PDA

View Full Version : اس در سے جو بھی لوٹ کے آیا تو رو پڑا وہ



این اے ناصر
05-10-2012, 03:11 PM
دھڑکن کو تیری یاد سے تحریک مل رہی ہے
چاہت اگر سزا ہے، ہمیں ٹھیک مل رہی ہے

اس در سے جو بھی لوٹ کے آیا تو رو پڑا وہ
لگتا ہے آنسووں کی وہاں بھیک مل رہی ہے

ہم نے تو پل صراط کے بارے میں سن رکھا تھا
ہر راہ ، بال سے ہمیں باریک مل رہی ہے

شاید کسی بھی لمحے مقابل ہوں اس کی گلیاں
جو دور کی صدا تھی وہ نزدیک مل رہی ہے

جو جگمگا اٹھی تھی تجھے دیکھ کر خوشی سے
مدت سے راہ وہ ہمیں تاریک مل رہی ہے

نگار
08-24-2012, 04:07 PM
ہم نے تو پل صراط کے بارے میں سن رکھا تھا
ہر راہ ، بال سے ہمیں باریک مل رہی ہے



بہت زبردست جناب شکریہ