PDA

View Full Version : الفاظ



AcI33L
05-30-2012, 09:55 AM
الفاظ ہماری زندگی میں بڑی اہمیت رکھتے ہیں جس طرح انسان ہوا،پانی کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتے اسی طرح انسان الفاظ کے بغیر اپنی پہچان نہیں بنا سکتا۔الفاظ سے ہی انسان اپنی شخصیت کو منظر عام پر لا سکتا ہے۔لفظ سے لفظ ملے تو جملہ بنتا ہے اور پھر یہی جملے انسان کو دوسرے انسان سے منسلک کرتے ہیں اور اس طرح زندگی کی گاڑی کا سفر شروع ہوتا ہے۔
الفاظ کبھی آنکھوں میں آنسو بن کر اور پھر یہی الفاظ تسلی کا روپ بن کر چہرے کو روشن کرتے ہیں ۔الفاظ ناکامی میں کبھی ستون بن جاتے ہیں تو کبھی یہی الفاظ عروج میں اختلاف بن کر ابھرتے ہیں ۔ جب بچہ لفظ"ماں"ادا کرتا ہے تواس کی قدر ماں سے بڑھ کر کوئی نہیں جانتا،ماں اپنے پیارے لفظوں سے اس کا استقبال کرتی ہے۔وہ اپنی زبان شیریں کر کے اپنے بچے کیلئے لفظوں کو پھول کا روپ دیتی ہے۔بچپن تک وہ پھول میں جواب دیتا ہے،لیکن بڑا ہونے تک پھول کے ساتھ کانٹے آ جاتے ہیں ۔ماں جس نے اسے الفاظ سے متعارف کروایا ہوتا ہے اس کے لئے لفظوں کا پھول بنا کر دینے کی بجائے کا نٹا بنا کر جواب دیتا ہے۔
باپ کے الفا ظ اس کے لئے نصیحت بن کر کیوں رہ جاتے ہیں حتیٰ کہ ان الفاظ میں فکر،توجہ ہوتی ہے مگر وہ نہیں سمجھ پاتا،وہ بیزار ہوجاتا ہے۔اپنے دفاع میں ان لفظوں کو غصے کا روپ دے دیتاہے اور پھر جب وہ لفظوں کو غصے میں ڈال کر لفظ ادا کرتا ہے تو وہ الفاظ پتھر بن کر برستے ہیں ۔
بہن بھائی کا جھگڑا پیار کا سبب ہے ،وہ ایک دوسرے کیلئے برے سے برے لفظ بھی استعمال کریں لیکن اس کے باوجود ان کے لفظوں میں اپنائیت ہوتی ہیں ۔ بھائی کے رعب دار الفاظ بہن کی حفاظت ہے اور بہن کبھی کبھی ان لفظوں کو غلط رنگ میں لے لیتی ہے۔وہ لفظوں کو اپنے وجود پر حاوی کرتی ہے اورپھر وہ ان "تحفظ"بھرے الفاظ کو شک کی صورت سمجھ لیتی ہے۔اکثر بھائی ایسے بھی ہوتے ہیں جو لفظوں کو گالی گلوچ کا روپ بھی دیتے ہیں،اور یہی الفاظ اذیت بن جاتے ہیں۔
استاد شاگرد کا رشتہ بے مثال ہے استاد کے الفاظ اس کے لئے راہنمائی بن کر اس کو غلط درست کا راستہ بتاتے ہیں ۔شاگرد ان الفاظ کو اپنی ذات میں شامل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔
لیکن کبھی کبھار وہ اس راہنمائی کو اپنی ذات پر بوجھ سمجھنا شروع کر دیتا ہے،وہ استا د کے الفاظ کو رہنمائی کی بجائے پابندی "بندش"سمجھ لیتاہے۔رہنمائی کے الفاظ کو وہ "اکتاہٹ"کی صورت دینا شروع کر دیتاہے،اور ان رہنمائی کو مذاق کے الفاظ میں تبدیل کر دیتا ہے۔
محبوب اور محبوبہ کا رشتہ تصوراتی ہے۔ ان کے الفاظ میں"کشش" تصوراتی،الفاظ زیادہ ہوتے ہیں۔محبوب اپنی محبوبہ کی تعریف میں الفاظ کا ڈھیر لگا دیتے ہیں ،وہ چاند کو اس کا چہرہ اور اداﺅں کو ناگن کا روپ دیتا ہے۔اور یہی الفاظ جو تعریف بن کر استعمال ہوتے ہیں وہ عورت کیلئے آب زمزم ہوتے ہیں ،لیکن اگر محبوب خاموش طبع ہواور وہ الفاظ کو تعریف کی صورت استعمال نہ کرے تو محبوبہ اس کی "محبت"پر یقین کم کرتی ہے۔ایسی صورت میں الفاظ لڑائی جھگڑے کی صورت اختیار کر لیتے ہیں اور مجبور ہو کر محبوبہ جل کر بول پڑتی ہے۔پیار میں انسان اندھا ضرور ہو جاتا مگر بہرہ نہیں،کیونکہ اسے"الفاظ"کی ضرورت ہوتی ہے۔
اللہ کی بڑائی بیان کرنے میں بندے اپنے رب کیلئے جو الفاظ استعمال کرتے ہیں ، ان میں عاجزی ہوتی ہے۔وہ عاجز بن کر اس کے حضور میں گر جاتے ہیں ۔اور اللہ کیلئے جو الفاظ استعمال کرتے ہیں ان میں نرمی کے ساتھ نمی بھی ہوتی ہے۔ایسا صرف اس لئے کہ وہ خدا سے ڈرتے ہیں۔
ماں،باپ،بہن،بھائی،محبوب،م حبوبہ جن سے آپ کی زندگی چل رہی ہے ان کیلئے الفاظ کا استعمال،رویہ کیوں برا کر لیتے ہیں حتیٰ کہ یہی دنیا آپ کی ہے اور آپ انہی کے ہیں۔
پھر آپ اللہ کے سامنے ڈھونگ کرتے ہیں ان الفاظ میں نرمی اور نمی کا کوئی فائدہ نہیں ،جب تک کہ آپ اپنے پیاروں کے ساتھ نرمی اور نمی کے ساتھ الفاظ استعمال نہیں کرتے۔

نگار
05-30-2012, 06:04 PM
جزاک اللہ
آپ بہت ہی عمدہ لکھتے ہیں
بہت شکریہ

سیما
05-31-2012, 02:19 AM
بہت شکریہ بھائی

بےباک
06-02-2012, 09:46 AM
اللہ کی بڑائی بیان کرنے میں بندے اپنے رب کیلئے جو الفاظ استعمال کرتے ہیں ، ان میں عاجزی ہوتی ہے۔وہ عاجز بن کر اس کے حضور میں گر جاتے ہیں ۔اور اللہ کیلئے جو الفاظ استعمال کرتے ہیں ان میں نرمی کے ساتھ نمی بھی ہوتی ہے۔ایسا صرف اس لئے کہ وہ خدا سے ڈرتے ہیں۔
ماں،باپ،بہن،بھائی،محبوب،م حبوبہ جن سے آپ کی زندگی چل رہی ہے ان کیلئے الفاظ کا استعمال،رویہ کیوں برا کر لیتے ہیں حتیٰ کہ یہی دنیا آپ کی ہے اور آپ انہی کے ہیں۔
پھر آپ اللہ کے سامنے ڈھونگ کرتے ہیں ان الفاظ میں نرمی اور نمی کا کوئی فائدہ نہیں ،جب تک کہ آپ اپنے پیاروں کے ساتھ نرمی اور نمی کے ساتھ الفاظ استعمال نہیں کرتے۔
بہت زبردست پیرایہ میں سمجھایا گیا ہے ، شکریہ عدیل بھائی
ایسی تحاریر سے متعارف کراتے رہیے ،
:roseanimr::th_Pakistan_flag: