PDA

View Full Version : بےنظیر کے بارے نئی کتاب



بےباک
04-25-2012, 10:19 AM
http://ecx.images-amazon.com/images/I/41Ff3c-zu7L._BO2,204,203,200_PIsitb-sticker-arrow-click,TopRight,35,-76_AA278_PIkin4,BottomRight,-58,22_AA300_SH20_OU01_.jpg
http://www.global-report.com/vikijournal/inline/en/16a75ce122f10bf17726fdb3c1676ccf.jpg
نئی کتاب منظر عام پر ،،،،، میری بےنظیر ۔۔۔۔۔۔ مصنفہ۔ ڈیفی باراک
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔
امریکی مصنفہ۔بے نظیر اور زرداری تعلقات...عظیم ایم میاں
محترمہ بینظیر بھٹو اور ان کے شوہر آصف زرداری کے تعلقات، قیام نیو یارک اور متعدد امور کے بارے میں ان دونوں کے خیالات، رویے اور برتاؤ کے بارے میں ایک امریکی خاتون صحافی کی تازہ کتاب گزشتہ روز منظر عام پر آگئی ہے۔ اس دلچسپ اور بعض لحاظ سے انکشافاتی کتاب کی غیر معمولی اہمیت کی وجہ یہ بھی ہے کہ امریکی مصنفہ صحافی اور اس کتاب کے ایڈیٹر دونوں کے ہی بینظیر اور آصف زرداری سے گزشتہ دس پندرہ سال سے ذاتی تعلقات چلے آرہے ہیں تحفے تحائف کا تبادلہ، خاموش ڈنرز اور ذاتی معاملات سے واقفیت کا اندازہ اس حقیقت سے لگایا جاسکتا ہے کہ 2005ء میں قیام نیویارک کے دوران اس امریکی خاتون کی سالگرہ کی ایک پارٹی کے میزبان آصف زرداری اور محترمہ بینظیر بھٹو خود تھے۔ نیویارک کے ایک مہنگے ریسٹورنٹ کو اس روز بزنس کیلئے بند کرکے تقریباً 70 انتہائی اہم اور غیر پاکستانی مہمانوں کیلئے یہ پارٹی کی گئی دروازے پر مہمانوں کا استقبال خود آصف زرداری (اس وقت وہ نیویارک میں مسٹر ”علی“ کے نام سے مشہور تھے اور خود کو ”علی“ کے نام سے ہی متعارف کراتے تھے) نے کیا۔ دونوں میزبانوں کے علاوہ اس پارٹی میں خاتون صحافی کے دوست کے طور پر واحد پاکستانی میں خود تھا اور میری وہاں موجودگی بینظیر اور زرداری کیلئے بھی حیرانگی کا باعث تھی جسے امریکی خاتون نے مجھے اپنا ایک اچھا دوست کہہ کر دور کردی تھی۔ میری اطلاع کے مطابق اس پارٹی کے تمام اخراجات بھی آصف زرداری نے ادا کئے تھے۔ اس پارٹی کی تفصیلات اور اہمیت پھر کبھی سہی اس وقت اس کا ذکر اس لئے کیا گیا ہے کہ کتاب کی مصنفہ کتاب کے ایڈیٹر اور اس کی تحریر کی اہمیت اور ساکھ کا اندازہ قارئین فرماسکیں۔ اس امریکی صحافی نے مجھ سے فون پر گفتگو کے دوران گاہے بگاہے بینظیر۔ زرداری تعلقات اور اپنے قریبی تعلقات کے حوالے سے بہت ساری باتیں بینظیر کی زندگی کے دوران ہی بتائی تھیں مگر یہ سب ذاتی گفتگو اور ذاتی معلومات یعنی ”آف دی ریکارڈ“ معلومات کا حصہ ہے۔
لہٰذا اب کتاب میں بیان کردہ تفصیلات کا ذکر ہوجائے۔ امریکی خاتون صحافی ڈفینی بارک نے اپنی اس کتاب میں بینظیر بھٹو کی زندگی کے آخری چند سالوں خصوصاً دو سالوں کا ذکر زیادہ کیا ہے۔ ان کی پہلی ملاقات 1995ء میں ہوئی اور پھر تعلقات انٹرویو سے بڑھ کر ذاتی تعلقات میں اس قدر تبدیل ہونے لگے کے بقول ڈیفنی بارک سے بینظیر کی قربت کا کچھ مشاہدہ مجھے بھی ہوا جب بھی بینظیر مجھ سے ملتیں تو وہ مذکورہ پارٹی کے تناظر میں مجھ سے ڈیفنی کا حال ضرور دریافت کرتیں۔ بہرحال ڈیفنی بارک نے اپنی اس کتاب میں محترمہ بینظیر اور آصف زرداری کے تعلقات کا جو نقشہ کھینچا ہے وہ پی پی پی کے جیالوں اور آصف زرداری کو بینظیر کا جائز نشین سمجھنے والوں کیلئے خاصا مایوس کن ہے جبکہ پارٹی کے سابق جیالوں مثلاً ناہید خان وغیرہ کیلئے مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔ اس کتاب کے مندرجات کے بعد ان کی دعوت پر اسلام آباد بھی آچکی ہیں اور اسلام آباد کے مچھروں کی کاٹ سے تکلیف کا بھی خوب اندازہ کرچکی ہیں۔ اس کتاب میں بینظیر اور آصف زرداری کے تعلقات کے علاوہ ان پاکستانی اور غیر پاکستانی کرداروں کا ذکر دلچسپ انداز میں موجود ہے جو آصف زرداری کے قیام نیویارک کے دوران ان کے ارد گرد پائے جاتے تھے جن میں ایک صحافی کا ذکر بھی ہے جسے آصف زرداری اپنی تقریروں، بیانات اور اپنے نام سے لکھے جانیوالے مضامین کیلئے استعمال کرکے پھر اسے اقتدار میں آنے کی صورت میں سفیر بنانا چاہتے تھے۔
پاکستان سے نیویارک آکر آصف زرداری کا معائنہ اور علاج کرنے والے ڈاکٹر کا بھی ذکر ہے۔ اس پاکستانی پائلٹ کا ذکر بھی ہے جو آصف زرداری کیلئے بہت سی ”خدمات“ فراہم کرتا رہا ہے نیو یارک کے میڈیسن ایونیو پر ان ریسٹورانوں کے نام اور ذکر بھی موجود ہے جہاں آصف زرداری ایک بزنس مین ”مسٹر علی“ کے نام سے آیا جایا کرتے تھے اور میڈیسن ایونیو پر اپنے دو کتوں کو گھمایا کرتے تھے۔ انسانی زندگی کے ان تمام پہلوؤں کے علاوہ امریکی صحافی نے شوہر کی محبت اور توجہ کیلئے بے چین اور پریشان بینظیر کا ذکر بعض جگہ بڑے درد ناک انداز میں بیان کرتے ہوئے لکھا ہے کہ بعض مرتبہ بینظیر اپنی زندگی کے اس پہلو کے حوالے سے ڈیفنی بارک سے اتنے درد ناک انداز میں گفتگو کرتی تھیں کہ خود ڈیفنی کا دل ہل جاتا تھا۔ مصنفہ کا کہنا ہے کہ دوبئی میں بچوں کی دیکھ بھال سے وقت نکال کر وہ شوہر سے ملنے نیویارک آتیں۔ آصف زرداری مہنگے ترین علاقے میں رہائش پذیر تھے مگر بینظیر اس کے باوجود کسی ہوٹل میں ٹھہرتی تھیں۔ آصف زرداری اپنے بچوں کی نیویارک آمد کا پروگرام سنتے ہی پریشان ہوجایا کرتے تھے بلکہ خوف زدہ ہوجاتے۔ اسی طرح اپنی بیوی بینظیر کی نیویارک آمد کے حوالے سے آصف زرداری نے پریشانی کے عالم میں ڈیفنی سے کہا کہ (The Wife Wants To Come For Five Days) اس پر تبصرہ کرتے ہوئے ڈیفنی بارک نے لکھا ہے کہ حالانکہ بیوی (بینظیر) جیل سے چھڑانے کیلئے جدوجہد کی اور وہ خاوند سے عشق بھی کرتی تھی۔ اسی طرح کتاب میں یہ بھی تحریر ہے کہ نیو یارک میں میڈیکل علاج کو اپنے قیام کا جواز بناکر آصف زرداری سوئٹزر لینڈ کی عدالتوں میں پیشی اور جیل جانے کے امکانات سے خود کو بچاتے رہے جبکہ بینظیر آصف کے قیام نیویارک کے بارے میں فکر مند رہتی تھی۔ زرداری کے قیام نیویارک کیلئے فنڈ دوبئی کی ایک کمپنی فراہم کرتی رہی اور بقول مصنفہ ”کیونکہ آخر راڈالہ کے نیچے رکھنا (نگرانی) لازمی تھا۔“
آصف زرداری کے اپارٹمنٹ میں قیام کی بجائے بینظیر کے نیویارک میں علیحدہ ہوٹل میں قیام کے تناظر میں ڈیفنی بارک نے دو مرتبہ پاکستان کی وزیراعظم اور دنیاوی آرام آسائش کی زندگی کی حامل بینظیر بھٹو کی کربناک ؟؟؟؟ کا ذکر بیان کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ایک ڈنر کے بعد ڈیفنی بارک، اربیل گناشتی (کتاب کا ایڈیٹر) بینظیر اور آصف زرداری اکٹھے ہو کر آصف کے اپارٹمنٹ میں گئے جو بڑے امیر علاقے میں تھا مگر وہاں فرنیچر، دروازے بے ترتیب اور پرانا تھا۔ باتوں کے دوران بینظیر نے آصف کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ”ڈیفنی سے پوچھ لو مجھے اس اپارٹمنٹ میں دو کتوں یا پرانے فرنیچر کی قطعاً پرواہ نہیں ہے۔ میری جگہ یہاں تمہارے ساتھ ہونا چاہئے۔ یہ کہہ کر بینظیر نے ڈیفنی کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔ ”کیوں یہ ٹھیک ہے نا!“ ڈیفنی کا مشاہدہ ہے کہ آصف زرداری بینظیر کی موجودگی میں بھی اکثر نہ صرف اپنے خیالات میں بے نیازی سے مگن رہتے اور متعدد بار تو بوریت کو بھی خو عیاں کردیتے جبکہ شوہر کی محبت اور توجہ کیلئے بے چین بینظیر ڈیفنی سے اپنی کیفیت کا اظہار کرتے ہوئے بھی آصف زرداری کا خیال رکھنے کیلئے تلقین کرتی تھیں۔ ڈیفنی بارک نے اس ایک نوجوان گوری دوشیزہ کا بھی ذکر کیا ہے جو آصف زرداری کو ڈرائیو بھی کرتی تھی انٹر نیٹ اور دیگر ذاتی امور کا خیال رکھنے کے علاوہ مساج اور تھراپی بھی انجام دیتی تھی اور ایک روز جب بینظیر نیویارک میں انتہائی عمدہ اور باوقار لباس پہنے ہوئے تھی تو آصف زرداری اس لڑکی کے ساتھ اس طرح نمودار ہوئے جسے دیکھ کر آصف کی بیوی بینظیر انتہائی کرب میں مبتلا ہوگئی۔ آصف کی اس لڑکی کے ساتھ اس وقت کھینچی گئی تصویر کو دیکھ کر مصنفہ ڈیفنی آج بھی دکھی ہوجاتی ہے۔ ان واقعات کو بیان کرتے ہوئے کتاب کی مصنفہ بار بار بینظیر کو تنہا، شوہر کی محبت اور توجہ کیلئے پریشان خاتون قرار دیتی ہے مگر ساتھ ہی ساتھ بینظیر کو ایک عالمی سطح کی خاتون لیڈر اور اعلیٰ صلاحیتوں کا حامل قرار دیتی ہے۔ یہ کتاب آصف زرداری کے قیام نیویارک کے عرصہ کے گرد گھومتی ہے لیکن بینظیر کی شہادت اور آصف زرداری کے صدر بننے تک کے واقعات کا احاطہ بھی کرتی ہے۔ کتاب میں بیان کردہ واقعات، آصف۔ بینظیر تعلقات اور تحریر کی سچائی کے بارے میں تو صدر آصف زرداری یا مصنفہ ڈیفنی بارک ہی مزید کچھ بتاسکتے ہیں۔ مجھے تو بینظیر ان کے شوہر آصف زرداری اور ڈیفنی بارک اور ان کے ساتھی اربیل گناشتی کی دوستی اور قربت کا ذاتی علم اور مشاہدہ ضرور ہے۔ متعدد بار ڈیفنی نے بطور دوست فون پر گفتگو کرتے ہوئے آصف اور بینظیر کے حوالے سے بہت سی انکشافاتی باتیں بیان بھی کیں جنہیں آف دی ریکارڈ اور بیک گراؤنڈ سمجھ کر اخلاقاً کبھی رپورٹ نہیں کیا۔ بلاول۔ صنم۔ آصف زرداری تعلقات کے حوالے سے ایک خبر ”جنگ“ اور ”دی نیوز“ میں دو تین سال قبل شائع ہوئی اس حساس اور متنازعہ خبر کے بعض دستاویزی ثبوت بھی مجھے اس ذریعہ سے حاصل ہوئے تھے جس پر پی پی پی کے ترجمان فرحت اللہ بابر اور فوزیہ وہاب سمیت سب نے بڑا احتجاج فرمایا اور تردید کی حتیٰ کہ صنم بھٹو نے بھی لندن میں پریس کانفرنس منعقد کرکے میری خبر اور ڈیفنی بارک سے کسی انٹرویو کی تردید کی تھی۔ آج صنم بھٹو کا وہی انٹرویو تمام تر ویڈیو اور مندرجات کے ساتھ ڈیفنی کے ویب سائٹ پر موجود ہے۔ امریکی خاتون صحافی کی یہ کتاب پی پی پی کی موجودہ شکل، بینظیر کی وراثت یعنی سیاسی وراثت کے اخلاقی جواز کو ایک چیلنج قرار دیتی ہے۔ پیپلز پارٹی کے پرجوش جیالوں کو بھی یہ کتاب پڑھنے کی ضرورت ہے جبکہ عام پاکستانی کو بھی خاصی معلومات فراہم کرتی ہے۔ رہی بات اس کتاب کی سچائی کی تو اس بارے میں صدر آصف زرداری کا موٴقف جاننے کے علاوہ امریکی مصنفہ اور تحریر و مقاصد کے محرکات جاننے کی ضرورت ہے۔
اس کتاب کی اشاعت کے فوراً بعد اس میں بیان کردہ واقعات و امور کے بارے میں صدر آصف زرداری کے ترجمان اور میرے کرم فرما محترم فرحت اللہ بابر سے فون پر رابطہ کرکے ان کا موقف جاننے کی درخواست کی تو انہوں نے بتایا کہ ڈیفنی بارک کی یہ کتاب ابھی انہوں نے نہیں پڑھی تاہم انہوں نے ڈیفنی بارک کے بے نظیر شہید اور صدر آصف زرداری سے قریبی تعلقات کے دعوؤں کو بے بنیاد قرار دیا اور یہ بھی کہا کہ اس طرح کی باتیں بے نظیر اور ان کے شوہر سے تعلقات کے بارے میں پہلے بھی پھیلائی جاتی رہی ہیں جو کہ بے بنیاد ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ بے نظیر کی شہادت کے بعد میاں بیوی کے تعلقات کے بارے میں ایسی باتیں لکھنا یا کہنا اخلاق سے گراوٹ ہے۔ صدارتی ترجمان کا بیان سر آنکھوں پر لیکن حقیقت یہ ہے کہ کتاب کی مصنفہ، بے نظیر بھٹو شہید اور ان کے شوہر آصف زرداری کے دوستانہ تعلقات کا میں خود چشم دید گواہ ہوں۔ بلکہ 2007ء میں نیویارک میں بے نظیر شہید کی زندگی کے قیام کے آخری روز بھی صدر آصف زرداری اور موجودہ وزیر قانون فاروق نائیک کی موجودگی میں بے نظیر نے مجھ سے ایک ملاقات میں ڈیفنی بارک کا بطور دوست ذکر بھی کیا تھا۔ اس کے بعد زندگی نے بے نظیر کو پھر نیویارک آنے کی مہلت نہیں دی۔ سوال تو یہ ہے کہ آخر صدر آصف زرداری اور بے نظیر شہید کے تعلقات کے حوالے سے ڈیفنی بارک کے یہ واقعات بیان کرنے کے محرکات کیا ہیں؟ پیپلزپارٹی ، پاکستانی قوم اور دنیا کو یہ جاننے کا حق ہے کہ بے نظیر کے سیاسی ورثے ، پارٹی، منشور اور حکمرانی کے امین اور بے نظیر شہید کے تعلقات بارے ڈیفنی کے دعوؤں کی حقیقت کیا ہے؟
...........
روزنامہ جنگ ۲۵ اپریل ۲۰١۲

این اے ناصر
04-25-2012, 10:25 AM
شئیرنگ کاشکریہ۔

انجم رشید
04-26-2012, 03:30 PM
السلام علیکم
بہت بہت شکریہ بھای اتنی اہم معلومات دینے کا اگر ہو سکے تو کتاب کے اہم نکات بھی لکھ دیں شکریہ بھای

عطاء رفیع
06-18-2012, 09:10 PM
کیا یہ ڈاؤن لوڈ کے لیے دستیاب ہے۔

اردو ترجمہ؟