PDA

View Full Version : ڈرون طیارے گرانے کی صلاحیت رکھتے ہیں، ڈاکٹرعبدالقدیر



تانیہ
05-29-2012, 10:27 PM
http://www.dailyaaj.com.pk/wp-content/uploads/2012/02/pc08_02_12_02-300x200.jpg

نامور ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے کہا ہے کہ ملک کو بیرونی نہیں اندرونی خطرہ ہے ،ملک کا حال حضرت سلیمانؑ کے عصاء کی طرح اندر سے کھوکھلا اور باہر سے مضبوط ہے۔ضیاء الحق ڈکٹیٹر لیکن محب وطن تھا ۔حکمران بے ضمیر ،ڈاکو اور لٹیرے بن چکے ہیں،فوج حلف کی پاسداری نہیں کررہی،مزے لے رہی ہے ،ڈرون حملے ہو رہے ہیں مگرحکمرانوں کو شرم نہیں آتی ،ڈرون گرانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ملک کا دفاع باہر سے ناقابل تسخیر نظر آتا ہے لیکن اندر سے حضرت سلیمان کے عصاء کی طرح ہے ،دیکھنے میں تو مضبوط لیکن اندر سے دیمک نے کھا لیا ہے ہم نے خون پسینے سے اس ملک کو ناممکن سے ممکن بنایا اور ایسا مضبوط دفاع مہیا کیا کہ بے فکری ہوگئی تھی کہ اب اپنی ترقی ،تعلیم اور صنعتی ترقی پر دھیان دیں گے لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ایسا نہیں ہوا اور حکمرانوں کو یقین ہوگیا کہ اب ہمیں باہر سے خطرہ نہیں ہے تو وہ اندرونی لوٹ مار میں لگ گئے۔

چودہ سال کے بعد یہ لوگ اتنے نڈر بے ضمیر ہوگئے کہ انہوں نے ملک کو لوٹنا شروع کر دیا کہ اب ہمیں باہر سے خطرہ نہیں اندر سے اس ملک کو تباہ کر دو۔انہوں نے کہا کہ یہ ہماری غلط فہمی ہے کہ ہم ایٹمی قوت ہونے کے باوجود امریکہ،انگلینڈ ،فرانس کے خلاف کارروائی نہیں کر سکتے کیونکہ ہمارا ایٹمی نظام تو بھارت کے خلاف تھا جس نے ہمارے ملک کے دوٹکڑے کئے تھے۔ڈاکٹر عبد القدیر کا کہنا تھا کہ عوام کے حوصلے پست ہوگئے ان کو امید کی کوئی کرن نظر نہیں آتی جس طرف بھی آنکھ اٹھا کر دیکھتے ہیں لٹیرے نظر آتے ہیں ۔حکمران بھی لٹیرے اور اپوزیشن والے بھی ۔اگر دونوں ایسی کوئی تبدیلی لاتے کہ جس سے ملک کو فائدہ ہوتا تو اچھا تھا ۔

انہوں نے کہا کہ عدلیہ بھی اپنے فیصلے مبہم طریقے سے دیتی ہے اور ان کے فیصلوں پر عمل نہیں ہوتا ۔دوسری طرف فوج مزے اڑا رہی ہے ۔ان کو بے فکری ہوگئی ہے کہ بھارت اب ہم پر حملہ نہیں کر سکتا جو چاہو کرو ،مزے اڑاؤ ،یہ دور اسحاق خان اور جنرل ضیاء الحق کا دور نہیں ان کو ملک کی فکر تھی ۔ضیاء الحق ڈکٹیٹر تھا مگر ایک محب وطن جرنیل تھا اس نے امریکہ کو اپنی سرزمین پر قدم تک نہیں رکھنے دیا لیکن آج کھلم کھلا ہماری سرزمین پر ڈ رون حملے ہو رہے ہیں مگر حکمران کو شرم نہیں آتی ۔انہوں نے کہا کہ پندرہ سال قبل کہوٹہ میں میزائل بنائے تھے وہ ڈرون گرا سکتے ہیں،محسن پاکستان کا کہنا تھا کہ فوج نے ملک کی سرحدوں کی حفاظت کا حلف اٹھایا تھا ۔

کدھر گیا ان کا حلف روز بروز سرحدوں کی خلاف ورزی ہوتی ہے تو اس حلف اٹھانے کا کیا فائدہ پھر یہی کہیں کہ ہم نے سیاستدانوں کے حکم کی تعمیل کی حلف کے اندر بیٹھے حکمران چور لٹیرے ،بے ضمیر ہیں ان کو عوام اور ملک کا کوئی خیال نہیں ،باہر جاتے ہوئے پاکستانی کہنے میں شرم آتی ہے،۔پہلے سبز پاسپورٹ کی عزت تھی مگر اب نہیں ہے۔

اذان
05-29-2012, 10:36 PM
بہت خوب
شئیرنگ کا شکریہ

بےلگام
05-29-2012, 10:37 PM
بہت خوب جناب

انجم رشید
05-29-2012, 11:36 PM
السلام علیکم ۔
بہت بہت شکریہ پیاری بہن

نگار
05-30-2012, 08:49 PM
کہتے ہیں اگر اونٹ کی قیمت ایک روپیہ ہو جائے اور جیب میں وہ ایک روپیہ بھی نا ہو تو کیا کریں
اگر ہماری پاس ایسی طاقت بھی آ جائے کہ دُنیا کو بھی اُلٹ پھلٹ کر سکتے ہیں تو کیا فائدہ ؟؟؟
ہم تو ویسے بھی غلاموں کی زندگی بس کر رہے ہیں تو اس صلاحیت کا بھی کوئی فائدہ نہیں ہے ۔
کسی کی جان لیتے تو دیکھ سکتے ہیں لیکن اس کو بچانے کی کوشش نہیں کرتے ۔
میرے خیال ڈرون طیارے گرانے والا بم بھی زنگ آلود ہو چکا ہوگا ۔
آپ کا شکریہ تانیہ سسٹر