PDA

View Full Version : کیا وہ اسامہ بن لادن تھا؟



یاسرمحمود
05-02-2012, 05:44 PM
کیا وہ اسامہ بن لادن تھا؟

https://fbcdn-sphotos-a.akamaihd.net/hphotos-ak-ash4/s720x720/485161_417924494894231_180842661935750_1534462_167 7809584_n.jpg
2 مئی کی صبح امریکہ نے ایبٹ آباد کے ایک گنجان آباد محلے کے 20 کنال کے رقبے کے اندر ایک تین منزلہ مکان کے لان میں اپنے ہیلی کاپٹر اتار کر جو کارروائی کی اس نے تاریخ کا ایک باب تو ختم کر دیا ہوگا مگر اس سے بے شمار دوسرے باب کھل گئے ہیں جو پاکستان کےلئے لمحہ¿ فکریہ ہیں۔ یہ بحث اپنی جگہ کہ حکومت پاکستان کی اجازت کے بغیر امریکی ہیلی کاپٹروں نے پاکستانی فضائی حدود میں داخل ہو کر تمام بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کی یا پاکستان کے راڈار سسٹم کو جےم کرکے ایک سنگین جرم کا ارتکاب کیا مگر جس ڈرامائی انداز میں یہ سب کچھ ہوا یا کیا گیا اس سے مجھے بہت سی امریکی فلموں کے سین یاد آ رہے ہیں کہ فلموں میں تو ایسا ہوتا رہتا ہے مگر 2 مئی کو ہونے والی کارروائی تو فلم نہیں حقیقت تھی۔ کہا جاتا ہے کہ امریکہ کا دشمن نمبر ون اسامہ بن لادن اپنے بیوی بچوں سمےت اس گھر میں کئی سالوں سے رہ رہا تھا۔ حیرت کا مقام ہے کہ بقول امریکہ وہ اسامہ بن لادن جو دنیا بھر میں دہشت گردی پھیلانے کے واقعات میں ملوث تھا وہ اسامہ بن لادن جو 11ستمبر 2001 نیویارک جڑواں ٹاورز کو ایک فضائی حملے میں تباہ کرکے ڈھائی ہزار سے زائد امریکی شہریوں کی موت کا ذمہ دار تھا وہ اسامہ بن لادن جو اپنی نتظیم القاعدہ کے ذریعے افغانستان میں امریکی فوجوں کے خلاف بر سر پیکار تھا وہ اسامہ جو امریکہ کا انتہائی خطرناک دشمن تھا اور جسے وہ پچھلے دس سالوں سے ڈھونڈ رہے تھے یہ کیسے ممکن ہے کہ ایسا شخص جو اپنی جان بچانے کےلئے جگہ جگہ چھپتا پھر رہا تھا اور جس کے سر کی قیمت امریکہ نے 25 ملین ڈالرمقرر کر رکھی تھی وہ ایبٹ آباد کے ایک نواحی اور گنجان آباد علاقے کے عین درمیان 20 کنال کے رقبے میں تعمیر شدہ ایک تین منزلہ گھر میں چھ سالوں سے رہ رہا تھا اور پورے محلے والوں کو اس کا پتہ ہی نہیں چلا؟ یہ تو ایسے ہی ہے جیسے آڈولف ہٹلر چھ ملین یہودیوں کے قتل کے بعد اسرائیل جا کر رہائش اختیار کر لے۔ جہاں تک نائین الیون کا تعلق ہے اسامہ بن لادن نے انہی دنوں نیویارک یا پینٹاگون پر ہونے والے فضائی حملوں سے قطعی طور پر اپنی لاتعلقی کا اظہار کر دیا تھا لےکن امریکی کنٹرولڈ ورلڈ میڈیا نے اس کی کوئی شنوائی نہیں ہو نے دی آج بھی کئی امریکی اور یورپی م¶رخ اور دانشور برملا کہہ رہے ہیں کہ اسامہ نیویارک یا پینٹاگون پر ہونے والے فضائی حملوں میں قطعی طور پر ملوث نہیں تھا اگر یہ درست ہے تو یہ 2 مئی کا ڈرامہ کیوں رچایا گیا؟ دوسری بات جسے اب دنیا بھر میں چیلنج کیا جا رہا ہے وہ یہ ہے کہ ایبٹ آباد کے اس گنجان آباد محلے میں ہلاک ہونے والا کیا واقعی اسامہ بن لادن تھا یا اس کا کوئی اور ہم شکل؟ کیونکہ اسامہ تو چوبیس گھنٹے مسلح رہتا تھا اور جس شخص کو ہلاک کیا گیا وہ نہتا اور غیر مسلح تھا جسے امریکی کمانڈو تین سیکنڈ میں زندہ پکڑ سکتے تھے تو پھر ایک نہتے 50/60 سالہ کمزور شخص کو گولیاں مار کر قتل کرنے کیا ضرورت تھی؟ چاہیئے تو یہ تھا کہ اسامہ کو زندہ پکڑا جاتا اور اس پر دہشت گردی کے تمام الزامات میں مقدمہ چلایا جاتا تاکہ دنیا بھر کو معلوم ہوتا کہ نائین الیون کی کارروائی کا پلان کیسے تیار کیا گیا، اس سے تو شک پڑتا ہے کہ نائین الیون کے ذمہ دار کوئی اور تھے اور اگر اسامہ کو زندہ پکڑ کر اس پر مقدمہ چلایا جاتا تو حقیقت واضح ہو جاتی اور کیا امریکی کمانڈوز نے اسامہ کو زندہ گرفتار کرنے کی بجائے اسے مار کر قتل کا ارتقاب نہیں کیا؟ اسامہ کی ہلاکت کے فوراً بعد اوباما نے یہ تو کہہ دیا کہ انصاف ہوگیا ہے لےکن نہتے اسامہ کے قاتلوں کو عدالتی کٹہرے میں لاکر اس کے ساتھ کون انصاف کرے گا؟ جس کمرے میں یہ واقعہ ہوا اس میں بکھرے ہوئے بوسیدہ سامان، پرانے معمولی فرنیچر اور 1950 کی دہائی کے غالباً ایک چھوٹے سے بلیک اینڈ وائٹ ٹیلیویژن سے تو یہ ظاہر نہیں ہوتا کہ یہ ایک ایسے ارب پتی لیڈر اسامہ کا کمرہ ہے جو اپنی تمام دولت اور اپنی تنظیم القاعدہ کے ساتھ دنیا کی سب سے بڑی سوپر پاور امریکہ کے خلاف نبرد آزما ہے اور جس کے پاس دنیا میں ہونے والے تمام حالات و واقعات سے خود کو مطلع رکھنے کے لئے کوئی کام کا ٹیلیویژن بھی نہیں ہے، اب تو اس کے محلے میں رہنے والے لوگ بھی کہہ رہے کہ یہ اسامہ نہیں بلکہ اس کا کوئی ہم شکل تھا جو اس محلے میں بابا زین الدین کے نام سے جانا جاتا تھا۔
امریکہ پر نائین الیون کے فضائی حملے سے پہلے ہی افغانستان سے خبریں آنا شروع ہوگئیں تھیں کہ اسامہ گردوں اور کچھ دوسری بیماریوں کی وجہ سے قریب المرگ ہے اور ہر چند دنوں کے وقفے کے بعد مشینوں کے استعمال سے اس کا خون تبدیل کیا جاتا ہے، ان ہی دنوں گردوں کی بیماری کے ایکسپرٹ دو پاکستانی ڈاکٹروں کے بارے میں بھی خبریں آرہی تھیں کہ وہ افغانستان میں اسامہ کا علاج کر رہے ہیں مگر اس کے کچھ عرصہ بعد وہ واپس پاکستان آگئے تھے اب یہ تو خدا ہی بہتر جانتا ہے کہ اسامہ ان دنوں گردوں کی بیماری کا شکار ہو کر مر گیا تھا یا وہ اکتوبر 2001 میں تورہ بورہ کے غاروں میں امریکی راکٹوں کا نشانہ بنا۔ ان دنوں چونکہ امریکہ اور نےٹو کی فوجوں کو افغانستان سے نکالنے کےلئے ملا عمر کی سربراہی میں طالبان اور اسامہ بن لادن کی سربراہی میں القاعدہ کی جدوجہد اپنے زوروں پر تھی اس لئے ممکن ہے کہ اگر اسا مہ اس جنگ کے دوران مر گیا تھا تو اس وقت اس کی موت کو چھپا لیا گیا ہو تاکہ اس کی تنظیم القاعدہ میں بددلی اور مایوسی نہ پھیلے اور اسامہ کی جگہ اس کے کسی اور ہم شکل کو اس کی جگہ دے دی گئی ہو؟ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ القاعدہ کی تنظیم کے اعلیٰ عہدیداروں نے اس وقت اسامہ کی اپنی بیوی سے بھی کہہ دیا ہو کہ وہ اس کی موت کو صیغہ راز میں رکھے یہ بھی ممکن ہے کہ پانچ چھ سال پہلے یہ ایبٹ آباد والا گھر بھی خریدا گیا ہو یا بنوایا گیا ہو تاکہ اس کے بیوی بچے با حفاظت امن و امان کی زندگی بسر کر سکیں۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ پچھلے انہی چھ سات سالوں سے القاعدہ کے اندر بھی کئی خود مختار گروپ وجود میں آ چکے ہیں جن پر اب اسامہ (اگر وہ زندہ تھا) کی بھی کو ئی گرفت نہیں رہی تھی ان میں کوئی القاعدہ کے نام سے یمن میں،کوئی عراق میں اور کوئی چیچنیا اور دوسرے ملکوں میں لڑ رہے ہیں اسی طرح ملا عمر کی تنطیم طالبان کی نقل کرکے اسی نام سے طالبان کے بھی کئی گروپ پیدا ہو گئے ہیں جن کا ملا عمر کی تنظیم یا اس کے ایجنڈے سے تو کوئی تعلق نہیں مگر وہ اپنے مخصوص مقاصد کے حصول کےلئے اس نام کو ضرور استعمال کر رہے ہیں ان میں سرفہرست کالعدم تحریک طالبان ہے جن میں سپاہ صحابہ، اور اسی قسم کی دوسری متشدد اور انتہا پسند جماعتیں شامل ہیں جو عوام میں دہشت گردی اور خوف و ہراس پیدا کرکے پاکستان میں ڈنڈے کے زور سے اپنی طرز اور فکر کا اسلامی نظام قائم کرنا چاہتی ہیں۔(جاری ہے)
حسبِ معمول افغانستان اور بھارت اب چلا چلا کر شور مچا رہے ہیں کہ وہ تو کئی سالوں سے کہہ رہے تھے کہ اسامہ بن لادن سمےت دنیا بھر میں ہونے والی تمام دہشت گردی کے محرکین پاکستان کے اندر ہیں اور وہیں سے اپنی کارروائیاں کر رہے ہیں ایسے پراپیگنڈے سے ان کا مقصد یہ ہے کہ اگر دہشت گردی کو ختم کرنا ہے تو پاکستان کے خلاف کارروائی کی جائے دوسری طرف حقیقت یہ ہے کہ نیویارک، پینٹاگان، لندن، میڈرڈ اور دنیا بھر کے دوسرے تمام ممالک میں دہشت گردی کا نشانہ بننے والوں کی کل تعداد پانچ یا چھ ہزار ہوگی جبکہ اس کے برعکس اس دہشت گردی کے نتیجے میں 35000 سے زیادہ پاکستانی شہری مارے جا چکے ہیں اور اسی دہشت گردی کا مقابلہ کرتے ہوئے ہماری فوج کے ہزاروں جوان بھی شہید ہو چکے ہیں اور ہو رہے ہیں لہٰذا پاکستان پر الزام تراشی کرنے والے یہ بھی تو بتائیں کہ دنیا میں ہونے والی دہشت گردی کا بےس اگر پاکستان میں ہے تو اتنے ہزاروں کی تعداد میں پاکستان کے شہری اور فوجی جوان کیوں شہید ہو رہے ہیں؟ اب تو اس سے آگے بڑھ کر یہ بھی سوچنا ہوگا کہ ہمارے ملک میں جو دہشت گردی ہو رہی ہے اس میں صرف تحریک طالبان پاکستان ہی ملوث ہے یا اس کے پیچھے کچھ دوسری غیر ملکی طاقتیں بھی متحرک ہیں جو پاکستان کو غیر مستحکم کرنا چاہتی ہیں اس خطے میں پاکستان کا دشمن نمبر ایک بھارت ہے جس کی 18 ہزار فوج افغانستان میں کام کرنے والے ٹھیکیداروں اور ان کے مزدوروں کی حفاظت کے بہانے وہاں موجود ہے اور جس نے افغانستان جیسے چھوٹے سے ملک میں اپنے سفارت خانے کے علاوہ 20 کے قریب قونصل خانے بھی کھول رکھے ہیں یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ افغانستان ہی کے راستے سے بھارت ایک مدت سے ہمارے چند ناراض بلوچی سرداروں اور وہاں کی نام نہاد جنگجو تنظیموں کی پشت پناہی بھی کر رہا ہے یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ 1996 اور 2001 کے درمیان افغانستان میں ملا عمر کی حکومت کے علاوہ 1947 یعنی قیام پاکستان سے لےکر آج تک تمام افغان حکومتیں اینٹی پاکستان اور بھارت نواز رہی ہیں۔ اسی طرح سی آئی اے کے بارے میں بھی کہا جا رہا ہے کہ وہ بھی پاکستان کے اندر ان انتہا پسندوں اور دہشت گردوں کی ٹرےنگ کرکے مالی امداد بھی فراہم کر رہی ہے تاکہ پاکستان کے لوگوں میں خوف و ہراس پیدا کیا جائے اور دنیا بھر میں یہ تاثر پھیلایا جائے کہ یہ اتنہا پسند تنظیمیں اتنی طاقتور ہو رہی ہیں کہ وہ پاکستان پر قبضہ بھی کر سکتی ہیں جس سے پاکستان کے ایٹمی اثاثے ان کے ہاتھ لگ جانے کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے جو دنیاکے امن کےلئے سنگین خطرات کا موجب ہو سکتا ہے یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ دہشت گردی کے کئی واقعات میں پاکستان کے اندر انتہا پسند تنظیموں کے ساتھ ساتھ امریکی سی آئی اے اور بلیک واٹر کے غنڈے بھی شامل ہوتے ہیں جس کا ثبوت حال ہی میں امریکی شہری ریمنڈ ڈےوس کی دوہرے قتل کے مقدمے میں گرفتاری اور قصاص ادا کرنے کے بعد رہائی ہے بظاہر تو وہ لاہور کے امریکی قونصل خانے کے ساتھ ایک ٹھیکےدار کے طور پر کام کر رہا تھا مگر اس روز یہ شاہی محلہ لاہور کے ایک پوش ہوٹل (ko ko's nest) میں سپاہ صحابہ کے دو لیڈروں کو پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کےلئے ایک خطیر رقم دے کر واپس آ رہا تھا یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ اسے ان دو موٹر سائیکل سواروں پر شک ہو گیا تھا کہ انہوں نے اسے وہ رقم دےتے ہوئے دےکھ لیا تھا اور یہ ان کا تعلق پاکستان کی آئی ایس آئی سے تھا ان دونوں کو گولیوں کا نشانہ بنانے کے بعد یہ اپنی گاڑی سے اترتا ہے اور بڑے اطمینان کے ساتھ ان کی لاشوں کی تصویریں بنا کر اپنی گاڑی میں سوار ہو کر چلا جاتا ہے حیرت کی بات یہ ہے کہ بظاہر ایک معمولی امریکی ٹھیکیدار جس کو سفارتی استثنا بھی حاصل نہیں تھا اس کی سفارش ٹیلیویژن پر آ کر امریکی صدر بارک اوباما خود کرتا ہے کہ ریمنڈ ڈےوس ایک سفارت کار ہے یہی نہیں اس کے واپس امریکہ جانے کر بعد اسے سی آئی اے کا چیف بنا دیا جاتا ہے امریکہ کے پاکستان کے اندر دہشت گردی پھیلانے کا اس سے بڑا ثبوت اور کیا ہو سکتا ہے؟
پاکستان کے اندر انتہا پسند تنظیموں کے یہ لوگ جب تےرہ چودہ سالہ بچوں سے کوئی خود کش حملہ کرواتے ہیں توسب سے پہلے ان کے والدین کو لاکھوں روپے دے کر راضی کرتے ہیں پھر ان بچوں کو برین واش کرکے جنت کی حوروں کے پاس جانے کا لالچ دےتے ہیں اور پھر ان کے جسم پر بارود سے بھری جیکٹ پہنا کر انہیں کوئی ٹارگٹ دے دےتے ہیں جو اکثر ہمارے فوجی یا سیکورٹی یا پولیس کے ادارے ہوتے ہیں ممکن ہے اس کی وجہ یہ ہو کہ ہمارے آئی ایس آئی اور سیکورٹی کے یہ ادارے سی آئی اے کے مذموم ارادوں سے پوری طرح باخبر ہیں اور ان کے سامنے ایک سیسہ پلائی دیوار بن کر کھڑے ہیں ان دہشت گردوں کا ایک گروپ ہمارے سویلین لوگوں کو اپنی دہشت گردی کا نشانہ بنائے ہوئے ہے یہ گروپ ہمارے مزاروں، مسجدوں، امام بارگاہوں اور یہاں تک کہ کسی جنازے میں کندھا دےنے والوں کو بھی نہیں چھوڑتا لےکن اس سب کے باوجود یہ لوگ ابھی تک پاکستان میں خوف و ہراس کی وہ فضا پیدا کرنے میں ناکام رہے ہیں جس کے بعد بہانہ سازی کرکے امریکی ہاتھ ہمارے ایٹمی اثاثوں تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش کرتے۔
ایسے نظر آ رہا ہے کہ ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے بعد افغانستان میں دہشت گردی کے خلاف شروع کی گئی جنگ اب پاکستان کے اندر لائی جانے والی ہے ابھی تک تو صدر پاکستان کی رضامندی کے ساتھ (Obama's wars by Bob Woodward page 26) امریکہ شمالی وزیرستان میں ڈرون حملے ہی کر رہا ہے ممکن ہے اب وہاں بھی اپنے کمانڈو اتار کر ابٹ آباد جیسی کارروائیاں شروع کر دے یہ بھی ایک عجیب اتفاق ہے کہ پچھلے دس سالوں میں تو سی آئی اے اپنی تمام صلاحیتوں وسائل اور جدید ترین ٹیکنالوجی کے باوجود اسامہ کو نہیں ڈھونڈ سکی لےکن جیسے ہی امریکی صدر اوباما اعلان کرتا ہے کہ 2011 ختم ہونے سے پہلے افغانستان سے امریکی فوجوں کی واپسی شروع ہو جائے گی اور یہ کہ وہ آئندہ ہونے والے امریکی صدارتی انتخابات میں بھی حصہ لے گا تو اچانک اسامہ بن لادن کی ہلاکت کا ڈرامہ رچا دیا جاتا ہے اس کا چہرہ بھی کسی کو حتیٰ کہ اپنے بہترین دوست کسی برطانوی وزیر کو بھی نہیں دکھایا جاتا اور نہ ہی کسی Independent ادارے سے اس کے DNA کی کوئی تصدیق کروائی جاتی ہے صرف امریکی صدر سے اعلان کروا دیا جاتا ہے کہ اسامہ بن لادن ہلاک کر دیا گیا ہے کیونکہ اگر اسامہ زندہ رہتا تو امریکی شہری یہ سوال کرنے میں حق بجانب تھے کہ جناب صدر اسامہ بن لادن کی سربرا میں القاعدہ تو اسی جوش و خروش سے امریکہ کے خلاف برسر پیکار ہے طالبان بھی اپنی جگہ وہیں کے وہیں ہیں ہزاروں امریکی فوجی بھی اس جنگ میں مارے جا چکے ہیں تو دس سالوں کی اس جنگ کے دوران اب ایسا کون سا تیر مارا گیا ہے کہ امریکی فوجوں کی واپسی ممکن ہو گئی ہے؟ اور اگر اسامہ کو ٹھکانے لگائے بغیرہی واپس آنا تھا تو وہاں گئے ہی کیوں تھے؟ اور اتنے ہزار امریکی فوجی مروانے کی کیا ضرورت تھی؟ دوسرے اپنی صدارت کے دوران اوباماکی ہر دلعزیزی کا گراف بڑی تےزی سے نیچے آ رہا تھا لےکن جیسے ہی اسامہ کی ہلاکت کی خبر سنائی جاتی ہے اوباما کے تمام مسئلے حل ہو جاتے ہیں امریکی فوجوں کی ایک فاتح فوج کی طرح واپسی ممکن ہوجاتی ہے اوباما کی گرتی ہوئی ساکھ کا گراف ایک دم اوپر چلا جاتا ہے اورآئندہ ہو نے والے امریکی صدارتی انتخابات میں اوباما کی جیت کے راستے بھی کھل جاتے ہیں اگر یہ سب اتفاق ہے تو پھر یہ بہت ہی عجیب اتفاق ہے۔ —

این اے ناصر
05-02-2012, 08:31 PM
شئیرنگ کاشکریہ۔

admin
05-02-2012, 08:35 PM
کجھ شہر دے لوگ وی ظالم سن کجھ سانوں مرن دا شوق وی سی۔۔۔۔۔۔۔:stretcher:

لاجواب
05-02-2012, 09:45 PM
وہ ایک جھوٹی کہانی بنانی گئی تھی سیادانوں نے مل کر