PDA

View Full Version : شاہی پکوان



گلاب خان
12-03-2010, 12:14 AM
شاہی پکوان


ج
ہم عثمانی دستر خوانوں میں اہم مقام کے حامل اور بڑے شوق سے کھائے جانے والے اچار کا ذکر کریں گے۔ اور ایک سلاد کی ترکیبِ تیاری کو بیان کریں گے۔ محل کے اندر اچار کو باورچی خانوں میں ڈالا جاتا تھا۔بعض اوقات استنبول کے بازار سے تیار شدہ اچار خریدا جاتا تھا۔ محل کے کھاتوں میں شاہی باورچی خانوں کو روانہ کردہ اچار تیار کرنے میں استعمال کردہ سبزیوں اور بازاری اچار کا ذکر موجود ہے۔ جو کہ اس بات کا مظہر ہے کہ محل میں اچار کافی پسند کیا جاتا تھا۔ آسڑیلوی سفارتکار اور مصنف بوسبیک نے عثمانیوں سے متعلق اپنے مشاہدات کو عالمی تاریخ میں مندرجہ ذیل الفاظ کے ساتھ جگہ دی ہے:

"انہوں نے مجھے ایک فوجی دکھایا جو کہ لکڑی کے ایک برتن سے کچھ نکالتے ہوئے کھا رہا تھا۔ میں نے غور سے دیکھا تو پتہ چلا کہ وہ پیاز، لہسن، شلجم، گاجر اور کھیرے کے آمیزے پر مبنی سلاد خورد کرنے میں مصروف تھا۔ اس پر نمک اور سرکہ ڈالا گیا تھا۔اس خوراک کی لذت محسوس ہونے والی بھوک کی سطح پر انحصار کرتی تھی۔ وہ فوجی بڑے مزے اور شوق سے سلاد جیسی غذا سے لطف اندوز ہو رہا تھا۔

نامور سیاح اولیا چیلیبی نے بھی گلی کوچوں میں تیل والے، سرکے والے۔ لہسن والے سلاد فروخت کرنے والے چھابڑی فروشوں اور دکانداروں کے چینی کے بڑے بڑے مرتبانوں میں اچا ر فروشوں کا ذکر کیا ہے۔ اٹھارویں صدی سے تعلق رکھنے والی کھانوں کی کتابوں میں اچار کاسلاد کی نسبت زیادہ وسیع پیمانے پر ذکر آیا ہے۔ جبکہ سلاد اور دیگر خوردنی اشیاء کا انیسویں صدی کی تصانیف اور ریکارڈز میں زیادہ ذکر آنے کا مشاہدہ ہوتا ہے۔

تو آئیے اولین طور پر شاہی دسترخوانوں کی زینت بننے والے ایک سلاد کی ترکیب تیاری سے آگاہی کرواتے ہیں۔

پندرہویں صدی کے شاہی کھانوں میں مستِ آب نامی ایک کھانے کا وجود بھی پایا جاتا تھا۔فارسی زبان میں مست کا مطلب دہی اور آب کا مطلب پانی ہے۔یعنی مستِ آب ایک طرح کا کھیرے کا ریتہ ہے۔پندرہویں صدی میں دیوان کے ارکان اور سلاطین کے دستر خوانوں پر یہ ریتہ ضرور موجود ہوتا تھا۔

فاتح سلطان مہمت کے کھاتوں کے رجسٹرز میں اس کھانے کے لیے دہی کو ہر ایک روز بعد خریدنے کا پتہ چلتا ہے۔ چارڈ والے ریتے کے لیے ضروری اجزاء نوٹ فرما لیجیے۔ ایک گھٹی چارڈ، تقریباً پانچ سو چھ سو گرام، 350 گرام دہی، تین چار لہسن کے جوئے، نائجیلا میٹھے کا ایک چمچ اور نمک حسبِ ذائقہ۔

اس کی ترکیبِ تیاری بھی کافی آسان ہے۔ پہلے چارڈ کو دھولیں اور اس کی ڈنڈیاں اُتار لیں۔ پتوں کو اسی شکل میں رکھیں۔ایک پتیلی میں ایک یا پھر ڈیڑھ لیٹر پانی اور تھوڑا سا نمک شامل کرتے ہوئے پہلے ڈنڈیوں کو اس میں ڈالیں۔ اور تھوڑا نرم پڑنے پر تقریباً دس منٹ بعد پتوں کو بھی شامل کریں اور چار تا پانچ منٹ تک اُبالیں۔

ان کو پتیلی سے نکالتے ہوئے پانی کو نتھار لیں اور ٹھنڈا پڑنے پر اس کے پتوں اور ڈنڈیوں کو باریک باریک کاٹ لیں۔لہسن کو تھوڑا نمک شامل کرتے ہوئے کوٹ لیں۔سلاد کے برتن میں دہی اور لہسن کو شامل کرتے ہوئے پھینٹیں۔ اور اوپرکا لا زیرہ ڈالتے ہوئے پیش کریں۔

خوردنی اشیاءروایتی ترین محفوظ کرنے کے طریقوں میں شامل اچار کے عثمانی پکوانوں میں کب اور کس طرح داخل ہونے کے بارے میں قطعی معلومات کا وجود نہیں ملتا۔ تا ہم یہ ضرور کہا جا سکتا ہے کہ عثمانی دور کے اچار اور عصرِ حاضر کے اچار کے طریقہ کار میں قابلِ ذکر فرق نہیں پایا جاتا۔قدیم دور میں اچار کی تیاری میں پودینہ اور نمک وافر مقدار میں استعمال کیا جاتا تھا۔اچار میں خوشبو پیدا کرنے اور اس کو دیر پا بنانے کے لازمی اجزاء کو آج بھی استعمال کیا جاتا ہے۔

اچار کو عثمانی دستر خوانوں میں عام طور پر بھوک بڑھانے والی خوراک کی حیثیت سے خورد کیا جاتا تھا۔اورکھانے کے ہمراہ بھی تھوڑی سی مقدار کو تناول کیا جاتا تھا۔

اٹھارویں اور انیسویں صدی کے کھانوں کی کتابوں میں اچار ڈالنے کی مختلف تراکیب کو جگہ دی گئی ہے۔ تا ہم استعمال کردہ لازمی اجزاء کی مقدار کا ذکر نہیں کیا گیا۔ان میں سے تین طرائق پر آج بھی عمل در آمد کیا جاتا ہے۔یہ کم نمکین پانی، کافی نمکین پانی اور سرکے سے تیار کیے جانے پر مبنی ہیں۔

کم سطح کے کھارے پانی کو ایک لیٹر پانی میں چار کھانے کے چمچ نمک سے تیار کیا جاتا ہے۔ بند گوبھی، کھیرے، اُبلی پھلیوں کے ساتھ ساتھ تازہ سبزیوں کے اچار کو اسی طریقے سے تیار کیا جاتا ہے۔

کافی کھارے پانی کو ایک لیٹر پانی میں دس کھانے کے چمچ نمک شامل کرتے ہوئے تیار کیا جاتا ہے۔یہ مکئی اور مٹر کی طرح کی سخت چھلکے والی سبزیوں کا اچار ڈالنے میں استعمال کیا جاتا ہے۔

سب سے زیادہ استعمال کیا جانا والا طریقہ کارسرکہ اور نمکین پانی کا استعمال کردہ طریقہ ہے۔ اس کے لیے ایک لیٹر پانی میں کھانے کے چار چمچ نمک ڈالتے ہوئے نمکین پانی تیار کیا جاتا ہے۔اور اس میں سرکے کو بھی شامل کرتے ہوئے اس آمیزے سے چقندر، گاجر اور ہری مرچوں کی طرح کی سبزیوں اور پھلوں کا اچار ڈالا جاتا ہے۔

سبزیوں کو شیشے کے مرتبانوں میں ڈالتے ہوئے ان پر کھارا پانی انڈیلا جاتا ہے۔اس کے ڈھکن کو نرمی سے بند کرتے ہوئے کسی ٹھنڈے مقام پر سات تا پندرہ دنوں تک چھوڑ دیا جاتا ہے۔

کھارے پانی میں کٹھائی جس قدر زیادہ ہو گی اچار محفوظ کرنے کی مدت اتنی ہی زیادہ ہو گی۔ آئندہ قسط میں شاہی دستر خوانوں کی زینت بننے والے ایک اچار کی ترکیب ِ تیاری سے آگاہی کروائی جائیگی۔