PDA

View Full Version : شکنجے ٹوٹ گئے



گلاب خان
12-03-2010, 12:30 AM
شکنجے ٹوٹ گئے ، زخم بدحواس ہوئے ستم کی حد ہے کہ اہلِ ستم اداس ہوئے عدو نے ایسا بہایا لہو کا سونامی سفینے زندہ دلوں کے بھی غرقِ یاس ہوئے کچھ ایسا مارا ہے شب خون ابنِ صحرا نے سمندروں کے سبوپیاس ، پیاس ، پیاس ہوئے تو خود ہی سوچو کہ کتنا ستم ہوا ہو گا کفن دریدہ بدن زندگی کی آس ہوئے نجانے شیر کے بچے اٹھا لیے کس نے یہ موئے شہر جو جنگل کے آس پاس ہوئے ہر ایک فیصلہ محفوظ کرنے والو سنو! جھکے ترازو شبِ ظلم کی اساس ہوئے گلابی غنچوں کا موسم اداس کرتا ہے کچھ ایسے دن تھے جب اس گل سے روشناس ہوئے ہر ایک شخص کا سمجھوتہ اپنے حال سے ہے خوشی سے سانس اکھڑنا تھا غم جو راس ہوئے ہم اپنے زخموں کی چادر کو اوڑھ کر اٹھے جو شاد رہتے تھے محشر میں بے لباس ہوئے حقیقی قیس کو دربان نے ہی روک لیا وہ قیس بن گیا سکے جو اس کے[hr]
پاس ہوئے

تانیہ
12-15-2010, 11:54 PM
واہ اچھا لکھا لیکن شاعری کو پہرا بنا دیا

این اے ناصر
03-31-2012, 01:29 PM
واہ بہت خوب۔ شکریہ