PDA

View Full Version : وکی لیکس اور تحریک آزادی کشمیر



گلاب خان
12-03-2010, 07:45 PM
جمشید چشتی ـ 15 گھنٹے 51 منٹ پہلے شائع کی گئی
امریکہ کی نجی انٹیلی جنس ویب سائٹ ’’وکی لیکس‘‘ کی جاری کردہ دستاویزات اور انکشافات نے پوری دنیا میں ایک ہلچل سی مچا دی ہے۔ تازہ رپورٹس میں کئے گئے انکشافات میں صدر زرداری سے متعلق سعودی فرماں روا شاہ عبداللہ کے ساتھ یہ بیان منسوب کیا گیا ہے کہ: ’’صدر آصف زرداری پاکستان کی ترقی میں رکاوٹ ہیں اور جب سر ہی گلا سڑا ہو تو اس کے اثرات پورے جسم پر پڑتے ہیں‘‘… دوسرا انکشاف ایران کے بارے میں ہے کہ ’’سعودی عرب نے امریکہ کو ایرانی ایٹمی تنصیبات تباہ کرنے کیلئے کہا‘‘… جہاں تک صدر زرداری والی بات ہے تو اس کا امکان موجود ہے کہ شاہ عبداللہ نے اپنے مقربان کے ساتھ تنہائی میں ایسی بات کہہ دی ہو۔ کیوں کہ ہمارے صدر صاحب بھی تو اپنی ’’ایمانداری اور غریب پروری‘‘ کی نسبت پوری دنیا میں مشہور ہیں۔ رہی بات ایرانی ایٹمی تنصیبات کو تباہ کرنے کی تو اس میں شبہ موجود ہے کیونکہ ایران کا ایٹمی اور میزائل پروگرام امریکہ کی آنکھ میں کانٹے کی طرح چبھ رہا ہے لہٰذا اسے بھی سعودی حکومت کے ساتھ منسوب کر دیا گیا ہے اور یہ دو اسلامی برادر ملکوں میں پھوٹ ڈالنے کی صریح کوشش ہے کیونکہ سعودی عرب کو ایران کے ایٹمی پروگرام سے کوئی خطرہ نہیں۔ اس نوعیت کے ’’انکشافات سے یہ بات اخذ کی جا سکتی ہے کہ ’’وکی لیکس‘‘ ویب سائٹ امریکی حکومت کی مرضی سے یہ دستاویزات اور رپورٹس جاری کر رہی ہے۔ جس کا مقصد یہ ہے کہ دنیا کو آگاہ کر دیا جائے کہ امریکہ کو ہر ملک ہر حکومت اور ہر ملک کے حکمرانوں اور ان کی خفیہ سرگرمیوں حتیٰ کہ تنہائی میں کی گئی گفتگو کا بھی علم ہے اور امریکی انٹیلی جنس پوری دنیا کے باشندوں (خصوصاً مسلمانوں) کا مکمل بائیو ڈیٹا (کوائف) سرگرمیاں اور بات چیت تک ریکارڈ کر رہی ہے۔
امریکہ اب ایران کو سعودی عرب کے خلاف ’’گرم‘‘ کرنے کی کوشش کر رہا ہے تاکہ ایران ادھر الجھ جاتے۔ چین کو کسی طرح نرم کرکے بھارت سے دوستی پر آمادہ کیا جائے‘ ہمیں تو اس نے کشمیریوں کا خون بہنے کے باوجود بھارت سے دوستی اور تجارت پر مجبور کر لیا ہے اور ہم جو مقدمہ کشمیر کے سب سے بڑے وکیل ہیں‘ تحریک آزادی کشمیر کی اس طرح کھل کر حمایت نہیں کر رہے جیسے چین اور ایران کر رہے ہیں۔
ہمیں امریکہ کی دوستی لے ڈوبے گی۔ پانی ہماری کمر تک پہنچ چکا ہے اس کے بعد غوطے کھانے کا مرحلہ آنے والا ہے۔ پاکستانی حکومت اور حکمرانوں کو چاہئے کہ وہ خطرناک مرحلہ آنے سے پہلے امریکہ کے چہرے پر چپکا ہوا دوستی کا ماسک اتار کر دنیا کو اس کی اصل اور مکروہ صورت دکھا دیں اور مقبوضہ کشمیر کی تحریک آزادی کیلئے عملی طور پر سرگرم ہو جائیں ورنہ تاریخ ہمیں کبھی معاف نہیں کرے گی۔
:s:s