PDA

View Full Version : مسلم ممالک کے کھانے



عزیزامین
05-17-2012, 08:44 PM
کیا اس موضوع پر سلسلہ شروع ہو سکتا ہے؟

انجم رشید
05-18-2012, 10:14 AM
السلام علیکم ۔
کھانوں پر بات تو ہو سکتی ہے لیکن مسلم ممالک کے کھانوں پر کیا بات ہو گی کیوں کہ ہر ملک میں موسم کے مطابق کھانے کھاے جاتے ہیں آپ پاکستان میں ہی دیکھ لیں ایک علاقے کے کھانے دوسرے علاقے سے مختلف ہیں مسلم و غیر مسلم میں کھانوں کا فرق صرف حلال و حرام کھانوں کا فرق ہے ویسے کھانوں کا موضوع اچھا ہے اس سے پتہ چلے گا کہ کس ملک میں کیا کھایا جاتا ہے یا کس علاقے کی کیا خوراک ہے ۔
وسلام

تانیہ
05-18-2012, 11:09 AM
بالکل بات ہو سکتی ہے اور میں اپنے تمام صارفین سے درخواست کرونگی کہ وہ اس موضوع کو ضرور دیکھیں اور اپنا علم شیئر کریں
اور ہم سب مل کے اس موضوع کو جاری رکھیں گے انشاءاللہ
انجم بھائی نے جو باتیں کیں انہی کو ہم مزید آگے لیکر چلیں گے
اور میں خود بھی اس بارے جلد شیئرنگز کرونگی

admin
05-18-2012, 02:29 PM
عزیز امین جلدی سے اس موضوع پر کام شروع کر دو۔۔۔۔:smiley-eatdrink020:

عزیزامین
05-19-2012, 06:08 AM
چائنیز بھی حلال ہی لیکن شوورما یا ہر یسہ سے مختللف ہے چائینیز چین کی جبکہ شوورما عرب کی پہچان ہے؟

عزیزامین
05-19-2012, 06:13 AM
بالکل بات ہو سکتی ہے اور میں اپنے تمام صارفین سے درخواست کرونگی کہ وہ اس موضوع کو ضرور دیکھیں اور اپنا علم شیئر کریں
اور ہم سب مل کے اس موضوع کو جاری رکھیں گے انشاءاللہ
انجم بھائی نے جو باتیں کیں انہی کو ہم مزید آگے لیکر چلیں گے
اور میں خود بھی اس بارے جلد شیئرنگز کرونگی

شکریہ مجھے شدت سے انتظار رہے گا

عزیزامین
05-23-2012, 07:46 PM
مسلم ممالک تمام دنیا کے

عزیزامین
05-23-2012, 08:18 PM
دنیا نقشہ دیکھیں جہاں مسلم ملک نظر آے کوئی بھی نا چھوڑیں

عزیزامین
05-23-2012, 08:39 PM
مجھے پتہ ہوتا تو پوچھتا کیوں؟

عزیزامین
05-23-2012, 09:15 PM
تصاویر بھی ساتھ ہوں تو بہتر

عزیزامین
05-24-2012, 08:19 PM
جی ہاں دونوں ہی

عزیزامین
05-24-2012, 08:23 PM
کب تک یہاں ہی شروع کر دیں؟

عزیزامین
05-24-2012, 08:34 PM
شکریہ

عزیزامین
05-24-2012, 08:35 PM
رات تو ہو گی ہے؟

انجم رشید
05-25-2012, 08:37 AM
السلام علیکم ۔
یار عزیز یہ کیا بات ہوی خود ہی ایک ٹاپک شروع کرتے ہو خود کچھ نہیں لکھتے اگر انسان کا کوی شوق ہو تو انسان پہلے اس کے بارے میں معلومات لیتا ہے پھر ٹاپک شروع کرتا ہے آپ نے آج تک پرندوں کے بارے میں پوچھا لیکن کبھی خود کچھ نہیں بتایا کیسی بھی پرندے کے بارے میں اب کھانے کے بارے میں بھی دوسروں سے سننا چاہتے ہیں خود کچھ نہیں لکھ رہے حالنکہ میں نے خود کہا تھا کہ اچھا ٹاپک ہے اس پر سب لکھیں میں بھی بہت کچھ لکھ سکتا ہوں لیکن آپ بھی تو کچھ لکھیں ۔
شکریہ وسلام

تانیہ
05-25-2012, 12:39 PM
مسلم ممالک میں سب سے پہلے ہم اپنے پیارے وطن پاکستان کی بات کرینگے اور اسی کے کھانوں کے بارے بات چلے گی سب سے پہلے میری طرف سے اور جہاں تک اسکے پکوان کی بات ہے تو اسکے لیے الگ سے گوشہ خواتین میں بہت سے پاکستانی پکوان کی ریسیپیز شیئر کی گئی ہیں ۔۔۔وہاں ملاحظہ فرما سکتے ہیں فی الحال کچھ بات پاکستانی کھانوں کے بارے میں

عام طور سے یہ سمجھا جاتا ہے کہ پاکستانی کھانے مضر صحت ہوتے ہیں اس لئے اگر آپ تندرست وتوانا رہنا چاہتے ہیں اور طویل صحت سے بھرپور زندگی گزارنا چاہتے ہیں تو پاکستانی طرز کے بنے ہوئے کھانوں سے پرہیز کرنا ضروری ہے۔ بھنے مرغ کی بجائے اُبلا گوشت نوش جان کرلیجئے یا بریانی کی بجائے بھاپ میں پکی سبزیاں کھائے۔ صحت اور غذا سے متعلق بحث اور جستجو ہمارے عہد کا سب سے اہم موضوع ہے۔ اس کی ایک اہم وجہ یہ ہے کہ پاکستان میں غیر متوازن اور غیر صحت مند غذا کے سبب ان بیماریوں کی تعداد میں بہت اضافے ہونا ہے جو جان لیوا ہوسکتی ہیں۔ ذیابیطس کے مریض شرح فیصد کے اعتبار سے پاکستان میں بے حد زیادہ ہیں۔ اس طرح قلبی امراض میں بھی تیزی سے اضافے دیکھنے میں آرہا ہے۔


اگرچہ بہتر صحت کا انحصار محض صحت مند متوازن اور کم خوراک میں ہیں بلکہ اس کے لئے بہتر ماحول، آلودگی سے نجات، پرسکو ن فضا اور جسمانی ورزش بھی بے حد اہمیت رکھتی ہیں۔ لیکن غذاء چونکہ پاکستانی ثقافت اور سماجیت میں بنیادی حیثیت اختیار کرتی جارہی ہے اس لئے اس پر توجہ دینے کی ضرورت بھی شدت سے محسوس کی جاتی ہے۔

غذائیت کی شرح

زندگی میں ہم بعض غلطی فہمیوں کا شکار ہوسکتے ہیں۔ پاکستانی غذا کی بابت بھی عمومی رائے ایسی ہی غلطیوں کی بنیاد پر قائم ہوگیا ہے۔ یہ درست ہے کہ پاکستانی کھانوں میں گھی یا تیل کثرت سے استعمال ہوتا ہے لیکن مغربی غذاؤں میں بھی کریم، چاکلیٹ یا توانائی سے بھرپور دوسرے اجزاء وافر مقدار میں استعمال ہوتے ہیں۔ اس لئے بنیادی فرق یہ نہیں ہے کہ کھانے کیسے تیار کیا جاتا ہے بلکہ اس بات پر غور ہونا چاہیے کہ کسی کھانے میں شامل کئے گئے اجزاء میں غذائیت کی شرح کیا ہے۔ اگر اس سلسلہ میں تھوڑی سی تحقیق وجستجو کرلی جائے تو پاکستانی کھانوں کے بارے میں بہت سے غلط فہمیاں دور ہوسکتی ہیں۔
پاکستانی کھانوں کے بارے میں غیر صحت مند ہونے کا تاثر اس وجہ سے بھی قائم ہوا ہے کہ عام طور سے یہ سمجھ لیاگیا ہے کہ پاکستانی کھانوں کی غذائیت کا اندازہ نہیں کیا جاسکتا۔ یہ بات اس حد تک تو درست ہے کہ کسی ادارے یا محقق نے پاکستانی کھانوں کا تجزیہ کرکے ان کی غذائیت اور افادیت کے بارے میں کوئی جائزہ تیار نہیں کیا ہے جبکہ ترقی یافتہ دُنیا میں اکثر کھانوں کے بارے میں معلومات فراہم کردی جاتی ہے کہ اس کی کتنی مقدار کھانوں سے کتنی غذائیت حاصل ہوتی ہے۔

بنیادی اصول

صحت مند غذا کے حوالے سے بنیادی اُصول یہ ہے کہ ایک انسان 24 گھنٹوں کے دوران ایک خاص مقدار میں کیلوریز کھاسکتا ہے۔ عام طور سے ایک اوسط بالغ آدمی کے لئے یہ تعداد 2500 کیلوریز ہوتی ہے۔ اگر کوئی شخص یہ اہتمام کرسکے کہ کس کھانے میں کتنی کیلوریز ہوتی ہے تو آسانی سے یہ حساب رکھا جاسکتا ہے کہ کون سا کھانا کتنی مقدار میں کھانے سے انسانی جسم کی ضرورت پوری ہوجاتی ہے اور اس سے وافر کھانے کی صورت میں جسم کو غیر ضروری توانائی مہیا ہوتی ہے جو وزن میں اضافے اور متعدد عارضوں کا سبب بنتی ہے۔

اسی اُصول کو پیش رکھ کر مختلف پاکستانی کھانوں کی غذائیت کا چارٹ تیار کیا جائے۔ تاکہ عام شخص بھی یہ جان سکے کہ کس کھانے میں کتنی کیلوریز ہیں اور وہ ایک وقت میں کون سا کھانا کتنی مقدار میں نوش کرسکتا ہے۔ تاہم اس سلسلہ میں ہر شخص کو یہ زحمت ضرور کرنا ہوگی کہ وہ کھانے کی مقدار پر کنٹرول رکھیں۔ یعنی کھانا کھاتے وقت ہمیں یہ پتہ ہونا چاہئے کہ ہمارے کھانے کا وزن کتنا ہے اور بقدر کیلوریز اس کو کتنا ہونا چاہیے۔

یہ بھی درست ہے کہ متوازن غذا کے لئے ضروری ہے کہ اس میں گوشت، سبزی، دالوں، فروٹ وغیرہ کا تناسب بھی درست ہو۔ کیوں کہ قدرت نے مختلف غذاؤں میں مختلف صلاحیتیں رکھی ہیں جو انسانی جسم کے لئے ضروری ہیں۔ مثلاً گوشت سے پروٹین میسر ہوتی ہے جبکہ دال اور اناج سے کاربوہائیڈریڈ جسم کو ملتے ہیں۔ متوازن غذا کے لئے دونوں اقسام کی اشیاء کا کھانا ضروری ہے۔ لیکن اس سے بھی زیادہ اہم بات یہ ہے کہ کھانے کی مقدار پر کنٹرول کیا جائے۔ اگرچہ یہ ہمارے ثقافتی وسماجی رویے کے برعکس ہے لیکن جدید عہد میں صحت مند رہنے کے لئے ضروری ہے کہ کھانا وزن کرکے نوش کرنا شروع کیا جائے۔ اس اُصول کو اپنانے سے آپ ہر قسم کی خوراک لے سکتے ہیں لیکن اس کے ساتھ ہی جسم کو فراہم ہونے والی کیلوریز کو بھی کنٹرول کیا جاسکتا ہے۔

چارٹ

کیلوریز کا جو چاٹ تیار کیا گیاہے اس میں اس بات کو پیش نظر رکھا گیا ہے۔ کہ ہر کھانے میں شامل کئے گئے اجزاء کا وزن اور ان میں شامل کیلوریز کا حساب لگا کر مختلف پاکستانی کھانوں میں فی 100 گرام کیلوریز کا حساب لگایا ہے۔ اب اس کی روشنی میں اگر آپ اپنی خوراک کو محدود کرلیں تو آپ کو جس قدر کیلوریز کی ضرورت ہے آپ اسی مقدار میں کھانا لیں گے۔

اس سلسلہ میں یہ بات ذہن نشین رکھنا ضروری ہے کہ ہر قسم کے کھانے میں کیلوریز یا توانائی ہوتی ہے۔ خواہ وہ گھر میں کیاگیا ناشتہ ہو یا کسی دوست کے ہاں نوش کیا جانے والا لنچ یا پھر دفتر میں میٹنگ کے دوران کی جانے والی چائے کافی، بسکٹ اور دیگر اسنیکس وغیرہ۔ ایک عام غلطی یہ کی جاتی ہے کہ ہم صبح دوپہر شام کھانے کا حساب تو کرلیتے ہیں لیکن ان تینوں اوقات کے علاوہ تناول کی جانے والی اشیاء کو نظرانداز کردیتے ہیں۔ بعض اوقات یہ چھوٹے موٹے اسنیکس ڈنر یا لنچ سے بھی زیادہ کیلوریز سے لبریز ہوتے ہیں۔

عام اندازہ ہے کہ ایک شخص اپنی دن بھر کی کیلوریز کو دو ہزار تک محدود کرے تو اس کا وزن آہستہ آہستہ کم ہونا شروع ہوسکتا ہے۔ تاہم اگر کوئی شخص دیگر قسم کی ورزش بھی کرتا ہے تو اسی حساب سے اس کی کیلوریز کا کوٹہ بھی بڑھ جاتا ہے۔ لیکن یاد رہے ایک گھنٹہ ہلکی سے درمیانی نوعیت کی ورزش کے ذریعے آپ تین سے چار سو کیلوریز بھی ضائع کرپاتے ہیں۔ یعنی اگر آپ اوسط عمر، قد اور وزن کے عام شخص ہیں اور آپ روزانہ 2500 کیلوریز کی غذا لے سکتے ہیں تو ایک گھنٹہ ورزش کی صورت میں آپ ان میں 300 سے 400 کیلوریز پر مبنی غذا کا ہی اضافہ کرسکتے ہیں۔

تانیہ
05-25-2012, 12:52 PM
باقی جہاں تک پکوان کی بات ہے تو اتنا تو ایک عام شخص بھی جانتا ہے کہ کوئی بھی ملک ہو وہاں موسم ، تہوار اور مواقع کی مناسبت سے مختلف پکوان بنائے و کھائے جاتے ہیں جیسے ہمارے ادھر پاکستان میں گرمی کے موسم میں سبزیوں کے مختلف پکوان سردیوں میں گوشت و آئلی قسم کے پکوان پکوڑے سموسے وغیرہ اور اسی طرح عیدین کے لیے مختلف پکوان اور شادی بیاہ میں مختلف پکوان بنائے جاتے ہیں اس بارے ایک لمبی سی ڈسکشن ہو سکتی ہے اور یہ ڈسکشن صرف اس بات پر محدود نہیں کہ پاکستان میں ایک موسم میں کیا پکوان بنتے ہیں بلکہ اگر زیادہ گہرائی میں جائیں تو آپ دیکھیں گے کہ ایک ہی ملک میں مختلف علاقوں کے حساب سے بھی مختلف پکوان بنتے ہیں ۔۔۔امید ہے کہ تمام ساتھی اس بارے اپنا علم شیئر کرینگے بشمول عزیز امین جی ۔۔۔۔بہت شکریہ
اور ضروری نہیں کہ اپ پاکستان کے بارے ہی لکھیئے آپ جہاں رہتے ہو اور جس مسلم ملک کے پکوان کے بارے آپکے پاس علم ہو اپ شیئر کر سکتے ہیں ۔۔۔۔۔تو نیکسٹ کون؟:smiley-eatdrink020:

عزیزامین
05-25-2012, 08:01 PM
زبردست تحریر ہے شکریہ ۔مجھے خوشی ہے کسی بھی فورم کے ایسے پہلے لاجواب سلسلے پر جو کے بحثیت مسلم ہمارا اخلاقی فرض تھا۔ انجم رشید صاحب کیا سیکھنا جرم ہے؟

عزیزامین
05-28-2012, 08:05 PM
آگے والی پوسٹ نہیں کھل رہی

بےلگام
05-28-2012, 10:29 PM
کوشش کرو جناب

عزیزامین
05-29-2012, 08:58 PM
اگلی معلوماتی پوسٹ کب آے گی؟

نگار
05-30-2012, 06:31 PM
اس لڑی کی تو سمجھ ہی نہیں آئی کہ مسلم ممالک کے کھانے
ظاہر سی بات ہے کہ مسلمان جہاں بھی ہوں سب حلال ہی کھاتے ہیں
اور تمام کھانوں کا بادشاہ جو ہے
تو وہ ہے

مسٹر آلو
جس کو بعض لوگ اتنا کھا لیتے ہیں کہ غبارہ بن جاتے ہیں ۔ ھاھاھاھاھاھاھا

:smiley-eatdrink020: :smiley-eatdrink020: :smiley-eatdrink020: :smiley-eatdrink020:
:91: :91: :91: :91:

تانیہ
05-30-2012, 07:21 PM
جیسا کہ میں پہلے عرض کر چکی ہوں کہ مسلم ممالک کے پکوان خاص طور پہ پاکستانی پکوان کے اور انکے نام ، تراکیب کو جاننے کے لیے آپ خواتین سیکشن میں پکوان گھر کا حصہ وزٹ کر سکتے ہیں عزیز امین جی کی شروع کردہ اس لڑی میں ہم پوری تفصیل سے تمام کھانے اور انکے اجزاء و تراکیب نہیں لکھ سکتے ۔۔۔ہاں یہ بات ہے کہ یہاں صرف مسلم ممالک میں بننے والے اور کھائے جانے والے پکوان ، انکے نام ، علاقائی لحاظ سے ، موسمی لحاظ سے ، تہواروں کے لحاظ سے ، تقریبات کے لحاظ سے وغیرہ وغیرہ ڈسکس کر سکتے ہیں
ابھی ہم کچھ باتیں کرینگے مسلم ممالک میں سلیقہ طعام ، و آدابِ میزبانی

تہذیب کے مختلف پہلو ہوا کرتے ہیں ۔ایک زمانہ تھا کہ دستر خوان پر کھانے کے آداب ہوا کرتے تھے ۔ بچوں کو بتایا جاتا کہ پلیٹس کس طرح رکھی جاتی ہیں ، کھاتے وقت منہ سے آواز نہیں نکالتے ، انگلیاں سالن میں ڈبو کر نہیں کھاتے ‘ کھانا شروع کرنے سے قبل بسم اللہ پڑھتے ہیں وغیرہ وغیرہ ۔ اس کے علاوہ اور بھی کئی باتیں تھیں ۔ یہ کہنا زیادہ مناسب ہو گا کہ کھانے پینے کے آداب ایک مضمون کی حیثیت رکھتے تھے ۔ جسے سکھانے کی ذمہ داری گھر کے بزرگوں پہ عائد ہوتی ہیں لیکن اب وقت تبدیل ہو گیاسب کچھ بدل گیا دستر خوان کا تصور ختم ہو گیا لوگ کھڑے ہو کر بوفے کرنے لگے مغربی انداز طعام سامنے آگیا ہے ،
چھری کانٹے سے کھانے پینے کا رواج ہو گیا ہے عہد حاضر میں زندگی کے ہر پہلو وہر انداز میں تیزی سے تبدیلیاں پیدا کی ہیں اب مغربی طرز زندگی کی تقلید کرنے والوں کو معاشرہ مہذب و تعلیم یافتہ گردانتا ہے ۔ اس کی بھی ایک روایت ہے اور اسے مہذب بھی سمجھا جانے لگا ہے جو میز پر بیٹھ کر سلیقے سے کھانے کا ہنر جانتا ہو ۔ آج کل آپ کو درجنوں ایسے افراد دیکھائی دے جائیں گے جو ایسے مغربی انداز کو دیکھ کر بوکھلاہٹ کا شکار ہو جاتے ہیں اور الٹی سیدی حرکتیں کرنے لگتے ہیں ۔میں نے بہت سے مشہور لوگوں کی ایسی حرکتیں پڑی ہیں اور خود انکی زبانی سنی بھی ہیں
ایسے ہی لوگوں کے لئے یہ مضمون تحریر کیا گیا ہے اور کچھ مشورے دیئے ہیں کہ ان پر اگر عمل کیا جائے تو میز پر ہونے والی شرمندگی سے بچا جا سکتا ہے ۔ دعوت میں دو ہی قسم کی باتیں ہوتی ہیں ۔ یا تو آپ مہمان ہوتے ہیں یا پھر میزبان اور دونوں ہی صورتوں میں میز کے آداب ایک جیسے ہوا کرتے ہیں۔ چلیں میز کے عام آداب کے متعلق کچھ اہم باتیں بتاتے ہیں ۔
کھانا لگاتے وقت سب سے پہلا خیال یہ ہونا چاہیے کہ میز پر رکھا ہوا کھانا دیکھنے والوں کو بھلا لگے اور اس کی سجاوٹ ایک اچھا تاثر ڈالے ۔ علاوہ ازیں کھانے کی تمام چیزیں اس ترتیب اور اتنی مقدار میں سجائی جائیں کہ ہر فرد کی پہنچ ان تک آسانی سے ہوجائے۔ میزبان یا کھانا کھلانے کے ذمہ دار افراد کو کھانوں کے بارے میں بھر پور معلومات ہونی چاہئیں تا کہ اس سے اگر کسی کھانے کے بارے میں کوئی بات دریافت کی جائے تو وہ پورے اعتماد کے ساتھ اس کا جواب دے سکے۔
میز پوش بچھانے سے پہلے یہ خیال ضرور رکھا جائے کہ میز کے گرد تمام افراد باآسانی بیٹھ سکیں۔ اسی لحاظ سے تمام کر اکری مثلا پلیٹ ، ڈونگے ، قاب چمچ ، کانٹے، چھری، گلاس، جگ وغیرہ کو سجا دینا چاہیے تا کہ ہر فرد کے سامنے اس کی ضرورت کی شے پہلے سے موجود ہو اور جب کھانے کا آغاز کیا جائے تو کسی فرد کو کسی چیز کی کمی محسوس نہ ہوا اور نہ ہی افراتفری کا سماں پیدا ہو ۔ میز پوش صاف ڈھلے ہوئے اور استری شدہ ہونے چاہئیں ۔ میز پر ٹیبل میٹس بچھا دیئے جائیں جو بے حد خوش نما لگیں گے ۔ اگر میز کے درمیان تازہ گلدستہ سجادیا جائے تو اس کے پھلوں کی مہک ماحول کو خوشگوار بنا دے گی ۔البتہ یہ خیال رہے کہ گلدستہ اتنا بڑا نہ ہو کہ اس کے پھول پتے یا ٹہنیاں کھانے کے درمیان حائل ہوں نہ شرکا کے درمیان کے وہ ایک دوسرے کو دیکھنے سے محروم رہیں ۔ اگر کھانا رات کو پیش کیا جا رہا ہو تو شمع دان سے میز کی سجاوٹ دو بالا کی جا سکتی ہے ۔
میز پوش پر ہر نشست کے سامنے چھوٹی بڑی پلیٹیں ، چھری کانٹا ، گلاس اور چمچ اس طرح سجے ہوں کہ کوئی چیز ایک دوسرے سے نہ ٹکرائے اور نہ ہی کھانے والے کو کسی قسم کی دشواری محسوس و ۔ میٹھی ڈش اس وقت پیش کی جاتی ہے جب تمام لوگ کھانے سے فارغ ہو جائیں اور جھوٹے برتن اٹھا لئے جائیں ۔ میٹھی ڈش کھانے کے برتن اگر گنجائش ہو تو پہلے سے رکھ دیئے جائی ورنہ ڈش کے ساتھ ہی پیش کر دیئے جائیں ۔
جس فرد کے سپر دکھانا کھلانے کی ذمہ داری ہو اسے چاہیے کہ شرکا ء کی آمد سے قبل میز کا بھر پور جائزہ لے لگانے سے پہلے سجا دینا چاہیے ۔ اس کے بعد اچار ، چٹنیاں وغیرہ ۔ اگر سوپ یا جوس سے مہمانوں کی تواضع کرنا ہو تو ان کے نشستوں پر بیٹھنے کے ساتھ ہی یہ چیز پیش کر دی جائے تاکہ اسے پینے کے دوران بے تکلفی کا ماحول پیدا ہو جائے اور اگر شرکا ء ایک دوسرے سے متعارف نہ ہوں تو ان کا تعارف بھی کرا دیا جائے ۔
1۔۔۔ایسے کھانے جوہاتھ سے بآسانی کھائے جا سکتے ہیں ۔ انہیں انگلیوں کی پوروں سے اٹھا کر کھانے میں کوئی قباحت نہیں ہے ۔ آپ بڑے ٹکڑوں کو کئی چھوٹے ٹکڑوں میں تقسیم کر کے کھا سکتی ہیں اور اگر ہاتھوں کے لتھڑنے کا اندیشہ ہو تو چھری کانٹے کی مدد سے ٹکڑے کئے جا سکتے ہیں ۔
ایسے کھانوں کو فنگر فوڈز کہا جاتا ہے ۔ جیسے بریڈ ڈ کوکیز ڈ فرائز ڈ سینڈوچز ڈ چھوٹے پھل یا پنیر کے ٹکڑے وغیرہ ، یہ سب فنگر فوڈز ہیں جنہیں آپ محض انگلیوں کی پوروں کے زریعے کھا سکتے ہیں ۔
2۔۔۔ پورے کے پورے سینڈ وچ کو منہ میں نہ رکھیں چاہے ہو چھوٹا ہو یا بڑا اس کے ٹکڑے کر لیا کریں ۔
3۔۔۔چائے میں چینی ملاتے ہوئے اس چمچے کو استعمال نہ کریں جس کو آپ نے کیچپ یا سوپ وغیرہ کے لئے استعمال کیا ہے بلکہ چائے کے لئے علحیدہ چمچہ استعمال کریں اور چائے میں چینی حل کر لینے کے بعد اس چمچہ کو چائے کی طشتری میں رکھ دیں ۔
4۔۔۔ چائے اگر گرم ہو تو پھونکیں نہ ماریں بلکہ اسے ٹھنڈا ہونے کے لئے کچھ دیر رہنے دیں اور جب آپ کوئی بھی چیز پی رہی ہوں تو اس وقت سٹر سٹر نہ کریں ۔
5۔۔۔آپ جیسے ہی میز پر بیٹھ جائیں ۔ نیپکین اٹھا کر اس کی تہہ کھولیں اور اسے اپنی گود میں بچھا لیں ۔ نیپکین کو کالر کے اردگرد باندھنے کی کوشش نہ کریں ۔
6۔۔۔کھانا ختم کر لینے کے بعدویٹر سے کہیں کہ وہ آپ کے سامنے کی پلیٹیں اٹھالے اس کے بعد آپ نیپکین کو میز پر رکھ دیں ۔
7۔۔۔اگر آپ کو کھانے کے دوران کسی کام سے میز سے اٹھنا پڑ جائے تو نیپکین کو میز پر رکھ دیں یا پھر کرسی پر اس طرح رکھیں کہ اس کا آلودہ حصہ نیچے کی طرف ہو ۔
8۔۔۔ اگر کھانے کے دوران آپ سے نپکین چھوٹ کر فرش پر جا گرے تو اسے اٹھائیں نہیں بلکہ کھانا سرو کرنے والوں کو اشارہ کریں کہ وہ آپ کو دوسری نیپکین لا کر دے دیں ۔
9۔۔۔نیپکین کو بہت آہستگی سے اپنی گود میں بچائیں اور اس سے کبھی اپنا منہ صاف کرنے کی کوشش نہ کریں ۔
10۔۔۔ اگر کھانے کی کوئی ڈش آپ کی پہنچ سے دور ہے تو اپنا ہاتھ آگے بڑھا کر اسے اٹھانے کی کوشش نہ کریں بلکہ اس کے لیے ڈش کے قریب کسی شخص سے درخواست کریں کہ وہ آپ کو ڈش اٹھا کر دیدے ۔
11۔۔۔ اسی طرح اگر کوئی دور بیٹھا ہوا شخص آپ سے آپ کے قریب کی کوئی ڈش اٹھانے کو کہے تو ہاتھ بڑھا کر نہ دیں ۔بلکہ اپنے قریب کے کسی شخص کو دے دیں ۔ وہ اپنے قریب کے شخص کو دیدے گا اس طرح وہ ڈش اس شخص تک پہنچ جائے گی ۔
12۔۔۔اس کے علاوہ یہ بھی تہذیب کے خلاف ہے کہ جس شخص نے وہ ڈش مانگی ہے ۔ آپ پہلے اس میں سے اپنے لیے کچھ نکل لیں ۔ یا آپ نے جس کو آگے بڑھانے کے لیے دیا ہے ۔ وہ نکال لے بلکہ پہلا حق اس کا ہے جس نے وہ ڈش طلب کی ہے ۔
13۔۔۔ منہ میں اگر نوالہ بھرا ہوا ہو تو اس وقت بات نہ کریں اگر آپ کو چھینک یا کھانسی آرہی ہے تو منہ پر ہاتھ رکھ لیں ۔
14۔۔۔ اپنی کہنی میز پر نہ رکھیں ہاں اوپری بازو میز پر رکھا جا سکتا ہے ۔
15۔۔۔ اگر آپ اپنے منہ سے کوئی چیز باہر نکالنا چاہتے ہیں یا تھوک دینا چاہتے ہیں تو کانٹے کی مدد سے نکال کر اسے چھپا کر میز پر کسی پلیٹ میں رکھ دیں ۔
16۔۔۔ کانٹے اور چمچے کو استعمال کرنے کاصحیح طریقہ یہ ہے کہ اسے درمیانی انگلی کے پہلے جور میں پھنسا کر بیلنس کریں اور شہادت کی انگلی سے سہارا دیں ۔ جبکہ اس کے ہینڈل کوانگوٹھے سے متوازن کریں ۔
17۔۔۔ چھری کو استعمال کرنے کے لیے شہادت کی انگلی آہستگی سے اس طرح استعمال کی جاتی ہے کہ اس کی دھار اس چیز کو بآسانی کاٹ دے جس کو آپ کاٹنا چاہتے ہیں ۔
18۔۔۔ کانٹے کو اپنے بائیں ہاتھ میں اور چھری یا چمچے کو دائیں ہاتھ میں رکھیں ۔
اگر آپ کھانے سے فارغ ہو چکے ہیں اور مزید کھانے کی خواہش نہیں ہے ۔ تو چھری اور کاٹنے کو پلیٹ میں ایک دوسرے کے آمنے سامنے افقی انداز میں رکھ دیں ۔
19۔۔۔ اگر آپ سوپ پی رہے ہوں تو پورا چمچہ نہ بھریں بلکہ آدھا بھر کر اس کے کنارے سے سوپ پئیں اس طرح کی چمچہ آپ کے جسم سے فاصلے پر ہو۔
20۔۔۔ اگر ہاتھ دھونے کے لیے آپ کے سامنے پیالے میں پانی لا کر رکھا گیا ہے تو بہت آہستگی اور سلیقے سے اپنی انگلیاں اس میں ڈبو ئیں ور نیپکین سے پونچھ لیں ۔
21۔۔۔ اگر آپ کوکسی دعوت میں مدعو کیا گیا ہے تو وقت پر پہنچیں اور وقت پر رخصت ہوں اور اس وقت کا انتظار نہ کریں جب آپ کا میزبان اپنے تاثرات سے یہ ظاہر کرنے کی کوشش کرے کہ اب بہت دیر ہو گئی ہے آپ تشریف لے جائیں ۔
22۔۔۔اکثر اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ آپ کسی معزز اہم مہمان کو کسی ریستوران میں کھانے پر بلانا چاہتے ہیں ۔ اس وقت آپ کے ذہن میں بے شمار ہاں یا نہیں جیسی باتیں ہوتی ہیں جیسے کہ کیا کرنا چاہیے ، کیا نہیں کرنا چاہیے اس قسم کے اندیشے آپ کو پریشان کرتے رہتے ہیں ۔ اس کیلئے چند مفید مشورے درجہ ذیل ہیں ۔ ان پر دھیان دیں تو اس قسم کی کشمکش نہ ہو ۔
1۔۔۔ سب سے پہلے مرحلہ تو ریستوران کے انتخاب کا ہے ۔ ایسے ریستوان کا انتخاب کریں جہاں کے ذائقے اور سروس کے بارے میں آپ اچھی طرح جانتے ہوں دعوت کے برعکس اگر آپ کو کسی اہم شخصیت کے ساتھ میٹنگ کرنی ہو تو اس کے لیے ایسے ریستوران یا ہوٹل کا انتخاب کریں جہاں شور شرابا نہ ہو اور ماحول پر سکون رہے ۔
2۔۔۔ ایسی میٹنگ سے پہلے ریزرویشن ضرور کر وا لیں ورنہآپ پہنچ کر افراتفری کے شکار رہیں گے اور مہمان کو لے کر جگہ ڈھونڈتے رہیں گے ۔ بہتر ہے کہ مقررہ دن سے پہلے خود ریستوران میں جا کر ہال کا جائزہ لے لیں اور ریزرویشن کے وقت وہی جگہ حاصل کرنے کی درخواست کریں ۔
3۔۔۔ ریزرویشن کے بعد اپنے مہمان کو وقت اور جگہ بتا دیں اور اس سے یہ بھی کہہ دیں کہ آپ کے نام سے میز مخصوص ہو چکی ہے ۔
4۔۔۔آپ خود مقررہ وقت سے دس پندرہ منٹ پہلے پہنچ کر حالات کا اور انتظامات کاا چھی طرح جائزہ لیں ۔
5۔۔۔ اپنی کرسی پر بیٹھ کر ویٹر سے کہہ دیں کہ آپ کو فلاں مہمان کا انتظار ہے ( بہتر ہے کہ اس کا نام بتا دیں ) اور اس سے کہیں کہ وہ اس کے معزز مہمان کی رہنمائی کرتے ہوئے اسے میز تک لے آئے ۔
بہتر ہوگا کہآپ ویٹر کا نام معلوم کرکے اسے اس کے نام سے مخاطب کریں ۔ اس کا اثر بہت خوشگوار اور دوستانہ ہو گا ۔
6۔۔۔ آپ کو مہمان کے آنے کا انتظار ہے تو اس کے آنے تک آپ اپنے لیے کوئی مشروب منگوا سکتے ہیں۔
7۔۔۔ مینو کارڈ دیکھیں اور اس دن کی اگر کوئی خاص ڈش ہو تو اس کو ذہن میں رکھ لیں ۔
اگر ویٹر آپ کی میز کے قریب ہو تو اس کی موجودگی میں ذاتی نوعیت کی باتیں نہ کریں اور جب ویٹر آرڈر لے کر چلا جائے تو پھر ہلکے ہلکے موضوعات کے ساتھ گفتگو کا آغاز کریں ۔
8۔۔۔ بہتر یہ ہے کہ مینو کارڈ مہمان کے حوالے کردیں ۔ تا کہ وہ اپنی پسند کا انتخاب کر لے ۔ آپ صرف اس وقت مشورہ دیں اپنا موبائل فون وائبریٹر لگا دیں ۔
دعوت چاہے گھر میں ہو یا ہوٹل میں آپ کا لباس سادہ اور پروقار ہونا چاہیے ۔ رنگیلے اور بھڑک دار قسم کے لباس کسی پارٹی وغیرہ کے لیے بہتر ہو سکتے ہیں اور یہ کوئی پارٹی نہیں ہے ۔
ایک بات اور یاد رکھیں کہ مہمان کو مہمان کی حیثیت سے احترام دیں اگر وہ کچھ بول رہا ہو تو اس کی بات بھی دھیان سے سنیں۔
یہ سب ایسے مشورے ہیں ۔ جن پر آپ نے عمل کیا تو آپ کو ایک مہذب فرد اور ایک اچھا میزبان تصور کیا جائے گا ۔



بشکریہ اسری جبین

عزیزامین
05-30-2012, 07:48 PM
اس لڑی کی تو سمجھ ہی نہیں آئی کہ مسلم ممالک کے کھانے
ظاہر سی بات ہے کہ مسلمان جہاں بھی ہوں سب حلال ہی کھاتے ہیں
اور تمام کھانوں کا بادشاہ جو ہے
تو وہ ہے

مسٹر آلو
جس کو بعض لوگ اتنا کھا لیتے ہیں کہ غبارہ بن جاتے ہیں ۔ ھاھاھاھاھاھاھا

:smiley-eatdrink020: :smiley-eatdrink020: :smiley-eatdrink020: :smiley-eatdrink020:
:91: :91: :91: :91:
مطلب یہاں وہی کھنے ڈسکس ہوں گے جو مسلمان ممالک کا حصہ ہیں جیسے شوورما وغیرہ حلال تو چائینیز اٹالین بھی ہیں پر اس دھاگے پر انکی بات نہیں ہو گی امید ہے سمجھ آ گئی ہو گی