PDA

View Full Version : انڈوں کے کھانے



گلاب خان
12-03-2010, 12:20 AM
انڈوں ک کھانے



ج
ہم عثمانی پکوانوں میں وسیع پیمانے پر استعمال کردہ خوراک کا ذکر کریں گے۔یہ خوراک انڈہ ہے۔

عثمانی پکوانوں میں انڈوں سے نواع و اقسام کے کھانے تیار کیے جاتے تھے۔ ان کو نانوں، حلوے، سبزیوں، حتی پندرہویں صدی میں چاولوں کے ساتھ یا پھر شلجم اور بند گوبی اور گوشت والے کھانوں میں استعمال کیا جاتا تھا۔ علاوہ ازیں، اُبلے انڈے، فرائی انڈے اور آملیٹ وغیرہ بھی خورد کیے جاتے تھے۔حکیم اور کھانوں کے تاریخ دان شِروان انڈوں کو تل روغن میں پکاتے تھے اور اس کی لذت میں اضافے کے لیے زیرہ، دار چینی، گوند اور کالی مرچ کا بھی استعمال کرتے تھے۔سن 1764 کے رسالے میں آٹے، کٹھے دہی اور پندرہ۔بیس انڈوں سے تیار کردہ اور تیل میں بھونے جانے والا کھانا"انڈے والا لوکم" دودہ اور انڈے سے تیار کردہ کھانوں، دودہ والے پیٹیز اور روایتی لذت والے کھانے لالانگا کی ترکیبِ تیاری کو شائع کیا گیا تھا۔ تا ہم انڈے کے کھانوں کی سب سے طویل فہرست کو ندیم بن توسن کی کتاب میں جگہ دی گئی ہے۔ ہم آج آپ کو پندرہویں صدی سے عصرِ حاضر تک آنے والے انڈے کے ایک کھانے کی ترکیبِ تیاری کو پیش کر رہے ہیں۔ اس کھانے کا نام کھائگانا ہے۔

پندرہویں صدی کے کھانوں میں سے ایک کھائگانا کے لازمی اجزاء مندرجہ ذیل ہیں۔تا ہم کھائگانا کو کن اشیاء سے تیار کرنے کا آپ بذاتِ خود بھی تعین کر سکتے ہیں۔چاہیں پنیر کھائگانا، چاہیں تو بینگن والا کھائگانا یا پھر شہد والا کھائگانا کو تیار کر سکتے ہیں۔لازمی اجزاء نوٹ فراما لیجیے۔

چھ انڈے، تین چمچ آٹا، چار چمچ پانی یا پھر دودہ، نمک اور مکھن۔ ترکیب تیاری کچھ یوں ہے۔ایک گہرے برتن میں مکھن گرم کریں، اور تیار کردہ آمیزے کو ایک بڑے چمچ کی مدد سے اس برتن میں پھیلائیں۔ایک طرف کو پکاتے ہوئے اُلٹا دیں،اور دوسری طرف کو بھی بھون لیں۔ تمام تر آمیزے کو اسی طریقے سے پکانے کے بعد اس کے درمیان پنیر، شہد اور اخروٹ ڈالتے ہوئے پیش کریں۔ کھائگانا کو مختلف سبزیوں، پھلوں حتی بحیرہ اسود کے علاقے کے کھانوں میں خمسی مچھلی کے ساتھ بھی تیار کیا جا سکتا ہے۔

آج ہم آپ کو ایک دوسرے شاہی کھانے کی ترکیبِ تیاری کو بھی پیش کر رہے ہیں۔یہ سترہویں صدی کے شاہی پکوانوں سے عصرِ حاضر تک آنے والا انڈے کا کھانا ہے۔ اس کھانے کا نام چلبری ہے۔اس چیز کا خیال ظاہر کیا جاتا ہے کہ چلبری فرانسیسی زبان کا لفظ ہے۔لیکن یہ فرانسیسی کھانوں سے اخذ کیا جانے والا ایک کھانا نہیں ہے۔ سلطان مہمت چہارم کے روزانہ کے کھانوں کی فہرست میں جگہ پانا، اس کھانے کے سترہویں صدی کے آخیر میں شاہی پکوانوں میں شامل ہونے کی دلیل بھی ہے۔چلبری دہی ، لال مرچ کی لذت اور ظاہری شکل خوبصورت ہونےو الا ایک آسان کھانا ہے۔ اس میں واحد قابل توجہ نکتہ انڈوں کو اُبلنے کے درجہ حرارت پر ہونے والے تا ہم نہ اُبلنے والے پانی میں پکانے پر مبنی ہے۔ اگر انڈوں کو ابلتے پانی میں پکایا جاتا ہے تو پھر اس کی سفیدی ٹکڑوں کی شکل میں پکے گی۔ اور چلبری کی ماہیت بگڑ جائے گی۔

اس کھانے کے ضروری اجزاء مندرجہ ذیل ہیں۔آٹھ عدد انڈے، چار گلاس پانی، دو چمچ سرکہ، دو گلاس دہی، چھ چمچ مکھن، میٹھے کا ایک چمچ لال مرچ، کالی مرچ اور نمک حسبِ ضرورت۔

پانی کو ایک کشادہ برتن میں ایک چمچ نمک اور تین چمچ سرکے کے ساتھ اُبالیں۔پانی اُبلنے کے ساتھ آگ دھیمی کر لیں اور انڈوں کو پانی میں توڑتے ہوئے ڈال لیں۔اور اس دوران انڈوں کی سفیدی کے ایک دوسرے کے ساتھ نہ ملنے کے لیے انڈے آہستہ آہستہ ڈالیں،پتیلی کے ڈھکن کو ڈھانپتے ہوئے کچھ مدت تک پکائیں اور پھر انڈوں کو کفگیر کی مدد سے نکالتے ہوئے پانی کو نتھار لیں اور پلیٹ میں ڈال لیں۔تمام تر انڈوں کو اسی طریقے سے پکاتے ہوئے پلیٹوں میں ڈالتے جائیں۔

کمرہ درجہ حرارت پر دہی پھینٹیں ، اس میں نمک شامل کریں اور انڈوں پر انڈیل دیں۔ ایک فرائی پین میں مکھن پگھلائیں، اس میں لا ل مرچ کو کچھ مدت کے لیے بھونیں اور پھر دہی والے انڈوں پر پھیلا دیں۔ لیجیے آپ کا کھانا تیار ہے۔