PDA

View Full Version : پائلٹ آفیسر راشد منہاس شہید



علی عمران
12-06-2010, 05:07 PM
یہ ہواؤں کے مسافر یہ سمندروں کے راہی
میرے بت شکن مجاہد میرے بت شکن سپاہی
20 سال کا نوجوان زیرِ تربیت پائلٹ دن کے 11 بج کر 26 منٹ پر پاک فضائیہ کے مسرور بیس کیمپ کے رن وے پر اپنے ٹرینر جیٹ طیارے میں سوار ہوا۔ سیٹ سنبھال کر آلات کو چیک کیا۔ طیارے کا انجن سٹارٹ کیا اور کنٹرول ٹاور سے رابطہ کیا۔
11 بج کر 27 منٹ پر کنٹرول ٹاور سے اس نوجوان پائلٹ کو تربیتی پرواز کے لئے پہلی کلیرنس دی گئی۔ اس نے طیارے کو رن وے پر دوڑانا شروع کیا۔ طیارے نے تھوڑا دور جا کر رُخ بدلا اور اپنی رفتار تیز کرتے ہوئے رن وے کی دائیں پٹی پر اس کے پہیے متحرک ہو گئے۔ لمحہ لمحہ رفتار بڑھنے لگی۔ پائلٹ کی نظریں سامنے رن وے پر جمی ہوئی تھیں کہ اچانک اسے اپنا طیارہ روکنا پڑا۔
حیرت سے اس نے اپنے انسٹرکٹر کی جانب دیکھا جس نے اپنی اوپل کار طیارے کے ایک طرف لا کر روکی۔ اس میں سے باہر نکلا اور پائلٹ کو خطرے کا سگنل دیا۔
“شاید طیارے میں کوئی فنی خرابی ہے جس کا علم ہونے پر میرا انسٹرکٹر مجھے روکنے کے لئے خود چلا آیا۔“ پائلٹ نے سوچا اور طیارہ روک لیا۔ پائلٹ کو اپنے ٹرینر جیٹ طیارے کی دوہرے کنٹرول کی صلاحیت سے بخوبی آگاہی تھی۔ایسے طیارے دورانِ تربیت اس لئے استعمال ہوتے ہیں کہ انسٹرکٹر اور زیرِ تربیت پائلٹ کسی بھی ایمرجنسی میں ایک دوسرے کی مدد کر سکیں۔ دونوں کے سامنے یکساں کنٹرول پینل ہوتے ہیں۔ اس لئے جب زیرِ تربیت پائلٹ ایسا طیارہ اڑاتا ہے تو اس کے عقب میں نشست پر بیٹھا اس کا انسٹرکٹر اس کی ہر حرکت پر نگاہ رکھتا ہے تاکہ پائلٹ اگر کوئی غلطی کرے تو وہ اسے روک سکے، ٹوک سکے، اس کی غلطی کی اصلاح کر سکے۔
ایک دیوار نما روک پائلٹ اور انسٹرکٹر کے درمیان موجود ہوتی ہے۔ کینوپی بند ہو جانے کے بعد پائلٹ اور انسٹرکٹر آپس میں جسمانی طور پر کٹ جاتے ہیں۔ آلات اور سکرین کے ذریعے ان کا رابطہ بہرحال رہتا ہے۔
“سر۔۔۔ کیا بات ہے؟ مجھے روکا کیوں گیا ہے؟“ پائلٹ نے انسٹرکٹر کی طرف دیکھ کر پوچھا جو طیارے کے کاک پٹ کے قریب آ چکا تھا۔
جواب میں انسٹرکٹر نے اسے بڑی عجیب نظروں سے دیکھا تاہم زبان سے ایک لفظ نہ کہا۔ پھر اس نے کاک پٹ کھولنے کے لئے ہاتھ بڑھایا۔
“سر۔۔۔۔۔“ پائلٹ نے احتجاج کرنا چاہا۔
مگر تب تک انسٹرکٹر زبردستی کاک پٹ میں داخل ہو چکا تھا۔
“سر۔۔۔۔“ پائلٹ کو غصہ آ گیا۔ “ آپ کو آج میرے ساتھ پرواز میں شمولیت کی اجازت نہیں ہے۔“ اس نے پلٹ کر یونیفارم کی بجائے عام کپڑوں میں ملبوس انسٹرکٹر کو دیکھتے ہوئے کہا۔
اس کی اس بات کا جواب انسٹرکٹر نے زبان سے پھر بھی نہ دیا بلکہ عقبی نشست پر بیٹھ کر کنٹرول پینل پر قبضہ جما لیا۔
پائلٹ آفیسر مزید کچھ کہنا چاہتا تھا کہ اس کے کانوں میں اپنے انسٹرکٹر کے دو ایسے جملے پڑے جس نے اس کو لمحہ بھر کے لئے سن کر دیا۔ وہ وائرلیس پر کراچی میں موجود اپنے دو ساتھیوں کو پیغام دے رہا تھا:
“میں جودھ پور جا رہا ہوں۔ تم میرے گھر والوں کو ساتھ لے کر فوراََ بھارتی ہائی کمیشن چلے جاؤ اور وہاں پناہ لے لو۔ اوور۔“
انسٹرکٹر غداری کے پلان پر مکمل طور پر عمل شروع کر چکا تھا۔ وہ جانتا تھا کہ اس کی اس خوفناک انجام کی حامل غدارانہ حرکت کے بعد نہ وہ خود محفوظ رہے گا نہ اس کے بیوی بچے اور نہ اس کے ساتھی۔ اسی لئے اس نے بھارتی ہائی کمیشن میں پناہ لینے کی راہ ڈھونڈی تھی۔
جونہی اس کی بات ختم ہوئی، پائلٹ آفیسر کو جیسے ہوش آ گیا۔ اس کے سر سے پاؤں تک خون میں آگ کی ایک لکیر پھیلتی چلی گئی۔ وہ اور اس کا وطن ایک غدار کے حربے کا شکار ہونے جا رہے تھے۔
فوری طور پر اس نے ماڑی پور کے کنٹرول ٹاور سے رابطہ قائم کیا اور پیغام دیتے ہوئے کہا:
“ مجھے اغواء کیا جا رہا ہے۔ میرے غدار انسٹرکٹر کے ساتھی بھارتی ہائی کمیشن میں پناہ لینے جا رہے ہیں۔ انہیں فوری طور پر روکا جائے۔“
جس وقت پائلٹ آفیسر یہ پیغام دہرا رہا تھا اس لمحے گھڑی کی سوئیاں 11 بج کر 29 منٹ اور 29 سیکنڈ کا وقت بتا رہی تھیں۔
اس اثناء میں غدار انسٹرکٹر نے رومال پر کلوروفام چھڑکا اور پائلٹ آفیسر کو بے ہوش کرنے کے لئے اس پر ٹوٹ پڑا۔ دوسری طرف کنٹرول ٹاور انتظامیہ اس کے الفاظ کو سنتے ہوئے یہ محسوس کر رہی تھی کہ جیسے پائلٹ آفیسر کسی سے جسمانی طور پر نبرد آزما ہو اور مخالف کے حملے سے بچنے کی کوشش کر رہا ہو۔
“ آفیسر۔۔۔۔۔۔ پرواز منسوخ کر دو۔ طیارہ اغواء نہ ہونے دیا جائے۔ فوراََ پرواز منسوخ کر دو۔“ کنٹرول ٹاور سے یہ ہدایات پائلٹ آفیسر کو 11 بج کر 30 منٹ اور 20 سیکنڈ پر جاری کی گئیں۔
مگر تب تک غدار انسٹرکٹر طیارے کے کنٹرول پینل پر قبضہ کرنے کے بعد پائلٹ آفیسر کو نیم بے ہوش کر چکا تھا۔ 11 بج کر 31 منٹ پر اس نے طیارے کو فضا میں بلند کر لیا۔
طیارے کا رُخ بھارت کی طرف تھا۔
طیارہ 20 ڈگری کا زاویہ بنائے مشرق کی طرف اڑ رہا تھا۔
غدار انسٹرکٹر کا بچ نکلنا بے حد خطرناک تھا۔ وہ بے حد اہم خفیہ دستاویزات لے اڑا تھا۔ بھارت کے ہاتھ اگر وہ فوجی دستاویزات لگ جاتیں تو پاکستان کے لئے بے پناہ دفاعی نقصان کا باعث بنتیں۔ اگر بفرضِ محال اس سے چھین کر دستاویزات ضائع بھی کر دی جاتیں اور وہ دستاویزات کے بغیر بھارت جا پہنچتا تو اس کی زبان سے نکلنے والا ہر زہر بھارت کے لئے فائدہ مند اور پاکستان کے لئے تباہ کُن ثابت ہوتا۔یعنی ہر پہلو سے غدار انسٹرکٹر کا بچ کر نکل جانا ملک کی سالمیت کے لئے خطرناک تھا۔
پائلٹ آفیسر نیم بے ہوش اپنی سیٹ پر غنودگی کے عالم میں کنٹرول ٹاور سے نشر ہونے والے پیغام کو سن رہا تھا۔ پیغام کی اہمیت اس کے لئے دو چند ہو گئی جب اسے بار بار پرواز منسوخ کرنے کے لئے کہا گیا۔ اب اس کے لئے اس کے سوا کوئی چارہ نہ تھا کہ کسی بھی طرح غدار انسٹرکٹر اور طیارے دونوں کو دشمن کے ہاتھوں میں جانے سے روکے چاہے اس کے لئے اسے اپنی جان کی بازی لگانا پڑے اور مسلمان کے لہو میں اللہ، رسول اور وطن کی محبت نے جب بھی چشم وا کی ہے ایسے ایسے محیر العقول کارناموں کے صفحات تاریخ میں رقم ہوئے ہیں جو آنے والی نسلوں کے لئے مینارہ نور بن گئے۔
پائلٹ آفیسر نے پوری کوشش کی کہ اپنے حواس بحال کر سکے۔ بے ہوشی کے اثرات پر قابو پاتے ہوئے اس نے کنٹرول اور کو اطلاع دی:
“مجھے اغواء کیا جا رہا ہے۔ میں اپنے غدار انسٹرکٹر سے دست و گریباں ہوں۔“
یہ پیغام 11 بج کر 33 منٹ اور 20 سیکنڈ پر دیا گیا۔
پائلٹ آفیسر کم عمر یعنی بمشکل 20 سال کا نوجوان تھا۔ جسم بھی نارمل ہی تھا۔ بہت زیادہ قوی نہ تھا۔ وہ جانتا تھا کہ اپنے انسٹرکٹر کا وہ جسمانی طور پر مقابلہ کرنے کے قابل نہیں ہے۔ کسی وقت کچھ بھی ہو سکتا ہے مگر وطن کی محبت اس کے دل میں انگڑائی لے کر وطن کی حفاظت کے جذبے سے ہاتھ ملا چکی تھی۔ اس نے ہر قیمت پر اپنے انسٹرکٹر کا حکم نہ ماننے کا فیصلہ کر لیا۔
“آفیسر۔“ غدار انسٹرکٹر نے تحکمانہ لہجے میں اسے مخاطب کیا۔“ طیارے کا رُخ بھارت کے ہوائی اڈے جام نگر کی طرف موڑ دو۔“
“ہرگز نہیں۔“ پائلٹ آفیسر نے صاف انکار کر دیا۔ اس کے لہجے میں عزم کی جھلک نمایاں تھی۔
“ میں کہتا ہوں طیارے کا رُخ موڑ دو ورنہ تمہارے لئے اچھا نہیں ہو گا۔“ انسٹرکٹر نے کھلی دھمکی دی۔
“ہرگز نہیں۔ یہ طیارہ بھارت جائے گا نہ تم!“ پائلٹ آفیسر کے دماغ میں ایک خیال برق کے کوندے کی طرح لپکا۔
اسے اچانک خیال آیا کہ اس کا غدار انسٹرکٹر اس وقت پرواز کے مخصوص لباس میں نہیں بلکہ عام کپڑوں میں ہے۔ اس حالت میں اگر وہ طیارے کو زیادہ بلندی پر لے گیا تو آکسیجن کی کمی کے باعث وہ موت کے گھاٹ اتر سکتا ہے۔ اس کے دماغ میں آتا خیال جیسے انسٹرکٹر نے پڑھ لیا۔ اس نے فوراَََ اپنے کنٹرول پینل سے کوشش شروع کر دی کہ طیارہ زمین سے بہت زیادہ بلند نہ ہونے پائے۔ محض تیس چالیس فٹ کی بلندی پر پرواز کرتا رہے۔ اس سے ایک تو اس کی جان بچی رہتی۔ وہ ہلاک ہونے سے بچا رہتا۔ دوسرے ریڈار اتنی نیچی پرواز کا پتہ چلانے سے قاصر رہتا اور وہ محفوظ رہتا۔
ان دونوں ممکنہ فوائد کے حصول کے لئے انسٹرکٹر نے کنٹرول پینل کا مکمل انتظام اپنے ہاتھ میں لینے کی بھرپور کوشش کی اور اس میں کسی حد تک کامیاب بھی رہا۔ نیچی پرواز بے حد مہارت کا کام ہے۔ زیرِ تربیت پائلٹ آفیسر کے لئے اس میں کامیابی کے امکانات کم جبکہ اس کے انسٹرکٹر کے لئے سو فیصد زیادہ تھے اس لئے بھی وہ اپنی کوشش میں کامیاب رہا اور کنٹرول پینل کا انتظام تقریباََ اس نے خود سنبھال لیا۔ اس کے لئے اس نے فنی مہارت کے ساتھ جسمانی طاقت کا بھی بھرپور استعمال کیا اور پائلٹ آفیسر کو تقریباََ مفلوج کر دیا۔
“مجھے اغواء کیا جا رہا ہے مگر میں یہ کام ہونے نہ دوں گا۔“
11بج کر 33 منٹ اور 33 سیکنڈ پر پائلٹ آفیسر کی بے حد مدہم آواز کنٹرول ٹاور کو موصول ہوئی۔ یہ اس کا آخری پیغام تھا۔ اس کے بعد اس کا کنٹرول ٹاور سے رابطہ ختم ہو گیا۔
پاک فضائیہ کے طیارے اس ٹرینر طیارے کو 3 گھنٹے تک تلاش کرتے رہے مگر اس کا کوئی پتہ نہ چلا۔
اور پتہ چلتا بھی کیسے اپنے آخری پیغام کے ساتھ ہی پائلٹ آفیسر نے اپنی زندگی کا آخری سانس لیا۔ اللہ کو یاد کیا۔ اپنے وطن پر آخری لگاہ ڈالی اور طیارے کا رُخ زمین کی طرف کر دیا۔
غدار انسٹرکٹر یہ دیکھ کر شاید پاگل ہو گیا ہو گا۔ جان بچانے کے لئے اس نے ہر قسم کی کوشش کی ہو گی۔ پائلٹ آفیسر کو روکنے کے لئے اس پر جان لیوا حملہ کیا ہو گا۔ مگر اس وقت اس کی چیخیں دم توڑ گئی ہوں گی جب پائلٹ آفیسر کے ہونٹوں پر ایک آسودہ مسکراہٹ نے جنم لیا ہو گا۔ اس وقت جب طیارہ زمین سے ٹکرا کر پاش پاش ہوا۔ اس میں آگ لگ گئی۔ دھماکوں نے زمین کو دہلا کر رکھ دیا۔ اس وقت پائلٹ آفیسر راشد منہاس کی روح ایک ہی قدم بڑھا کر اپنے رب کے حضور سجدہ ریز ہو کر بامِ شہادت پر پہنچ گئی اور غدار انسٹرکٹر مطیع الرحٰمن کو جہنم کے شعلوں نے لپیٹ میں لے لیا۔
راشد منہاس شہید 17 فروری 1951 کو کراچی فضائیہ کے ہاسپٹل میں رات 9 بجے پیدا ہوئے۔ ان کا تعلق ایک راجپوت گھرانے سے تھا جس کے آباؤ اجداد جموں کشمیر سے تعلق رکھتے تھے۔ ہجرت کے بعد یہ خاندان گورداسپور اور وہاں سے قلعہ سوبھاسنگھ ضلع سیالکوٹ میں آ کر آباد ہوا۔
راشد منہاس کے والد کا نام جناب مجید منہاس تھا۔ انہوں نے آرمی میں گیریژن انجینئر کی ملازمت کی۔ بعد میں فوج سے ریٹائر ہو کر کراچی میں کنسٹرکشن کا کام کرنے لگے۔ دوسری جنگِ عظیم میں وہ آرمی ہی میں ملٹری انجینئرنگ سروس میں تھے اور فنی کارکردگی کی بنا پر انڈیا میڈل، برما میڈل اور عراق میڈل حاصل کر چکے تھے۔ ان کی فنی زندگی ہی کے اثرات تھے کہ جوان ہونے پر راشد منہاس نے فضائیہ جوائن کرنے کا سوچا۔
جب راشد منہاس کو سکول میں داخل کرایا گیا تو ان کے والد مجید منہاس صاحب لاہور میں تھے۔ ان کو جیس سکول اور کوئین میری سکول میں ابتدائی تعلیم کے لئے داخل کرایا گیا جہاں سے وہ اچھے نمبروں میں کامیاب ہوئے۔
لاہور کے بعد جب ان کے والد راولپنڈی شفٹ ہوئے تو راشد منہاس کو سینٹ میری اکیڈمی رائل آرٹلر بازار راولپنڈی میں تعلیم حاصل کرنے کا موقع ملا لیکن یہ عرصہ زیادہ طویل نہ تھا۔ تھوڑی ہی مدت بعد ان کے والد کو دوبارہ کراچی جانا پڑا۔ راشد منہاس کو اس بار سینٹ پیٹرک کالج میں داخل کرایا گیا جہاں سے انہوں نے سینئر کیمبرج کا امتحان نمایاں پوزیشن لے کر پاس کیا۔ کامیابی کے بعد انہوں نے پاک ایئرفورس میں اپلائی کر دیا۔
راشد منہاس کا شوق رنگ لایا اور ان کی سلیکشن ہو گئی۔ پاک فضائیہ میں سلیکٹ ہونے پر ان کو ٹریننگ کے لئے کوہاٹ اور کچھ عرصہ بعد رسالپور بھیج دیا گیا۔ رسالپور میں راشد منہاس نے پاکستان ایئرفورس اکیڈمی سے فلائٹ کیڈٹ کی تربیت حاصل کی۔ ایئر فورس اکیڈمی کے طالبِ علم کی حیثیت سے انہوں نے جون 1970 میں پشاور یونیورسٹی سے بی ایس سی فرسٹ ڈویژن میں پاس کیا۔
راشد منہاس نے بی ایس سی کے علاوہ جن علوم متعلقہ کا خصوصی طور پر دلچسپی اور کامیابی سے مطالعہ کیا ان میں سائنس الیکٹرونکس، موسمیات اور پرواز کے شعبہ جات شامل ہیں۔
راشد منہاس اس وقت 14 سال کے تھے جب 6 ستمبر 1965 کے دن بھارت نے پاکستان پر حملہ کیا۔ اس جنگ میں پاک فضائیہ نے بھارتی ہوا بازوں کو بے پناہ نقصان پہنچایا۔ پاک فضائیہ کے طیاروں نے پٹھانکوٹ، ہلواڑہ، آدم پور اور جام نگر کے ہوائی اڈوں کو اپنی زبردست بمباری کا نشانہ بنایا۔ بھارت کے ان اہم ہوائی اڈوں کو برباد کرنے کے بعد جب پاک فضائیہ کے طیارے لوٹ رہے تھے تو بھارتی فضائیہ کی کمر ٹوٹ چکی تھی۔
اس کا بدلہ لینے کے لئے بھارتی طیاروں نے سرگودھا ایئربیس پر حملہ کرنے کی بھرپور کوشش کی مگر جونہی بھارتی طیارے فضاء میں نمودار ہوئے پاک فضائیہ کے شاہین ان کی خبر گیری کو پہنچ گئے۔ چند لمحوں بعد ہی بھارتی طیارے واپس بھاگ اٹھے اور اپنی روایات کو قائم رکھتے ہوئے “ بھگوڑے“ کا لیبل ماتھے پر سجا کر لوٹ گئے۔
اس جنگ میں پاک فضائیہ نے سری نگر کے ہوائی اڈے پر حملہ کر کے رن وے پر اس وقت موجود تمام طیارے تباہ کر دئیے۔ ہوائی اڈے کی عمارت کو شدید نقصان پہنچا۔
یہ سب تباہی 6 ستمبر کے دن ہی بھارت کے حصے میں آئی۔
جنگ کے دوسرے دن یعنی 7 ستمبر کو بھارت نے اپنے محاذ کا دائرہ کار مشرقی پاکستان (حالیہ بنگلہ دیش) تک بڑھا دیا۔
علی الصبح بھارتی فضائیہ نے ڈھاکہ کے قریب کریم ٹولہ، رنگ پور، جیسور، چاٹگام، منیر کوہاٹ کے شہری علاقوں کے ساتھ ساتھ ٹھاکر گاؤں کے ہوائی اڈے پر بھی شدید بمباری کی۔ پہلی بار اس حملے میں بھارت کے کنبرا طیاروں نے حصہ لیا جن کی جدید ترین مشینری اور Latest تکنیک کا جواب پاک فضائیہ کے عام جنگی طیاروں نے اس طرح دیا کہ مشرقی پاکستان کے ارد گرد بہت سے بھارتی اڈے نیست و نابود ہو گئے جن میں کلکتہ کے قریب کلائی کنڈہ کا ہوائی اڈا بھی شامل تھا۔ بھارت کے مہنگے ترین اور جدید آلات سے لیس گیارہ کنبرا طیارے بھی اس دن تباہی کی آگ میں جل کر خاک ہوئے۔
راشد منہاس جب اپنے ہوابازوں کے کارنامے اخباروں میں پڑھتے، خبروں میں سنتے، فضاء میں دیکھتے تو ان کا خون جوش مارنے لگتا۔ یہی وہ عمر تھی جب انہوں نے ٹھان لی کہ ایک دن وہ بھی اقبال کے شاہین کی طرح پاکستان کی فضاؤں میں پرواز کریں گے۔ بھارت کو نئے سے نیا سبق سکھائیں گے۔ ایک پائلٹ آفیسر بن کر!
1965 کی جنگ اختتام پذیر ہوئی۔ پاک فضائیہ نے اس جنگ میں اپنی روایات برقرار رکھیں اور حق و باطل کے ان معرکوں میں جس شجاعت، پامردی اور عدیم المثال عسکری مہارت کا مظاہرہ کیا اس نے راشد منہاس کے اپنے پاکستانی ہونے پر فکر کے احساس کو دو چند کر دیا۔
یہی وہ جذبہ ایمانی اور آتش حب الوطنی تھی جس نے راشد منہاس کو وہ بے مثال جرات بخشی جس کے تحت انہوں نے ایک غدار انسٹرکٹر کے ناپاک منصوبے کو ناکام بناتے ہوئے 20 اگست 1971 کو جامِ شہادت نوش کیا۔ ان کے اس لازوال کارنامے پر انہیں نشانِ حیدر دیا گیا۔
نشانِ حیدر کا اعزاز دینے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اس وقت کے کمانڈر انچیف جنرل محمد موسٰی نے راشد منہاس کو ان الفاظ میں خراجِ تحسین پیش کیا:
“ راشد منہاس شہید نے اپنی عزیز ترین متاع یعنی جانِ عزیز، اپنے وطن پاکستان کی سلامتی پر نثار کر دی۔ اس کے اس بے مثال کارنامے کے اعتراف میں پاک وطن اپنا سب سے اعلٰی اعزاز نشانِ حیدر راشد منہاس شہید کو پیش کرتا ہے۔ یہ طے ہے کہ راشد منہاس کی قربانی کا کوئی بدل ممکن نہیں ہے لیکن ہم اپنے جاں فروشوں کو اپنی طرف سے جو اعلٰی ترین نذرانہ پیش کر سکتے ہیں وہ یہی ہے۔
راشد منہاس نے کم عمر کے باوجود وطن کی عزت پر حرف نہ آنے دیا۔ اس نے آبروئے وطن کو بے وقار نہ ہونے دیا۔ ایک غدار کے ہاتھوں بے بس ہو کر دشمن کی سر زمین پر زندہ پہنچ جانے کے بجائے اس نے وطن کی خاک پر شہادت قبول کی۔ یہ اس کا وہ کارنامہ ہے جو وطن کی تاریخ میں ہمیشہ سنہرے حروف سے لکھا جائے گا۔“
ایئر مارشل نور خاں نے اس تقریب میں راشد منہاس کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا:
“راشد منہاس میں جرات، بے خوفی، یقین اور قربانی کے جذبے بہترین بہترین اوصاف کی طرح موجود تھے۔ دشمن کے ساتھ وہ زندگی کے آخری لمحے تک مقابلے میں مصروف رہا۔ 9 منٹ کا یہ وقفہ اسے نفسیاتی برتری کے احساس سے سرشار کر گیا جس کا ثبوت یہ ہے کہ وہ اچانک اس سازش کا شکار ہوا تھا جبکہ اس کا حریف مطیع الرحمٰن پوری منصوبہ بندی کے بعد اس کے طیارے میں گھسا تھا۔ راشد منہاس جنگ میں نہ تھا نہ اس کے لئے تیار تھا۔ مزید برآں کلورو فام کا اثر بھی اسے مختل کر رہا تھا۔ اس کو جس صورتِ حال کا سامنا تھا، ایئر فورس اس سے توقع نہ کر رہی تھی کہ وہ اس طرح اپنی جان دے کر طیارے کو دشمن کے ہاتھوں میں جانے سے روک لے۔ اس کے پاس موقع تھا کہ وہ صورتِ حال کے تحت طیارہ دشمن کے قبضے میں دے کر اپنی جان بچا لیتا اور اسے قوانین کی رو سے نہ مجرم گردانا جاتا نہ سزا ملتی۔ مگر اس نے کوئی رعایت حاصل کی نہ خود کو کمزور ہونے دیا۔ فیصلے کے لمحے میں اس نے صرف اللہ اور اس کے رسول کے فرامین کو سامنے رکھا۔ صرف وطن کی حرمت کو پیشِ نظر رکھا اور ایک ایسی بے مثال قربانی دی جس نے پوری قوم کا سر فخر سے بلند کر دیا۔
میں فخر سے کہہ رہا ہوں کہ پاک ایئر فورس میں ایسے جوانوں اور افسروں کی کمی نہیں جو وطنِ عزیز کی خاطر بڑی سے بڑی قربانی دینے کے لئے ہر وقت تیار رہتے ہیں۔ ان کی تربیت ہی اس طرح ہوتی ہے کہ وہ حب الوطنی کے انمول جذبے سے سرشار رہتے ہیں۔ ہمارا تو فلسفہ حیات ہی یہ ہے کہ اگر میدانِ جنگ میں کام آئے تو شہید اور لوٹ آئے تو غازی۔ اس انمول فلسفہ حیات کو عملی طور پر بارہا ہم نے میدانِ کارزار میں ثابت کیا ہے اور راشد منہاس کی شہادت اسی فلسفہ بے بہا کی مثال ہے۔“
پاک فضائیہ کے سابق ایئر مارشل اے رحیم خان نے راشد منہاس کی شہادت پر ان جذبات کا اظہار کیا:
“اپنے وطن پر مر مٹنے والے راشد منہاس کی روایت قائم و دائم رہے گی۔ راشد منہاس میں وہ تمام صلاحتیں موجود تھیں جو اسے پاک ایئر فورس میں اعلٰی مقام دلانے میں ممد و معاون ثابت ہوتیں اور ایک دن وہ بہت بلند، اہم اور خاص مرتبے پر نظر آتا لیکن یہ کیسی خوش نصیبی کی بات ہے کہ راشد منہاس نے اپنے کیرئیر کی ابتداء ہی میں ایسا شاندار سر انجام دے ڈالا جس کی مثال کم کم ملتی ہے جس کے پیچھے جذبہ حب الوطنی کی تمام تر شدتیں کارفرما ہیں اور جس کے لئے صرف کوشش ہی نہیں وہ نصیب بھی درکار ہوتا ہے جو خاص خاص لوگوں کے حصے میں آتا ہے۔ راشد منہاس کو زندگی میں اپنے کیرئیر سے جو محبت اور اپنے شوق سے جو والہانہ لگن تھی اس کے پیچھے ان کا ایک بے پناہ جذبہ ہمیشہ کام کرتا رہا۔ اور وہ یہ تھا کہ ان کو اپنے اسلاف میں سے بہادر، شجاع اور دلیر لوگوں کے تذکرے سننے اور پڑھنے کا جنون تھا۔ جنگ سے متعلق مواد کسی بھی شکل میں ہو۔ ان کے لئے باعثِ کشش تھا۔ جنگی فلمیں وہ بے حد اہتمام سے دیکھا کرتے تھے۔“
راشد منہاس کے پاس اپنی*ذاتی چھوٹی سی لائبریری تھی جس میں شامل زیادہ تر کتابیں عسکری واقعات و شخصیات سے تعلق رکھتی تھیں۔ اس سے یہ بات بخوبی واضح ہو جاتی ہے کہ راشد منہاس کو ابتداء سے فوجی زندگی سے پیار تھا۔ ان کتابوں کے سر ورق عام طور پر جن تصاویر سے مزین ہیں وہ ٹینکوں، طیاروں اور اسلحے کی تصاویر ہیں۔
راشد منہاس کا ذاتی کمرہ جن شخصی تصویروں سے سجا ہوا تھا ان میں افواجِ پاکستان کے جرنیلوں اور بہادروں کی تصاویر کی بہتات ہے۔ یہ تصاویر راشد منہاس نے اخباروں، رسالوں اور کیلنڈروں سے حاصل کی تھیں۔
ان تصویروں میں ایک خاص تصویر بہت کچھ کہتی نظر آتی ہے۔ اس تصویر میں پاکستان کا ایک فضائی مجاہد ہاتھ میں کپ لئے اپنے طیارے کے قریب کھڑا مسکرا رہا ہے۔ راشد منہاس نے اپنے ہاتھ سے اس تصویر کے نیچے ایک فقرہ لکھا ہے:
“دشمن اس جوان سے بہت ڈرتا ہے کیونکہ اس نے ستمبر 1965 کی جنگ میں اس کی خوب پٹائی کی تھی۔“
اس ایک فقرے میں راشد منہاس کی پوری شخصیت جھلکتی ہے۔ دشمن کو مارنے اور اس کو عبرت کا سبق سکھانے والا فضائیہ کا شاہین راشد منہاس کی اس طرح متاثر اور اس قدر امپریس کرتا ہے کہ وہ ایک فخریہ فقرہ اس کی تصویر کے نیچے لکھ کر وہ تصویر کمرے کی دیوار پر سجا لیتے ہیں۔ یہی وہ احساسِ تفاخر، جذبہ شجاعت اور حسن حب وطن ہے جس نے راشد منہاس کو آخری لمحات میں جنگ جیت لینے کا فیصلہ کرنے کا حوصلہ بخشا اور آج اس کی تصویر اور نام دشمن کے لئے تازیانہ عبرت بن چکا ہے۔

بےباک
12-07-2010, 10:52 AM
بہت خوب . کیاسچا واقعہ لگایا ھے ، راشد منہاس شہید کا شہید ہونا ہمارے لیے ایک مشعل راہ ہے
.......
آپ سے ایک درخواست ہے ، ان شہداء کی اگر تصاویر بھی لگا سکتے تو مزید اچھا لگتا ،

باقی آپ جو کام کر رہے ہیں ، ان کے کارنامے اجاگر کر رھے ہیں ، بہت ہی اچھا لگا،کام جاری رہے ،

تانیہ
12-08-2010, 10:40 PM
بہت زبردست...تھینکس فار شیئرنگ

بوبی
12-10-2010, 04:16 AM
بہت شکریہ عمران بھائی

گلاب خان
12-11-2010, 11:17 PM
مینے آپ کے سارے مزمون تو نھی دیکہے لکن جو دیکھے ان کی جتنی داد دو کم ہے بس اتنا کھو گا بھت خوب اور بھت لاجواب سب پر

انجینئرفانی
10-07-2012, 07:13 AM
پاک فضائیہ کے ہیرو۔پائلٹ آفیسر راشد منہاس شہید

pervaz khan
10-07-2012, 01:56 PM
خوبصورت شیئرنگ کے لیئے بہت شکریہ