PDA

View Full Version : گوگل کی مائیکروفون اور سکرین والی عینک



این اے ناصر
04-16-2012, 11:29 AM
جیمز بانڈ جیسی فلموں میں ہی دکھائی دینے والی سائنسی ایجادات اب آہستہ آہستہ حقیقت میں تبدیل ہوتی نظر آ رہی ہیں۔

اسی سلسلے میں گوگل نے ایک ایسی جدید ترین عینک بنانے کا اعلان کیا ہے جس میں ایک ڈیجیٹل ڈیوائس موجود ہوگي اور اس سے نیویگیشن کے علاوہ مختلف طرح کے کام لیے جا سکیں گے۔

گوگل نے اپنے اس’آگمینٹیڈ‘ چشمے کو حقیقت کا روپ دینے کے لیے منصوبے کا انکشاف اپنی سماجی ویب سائٹ گوگل پلس پر کیا ہے

اسے تیار کرنے والوں نے کہا ہے کہ انہیں اس بارے میں نت نئی آراء و نظریات درکار ہیں۔

اس سے متعلق تصاویر پر دکھایا گيا ہے کہ چشمے کے ایک طرف چھوٹا سا مائیکروفون اور اسی کے ساتھ ایک ویڈیو سکرین نصب ہوگی جو معلومات کو پردے پر ظاہر کرے گی۔ یہ سکرین اور مائیک چشمے کی دائیں آنکھ کے اوپر لگے ہوں گے۔

گوگل کا کہنا ہے کہ وہ یہ معلومات اس وقت اس لیے شیئر کر رہا ہے ہیں تاکہ لوگوں سے اس پر بات چيت ہوسکے اور وہ ان کے مفید مشوروں سے سیکھے۔ ابھی اس بارے میں کچھ نہیں کہا گیا ہے کہ یہ چشمہ بازار میں کب آئےگا اور اس کی قیمت کیا ہوگي۔

اس چشمے کی خوبی یہ ہوگي کہ ویڈیو سکرین پر مطلوبہ معلومات کو چشمہ ہی پر دیکھا جا سکے۔ اسی سے نیویگيشن کی جا سکے گی اور اگر ضرورت پڑے تو حاصل شدہ پیغامات کا زبانی جواب بھی دیا جا سکے گا۔

اس چشمے سے کمیونیکشن اور آسان ہوجائیگا

ریئلٹی چشمے پر جاری کیے گئے ایک ویڈیو سے پتہ چلتا ہے کہ صارفین کو اس پر چودہ مختلف سروسز دستیاب ہوں گي جن میں موسم، مقامات اور اپنی ملاقاتوں سے متعلق معلومات شامل ہیں۔

ویڈیو فلم میں دکھایا گيا ہے کہ ایک چشمہ استعمال کرنے والا جب ایک خالی دیوار کی طرف دیکھتا ہے تو اسے اسی شام کی ملاقات یاد آجاتی ہے۔ پھر جب وہ کھڑکی کے باہر دیکھتا ہے تو اسے خبردار کیا جاتا ہے کہ بارش کے دس فیصد امکانات ہیں۔

جب وہ ایک دوست شام کو ملاقات سے متعلق پیغام دیتا ہے تو اسے فورا اطلاع ملتی ہے اور جب وہ اس کا جواب دیتا ہے تو اسی سکرین پر مائیکروفون کی ایک علامت ظاہر ہوتی ہے۔

چشمے میں موسیقی اور دیگر آوازوں کے سننے کو بھی دکھایا گيا ہے لیکن اس کے لیے ایئر فون وغیر کا استعمال نہیں نظر آتا ہے۔

اس چشمے سے متعلق کافی قیاس آرئیاں ہوتی رہیں تھیں لیکن گوگل کے اس انکشاف سے لگتا ہے کہ اس نے اسے حقیقت کا روپ دینے کے لیے کام شروع کر دیا ہے۔