PDA

View Full Version : امریکا نے ہر کنٹینر پر رشوت دی ۔۔جرمن جریدہ



بےباک
05-12-2012, 03:22 PM
کراچي… محمد رفيق مانگٹ… آصف علي زرداري ايک حادثاتي صدر ہيں انہيں عارضي ريليف ديا گيا ،زرداري ملک ميں سب سے زيادہ نفرت کيے جانے والے سياستدانوں ميں سے ايک ہيں، اب تک پاکستان ميں ہر کنٹينر پر امريکا کو15سوڈالر رشوت دينے پر مجبور کيا گيا اور وہ پيسے طالبان اور کرپٹ کسٹمز حکام کي جيب ميں گئے، اسامہ کي ہلاکت کے امريکي يک طرفہ آپريشن پر پاکستان نے امريکا کو معاف نہيں کيا،کئي ماہ سے جنرل ميٹس اور اشفاق پرويز کياني کے درميان بات چيت نہيں ہوئي.جرمن جريدے ڈيراسپيگل spiegel.de نے پاکستاني صدر آصف علي زرداري کو شديد تنقيد کانشانہ بنايا ہے.چند ماہ قبل پاکستان ميں فوجي بغاوت کي افواہيں تھيں اور ايسي افواہيں جلد ہي سر اٹھا ليتي ہيں جب حکومت فوج کے ساتھ معاملات گڑ بڑ کرتي ہے.ليکن اب ايسے کسي خدشے کا خطرہ نہيں.امريکا مخالف جذبات نے پاکستاني فوج کو بھي کمزور کيا ہے. تاہم ابھي بھي پاکستان کا قابل اعتماد ادارہ فوج ہي ہے. سياسي نظام کي لڑائي ميں صرف سپريم کورٹ کے ججوں کو اس وقت کچھ احترام حاصل ہے. کئي دہائيوں تک پاکستان ميں انصاف نام کي کوئي چيز نہيں تھي، ہر فوجي بغاوت کو عدالت نے آئيني جواز فراہم کيا ،ليکن اب عدالت نے وہ تاثر ختم کرديا ہے.اب انہوں نے زرداري کے خلاف ماضي کي بدعنوانيوں کي تحقيقات کو بھي کھول ديا ہے.جريدے نے لکھا کہ اسامہ بن لادن کي ہلاکت کے ليے امريکي يک طرفہ آپريشن پر پاکستان نے ابھي تک امريکا کو معاف نہيں کيا. وائٹ ہاؤس ميں امريکي صدر اوباما اور اس کي ٹيم کي پاکستان ايبٹ آباد آپريشن کي مانيٹرنگ کي جاري فوٹيج کو ابھي تک پاکستاني بھلا نہيں سکے کيونکہ امريکا نے پاکستان کي حکومت اور فوج کو ايبٹ آباد آپريشن پر اعتماد ميں نہيں ليا تھا جبکہ پاکستان پر عدم اعتماد کے واضح اظہار کے بعد اس آپريشن کے بعد دونوں ممالک کے درميان تعلقات ميں دراڑ پيدا کردي. عام طور پر امريکي مسلح افواج اور پاکستاني فوج اکھٹے کام کرنے کا دکھاوا کرتے رہے. دونوں ممالک کے سفارت کار اور اعلي فوجي حکام باقاعدگي سے ايک دوسرے ممالک کا دورہ بھي کرتے ہيں مگر 2 مئي اورپھر سلالہ چيک پوسٹ پر حملے کے بعد ان ملاقاتوں اور رابطوں کے سلسلے ميں کمي آئي ہے اور امريکي مرکزي کمانڈ اور افغان حکومت کے انچارج جنرل جيمز ميٹس اور آرمي چيف جنرل اشفاق پرويز کياني کے درميان کئي ماہ سے بات چيت نہيں ہوئي. اس معاملے کي بنياد پر افغان جنگ پر بھي اثر پڑا ہے. پاکستان گزشتہ نومبر سے نيٹو کو سپلائي کيلئے زميني راستہ استعمال کرنے کي اجازت دينے سے انکار کرچکا ہے .نيٹو سپلائي کي بندش کے تنازع ميں ايک ڈبل حکمت عملي کا انکشاف ہوا ہے،پاکستان نے ہر کنٹينر پر15سو ڈالر وصول کرنے کا مطالبہ کيا ہے. امريکا ديگر ٹيکس کي چھوٹ پر اسے قبول کرتا،پاکستان کے راستے سے گزرنے پراب تک امريکا کو ہر کنٹينر پر اضافي 15سو ڈالر کي رشوت دينے پر مجبور کيا گيا اوريہ رقم طالبان اور بد عنوان پاکستاني کسٹمز حکام کي جيبوں ميں گئي.کيونکہ يہ رشوت روايتي ہے اور کسي کو بھي يہ معلوم نہيں تھا کہ صورت حال تبديل ہو جائے گي.نيٹو کے پاس واحد راستہ يہ ہے کہ پاکستاني حکام کي جانب سے نئي رقم کي شرائط کے مطالبے کو مانے يا وسطي ايشيائي رياستوں کے ذريعے رسد جاري رکھے. امريکا 2014کے بعد بھي اس خطے پر اپنا اثر قائم رکھنا چاہتا ہے اور آپريشن کے لئے پاکستان امريکا کے لئے موزوں بيس ہے.رپورٹ ميں چند ماہ قبل امريکي جريدے ميں شائع پاکستاني جوہري پروگرام کے بارے خدشات کوبھي موضوع بنا يا گيا ہے.اس کے علاوہ گيلاني کي توہين عدالت کيس ميں سزا اور مذہبي رہنماو?ں کا دفاع پاکستان کونسل پر بھي تفصيلي تجزيہ پيش کيا گيا.جرمن جريدے نے اٹلانٹک مصنفين کے پاکستان کے نيو کلےئر اقدمات پر بھي تبصرہ کيا ہے. ان مصنفين کا کہنا ہے کہ پاکستان کے حکام سمجھتے ہيں کہ ايبٹ آباد آپريشن اس بات کااشارہ ہے کہ امريکا پاکستان کي نيوکلےئر تنصيبات پر ممکنہ حملے کيلئے ٹيکنيکل ذرائع کو ترقي دے رہا ہے. پاکستان کے اپنے نيوکلیئر اثاثہ جات کيلئے قابل قدر سکيورٹي اقدامات کئے ہيں. بعض اقدامات وار ہيڈز نيوکلیئر ہتھياروں کے آلات کو اپ ڈيٹ کياجاتا ہے. بعض دفعہ ان نيوکلیئر آلات کو ہيلي کاپٹروں‘ بعض دفعہ سويلين سٹائل گاڑيوں کے ذريعے عام ٹريفک کے کے ذريعے گزار کر تعينات يا منتقل کياجاتا ہے اور ہر دفعہ ان کي منتقلي کي تکنيک تبديل ہوتي رہتي ہے.جريدے نے صدر آصف علي زرداري کے حوالہ سے لکھا ہے کہ پاکستان ايک نيوکلیئر پاور ملک ہے مگر اس ميں غربت زيادہ اور شرح خواندہ کم ہے. اس ملک کے 190 ملين لوگ لکھ پڑھ نہيں سکتے. پاکستان ميں قانون کے مطابق جمہوريت ہے مگر حقيقت ميں ملک کے اندر جاگيردارانہ نظام ہے. باالخصوص ديہاتوں ميں زميندارانہ نظام ميں لوگ جکڑے ہوئے ہيں اور بھٹو خاندان جيسے پرانے خاندانوں نے ملک کا کنٹرول سنبھال رکھا ہے. خدشات کے باوجود اب پاکستان ميں فوجي بغاوت کاامکان نہيں . سياسي حکام کي لڑائي ميں صرف سپريم کورٹ کے ججوں کو احترام حاصل ہے. کئي دہائيوں تک پاکستان ميں انصاف نام کي کوئي چيز نہ تھي اور ہر فوجي بغاوت کو عدليہ نے جواز فراہم کيا. اب عدالت نے وہ تاثر ختم کرديا ہے. جريدے کے مطابق صدر زرداري ايک حادثاتي صدر ہيں. وہ بينظير بھٹو کے شوہر ہيں جن کي دو حکومتيں کرپشن الزامات پر ختم کي گئيں. وہ اپني اہليہ کي حکومت کے دورميں وزير سرمايہ کاري تھے اور 10 فيصد کميشن وصول کرنے پران کانام مسٹر ٹين پرسنٹ مشہور کياگيا. 1999ء ميں کرپشن مقدمات ميں 5 سال تک جيل رہے۔۔
روزانامہ جنگ 12۔مئی ۔2012