PDA

View Full Version : پاکستانی سیاست میں تکرارکا عنصر



تانیہ
05-18-2012, 04:46 PM
ٹی۔ ایس ایلیٹ نے کہا ہے کہ بعض لوگ محنت کے نتیجے میں صرف پسینہ پسینہ ہوکر رہ جاتے ہیں۔ ایلیٹ کی اس بات کا مطلب یہ ہے کہ محنت کسی نتیجے کے لیے کی جاتی ہے لیکن بعض لوگوں کی محنت سے پسینے کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ ایلیٹ کا یہ قول پاکستان کی سیاست پر پوری طرح منطبق ہوتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ پاکستان کی سیاست کولہو کے بیل کا منظر پیش کررہی ہے۔ کولہو کا بیل صبح سے شام تک سفرکرتا ہے۔ مگر اس کا سفر ایک دائرے میں ہوتا ہے چنانچہ وہ صبح سے شام تک چلتا ہے۔ تاہم اس کے باوجود کہیں نہیں پہنچ پاتا۔ لیکن بیل کی محنت سے تیل پیدا ہوتا ہے اس کے برعکس پاکستانی سیاست کی محنت سے صرف ’’تکرار‘‘ یا Repetition پیدا ہوتی ہے اور تکرار سے صرف پسینہ ہی نہیں کئی اور بلائیں بھی جنم لیتی ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ پاکستان کی سیاست کے تناظر میں تکرار کا مفہوم کیا ہے۔ اور اس سے ہماری سیاست میں کیا مسائل پیدا ہوتے ہیں؟۔ جنرل ایوب خان ملک کے پہلے فوجی آمر تھے۔ ان کا اصرار تھا کہ سیاست دانوں نے سیاسی عدم استحکام کو اس سطح پر پہنچا دیا ہے کہ ملک کی بقاء وسلامتی خطرے میں پڑگئی ہے چنانچہ فوج کو مجبوراً اقتدار سنبھالنا پڑا ہے۔ جنرل ایوب خان کی اس پوزیشن کو دیکھ کر خیال آتا تھا جنرل ایوب کا دور فوجی آمریت کا پہلا اور آخری دور ہوگا۔ لیکن یہ ایک خام خیالی تھی۔ جنرل ایوب کی فوجی آمریت سے ملک میں فوجی آمریت کی تکرار نمودار ہوئی۔ جنرل ایوب کے خلاف تحریک شروع ہوئی اور جنرل ایوب خود فوج کے لیے بوجھ بن گئے تو انہوں نے اقتدار ایک اور جرنیل جنرل یحییٰ کے حوالے کردیا۔ جنرل یحییٰ کے زمانے میں ملک دوٹکڑے ہوگیا لیکن یہ ہولناک تجربہ بھی ملک میں مارشل لا کی تکرار کی راہ نہ روک سکا اور جنرل یحییٰ کے بعد جنرل ضیاء الحق ملک کے سیاسی افق پر طلوع ہوگئے اور جنرل ضیاء الحق کے بعد جنرل پرویز مشرف کا عہد بھی ملک کا مقدر بن کر رہا۔ یہ ایک سطح پر چہروں کی تکرار تھی۔ دوسری سطح پر تجزیے کی تکرار تھی۔ تیسری سطح پر غلطی کی تکرار تھی۔ اس تکرار نے خود فوجی آمریت کے معیار کو پست سے پست تر کردیا۔ جنرل ایوب کی شخصی اہلیت فوجی آمروں میں سب سے زیادہ تھی۔ وہ امریکا کے وفادار تھے مگر انہیں اپنی عزت کا بھی خیال تھا چنانچہ انہوں نے ایک کتاب لکھ کر یہ بتانے کی کوشش کی کہ ہم امریکا کے دوست ہیں اس کے غلام نہیں ہیں۔ انہوں نے ملک چلانے کے لیے فوجی آمریت کی تاریخ کی بہترین کابینہ منتخب کی۔ انہوں نے ملک کی صنعتی ترقی کی بنیاد رکھی۔ جنرل ضیاء الحق کا دور بھی اگرچہ جنرل ایوب کی طرح دس سال پر محیط تھا اور ملک پر ان کی گرفت بھی مضبوط تھی لیکن جنرل ضیاء الحق کی شخصی اہلیت جنرل ایوب سے کم تھی۔ چنانچہ ان کے دور میں جنرل ایوب کے عہد سے کہیں زیادہ مسائل پیدا ہوئے۔ البتہ امریکا کے معاملے میں ان کا ریکارڈ جنرل ایوب سے بہتر تھا اور یہی بات ان کے طیارے کی تباہی کا سبب بن گئی۔ جنرل پرویزمشرف کا دور فوجی آمریت کے زوال کی انتہا تھا۔ جنرل ایوب امریکا کے سامنے سرجھکائے کھڑے تھے تو جنرل پرویز امریکا کے آگے سجدہ ریز تھے۔ جنرل ایوب کی کابینہ کو دس میں سے 7 اور جنرل ضیاء الحق کی کابینہ کو دس میں سے چھ نمبر دیے جائیں گے تو جنرل پرویزمشرف کی کابینہ دس میں چار نمبرون کی مستحق قرار پائے گی۔ جنرل ایوب اور جنرل ضیاء پر اعتراضات کی نوعیت اجتماعی تھی اور جنرل پرویز پر اعتراضات کی نوعیت بیشتر شخصی تھی۔ جنرل ایوب خان اور جنرل ضیاء الحق دونوں نے فوج کے ادارے کو بدنام کیا لیکن یہ ’’اعزاز‘‘ جنرل پرویز ہی کے حصے میں آیا کہ ان کے دور میں فوجیوں کو ہدایت کی گئی کہ وہ وردی پہن کر آبادیوں میں نہ جائیں۔ جنرل پرویز نے فوجی آمریت کو اتنا بدنام کیا کہ آصف علی زرداری کی پانچ سالہ تباہ کن حکومت بھی کسی نئی فوجی آمریت کی راہ ہموار نہیں کرسکی۔ فوجی آمروں کے ذکر خیر میں جنرل یحییٰ کے حوالے کی عدم موجودگی کا ایک سبب یہ ہے کہ جنرل یحییٰ کا دور اقتدار صرف تین سال ہے۔ ان کے ذکر سے گریز کی دوسری اور زیادہ بنیادی وجہ یہ ہے کہ ان کی شخصیت پر گفتگو صرف شخصی حوالوں ہی سے ممکن ہے۔ سول حکمرانوں میں بھی تکرار کے عنصر کو پوری طرح کارفرما دیکھا جاسکتا ہے۔ قائد اعظم کے بعد ملک میں ذوالفقار علی بھٹو کو جیسی پذیرائی حاصل ہوئی اس کی مثال نہیں ملتی۔ لیکن بھٹو صاحب کی سیاسی شخصیت فوجی آمریت کی ٹکسال سے برآمد ہوئی تھی۔ البتہ عالمی حالات پر ان کی نظرگہری تھی۔ وہ فن خطابت سے ایک حد تک آگاہ تھے۔ ان کا مطالعہ اچھا خاصا تھا۔ بھٹو صاحب کے بعد جو سول حکمران اقتدار میں آئے وہ بھٹو صاحب کے بنائے ہوئے دائرے کو توڑ کر نیا دائرہ نہ بنا سکے البتہ ان کا شخصی معیار سیاسی تجربے کی تکرار کی وجہ سے گرتا چلا گیا ہے۔ بے نظیر بھٹو ذوالفقار علی بھٹو کی بیٹی تھیں‘ اس کے سوا ان میں اور بھٹو صاحب میں کوئی قدر مشترک نہ تھی۔ میاں نواز شریف اگرچہ دائیں بازو کے سیاست دان ہیں مگر گہرائی میں تجزیہ کیا جائے تو وہ بے نظیربھٹو کے ’’جڑواں بھائی‘‘ نظر آتے ہیں۔ البتہ ان کی شخصی اہلیت بے نظیر بھٹو سے بھی کم ہے۔ بے نظیر بھٹو بہرحال سیاست دان ہونے کا تاثرہ دینے میں کامیاب تھیں لیکن میاں صاحب آج بھی تاجر زیادہ لگتے ہیں۔ سیاست دان کم محسوس ہوتے ہیں۔ آصف علی زرداری سیاسی تجربے کی تکرار کا تلخ ترین تجربہ ہیں۔ قومی سیاست میں ان کا درجہ میاں نوازشریف سے بھی کم ہے۔ میاں نواز شریف کم ازکم تاجر تو نظر آتے ہیں۔ مگر آصف علی زرداری کو تو تاجر بھی نہیں کہا جاسکتا۔ سوال یہ ہے کہ پاکستانی سیاست میں تکرار کا یہ عنصر کہاں سے آتا ہے؟ پاکستانی سیاست کا بنیادی مسئلہ مفاد پرستی ہے۔ فوجی آمر جس چیزکو ’’قومی مفاد‘‘ کہہ کر مارشل لا لگاتے رہے ہیں وہ اپنی اصل میں شخصی یا گروہی مفاد ہوتا ہے اور شخصی مفاد کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ دائیں اور بائیں بازو سیکولر اور مذہبی اور فوجی وغیرفوجی کے فرق کو مٹا کر سب کو ایک ہی سانچے میں ڈھال دیتا ہے۔ قرۃ العین حیدر نے اپنے ناول آخر شب کے ہمسفر میں بنگال کی کمیونسٹ تحریک کے آغاز اور انجام کا بے مثال مطالعہ پیش کیا ہے۔ انہوں نے دکھایا ہے کہ کمیونسٹ تحریک کے کارکن کے جوش وجذبے کے ساتھ دن رات ایک کیے ہوئے ہیں۔ وہ شہروں میں ہی نہیں جنگلوں میں بھی کام کررہے ہیں انقلاب کی آرزو نے مرد و زن کی تفریق کو فنا کردیا ہے۔ لیکن یہ کمیونسٹ تحریک کا آغاز ہے۔ اس تحریک کا انجام یہ ہے کہ ماضی کے انقلابی عام سیاست دان بن کر رہ گئے ہیں اور انہیں انقلاب کے بجائے وہ سب چیزیں عزیز ہوگئی ہیں جن کے خلاف وہ کبھی انقلاب برپا کرنا چاہتے تھے۔ تاریخ کا مطالعہ بتاتا ہے کہ یہ صرف عقیدے اور نظریے کی حکومت ہے جو سیاست ہی کو نہیں پوری زندگی کو تکرار کی بے معنویت‘ بدصورتی اور تھکا دینے والی یکسانیت سے نجات دلاتی ہے۔ پاکستان کی سیاست جب تک مفاد پرستی کے چنگل سے آزاد نہیں ہوگی اور خود کو عقیدے اور نظریے کی قوت اور حسن وجمال سے وابستہ نہیں کرے گی اس میں ایسے لوگ پیدا ہوتے رہیں گے جو دائیں بائیں کیا تذکیر وتانیث کے فرق کے باوجود ایک جیسے ہوں گے۔


شاہ نواز فاروقی

انجم رشید
05-22-2012, 08:13 PM
السلام علیکم ۔
پیاری بہن اس مفید مراسلے کا بہت بہت شکریہ

بےباک
05-23-2012, 01:22 AM
شکریہ ، اچھا مراسلہ شئیر کیا ،
حق لکھا گیا ہے ،