PDA

View Full Version : طالب علم کی خود کشی



شاہنواز
05-18-2012, 06:04 PM
آج ایک چھٹی کلاس کے طالب علم نے خود کو جلا ڈالا آخری معلومات کے مطابق اسکول کے استاد کے ناروا رویے سے تنگ آکر اس طالب علم نے خود سوزی کی کوشش کی لیکن استاد کا کہنا ہے کہ یہ غیرحاضر رہتا تھا جبکہ والدین کا کہتا ہے کہ روز اسکول جاتا تھا تو قصورکس کا یہ تو طالب علم کے ٹھیک ہونے پر ہی پتہ چلے گا کہ معاملہ کیا ہے میں پہلے ہی عرض کرچکا ہوں کہ جب تک ہم اپنے بچوں پر چیک اینڈ بیلنس نہیں رکھیں گے ایسے واقعات رونما ہوتے رہیں گے وجہ یہ ہے کہ ہم بچوں کو بھیج دیتے ہیں اور پھر ان کے بارے میں نہ تو اسکول سے معلوم کرتے ہیں کہ ہمارے بچے کی پروگریس کیسی جارہی ہے ہمارا بچہ اسکول روز اسکول آتا ہے کہ نہیں یہ سب ہمیں دیکھنا ہے ساری ذمہ داری استاد کی نہیں ہے لیکن اگر بچہ اسکول نہیں آرہا بغیر اطلاع کے تو یہ استاد کی بھی ذمہ داری ہے کہ بچے کے والدین سرپرست کو بلائے اور پوچھے کہ بھئی آپ کا بچہ اسکول نہیں آرہا یا پڑھائی میں ٹھیک نہیں جارہا ہے کیا وجہ ہے تاکہ اس کا سدباب کیا جاسکے اور اس طرح کے واقعات رونما ہونے سے روکا جاسکے

سیما
05-31-2012, 04:11 PM
http://jang.net/data/blog_images/5-30-2012_6952_l.JPG
…شفیق احمد……کس گھر میں بچے نہیں اور کہاں بچوں کو خراب کارکردگی پر ڈانٹا ڈپٹا نہیں جاتا، ماں باپ سے بہتر کسی بچے کا خیرخواہ کوئی اور ہوسکتا ہے؟ہر ماں باپ اپنی اولاد کو خود سے آگے دیکھنا چاہتے ہیں، مگر تمام والدین یہ بات اپنے بچوں کو صحیح طرح سمجھا نہیں پاتے، اس لیے کہ بچوں کی تعلیم و تربیت کی طرح ماں باپ کی تربیت کیلئے ہمارے یہاں کوئی ادارہ جو موجود نہیں، اس کام کیلئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جو شریعت لائے تھے وہی کافی تھی مگر سب اس راہ سے کوسوں دور ہیں، اس حوالے سے اساتذہ بھی اپنی ذمے داریاں مکمل طور پر ادا نہیں کررہے، تعلیم جو مذہبی فریضہ ہے محض تجارت بن گیا ہے اور تجارت کے ساتھ تاجر جو کرتے ہیں وہی طرزسرکاری اور نجی تعلیمی ادار وں کے اساتذہ و انتظامیہ کا تعلیم کے ساتھ ہے۔
اور ہوا یوں کہ ہر نیوز چینل پر ایک بچے کی خود سوزی کو بھرپور کوریج دی گئی، شہ سرخیوں کا حصہ بنایا گیا، کئی دن تک چلایا گیا، نتیجہ، مزید ایک بچے کی خودکشی، اس کے بعد شروعات ہوگئی۔
اس صورت حال میں یہ بات بھی بھلادی گئی کہ ماضی میں عراقی سابق صدرصدام حسین کی پھانسی کی ویڈیو بار بار دکھانے کے نتیجے میں ایک بچے نے اس کی نقل کرتے ہوئے اپنے آپ کو پھانسی لگا لی تھی۔ گھروں میں معصوم بچے ہر بات سے متاثر ہوتے ہیں، وہ وہی کرتے ہیں جو ان کے بڑے کرتے ہیں اور اب ان کے بڑوں میں ’ٹیلی ویژن‘ کا کردار بھی بے حد اہم ہے جسے تقریباً ہر گھر میں بچوں کے حوالے کردیا گیا ہے، بلکہ ایسے بھی گھرانے ہیں جہاں ٹیلی ویژن بچوں کے کمروں میں رکھوا دیا گیا ہے، یہ وقت ہے کہ ماں باپ فیصلہ کریں کہ انہیں کیا دکھانا ہے اور کیا نہیں،چاہے انہیں جتنی بھی دیگر مصروفیات درپیش ہوں۔ اس کے ساتھ میڈیا بھی اپنے لئے اس حوالے سے ضابطہ اخلاق نہ صرف ترتیب دے بلکہ اس پر عمل درآمد بھی یقینی بنانے کیلئے اقدامات اٹھائے۔ [/size][/color]