PDA

View Full Version : میجر چودھری طفیل محمد شہید



علی عمران
11-23-2010, 12:26 PM
لگانےآگ جو آئے تھے آشیانے کو
وہ شعلے اپنے لہو سے بُجھا دئیے تم نے
بچا لیا ہے یتیمی سے کتنے پھولوں کو
سہاگ کتنی بہاروں کے رکھ لئے تم نے
تمہیں چمن کی فضائیں سلام کہتی ہیں
میجر محمد طفیل شہید کے والد کا نام چودھری موج الدین تھا۔ان کا خاندان موضع کھرکاں ضلع ہوشیار پور (بھارت) کا رہائشی تھا جو اپنی عبادت گزاری اور زہد و تقویٰ کے لئے دور دور تک مشہور تھا۔اس خاندان کی یہ صفت اس قدر زبان زدِ عام تھی کہ اپنی ریاضت و مجاہدہ کے باعث چودھری موج الدین دور و نزدیک“ صوفی صاحب“ کے نام سے جانے جاتے تھے۔دین اسلام پر سختی سے کاربند چودھری موج الدین کا پورا گھرانہ ایک دینی، علمی اور امن پسند خاندان کے طور پر جانا پہچانا جاتا تھا۔
چودھری موج الدین اپنے کاروباری معاملات کے سلسلے میں 1913 میں ہوشیار پر سے ضلع جالندھر کے گاؤں ساروبار چلے آئے جہاں 1914 میں 22 جولائی کی ایک خوبصورت اور روشن صبح کو میجر محمد طفیل شہید نے جنم لیا۔چودھری موج الدین نے اپنے نونہال کی ولادت پر ہی یہ محسوس کر لیا کہ یہ بچہ ایک خاص روح رکھتا ہے جو عام کاموں کی بجائے کسی خاص فرجِ منصبی کے لئے انسانی قلب میں جلوہ گر ہوئی ہے۔
میجر طفیل محمد شہید لکھنے پڑھنے کی عمر کو پہنچے تو ان کو شام چورائی کے مدرسے میں داخل کرا دیا گیا۔بڑی محنت اور ذہانت کے ساتھ انہوں نے یہاں سے میٹرک کا امتحان پاس کیا اور اعلٰی تعلیم کے لئے گورنمنٹ کالج جالندھر میں داخلہ لے لیا۔اس کالج سے انہوں نے ایف اے کا امتحان امتیازی نمبروں میں پاس کیا اور فوج میں جانے کا شوق ان کے لئے ایک ایسا ٹارگٹ بن گیا جس کو سر کرنے کے لئے وہ دن رات کوششوں میں لگ گئے۔یہ شوق ابھی اپنی منزلیں طے کرنے میں مصروف تھا کہ والدین نے ان کی شادی اپنے ہی خاندان میں ایک نیک صفت خاتون نیاز بی بی سے کر دی۔شادی ان کے شوق میں کوئی رکاوٹ کھڑی نہ کر سکی۔ وہ پوری تندہی سے فوج میں بھرتی کے لئے راستے تلاش کرتے رہے۔قدم بقدم آگے بڑھتے رہے اور آخر وہ دن آ گیا جب وہ فوج میں سپاہی کی حیثیت سے بھرتی ہو گئے۔
یہ 22 جولائی 1932 کا تاریخی دن تھا جب انہوں نے اپنے شوق کی تکمیل کے پہلے زینے پر قدم رکھا۔سپاہی سے ترقی کرتے کرتے وہ اپنی محنت اور وقت کی وفاداری کا دم بھرتے ہوئے جمعدار کے عہدے تک آن پہنچے۔
1940 میں ترقی کا ایک اور زینہ طے کر کے وہ صوبے دار کے عہدے پر پہنچے مگر یہ ان کی منزل نہیں تھی۔انہیں آگے، اور آگے بڑھنا تھا۔ان کی محنت شاقہ نے رنگ دکھایا اور ہمت مرداں مدد خدا کے مصداق میجر طفیل محمد شہید 1943 میں انڈین ملٹری اکیڈمی ڈیرہ دون سے باقاعدہ کمیشن حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ اب وہ سیکنڈ لیفٹیننٹ کے عہدے پر فائز تھے۔اس سے اگلہ مرحلہ فُل لیفٹیننٹ کا تھا اور یہ مرحلہ انہوں نے 11 نومبر 1944 کو طے کر لیا جب ان کے سینے پر آویزاں سٹارز میں ایک اور سٹار کا اضافہ ہوا اور ان کو فُل لیفٹیننٹ بنا دیا گیا۔میجر طفیل محمد شہید کے لئے زندگی نے ترقی کی شاہراہ پر ایک اور سنگِ میل نصب کر دیا۔
یہ بات اوراقِ صفات میں نمایاں ہے کہ میجر محمد طفیل شہید جہاں ایک ذمے دار اور کامیاب آفیسر تھے وہیں وہ ایک بے مثال، ذہین اور تجربہ کار انسٹرکٹر بھی تھے۔اپنی اس خداداد صلاحت سے انہوں نے اپنے شاگردوں کو اس طرح فیض یاب کیا کہ آج بھی ان کے تلامذہ ان کے کردار کے اس خوبصورت گوشے کو یاد کر کے آبدیدہ ہو جاتے ہیں۔اور اپنے استاد کو تشکر کے گوہر آبدار کا نذرانہ پیش کرتے ہیں۔
1945 میں ان کے ذمے ایک اور فرض لگایا گیا۔ ایک اور عہدہ ان کے حوالے کر دیا گیا۔انہیں ٹریننگ کیپٹن کی ذمہ داریاں تفویض کی گئیں۔
میجر طفیل محمد شہید نے یہ عظیم اور محنت و ہمت کی متقاضی ذمے داریاں سنبھالتے ہی اپنے دل و دماغ سے ٹریننگ کے وہ جدید، انوکھے اور دور رس نتائج کے حامل طریقے برآمد کئے جو آج بھی اپنی جدت اور افادیت کے لئے بے مثال مانے جاتے ہیں۔یہ کتنی بڑی بات ہے کہ ان کے وضع کردہ یہ نئے اور مفید طریقے آج بھی میجر طفیل محمد شہید کے نام نامی کی نسبت سے Tufail Methoods Of Training کے نام سے مشہور ہیں اور ان میں مزید راہیں تلاش کرنے کی کوشش کم ہی کامیاب ہوتی ہے۔ اس لئے کہ میجر محمد طفیل شہید کے وضع کردہ طریقوں میں اتنی جامعیت، اکملیت اور افادیت موجود ہے کہ انہوں نے ان میں اضافوں کے سارے راستے خود ہی پُر کر دئیے تھے۔
برِ صغیر کی تقسیم عمل میں آئی۔ 14 اگست 1947 کو پاکستان معرضِ وجود میں آ گیا۔ اس پُر آشوب دور میں کیپٹن محمد طفیل شہید کو ان کی شاندار خدمات کے اعتراف میں میجر کے عہدے پر ترقی دے دی گئی اور ان کے سینے پر ایک میڈل کا اور اضافہ ہو گیا۔
1948 ان کے لئے ایک اور ترقی کی نوید لے کر آیا۔انہیں سیکنڈ بٹالیں آف پنجاب رجمنٹ کا کمپنی کمانڈر مقرر کیا گیا۔یہ اعزاز ان کے لئے آگے بڑھنے کے لئے مہمیز کا کام کر گیا۔
یہ وہ دن تھے جب گلگت میں اسکاؤٹس کی تنظیمِ نو کی جا رہی تھی۔ ان کے کمانڈر نے ان کو اپنے آفس میں طلب کیا۔
“میجر ایک اہم ذمے داری تمہارے سپرد کی جا رہی ہے۔“کمانڈر نے ان کا سلیوٹ وصول کرتے ہوئے کہا۔
“آئی ایم آن مائی جاب سر۔“ میجر طفیل محمد شہید نے الرٹ ہو کر جواب دیا۔
“گلگت اسکاؤٹس کی تنظیمِ نو کی جا رہی ہے۔تمہیں سپر ویژن کے لئے بھیجا جا رہا ہے۔“
“میں حاضر ہوں سر۔“میجر محمد طفیل نے مستعدی سے جواب دیا۔
“تو ضروری تیاری کر لو۔“
“کب جانا ہو گا“ انہوں نے پوچھا۔
“پرسوں صبح“ کمانڈر نے کہا۔
“اوکے سر۔“ میجر نے اسی لہجے میں جواب دیا۔
“اوکے“ کمانڈر نے سلیوٹ کے لئے ہاتھ اٹھایا۔یہ عندیہ تھا اس بات کا کہ میجر طفیل محمد سے ملاقات ختم ہوئی۔
میجر محمد طفیل شہید تیسرے دن گلگت کے لئے روانہ ہو گئے۔ ان کو ملٹری کمانڈنٹ آفیسر بنا کر وہاں بھیجا گیا۔ اس رینک پر کام کرتے ہوئے انہوں نے گلگت میں چار سال گزارے اور وقت کی جہاندیدہ نظروں نے دیکھا کہ وہاں بھی انہوں نے اپنی محنت اور جدت طرازی کی دھاک کچھ اس طرح بٹھائی کہ چار سال بعد ان کو کمانڈنگ آفیسر سے آفیسرز ٹریننگ آفیسر کے رینک پر ترقی دے دی گئی۔
یہ اس زمانے کی بات ہے جب بھارتی حکومت اندر ہی اندر دو بھائیوں کو آپس میں لڑانے کے لئے سازشیں کر رہی تھی۔مشرقی اور مغربی پاکستان کو توڑ دینے کے لئے مقصد بردار جماعتوں کی تشکیل کر رہی تھی۔ایک ایسا ماحول پیدا کر رہی تھی جس میں مسلمان مسلمان کا دشمن بلکہ قاتل بن کر سامنے آنے والا تھا۔“حب الوطنی“ کا مطلب “ایک الگ ملک کا قیام اور اس سے وفاداری“ لیا جا رہا تھا۔مغربی پاکستان کو مشرقی پاکستان پر غاصبانہ قبضے کا ذمہ دار ٹھہرا کر زہریلا پروپیگنڈہ کیا جا رہا تھا۔بنگالیوں کو اسلحہ اور روپیہ دے کر اپنے ہی وطن کے دو ٹکڑے کر دینے پر اکسایا جا رہا تھا۔
جب بھارتی حکومت کے بھیجے ہوئے ایجنٹوں نے مشرقی پاکستان کو آتش فشاں بنا دیا۔تخریبی کاروائیاں روزانہ کا معمول بن گئیں۔ہر طرف آگ، خون اور دھماکوں کی فضا نے پر پھیلا دئیے تو مغربی پاکستان کی حکومت نے اپنی ذمے داریوں کو پورا کرنے کے لئے ضروری کاروائی کے لئے اقدام کیا۔یہ 1958 کا زمانہ تھا جس کے جلتے ہوئے صبح شام بلآخر دسمبر 1971 کی جنگ پر منتج ہوئے اور 1958 میں جس سازش، جس خون خوار ماحول نے جنم لیا تھا، وہ تیرہ سال بعد بنگلہ دیش کی صورت میں بھیانک رات بن کر چھا گیا۔
1958 کی ایک اداس صبح تھی جب میجر طفیل محمد شہید کو ایسٹ پاکستان رائفلز میں بھیج دیا گیا۔ایسٹ پاکستان رائفلز کا ہیڈ کوارٹر اکھوڑہ ضلع کومیلا میں تھا۔میجر محمد طفیل شہید کو یہاں ونگ کمانڈر کا عہدہ دے کر بھیجا گیا۔یہیں معرکہ لکشمی پور پیش آیا جس میں میجر طفیل محمد شہید نے بحیثیت کمانڈر اپنے جوانوں کی قیادت کی اور گھمسان کی ایک جنگ کے بعد انہوں نے اپنا تن من دھن پاکستان پر قربان کر دیا۔
شہادت ایک ایسا جذبہ ہے، ایک اعزاز ہے کہ جس کے لئے ہماری دلیر افواج کے دل میں ہمیشہ سے مثبت اور جوشیلے تصورات نے کروٹیں لی ہیں۔پاکستانی افواج نے دنیا بھر میں اپنی شجاعت کی وہ مثالیں قائم کی ہیں جن کی نظیر نہیں ملتی۔اسلامی تاریخ کی عظیم الشان روایات کے عین مطابق بے مثال جرات کے وہ مظاہرے کئے ہیں جنہوں نے ساری دنیا پر یہ واضح کر دیا کہ دشمن کا بہت زیادہ تعداد میں ہونا، اسلحے اور گولہ بارود سے لیس ہونا اس بات کی دلیل نہیں کہ وہ فتح یاب ہو جائے گا بلکہ مختصر ترین مسلمان نفری جس عظیم مقصد اور بے مثال جذبے سے سرشار ہو کر میدان میں اترتی ہے، وہ فتح کو اپنے قدموں میں جھکا لیتا ہے۔یہ اللہ تعالٰی کی رضا کا حصول اور شہادت کی آرزو ہے جو ہر مسلمان کے دل میں اندگی مقصد بن کر جنم لیتی ہے۔اس کے سائے میں وہ اپنے تصورات اور خیالات کو پروان چڑھاتا ہے اور اسی کی آبیاری اپنے خونِ جگر سے اس انداز میں کرتا ہے کہ بلآخر اس کے نخلِ حیات پر شہادت کا ثمر آ کر ہی رہتا ہے۔
تعلیماتِ اسلام میں جہاد،کفر و باطل سے جنگ اور جذبہ شہادت وہ مقام رکھتے ہیں ہیں جس کے بعد محض اللہ کی خوشنودی کی منزل آتی ہے اور یہ سب پاکستانی فوجیوں کے دلوں میں یوں رچا بسا ہے کہ پاکستان سے ان کی وفا داری،پاکستان کی حفاظت اور پاکستان پر کٹ مرنے کے لئے وہ کسی بھی وقت کوئی بھی محیر العقول کارنامہ سر انجام دینے میں ایک پل کی دیر نہیں لگاتے۔ہر پاکستانی اور خصوصاََ پاکستانی فوجی کی نظر میں پاکستان اسلام کا قلعہ ہے۔ وہ عظیم الشان مملکت ہے جو اللہ کے نام پر، اللہ کے قانون کی حکمرانی نافذ کرنے کے لئے معرضِ وجود میں* آئی۔کوئی بھی سستی، دیری اور صورتحال کی ناسازگاری اس مفہوم میں دراڑ پیدا نہیں کر سکی اور نہ کر سکے گی۔کل بھی اس وطن پر قربان ہونا جہاد تھا، آج بھی جہاد ہے اور کل بھی جہاد ہی رہے گا جس کی دو ہی منزلیں ہیں۔ غازی یا شہید!
ہم کتنے بھی لاپرواہ نظر آتے ہوں، بظاہر اس ملک کی طرف سے آنکھیں بند کئے ہوئے ہوں مگر ایک لفظ ایسا ہے جو اس ملک کے ساتھ جُڑا ہوا ہے اور اس کے لئے ہمارا بچہ بچہ جان دینے کے لئے خالی ہاتھ بھی گھر سے نکل آتا ہے اور وہ لفظ ہے “اسلام“ اسلام کے لئے مارے تن من دھن کل بھی نثار تھے، آج بھی ہمیں اسلام سے زیادہ کوئی شے عزیز نہیں ہے اور آنے والے کل میں بھی اسلام ہی ہمارا اوڑھنا بچھونا ہو گا انشاء اللہ۔ اسلام ہی وہ قوت ہے جو ہمارے مردہ تنوں میں کھولتا ہوا لہو دوڑا دیتی ہے۔ یہی ہمیں زندہ رکھتا ہے اور اسی پر مر مٹنے کے جذبوں نے ہمیں شہادت کا سبق پڑھایا ہے۔ جہاد اسلام کا وہ بنیادی رکن ہے جو ہمیں بُرے سے بُرے حالات میں بھی ایک راستے پر ڈال دیتا ہے۔ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کر لیتا ہے۔میجر طفیل محمد شہید ایسٹ پاکستان رائفلز میں ونگ کمانڈر کی حیثیت سے پہنچے تو یہ سب باتیں ان کو ازبر تھیں۔ان کے دل و دماغ پر نقش تھیں۔ ان کے رگ و پے میں خون کی طرح گردش کر رہی تھیںاور آنے والے وقتوں کا ہولناک پن ان کے ماتھے پر فکر مندی کی ایک لکیر بھی پیدا کرنے سے صرف اس لئے قاصر رہا کہ وہ وق کی باگ اپنے ہاتھ میں رکھنے والے اپنے بزرگانِ دین کے کردار سے بھی واقف تھے اور ان کی عسکری بصیرت بھی ان کے پیشِ نظر تھی۔وہ جانتے تھے کہ وہ حق پر ہیں۔ اللہ کی راہ میں ان کا ہر اٹھنے والا قدم ان کو غازی یا شہید کے رتبے سے قریب تر کر رہا ہے اور یہ وہ سعادت ہے جو بلند بختوں ہی کو ملا کرتی ہے۔ وہ خود کو ایسے ہی خوش نصیبوں میں رکھنا چاہتے تھے جن کے خون کا قطرہ زمین پر بعد میں گرتا ہے اور اللہ تعالٰی کی بارگاہ میں حضوری کا شرف پہلے حاصل ہو جاتا ہے۔ وہ سمجھتے تھے کہ اللہ نے ان کو اگر وطن کی حفاظتکا راستہ دکھایا ہے تو اس کی منزل بھی وہ خود ہی متعین کرنے والا ہے اور اللہ کی متعین کی ہوئی منزل سے زیادہ اچھی منزل اور کون سی ہو سکتی ہےِ؟
جس زمانے میں میجر طفیل محمد شہید ایسٹ پاکستان رائفلز کے ونگ کمانڈر ہو کر مشرقی پاکستان گئے وہ 1958 کا پُر آشوب دور تھا۔ بھارت کو ایک سال پہلے یعنی 1957 کا وہ زخم ابھی تک تکلیف دے رہا تھا جس کے درد میں ایک شرمناک شکست چھُپی ہوئی تھی۔
1957 میں پاکستان اور ہندوستان کی سرحدی جھڑپیں معمول کی بات بن چکی تھیں۔ آئے دن ک گولہ باری اور فائرنگ کا اس وقت سدِ باب کرنا ضروری ہو گیا جب جانی نقصان کا پلہ بھارت کی طرف بھاری ہو گیا۔ دونوں طرف کے فوجی افسران نے باہمی سوچ بچار کے بعد نئی سرحدی باڑ لگانے کا فیصلہ کیا۔ سابقہ تازہ ترین جھڑپ میں بھارتی علاقہ لکشمی پور پاکستان کے قبضے میں آ چکا تھا۔ یہ مشرقی پاکستان کے علاقہبہمن باڑیہ کا ایک سرحدی گاؤں تھا۔ نئی حد بندی کی گئی تو لکشمی پور مشرقی پاکستان کی حدود میں تسلیم کیا گیا۔
بظاہر ایک باہمی سمجھوتہ طے پا گیا۔ دونوں اطراف سے جھڑپوں کا سلسلہ رُک سا گیا مگر ہندو بنئیے کا ذہن مسلسل زہریلی سازشوں میں مصروف رہا۔اسے لکشمی پور سینے کے ناسور کی طرح لگتا تھا جس سے اٹھنے والی ٹیسیں اسے ایک بار پھر اشتعال انگیزی پر آمادہ کرنے لگیں۔ پھر آخر کار جب وہ رہ نہ سکا تو ایک رات اس نے بے خبری میں حملہ کر کے دوبارہ لکشمی پور پر قبضہ کر لیا۔ اس پر اپنا حق جتایا اور مجوزہ سومجھوتے سے کی صریحاََ خلاف ورزی کرتے ہوئے ہٹ دھرمی پر اڑ گیا۔ اس کا کہنا تھا کہ لکشمی پور کل بھی بھارت کا تھا اور آج بھی بھارت کا ہے۔ پاکستان نے اس پر زبردستی قبضہ کر لیا تھا۔ ہم نے تو اس علاقے کو پاکستانی قبضے سے آزاد کروایا ہے۔
جب اس ے مجوزہ اور مبینہ سمجھوتے کی یاد دلائی گئی تو وہ اس کے وجود سے ہی مکر گیا۔ امن پسند پاکستانی حکومت نے بھارت سے لکشمی پور خالی کرنے کو کہا تو بھارت سرکار نے اس مطالبے کو ردی کی ٹوکری میں ڈال دیا اور اپنی مرغے کی ایک ٹانگ پر ہی مُصر رہا۔
فوجی حکام نے اس صورت حال کا بڑی گہری نظر سے جائزہ لیا۔یہ آسانی سے نظر انداز کر دینے والا معاملہ نہیں تھا۔ اگر ایسی باتوں کو اہمیت نہ دی جاتی تو دشمن کا حوصلہ بڑھ جاتا اور کل کلاں کو ایسی ہی دیگر حرکت کا مرتکب ہونے میں دیر نہ لگاتا اور پھر ایسی مکروہ کاروائیوں کو اپنا حق سمجھ کر آئے دن طوفان اٹھاتا رہتا۔
ایک اور بات بھی یاد رکھنے کے قابل ہے کہ مسلمان کٹ مرتا ہے مگر اپنے حق سے ناجائز طور پر دستبردار ہونا اسے تذلیل لگتی ہے۔ہاں اپنی رضا سے دوسرے کو کچھ دے دے تو اور بات ہے مگر یہ بات انفرادی سطح پر ممکن ہے۔اجتماعی اور ملکی سطح پر کسی کو یہ حق نہیں پہنچتا، نہ اس پر عمل کیا جا سکتا ہے کہ کوئی شخص ملکی مفادات کو اپنے انفرادی احساسات کی بھینٹ چڑھا دے۔فوجی حکام تو اس معاملے پر جتنا سوچتے جاتے ان کا رواں رواں سلگتا جاتا تھا۔دشمن کی ہٹ دھرمی ان کے حلق سے نہ اترتی تھی۔ کس بُرے طریقے سے وہ اپنے عہد کو توڑ کر بے شرمی پر اتر آیا تھا۔ اگر وہ اس بات کا جواب نہ دیتے تو اس کی ان شرانگیزیوں کو مزید شہہ مل جاتی جو وہ اندر ہی اندر بنگالیوں کو اکسانے کے سلسلے میں انجام دے رہا تھا۔مشرقی پاکستان کے حالات اس وقت اتنے بُرے نہ تھے جو تیرہ سال بعد ہو گئے پھر بھی فوجی نقطہ نظر سے یہ معمولی بات نہ تھی۔ اس علاقے کو واپس لینا بے حد ضروری تھا۔ سرحدی گاؤں ہونے کی حیثیت سے لکشمی پور کی اہمیت دو چند تھی جسے نظر انداز نہ کیا جا سکتا تھا۔
بریگیڈیئرصاحب داد اس علاقے کے جی او سی تھے۔انہوں نے ایک ایمرجنسی میٹنگ کال کی۔ وہاں ساری صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔میٹنگ میں اہم ترین فیصلے کئے گئے۔ وہیں بریگیڈیئر صاحب نے پتہ کروایا تو پتہ چلا کہ میجر طفیل محمد شہید اس وقت ضلع سلہٹ میں تعینات ہیں۔ بریگیڈیئر صاحب نے فوری طور پر ان کو سلہٹ سے اپنے پاس بلوا لیا۔
دوسرے دن بریگیڈیئر صاحب نے دوسرے فوجی افسران کے ساتھ اس علاقے کا دورہ کیا۔ ساری صورتحال کا جائزہ لیا اور جو کچھ اس دورے کی رپورٹ کے طور پر سامنے آیا وہ یہ تھا کی بھارتی فوج لکشمی پور کے علاقے میں ایک اونچے ٹیلے پر قابض تھی جس کے وسیع و عریض رقبے میں چوروں طرف بھارتی سپاہیوں نے مارٹر گنیں فٹ کر رکھی تھیں۔
“بھارتی فوجیوں کی تعداد کس قدر معلوم ہوتی ہے؟“ بریگیڈیئر صاحب داد نے سوال کیا۔
“ہمارے فوجی دستے سے کئی گنا زیادہ ہے سر۔“میجر طفیل محمد شہید نے جواب دیا۔
“اور ان کے دفاعی مورچے؟“
“وہ بھی ہمارے مورچوں سے کافی زیادہ ہیں سر، سمجھ لیجئے ایک اور چار کا مقابلہ ہے۔“
“کچھ بھی ہو۔ ہمیں ہر صورت میں لکشمی پور کو دشمن کے قبضے سے آزاد کروانا ہے۔ تم اس علاقے کی اہمیت سے بخوبی واقف ہو میجر۔“بریگیڈیئر نے فیصلہ کُن لہجے میں کہا۔
“ یس سر۔“ میجر طفیل محمد شہید نے مستعدی سے جواب دیا۔
“تمہیں اس آپریشن کا کمانڈر مقرر کیا جاتا ہے۔ یہ معرکہ تم سر کرو گے۔مجھے ہر حال میں لکشمی پور واپس چاہیے۔“ بریگیڈیئر صاحب نے دبنگ لہجے میں کہا۔
“یس سر“ میجر طفیل محمد شہید کا چہرہ تمتما اٹھا۔
“دشمن مکار بھی ہے اور تعداد میں زیادہ بھی۔“
“جانتا ہوں سر۔ اللہ ہمارے ساتھ ہے!“میجر طفیل محمد شہید کے لہجے میں عزم اور یقین کی قندیلیں جھلملا اٹھیں۔
“اور ہماری دعائیں بھی۔ الہ تمہیں کامران و کامیاب کرے گا میجر۔“
بریگیڈیئر صاحب نے سر کو ہلکا سا خم کیا۔
“یس سر“ میجر طفیل محمد شہید نے کھٹاک سلیوٹ کیا اور اپنی* ڈیوٹی پر چلے آئے۔
انہوں نے ایک بار پھر علاقے کا بھرپور جائزہ لیا۔ اپنی اور دشمن کی طاقت کا اندازہ لگایا۔ اپنے جوانوں کو دستے کی شکل میں میدان میں جمع کیا اور ان کی گرجدار آواز فضا میں آتش فشانی کرنے لگی۔
“میں بھی دیکھ رہا ہوں اور تم بھی جانتے ہو کہ دشمن ہم لوگوں سے تعداد میں کئی گنا زیادہ ہے۔اس کے پاس جدید اسلحہ بھی وافر مقدار میں موجود ہے۔اسے اپنی طاقت کا گھمنڈ بھی ہے اور اس کے پاس اس گھمنڈ کا جواز بھی موجود ہے مگر اس کے پاس ایک چیز نایاب ہے “جذبہ“ جذبہ شہادت اور اللہ تعالٰی کی مدد پر یقین کامل جو ہمارے پاس اس قدر وافر ہے کہ دشمن خواب میں بھی نہیں سوچ سکتا۔“
میجر طفیل محمد شہید نے رُک کر ایک طائرانہ نطر اپنے فوجی دستے کے جوانوں پر ڈالی۔
ہر جوان کا چہرہ شدت جذبات سے سُرخ ہو رہا تھا۔ ہر آنکھ میں لہو کی لالی بڑھتی جا رہی تھی۔ ہر سینہ اپنے اللہ کی مدد کے خیال ہی سے پھولا جا رہا تھا۔
“دوستو!“ انہوں نے اپنی بات کا سلسلہ جوڑتے ہوئے کہا۔
“وقت بے حد نازک ہے۔ ہمیں یہ جانتے ہوئے کہ دشمن تعداد، قوت اور ہتھیاروں کے معاملے میں ہم سے بہت زیادہ ہے، اللہ کے نام پر اپنے وطن کی حفاظت کے لئے لڑنا ہے۔لڑنا ہی نہیں، مرناہے یا مار دینا ہے۔دشمن کو بتا دینا ہے کہ مسلمان نہ کفر کی تعداد سے خوفزدہ ہوتا ہے نہ اسلحے کے انباروں سے۔اسے صرف اور صرف اپنے اللہ کی مدد اور اس کے بخشے ہوئے جذبہ شہادت پر بھروسہ ہوتا ہے۔یہی اس کی قوت ہے اور یہی اس کا ہتھیار۔ میں اس جان دینے اور جان لینے کے اٹل لمحات میں صاف صاف بات کرنا چاہوں گا کہ مجھے اس وقت تم میں سے صرف اور صرف ان جان نثاروں، ان رضاکاروں اور جاں فروشوں کی ضرورت ہے جو دین اسلام، اپنے وطن پاکستان کی آبرو، حفاظت اور وقار کے لئے خود کو قربان کرنے کے انمول جذبے سے سرشار ہوں۔“
میجر طفیل محمد شہید ایک پل کو رکے اور اپنے جوانوں کو بے تاب دیکھ کر ان کی آنکھوں کی چمک اور بڑھ گئی۔ اپنے جذبات کو بمشکل قابو میں رکھتے ہوئے انہوں نے آخر میں کہا۔
“جوانو!
مجھے تم میں سے ہر ایک جذبہ حب الوطنی اور شوقِ شہادت میں سرشار نظر آ رہا ہے۔ پھر بھی میں تم لوگوں کے سامنے ایک کھلی پیشکش رکھتا ہوں۔ جو لوگ وطن پر جان دینے کے لئے ذہنی اور دلی طور پر تیار ہوں، بخوشی آمادہ ہوں، دشمن کو نیست و نابود کرنے کے لئے اس سے ٹکرانے کو تیار ہوں آگے آ جائیں۔“
اور
چشمِ فلک نے ایک ایسا نظارہ دیکھا جس کے بعد اس نے اپنی حیرت کو دو چند محسوس کیا۔ فجا کا سانس رک گیا۔جذبے جھوم اٹھے۔ تاریخ نے انگڑائی لی اور زمین کا دل دھڑک اٹھا۔
پورے کا پورا دستہ اپنی جگہ سے آگے بڑھ آیا تھا۔
میجر طفیل محمد شہید کا دل جذبات سے معمور ہو گیا۔تشکر بری نگاہیں آسمان کی طرف اٹھیں کہ ان کے دستے میں ایک بھی بزدل، مفاد پرست، خود غرض اور ابن الوقت جوان نہ تھا۔ سب کے سب اللہ اور پاکستان پر نثار ہونے کے انمول جذبے سے سرشار تھے۔
“الحمداللہ“ ان کے ہونٹوں سے بے اختیار نکلا۔اللہ نے ان کے یقین اور اعتماد کی لاج رکھ لی تھی۔
میجر طفیل محمد شہید نے ایک پل کی دیر مناسب نہ سمجھی۔ انہوں نے ضروری انتظامات کے بعد اپنے دستے کے جوانوں کو تین حصوں میں تقسیم کیا۔ ہر حصے میں پچیس جوان آئے۔ کل 75 جوان تھے جو سر پر کفن باندھے ان کے ساتھ اس معرکہ میں ھصہ لینے کے لئے سینہ تانے کھڑے تھے۔
پہلے دستے کے 25 جوانوں کو مخاطب کرتے ہوئے انہوں نے حکم دیا۔
“تم دائیں طرف سے دشمن کے ٹیلے پر حملہ کرو گے۔“
دوسرے دستے کے 25 جوانوں سے مخاطب ہو کر کہا۔
“تم بائیں طرف سے دشمن پر حملہ کرو گے۔“
تیسرے دستے کے 25 جوانوں کو اپنی کمان میں لیا اور کہا۔
“ہم لوگ دشمن پر عقب سے حملہ کریں گے۔“
تیوں چھوٹے چھوٹے دستے اپنی کاروائیوں کے لئے لیس ہونے لگے۔
“سر دشمن پر حملہ کب کرنا ہو گا؟“ ان کے دستے کے ایک جوان نے بے تابی سے پوچھا۔
“کیوں؟“ میجر محمد طفیل نے اس کی طرف دیکھا۔“تم کیوں پوچھ رہے ہو؟“
“حملہ ابھی کیوں نہ کر دیا جائے سر؟“جوان کی آواز میں شعلے کی سی لپک تھی۔
“تمہارا جذبہ قابلِ قدر ہے جوان۔“میجر محمد طفیل شہید نے اسے تعریف نظروں سے دیکھا“ مگر حملے کے لئے رات کا وقت موزوں رہے گا۔“
“یس سر“ جوان کی آواز میں مجبوری جھلک رہی تھی۔ وہ لڑنے مرنے اور دشمن کونیست و نابود کر دینے کے لئے اس قدر بے چین ہو رہا تھا کہ اس کے لئے رات کا انتظار مشکل ہو رہا تھا۔
“میں سمجھتا ہوں جان۔“ میجر طفیل محمد شہید نے اس کا شانہ تھپکا۔“مگر ہر کام وقت پر کیا جائے، یہی بہتر ہے۔“
“یس سر“ جوان نے سلیوٹ کیا اور لوٹ گیا۔
میجر طفیل محمد شہید اس جذبہ جہاد سے چھلکتے ہوئے جوان کو جاتا ہوا دیکھتے رہے۔ ان کے لبوں پر بڑی جاندار مسکراہٹ تھی جو اس بات کی غماز تھی کہ انہیں اپنی فتح پر اسی قدر یقین تھا جس قدر اللہ کی مدد کے وعدے پر۔
اسی دن انہوں نے اپنے اردلی کو حکم دیا۔
“نائب جمعدار محمد اعظم کو میرا سلام بولو۔“
چند لمحوں کے بعد نائب جمعدار محمد اعظم نے ان کے سامنے حاضر ہو کر سلیوٹ کیا۔
محمد اعظم نے چونک کر کہا۔“ ایک بات کہنا چاہتا ہوں سر۔“
“کہو“
“ اگر آپ میری درخواست قبول کریں تو اپنی جگہ مجھے جانے دیں سر۔“
“وہ کیوں محمد اعظم؟“ میجر صاحب نے حیرت سے پوچھا۔
“ آپ ایک بے حد انمول آفیسر ہیں سر۔“ محمد آعظم نے جواب دیا۔
“فوج کو ابھی آپ کی کمان کی ضرورت ہے۔ آپ یہاں موجود رہیے۔مجھے جانے دیجئے۔ اپنے ذمے آپ نے جو ڈیوٹی لی ہے میں اسے پوری ذمے داری سے ادا کروں گا۔“
“مجھے یقین ہے محمد اعظم کہ تم اپنی ڈیوٹی ادا کرنے میں قطعاََ کسی غیر ذمہ داری کا مظاہرہ نہ کرو گے۔“ میجر طفیل محمد شہید نے اسے گہری نظروں سے دیکھ کر کہا۔“ مگر میرے ایک سوال کا جواب دو؟“
“یس سر۔“ محمد اعظم نے کڑک دار آواز میں کہا۔
“ کیا کبھی کسی کے چلے جانے سے کوئی کام رُکا ہے؟“
“نو سر“
“ تو مجھے کیوں روکتے ہو۔ کیا میری جگہ کوئی دوسرا طفیل محمد نہیں آ جائے گا؟“
“ضرور آ جائے گا سر مگر“
“تم ڈرتے ہو کہ میں شہید ہو جاؤں گا۔“ انہوں نے محمد اعظم کی بات پوری کر دی۔
“ یس سر“ بے ساختہ محمد اعظم کے لبوں سے نکلا۔
“ اور اگر تم میری جگہ جا کر شہید ہو گئے تو کیا میں اس سعادت سے محروم نہ رہ جاؤں گا؟“
“ سر“ محمد اعظم کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔
“ محمد اعظم“ میجر طفیل محمد شہید نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ دیا۔ “ میں تمہارے جذبات کی قدر کرتا ہوں مگر اس سعادت سے جان بوجھ کر محروم رہ جاؤں، یہ مجھے منظور نہیں۔ میرے بعد میرے نائب کے طور پر کام کرو گے۔ اپنے*ذمے داری کا خیال رکھنا۔“
“ یس سر“ محمد اعظم کی آواز بھیگ گئی۔ میجر طفیل محمد شہید نے اس کا شانہ تھپ تھپایا اور باہر نکل گئے۔ آنسو ڈھلک کر محمد اعظم کے رخساروں پر آ چکے تھے۔
میجر طفیل محمد شہید نے بریگیڈیئر صاحب داد کے سامنے منصوبے کی تفصیلات رکھیں۔
“ میں نے پلان کیا ہے سر کہ رات کے اندھیرے میں اچانک دشمن پر حملہ کیا جائے۔“
“ویری گڈ“ بریگیڈیئر صاحب نے ان کے پلان سے آگاہ ہونے کے بعد تعریفی لہجے میں کہا۔ “تیاری مکمل ہے کیا؟“
“یس سر“ میجر طفیل محمد شہید نے پلان کے نقشے پر دو تین جگہوں کی نشان دہی کرتے ہوئے کہا۔“ دونوں دستے دائیں اور بائیں سے اور میں تیسرے دستے کے ساتھ عقے سے دشمن پر حملہ آور ہوں گا۔“
“ تم لوگوں کی نفری بہت کم ہے میجر۔“ بریگیڈیئر نے تشویش سے کہا۔
“اللہ کی مدد شامل حال رہی تو بہت ہے سر۔ اس سے زیادہ نفری کی ہمارے پاس گنجائش بھی نہیں۔“
“ اللہ تعالٰی تم لوگوں کو فتح یاب کرے میجر۔“ بریگیڈیئر صاحب نے اثبات میں سر ہلاتے ہوئے کہا۔ “ تم نے دشمن کے عقب میں پہنچنے کے لئے کون سا راستہ منتخب کیا ہے؟“
“ میں سرِ شام اپنے جوانوں کے ساتھ اکھوڑ سٹیشن چلا جاؤں گا سر۔ وہاں سے رات کو ٹرین کے ذریعے لکشمی پور سے ڈیڑھ دو میل کے فاصلے پر عقبی علاقے میں جا اتروں گا۔۔ پھر مقررہ وقت پر تینوں دستے دشمن پر ایک ساتھ حملہ کریں گے۔“
“ پلان تو بے حد مکمل ہے میجر۔“ بریگیڈیئر صاحب نے خوب غور کرنے کے بعد جواب دیا۔“ اوکے ڈن“ انہوں نے منظوری دے دی۔
اسی شام میجر طفیل محمد شہید نے اپنے دستے کے 25 جوان ساتھ لئے اور اکھوڑ سٹیشن کی طرف روانہ ہو گئے۔ باقی دونوں دستے جن کو دشمن پر دائیں اور بائیں سے آگے بڑھنے لگے۔میجر طفیل محمد شہید اپنے دستے کے ساتھ خفیہ طور پر ایک ٹرین پر سوار ہوئے اور لکشمی پور سے دو میل پہلے اتر گئے۔ یہ لکشمی پور کا عقبی علاقہ تھا۔
خاموش رات کے سینے پر سفر کرتے ہوئے میجر طفیل محمد شہید اپنے جوانوں کے ساتھ آگے بڑھ رہے تھے۔ وہ جانتے تھے کہ جس ٹیلے پر دشمن نے مورچے بنا رکھے ہیں وہاں دیگر اسلحے کے ساتھ ان لوگوں نے مارٹر گنیں بھی نصب کر رکھی ہیں جن کا توڑ بظاہر میجر طفیل محمد شہید کے پاس کوئی نہ تھا۔ہاں اللہ کی مدد پر بھروسہ ضرور تھا جس کے سہارے وہ اس بے سروسامانی کے عالم میں دشمن پر حملہ کرنے نکل پڑے تھے۔
رات کا دوسرا پہر گزر چکا تھا جب میجر طفیل محمد شہید اپنے جوانوں کے ساتھ دشمن کے عقب میں اس کے اس قدر نزدیک پہنچ گئے کہ ان کے کانوں میں بھارتی فوجیوں کے باتیں کرنے کی آوازیں بھی آ رہی تھیں۔ دشمن کتنا بھی طاقت ور ہو، اگر وہ چوکنا نہ ہو تو مار کھا جاتا ہے۔ بھارتی فوجی اتنے بھی لاپرواہ نہیں تھے کہ وہ رات سو کر گزار دیتے۔ انہوں نے پہرے پر فوجی سپاہی مقرر کر رکھے تھے ان میں سے ایک کی نظر اچانک میجر طفیل محمد شہید اور ان کے ساتھیوں پر پڑ گئی۔ اس نے فوراََ شور مچا کر اپنے لوگوں کو آگاہ کر دیا۔
جونہی میجر طفیل محمد شہید کو علم ہوا کہ دشمن ان کی آمد سے با خبر ہو چکا ہے انہوں نے ساری احتیاط بالائے طاق رکھی اور بے ساختہ لبوں سے گرجدار آواز نکلی۔
“نعرہ تکبیر۔“
“ اللہ اکبر“ ساتھیوں نے بیک آواز جواب دیا تو سارا علاقہ دہل اٹھا۔ اس کے ساتھ ہی بھارتی فوجیوں نے ان پر فائر کھول دیا۔ گولیاں ایک تواتر کے ساتھ میجر طفیل محمد شہید اور ان کے جوانوں پر برسنے لگیں۔ میجر صاحب سب سے آگے تھے۔ اچانک فائرنگ شروع ہوئی تو سب سے پہلے وہ اس کی زد میں آ گئے۔ یکے بعد دیگرے تین گولیاں ان کے سینے میں پیوست ہوئیں۔ وہ ذرا سا لڑکھڑائے۔ پھر سنبھل گئے۔ اگر وہ ذرا بھی کمزوری کا مظاہرہ کرتے تو ان کے جوانوں کے حوصلے میں نقب لگ جاتی۔ انہوں نے اپنے اللہ کو یاد کیا اور پامردی سے قدم*آگے بڑھا دیا۔ یہ محسوس ہی نہ ہونے دیا کہ گولیاں ان کے سینے میں گھاؤ پیدا کر چکی ہیں۔
“یزیدیو“۔ مکارو ہم تمہیں نیست و نابود کر دیں گے۔“ میجر صاحب للکارتے ہوئے مسلسل آگے بڑھے جا رہے تھے۔
ان کو جوش و خروش سے پیش قدمی کرتے دیکھ کر ان کے جوانوں کا حوصلہ دو چند ہو گیا۔ وہ بھی مسلسل نعرے لگاتے ہوئے گولیاں برساتے، سنگینیں تانے دیوانہ وار دشمن پر ٹوٹ پڑے۔
“ ساتھیو! آگے بڑھو دشمن پر ٹوٹ پرو اسے بتا دو کہ مسلمان کے لئے اللہ کی راہ میں جاں دینا کتنا آسان ہوتا ہے۔“
میجر صاحب مسلسل اپنے جوانوں کو جوش دلا رہے تھے اور جوان تھے کہ دیوانوں کی طرح دشمن پر چھائے چلے جا رہے تھے۔
اسی وقت دائیں بائیں سے بھی میجر صاحب کے دونوں دستوں نے دشمن پر ہلہ بول دیا۔ یہ افتاد دشمن کے لئے تازیانہ ثابت ہوئی۔ اس نے آؤ دیکھا نہ تاؤ اور حسب روایت بھاگ نکلا۔ اس کی ساری قوت، ساری طاقت، سارے ہتھیار اس کے لئے بے کار ثابت ہوئے۔جان بچانا اس کے لئے سب سے پہلا فرض بن گیا جس کی تکمیل میں وہ کتنی ہی لاشیں چھوڑ کر فرار ہو گیا۔
دشمن کو شکست کھا کر بھاگتے دیکھ کر بے اختیار میجر صاحب نے نعرہ تکبیر بلند کیا۔ جوانوں نے اللہ اکبر کہہ کر دشمن پر آخری ہلہ بول دیا اور رات کے اندھیرے میں ہندو بنیا غائب ہو گیا
اب ٹیلہ میجر صاحب اور ان کے جوانوں کی دسترس میں تھا۔
اس وقت میجر صاحب لڑکھڑائے۔ خون زیادہ بہہ جانے کے باعث ان کے بدن پر کمزوری نے غلبہ پا لیا اور وہ ایک طرف ٹیک لگا کر کھڑے ہو گئے۔ان کے ہاتھ سے گن گر پڑی مگر نوں نے کسی کو محسوس نہ ہونے دیا کہ وہ شدید زخمی ہو چکے ہیں۔ دھیرے دھیرے وہ چھوٹے سے تودے سے ٹیک لگائے لگائے زمین پر بیٹھ گئے۔ جوان یہ سمجھے کہ وہ تھک کر بیٹھ گئے ہیں۔
اسی وقت بھارتی مورچے سے دبے پاؤں چوروں کی طرح کمانڈر دیو برمن نکلا اور اندھیرے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے فرار ہونے کے لئے ایک طرف رینگ گیا۔ اس کے ہاتھ میں پستول تھا مگر اس نے اسے فائرنگ کے لئے استعمال کرنے کی بجائے شاید وقت پڑنے پر اپنی حفاظت کے خیال سے ہاتھ میں لے رکھا تھا۔
“اے کون ہے۔ رک جاؤ“ اچانک میجر صاحب کے دستے کے ایک جوان نے اسے دیکھ کر للکارا۔ کمانڈر دیو برمن آواز سن کر بوکھلا گیا۔ پلٹ کر اس نے پستول سے فائر کرنے کی بجائے دوسری طرف دوڑ لگا دی۔ اس افراتفری میں میجر صاحب نے اپنے حواس کو جگایا اور دیکھا کہ پسول بردار کمانڈر برمن انہی کی طرف بھاگا چلا آ رہا ہے۔ جونہی وہ قریب آیا، میجر صاحب نے اٹھ کر اسے پکڑنا چاہا مگر خون اس قدر ضائع ہو چکا تھا کہ وہ اپنی جگہ سے پوری طرح اٹھ نہ سکے تاہم ہاتھ بڑھا کر انہوں نے کمانڈر برمن کی ٹانگ گرفت میں لے لی۔ وہ بھاگتے بھاگتے اوندھے منہ گرا تو میجر طفیل محمد شہید نے اپنے سر سے فولادی خود اتار کر دو تین زور دار ضربیں کمانڈر برمن کے سر پر رسید کر دیں۔ تیسری ضرب پر کمانڈر برمن نے نیم مردہ ہو کر سپر ڈال دی۔
اسی وقت ایک جوان نے اس پر اپنی رائفل سیدھی کر لی۔
“رک جاؤ“۔ میجر طفیل محمد شہید نے جوان کو ہاتھ اٹھا کر روک دیا ورنہ وہ اسے گولی مار دیتا۔“ اسے گولی مت مارو۔ زندہ گرفتار کر لو“ اور بھارتی کمانڈر کی مشکیں کس دی گئیں۔
بھارتی مورچہ تباہ کر دیا گیا۔ لکشمی پور پر اب پاکستانی فوج قابض تھی۔ اس وقت ان کے جوانوں کو علم ہوا کہ میجر طفیل محمد شہید کس بُری طرح زخمی ہیں۔
فوری طور پر ان کو کومیلا ہاسپٹل پہنچایا گیا مگر میجر طفیل محمد شہید ہنستے مسکراتے شہادت کے سفر پر روانہ ہو چکے تھے۔ فاتح لکشمی پور اپنے مشن کی تکمیل کے ساتھ ہی اپنے اللہ کی بارگاہ میں حاضر ہو گیا تھا۔
اکھوڑا ریلوے سٹیشن کے قریب سرخ رنگ کی ایک عمارت موجود ہے جس کے باہر ایک بورڈ پر یہ تحریر دمک رہی ہے۔
“میجر طفیل محمد شہید میموریل ڈسپنسری۔“
یہ عمارت اس عظیم شہید کی یادگار کے طور پر تب تک سر زمین پر سر اٹھائے کھڑی رہے گی۔ جب تک وہاں ایک بھی احسان مند مسلمان زندہ ہے۔
ڈاکٹر کرنل عبد الحمد اور میجر محمد یونس نے کومیلا کے سی ایم ایچ میں میجر طفیل محمد شہید کا آپریشن کیا اور ان کے سینے سے گولیاں نکالیں۔کرنل صاحب سے جن میجر طفیل محمد شہید کے آخری لمحات کے بارے میں دریافت کیا گیا تو انہوں نے بتایا کہ
“جس وقت میجر صاحب کو ہاسپٹل لایا گیا تو وہ ہوش میں تھے۔ کوئی تکلیف یا درد کا احساس ان کے چہرے مہرے سے عیاں نہ تھا۔ ہم لوگ حیران تھے کہ ان کی ہمت کس قدر جوان ہے کہ وہ اب تک اتنے زخمی ہونے اور اس قدر خون بہہ جانے کے باوجود ہشاش بشاش ہیں۔ ہمیں یہ شک بھی نہ تھا کہ وہ جانبر نہ ہو سکیں گے مگر لگتا ہے کہ ان کی شہادت کی خواہش اس قدر شدید تھی کہ اللہ تعالٰی کو ان کی بات ماننا ہی پڑی۔“
ان کے کمانڈر بریگیڈیئر صاحب داد نے میجر طفیل محمد شہید کو بے حد شاندار الفاظ میں خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا۔
“میجر طفیل محمد شہید ایک مثالی مسلمان تھے۔ ان کی شہادت سے ہماری فوج کا مورال بلند ہوا اور بے شمار خوبیوں میں سے ان کی ایک خوبی یہ بھی تھی کہ غیر شرعی حرکات سے وہ مکمل اجتناب کرتے تھے۔“

انجینئرفانی
10-07-2012, 07:17 AM
شکریہ جناب

pervaz khan
10-07-2012, 01:53 PM
خوبصورت شیئرنگ کے لیئے بہت شکریہ