PDA

View Full Version : جاگتی رات کے ہونٹوں پہ فسانے جیسے ۔ ۔ ۔



این اے ناصر
05-10-2012, 01:40 PM
جاگتی رات کے ہونٹوں پہ فسانے جیسے
اِک پل میں سمٹ آئے ہوں زمانے جیسے

عقل کہتی ہے بُھلا دو، جو نہیں مل پایا
دل وہ پاگل کہ کوئی بات نہ مانے جیسے

راستے میں وہی منظر ہیں پرانے اب تک
بس کمی ہے تو، نہیں لوگ پرانے جیسے

آئینہ دیکھ کے احساس یہی ہوتا ہے
لے گیا وقت ہو عمروں کے خزانے جیسے

رات کی آنکھ سے ٹپکا ہوا آنسو وصی
مخملی گھاس پہ موتی کے ہوں دانے جیسے

سیما
05-10-2012, 01:42 PM
:stop: اب سب کو اداس کر دیا:stop: ناصر بھائی نے

این اے ناصر
05-10-2012, 01:46 PM
میرادل اُداس ہے اس لیے اُداس شاعری اچھی لگ رہی ہے۔ ورنہ میں یہ نہیں چاہتاکہ اپ اُداس ہوں ۔

سیما
05-10-2012, 01:49 PM
ہاہاہاہاہاہاہہا می تو اداس نھی ہو رہی بس آپ کو کہا آپ اداس نا ہونا اداسی اچھی چیز نھی
خوش رہو ناصر بھائی اور میری بھی عادت اچھی:stop: نھی جو سب کو کچھ لکھتی رہتی ہوں

نگار
08-24-2012, 04:09 PM
عقل کہتی ہے بُھلا دو، جو نہیں مل پایا
دل وہ پاگل کہ کوئی بات نہ مانے جیسے

راستے میں وہی منظر ہیں پرانے اب تک
بس کمی ہے تو، نہیں لوگ پرانے جیسے



بہت خوب جناب شکریہ

پاکستانی لڑکی
10-24-2012, 06:53 PM
واہ واہ کیا بات ہے

تانیہ
10-24-2012, 07:34 PM
عقل کہتی ہے بُھلا دو، جو نہیں مل پایا
دل وہ پاگل کہ کوئی بات نہ مانے جیسے

راستے میں وہی منظر ہیں پرانے اب تک
بس کمی ہے تو، نہیں لوگ پرانے جیسے

واہ
بہت خوب