PDA

View Full Version : اسلام میں موسیقی کا تصور اور جدید افکار



نجم الحسن
04-27-2012, 12:14 AM
اسلام میں موسیقی کا تصور اور جدید افکار
حرمت موسیقی قرآن کی رو سے
حدیث رسول کی رو سے
صحابہ و سلف کےاقوال کی رو سے
آثار و روایات کی رو سے
فقہ حنفی کی رو سے
فقہ شافعی کی رو سے
فقہ حنبلی کی رو سے
فقہ مالکی کی رو سے
اعتراضات و جوابات
حرمت موسیقی قرآن کی رو سے
پہلی آیت۔ومن الناس من یشتری لھوالحدیث (لقمان)
دوسری آیت۔واستفززمن استعت منھم بصوتک
تیسری آیت۔لایشھدون الزور (فرقان)
علماء کےتفسیری اقوال،

حرمت موسیقی حدیث کی رو سے
لیکوننّ من امتی اقوام یستحلون الحر والحریروالخمر والمعازف (اخرجہ البخاری)


ابومالک اشعری سے مروی ہیکہ آپ ﷺنے فرمایاکہ میری امت میں ایسے لوگ ہونگےجوزناء ،ریشم ،شراب اور باجوں کو حلال سمجھیں گے (صحیح بخاری)
عمران بن حصین سے آپ ﷺ نے فرمایا اس امت میں دھنسنے ،صورتیں مسخ ہونے اور پتھروں کی بارش کے واقعات ہونگے،
پوچھا گیا کہ کب ؟
آپﷺ نے فرمایا ،
جب مغنیہ عورتوں اور باجوں کا عام رواج ہوجائے اور شرابیں پی جانے لگیں (جامع ترمذی)
الغناء ینبت النفاق کما ینبت الماء الزرع (بہیقی)
حرمت موسیقی فقہ حنفی کی رو سے
امام ابوبکر جصاصؒ نےلایشھدون الزور کے ذیل میں امام صاحبؒ کا قول نقل کیا(احکام القرآن)
امام سرخسیؒ کا قول کہ مغنی ّ کی گواہی قبول نہیں (مبسوط ج ۱۶)
علاّمہ کاسانی ؒ سے منقول ہیکہ مغنّی بدکاروں کا سرغنّہ ہے (بدائع والصنائع ج ۶)
صاحبِِ ہدایہ علی بن ابی بکرؒ فرماتے ہیں کہ مغنّی کی شہادت قبول نہیں( ہدایہ ج ۳)

حرمت موسیقی فقہ شافعی ؒ کی رو سے
امام غزالی ؒ امام شافعی ؒ کاقول نقل کرتے ہیں کہ پیشہ ورگویّےکی شہادت رد کردیجائے(الام ج۸)
اجنبی عورت،باندی،بے ریش سے گانا سننا قطعا حرام ہے
غناء جو کسی واجب کے ترک سبب ہو یا کوئی حرام چیز شامل ہو تو بھی حرام ہے (کف الرعاع)
حارث محاسبیؒ نے فرمایا موسیقی ایسے حرام ہے جیسے مردار( رسالۃ المسترشدین ص۷۰)
فقہ مالکی ؒمیں موسیقی کاتصور
المدوّنۃ الکبریٰ، قرآن بھی خوش الحانی سے پڑھنا ناجائز ہے
مغنّیہ باندی کی بیع مکروہ ہے
امام مالک ؒ فرماتے ہیں کہ باجے ، تاشے شادی بیاہ کے موقع پر بھی مکروہ ہیں

فقہ حنبلی ؒمیں موسیقی کا تصور
علامہ ابنِ جوزیؒ کے حوالے سے ہے کہ عند الحنابلہؒ مغنّی و رقاص کی گواہی معتبر نہیں۔
ایسا گانا ، نوحہ سننا جو بغیر آلاتِ موسیقی کے مکروہ اور آلات سمیت حرام ہے(علی بن سلمان)
علامہ آلوسیؒ نے لکھا ہے کہ حنابلہ کی بہت بڑی جماعت سے غناء کی تحریم منقول ہے۔
علامہ ابنِ تیمیہؒ نے کتاب البلغۃ میں لکھا ہیکہ اکثر علماء حنابلہ غناء کی تحریم کی طرف گئے ہیں۔
وہ اشعار جو آخرت کی طرف راغب کرنے والے ہوں تو جائز ورنہ ناجائز و حرام ہیں۔