PDA

View Full Version : امریکہ افغان معاہدہ۔ شکاگو ناٹو سمٹ اور پاکستان.



بےباک
05-09-2012, 07:35 AM
امریکہ افغان معاہدہ۔ شکاگو ناٹو سمٹ اور پاکستان...عظیم ایم میاں
موجودہ صدی میں سائنس کی ایجادات نے جنگ، ڈپلومیسی اور امن کے تقاضے تیزی سے نہ صرف تبدیل ہوچکے ہیں بلکہ عراق اور افغانستان کی جنگوں نے تو جنوبی ایشیاء کے خطے کو وہ تاریخی چیلنج بھی دیا ہے کہ آنے والی نسلوں کی زندگی پر بھی گہرے اثرات ہوں گے مگر اس خطے میں واقع میرے آبائی وطن پاکستان کے بارے میں افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ایک فوجی جنرل پرویز مشرف بیک وقت پاکستان کے چیف آف آرمی اسٹاف بھی تھے اور صدر مملکت بھی تھے عملاً تمام اختیارات اور فیصلوں پر اُن کا کنٹرول تھا مگر وہ ہمسایہ ملک افغانستان میں دہشت گردی کے خلاف جنگ کے تقاضوں سے نمٹ نہ سکے اور نہ صدر مملکت اور جنرل ہونے کے حوالے سے عالمی تعلقات اور ڈپلومیسی کے میدان میں پاکستان کے قومی مفادات کے تحفظ اور فروغ کا مقصد حاصل کرسکے بلکہ اپنے آمرانہ اقتدار کی حمایت واحد عالمی سپر پاور امریکہ سے حاصل کرنے اور زبانی کلامی تعریفوں کے بدلے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کو فرنٹ لائن اسٹیٹ کے طور پر غیروں کی خواہشات اور مطالبات کی تعمیل میں لگادیا۔ اپنی قومی معیشت، ثقافت، داخلی وخارجی سیاست بلکہ قومی جغرافیہ کو بھی داؤ پر لگاکر اپنے اقتدار کا عالمی جواز حاصل کیا اور قوم کو محض خوشحال مستقبل، سلامتی و ترقی کے خوش کن وعدوں پر ٹہلایا گیا۔ جب 9 سال بعد اقتدار پر گرفت کمزور پڑنے لگی اور بیرونی حمایتیوں نے بھی پاکستان میں تبدیلی کا فیصلہ کرلیا تو پھر غیر ملکی سرپرستوں کے ایماء پر ہی ڈیل اور سمجھوتے کرکے این آر او جاری ہوئے اور پھر پچھلے چار سال سے مشرف کی جانشین حکومت بھی جنگ‘ ڈپلومیسی اور امن کے شعبوں میں مشرف حکومت کی راہ پر ہی چل رہی ہے۔ غیر ملکی سرپرستوں کی مرضی و منشاء پر چلنے کے باوجود پاکستان نہ صرف جنوبی ایشیاء میں معاشی بدحالی، بدامنی اور مایوسی کی حالت میں تنہا کھڑا ہے بلکہ امریکی صدر اوباما پاکستان کے ہمسایہ ملک افغانستان سے10 سالہ اسٹرٹیجک امریکہ، افغان معاہدے پر دستخط کرنے کے لئے کابل کا سفر کرتے ہیں لیکن پاکستان کو نہ تو اطلاع کی جاتی ہے نہ مشورہ کیا جاتا ہے۔ یہ ایک تاریخی معاہدہ ہے جس کے اثرات براہ راست پاکستان پرمرتب ہوں گے لیکن گزشتہ دس سال سے پاکستان کا اتحادی امریکہ آج پاکستان کو مکمل نظر انداز کرکے براہ راست افغانستان سے معاملات طے کررہا ہے اس معاہدے کے تحت پاکستان کے خلاف افغان سرزمین کے استعمال نہ کرنے کے بارے میں کوئی گارنٹی یا اعلان بھی نہیں ہے۔ ڈرون حملوں سے لے کر ہمسایہ پاکستان اور وسطی ایشیائی ممالک کے خلاف فضائی و زمینی اقدامات کی پوری پوری گنجائش معاہدے میں موجود ہے صرف افغان خود مختاری کے لفظ اور عالمی سکیورٹی فورسز کے افغانستان سے تعاون کی آڑ میں تمام انتظامات ہیں۔ مگر آپ ریکارڈ، میڈیا رپورٹس اور ڈپلومیسی پر نظر ڈالیں اسلام آباد کے موجودہ حکمران اس امریکہ، افغان اسٹرٹیجک معاہدے سے بالکل بے نیاز ہوکر عدالتی اور داخلی بحرانوں کو جنم دے کر مصروف کار ہیں۔ امریکہ اور افغانستان اسامہ بن لادن کی ہلاکت کی پہلی سالگرہ پر اس معاہدے پر دستخط کرکے پاک، امریکہ تعلقات کی کشیدگی کے موجودہ ماحول میں پاکستانی فوج اور قوم کو یہ احساس تو دلاتے ہیں کہ اسامہ بن لادن پاکستان کی سرزمین پر چھپا ہوا تھا مگر کوئی امریکی اس سوال کا تسلی بخش جواب نہیں دیتا کہ سامنے آنے والے حقائق سے واضح ہوگیا ہے کہ اسامہ بن لادن کو پرویز مشرف کے دور میں پاکستان میں چھپایا گیا اور پرویز مشرف کی آمریت کی حمایت اور سرپرستی خود امریکی حکومت نے کی تھی لہٰذا پاکستانی مظلوم قوم کی بجائے اس کی ذمہ داری امریکی حکومت کی مشرف نواز پالیسی اور ڈکٹیٹر کی امریکی حمایت کرنے والوں پر بھی عائد ہوتی ہے۔ آج صدر اوباما کو اسامہ بن لادن اور ایمن الظواہری کی دہشت گردی اور پاکستان کو دہشت گردی کی پناہ گاہ کہنے کے ساتھ ساتھ امریکی حمایت سے پاکستان پر آمرانہ حکومت کرنے والے پرویز مشرف سے بھی دہشت گردوں کو پاکستان میں پناہ دینے کا حساب لینا چاہئے۔ بہرحال پاکستان کو تباہ حالی کی حالت میں چھوڑ کر امریکہ نے افغانستان کی تعمیر نو کا ذمہ سنبھال لیا ہے معاہدہ پر دستخط کرنے کے بعد اب20 مئی کو امریکی شہر شکاگو میں ایک اہم ناٹو ممالک کی کانفرنس منعقد ہورہی ہے جس میں افغانستان میں مصروف تمام ناٹو ممالک شرکت کریں گے یعنی سب ہوں گے دس سال تک افغانستان کی جنگ میں فرنٹ لائن ملک پاکستان اگر شریک ہوا تو دعوت نامہ ملنے پر شریک ہوگا، ورنہ نہیں۔ اس کانفرنس میں افغانستان کی تعمیر نو، اُس کی3 لاکھ 52 ہزار سکیورٹی فورسز، افغانستان میں امریکی فوجی تنصیبات اور تعمیرات افغانستان کے حوالے کرنے سے لے کر بڑے اہم فیصلے ہوں گے لیکن ہمسایہ پاکستان اور اس کی موجودہ حکومت بے بسی کے ساتھ ابھی شرکت کے لئے دعوت نامے کی منتظر ہے۔ گویا ایجنڈا پاکستان کے ہاتھ میں نہیں ہے اور کوئی رول بھی نہیں ہے۔ کیسے اتحادی؟ کیسی ڈپلومیسی؟ کہاں ہیں پاکستانی مستقبل کے مفادات کا تحفظ؟ شرکت کا دعوت نامہ ملنے پر صدر آصف زرداری کی آمد آمد کا ذکر ہے مگر اس ناٹو کانفرنس میں پاکستان کا رول کیا ہوگا؟ کوئی بتلائے کہ ہم بتلائیں کیا؟ امریکی صدر اوباما نے راتوں رات امریکہ سے افغانستان کا سفر کرکے خاص علامتی تناظر میں افغان، امریکہ اسٹرٹیجک معاہدے پر کابل پہنچ کر شکاگو سمٹ سے قبل دستخط کئے ہیں ورنہ اس معاہدے پر صدر اوباما اور حامد کرزئی شکاگو میں بھی دستخط کرسکتے تھے۔ پاکستان کو جنگ ڈپلومیسی اور پاک، امریکہ تعلقات کے حوالے سے صورت حال کو مزید بہتر سمجھنے کے لئے ایک حقیقی اور تاریخی واقعہ یہ ہے کہ امریکی صدر جارج بش کے دور میں جنرل پرویز مشرف واشنگٹن کا دورہ کررہے تھے۔ دونوں کی ملاقات اور مذاکرات کے بعد دونوں سربراہان مملکت میڈیا کے سامنے آئے، طے شدہ روایت کے مطابق دو پاکستانی صحافیوں اور دو امریکی صحافیوں کو سوالات کے لئے راشد قریشی اور اُن کے امریکی ہم منصب نے طے کرنا تھا لیکن جونہی دونوں سربراہان نے بیانات ختم کئے تو میں نے ہمت کرکے امریکی صدر بش سے سوال کردیا کہ ماضی کی افغان جنگ میں امریکہ نے اچانک پاکستان کو تنہا چھوڑ کر جنگ کی تباہی اور بنیادپرستی کے اثرات کا سامنا کرنے کے لئے چھوڑ دیا تھا۔ اب دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کو ایک بار پھر استعمال کرکے امریکہ پھر تنہا چھوڑ دے گا اور تاریخ اپنے آپ کو دہرائے گی؟
میرے اس سوال کو سن کر پاکستان کے سرکاری وفد کے بعض اراکین کے تیور غصے میں بدل گئے لیکن جب صدر جارج بش کا جواب سنا تو پھر وہی پاکستانی انتہائی خوش اور مطمئن نظر آئے بلکہ بعض کا غصہ مجھ پر مہربانی میں تبدیل نظر آیا۔ صدر بش کا جواب کچھ یوں تھا کہ اب پاک، امریکہ تعلقات میں ماضی کی غلطیاں نہیں دہرائیں گے۔ اب یہ شارٹ ڈانس(SHORT DANCE) نہیں ہوگا۔ انہوں نے پاک، امریکہ تعلقات کی مضبوطی اور دیرپا ہونے کی بڑے عمدہ الفاظ میں نوید سنائی لیکن آج پاک، امریکہ تعلقات کی حقیقی صورت حال، خطے میں پاکستان کی موجودہ حیثیت، بھارت کے لئے متعین کردہ عالمی رول، افغانستان کی تعمیر نو کے معاہدے، شکاگو میں ناٹو سمٹ اور پاکستان کا رول واضح طور پر بتارہے ہیں کہ امریکی صدر جارج بش کا خوش کن بیان محض زبانی اور وقتی تھا۔ ماضی کی غلطیاں پھر دہرائی جارہی ہیں اور پاک، امریکہ تعلقات کی تاریخ بھی دہرائی جارہی ہے اور پاک، امریکہ تعلقات کا ڈانس بھی شارٹ ہی تھا۔ مگر ہمارے حکمراں بدستور غیر ملکی سرپرستوں کی خوشامد اور تعمیل حکم میں مصروف ہیں۔
جنگ 9مئی2012