہیں میرے ماتھے پر لگے چوٹ کے نشان پر جمی ہوئی تھیں۔ قبل اس کے کہ میں اس کے گھورنے کی وجہ دریافت کرتا اس نے زوردار انداز سے مجھے گلے لگایا۔ ”معاف کیجیے گا حضور.... میں نے آپ کو پہچانا نہیں“۔ میں نے حیرت اور ناگواری سے پوچھا۔ ”ہاں واقعی، یہ داڑھی میری پہچان میں رکاوٹ بن رہی ہے.... لیکن بہت جلد تم جان جاوگے.... آؤ چائے پی لیتے ہیں“۔ وہ میری حیرت کو یکسر نظرانداز کرتا ہوا مجھے قریبی ہوٹل میں لے گیا۔ مجھے دیر بھی ہورہی تھی لیکن اپنی حیرت اور تجسس کو ختم کرنے کے لیے طوہاً و کرہاً اس کے ساتھ آگیا۔ ”سلطان پور.... راہول.... کرشنا.... کچھ یاد آیا؟“ اس نے کرسی پر بیٹھتے ہوئے کہا۔ ”سلطان پور.... راہول....“ میں بڑبڑایا اور دوسرے ہی لمحے اسے پہچان کر حیرت کے مارے کرسی سے اسپرنگ کی طرح اچھلا اور ایک بار پھر اس اجنبی سے گلے لگ گیا۔ مجھے یقین نہیں آرہا تھا کہ ہم یوں دوبارہ ملیں گے۔ میرے ذہن کے نہاں خانوں میں ماضی کے اوراق بڑی سبک رفتاری کے ساتھ کھلتے جارہے تھے۔
٭........٭٭٭........ ٭
یہ ان دنوں کی بات تھی جب میں نویں کا امتحان دے چکا تھا کہ والد صاحب کا ٹرانسفر سلطان پور نامی گاؤں میں ہوا۔ ٹرانسفر ہونے کی مشکلات پر والد صاحب نے کبھی اپنے افسران سے محتاجی کا اظہار نہیں کیا۔ انہوں نے پہلی فرصت میں میرے اسکول کا تبادلہ کروایا اور اس سے اگلے دن ہم لوگ سامان وغیرہ باندھ کر ”سلطان پور“ روانہ ہوگئے۔ میں والدین کا اکلوتا بیٹا تھا۔ سلطان پور گاؤں ایک ہزار مکانات پر مشتمل تھا۔ اس گاوں میں ہندؤوں کی بھی ایک کثیر تعداد تھی۔ مجھے ایک اسکول میں داخل کرایا گیا جو کہ میٹرک تک تعلیم دیتا تھا۔ اس اسکول میں آنے کے بعد مجھ پر کئی راز افشا ہوئے‘ ایک تو یہ کہ میں خود کو بڑا تیس مار خان سمجھتا تھا لیکن یہاں مجھ سے بھی ذہین بچے موجود تھے۔ دوسرا یہ کہ یہ ذہین بچے اکثریت میں ہندو تھے۔ ہندو لڑکوں کا باقاعدہ گروپ قائم تھا جس کے مرکزی لیڈر راہول اور کرشنا تھے۔ اس گروپ کی خاص بات یہ تھی کہ اس میں کوئی مسلمان بچہ شامل نہیں ہو سکتا تھا‘ دوسرا یہ کٹر ہندو کہلاتے تھے جو گائے کے گوشت سے لے کر پیاز تک کھانے کو پاپ (گناہ) سمجھتے تھے۔ یہ لوگ کھیلتے اور پڑھتے بھی ساتھ تھے۔ جسم بھی ان کے کافی مضبوط اور توانا تھے‘ اس لیے مسلمان بچے پڑھائی کے علاوہ لڑائی میں بھی ان سے الجھنے سے احتراز برتتے تھے۔

ایک دن میں اسکول کے میدان میں بینچ پر بیٹھا کچھ لکھ رہا تھا کہ راہول اور کرشنا اپنے گروپ کے ہمراہ چہل قدمی کرتے ہوئے بینچ کے ساتھ کھڑے ہوکر باتیں کرنے لگے۔ ”یار کرشنا! مجھے تو یہ سوچ کر ہی کراہیت آتی ہے کہ انسان ایک معصوم جانور ﴿گائے ﴾ جس کے چہرے سے معصومیت ٹپکتی ہے‘ اسے باندھ کر اپنے ہاتھوں سے انتہائی بے دردی سے قتل کرکے اسے آگ میں پکاتا ہے اور پھر اسے کتوں کی طرح کھا جاتا ہے“۔ یہ لوگ مجھے سنانا چاہ رہے تھے۔ ”آخ تھو! یار یہ گوشت کھانے کی باتیں مت کیا کرو.... معلوم نہیں یہ مسلمان لوگ گوشت کو کھا کیسے لیتے ہیں“۔ یہ کرشنا تھا۔ ”بالکل کتوں کی طرح“۔ یہ بھگوان داس تھا جس کی بات سن کر سب ہنسنے لگے جب کہ میں تڑپ کر رہ گیا۔ ”تم لوگوں کو کیا تکلیف ہے‘ اگر ہم گائے کا گوشت کھاتے ہیں تو.... ہمارے مذہب نے اس کی اجازت دے رکھی ہے“۔ میں چلاّ کر بولا۔ ”تم سے کسی نے بات کی ہے؟“ راہول اپنی افرادی قوت کو دیکھ کر اکڑنے لگا۔ ”چلو بھائی....! چھوڑو اسے.... ویسے بھی اسلام خونخواروں کا مذہب ہے“۔ وہ میری بات پر قہقہہ لگاتے ہوئے آگے بڑھ گئے۔

٭........٭٭٭........ ٭

ڈنمارک میں جب ایک ملعون نے انسانوں کے عظیم محسن، محسنِ انسانیت کے گستاخانہ خاکے شائع کیے تو پاکستان سمیت دنیا بھر میں مسلمان سراپا احتجاج بن گئے۔ پورے ملک میں احتجاج ہورہا تھا۔ اخبارات اور ٹی وی کے ذریعے ہمیں بھی خبریں مل رہی تھیں۔ اس دوران میں نے راہول اور کرشنا کے مقابلے میں مسلمان بچوں کو متحرک کیا، جو لڑکے پڑھائی میں کمزور تھے انہیں کمبائن اسٹڈی کے لیے راضی کیا اور ایک دو ماہ کے اندر اندر ان کا رزلٹ پڑھائی میں انتہائی شاندار ہوگیا تھا.... مزہ تو تب آیا جب بورڈ کے پیپرز سے پہلے اسکول میں ہونے والے پیپرز میں، میں نے اوّل پوزیشن حاصل کی۔ راہول کی پوزیشن پر قبضہ کرلینا کوئی آسان کام نہ تھا.... اساتذہ اب مجھ پر زیادہ توجہ دیتی، اور پھر جب عامر چیمہ شہید نے گستاخِ رسول پر قاتلانہ حملہ کرکے اسے زخمی کردیا تو گاؤں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ البتہ اسکول میں ہندووں کا وہ ٹولہ اب ناخوش نظر آتا تھا۔ کلاس میں سر عبدالرحمن کے نہ آنے کی وجہ سے پیریڈ خالی تھا۔۔۔
لڑکے عامر چیمہ کی بہادری کے قصے سناکر خوش ہورہے تھے کہ میرے کانوں میں راہول کی آواز ٹکرائی.... ”شدت پسند.... اجڈ، جاہل.... گنوار اپنی اس حرکت پر یہ لوگ کیسے خوش ہو رہے ہیں.... شرم سے ڈوب مرنا چاہیے، دنیا چاند پر پہنچ گئی اور انہیں اس بات کا قلق ہے کہ ان کے نبی کا کارٹون بنایا گیا ہے“۔ راہول نے طنز و تشنیع کے تیر برسانے شروع کردیئے۔ ”انہیں تو خوش ہونا چاہیے کہ ایک مشہور آرٹسٹ نے ان کے نبی کی تصویر بنائی‘ لیکن یہ لوگ جنگلیوں کی طرح اس معصوم انسان پر جھپٹ پڑے اور اسے لہولہان کر دیا۔“ کرشنا نے ہونٹ چباتے ہوئے کہا۔ ”یار ایک کارٹون ہی تو تھا.... جس پر اتنا واویلا مچایا جارہا ہے“۔ راہول نے نخوت سے کہا۔ ”اب بس کرو‘ ہمارے صبر کا امتحان مت لو“۔ صابر نے حتی الامکان اپنے لہجے کو نرم بنانے کی کوشش کی‘ لیکن اس کے لہجے میں غراہٹ نمایاں تھی۔ ”اب واقعی کسی نے ایک لفظ بھی پھوٹا تو اچھا نہیں ہوگا“۔ میرے بولنے سے پہلے ”وکی“ بول پڑا۔ وکی ہندو تھا اور کرشنا کا بھائی.... لیکن وہ میرا گہرا دوست تھا اور راہول اور کرشنا کا سخت مخالف۔ ”تمہیں کیوں آگ لگی ہوئی ہے“۔ کرشنا نے وکی کو برستے ہوئے دیکھا تو حیرت سے کہا۔ ”جب وہ ہمارے بھگوان کا مذاق نہیں اڑاتے تو تمہیں بھی کوئی حق نہیں کہ ان کے مذہبی جذبات کو چھیڑو“۔ وکی نے چیخ کر جواب دیا۔ ”وکی تم خاموش ہوکر بیٹھ جاؤ.... ہم نہیں چاہتے کہ ان مسلّوں کی وجہ سے ہم اپنے کسی ساتھی پر ہاتھ اٹھائیں“۔ راہول نے وکی کو دھمکاتے ہوئے کہا۔ ”اگر تم لوگوں نے انہیں ہاتھ لگایا تو پھر میں دیکھتا ہوں تم لوگوں کو“۔ وکی بھی اپنے بھائی کی طرح گرانڈیل جسم کا مالک تھا۔ راہول غصے سے اپنی جگہ سے اٹھنے ہی والا تھا کہ کرشنا نے اسے ہاتھ سے پکڑ کر روک لیا۔ ”چلو راہول.... اور تم لوگ بھی آؤ“۔ کرشنا نے راہول اور اپنے ساتھیوں کو مخاطب کرکے کہا۔ ان کے جانے کے بعد عمران نے دانت پیستے ہوئے کہا ”اس راہول کے بچے کو سبق سکھانا ہوگا“۔ ”ہاں اور اس کرشنا کو بھی“۔ صابر نے وکی کو دیکھتے ہوئے کہا تو وکی نے بھی اثبات میں سر ہلا دیا۔ جب کہ میں کوئی ایسا طریقہ اختیار کرنا چاہ رہا تھا کہ سانپ بھی مرجائے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے۔ اگر ہم براہِ راست راہول اور کرشنا کی پٹائی لگاتے تو اس سے ہمیں فائدہ ہونے کے بجائے نقصان ہوتا کیونکہ وہ لوگ اسلام کے حوالے سے اپنی شدت پسندی میں مزید اضافہ کردیتے۔ بالآخر میرے ذہن میں ایک ترکیب آئی اور میں نے کل ہی اس پر عمل درآمد کا سوچ لیا.... لیکن ہوتا وہ نہیں جو انسان سوچتا ہے۔
٭........٭٭٭........ ٭
راہول دوسرے دن جیسے ہی کلاس میں داخل ہوا کلاس میں سب بچوں کو ہنستے ہوئے دیکھا‘ اور لڑکوں کی نظر جب اس پر پڑی تو وہ اور زور سے ہنسنے لگے۔ اسمبلی کی بیل بجنے میں ابھی کافی وقت تھا۔ راہول کی نظر بلیک بورڈ پر پڑی تو وہ ہنسنے کا مفہوم سمجھ گیا۔ بلیک بورڈ پر گیلے چاک سے کسی نے ایک مضحکہ خیز قسم کی تصویر بنائی تھی جس کے ماتھے پر راہول کے ابو ”رام داس“ کا نام لکھا ہوا تھا۔ ”دیکھ راہول! کسی نے تیرے پتا جی کی تصویر بنائی ہے“۔ یہ فہد تھا۔ ”واہ کیا تصویر ہے“ مصطفی بھی چہکا۔ ”کس نے بنائی ہے یہ تصویر؟“ راہول زور سے گرجا.... غصے کے مارے اس کا جسم کانپنے لگا.... اس نے ڈسٹر ڈھونڈنے کی کوشش کی جو کہ اسے نہ ملنا تھا نہ ملا۔ وہ مزید جھنجھلا گیا اور اپنی کاپی سے صفحہ پھاڑ کر بلیک بورڈ پر جھپٹا اور تصویر مٹانے لگا۔ اس کے غصے کو دیکھتے ہوئے سب کی ہنسی کو بریک لگ گئے۔ تصویر گیلے چاک سے بنائی گئی تھی اس لیے باوجود کوشش کے مٹ نہ سکی۔ وہ غصے سے پھنکارتا ہوا سب کو گھورتے ہوئے بولا ”میں پوچھتا ہوں یہ تصویر کس نے بنائی ہے؟“ ”عثمان نے بنائی ہے“ کسی نے ہانک لگائی۔ نام لینے کی دیر تھی کہ راہول منہ سے جھاگ اڑاتا ہوا میری جانب بڑھا اور مجھے گریبان سے پکڑلیا :”تیری جرات کیسے ہوئی میرے پتا جی کا مذاق اڑانے کی“۔ میں نے اس کے ہاتھوں پر اپنے ہاتھ جمائے اور پرسکون لہجے میں کہا ”کچھ زیادہ پیار ہے تمہیں اپنے پتا جی سے“۔ ”تمہاری سوچ سے بھی زیادہ....“ وہ گالی دے کر چلاّیا۔ ”پھر تو میں یہ تصویر روز بناؤں گا“۔ میں نے بھی غصے سے جواب دیا۔ راہول تو جیسے غصے سے پاگل ہوگیا۔ سیکنڈ کے ہزارویں حصے میں اس نے اپنی جیب میں ہاتھ ڈال کر نجانے کس وقت ”پرکار“ نکال لیا تھا اور دوسرے لمحے اس نے آؤ دیکھا نہ تاؤ‘ میرے پیٹ میں پوری قوت سے بغیر کسی ہچکچاہٹ کے پرکار گھونپ دیا۔ ایسا لگا کہ کسی نے پیٹ میں بم پھاڑ دیا ہو۔ درد سے میں دوہرا ہوگیا۔ اس صورت حال میں بھی میں نے راہول کی ناک پر مکّا جمانے کی کوشش کی لیکن تکلیف کے سبب مکّا ہوا میں ہی گھوم کر رہ گیا۔ اس نے اسی پر بس نہیں کیا‘ پرکار نکال کر دوبارہ میری آنکھ میں مارنا چاہا.... پیچھے کھڑا مصطفی مجھے کھینچ نہ لیتا تو شاید میں زندگی بھر دیکھ نہ سکتا‘ لیکن پرکار میرے ماتھے کو چیرتا ہوا نکل گیا۔ اس وقت سارے لڑکوں نے راہول کے ہاتھ پکڑ کر پرکار چھین لیا۔ اس سے آگے میں کچھ نہیں دیکھ سکا اور میں کسی شہتیر کی مانند زمین پر آرہا۔یعنی بےہوش ہو گیا
٭........٭٭٭........ ٭
جب میری آنکھ کھلی تو میں لاہور کے ایک بڑے اسپتال میں زیر علاج تھا۔ گاؤں کے کلینک میں صرف مرہم پٹی کی گئی تھی۔ ڈاکٹر نے فوراً لاہور لے جانے کا مشورہ دیا تھا۔ خون زیادہ بہہ جانے کی وجہ سے مجھے دو دن بعد ہوش آیا۔ مجھے اپنی امی کے ذریعے پتا چلا کہ راہول کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔ 4 دن بعد ڈاکٹر نے مجھے گھر جانے کی اجازت دے دی لیکن میرا اصرار یہ تھا کہ جب تک راہول کو رہا کرکے گھر نہیں بھیجا جائے گا میں نہیں جاؤں گا۔ مجھے منانے کی کافی کوشش کی گئی لیکن میں نہ مانا، بالآخر ابو نے تھوڑی سی کوشش کے بعد راہول کو رہا کروا دیا۔

میں بھی گھر آ گیا اور ایک ہفتے بعد اسکول جانا شروع کردیا۔ پہلے دن ہی پرنسپل نے مجھے اور راہول کو بلایا.... شاید وہ ہماری صلح کرانا چاہتے تھے۔ راہول کو اپنے کیے پر ذرا بھی شرمندگی نہ تھی بلکہ وہ اس پر فخر کیا کرتا تھا کہ اس نے اپنے پتا جی کے گستاخ کو سبق سکھا دیا۔ تمام اساتذہ کی موجودگی میں پرنسپل نے مجھے اور راہول کو مسکرا کر دیکھا اور مجھ سے مخاطب ہوئے ”تم نے ان کے والد کی تصویر کیوں بنائی تھی جب کہ سمجھتے تھے کہ اس سے حالات کشیدہ ہوسکتے ہیں؟“ ”جی سر میں آج تمام ٹیچرز کے سامنے اس بات کی بھی وضاحت کردوں گا“۔ میں نے اپنی سانسوں کو درست کرتے ہوئے کہا۔ ”سر! آپ کو معلوم ہوگا کہ پچھلے دنوں ڈنمارک میں ایک گستاخ نے ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کرتے ہوئے کارٹون بنائے تھے۔ راہول اپنے گروپ کے ساتھ اس بات پر ہم سے الجھ پڑا کہ صرف ایک کارٹون کے بنانے پر انہوں نے ایک معصوم شخص کو خنجر مار کر لہولہان کردیا اور اس پر یہ لوگ خوش بھی ہورہے ہیں“۔ میرے لہجے میں اچانک ایسا اعتماد آیا جو میں نے پہلے کبھی محسوس نہیں کیا تھا۔ راہول کا چہرہ اب بھی سپاٹ تھا۔ ”پھر میں نے جب جان بوجھ کر ان کے والد کا کارٹون بنایا تو یہ اپنے پتا جی سے اتنا پیار کرتے تھے کہ برداشت نہ کر سکے اور ایک بھی نہیں بلکہ دو دفعہ ”پرکار“ کا وار کیا.... اگر خدانخواستہ ان کے ہاتھ میں خنجر ہوتا تو یہ تو مجھے وہ بھی مار چکے ہوتے.... میں راہول سے پوچھنا چاہتا ہوں۔“ میں نے راہول کو مخاطب کیا۔ ”جب آپ اپنے پتا جی کے ایک کارٹون کو برداشت نہ کرسکے تو پھر ہم سے کیوں یہ امید رکھ رہے تھے کہ ہم جس نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنی جان سے بھی زیادہ پیار کرتے ہیں، اس کی شان میں معمولی گستاخی بھی برداشت کریں گے.... ہرگز نہیں! مسٹر راہول ہم ہر چیز پر کمپرومائز کرسکتے ہیں لیکن.... جس طرح تم اپنے پتا جی کے معاملے میں کوئی کمپرومائز نہ کرسکے اس سے کہیں زیادہ ہم اس معاملے میں کسی قسم کا کمپرومائز نہیں کرسکتے.... کیا میں غلط کہہ رہا ہوں؟“ میں نے راہول سے پوچھا تو اس کی گردن کسی روبوٹ کی طرح نفی میں گھوم گئی۔ ”اس لیے غازی عبدالرشید سے لے کر عامر چیمہ شہید تک لاکھوں فرزندانِ توحید محسن انسانیت کی شان میں گستاخی کرنے والوں کو عبرت ناک سزا دیں گے“۔ میں یہ کہتا ہوا تیزی کے ساتھ اسٹاف روم سے باہر نکل گیا۔ سارے ٹیچرز اور پرنسپل مسلمان تھے لیکن میرے اس انداز پر ہکا بکا رہ گئے۔ جب کہ راہول کے چہرے پر وہ عظیم شرمندگی تھی جس نے شاید مجھے میرے مقصد میں کامیاب کردیا تھا۔ اس کے بعد راہول سے نہ تو میں نے بات کرنے کی کوشش کی نہ وہ پہل کرسکا۔ میٹرک کرنے کے بعد والد صاحب کا کراچی میں ٹرانسفر ہوگیا اور ہم ہمیشہ کے لیے کراچی آگئے۔
٭........٭٭٭........ ٭
آج برسوں بعد چہرے پر داڑھی سجائے راہول کو دیکھا تو حیرت زدہ رہ گیا۔ ”یار میں تو اسی وقت مسلمان ہوگیا تھا جب پرنسپل کے کمرے میں تم نے وہ مختصر مگر پراثر تقریر کی تھی۔ بعد میں تعلیم کے ساتھ اسلام کا مطالعہ کرتا رہا اور بالآخر 2009ءمیں اسلام کی آغوش میں سماگیا۔،، راہول نے کہا جو اب ”راحیل“ بن چکا تھا۔ ”اچھا.... لیکن تم نے مجھے پہچانا کیسے؟“ میں نے پوچھ تو لیا لیکن بعد میں شرمندہ بھی ہوا کہ یہ سامنے کی بات کیوں سمجھ نہیں آئی۔ ”تمہارے ماتھے پر زخم کے نشان کی وجہ سے“۔ ”یعنی تمہارے پرکار سے لگائے ہوئے زخم نے ہمیں ملانے میں کردار ادا کیا“۔ میں نے چائے کی چسکی لیتے ہوئے کہا تو راحیل شرمندہ ہنس پڑا۔ ”اور کرشنا کا کیا ہوا؟“ میں نے اس کی خفت مٹانے کی غرض سے پوچھا۔ ”وہ دونوں بھائی بھی مسلمان ہوگئے ہیں.... گھر والوں کے مظالم سے تنگ آ کر وہ لوگ سعودی عرب چلے گئے.... ہمیشہ کے لیے....“ راحیل نے جواب دیا۔ ”ویسے اسلام لانے کے بعد کیسا محسوس کرتے ہو؟“ راحیل نے ایک سکون بھرا سانس لیا اور کہا ”اگر دنیا جہاں کی دولت و شہرت بھی میرے پاس ہوتی تو شاید میں خوش رہ نہ پاتا لیکن اب اتنا سکون میسر ہے جس کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ اپنی پہلی زندگی کے بارے میں سوچتا ہوں تو جی چاہتا ہے کہ حسرت کے مارے اپنا ہاتھ چبا جاؤں۔ دن میں سو بار افسوس کرتا ہوں کہ اسلام پہلے کیوں قبول نہ کیا“۔
اس کی باتیں سن کر میں بہت زیادہ خوشی محسوس کرنے لگا۔

بےباک
04-04-2012, 09:49 PM
مسعود احمد صاحب سے ایک ملاقات
س: السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
ج : وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

س: آپ کے ساتھ دو ساتھی بھی آئے ہیں، اِن کا تعارف کرائیے؟
ج: یہ دونوں میرے دفتر کے ساتھی ہیں،ہمارے ساتھ گڑگاؤں میں امریکی کمپنی میں ملازمت کرتے ہیں،ان میں سے یہ پہلے صاحب ،ان کا نام سنجے کوشک تھا،ان کا نیا نام سعید احمد ہے،اور یہ دوسرے انوپم گلاٹھی تھے،اب محمد نعیم ان کانام ہے، دونوں سافٹ ویر انجینئر ہیں دونوں نے IIT روڑکی سے بی ٹیک کیا ہے ،ہم لوگ روڑکی میں ساتھ پڑھتے تھے،تینوں دوست ہیں، اب انشاء اللہ جنت میں ساتھ جانے کی تمنا ہے،جو بظاہر اللہ نے چاہا تو پوری ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔
یہ دونوں جماعت میں وقت لگاکر آرہے ہیں،ان کاچلہ عادل آباد میں لگا،وہاں پر انھوں نے حضرت کااور بھی تعارف سنا توبہت بے چین تھے کہ حضرت سے ملاقات ہوجائے،میری بھی خواہش تھی کہ ملاقات ہوجائے،وہ لوگ بیعت ہونے کے لئے آئے تھے ، اب چونکہ حضرت بالکل دعوت پر بیعت لینے لگے ہیں،اس لئے نئے ارادہ سے جا رہے ہیں۔


س:ان کو دعوت دینے میں آپ کوکوئی مشکل تو نہیں آئی ؟
ج:مشکل تو نہیں کہہ سکتے ،البتہ دوسال لگاتار دعائیں کرنی پڑیں ، اصل میں ان کوجب بھی اسلام کے بارے میں بتاتا،یا کوئی کتاب پڑھنے کو کہتا تو یہ میرا مذاق اڑاتے،یہ کہتے کہ ہمارے لئے کون سی کشمیری لڑکی تم نے تلاش کررکھی ہے جس کے لئے ہم مسلمان ہوں،میری بدقسمتی یا خوش قسمتی ہے جیسا کہ شاید آپ کو حضرت نے بتایا ہوگاکہ میرے اسلام قبول کرنے کا ذریعہ جموں کی ایک لڑکی سے تعلقات اور شادی ہوئی،یہ ذریعہ ظاہر ہے کسی دوسرے کے لئے اسلام میں دل چسپی کا ذریعہ نہیں ہوسکتا،تو میں جب بھی ان دوستوں کولے کر بیٹھتا یہ میرا مذاق بناتے،ان کو نان ویج(گوشت)کھانے کا بہت شوق ہے ،دعوت کے بہانے میں ان کو کریم ہوٹل جمعرات کو لے جاتا، اور مرکز لے جاکر تقریر سنواتا ،یہ میرا مذاق بناتے،مرکز کا بھی مذاق اڑاتے،ایک بار انھوں نے حضرت مولانا سعد صاحب کی بہت مذاق بنائی اور تین چار روز ان کی نقل اتارتے رہے،ایک ایک جملہ کو دو دوتین تین بار کہتے،مجھے دیکھتے ہی کہنے لگتے آؤ مولانا صاحب کی تقریر سنو،مجھے بہت تکلیف ہوتی،میں نے ان سے بولنا چھوڑ دیا، ان دنوں میں نے بہت دعائیں کیں،اپنے اللہ کے سامنے بہت فریاد کی، میرے اللہ کو مجھ پر ترس آ گیا، ایک ہفتہ سے زیادہ بول چال بند رہی ،پھر یہ دونوں میری خوشامد کرنے لگے جب ایک روز بہت خوشامدکی اور مجھ سے بہت معافی مانگی تو میں نے کہا میں تم سے اس شرط پر بولوں گاجب تم دونوں تین بار’’ آپ کی امانت‘‘ اور’’ مرنے کے بعد کیا ہو گا؟‘‘پڑھنے کا وعدہ کرو،وہ تیار ہوگئے،اصل یہ ہے احمد صاحب، اللہ کے یہاں سے فیصلہ ہو گیا تھا،میرے اللہ کو مجھ گندہ پر ترس آگیااور فیصلہ ہوگیا،بس انھوں نے تین تین بار’ آپ کی امانت‘ اور’ مرنے کے بعد کیا ہوگا؟‘پڑھی اور خود ہی اسلام قبول کرنے کو کہنے لگے،میں دار ارقم آیا،اتفاق سے دار ارقم میں کوئی نہیں ملا،مسجد میں ہم لوگوں نے دوپہر سے شام تک انتظار بھی کیا،پھر میں ان کو لے کر اگلے روز اتوار تھا جامع مسجددہلی چلاگیا،وہاں مولانا جمال الدین صاحب تفسیر بیان کرتے ہیں، انھوں نے ان کو کلمہ پڑھوایا،کڑکر ڈوبا کورٹ میں میرے ایک دوست وکیل ہیں، انھوں نے ان کے کاغذات بنوائے،دوسرے ہفتے انھوں نے چھٹی لی اور جماعت میں وقت لگایا،مجھے ایسا لگتا ہے اور میں ان سے کہتا ہوں کہ مجھے اس کا اندازہ اب ہوا کہ مجھے اپنے ان دوستو ں سے کتنی محبت ہے ، مجھے ایسا لگتا ہے کہ مجھے اپنے اسلام قبول کرنے کی اتنی خوشی نہیں ہوئی جتنی ان دونوں دوستوں کے اسلام لانے کی خوشی ہوئی،کئی بار دفتر سے رخصت ہوتے تو اتنی بے چینی ہوجاتی تھی کہ اگر میرا راستہ میں اکسیڈنٹ ہوگیا یا ان میں سے کوئی آج ہی مرگیا تو کیا ہوگا،اور میں رات بھر نہیں سوپاتا، دیر ہوجاتی تو اٹھتا، وضو کرتا،نماز پڑھ کر گھنٹوں گھنٹوں روتا رہتا،اخبار پڑھتا جگہ جگہ حادثے، اکسیڈنٹ، موت کی خبریں اور بھی بے چین کر دیتیں، میرے اللہ کا کرم ہے کہ اس نے یہ خوشی دکھائی اور انھیں جماعت بہت اچھی ملی ماشاء اللہ دونوں پابندی سے تہجد پڑھ رہے ہیں اور اب دعوت کا بہت جذبہ ان میں پیدا ہوگیا ہے۔


س: آپ تینوں گڑگاؤں میں ملازمت پر ساتھ لگے تھے؟
ج:نہیں! پہلے سنجے کوشک کی نوکری لگی،پھر ان کی کوشش سے ہم دونوں بھی اسی کمپنی میں ملازم ہوگئے،رہنا سہنا بھی ساتھ ہی ساتھ رہا ہے۔


س:آپ کی توشادی ہو گئی ہے،آپ اب بھی ساتھ ہی رہ رہے ہیں؟
ج:ہم تینوں جس فلیٹ میں رہ رہے تھے،میری شادی کے بعد ان دونوں نے میرے برابر میں ایک دوسرا فلیٹ لے لیا ہے، پرانا فلیٹ ذرا اچھا تھا ،وہ انھوں نے میرے لئے چھوڑدیا ہے۔


س: ابیّ بتارہے تھے کہ آپ کے سسرال والے سب بدعتی تھے، اللہ نے آپ کے ذریعہ ان کی اصلاح کی ہے، ذرااس کی تفصیل بتائیے؟
ج:اصل میں،میں جس کمپنی میں کام کرتا ہوں، وہاں ایک کشمیری جموں کی رہنے والی لڑکی آصفہ بٹ بھی کام کرتی تھی، اس سے میرے تعلقات ہوگئے،بات جب بڑھی تو شادی کے لئے آصفہ نے منع کردیاکہ تم ہندو ہومیں تم سے شادی نہیں کرسکتی، میرے لئے اس لڑکی کو چھوڑنا مشکل تھا،میں بہت غور کرتا رہا، میرے خاندان کاحال بھی ایسا نہیں تھا کہ میں لڑکی کے لئے مسلمان ہوتا،میں چھٹی لے کر بنارس اپنے گھر گیا کہ دیکھوں گھر والوں کی رائے کیا ہے؟ مگر وہ بنارس کے برہمن ان کے لئے تو نام لینا بھی جرم تھا،دو مہینے میں بنارس میں رہا، میرے دل میں وہ لڑکی جگہ کرچکی تھی کہ اس کے بغیر دو مہینے میرے لئے دو سوسال لگے،میں گڑگاؤں آیا اور میں نے فیصلہ کیا کہ گھر والوں کی مرضی کے بغیر مجھے اس سے شادی کرنی ہے،اور ایک روز میں نے آصفہ سے مسلمان ہوکر شادی کرنے کے لئے کہہ دیا،اس نے اپنے والد سے ملنے کے لئے کہا،اس کے والد لاجپت نگر میں شالوں کا کاروبار کرتے ہیں،میں ان سے ملا،انھوں نے کہا،تم مسلمان ہوجاؤ،ایک دو مہینے ہم دیکھیں گے،اطمینان ہو جائے گا تو شادی کر دیں گے،ہمارے جاننے والوں میں ایک لڑکی کے ساتھ ایک لڑکے نے مسلمان ہوکر شادی کی تھی، مگر دو سال بعد وہ پھر ہندو ہوگیا، میں نے کہا میںآپ کی ہر شرط ماننے کو تیار ہوں۔
وہ بولے اجمیر شریف چلیں گے تم وہاں چل کر مسلمان ہوجانا،میں ان سے تقاضاکرتارہتاتھامگر ان کو مصروفیت کی وجہ سے وقت نہیں ملتا تھا،دو مہینہ کے بعد ایک اتوار کو ہم شتابدی سے اجمیرگئے، وہا ں جاکر ایک سجادہ صاحب سے ملے،موٹی موٹی مونچھیں،کالی مخمل کی ٹوپی،کلین شیوپاجامہ زمین میں جھاڑو دیتا ہوا، ایک صاحب اپنی دوکان کے کاؤنٹر پر براجمان تھے،نہ جانے کیا نام تھا چشتی قادری صاحب ،ہمارے سسر جن کا نام منظور بٹ ہے،ان کے پاس گئے، ان کی خدمت میں مٹھائی پیش کی،کچھ نقدنذرانہ بھی دیا اور آنے کی غرض بھی بتائی،انھوں نے پانچ ہزار روپئے خرچ بتایا،پھول اور چادرالگ سے خریدنے کے لئے کہا، مجھے میرے سر پر پھولوں کی ٹوکری اور چادر رکھ کر اندر لے کر گئے، مزار کی دیوار سے لگا کر کچھ منھ منھ میں کہا،اور یہ بھی کہا : یا خواجہ آپ کا یہ غلام ہندو مذہب چھوڑ کر اسلام قبول کررہا ہے،اس کو قبول فرما لیجئے اور اس کے اندر کا کفر نکال دیجئے، چادراور پھول چڑھائے اور مجھے پاؤں کی طرف سجدے میں پڑنے کے لئے کہا، میں سجدہ میں پڑ گیا اور میرے ساتھ میرے سسر منظور صاحب بھی، قادری صاحب نے باہر نکل کر مبارک باد دی کہ خواجہ صاحب نے آپ کااسلام قبول کرلیا،میں نے ان سے کہا کہ خواجہ صاحب نے اسلام قبول کرلیا،تو اب مجھے اسلام کے لئے کیا کرنا ہے؟بولے بیٹا تمھارا اسلام خواجہ نے قبول کرلیا،تم واقعی سچے دل سے اسلام میں آئے تھے،وہاں تو دل دیکھ کر قبولیت ہو تی ہے،میں نے اپنے دل میں سوچا کہ میں نے سچے دل سے کہاں اسلام کا ارادہ کیا ہے ؟


س:کیا آپ نے اس وقت اسلام قبول کرنے کا دل سے ارادہ نہیں کیا تھا؟
ج: نہیں مولانا احمد صاحب ! سچی بات یہ ہے کہ میں نے صرف ان لوگوں کے اطمینان اور شادی کے لئے اسلام قبول کرنے کا ڈرامہ کیا تھا،اور میرے دل میں یہ بات تھی کہ باپ دادوں کا دھرم کوئی چھوڑنے کی چیز ہو تی ہے کیا؟


س:آپ اجمیر کچھ روز رہے یا واپس چلے آئے؟
ج:اسی رات کو بس سے دہلی آگئے،میں نے آصفہ سے شادی کا مطالبہ کیا تو اس نے بتایا کہ ہمارے والد صاحب ابھی مطمئن نہیں ہیں، ابھی دیکھ رہے ہیں۔


س: آپ نے کچھ نماز وغیرہ پڑھنی شروع کردی تھی؟
ج :تین چاربارجمعہ کی نماز ان کو دکھانے اوراطمینا ن کرانے کے لئے پڑھی،اصل میں نماز تو آصفہ کے گھر والے بھی نہیں پڑھتے تھے،اس کے تین بھائی اور ایک بہن،ماں باپ میں سے کوئی بھی نماز نہیں پڑھتاتھا،بس اجمیرشریف سال میں دوبار جاتے اور نظام الدین اندر درگاہ میں ایک مہینے میں دوبار جاتے تھے ،اور جموں میں کچھ درگاہیں تھیں وہاں بھی جا تے،اسی کو اسلام سمجھتے تھے، ان کے ایک پیر تھے خاندانی،جو سال میں ایک دوبار ان سے نذرانہ لیتے تھے اورکہتے تھے کہ میں تم سب کی طرف سے نماز بھی پڑھ لیتا ہوں اور روزہ بھی رکھ لیتا ہوں۔


س:پھرشادی کس طرح ہوئی؟
ج :شادی ابھی کہاں ہوئی،اصل میں ان کے دوست کی لڑکی کے ساتھ حادثہ ہوا تھا کہ اس لڑکی سے جس لڑکے نے مسلمان ہو کر شادی کی تھی،وہ شادی کے بعد اس لڑکی کو ہولی دیوالی منانے کو کہتا تھا،اور نہ ماننے پر مارتا تھا،بات بن نہ سکی ، وہ ہندو تو تھا ہی،پھر اسے چھوڑ کر اپنے خاندان میں چلا گیا،اس لئے آصفہ کے والد ڈرتے تھے،وہ لوگوں سے مشورہ کرتے،لوگ ان کو شادی نہ کرنے کی رائے دیتے،مگر وہ میرے تعلقات کے حد سے زیادہ بڑھنے کے بارے میں جانتے تھے،ان کے کسی ساتھی نے انھیں کشمیر میں مفتی نذیر احمد سے مشورہ کرنے کے لئے کہا، مفتی نذیر احمد صاحب کشمیر کے بڑے مفتی ہیں،بانڈی پورہ کوئی بڑا مدرسہ ہے وہاں مفتی اعظم ہیں،انھوں نے کسی سے ان کا فون نمبر لیا اور ان سے مشورہ کیا،اور بتایا کہ اجمیر شریف جاکر ہم اس لڑکے کو مسلمان کروالائے ہیں،اور خواجہ نے اسلام قبول کرلیا ہے،مفتی صاحب نے کہاخواجہ نے تو کب کا اسلام قبول کیا ہوا ہے،وہ لڑکا اگراسلام قبول نہ کرے تو لڑکی کا نکاح ہی نہیں ہوگا،مفتی صاحب نے انھیں دار ارقم کا پتہ دیا اور حضرت مولانا کلیم صاحب سے ملنے کا مشورہ دیا،منظور صاحب کئی بار دار ارقم اور خلیل اللہ مسجد آئے مگر ملاقات نہ ہوسکی،اتفاق سے دار ارقم میں کوئی نہ ملا،بٹلہ ہاؤس مسجد میں کوئی عبد الرشید نو مسلم ہیں،ان سے منظور صاحب کی ملاقات ہوگئی،ان سے بات ہوئی،عبد الرشید صاحب نے بتایا کہ حضرت تو ایک ہفتہ کے بعد سفر سے آئیں گے،مولانا اویس اور مولانا اسامہ نانوتوی بھی نانوتہ گئے ہیں،آپ ایسا کریں ان سے مجھے ملا دیں، اگلے روز اتوار تھا،لاجپت نگر عبد الرشید دوستم نے آنے کا وعدہ کیا، میری ان سے ملاقات ہوئی،انھوں نے اسلام کے بارے میں سمجھایا اور کلمہ پڑھوایا اور مجھے اور میرے سسر منظور بٹ صاحب دونوں کو زور دے کر کہا کہ جماعت میں وقت لگوا دیں،میرے کاغذات سرفراز صاحب ایڈوکیٹ سے بنوائے،اور مجھے مرکز جا کر ڈاکٹر نادر علی خاں سے مل کر جماعت میں جانے کو کہا،میرے سسر کو بہت سمجھایا اگر آپ اپنی بچی کی زندگی کو تباہ ہونے سے بچانا چاہتے ہیں کہ یہ شادی کے بعددوبارہ ہندو نہ ہوں تو کم از کم چالیس روز ورنہ اچھا تو یہ ہے کہ چار مہینے جماعت میں لگوادیں،وہ بولے کہ یہ وہابی ہو جائے گاتو نہ ہندو رہے گا نہ مسلمان،عبد الرشید صاحب نے سمجھایا کہ جماعت والے کسی کا مسلک نہیں بدلواتے، جوحنفی ہیں وہ حنفی رہتے ہیں ،جو شافعی ہیں وہ شافعی رہتے ہیں،اور اہل حدیث اہل حدیث رہتے ہیں،وہاں صرف فضائل بیان کئے جاتے ہیں،مسائل اپنے مسلک کے مطابق لوگ اپنے عالموں سے پوچھتے ہیں،بات ان کی سمجھ میں آگئی اور انھوں نے مجھے جماعت میں جانے کے لئے کہا،چالیس روز میرے لئے بڑی مشکل بات تھی مگر وہ اڑ گئے،بولے جب تک تم جماعت میں چلہ نہیں لگاؤ گے شادی نہیں ہوگی،میں نے چھٹی لی اور مرکز اپنے سسر کے ساتھ گیا،ڈاکٹر نادر علی خاں صاحب کے کمرہ میں اوپر جاکر ان سے ملے،انھوں نے مشورہ دیا پہلے آپ مولانا کلیم صاحب سے ملیں،ہم نے بتایا بہت کوشش کے باوجود وہ نہیں مل سکے،عبد الرشید دوستم صاحب سے ملاقات ہوئی انھوں نے جماعت میں جانے کا مشورہ دیاہے،علی گڑھ کے ایک پرانے استاذجماعت لے کر حیدرآبادجارہے تھے،ان کے ساتھ جماعت میں جڑوا دیا،اور مجھے مشورہ دیا کہ تین چلے پورے کر کے آنا، جماعت پڑھے لکھے لوگوں کی تھی،بہت اچھا وقت گذرا اور الحمد للہ اسلام میری سمجھ میں آگیا،امیر صاحب نے مشورہ دیا اور مجھے خود بھی تقاضا ہوا کہ جماعت چار مہینے کی ہے،تو میں بھی چار مہینے لگاؤں،جماعت میں ایک مولانا صاحب بھی تھے جو سال لگا رہے تھے،کئی بارنئے ساتھیوں کے ساتھ جماعت بٹ جاتی اورپھر ایک ساتھ آجاتی،
15 اگست کو میرے چار ماہ پورے ہوئے۔ 16 اگست کو ہم دہلی مرکز پہنچے،ڈاکٹر نادر علی خاں سے ملاقات ہوئی،انھوں نے مجھے حضرت مولانا کلیم صاحب سے جڑے رہنے کی تاکید کی،بات شادی کی ہوئی تو مجھے ہچکچاہٹ تھی،کہ اگر ایسے بدعتی خاندان میں میری شادی ہوگئی توبچے اپنی ماں کے ساتھ بدعتی ہوں گے،اور نسلیں صحیح عقیدہ سے محروم رہیں گی،میں شادی کو ٹالتارہا، ایک روز آصفہ اور اس کے والد نے مجھ سے معلوم کیا کہ شادی کرناہے کہ نہیں؟ میں نے صاف صاف کہہ دیا کہ جماعت میں جانے سے پہلے تو آپ لوگوں کو اطمینان نہیں تھا کہ مسلمان ہوں کہ نہیں،مگر اب معاملہ الٹا ہے، اجمیر میں لے جاکر جس طرح آپ نے مجھ سے شرک کرایا، قرآن و حدیث کے لحاظ سے تو مندر میں بت کو پوجنا اور اجمیر جاکر خواجہ خواجگان کی درگاہ پر سرجھکانا برابردرجہ کا شرک ہے،اللہ کے رسول نے فرمایاہے:جس نے جان بوجھ کر نماز چھوڑ دی اس نے کفر کیا،اللہ کے نبی نے اپنی لاڈلی بیٹی حضرت فاطمہ سے فرمایا تھا کہ قبر میں تیرے اعمال کام آئیں گے،یہاں آپ کے پیر صاحب آپ کی نماز اور روزے ادا کرتے ہیں،اور بے وقوف بناتے ہیں۔اب اللہ کا شکر ہے میں ایک مسلمان ہوں اور اسلام عقل والوں کا مذہب ہے،یہ رسم کا نام نہیں،اگر آپ کو مجھ سے شادی کرنا ہے تو آپ کو پورے خاندان والوں کے ساتھ مسلمان ہونا پڑے گا،جب تک آپ لوگ مسلمان نہیں ہوں گے میں شادی نہیں کروں گا،میں نے کہا : آپ کو اور آپ کے تینوں بیٹوں کو چالیس روز لگانے پڑیں گے، میں نے کہا کہ جماعت والے مسلک نہیں بدلتے، میں نے خوشامد بھی کی، کئی ساتھیوں کو ان لوگوں سے ملوایا،الحمد للہ بڑی کوشش کے بعد وہ تیار ہوئے،پہلے میرے سسر نے وقت نکالا ، چھوٹے بیٹے شبیر بٹ کو ساتھ لے کر گئے،اس کے بعد بڑے بھائیوں نے وقت لگایا،اس دوران اللہ کا شکر ہے کہ میں نے آصفہ کو کافی کتابوں کا مطالعہ کرایا،میں نے چار مہینہ میں قرآن مجید ناظرہ پڑھ لیا تھا،اردو اچھی پڑھنے لگا تھا،اللہ کا شکر ہے آصفہ کا ذہن صاف ہوگیا،گڑگاؤں جامع مسجد کے امام صاحب کے ساتھ، میں آصفہ کو لے کر خلیل اللہ مسجد آیا،اور ہم دونوں امام صاحب کے مشورہ سے حضرت سے بیعت ہوگئے ،جب حضرت حج کو گئے ہوئے تھے توہماری شادی کی تاریخ طے ہوگئی، حضرت نے فون پر زور دیا کہ یہ بھی سنت کے خلاف ہے کہ کسی خاص شخصیت سے نکاح پڑھوانے کا اہتمام کیا جائے اور نکاح میں تاخیر کی جائے، حضرت نے ملاقات پر بھی نکاح میں جلدی کرنے کا مشورہ دیا تھا،بلکہ یہ بھی فرمایاتھاکہ اچھا ہے آج ہی نکاح ہوجائے،دونوں کے ایک ساتھ رہنے،بات کرنے کا قانونی حق ہو جائے گا،ورنہ اس طرح بات کرنا بھی گناہ ہے،اگر چہ جماعت سے آ کر میں اللہ کا شکر ہے کافی احتیاط کرنے لگا تھا۔الحمد للہ 17 نومبر کو ہمارا نکاح ہوا،پھرجب حضرت واپس آ گئے توآصفہ کے سارے خاندان والے حضرت سے بیعت ہوگئے۔


س:آپ کے گھر والوں کا کیا ہوا؟
ج : ابھی میں نے صرف اپنے گھروالوں کے لئے دعاؤں کا اہتمام کیا ہے،ابھی جلدی ہی حضرت نے بنارس کے ایک صاحب کو ہمارے والد صاحب کا فون نمبر دیا ہے،ہمارے والد صاحب ریلوے میں ایک اچھی پوسٹ پر ہیں،مغل سرائے میں ان کی پوسٹنگ ہے۔


س:اور بھی کچھ لوگوں پر آپ نے کام کیا ہے، اس کی کچھ تفصیل بتائیے؟
ج :ہماری کمپنی میں کام کرنے والے ایک ساتھی جوجے پور کے رہنے والے ہیں،ان کے والد دس سال پہلے بی جے پی کے ایم ایل اے رہے ہیں،الحمد للہ مسلمان ہو گئے ہیں، وہ جماعت میں گئے ہوئے ہیں۔


س:آپ کی اہلیہ آصفہ کا کیا حال ہے؟
ج :الحمد للہ میں نے مشورہ سے طے کیا ہے کہ وہ صرف دعوت کاکام کریں گی،انھوں نے ملازمت چھوڑ دی ہے ،برقع پہننے لگی ہیں،اسلام کا مطالعہ کررہی ہیں،اور قرآن و سیرت ،حضرت کے مشورہ سے پڑھنا شروع کیا ہے،ہم لوگ نیٹ پر دعوت کے لئے ایک آن لائن سائٹ کھول کر کام کا خاکہ بنا رہے ہیں،ان کی دوست دو لڑکیاں ان کی کوشش سے مسلمان ہو چکی ہیں۔


س:بہت بہت شکریہ ،مسعود بھائی، ارمغان کے قارئین کے لئے کوئی پیغام آپ دیں گے؟
ج: خاندانی مسلمانوں کو رسمی اسلام سے نکال کر قرآنی اسلام میں لانے کا واحد طریقہ یہ ہے کہ مسلمانوں میں دعوتی شعور بیدار ہو، نیا خون پرانے بیمار خون کو تازہ اور صاف کرتا ہے،میں نے اپنا اسلام قبول کیا تھاتومجھے اپنی سسرال والوں کے اسلام کی کیسی فکر تھی بس میں ہی جانتاہوں۔


س:بے شک! بہت پتے کی بات آپ نے کہی ہے۔ السلام علیکم
ج : وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

بشکریہ ارمغان انڈیا

بےباک
04-04-2012, 09:54 PM
پریتی سے عفیفہ کیسے بنی ،
سابق ہاکی کھلاڑی نو مسلمہ عفیفہ بہن سے ایک ملاقات

اسما : السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ
سابق ہاکی کھلاڑی عفیفہ : وعلیکم السلام

س: ابی(مولاناکلیم صاحب) نے ہمیں بتایاتھاکہ ہندوستان کی ایک ہاکی کھلاڑی آرہی ہیں تو ہم سوچ رہے تھے کہ آپ ہاکی کی ڈریس میں آئیں گی، مگر آپ ماشاء اللہ برقع میں ملبوس، اور دستانے پہنکر مکمل پردہ میں ہیں، آپ اپنے گھرسے برقع اوڑھ کر کیسے آئی ہیں؟
ج:میں الحمد للہ پچھلے دو ماہ سے سوفیصد شرعی پردہ میں رہتی ہوں۔

س: ابھی آپ کے گھر میں تو کوئی مسلمان نہیں ہوا؟
ج: جی میرے گھرمیں ابھی میرے علاوہ کوئی مسلمان نہیں ہے مگر اس کے باوجود میں الحمد للہ کوشش کرتی ہوں کہ میں اگرچہ گھر میں اکیلی مسلمان ہوں مگر میں آدھی مسلمان تو نہ بنوں، آدھی اِدھر، آدھر اُدھر، یہ تو نہ ہونا چاہئے۔

س: آپ کو ہاکی کھیلنے کاشوق کیسے ہوا، یہ تو بالکل مردوں کا کھیل ہے؟
ج: اصل میں، میں ہریانہ کے سونی پت ضلع کے ایک گاؤں کی رہنے والی ہوں ہمارے گھرمیں سبھی مرد پڑھے لکھے ہیں اور اکثر کبڈی کھیلتے رہتے ہیں، میں نے اسکول میں داخلہ لیاشروع سے کلاس میں ٹاپ کرتی رہی، سی بی ایس ای بورڈ میں میری ہائی اسکول میں گیارہویں پوزیشن رہی، مجھے شروع سے مردوں سے آگے نکلنے کاشوق تھا، اس کے لئے میں نے اسکول میں ہاکی کھیلنا شروع کی، پہلے ضلع میں نویں کلاس میں سلیکشن ہوا،پھر ہائی اسکول میں ہریانہ اسٹیٹ کے لئے لڑکیوں کی ٹیم میں میرا سلیکشن ہوگیا، بارہویں کلاس میں بھی میں نے اسکول ٹاپ کیا اور سی بی ایس ای بورڈ میں میرا نمبر اٹھارہواں رہا، اسی سال میں انڈیا ٹیم میں سلیکٹ ہوگئی، عورتوں کے ایشیا کپ میں بھی کھیلی اور بہت سے ٹورنامنٹ میری کارکردگی کی وجہ سے جیتے گئے، اصل میں ہاکی میں بھی سب سے زیادہ ایکٹیو رول اسما باجی! سنڈر فارورڈ کھلاڑی کاہوتاہے، یعنی سب سے آگے درمیان میں کھیلنے والے کھلاڑی کا، میں ہمیشہ سنٹر فاروڈ میں کھیلتی رہی، اصل میں بس مردوں سے آگے بڑھنے کا جنون تھا، مگر روزانہ رات کو میرا جسم مجھ سے شکایت کرتاتھا، کہ یہ کھیل عورتوں کا نہیں ہے، مالک نے اپنی دنیا میں ہرایک کے لئے الگ کام دیاہے، ہاتھ پاؤں بالکل شل ہوجاتے تھے، مگر میرا جنون مجھے دوڑاتا تھااور اسپر کامیابی اور واہ واہ اپنے نیچر کے خلاف دوڑنے پر مجبور کرتی تھی۔

س:اسلام قبول کرنے سے پہلے تو آپ کا نام پریتی(بدلاہوانام) تھا نہ ؟
ج: حضرت نے میرا نام ابھی عفیفہ یعنی کچھ ماہ پہلے رکھاہے۔

س: آپ کے والد کیا کرتے ہیں؟
ج:وہ ایک اسکول چلاتے ہیں اس کے پرنسپل ہیں،وہ سی بی ایس ای بورڈ کا ایک اسکول چلاتے ہیں، میرے ایک بڑے بھائی اس میں پڑھاتے ہیں، میری بھابھی بھی پڑھاتی ہیں، وہ سب کھیل سے دل چسپی رکھتی ہیں، میری بھابھی بیڈمنٹن کی کھلاڑی ہیں۔

س:ایسے آزاد ماحول میں زندگی گذارنے کے بعد ایسے پردہ میں رہناآپ کو کیسا لگتاہے؟
ج: انسان اپنے نیچر سے کتنا دور ہوجائے، اور کتنے زمانہ تک دور رہے، جب اس کے نیچر کی طرف آنا ملتاہے، وہ کبھی اجنبیت محسوس نہیں کرے گا، وہ ہمیشہ فیل کرے گاکہ اپنے گھر لوٹ آیا، اللہ نے انسان کو بنایا، اور عورتوں کی نیچر بالکل الگ بنائی، بنانے والے نے عورت کا نیچر چھپنے اورپردہ میں رہنے کا بنایا،اسے سکون و چین لوگوں کی ہوس بھری نگاہ سے بچے رہنے میں ہی مل سکتاہے، اسلام دین فطرت ہے، جس کے سارے حکم انسانی نیچر سے میل کھاتے ہیں، مردوں کے لیے مردوں کے نیچر کی بات ،اور عورتوں کے لیے عورتوں کے نیچر کی بات۔

س:آپ کی عمرکتنی ہے؟
ج: میری تاریخ پیدائش ٦ جنوری ۱۹۸۸ء ہے، گویامیں بائیس سال کی ہونے والی ہوں۔

س: مسلمان ہوئے کتنے دن ہوئے؟
ج: ساڑھے چھے مہینے کے قریب ہوئے ہیں۔

س: آپ کے گھر میں آپ کے اتنے بڑے فیصلے پر مخالفت نہیں ہوئی؟
ج: ہوئی اور خواب ہوئی، مگر سب جانتے ہیں کہ عجیب دیوانی لڑکی ہے، جو فیصلہ کرلیتی ہے پھرتی نہیں، اس لیے شروع میں ذرا سختی کی، مگر جب اندازہ ہوگیاکہ میں دور تک جاسکتی ہوں تو سب موم ہوگئے۔

س: آپ ہاکی اب بھی کھیلتی ہیں؟
ج: نہیں! اب ہاکی میں نے چھوڑ دی ہے۔

س: اس پرتو گھر والوں کو بہت ہی احساس ہواہوگا؟
ج: ہاں ہوا،مگر میرا فیصلہ مجھے لینے کاحق تھامیں نے لیا،اور میں نے اپنے اللہ کا حکم سمجھ کرلیا، اب اللہ کے حکم کے آگے بندوں کی چاہت کیسے ٹھہر سکتی ہے۔

س: آپ کے تیور تو گھر والوں کو بہت سخت لگتے ہوں گے؟
ج: آدمی کو ڈھل مل نہیں ہونا چاہئے، اصل میں آدمی پہلے یہ فیلصہ کرے کہ میرا فیصلہ حق ہے کہ نہیں، اور اگر اس کا حق پر ہونا ثابت ہوجائے تو پہاڑ بھی سامنے سے ہٹ جاتے ہیں۔

س: آپ کے اسلام میں آنے کا کیا چیز ذریعہ بنی؟
ج: میں ہریانہ کے اس علاقہ کی رہنے والی ہوں جہاں کسی ہندو کا مسلمان ہونا تو دور کی بات ہے، ہمارے چاروں طرف کتنے مسلمان ہیں جو ہندو بنے ہوئے ہیں، خود ہمارے گاؤں میں بادی اور تیلیوں کے بیسوں گھر ہیں جو ہندو ہوگئے ہیں، مندر جاتے ہیں، ہولی دیوالی مناتے ہیں، لیکن مجھے اسلام کی طرف وہاں جاکر رغبت ہوئی جہاں جاکر خود مسلمان اسلام سے آزاد ہوجاتے ہیں۔

س:کہاں اور کس طرح ذرا بتائیں ؟
ج: میں ہاکی کھیلتی تھی تو بالکل آزاد ماحول میں رہتی تھی،آدھے سے کم کپڑوں میں ہندستانی روایات کا خیال بھی ختم ہوگیا تھا، ہمارے اکثر کوچ مرد رہے، ٹیم کے ساتھ مچھ مرد ساتھ رہتے ہیں، ایک دوسرے سے ملتے ہیں، ٹیم میں ایسی بھی لڑکیاں تھیں جو رات گذارنے بلکہ خواہشات پوری کرنے میں ذرہ برابر کوئی جھجک محسوس نہیں کرتی تھیں، میرے اللہ کا کرم تھاکہ مجھے اس نے اس حد تک نہ جانے دیا، گول کے بعد اور میچ جیت کر مردوں عورتوں کا گلے لگ جانا چمٹ جانا تو کوئی بات ہی نہیں تھی، میری ٹیم کے کوچ نے کئی دفعہ بے تکلفی میں میرے کسی شاٹ پر ٹانگوں میں کمرمیں چٹکیاں بھریں، میں نے اس پر نوٹس لیا،اور ان کو وارننگ دی، مگر ٹیم کی ساتھی لڑکیوں نے مجھے برا بھلا کہا، اتنی بات کو دوسری طرح لے رہی ہو، مگر میرے ضمیر پر بہت چوٹ لگی، ہماری ٹیم ایک ٹورنامنٹ کھیلنے ڈنمارک گئی، وہاں مجھے معلوم ہواکہ وہا ں کی ٹیم کی سنٹر فارورڈ کھلاڑی نے ایک پاکستانی لڑکے سے شادی کرکے اسلام قبول کرلیاہے،اور ہاکی کھیلنا چھوڑ دیاہے، لوگوں میں یہ بات مشہور تھی کہ اس نے شادی کے لیے اس لڑکے کی محبت میں اسلام قبول کیا ہے، مجھے یہ بات عجیب سی لگی، ہم جس ہوٹل میں رہتے تھے، اس کے قریب ایک پارک تھا، اس پارک سے ملا ہواان کا مکان تھا، میں صبح کو اس پارک میں تفریح کررہی تھی کہ ڈنمارک کی ایک کھلاڑی نے مجھے بتایاکہ وہ سامنے برٹنی کاگھرہے، جو ڈنمارک کی ہاکی کی مشہور کھلاڑی رہی ہے، اس نے اپنا نام اب سعدیہ رکھ لیا ہے اور گھر میں رہنے لگی ہے، مجھے اس سے ملنے کا شوق ہوا، میں ایک ساتھی کھلاڑی کے ساتھ اس کے گھر گئی، وہ اپنے شوہر کے ساتھ کہیں جانے والی تھی، بالکل موڑے، دستانے اور پورے برقع میں ملبوس، میں دیکھ کر حیرت میں رہ گئی، او رہم دونوں ہنسنے لگے، میں نے اپنا تعارف کرایا تو وہ مجھے پہچانتی تھی، وہ بولی میں نے تمہیں کھیلتے دیکھا ہے، سعیدہ نے کہاہمارے ایک سسرالی عزیز کا انتقال ہوگیا ہے، مجھے اس میں جانا ہے ورنہ میں آپ کے ساتھ کچھ باتیں کرتی، میں تمہارے کھیلنے کے انداز سے بہت متأثر رہی ہوں، ہاکی کھیل عورتوں کے نیچر سے میل نہیں کھاتا، میرا دل چاہتا ہے کہ تمہاری صلاحیتیں نیچر سے میل کھانے والے کامو ں میں لگیں، میں تم سے ہاکی چھڑوانا چاہتی ہوں، میں نے کہا آپ میرے کھیل کے انداز سے متأثر ہیں اور مجھ سے کھیل چھڑوانا چاہتی ہیں، اور میں آپ کا ہاکی چھوڑنا سن کر آپ سے ملنے آئی ہوں، کہ ایسی مشہور کھلاڑی ہوکر آپ نے کیوں ہاکی چھوڑ دی؟ میں آپ کو فیلڈ میں لانا چاہتی ہوں، سعدیہ نے کہا کہ اچھا آج رات کو ڈنر میرے ساتھ کرلو، میں نے کہا آج تو نہیں، کل ہوسکتا ہے، طے ہوگیا، میں ڈنر پر پہنچی، تو سعدیہ نے اپنے قبول اسلام کی روداد مجھے سنائی اور بتایاکہ میں نے شادی کے لیے اسلام قبول نہیں کیا بلکہ اپنی شرم اپنی عصمت کی عزت و حفاظت کے لیے اسلام قبول کیا ہے اور اسلام کے لیے شادی کی ہے۔ سعدیہ نہ صرف ایک مسلم خاتون تھی بلکہ اسلام کی بڑی داعیہ تھی، اس نے فون کرکے دو انگریز لڑکیوں کو اور ایک معمر خاتون کو بلایا، جو ان کے محلہ میں رہتی تھیں، اور سعدیہ کی دعوت پر مسلمان ہوگئی تھیں، وہ مجھے سب سے زیادہ اسلام کے پردہ کے حکم کی خیر بتاتی رہیں اور بہت اصرار کرکے مجھے برقع پہن کر باہر جاکر آنے کو کہا، میں نے برقع پہنا، ڈنمارک کے بالکل مخالف ماحول میں میں نے برقع پہن کر گلی کا چکر لگایا، مگر وہ برقع میرے دل میں اتر گیا، بیان نہیں کرسکتی کہ میں نے مذاق اڑانے یا زیادہ سے زیادہ اس کی خواہش کے لیے برقع پہنا تھا، مگر مجھے اپنا انسانی قد بہت بڑھا ہوا محسوس ہوا، اب مجھے اپنے کوچ کی بے شرمانہ شہوانی چٹکیوں سے گھن بھی آرہی تھی، میں نے برقع اتارا اور سعدیہ کو بتایاکہ مجھے واقعی برقع پہن کر بہت اچھا لگا،مگر آج کے ماحول میں جب برقع پر ویسٹرن حکومتوں میں پابندی لگائی جارہی ہے، برقع پہننا کیسے ممکن ہے؟ اور غیر مسلم کا برقع پہننا تو کسی طرح ممکن نہیں، وہ مجھے اسلام قبول کرنے کو کہتی رہیں اور بہت اصرار کرتی رہیں، میں نے معذرت کی کہ میں اس حال میں نہیں ہوں، ابھی مجھے دنیا کی نمبر ون ہاکی کی کھلاڑی بننا ہے، میرے سارے ارمانوں پر پانی پھرجائے گا،سعدیہ نے کہامجھے آپ کو ہاکی کی فیلڈ سے برقع میں لانا ہے، میں نے اپنے اللہ سے دعا بھی کی ہے اور بہت ضد کرکے دعا کی ہے، اس کے بعد ہم دس روز تک ڈنمارک میں رہے، وہ مجھے فون کرتی رہی، دو بار ہوٹل میں ملنے آئی، اور مجھے اسلام پر کتابیں دے کر گئی۔

س: آپ نے وہ کتابیں پڑھیں؟
ج: کہیں کہیں سے دیکھی ہیں۔

س: اس کے بعد اسلام میں آنے کاکیاذریعہ بنا؟
ج: میں انڈیا واپس آئی، ہمارے یہاں نریلاکے پاس ایک گاؤں کی ایک لڑکی (جس کے والد سن ۴۷ء میں ہندو ہوگئے تھے، اور بعد میں آپ کے والد مولانا کلیم صاحب کے ہاتھوں مسلمان ہوگئے تھے،ان کے مریدبھی تھے اور حج بھی کر آئے تھے) ہاکی کھیلتی تھی، دلی اسٹیٹ کی ہاکی ٹیم میں تھی اور انڈیاکی طرف سے سلیکشن کے بعد روس میں کھیلنے جانے والی تھی، مجھ سے مشورہ اور کھیل کے اندازمیں رہنمائی کے لیے میرے پاس آئی ، میں نے اس سے ڈنمارک کی مشہور کھلاڑی برٹنی کاذکرکیا،اس نے اپنے والد صاحب سے ساری بات بتائی، وہ اپنی لڑکے کے ساتھ مجھ سے ملنے آئے، اور مجھے حضرت کی کتاب ’’آپ کی امانت‘‘ اور ’’اسلام ایک پریچے‘‘ دی، آپ کی امانت چھوٹی سی کتاب تھی، برقع نے میرے دل میں جگہ بنالی تھی، اس کتاب نے برقع کے قانون کو میرے دل میں بٹھادیا، میں نے حضرت صاحب سے ملنیکی خواہش ظاہر کی، دوسرے روز حضرت کا پنجاب کاسفرتھا،اللہ کا کرناکہ بہال گڑھ ایک صاحب کے یہاں ہائی وے پر ملاقات طے ہوگئے اور حضرت نے دس پندرہ منٹ مجھ سے بات کرکے کلمہ پڑھنے کو کہا، اور انہو ں نے بتایاکہ میرا دل یہ کہتاہے کہ برٹنی نے اپنے اللہ سے آپ کو برقع میں لانے کی بات منوالی ہے، بہرحال میں نے کلمہ پڑھااور حضرت نے میرانام عفیفہ رکھا،اور کہا عفیفہ پاک دامن کو کہتے ہیں، چونکہ بائی نیچر آپ اندر سیپاکدامنی کوپسن دکرتی ہیں، میری بھانجی کا نام بھی عفیفہ ہے، میں آپ کانام عفیفہ ہی رکھتا ہوں۔

س: اس کے بعد کیا ہوا؟
ج:میں نے برٹنی کو فون کیا، او راس کو بتایا، وہ خوشی میں جھوم گئی، جب میں نے حضرت کا نام لیا تو انہو ں نے اپنے شوہر سے بات کرائی، ڈاکٹر اشرف ان کا نام ہے، انہوں نے بتایا کہ حضرت کی بہن کے یہاں رہنے والی ایک حرا کی شہادت اور اس کے چچا کے قبول اسلام کی کہانی سن کر ہمیں اللہ نے اسلام کی قدر سکھائی ہے، اور اسی کی وجہ سے میں نے برٹنی سے شادی کی ہے، یہ کہہ کر کہ اگر تم اسلام لے آتی ہو تو میں آپ سے شادی کے لئے تیار ہوں، میں نے اخبار میں ایڈ دیا، گزٹ میں نام بدلوایا، اپنی ہائی اسکول اور انٹر کی ڈگریو ں میں نام بدلوایا اور ہاکی سے ریٹائرمنٹ لے کر گھرپر اسٹڈی شروع کی۔

س: اب آپ کا کیا ارادہ ہے، آپ کی شادی کا کیا ہوا؟
ج: میں نے آئی سی ایس کی تیاری شروع کی ہے، میں نے ارادہ کرلیاہے کہ میں ایک آئی سی ایس افسر بنوں گی،اور برقع پوش آئی ایس افسر بن کر اسلامی پردہ کی عظمت لوگوں کو بتاؤں گی۔

س:آپ اس کے لئے کوچنگ کر رہی ہیں؟
ج: میں نیٹ پر اسٹڈی کر رہی ہوں، میرے اللہ نے ہمیشہ میرے ساتھ یہ معاملہ کیاہے، کہ میں جو ارادہ کرلیتی ہوں، اسے پورا کردیتے ہیں، جب کافر تھی تو پورا کرتے تھے، اب تو اسلام کی عظمت کے لیے میں نے ارادہ کیاہے، اللہ ضرور پورا کریں گے، مجھے ایک ہزار فیصد امید ہے کہ میں پہلی بار میں ہی آئی سی ایس امتحانات پاس کر لوں گی۔

س:انٹرویوں کا کیا ہوگا؟
ج: سارے برقع اور اسلام کے مخالف بھی اگر انٹرویوں لیں گے تو وہ میرے سلیکشن کے لئے انشاء اللہ مجبور ہوجائیں گے۔

س: گھر والوں کو آپ نے دعوت نہیں دی؟
ج: ابھی دعا کر رہی ہوں، اور قریب کر رہی ہوں، ’’ہمیں ہدایت کیسی ملی؟‘‘ہندی میں میں نے گھر والوں کو پڑھوائی، سب لوگ حیرت میں رہ گئے، اور اللہ کا شکر ہے ذہن بدل رہا ہے۔

س: یہ باتیں ،میں نے آپ کے علم میں ہے کہ پھلت سے نکلنے والے رسالہ ’ارمغان‘ کے لئے کی ہیں، اس رسالہ کے بہت سے پڑھنے والے ہیں، ان کے لئے کوئی پیغام آپ دیں گی؟
ج: عورت کا بے پردہ ہونا اس کی حد درجہ توہین ہے، اس لئے مرد خدا کے لئے اپنے جھوٹے مطلب اور اپنا بوجھ ان پر ڈالنے کے لئے ان کو بازاروں میں پھراکر بازاری بنانے سے باز رہیں، اور عورتیں اپنے مقام اور اپنی عصمت و عفت کی حفاظت کے لئے اسلام کے پردہ کے حکم کی قدر کریں۔

س: بہت بہت شکریہ، السلام علیکم و رحمۃ اللہ
ج: علیکم السلام

بشکریہ ارمغان انڈیا

بےباک
04-11-2012, 09:14 AM
http://www.deeneislam.com/ur/horiz/halate_hazra/1908/i_2.gif
...............
jجنگ۳١جنوری ۲۰١١ آقا...انداز بیاں …سردار احمد قادری
انسان اپنے تحفظ کے لئے مشکل کے وقت کسی مدد، کسی سہارے کا محتاج ہوتا ہے۔ ہر انسان کی زندگی میں کبھی نہ کبھی ایسا وقت ضرور آتا ہے جب اسے کسی کے تعاون کی ضرورت پڑتی ہے۔ کوئی بھی انسان دوسرے انسان کے تعاون ،مدد سے کبھی بھی بے نیاز نہیں ہوسکتا۔ مطلب یہ ہے کہ مشکل کے اوقات میں جو کسی کی مدد کرتا ہے۔ انسان زندگی بھر اس کا احسان مند اور شکر گزار رہتا ہے۔ بے شک اللہ تعالیٰ ہی تمام جہانوں کا نگہبان مالک اور رازق ہے۔ وہ ”مسبب الاسباب“ ہے اور اس نے اپنے حبیب کریم رؤف الرحیم آقا مولا سیدنا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو رحمت اللعالمین بنا کر معبوث فرمایا ہے اور قیامت تک بلکہ روز قیامت بھی آپ ہی ہمارے لئے وسیلہ اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا ہونے والی مدد، رحمت اور شفاعت کا ذریعہ ہیں۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ انسانوں کی مدد اپنی مخلوق کے ذریعے کرتا ہے اور اس کی تمام ترمخلوقات میں اعلیٰ، ارفع اور ممتاز ترین ہمارے آقا ومولا ﷺکی ذات اقدس ہے۔ اس لئے دنیا میں جب بھی کہیں کوئی آپ سے قلبی روحانی رابطہ اور تعلق فراہم کرتا ہے آپ مدد فرماتے ہیں اور پریشانی اور غم سے نجات دلاتے ہیں۔ 1899ء میں لاہور کے ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ اور خوشحال ہند و خاندان میں ایک لڑکا پیدا ہوا جس کا نام کنہیا لال رکھا گیا۔ یہ ”گابا“ خاندان میں پیدا ہوا تھا اس لئے اس کا پورا نام کنہیا لال گابا تھا جسے مخفف الفاظ میں کے ایل گابا کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ کے ایل گابا کا والد پنجاب کی برٹش راج کی حکومت کا وزیر تھا۔ اس نے اپنے بیٹے کو اعلیٰ تعلیم کے لئے انگلستان بھیجا ،نوجوان کے ایل گابا بیرسٹری کی سند لیکر واپس آیا۔ 34 سال کی عمر میں کے ایل گابا کی زندگی میں ایک انقلابی موڑ آیا اس نے اپنے مطالعہ کے ذوق و شوق کے تحت آقائے دو جہاں صلے اللہ علیہ وسلم کی سیرت طیبہ کا مطالعہ شروع کیا اور جوں جوں وہ سیرت کے باب پڑھتا جاتا تھا اس کے دل کے بند تالے کھلتے جاتے تھے بلآخر وہ غلامی رسول میں آگیا اور اپنے مسلمان ہونے کا اعلان کردیا۔ اس کے اعلان سے معاشرہ میں ایک ارتعاش پیدا ہوا بالخصوص ہندو کمیونٹی اور اس کے اپنے گھرانے پر تو ایک قیامت گزر گئی۔ متعصب ہندؤں نے ایک طوفان بدتمیزی برپا کردیا، اس نے زہر میں بجھے ہوئے تمام سوالوں کا جواب دینے کے لئے اور اپنے مسلمان ہونے کی وجہ بیان کرنے اور اپنے آقا و مولا ﷺسے اپنی قلبی عقیدت و محبت ظاہر کرنے کے لئے انگریزی میں ایک سیرت طیبہ کے موضوع پر ایک شاہکار کتاب لکھی ”پیغمبر صحرا“ (PROPHET OF THE DESERT) اس کتاب کے شائع ہوتے ہی اس کے خلاف سازشوں کا ایک نیا سلسلہ شروع ہوگیا۔ کے ایل گابا جو اب بھی کے ایل گابا ہی تھا کیونکہ اس نے اپنا نام خالد لطیف گابا رکھا تھا ایک سازش کے تحت ایک غلط مقدمے میں پھنسا دیا گیا اور اسے جیل ہوگئی۔ لاہور ہائیکورٹ کے جج نے اس کی ضمانت کے لئے ڈیڑھ لاکھ روپیہ کی رقم تجویز کی یہ اس زمانے میں بہت بڑی رقم تھی، یہ آج کے کئی کروڑ روپے بنتے ہیں مسلمانوں کی حالت اتنی مضبوط نہیں تھی کہ وہ یہ رقم ادا کرتے مسلمان اخبار ”زمیندار“ نے مسلمانوں سے چندے کی اپیل کی لیکن رقم اکھٹی نہ ہوسکی۔ اس دوران ایک رات سیالکوٹ کا ایک مسلمان تاجر حاجی سردار علی سویا ہوا تھا کہ اس کی قسمت جاگ اٹھی، آقائے دو جہاں صلی اللہ علیہ وسلم اس کے خواب میں تشریف لائے اور ارشاد فرمایا کہ کے ایل گابا کی ضمانت کیلئے رقم مہیا کرو اور اسے بتاؤ کہ اس نے میرے متعلق انگریزی زبان میں جو کتاب لکھی ہے مجھے پسند آئی۔ چوہدری سردار علی نے اپنی جائیداد رہن رکھ کر رقم کا انتظام کیا اور لاہور پہنچ گیا۔ جیل پہنچ کر اس نے کے ایل گابا کو جب یہ بتایا کہ وہ اس کی ضمانت کا انتظام کرانے آیا ہے تو اس نے پوچھا تم مجھے کیسے جانتے ہو؟ سیالکوٹ کے اس تاجر نے بتایا کہ میں تو تمہیں نہیں جانتا لیکن آقا علیہ السلام تمہیں اچھی طرح جانتے ہیں اور تمہاری کتاب کو پسند بھی فرماتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے تحت میں یہاں آیا ہوں اور تمہاری ضمانت کا انتظام کرا رہا ہوں ، خالد لطیف گابا کا ایمان اور مستحکم ہوگیا اس کو یقین ہوگیا کہ اسلام میں خالق کائنات جب کسی کی مدد کرتا ہے تو اس کا وسیلہ اور ذریعہ آقا کریم علیہ الصلوة والسلام کی ذات اقدس ہوتی ہے احساس تشکر سے اس کی آنکھیں خوشی کے آنسوؤں سے لبریز ہوگئیں۔
بندہ مٹ جائے نہ آقا پر وہ بندہ کیا ہے
بے خبر ہو جو غلاموں سے وہ آقا کیا ہے

بےباک
04-16-2012, 11:17 AM
عبد اللہ بھا ئی{پردیپ چنداہیر}سے ایک ملاقات

اسلام قبول کر نے کی پاداش میں’حِرا‘کو زندہ جلا دیا گیا

احمد اواہ : السلام علیکم و رحمۃ اللہ بر کاتہ،
عبد اللہ : وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ بر کاتہ،
سوال :عبداللہ بھا ئی آپ کے علم میں ہو گا کہ ہما رے یہا ں پھلت سے ایک میگز ین ارمغان کے نا م سے نکلتی ہے اس میں کچھ عرصے سے دسترخوان ِاسلام پر آنے والے نئے خوش قسمت لوگوں کے انٹر ویو کا سلسلہ چل رہا ہے، اس کے لئے میں آپ سے کچھ باتیں کر نا چاہتا ہوں ۔
جواب : احمد بھائی ( آنسوئوں کو پوچھتے ہوئے کہا ) مجھ جیسے ظالم اور کمینے آدمی کی باتیں اس مبارک میگزین میں دے کر کیوں اسے گندہ کرتے ہیں ۔
سوال : نہیں عبداللہ بھائی ! ابی (میرے ابا جان حضرت مولانا محمد کلیم صاحب صدیقی مدظلہ) کہہ رہے تھے، آپ کی زندگی اللہ کی قدرت کی ایک عجیب نشانی ہے، ان کی خواہش ہے کہ آپ کا انٹرویو ضرور شائع کیا جائے۔
جواب : آپ کے ابی اللہ تعالیٰ ان کو لمبی عمر دے، میں اپنے کو ان کا غلام مانتا ہوں، ان کا حکم ہیں تو میں سر جھکاتا ہوں، آپ جو سوال کریں میں جواب دینے کو تیار ہوں۔
سوال : پہلے آپ اپنا تعارف کرایئے؟
جواب : اگر میں یہ کہوں کہ جب سے دنیا قائم ہوئی ہے آج تک میں دنیا کا سب سے ظالم ترین، بد ترین اور خوش قسمت ترین انسان ہوں بلکہ درندہ ہوں، تو یہ میرا با لکل سچا تعارف ہو گا۔
سوال : یہ تو آپ کا جذباتی تعارف ہے آپ اپنے گھر اور خاندان کے بارے میں بتایئے ؟
جواب : میں ضلع مظفر نگر کی بڑھانہ تحصیل کے ایک مسلم راج پوت اکثریت کے ایک گائوں کے اہیر ( گڈریہ )کے گھر اب سے بیالیس یا تینتالیس سال قبل پیدا ہوا میرا گھرانہ بہت مذہبی ہندو اور جرائم پیشہ تھا والد اور چاچا ایک گرو کے سر کردہ لوگوں میں تھے،لوٹ مار، ظلم خاندانی طور پر گھٹی میں پڑا تھا، ۱۹۸۷ ء میں میرٹھ کے فسادات کے موقع پر اپنے باپ کے ساتھ رشتے داروں کی مدد کے لئے میرٹھ رہا ہم دونوں نے کم از کم پچیس مسلمانوں کو اپنے ہاتھ سے قتل کیا، اس کے بعد مسلم نفرت کے جذبہ سے متاثر ہو کر بجرنگ دل میں شامل ہوا، بابری مسجد کی شہادت کے سلسلہ میں ۱۹۹۰ ء میں شاملی میں کتنے ہی مسلمانوں کو قتل کیا، ۱۹۹۲ ء میں بڑھانہ میں بہت سے مسلمانوں کو شہید کیا، بڑھانہ میں ایک بہت مشہور نام کا بدمعاش ، مگر سچا مسلمان تھا، جس سے پورے علاقے کے غیر مسلم تھراتے تھے، میں نے اپنے ساتھی کے ساتھ اس کو گولی ماری، اس مسلم دشمنی میں مجھ درندے نے ایک ایسی ظالمانہ حرکت بھی کی،،،(دیر تک روتے ہوئے ) کہ شاید ایسی بر بریت اور ظالمانہ حرکت آسمان کے نیچے اور زمین کے اوپر کسی نے نہ دیکھی ہوگی اور نہ سنی ہوگی اور نہ خیال کیا ہوگا۔۔۔۔ ( پھر دیر تک روتے رہے)
سوال :آپ اپنے قبول اسلام کے بارے میں سنائیے ؟
جواب : قرآن شریف کے ۳۰ ؍ویں پارے میں ایک سورۃ بروج ہے نا،اس میں آگ کی کھائی والوں کے بارے میں اللہ نے کہا ہے کہ وہ برباد ہوئے اور ہلاک کئے گئے یہ سورت شاید میرے بارے میں اتری ہے بس اتنا ہے کہ وہ آگ والے ہوئے، یہ کہا گیا، کیا آیت ہے عربی میںسنایئے ؟ یعنی ہلاک کر دئے گئے اور برباد ہوئے آگ کی خندق والے۔
سوال : اَعُوْذُبِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطَانِ الرَّجِیْمِ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الَّرَحِیْمِ0 قُتِلَ اَصْحَابُ الْاُخْدُوْدِالنَّارِذَات ِ الْوُقُوْدِ اِذْ ھُمْ عَلَیْھَا قُعُوْد ط
جواب : اگر یہ کہیں رحم کیا گیا آگ والوں پر تو عربی میں کیا ہو گا ؟
سوال : رحم اصحاب الاخدودالنارذات الوقود
جواب : ہاں اگر میرے بارے میں یہ آیت اترتی تو یہ ہوتا کہ رحم اصحاب الاخدود النارذات الوقود
سوال : آپ ا پنا واقعہ بتا ئیے ؟
جواب : ہاں میرے بھائی بتا رہا ہوں، مگر کس منھ سے بتاؤں اور کس دل سے بتاؤں میرا پتھر دل بھی اس واقعہ کو سنانے کی ہمت نہیں رکھتا۔
سوال : پھر بھی بتائیے، شاید ایسا واقعہ تو اور زیادہ لوگوں کے لئے عبرت کا ذریعہ ہو،
جواب : ہاں بھئی واقعی میرے قبول اسلام کا واقعہ ہر مایوس کے لئے امید دلانے والا ہے کہ وہ کرپا وان اور دیالو ( ارحم الراحمین ) خدا جب میرے ساتھ ایسا کرم کر سکتا ہے تو کسی کو مایوس ہونے کی کہاں گنجائش ہے،تو سنو احمد بھائی،میرے ایک بڑے بھائی ہیں اتنے ظلم اور جرائم کے باوجود ہم دونوں بھائیوں میں حد درجہ محبت ہے میرے بھائی کی دو لڑکیاں اور دو لڑکے تھے اور میرے کو کوئی اولاد نہیں ہے، ان کی بڑی لڑکی کا نام ہیر ا تھاوہ عجیب دیوانی لڑکی تھی بہت ہی بھائوک (جذباتی) جس سے ملتی بس دیوانوں کی طرح اور جس سے نفرت کرتی پاگلوں کی طرح کبھی کبھی ہمیں یہ خیال ہوتا کہ شاید اس پر اوپری( جناتی) اثر ہے،کئی سیانوں وغیرہ کو بھی دکھایا، مگر اس کا حال جوں کا توں رہا اس نے آٹھویں کلاس تک اسکول میں پڑھا، بڑی ہوگئی اس کو گھر کے کام کاج میں لگا دیا،مگر اس کو آگے پڑھنے کا بہت شوق تھااور اس نے گھر والوں کی مرضی کے بغیر ہائی اسکول کا فارم بھر دیا آٹھ دن تک کھیتوں میں مزدوری کی تاکہ فیس بھرے اور کتابیں بھی لے، جب کتابیں اس کی خود سمجھ میں نہیں آئی تو وہ برابر میں ایک بامن ( برہمن ) کے گھر اس کی لڑکی سے پڑھنے جا نے لگی، برہمن کا ایک لڑکا بدمعاش اور ڈاکو تھا، نہ جانے کس طرح میری بھتیجی ہیرا کو اس نے بہکایااور اس کو لے کر رات کو فرار ہوگیا وہ اس کو لے کر بڑوت کے پاس ایک جنگل میں جہاں اس کا گروہ رہتا تھاپہنچا،وہ اس کے ساتھ چلی تو گئی مگر وہاں جا کر اسے اپنے ماں باپ کی عزت جانے اور ان کی بدنامی اور اپنی غلطی کا احساس ہوا وہ چپکے چپکے روتی تھی۔
اس گینگ میں ایک ادریس پور کا مسلمان لڑکا بھی رہتا تھا ایک روز اس نے روتے ہوئے دیکھ لیا اس نے رونے کی وجہ معلوم کی اس نے بتایا کہ میں کم عمری اور کم سمجھی میں اس کے ساتھ آ تو گئی، مگر مجھے اپنی عزت خطرے میں لگ رہی ہے اور میرے ماں باپ کی پریشانی مجھے بہت یاد آ رہی ہے، اس کو ہیرا پر ترس آگیا اور اس نے بتایا کہ میں مسلمان ہوں اور مسلمان اپنے عہد کے سچے کو کہتے ہیں، میں تجھے اپنی بہن بناتا ہوں، میں تیری عزت کی حفاظت کروں گا اور تجھے اس جنگل سے نکال کر صحیح سلامت تیرے گھر پہنچانے کی کوشش کروں گا اس نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ یہ لڑکی تو بہت بہادر اور اپنے ارادے کی پکی معلوم ہوتی ہے ہمیں اپنے گروہ میں ایک دو لڑکیوں کو ضرور شامل کرنا چاہیے اکثر ہمیں اس کی ضرورت ہوتی ہے، اب جنگل میں اس کو ساتھ رکھنے کا طریقہ یہ ہے کہ اس کو لڑکوں کے کپڑے پہناؤ، اس کی بات سب ساتھیوں کی سمجھ میں آ گئی، ہیرا کو کپڑے پہنا کر لڑکا بنایا گیا اور وہ ساتھ لے کر پھرتے تھے، اس نے دیکھا دس بارہ لوگوں میں اس مسلمان کا حال سب سے الگ تھا، وہ بات کا پکا تھا، اچھی رائے دیتا تھا جب مال بٹتا تھا تو اس میں کچھ غریبوں کا حصّہ رکھتا تھا ہیرا کو الگ کمرے میں سلاتا تھا اور رات کو بار بار اٹھ کر دیکھتا تھا کہ کوئی ساتھی ادھر تو نہیں آیا، جب کچھ روز ہیرا کو ان کے ساتھ ہوگئے اور ان کو اطمینان ہوگیا کہ وہ ان کے گینگ کی ممبر بن گئی ہے تو اس سے چوکسی یعنی نگرانی کم کردی گئی۔
اب اس نے ایک روز ہیرا کو ایک بہانے سے بڑوت بھیجا اور ہیرا سے کہا کہ تو وہاں تانگہ میں بیٹھ کر ہمارے گھر ادریس پور چلی جانا اور وہاں جاکر میرے چھوٹے بھائی سے سارا حال سنانا اور کہنا کہ تیرے بھائی نے بلایا ہے اور اس کو بتا دینا کہ وہ یہاں آ کر یہ کہے کہ وہ لڑکی بڑوت والوں نے شک میں پکڑ کر پولیس والوں کو دے دی ہے ہیرا نے ایسا ہی کیا،اس کا بھائی جنگل میں گیا اور اپنے بھائی سے جا کر کہا اس لڑکی کو بڑوت والوں نے پکڑ کر پولیس کو شک میں دے دیا ہے،اس نے اپنے بھائی سے کہا کہ ہیرا کو تھانے بھیج دواوروہ جاکر تھانہ میں کہے کہ ایک گروہ مجھے گائوں سے اٹھالایا کسی طرح میں چھوٹ کر آ گئی ہوں مجھے اپنی جان کا خطرہ ہے، ہیرانے ایسا ہی کیا،بڑوت تھانے والوں نے بڑھانہ تھانہ سے رابطہ کیا، وہاں پر اس لڑکی کہ اغوا کر نے کی رپورٹ پہلے ہی لکھی ہوئی تھی لیڈیز پولیس لے کربڑھانہ تھانہ کے لوگ بڑوت آئے اور تھانہ سے اس ہیرا کو لے گئے۔ ہیرا کو لے کر ہمارے گائوں آئے ہم نے اسے گھر رکھ تو لیا مگر ایسی بد چلن لڑکی کو گھر میں کس طرح رکھیں، ہیرا نے بتایا کہ مجھے تو گروہ اٹھاکر لے گیا، مگر میں نے اپنی عزت کی حفاظت کی ہے کسی کو یقین نہ آیا، ایک پڑھے لکھے رشتہ دار بھی آ گئے انھوں نے کہا کہ لڑکی کی ڈاکٹری کرا لو، ہم دونوں بھائی ڈاکٹری کے لئے بڑھانہ اسپتال اس کو لے کر گئے اور خیال یہ تھا کہ اگر اس کی عزت سلامت ہے تو واپس لائیں گے، ورنہ مار کر بڑھانہ کی ندی میں ڈال آئیں گے، اللہ کا کرم ہوا کہ ڈاکٹر نے رپوٹ دی کہ اس کی عزت محفوظ ہے،خوشی خوشی اس کو لے کر گھر آئے مگر وہ اب مسلمانوں کا بہت ذکر کرتی تھی اور بار بار ایک مسلمان لڑکے کی شرافت کی وجہ سے اپنے بچ جانے کا ذکر کرتی تھی، وہ مسلمانوں کے گھر جانے لگی وہاں ایک لڑکی نے اس کو دوزخ کا کھٹکا اور جنت کی کنجی کتاب دے دی، مسلمانوں کی کتاب میں نے گھر میں رکھی دیکھی تو میں نے اس کو بہت مارا اور خبردار کیا کہ اگر اس طرح کی کتاب میں نے گھر میں دیکھی تو تجھے کاٹ کے ڈال دوں گا، مگر اس کے دل میں اسلام گھر کر گیا تھا اور اسلام نے اس کے دل کی اندھیری کوٹھری کو اپنے پرکاش (نور) سے پرکاشت (منور) کر دیا تھا،اس نے مدرسہ میں ایک مسلمان لڑکی کے ساتھ جا کر ایک مولانا صاحب کے ہاتھ پر اسلام قبول کر لیا اور چپکے چپکے نماز سیکھنے لگی اور وہ سمے سمے پر( وقتاً فوقتاً ) نماز پڑھنے لگی مسلمان ہو نے کے بعد وہ شرک کے اندھیرے گھرانے میں گھٹن محسوس کر نے لگی،وہ بالکل اداس اداس سی رہتی، ہر وقت ہنسنے والی لڑکی وہ ایسی ہی ہوگئی جیسے اس کا سب کچھ بدل گیا ہو، نہ جانے کس کس طرح اس نے پروگرام بنایا اور وہ پھر گھر سے چلی گئی، ایک مولانا صاحب اس کو اپنی بیوی کے ساتھ پھلت چھوڑ آئے، پھلت کچھ روز احمد بھائی آپ کے یہاں رہی، شاید آپ کو یاد ہوگا۔
سوال : ہاں ہاں حرا باجی ! ارے وہ حرا باجی کہاں ہے ! ہمارے گھر والے تو ان کی طرف سے بہت فکر مند ہیں،وہ بڑی نیک انسان تھیں حیرت ہے کہ آپ حرا باجی کے چچا ہیں۔
جواب : ہاں احمد بھائی ! اس کا نام آپ کے ابی نے حرا رکھا تھا اور اس نیک بخت بچی کا ظالم اور قاتل چچا میں ہی ہوں۔۔۔ (روتے ہوئے )
سوال : پہلے تو یہ سنائیے کہ حرا باجی کہاں ہیں ؟
جواب : بتا رہا ہوں،میرے بھائی بتا رہا ہوں اپنے ظلم اور درندگی کی داستان، جیسا کہ آپ کے علم میں ہوگا کہ مولانا صاحب نے اس کو احتیاط کے طور پر دہلی اپنی بہن کے یہاں بھیج دیا وہ وہاں رہی،وہاں اس کو بہت ہی مناسب ماحول ملا وہ مولانا صاحب کی بہن کے یہاں رہی،وہ ان کو رانی پھوپی کہتی تھی آپ کی امی نے بھی اس کو بہت پیار دیا اور رانی پھوپی نے اس کی بہت تربیت کی، شاید ایک ڈیڑھ سال وہ دہلی رہی،پھلت اور دہلی کے قیام نے اس کو ایسا مسلمان بنا دیا کہ اب اگر قرآ ن حکیم نازل ہوتا تو احمد بھائی شاید نام لے کر اس ایمان والی شہید بچی کا ضرور ذکر ہوتا،اسے اپنے گھر والوں سے بہت محبت تھی خصوصاً اپنی ماں سے بہت محبت تھی، اس کی ماں بہت بیمار رہتی تھیں، ایک رات اس نے خواب میں دیکھاکہ میری ماں مر گئی ہے آنکھ کھلی تو اس کو ماں کی بہت یاد آئی اگر ایمان کے بغیر اس کی ماں مر گئی تو کیا ہوگا یہ سوچ کر وہ رو نے لگی اور اس کی چیخیں لگ گئی، گھر کے سبھی لوگ اٹھ گئے اس کو سمجھایا تسلی دی، وقتی طور پر وہ چپ ہوگئی مگر باربار اس کو خواب کو یاد کر کے رونا آتا تھا اور آپ کے ابی کو ابی جی کہتی تھی، بار بار وہ اپنی ماں کو یاد کرتی اورگھر جانے کی اجازت مانگتی مگر آپ کے ابی اس کو سمجھاتے کہ تمہارے گھر والے تمہیں زندہ نہیں چھوڑیں گے اور مار دیں گے اور اس سے زیادہ یہ کہ تمہیں پھر ہندو بنا لیں گے، ایمان کے خطرے سے وہ رک جاتی مگر پھر اس کو گھر یاد آتا تو گھر جانے کی ضد کرتی، بہت مجبور ہو کر مولانا نے اس کو اجازت دی مگر سمجھایا کہ تم صرف اپنے گھر والوں کو اسلام کی دعوت دینے کی نیت سے گھر جاؤ اور واقعی اگر تمہیں اپنے گھر والوں سے محبت ہے تو محبت کا سب سے ضروری حق یہ ہے کہ تم ان کو اسلام کی دعوت دو اور ان کو دوزخ کی آگ سے بچانے کی فکر کرو ، ہیرا نے کہا کہ وہ تو اسلام کے نام سے بھی چِڑتے ہیں وہ ہر گز اسلام نہیں قبول کر سکتے،اس نے گھر میں بتایا تھا کہ مولانا صاحب نے کہا کہ جب اللہ تعالیٰ ان کے سینے کو اسلام کے لئے کھول دینگے تو پھر وہ کفر اور شرک سے بھی اسی طرح چِڑنے لگیں گے جس طرح اسلام سے چڑتے ہیں،مولانا صاحب نے اس سے کہا کہ تم بھی تو اسلام سے اسی طرح چڑتی تھی جس طرح اب شرک سے نفرت کرتی ہو،اللہ سے دعا کرو اور مجھ سے عہد کرو کہ میں گھر اپنی ماں اور گھر والوں کو دوزخ سے بچانے کی فکر میں جا رہی ہوں،اگر تم اس نیت سے جاؤگی تو اول تو اللہ تمہاری حفاظت کریں گے اور اگر تم کو تکلیف بھی ہوئی تو وہ تکلیف ہوگی جو ہمارے نبی ﷺ کی اصل سنت ہے اور اگر تمہارے گھر والوں نے تمہیں مار بھی دیا توتم شہید ہو گی اور شہادت جنت کا مختصر ترین راستہ ہے اور مجھے یقین ہے کہ تمہاری شہادت خود ان کے لئے ہدایت کا ذریعہ ہو گی، اگر تم گھر والوں کو دوزخ سے بچانے کے لئے اپنی جان بھی دے دوگی وہ ہدایت پا جائیں گے تو تمہارے لئے سستا سودا ہوگا۔
مولانا صاحب بتاتے ہیں کہ انہوں نے اس کو دو رکعت نماز پڑھ کر اللہ سے ہدایت کی دعا کرنے اور دعوت کی نیت سے اپنے گھر جانے کا عہد کرنے کو کہا،وہ دہلی سے پھلت اور پھر گھر آ گئی،ہم لوگ اس کو دیکھ کر آگ بگولہ ہو گئے، میں نے اس کو جوتوں اور لاتوں سے مارا اس نے یہ تو نہیں بتایا کہ میں کہاں رہی؟ البتہ یہ بتا دیا کہ میں مسلمان ہوگئی ہوں اور اب مجھے اسلام سے کوئی ہٹا نہیں سکتا، ہم اس پر سختی کرتے تو وہ رو رو کر الٹا ہمیں مسلمان ہونے کو کہتی، اس کی ماں بہت بیمار تھی، دو مہینہ کے بعد وہ مرگئی تو وہ اس کو دفن کے لئے مسلمانوں کو دینے کو کہتی رہی کہ میری ماں نے میرے سامنے کلمہ پڑھا ہے ،وہ مسلمان مری ہے، اس کو جلانا بڑا ظلم ہے مگر ہم لوگ کس طرح اس کو دفن کرتے، اس کو جلا دیا،روز ہمارے گھر میں ایک فساد ہوتا،کبھی وہ بھائیوں کو مسلمان ہونے کے لئے کہتی کبھی وہ باپ کو، ہم لوگوں نے اس کو میرٹھ اس کی نانیہال میں پہنچا دیا، اس کے ماموں اس کی مسلمانی سے عاجز آگئے اور انہوں نے مجھے اور میرے بھائی کو بلایا کہ اس ادھرم (لامذہب) کو ہمارے یہاں سے لے جاؤ،ہم لوگ روز روز کے جھگڑوں سے عاجز آگئے ہیں۔
میں نے بجرنگ دل کے ذمہ داروں سے مشورہ کیا سب نے اسے مار ڈالنے کا مشورہ دیا میں اسے گائوں لے آیا، ایک دن جاکر ندی کے کنارے پانچ فٹ گہرا گڑھا کھودا، میں اور بڑے بھائی دونوں اس کو گاؤں لے جانے کے بہانے لے کر چلے کہ تیری بوا کے یہاں جا رہے ہیں، اس کو شاید سپنے (خواب )میں معلوم ہوگیا تھا وہ نہائی اور نئے کپڑے پہنے اور ہم سے کہا کہ چچا آخری نماز تو پڑھنے دو، جلدی سے نماز پڑھی اور خوشی خوشی دلہن سی بن کر ہمارے ساتھ چل دی،آبادی سے دور راستہ سے الگ جانے کے باوجود اس نے ہم سے بالکل نہیں پوچھا کہ بوا کا گھر ادھر کہاں؟ندی کے بالکل پاس جا کر اس نے ہنس کر اپنے باپ سے پوچھا آپ مجھے بوا کے گھر لے جارہے ہیں یاپیا کے گھر (دیر تک روتے ہوئے۔۔۔)
سوال : پانی منگا کر پلاتے ہوئے، ہاں بات پوری کردیجئے ؟
جواب : کس دل سے پوری کروں ؟ہاں بھائی پوری تو کرنی ہی ہے میرے تھیلے میں پانچ لیٹر پٹرول تھا،ہیرا کا حقیقی باپ اور میں ظالم چچا دونوں کے ساتھ وہ سچی مومنہ عاشقہ اور شہیدہ ۔ ہم اس کو لے کر گڑھے کے پاس پہنچے جو ایک روز پہلے پروگرام کے تحت کھودا تھا،اس درندہ چچا نے یہ کہہ کر اس پھول سی بچی کو اس گڑھے میں دھکا دے دیا کہ تو ہمیں نرک یعنی دوزخ کی آگ سے کیا بچائے گی ،لے خود مزا چکھ ۔ نرک کا،گڑھے میں دھکا دیکر میں نے اس کے اوپر وہ سارا پٹرول ڈال دیا اور ماچس جلائی،میرے بڑے بھائی بس روتے ہوئے اس کو کھڑے دیکھتے رہے،جلی ہوئی ماچس کی تیلی اس پر لگی کہ آگ اس کے نئے کپڑوں میں بھڑک گئی، وہ گڑھے میں کھڑی ہوئی اور جلتی آگ میں ہاتھ آسمان کی طرف اٹھائے اور چیخی ’’میرے اللہ ! آپ مجھے دیکھ رہے ہے نا، میرے اللہ آپ مجھے دیکھ رہے ہیں نا، میرے اللہ آپ مجھ سے محبت کر تے ہے نا، اپنی حرا سے بہت پیار کرتے ہیں نا، ہاں میرے اللہ آپ غار ِ حرا سے بھی محبت کرتے ہیں اور گڑھے میں جلتی حرا سے بھی محبت کر تے ہے نا، آپ کی محبت کے بعد مجھے کسی کی ضرورت نہیں ‘‘ اس کے بعد اس نے زور زور سے کہنا شروع کیا : ’’ پتاجی اسلام ضرور قبول کر لینا،‘ چاچا مسلمان ضرور ہو جا نا، چاچا مسلمان ضرور ہو جانا ‘‘ ( ہچکیوں سے روتے ہوئے )
اس پر مجھے غصہ آ گیا اور میں بھائی صاحب کا ہاتھ پکڑ کر چلا آیا، بھائی صاحب مجھ سے کہتے رہے کہ ایک بار اور سمجھا کر دیکھ لیتے مگر مجھے ان پر غصہ آیا، بعد میں واپس آتے ہوئے ہم نے گڑھے کے اندر سے زور زور سے لاالہ الا اللہ کی آوازیں آتی سنیں اور ہم اپنے فریضہ کو ادا کرنا سمجھ کر چلے تو آئے مگر اس شہید محبت کا یہ آخری جملہ مجھ درندہ اور سفاک کے پتھر دل کو ٹکڑے کر گیا ،میرے بھائی گھر آ کر بیمار پڑ گئے ان کے دل میں صدمہ سا بیٹھ گیا اور یہ بیماری ان کے لئے جان لیوا ثابت ہوئی،مرنے کے دو دن پہلے انہوں نے مجھے بلایا اور کہا کہ ہم نے زندگی میں جو کیا وہ کیا، مگر اب میری موت حرا کے دھرم پر جائے بغیر نہیں ہوسکتی، تم کسی مولانا صاحب کو بلا لاؤ، میں بھی بھائی صاحب کے حال کی وجہ سے ٹوٹ گیا تھا، ہمارے یہاں مسجد کے امام صاحب مل گئے، ان کو لے کر آیا، انہوں نے ان سے کلمہ پڑھانے کو کہا، کلمہ پڑھا، اپنا اسلامی نام عبدالر حمن رکھا اور مجھ سے کہا کہ مجھے مسلمانوں کے طریقے پر مٹی دینا، میرے لئے یہ بہت مشکل بات تھی مگر میں نے بھائی کی انتم اِچّھا ( آخری خواہش ) پوری کر نے کے لئے یہ کیا ۔ کہ علاج کے بہانے دہلی لے گیا، وہاں پر اسپتال میں داخل کیا، وہیں ان کی موت ہوئی، وہ بہت اطمینان سے مرے، پھر ہمدرد کے ایک ڈاکٹر سے میں نے یہ حال سنایا تو انہوں نے وہاں سنگم و ہار کے کچھ مسلمانوں کو بلا کر ان کے دفن وغیرہ کا انتظام کیا۔
سوال : عجیب واقعہ ہے ؟ آپ نے اپنے اسلام قبول کر نے کا حال نہیں بتایا ؟
جواب : وہی بتا رہا ہوں، اسلام سے میری دشمنی کچھ تو کم ہوگئی تھی مگر بھائی کے مسلمان ہو کر مرنے کا بھی مجھے دکھ تھا، بھائی صاحب کے مسلمان مرنے سے مجھے یہ یقین ہو گیا کہ میری بھابھی بھی ضرور مسلمان ہوگئی ہوگی، مجھے ایسا لگا کہ کسی مسلمان نے ہمارے گھر پر جادو کر دیا ہے اور وہ دلوں کو باندھ رہا ہے، ایک ایک کر کے سب اپنے دھرم کو چھوڑ رہے ہیں، تو میں نے بہت سے سیانوں سے بات کی، میں ایک تانترک کی تلاش میں شاملی سے اون جارہا تھا، بس میں سوار ہوا تو بس کسی مسلمان کی تھی، ڈرایئور بھی مسلمان تھا، اس نے ٹیپ میں قوالی چلا رکھی تھی،بڑھیاعورت کے نام کی قوالی تھی اس نے ہمارے نبی ﷺ کے، ایک بڑھیا کی خدمت اور بڑھیا کے ان کو سمجھانے اور پھر بڑھیا کے مسلمان ہو نے کا قصہ تھا، اسپیکر میرے سر پر تھا،ب س جھنجھانہ رکی، اس قوالی نے میر ی سوچ کوبدل دیا، مجھے خیال ہوا کہ جس نبی کا یہ قصہ ہے وہ جھوٹا نہیں ہوسکتا، میں اون کے بجائے جھنجھانہ اتر گیا اور خیال ہوا کی مجھے اسلام کے بارے میں پڑھنا چاہئے، اس کے بعد شاملی بس میں بیٹھ گیا، اس میں بھی ٹیپ بج رہا تھا،پاکستان کے مولانا قاری حنیف صاحب کی تقریر تھی مرنے اور مر نے کے بعد کے حالات پر ان کی تقریر تھی، مجھے شاملی اترنا تھا مگر وہ تقریر پوری نہیں ہوئی تھی، شاملی اڈے پر پہنچ کر ڈرائیور نے ٹیپ بند کر دیا، مجھے تقریر سننے کی بے چینی تھی بس مظفرنگر جانی تھی، میں نے تقریر سننے کے لئے مظفر نگر کا ٹکٹ لیا ، بگھرا پہنچ کر وہ تقریر ختم ہوگئی، اس تقریر نے اسلام سے میرے فاصلہ کو بہت کم کر دیا، میں بڑھانہ روڈ پر اترا اور گھر جانے کے لئے بڑھانہ کی بس میں سوار ہوا، میرے قریب ایک مولانا صاحب بیٹھ گئے، ان سے میں نے کہا کہ میں اسلام کے بارے میں کچھ پڑھنا چاہتا ہوں یا معلومات کر نا چاہتا ہوں، آپ میری اس سلسلہ میں مدد کریں، انہوں نے کہا آپ پھلت چلے جائیںاور مولانا کلیم صاحب سے ملے، ان سے مناسب آدمی ہمارے علاقے میں آپ کو نہیں ملے گا، میں نے پھلت کا پتہ معلوم کیا اور گھر جانے کے بجائے پھلت پہنچا، مولانا صاحب وہاں نہیں تھے، اگلے روز صبح کو آنے والے تھے،رات کو ایک ماسٹر صاحب نے مجھے مولانا صاحب کی کتاب ’’ آپ کی امانت، آپ کی سیوا میں ‘‘ دی، یہ کتاب اس کی زبان اور دل کو چھونے والی باتوں نے، مجھے شکار کر لیا، مولانا صاحب صبح سویرے کے بجائے اگلے روز شام کر پھلت آئے،میں نے مغرب کے بعد ان سے مسلمان ہونے کی خواہش کا اظہار کیا اور بتایا کہ میں معلومات کرنے آیا تھا، مگر آپ کی امانت نے مجھے شکار کر لیا، مولانا صاحب بہت خوش ہوئے، ۱۳ جنوری ۲۰۰۰؁ ء کو مجھے کلمہ پڑھایا، میرا نام عبداللہ رکھا، رات کو میں وہیں رکا، میں نے مولانا صاحب سے ایک گھنٹہ کا وقت مانگا اور اپنے ظلم و بر بر یت کے ننگے ناچ کی کہانی سنائی، مولانا صاحب میری بھتیجی حرا کی کہانی سن کر دیر تک روتے رہے اور بتایا کہ حرا ہمارے یہاں ہی رہی اور میری بہن کے پاس دہلی رہی، مولانا صاحب نے مجھے تسلی دی کہ اسلام پچھلے سارے گناہوں کو ختم کر دیتا ہے، مگر میرے دل کو اس کا اطمینان نہ ہوا اس درجہ سفاکی بربریت کو کس طرح معاف کیا جاسکتا ہے۔
مولانا صاحب مجھ سے کہتے تھے، اسلام سے سارے پچھلے گناہ معاف ہوجاتے ہیں، اپنے دل کے اطمینان کے لئے آپ نے اتنے مسلمانوں کو قتل کیا، اب آپ کچھ مسلمانوں کی جان بچانے کی کوشش کریں، قرآن نے کہا ہے کہ نیکیاں گناہوں کو زا ئل کر دیتی ہیں، اِنَّ الْحَسَنَاتَ یُذْھِبْنَ السَّیِّئَاتْ میں اپنی دل کی تسلی کے لئے اور اپنے ظلم کی قسمت جگانے کے لئے کوشش کر تا ہوں کہ کسی حادثہ میں کسی بیماری میں، کوئی مسلمان مرنے جا رہا ہو تو میں اس کو بچانے کی کوشش کروں، یہ بھی مجھے معلوم ہے کہ مرنے والے کو میں بچانے والا کون ہوں، مگر کوشش کرنے والا بھی، کرنے والے کی طرح ہوتا ہے، اس لئے کوشش کرتا ہوں۔
گجرات میں دنگے ہوئے، تو میں نے موقع غنیمت جانا، میرے اللہ کا کرم ہے کہ اس نے مجھے خوب موقع دیا، میں نے وہاں پر ہندو بن کر بہت سے مسلمانوں کو محفوظ جگہ پر پہنچایا، یا پہلے سے خطرے سے ہوشیار کیا، پہلے جا کر ہندوئوں کے مشورہ میں شامل ہوا اور دس گیارہ بھیڑ کے حملوں کی میں نے مسلمانوں کو اطلاع دے کر اپنے گاؤں سے، حملے سے پہلے ہی بھگا دیا، ایک کام تو میرے اللہ نے مجھ سے ایسا کرایا جس سے مجھے ضرور بڑی تسلی ہوتی ہے، آپ نے سنا ہوگا کہ بھاؤ نگر میں ایک مدرسہ میں چار سو بچوں کو مدرسہ کے اند ر جلانے کا پروگرام تھا، میں نے وہاں تھانہ انچارج شرما کو اطلاع دی اور ان کو تیار کیا، بھیڑ کے آنے کے دس منٹ پہلے پیچھے کی دیوار میں نے اپنے ہاتھ سے توڑی اور اللہ نے چار سو معصوموں کی جان بچانے کا مجھے ذریعہ بنایا، میں تین مہینہ تک گجرات جاکر پڑ گیا پھر بھی میرے ظلم اتنے زیادہ ہیں کہ یہ سب کچھ اس کے برابر نہیں ہو سکتا، بس ایک بار مولانا صاحب نے مجھے تسلی دی کہ اللہ کی رحمت کے لئے کیا مشکل ہے کہ موت کا وقت اور بہانہ تو اس نے خود طئے کیا ہے، جس اللہ نے آپ کو ہدایت سے نواز دیا وہ اللہ آپ کو معاف کر نے پر کیوں قادر نہیں، اس سے دل مطمئن ہوا، مولانا صاحب نے مجھے اسلام سیکھنے کے لئے جماعت میں جانے کا مشورہ دیا، میں نے دو ماہ کا وقت مانگا، گائوں سے مکانات اور زمینیں سستے داموں میں فروخت کیں اور دہلی جاکر مکان لیا، بیوی اور دو بھتیجوں اور حرا کی بہن کو تیار کیا اور پھلت لے جاکر کلمہ پڑھوایا، اس میں مجھے دو ماہ کے بجائے ایک سال لگا، پھر جماعت میں وقت لگا،میرا دل ہر وقت اس غم میں ڈوبا رہتا ہے کہ اتنے مسلمانوں اور پھول سی بچی کا اس سفا کی سے قتل کر نے والا کس طرح معافی کا مستحق ہے، مولانا صاحب نے مجھے قرآن شریف پڑھنے کو کہا اور خاص طور پر بروج سورت کو بار بار پڑھنے کو کہا، اب وہ مجھے زیادہ یاد ہے اور اس کا ترجمہ بھی، 14 سو سال پہلے کیسی سچی بات میرے اللہ نے کہی تھی، مجھے ایسا لگتا ہے کہ غیب کے جاننے والے خدانے ہمارا ہی نقشہ کھینچا ہے،
قُتِلَ اَصْحَابُ الْاُخْدُوْدِ النَّارِ ذَاتِ الْوَقُوْدِ، اِذْھُمْ عَلَیْھَا قُعُوْد، وَّھُمْ عَلیٰ مَا یَفْعَلُوْنَ بِالْمُؤْمِنِیْنَ شُھُوْدط وَمَا نَقَمُوْامِنْھُمْ اِلَّا ٓ اَنْ یُّؤْمِنُوْابِاللّٰہِ الْعَزِیْزِالْحَمِیْدِ، اَلَّذِیْ لَہ‘ مُلْکُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ط َواللّٰہُ عَلیٰ کُلِّ شَیْئٍ شَھِیْد (البروج :۴تا۹)
ترجمہ :’’خندقوں والے ہلاک کر دیے گئے، یعنی آگ کی خندقیں جن میں ایندھن جھونک رکھا تھا، جب کہ وہ ان کے کناروں پر بیٹھے ہوئے تھے اور جو سختیاں وہ اہلِ ایمان پر کر رہے تھے ان کو سامنے دیکھ رہے تھے، ان کو مومنوں کی یہی بات بری لگتی تھی کہ وہ خدا پر ایمان لائے ہوئے تھے جو غالب اور قابلِ تعریف ہے، وہی جس کی آسمانوں اور زمین میں بادشاہت ہے اور خدا ہر چیز سے واقف ہے۔‘‘
احمد بھائی اس سورت کو آپ پڑھیں اور حرا کی تڑپا دینے والی آخری صدائوں پر غور کریں : میرے اللہ آپ مجھے دیکھ رہیں ہے نا ! میرے اللہ آپ مجھ سے محبت کر تے ہیں نا! ہاں ! میرے اللہ آپ غار ِ حرا ء سے بھی محبت کر تے ہیں، اپنی حرا سے بھی پیار کر تے ہیں نا ! آپ کی محبت کے بعد مجھے کسی کی محبت کی ضرورت نہیں۔۔۔پتا جی اسلام ضرور قبول کر لینا، چا چا مسلمان ضرور ہو جا نا، چاچا مسلمان ضرور ہو جانا۔ (ہچکیوں سے روتے ہوئے )
سوال :اللہ کا شکر ہے کہ آپ نے اس کا کہنا مان لیا آپ بہت خوش قسمت ہیں اس ظلم کے اندھیرے کو رحمت اور اسلام کے نور کا ذریعہ اللہ نے آپ کے لئے بنادیا۔
جواب : میں نے کہا اس کا کہنا مانا ؟ ہدایت کا فیصلہ کر نے والے اس سے محبت کر نے دالے اللہ نے اس کا کہنا مانا، مجھ جیسا درندہ کب اس کرم سے قابل تھا ؟
سوال : بہت بہت شکریہ عبداللہ بھائی !
جواب : احمد بھائی آپ دعا کریں، اللہ تعالیٰ مجھ سے کوئی ایسا کام ضرور کرا دے جس سے میرا دل مطمئن ہو جائے کہ میرے مظالم کی تلافی ہو گئی، واقعی قرآن کے اس فرمان میں مجھ جیسے لا علاج مریض کے لئے بڑا علاج ہے کہ اچھائیاں برائیوں کو زائل کر دیتی ہیں، اس لئے گجرات فسادات میں کچھ معصوم مسلمانوں کی مدد اور جان بچانے کی کوششوں سے میرے دل کو بڑی تسلی ہوتی ہے۔ (خدا حافظ)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ماہنامہ ارمغان، فر وری ۲۰۰۵ء

بےباک
04-20-2012, 08:03 AM
http://ummat.com.pk/story/wp-content/uploads/2012/04/120420-s6.jpg
http://ummat.com.pk/story/wp-content/uploads/2012/04/120420-s6.gif
http://ummat.com.pk/story/wp-content/uploads/2012/04/120420-s6a.gif

طارق راحیل
05-13-2012, 01:43 PM
سبحان اللہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔

بےباک
06-02-2012, 12:30 AM
http://ummat.com.pk/story/wp-content/uploads/2012/04/120428-s3.gif
http://ummat.com.pk/story/wp-content/uploads/2012/04/120428-s3a.gif