PDA

View Full Version : کبھی ساحل تو کبھی سیل ِ خطر ٹھہرے گی



سیدہ سارا غزل
04-26-2012, 09:10 PM
کبھی ساحل تو کبھی سیل ِ خطر ٹھہرے گی
بحر ِ ہستی میں اگر موج ِ سفر ٹھہرے گی

ورطہء شب سے نکل آئی اگر کشتیء صبح
ساحل ِ نور پہ ٹھہرے گی اگر ٹھہرے گی

سینہء حسن میں پوشیدہ ہے جو آگ ابھی
تیشہء عشق سے گلرنگ سحر ٹھہرے گی

کشتیء جاں کو سلامت نہ اگر لے کے گئی
بیکلی دل کے سمندر کا بھنور ٹھہرے گی

ہم سر ِ شام چراغوں میں تجھے دیکھیں گے
اب کسی گل پہ نہ تارے پہ نظر ٹھہرے گی

دل کی فریاد کو لازم ہے خموشی ہی غزل
ورنہ اس دہر میں یہ کار ِ ہنر ٹھہرے گی

سیدہ سارا غزل ہاشمی

نگار
04-26-2012, 09:30 PM
ہم سر ِ شام چراغوں میں تجھے دیکھیں گے
اب کسی گل پہ نہ تارے پہ نظر ٹھہرے گی

بہت خوب اور زبردست کلام آپ نے پیش کیا ہے
آپکا بہت شکریہ

این اے ناصر
04-26-2012, 09:46 PM
ہم سر ِ شام چراغوں میں تجھے دیکھیں گے
اب کسی گل پہ نہ تارے پہ نظر ٹھہرے گی

دل کی فریاد کو لازم ہے خموشی ہی غزل
ورنہ اس دہر میں یہ کار ِ ہنر ٹھہرے گی

واہ بہت خوب۔ شکریہ

سیما
04-27-2012, 09:54 PM
دل کی فریاد کو لازم ہے خموشی ہی غزل
ورنہ اس دہر میں یہ کار ِ ہنر ٹھہرے گی

اچھی شیئرنگ کی آپ نے شکریہ

رمیض احمد
05-03-2012, 03:25 PM
بہت اچھا کلام ہے جنا ب۔