PDA

View Full Version : بین الاقوامی سازش اور توہین رسالت(آخری قسط)



گلاب خان
12-03-2010, 07:47 PM
محمد اظہر صدیق judicialap@gmail.com
پاکستان کو1999ء میں یہ اعزاز حاصل ہوا کہ اس نے او آئی سی کے ذریعے تواہین مذاہب کا مسئلہ اقوام متحدہ میں اٹھایا اور ’’ Combating Defamation of Religions‘‘ کی قرار داد منظور کروائی گئی اس قرادداد کے ذریعے یہ پابندی کروائی گئی کہ کسی بھی مذہب یا مذہبی روحانی شخصیات کے خلاف توہین نہیں ہو گی اور تمام ممالک اس پر قانون سازی کریں گے اور اس کی پابندی کروائیں گے اس کے بعد کئی قراردادیں منظور کی گئی۔ حالیہ مارچ 2010ء میں ہیومن رائٹس کونسل نے ’’Defamation of Religions‘‘ منظور کروائی گئی۔ توہین سے متعلق قوانین تقریباً تمام مذاہب میں موجود ہیں مگر ہم شاید ان پر عمل ہی نہیں کرنا چاہتے اور ہم اس سلسلہ میں راہ فرار حاصل کرتے ہیں مگر ہم ایسا نہیں کر سکتے اور نہ ہی ہمیں ایسا کرنا چاہیے۔ اقوام متحدہ کے آرٹیکل 20(2) جو کہ’’ UN Covenant on civil and Political Rights ‘‘ کے تحت ہر ملک کو مذاہب کے تحفظ کے حوالے سے قانون سازی کی پابندی کرواتی ہے۔ مگر چند مفاد پرست عناصر / قومیں شاید یہ قانون سازی صرف ذاتی مفادات کے لیے کرنا چاہتی ہیں۔ پورا تعزیرات پاکستان اٹھا لیں یا دیگر قوانین ہر قانون کو جہاں صحیح طرح سے استعمال کیا جاتا ہے اور اس کی پاسداری ہوتی ہے، تو وہاں دوسری طرف ان قوانین کا غلط استعمال بھی ضرورت سے زیادہ ہے۔ راقم کو 3 نومبر 2007 ء کی ایمرجنسی کے بعد جیل جانا پڑا وہاں اس بات کابخوبی اندازہ ہوگیا کہ جیلوں کے اندر آدھے سے زیادہ لوگ بے گناہ ہیں۔5 نومبر تا 26 نومبر2007ء تک درجنوں قیدیوں سے ملاقات ہوئی۔ مگر راقم کے پاس تو اختیار نہیں تھا کہ ان بے گناہ لوگوں کو میں جیلوں سے باہر نکال سکوں۔ مگر اس کا مطلب یہ بھی نہیں ہے کہ ہم تعزیرات پاکستان یا ضابطہ فوجداری کو ردی کی ٹوکری میں پھینک دیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ جھوٹے ، جعلی اور اثرو رسوخ سے درج ہونیوالے مقدمات کو روکا جا سکے قانون کے اندر جھوٹے مقدمات کو روکنے کے حوالے سے واضع لائحہ عمل موجود ہے مگر اسے سخت بنانے کی ضرورت ہے ۔ ضرورت اس امر کی بھی ہے کہ ہم پراسیکیوشن کا نظام بہتر بنائیں تاکہ بے گناہ لوگوں کو عدالتوں کے سامنے پیش نہ ہونا پڑے اور اگر چالان پیش کئے جائیں تو گناہ گار لوگ بچ نہ سکے۔ اسلام نے برائی کو روکنے کیلئے سخت قوانین تجویز کئے ہیں اسی لئے اُس کی خلاف ورزیاں کم ہوتی ہیں۔ جیسا کہ چوری کے جرم کی سزا ہاتھ کاٹنے کو لے لیں۔ تو اس سخت سزا کے پیچھے دو وجوہات ہیں ایک تو یہ کہ چور دوبارہ چوری ان ہاتھوں سے نہ کر سکے تو دوسری طرف معاشرے میں ہاتھ کٹا ہوا آدمی نشانِ عبرت بنے۔ یوں آپ کہ سکتے ہیں کہ اگر آج توہین رسالت کی سزا ختم کر دیں گے تو عاشق رسولؐ پھر قانون اپنے ہاتھ میں لے لیں گے اور فسادات بڑھیں گے جن کو روکنے والا کوئی نہ ہو گا۔ اصل میں توہین رسالت سے متعلق قوانین اقلیتوں اور دیگر افراد کو تحفظ فراہم کر رہے ہیں کیونکہ الزام کی صورت میں وہ بجائے عوامی غیض و غضب کے عدالتوں میں سامنا کرسکیں۔ آخر میں بتاتا چلو کہ موجودہ پارلیمنٹ نے توہین رسالت کا قانون ختم کرنے کی کوشش کی تو تمام ممبران نیشنل اسمبلی بشمول وزیراعظم آئین کے آرٹیکل (62)کی رو سے نااہل ہو جائیں گے اور اس پارلیمنٹ کا وجود ختم ہو جائے گا اور اگر صدر محترم جناب آصف علی زرداری نے آئین کے آرٹیکل (45)کا استعمال کیا وہاں وہ دائرہ اسلام سے باہر ہو جائیں گے تو دوسری طرف عہدہ صدارت سے بھی آئین کے آرٹیکل (62)کی رو سے نا اہل ہو جائیں گے۔ میں ان تمام پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا کے صحافی حضرات، جید علماء ، سول سوسائٹی کے ممبران اور خاص طور پر جناب ڈاکٹر بابر اعوان وفاقی وزیر قانون اور صحافیوں کا شکر گزار ہوں کہ جنہوں نے جہاں ایک سچے اور پکے مسلمان ہونے کا ثبوت دیا ہے اور دین اسلام کی ترویج میں اپنا اہم کردار ادا کیا ہے۔ تو دوسری طرف اس اہم اور نازک مسئلے کی عوام کے سامنے صحیح تصویر پیش کی ہے۔

بےباک
12-07-2010, 11:28 AM
شکریہ گلاب بھائی ،بہت ہی شاندار معلوماتی مضمون پیش کیا،