PDA

View Full Version : پتھر تھا مگر برف کے گالوں کی طرح تھا



گلاب خان
12-04-2010, 07:59 PM
پتھر تھا مگر برف کے گالوں کی طرح تھا
اک شخص اندھیروں میں اجالوں کی طرح تھا
خوابوں کی طرح تھا نہ خیالوں کی طرح تھا
وہ علم ریاضی کے سوالوں کی طرح تھا
الجھا ہوا ایسا کہ کبھی حل نہ ہو سکا
سلجھا ہوا ایسا کہ مثالوں کی طرح تھا
وہ مل تو گیا تھا مگر اپنا ہی مقدر
شطرنج کی الجھی ہوئی چالوں کی طرح تھا
وہ روح میں خوشبو کی طرح ہو گیا تحلیل
جو دور بہت چاند کے ہالوں کی طرح تھا

سقراط
12-11-2010, 11:11 PM
http://img690.imageshack.us/img690/5981/kiabat.gif
واہ گلاب بھائی بہادر شاہ ظفر کی شاعری پیش کی مزہ آگیا

گلاب خان
12-11-2010, 11:51 PM
شکریہ سقراط بھای

تانیہ
12-15-2010, 11:35 PM
واہ ...واہ...بہت خوب

کا کا سپاہی
12-26-2010, 10:07 PM
.بہت خوب .