PDA

View Full Version : کلام عبدالرزاق قادری



عبدالرزاق قادری
04-15-2012, 05:22 AM
شاعری کے فنی محاسن سے نابلد میرے جذبات کی ترجمانی

بڑی تیز ہے روانی خون مسلم کی
نہایت دل دوز ہے کہانی خون مسلم کی

اب آ کے ہو گیا ارزاں بہت
دیکھ چکا ایک زمانہ جوانی خون مسلم کی

تقلید غیر میں بھولے حرم کو جب سے
رہی نہ باقی گرانی خون مسلم کی

آتی ہے نمرود وقت کی یہ صدا
کرے نہ کوئی پاسبانی خون مسلم کی

لوٹ کر پھر در مصطفٰی پہ آ اختر
قائم کرے خدا حکمرانی خون مسلم کی

عبدالرزاق قادریؔ


افکار مسلم از عبدالرزاق قادری





مارچ 2012 میں لکھی۔
مسلمان بہنوں کے لیے۔


ہمیں چاہیے ہم برقع پوش بنیں
باعزت ، با رعب ، با ہوش بنیں

کرو پردہ حکم ہے خدا کا قرآن میں
دین کی خاطر پھر کیوں نہ سرفروش بنیں

اطاعت نبی ہے ، اللہ کی اطاعت
بھول کر اسے احسان فراموش بنیں؟

فحاشی پھیلانا ہے اغیار کا مقصد
اپنا کر اسے کیوں ایمان فروش بنیں

ناچ گانے سے بچنا ہے فرض اپنا
تلاوت و نعت کے لیے ہمہ تن گوش بنیں

نظر اپنی نیچی رکھنی چاہیے اختر
قرآن و سنت کے عامل با کوش بنیں


افکار مسلم از عبدالرزاق قادری