PDA

View Full Version : سوال : کن حالات میں مریض کی بیماری کے بارے میں دوسروں کو بتایا جاسکتا ہے؟



abrarhussain_73
04-16-2012, 09:53 AM
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
سوال : کن حالات میں مریض کی بیماری کے بارے میں دوسروں کو بتایا جاسکتا ہے؟
اور کن لوگوں کو بتایا جاسکتا ہے؟
جواب: کسی مریض کی بیماری کے بارے میں اس کی مرضی کے بغیر کسی اور کو بتانے کے حوالے سے اُصولی باتیں:
1) پہلا اُصول یہ ہے کہ اپنے مسلمان بھائی کی حتی المقدور پردہ پوشی کی جائے اور اس کی کسی کمزوری یا راز کی بات کو بہرحال پوشیدہ رکھا جائے۔
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا:
‘‘مَنْ سَتَرَمُسْلِماً سَتَرَہُ اللہُ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ’’۔ بخاری، مسلم، ابوداؤد ۔ ۔ ۔
ترجمہ:‘‘جس نے ایک مسلمان کی پردہ پوشی کی اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اسکی پردہ پوشی فرمائیں گے۔’’
2) کسی مسلمان کی ذاتی اور شخصی کمزوریوں کا کھوج نہ لگایا جائے۔
اللہ تعالیٰ نے سورۃ الحجرات میں فرمایا :‘‘وَلَا تَجَسَّسُوْا ’’ ترجمہ: ‘‘اور ایکدوسرے کے عیب اور کمزوریاں نہ ٹٹولو۔’’
اسی طرح ایک حدیث نبوی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم میں ہے کہ:
‘‘لوگوں کے پوشیدہ باتوں کا کھوج لگا تے نہ پھرو ورنہ لوگوں کی زندگیاں تباہ کردوگے’’
عَنْ مُعَاوِیَۃَ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللہِ ﷺ یَقُوْلُ:‘‘اِنَّکَ اِنِ اتَّبَعْتَ عَوْرَاتِ النَّاسِ اَفْسَدْ تَّھُمْ اَوْ کِدْتَّ اَنْ تُفْسِدَھُمْ ’’ ابوداؤد
3) اس ضمن میں یہ بات بھی پیش نظر رہے کہ دوسرے کے سامنے کسی کی ایسی بات کا ذکر کرنا جسے وہ ناپسند کرتا ہو غیبت ہے
اور سورۃ الحجرات میں ہے ‘‘وَلَا یَغْتَبْ بَّعْضُکُمْ بَعْضًا’’ ترجمہ: ‘‘اور تم میں سے کوئی کسی کی غیبت نہ کرے’’
لہذا کسی کی بیماری کے بارے میں کسی دوسرے شخص کو بتانے میں ان تین اصولوں کو ہمیشہ مد نظر رکھا جائے۔
اس تناظر میں ایک مسلمان ڈاکٹر کے لئے خود یہ فیصلہ کرنا پڑتا ہے کہ وہ ایک طرف رازداری اور پردہ پوشی کی اسی اہمیت کو بھی پیشِ نظر رکھے اورپھر سوچے کہ کیا یہاں واقعی استثناء کی صورت حال ہے جس میں اس راز کو راز رہنے سے متعلقہ شخص کو واقعی نقصان پہنچنےکا اندیشہ ہے یا اس راز کے افشاء سے اسے کوئی واقعی صحت مندانہ فائدہ پہنچ جانے کی امید ہے تو یقیناً وہ متعلقہ اشخاص کو ضروری حد تک
بتا سکتا ہے یا اگر وہ صحت عامہ کے مسائل میں سے ہو تو متعلقہ ذمہ داروں کو بھی بتاسکتا ہے اور یہ صورت حال بالکل ویسی ہوگی جس طرح غیبت سے وہ مواقع مستثنٰی کیئے گئے ہیں جہاں دوسرے کو بچانا یا کسی فساد کا راستہ بند کرنا اس کے بغیر نہ ہوسکتا ہوسوائے اسکے کہ کسی کی غیبت کی جائے۔ ایسے مواقع پر یہ عمل اور امر ضمنی کے زمرے میں آتا ہے اور اسکا حکم وہ نہیں رہتا جو براہ راست اور بجائے خود مقصدسمجھ کرایک ممنوع عمل اخیتار کیا جائے۔
4) اس ضمن میں ایک بات تو بالکل واضح ہے کہ بچوں، ذہنی طور پر معذور افراد یا وہ لوگ جو کسی بھی وجہ سے اپنے بارے میں درست فیصلہ کرنے کے قابل نہ ہوں ان کے مرض / امراض کے بارے میں ان کے ‘شرعی اولیا’ (باپ، دادا، بھائی) کو بوقت ضرورت اور بقدر ضرورت بتانا درست اور کبھی ضروری بھی ہوجاتا ہےاور یہ بیماری کی نوعیت اور اسکے علاج کی تدابیرکی نوعیت، مریض کا مرض اسکے صحت مند ہونے کے امکانات پر بھی منحصر ہے۔
دوسری بات یہ ہے کہ مثلاً اگر میاں بیوی میں سے کسی ایک کے مرض کے بارے میں ڈاکٹر کو معلوم ہوجائے تو یہ اسکی ذمہ داری نہیں کہ وہ اسکے شریک حیات کو اس بارے میں بتائے سوائے اس کے کہ مریض ذہنی طور پر معذور ہو اور اسکا دوسرا کوئی ولی وارث نہ ہو، صرف اس بنیاد پر میاں بیوی میں سے کسی ایک کی بیماری کے بارے میں اسکے /اسکی شریک حیات کو بتانا کہ نہ بتانے سے اسے کوئی نقصان ہوگا یہ ڈاکٹر کی ذمہ داریوں میں شامل نہیں ہے البتہ مریض (جبکہ وہ ذہنی طور پر درست ہو) کو بتایا جائے کہ آپکی اس بیماری کے کیا ممکنہ اثرات آپکے/ آپکی شریک حیات پر پڑ سکتے ہیں، یہ پھر اسکی اپنی ذمہ داری ہے کہ وہ آگے اپنے /اپنی شریک حیات کو پوری صورت حال (جو انکی ازدواجی زندگی پر اثر انداز ہونے والی ہو) سےآگاہ کردے۔
5) لہٰذا کسی بیمار کی بیماری سے متعلق صرف بوقت ضرورت اور بقدر ضرورت بتایا جائے یعنی جہاں مرض کے بارے میں کسی کو بتائے بغیر مریض، اسکے متعلقین یا معاشرے کو کسی خطرے یا ضرر سے بچانے یا اسے واقعی فائدہ پہنچانے کی اور کوئی سبیل نہ ہو، نیز یہ بھی یاد رہے کہ ایسی حالت ایک استثنائی صورت شمار ہوگی اور اسے عام عادت اور معمول بنانا درست نہ ہوگا۔

از (مولانا) ڈاکٹر شمس الحق حنیف
ہیڈ آف اسلامک ڈیپارٹمنٹ (۔۔۔ میڈیکل کالج)