PDA

View Full Version : سیاچین میں 124 فوجی دب گئے



بےباک
04-08-2012, 09:16 AM
سیاچن، برفانی تودہ گرنے سے کرنل سمیت 124 فوجی اہلکار دب گئے،
http://madrasregiment.org/images/3rd-battalion/siachen/dsc01525.JPG
خراب موسم کے باعث امدادی کاموں میں دشواری
اسلام آباد /ا سکردو (نمائندگان جنگ) سیاچن میں برفانی تودہ گرنے سے لیفٹیننٹ کرنل، میجر، کیپٹن ، لیفٹیننٹ اور نان کمیشنڈ اہلکاروں سمیت 124 پاکستانی فوجی اور 11 شہری برف تلے دب گئے ہیں جس سے بڑے پیمانے پر جانی نقصان کا خدشہ ہے۔ گیاری سیکٹر میں بٹالین ہیڈکوارٹر کے جوان ہفتے کی صبح چار بجے حادثے کی زد میں آئے ، ان اہلکاروں کا تعلق نادرن لائٹ انفنٹری سے ہے، حادثے کی خبر ملتے ہی آرمی نے ریسکیو آپریشن شروع کر دیا ہے اور بھاری مشینری جائے حادثہ پر پہنچا دی ہے۔ تاہم امدادی ٹیموں کا بھی مواصلاتی رابطہ منقطع ہے اور خراب موسم کے باعث امدادی کاموں میں دشواری کا سامنا ہے۔ آئی ایس پی آر کے ترجمان میجر جنرل اطہر عباس کا کہنا ہے کہ مذکورہ علاقہ 15ہزار فٹ کی بلندی پر واقع ہے جبکہ برفانی تودہ ایک مربع کلو میٹر وسیع اور 70 سے 80 فٹ اونچا ہے ، آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی نے امدادی ٹیموں کو ہرممکن سہولتیں فراہم کرنے کا حکم دے دیا ہے ۔ علاوہ ازیں صدر زرداری اور وزیراعظم گیلانی نے واقعے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے امدادی کارروائیاں تیز کرنے کی ہدایت کی ہے ۔ دوسری جانب متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین نے برفانی تودہ گرنے کے واقعے میں فوجی جوانوں کے دب جانے پر افسوس کااظہار کیا اور حکومت سے اپیل کی کہ امدادی کارروائیاں تیز کی جائیں۔ جیو ٹی وی کے مطابق برفانی تودے تلے دب جانے والوں میں 124 فوجیوں کے علاوہ 11 مقامی باشندے بھی شامل ہیں اور متاثرین کی تعداد 135 ہے ۔ تفصیلات کے مطابق سیاچن کے انتہائی دشوار گزار علاقے گیاری سیکٹر میں برفانی تودہ گرنے سے 124 فوجی دب گئے ہیں جنہیں نکالنے کے لئے اسکردو سے ہیلی کاپٹر، انجینئر کور، سراغرساں کتوں اور میڈیکل ٹیموں کو لے کر علاقے میں پہنچ گئے اور امدادی کارروائیاں فوری طور پر شروع کر دی گئی ہیں۔ تودے کی زد میں آنے والے فوجیوں میں لیفٹیننٹ کرنل‘ میجر‘ کیپٹن‘ لیفٹیننٹ اور دوسرے نان کمیشنڈ افسر اور جوان شامل ہیں۔ آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی نے کور کمانڈر اور دوسرے اعلیٰ حکام کو فوری امدادی کارروائی کا حکم دیا ہے۔ آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی کو امدادی کارروائیوں سے لمحہ بہ لمحہ آگاہ کیا جارہا ہے۔ آرمی چیف نے امدادی ٹیموں کو ہرممکن سہولتیں فراہم کرنے کا بھی حکم دیا ہے۔ فوجی ماہرین کے مطابق فوجیوں کو دبے ہوئے کئی گھنٹے ہوگئے ہیں اور ایسے حالات اور مشکل ترین علاقے میں انسانی جانوں کا بچنا معجزے سے کم نہیں ہوگا۔ تاہم امدادی ٹیمیں پورے ساز و سامان کے ساتھ بالخصوصی طبی ٹیموں کے پہنچنے کی وجہ سے کافی تعداد میں فوجیوں کو بچایا بھی جاسکتا ہے۔ سیاچن میں دبے فوجیوں کو نکالنے کے لئے بھاری مشینری بھی گیاری سیکٹر کی طرف روانہ کر دی گئی۔ تاہم امدادی ٹیموں کا بھی مواصلاتی رابطہ منقطع ہے اور علاقے میں کئی اور برفانی تودے گرنے کی بھی اطلاعات ہیں۔ وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے سیاچن کے گیاری سیکٹر میں برفانی تودہ گرنے سے پاک فوج کے افسروں اور جوانوں کے دب جانے کے واقعہ پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ وزیراعظم ریسکیو آپریشن کے متعلق متعلقہ حکام سے مسلسل رابطہ میں رہے اور آگاہی حاصل کرتے رہے۔ آئی این پی کے مطابق بعض فوجی اہلکاروں کی لاشیں نکال لی گئی ہیں تاہم واقعہ میں متعدد اہلکاروں کی ہلاکت کا خدشہ ہے۔ تاہم موسم کی خرا بی کے باعث امدادی کارروائیوں میں سخت مشکلات کا سامنا ہے۔ آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل اطہرعباس نے کہا ہے کہ سیاچن میں برفانی تودے کے نیچے 124 فوجی دبے ہوئے ہیں جن کو نکالنے کے لئے امدادی کارروائیاں جاری ہیں تمام فوجیوں کو نکالنے تک آپریشن جاری رہے گا۔ ابھی تک امدادی ٹیموں کو خاطر خواہ کامیابی نہیں ہوئی۔ برفانی تودہ ایک کلومیٹر تک پھیلا ہوا ہے تاریخ میں پہلی مرتبہ اتنا بڑا حادثہ ہوا ہے۔ جنگ سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ امدادی ٹیموں میں اسپیشل سروسز گروپ، پاک فوج کے انجینئرز، میڈیکل ٹیمیں اور ہیلی کاپٹر حصہ لے رہے ہیں۔ دبے ہوئے فوجیوں کو نکالنے کے لئے ہر قسم کی مشینری پہنچادی گئی ہے۔ 15ہزار فٹ کی بلندی پر امدادی کارروائیاں انتہائی مشکل کام ہے۔ ذرائع کے مطابق بٹالین ہیڈکوارٹر پر برفانی تودے کی تہہ 80فٹ بلند ہے اور شدید سردی میں بھی امدادی کارروائیاں جاری ہیں تاہم عسکری ذرائع کے مطابق برف ہٹانے کا کام دو روز تک جاری رہے گا۔ صدر آصف علی زرداری نے واقعہ پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ان کی جانیں بچانے کیلئے امدادی کارروائیاں تیز کرنے کی ہدایت کی ہے۔ صدر مملکت نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ ریسکیو اور ریلیف آپریشن کو تیز کیا جائے تاکہ برف میں پھنسے ہوئے جوانوں اور افسران کی زندگیاں بچائی جا سکیں۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر محمد نواز شریف نے اسکردو میں برفانی تودہ گرنے اور اس کی زد میں آنے والے دفاع وطن پر مامور پاک فوج کے افسروں اور جوانوں کی زندگیوں کی خیریت اور سلامتی کیلئے اہل وطن سے دعا کی اپیل کی ہے۔
http://madrasregiment.org/images/3rd-battalion/siachen/100_2165.JPG
اللہ تعالی سے دعا ہے کہ اللہ تعالی ہمارے بھائیوں کی مدد فرمائے ،آمین

شاہنواز
04-09-2012, 03:19 AM
سلام ان بہادر شہیدوں کو جنہوں اپنی جانیں اپنے پاک وطن پر قربان کردیں اور پاک وطن کا نام روشن کیا جس قوم کے ایسے سپوت ہو ان کو کون میلی آنکھ سے دیکھ سکتا ہے سلام ان بہادر سپوتوں کی ماؤں کو کہ انہوں نے ایسے سپوت قوم کے سپرد کئے اور اپنے حصے کا کام مکمل کیا ابھی سفر اور باقی ہے جو رہ گیا وہ ہم نے پورا کرنا ہے

انجم رشید
04-09-2012, 11:52 AM
اللہ تعالی سے دعا ہے کہ اللہ تعالی ہمارے بھائیوں کی مدد فرمائے ،آمین
آمین ثم آمین

admin
04-09-2012, 05:49 PM
میں اکثر کہا کرتا ہوں کہ فوج پر ڈرائینگ رومز میں بیٹھ کر تنقید کرنے والے کیا جانیں کہ فوجی جوان کس قدر اذیت اور تکالیف کے ساتھ ان ڈرائینگ روم نقادوں کو رات کو آرام و سکون سے سونے کا سامان مہیا کرتے ہیں۔ چند فوجی جنرلز کے غیر آئینی اقدامات کا نشانہ جب پوری فوج کو بنایا جاتا ہے تو ان جوانوں پر کیا بیتتی ہو گی کہ جو فقط اس لئے ایسے موت کے کنوؤں میں رہ رہے ہوتے ہیں کہ پوری قوم ان کے شانہ بشانہ کھڑی ہو گی۔ ڈرائینگ روم نقادوں کو کیا پتہ کہ یہ جوان کیسے زندگی گزارتے ہیں۔ کبھی جنگلوں میں کبھی صحراؤں میں کبھی غاروں میں کبھی بلند و بالا پہاڑوں پر۔ دھوپ، بارش، آندھی، طوفان، برف، پانیوں کی طغیانیاں، گولیوں کی آوازیں، بموں کا شور، توپوں کی گھن گرج، میزائلوں کی خوفناکیاں، ٹینکوں کے آہنی رولرز۔ اپنوں سے دوری، خوشی غمی کے احساسات میں پہلے قوم کی حفاظت پھر اپنی خوشیاں سب کچھ یہی تو کرتے ہیں۔ کیا تنخواہ ہے ان کی؟ ایک عام پرائیویٹ ملازم جتنی یا شاید اس سے بھی کم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ لوگ تنخواہ کے لئے یہ سب برداشت نہیں کرتے بلکہ جذبہ ایمانی ہے اور قوم کی دعاؤں اور اپنے شانہ بشانہ ہونے کا احساس۔۔۔۔۔۔۔۔ اگر ان کا یہ احساس جاتا رہا تو دشمن پاکستان کو ایسے کچل کر رکھ دے گا کہ کسی کی ہڈی پسلی بھی سلامت نظر نہیں آئے گی۔

اللہ تعالٰی سے دعا ہے کہ قوم کے ان محافظوں کو اپنی حفظ و امان میں رکھے اور مشکلات کا مقابلہ کرنے والے ان دلیر جوانوں کی خدمات کے صلے میں ان کے لئے آخرت میں بلند مقام عطا فرمائے۔ آمین ثم آمین

سیما
04-11-2012, 04:47 AM
اللہ تعالٰی سے دعا ہے کہ قوم کے ان محافظوں کو اپنی حفظ و امان میں رکھے اور مشکلات کا مقابلہ کرنے والے ان دلیر جوانوں کی خدمات کے صلے میں ان کے لئے آخرت میں بلند مقام عطا فرمائے۔ آمین ثم آمین

tashfin28
04-11-2012, 09:37 PM
سياچين گليشير کے حادثے پر امريکی دلی افسوس - اور امدادی سرگرميوں ميں مدد کی بھرپور پيشکش



سياچين گليشير کے گياری سيکٹر ميں نڈر پاکستانی فوجيوں کو درپيش حادثاتی صورت حال پر امريکہ کو شديد تشويش ہے۔ برفانی تودے کی زد ميں آ کر ہلاک ہونے والوں کے ليے ہم اظہار تعزيت کرتے ہيں۔ ہماری دعائيں اور نيک تمنائيں فوجيوں، ان کے اہل خانہ اور ديگر لواحقين کے ساتھ ہيں۔

امريکہ مدد، بحالی اور تلاش کے ضمن ميں جاری کسی بھی آپريشن کے ليے ہر طرح کی امداد مہيا کرنے کے ليے تيار ہے۔ اس المناک حادثے سے نبردآزما ہونے کے ليے پاکستان کو جس قسم کی بھی مدد کی ضرورت ہے اس کے ليے ہمارا تعاون موجود ہے۔

تاشفين – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

digitaloutreach@state.gov

www.state.gov

http://www.facebook.com/pages/USUrduDigitalOutreach/122365134490320?v=wall

لاجواب
04-11-2012, 10:34 PM
اللہ تعالی سے دعا ہے کہ اللہ تعالی ہمارے بھائیوں کی مدد فرمائے ،آمین

سیما
04-12-2012, 04:48 AM
دنیا کے بلند ترین محاذِ جنگ سیاچن کے گیاری سیکٹر میں برفانی تودے کے نیچے دبنے والے پاکستانی فوجی محمد ندیم خِان کے لواحقین بھی ابھی تک امیدو بیم کی کیفیت سے دو چار ہیں۔

ندیم خان ان ایک سو اٹھائیس پاکستانی فوجیوں میں سے ایک ہیں جو گزشتہ سنیچر کو پیش آنے والے اس حادثے کے بعد لاپتہ ہیں۔

اسی بارے میںخراب موسم کے باوجود امدادی آپریشن جاریمتعلقہ عنواناتپاکستانمحمد ندیم خان کا تعلق پاکستان کے زیرِانتظام کشمیر کے ضلع باغ کے ایک چھوٹے سےگاؤں رنگلہ سے ہے۔

ان کے چار بھائی اور تین بہنیں ہیں جبکہ والدین وفات پا چکے ہیں۔ ندیم کی شادی تین سال پہلے ہوئی لیکن ان کا کوئی بچہ نہیں۔

وہ قریباً تیرہ سال پہلے پاکستانی فوج کی جموں کشمیر نیشنل لائٹ انفنٹری(جے کے این ایل آئی ) میں بھرتی ہوئے تھے۔ سنہ دو ہزار دس کے آخر میں انہیں پہلی بار سیاچن میں تعینات کیا گیا اور اس سے پہلے وہ بلوچستان میں تعینات تھے۔

ندیم ایک ماہ کی چھٹیاں گزارنے کے بعد چھ مارچ کو واپس ڈیوٹی پر سیاچن گئے تھے اور پانچ دن قبل گرنے والے برفانی تودے کی وجہ سے ندیم کے عزیزوں کا پریشان ہونا فطری تھا کیوں کہ ان کی یونٹ وہی ہے جس کے سپاہی تودے کے نیچے دب گئے ہیں۔

ندیم کے ایک بھائی محمد اشفاق خان نے ٹیلیفون پر بات کرتے ہوئے بتایا کہ انھیں فوج کی ہیلپ لائن کے ذریعے پتہ چلا کہ لاپتہ ہونے والوں میں ان کے بھائی بھی تھے۔

ان کے سب سے چھوٹے ماجد خان نے کہا اس واقعے کے بعد پاکستانی فوج کے ایک کرنل ان کے پاس آئے اور ان کی حوصلہ افزائی کی۔ ماجد کے مطابق فوجی کرنل نے انہیں بتایا کہ ’لاپتہ افراد کی تلاش کے لیے کارروائی جاری ہے لیکن ہمیں ہر طرح کی صورت حال کا سامنا کرنے کے لیے ذہنی طور پر تیار رہنا چاہیے‘۔

"وہ( ندیم خان) تھوڑے پریشان تھے جب وہ گھر سے گئے تھے۔ ان کی وہاں تعیناتی پر کوئی بھی خوش نہیں تھا۔سیاچن کا سیکٹر مشکل ہے اس لیے سارے گھر والے ان کے لیے ہر وقت پریشان رہتے تھے۔"

منشاد خان
محمد ندیم خان کے لواحقین کہتے ہیں کہ وہ حالات کے سامنے بے بس ہیں لیکن وہ دعا گو ہیں کہ ان کے بھائی زندہ گھر لوٹ آئیں۔

محمد ندیم کے بڑے بھائی محمد منشاد خان کا کہنا تھا کہ مخصوص جغرافیائی اور موسمی حالات کی وجہ سے ان کے بھائی سیاچن میں تعیناتی پر خوش نہیں تھے اور نہ ہی خاندان کا کوئی اور شخص اس پر خوش تھا۔

’وہ( ان کا بھائی) تھوڑے پریشان تھے جب وہ گھر سے گئے تھے۔ ان کی وہاں تعیناتی پر کوئی بھی خوش نہیں تھا۔سیاچن کا سیکٹر مشکل ہے اس لیے سارے گھر والے ان کے لیے ہر وقت پریشان رہتے تھے‘۔

لاپتہ ہونے والے سپاہی ندیم خان نےگذشتہ جمعہ کو ہی اپنی اہلیہ اور بھائی سے ٹیلیفون پر بات کی تھی۔

ماجد خان کے مطابق ’انھوں نے ہر ایک فرد کا نام لے کر خیریت دریافت کی‘ بہنوں اور خاندان کے ہر فرد کے بارے میں پوچھا‘۔

ان کا کہنا ہے کہ ان کے بھائی ہر دوسرے روز گھر فون کرتے تھے۔ وہ اپنے بھائی کو یاد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’وہ سادہ ، ہنس مکھ اور خوش دل انسان تھے اور اور وہ جب بھی گھر آتے تو وہ ہمارے ساتھ مذاق کرتے اور وہ ایسے نہیں تھے جو سنجیدہ یا چپ ہوکر بیٹھ رہتے‘۔

محمد ندیم کی اہلیہ سے جب بات کرنے کی کوشش کی گئی تو ان کے خاندان والوں نے کہا کہ وہ صدمے میں ہیں۔ محمد ماجد نے بتایا کہ ’وہ ( بھابھی) صد مے کی حالت میں ہیں، بات نہیں کر سکتیں۔ وہ رو رہی ہیں اور ان کے آنسوؤں تھمتھے ہی نہیں ہیں‘۔

واضح رہے کہ گذشتہ سنیچر کو دنیا کے بلند ترین محاز سیاچن پر ایک سو چوبیس فوجیوں سمیت ایک سو انتالیس افراد برفانی تودے کے نیچے دب گیے تھے جن میں سے فوجی حکام کے مطابق محمد ندیم خان سمیت پینتیس فوجیوں کا تعلق پاکستان کے زیر انتظام کشمیر سے ہے۔

بلند ترین محاز سیاچن پر ہندوستان اور پاکستان کی فوجوں کے درمیان لڑائی میں دونوں طرف سے کچھ ہی فوجی ہلاک ہوئے ہیں لیکن موسمی حالات کی وجہ سے ہلاک یا معذور ہونے والے فوجیوں کی تعداد سینکڑوں میں ہو سکتی ہے۔
بی بی سی