PDA

View Full Version : ناٹو سپلائی بحال کرنیکا فیصلہ



بےباک
05-15-2012, 03:09 AM
سیاسی و عسکری قیادت کا ناٹو سپلائی بحال کرنیکا فیصلہ


-واشنگٹن ،اسلام آباد ( خبر ایجنسیاں،نمائندہ جسارت) امریکا کی جانب سے آخری موقع دیتے ہوئے پابندیوں کی دھمکی پر پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت نے زمینی راستے ناٹو سپلائی بحال کرنے فیصلہ کرلیا ہے ۔ اس سے پہلے امریکا نے پاکستان کو آخری موقع دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ناٹو سپلائی بحال کرے یا پھر پابندیوں سمیت دیگر سنگین اقدامات کا سامنا کرنے کے لیے تیارہوجائے ۔پیرکو ایک اعلیٰ امریکی عہدیدار نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ پاکستان کے ساتھ ناٹو سپلائی کی بحالی سمیت دیگرامور پر بات کا سلسلہ منقطع نہیں ہوا دوطرفہ اعلیٰ سطحی مذاکرات کا سلسلہ جاری ہے ۔وفاقی دارالحکومت کے ذمہ دار ذرائع نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ امریکا کی طرف سے سنگین نتائج کی دی جانے والی تازہ ترین دھمکی پرغور کے لیے پیر کو ایوان صدر میں صدر آصف علی زرداری اور وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی کی زیر صدارت سیاسی اورعسکری قیادت کا اعلیٰ سطحی اجلاس ہوا جس میں آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی ، وفاقی وزرائے داخلہ ، دفاع ، خزانہ اور خارجہ نے بھی شرکت کی ۔اجلاس میں فوجی قیادت نے ایک بار پھر گیند سیاسی قیادت کی کورٹ میں پھینکتے ہوئے واضح کر دیاہے کہ جوبھی فیصلہ کرنا ہے وہ حکومت ہی کو کرنا ہے۔ذرائع کے مطابق اجلاس میں عسکری قیادت نے وزیر خارجہ حنا ربانی کھر کی جانب سے سارے معاملے سے انتہائی غیر دانشمندی اور برے طریقے سے نمٹنے پر اپنی شدید ناراضی اور عدم اطمینان کا اظہار کیا ۔ فوجی قیادت نے کہا کہ ناٹوسپلائی کی بحالی کے معاملے کا فیصلہ سیاسی قیادت کو کرنا ہے لیکن کیا وزیرخارجہ نے اس معاملہ پرجو اقدامات کیے وہ بر وقت تھے ؟ کیا انہوں نے پارلیمانی قراردادوں کے بعد معاملے پرکوئی فیصلہ کیا؟ذرائع کے مطابق تیزی سے بدلتی ہوئی صورتحال کے پیش نظر ایوان صدر میں ہونے والے اجلاس میں زمینی راستوں کے ذریعے ناٹو سپلائی کی بحالی کا اصولی فیصلہ کر لیا گیا ہے ۔ پیرکوحناربانی کھرنے دباؤکے باعث اپنے مؤقف میں تبدیلی لاتے ہوئے پریس کانفرنس میں مبہم انداز میں اس معاملے پرمیڈیا کو آگاہ کیا۔انہوں نے کہاکہ ہم نے سلالہ پرناٹوسپلائی بندکرکے ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اپناموقف واضح کردیا، اب ہمیں آگے بڑھنے کی ضرورت ہے، انہوں نے معافی کا کوئی ذکرنہیں کیا،وہ بارباراپناموقف تبدیل کرتی رہیں ۔ پیر کو سیاسی و عسکری قیادت کے اجلاس میں عسکری قیادت نے امریکا میں سابق پاکستانی سفیر حسین حقانی کی طرف سے مسلسل امریکی اسٹیبلشمنٹ کو دیے گئے اس تاثر کہ ابھی تک صدر زرداری ان کی مکمل حمایت کر رہے ہیں اور ان کی تمام تجاویز پر پاکستانی حکومت سنجیدگی سے غور کرے گی ،پر بھی شدید ردعمل کا اظہار کیا ۔ واشنگٹن سے ملنے والی تازہ ترین اطلاعات کے مطابق حسین حقانی فوج اور آئی ایس آئی کے ساتھ ساتھ اعلیٰ عدلیہ کو بدنام کرنے کے لیے اپنا مشن جاری رکھے ہوئے ہیں ، امریکا کویہی کہہ رہے ہیں کہ جب تک فوج اور آئی ایس آئی کو پابند نہیں کیا جاتا تب تک جمہوری حکومت امریکا کی کسی ڈکٹیشن کو تسلیم نہیں کرے گی ۔ ذرائع نے کہا ہے کہ عسکری قیادت کی طرف سے یہ معاملہ اٹھانے پر ایوان صدر نے کہا کہ حسین حقانی کوایوان صدرکی کوئی حمایت حاصل نہیں۔ واضح رہے کہ امریکی ٹی وی کوحالیہ انٹرویو میں حقانی نے امریکی حکومت سے کہا تھا کہ اسے پاکستان پر مزید دباؤ ڈالنا چاہیے۔ ذرائع کے مطابق وزیر خارجہ کی طرف سے غلط اور تاخیر سے کیے گئے فیصلوں کی وجہ سے پاکستان کو آج اس صورتحال کا سامنا ہے ۔ چند روز قبل ناٹو کے سیکرٹری جنرل نے کہاکہ اگر ناٹوسپلائی کی اجازت نہیں دی جاتی توپاکستان کوشکاگوسربراہ کانفرنس میں مدعونہیں کیاجائے گا جبکہ بدھ کوامریکی ایوان نمائندگان کے پینل نے اوباما انتظامیہ سے پاکستانی فوج کو عسکریت پسندی سے نمٹنے کے لیے آلات اورتربیت کے لیے خصوصی فنڈ کے تحت دی جانے والی امداد پر80کروڑ ڈالرکٹ لگانے کی درخواست کی۔ادھرامریکی رکن کانگریس ڈانا روہرابیکر نے بھی کانگریس میں پاکستان ٹیررازم اکاؤنٹ ایبلٹی ایکٹ 2012ء متعارف کرایاجس میں انہوں نے پاکستان کے لیے امداد میں افغانستان میں مارے جانے والے ہر امریکی فوجی پر 50 ملین ڈالر کمی کی تجویزپیش کی ۔ذرائع کے مطابق پاکستان کوامریکا سے مذاکرات میں حقیقی پیش رفت کرنا ہے تو اسے دفترخارجہ کی سطح پرتبدیلیاں کرناہوںگی کیونکہ وزیر خارجہ اور اس کے ساتھ ساتھ دفتر خارجہ کے حکام کے غیر دانشمندانہ فیصلوں کی پاکستان کو بھاری قیمت ادا کرنا پڑ رہی ہے۔

جسارت 15 مئی 2012


سو جوتے بھی کھائے ،اور سو پیاز بھی ،
فاعتبرو یا اولی الابصار

نگار
05-15-2012, 07:15 PM
سادہ سی بات ہے کہ جب ہمارے حکمرانوں کی غیرت کا ناپ تول ڈالر سے کیا جاتا ہے تو بے شک ڈالر حاوی ہو جاتا ہے اور انکی غیرت ہلکی پڑ جاتی ہے ۔
بے باک صاحب میں نے کہا تھا کہ آئندہ 50000 سال میں بھی پاکستان میں ایسی سیاست نہیں بن پائے گی کہ جس میں عوام کے ساتھ انصاف ہو اور ہم سب کو با اُصول سیاستدان ملے ۔
شکریہ آپکا معلومات سے آگاہی پر

بےلگام
05-16-2012, 04:19 AM
بہت اچھے جناب:Ghelyon::popcorn: