PDA

View Full Version : چیف جسٹس اور ڈاکٹر ارسلان افتخار چوہدری



بےباک
06-06-2012, 08:01 AM
http://express.com.pk/images/NP_LHE/20120606/Sub_Images/1101540165-1.jpg
http://express.com.pk/images/NP_LHE/20120606/Sub_Images/1101540165-2.gif


روزنامہ ایکسپریس 6 جون 2012
۔۔۔۔۔۔۔
اس خبر کی بنیاد یہ ویڈیو جو نشر کی گئی ہے ،جس میں شاھین صہبائی صاحب نے کچھ حیران کن انکشافات کیے ،

http://www.youtube.com/watch?v=jdvoar755Wc
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
چیف جسٹس کا اپنے بیٹے پر لگے الزامات کا ازخود نوٹس
کہا جا رہا ہے کہ ریاض ملک نے ارسلان چوہدری کی مبینہ بدعنوانیوں کے تحریری، آڈیو اور وڈیو ہر طرح کے ثبوت اکھٹے کیے ہوئے ہیں جو وہ کچھ دنوں سے اسلام آباد سے پروگرام کرنے والے بعض اینکرز پرسنز کو باری باری دکھا بھی چکے ہیں۔
پاکستان کی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے اپنے بیٹے پر ایک کاروباری شخصیت سے مبینہ طور پر کروڑوں روپے کا فائدہ حاصل کرنے کے الزامات کا ازخود نوٹس لے لیا ہے۔

سپریم کورٹ میں اس معاملے کی سماعت بدھ سے ہی شروع ہو رہی ہے۔
بدھ کے روز ابتدائی سماعت چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بینچ کرے گا۔

سپریم کورٹ کےرجسٹرار فقیر حسین کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ کئی ٹی وی ٹاک شوز میں عدالتی عمل پر اثر انداز ہونے کے لیے کاروباری شخصیت ملک ریاض اور جسٹس افتخار محمد چوہدری کے بیٹے ڈاکٹر ارسلان افتخار کے درمیان کسی ’بزنس ڈیل‘ کا الزام عائد کیا گیا ہے۔

پریس ریلیز کے مطابق ٹاک شوز میں کہا گیا کہ ’ملک ریاض نے ڈاکٹر ارسلان کو تیس سے چالیس کروڑ روپے دیے اور ان کے غیر ملکی دوروں کو بھی سپانسر کیا‘۔

پریس ریلیز کے مطابق ’یہ عنایات ڈاکٹر ارسلان پر اس لیے کی گئیں تاکہ ان کے والد سپریم کورٹ کے چیف جسٹس، جسٹس افتخار چوہدری پر اثرانداز ہوکر ان کے دل میں ملک ریاض کے لیے نرم گوشہ پیدا کیا جا سکے۔ ایسا کرنے کا مقصد ملک ریاض کے خلاف سپریم کورٹ میں زیرِ التوا مقدمات میں حمایت حاصل کرنا تھا۔‘

پریس ریلیز کے مطابق چیف جسٹس نے ان خبروں کا نوٹس لیا ہے اور بدھ کو صبح ساڑھے نو بجے اس معاملے کی سماعت کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے اپنے بیٹے اور اٹارنی جنرل کے علاوہ پاکستان میں تعمیراتی شعبے کے کاروبار سے وابستہ شخصیت ملک ریاض کو بھی نوٹس جاری کیا ہے کہ وہ بدھ کو سماعت کے موقع پر عدالت میں پیش ہوں۔

ڈاکٹر ارسلان چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے سب سے بڑے بیٹے ہیں اور سرکاری ملازم تھے لیکن سنہ 2009 میں اپنے والد کی چیف جسٹس کے عہدے پر بحالی کے بعد اطلاعات کے مطابق انہوں نے نوکری سے استعفٰی دیدیا تھا۔

عدالت نے ارسلان چوہدری اور ریاض ملک کے ساتھ ساتھ اٹارنی جنرل آف پاکستان عرفان قادر کو بھی پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔ ملکی اور بین الاقوامی سطح پر بدھ کو اس معاملے میں ہونے والی عدالتی کارروائی کو دلچسپی کے ساتھ دیکھا جائے گا۔ یہ دوسرا موقع ہے کہ جسٹس افتخار چوہدری اپنے بیٹے ارسلان کی وجہ سے ایک مشکل صورتحال سے دوچار ہیں۔ اس سے قبل مارچ دو ہزار سات میں جب جنرل پرویز مشرف نے جسٹس افتخار چوہدری کو معطل کیا تھا تو ان کے خلاف دائر ریفرنس میں اپنے بیٹے ڈاکٹر ارسلان کو اپنا اثر و رسوخ استعمال کرتے ہوئے صوبائی محکمہ صحت سے پولیس سروس آف پاکستان میں اے ایس پی لگوانے کا الزام بھی تھا۔

ریاض ملک سے ناجائز مالی فوائد اٹھانے کے الزام کے مقدمے کی ابتدائی سماعت بدھ کو کھلی عدالت میں ہوگی۔ بدھ کو عدالت میں یقیناً ایک ڈرامائی صورتحال ہو گی جب چیف جسٹس کا بیٹا خود پر لگے الزامات کا جواب اپنے والد کی کھلی عدالت میں دے رہا ہوگا۔ چیف جسٹس کے لیے یہ ایک مشکل مرحلہ ہوگا اور دیکھنا یہ ہے کہ وہ اس سے کیسے نبٹتے ہیں۔

ارسلان پر الزام ہے کہ وہ اس وقت ریاض ملک کے ساتھ لین دین کر رہے تھے جب علی ریاض ملک کے خلاف عدالت میں مقدمات چل رہے تھے۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے ریاض ملک کے بیٹے علی ملک کے کریڈٹ کارڈز پر پاکستان اور پاکستان سے باہر ’عیاشی‘ کی اور وہ فرانس میں بھی تفریح کے لیے گئے تھے اور ان کا سارا خرچہ علی ملک نے برداشت کیا تھا۔ اس طرح یہ الزام بھی سامنے آیا ہے کہ چیف جسٹس کی فیملی لندن گئی تھی اور ان کا سارا خرچہ بھی علی ملک کے کریڈٹ کارڈز سے ادا کیا گیا تھا۔

علی ملک پر بحریہ ٹاؤن میں ہونے والی کار ریس میں ہلاک ہونے والے پانچ افراد کے قتل کی ایف آئی آر چیف جسٹس کے کہنے پر درج کی گئی تھی۔ ملک ریاض نے ہلاک ہونے والوں کے ورثاء سے دو کروڑ روپے قصاص کے طور پر ادا کرکے راضی نامہ کر لیا تھا۔ تاہم دو ماہ بعد عدالت نے کیس دوبارہ کھول دیا تھا۔ ریاض ملک کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ انہیں اس عدالتی اقدام پر خاصا رنج تھا اور وہ چیف جسٹس کو آئینہ دکھانے کی آڑ میں تھے۔ اس دوران کسی مشترکہ دوست نے ان کا تعارف ارسلان چوہدری سے کرایا جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ جاہ و حشمت کے خاصے دلدادہ ہیں۔

اس کیس کی سماعت کے دوران کئی اہم سوالات کھڑے ہونگے جن میں چیف جسٹس کا اپنی فیملی خاص طور پر بیٹے ارسلان سے تعلق بھی زیر بحث آئے گا اور یہ کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ اگر ان کے اہل خانہ اپنے وسائل سے زیادہ پر تعیش زندگی گزار رہے ہیں اور انہیں اس وقت تک اس کا احساس نہیں ہوا جب تک میڈیا میں اس حوالے سے چہ مگوئیاں شروع نہیں ہوگئیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مزید تفصیل دیکھیے ،
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسلام آباد ( مریم حسین) چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس افتخار محمد چوہدری اپنے بیٹے ارسلان کی وجہ سے ایک بار پھر مشکل صورتحال سے دوچار ہونے والے ہیں۔ چیف جسٹس کے بیٹے پر ملک کے پراپرٹی کنگ سمجھے جانے والی ایک کاروباری شخصیت سے چالیس کروڑ روپے لینے کا الزام سامنے آ رہا ہے، جس کے سارے ثبوت بھی موجود ہیں جو ’پراپرٹی کنگ‘ آج کل اسلام اباد کے صحافیوں کو گھر بلا بلا کر دکھا رہے ہیں۔

پراپرٹی کنگ تقریباً ہر چھوٹے بڑے ٹی وی اینکر پرسن کو گھر بلا کر ارسلان کے خلاف اپنے الزامات کے دستاویزی ثبوت اور اس کی ویڈیوز دکھا چکا ہے کہ کیسے چیف جسٹس کا بیٹا ساؤتھ آف فرانس میں چھٹیاں گزارنے گیا تھا اور اس کی ادائیگی کس نے کی اور کس اکاؤئنٹ سے ان کے سفر کے اخراجات ادا کیے گئے تھے۔ لندن میں میریٹ ہوٹل میں رہائش کے اخراجات بھی اس کارڈ سے ادا کیے گئے ہیں جو اس پراپرٹی کنگ کے بیٹے کے نام پر ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اسلام آباد میں اس وقت سب کو علم ہے کہ چیف جسٹس کے بیٹے کے خلاف سکینڈل تیار ہے اور کسی لمحے بھی سامنے آ سکتا ہے۔

تاہم کچھ قابل اعتماد زرائع کے مطابق کسی زمانے میں جسٹس افتخار چوہدری اور اب وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کے وکیل بیرسٹر اعتزاز احسن کوشش کر رہے ہیں کہ کسی طرح اس معاملے کو دبا دیا جائے۔ وہ اس سلسلے میں فریقین سے مسلسل ملاقاتیں کر رہے ہیں اور ان کی چیف جسٹس سے ملاقات کی خبر بھی اسلام آباد میں پھیلی ہوئی ہے۔

جسٹس افتخار چوہدری کے بیٹے کا نام پہلی بار اس وقت سامنے آیا تھا جب جنرل پرویز مشرف انہیں چیف جسٹس کے عہدے سے فارغ کرتے ہوئے ایک ریفرنس دائر کیا تھا جس میں بتایا گیا تھا کہ کیسے ڈاکٹر ارسلان کو بلوچستان کے صوبائی محکمہ صحت سے وفاقی حکومت کے محکمہ پولیس میں اے ایس پی لگوایا گیا تھا۔

مختلف ذرائع سے اکھٹی کی جانے والی اطلاعات کے مطابق پچھلے پراپرٹی کنگ نے ارسلان کے مزاج کو سمجھتے ہوئے اس وقت سے اس پر کام شروع کیا ہوا تھا جب سے اس کے ایک پراپرٹی علاقے میں کار ریس ہوئی جس میں پانچ لوگ مارے گئے تھے اور چیف جسٹس نے اس پر سو موٹو لے کر مذکورہ پراپرٹی کنگ کے بیٹے پر ایف آئی آر درج کرا دی تھی۔ پراپرٹی کنگ کا بیٹا بیرون ملک فرار ہوا تو عدالتی حکم پر اسے واپس ملک لایا گیا اور اس کے خلاف قتل کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا۔ اس کے ساتھ ہی ہلاک ہونیوالے افراد کے ورثاء کو دوکروڑ روپے قصاص کے طور پر دلائے گئے۔ لیکن پھر کچھ عرصہ بعد کیس کو دوبارہ کھول دیا گیا۔

اس صورتحال میں پراپرٹی کنگ ارسلان کے قریب ہوا جس میں اسے وزیراعظم گیلانی کے قریبی سمجھے جانے والے ایک بزنس مین احمد خلیل کی معاونت بھی حاصل تھی۔ جلد ہی ارسلان پراپرٹی کے کاروبار میں مصروف پائے گئے اور انہیں مختلف طریقوں سے چالیس کروڑ روپے کی ناجائز ادائیگیاں کی گئیں۔ اسی طرح ارسلان نے اسی پراپرٹی کنگ کے پیسوں پر بیرون ملک سیر و تفریح بھی کی جس کے دستاویزی ثبوتوں کے ساتھ ساتھ آڈیو اور وڈیو ثبوت بھی محفوظ کیے گئے۔ یہ سب ثبوت اب صحافیوں کو دکھائے جا رہے ہیں۔
اب تک جن اینکرز کو یہ ثبوت دکھائے گئے ہیں ان میں حامد میر، کامران خان، نجم سیٹھی وغیرہ شامل ہیں اور ان سب کا تعلق جنگ گروپ سے ہے۔ پاکستان کے مشہور کالم نگار ہارون الرشید نے اپنے کالم میں پہلی دفعہ اس سکینڈل کے بارے میں یہ اشارہ دیا تھا کہ چیف جسٹس کے بیٹے کے خلاف الزام تراشی کی ایک نئی مہم شروع ہونے والی ہے۔ ان کا اشارہ اس سکینڈل کی طرف تھا جس کے بارے میں اب اسلام آباد کا ہر صحافی جانتا ہے تاہم ابھی تک اس کی تفصیلات سامنے نہیں لائی گئی ہیں۔ انصار عباسی نے بھی سوموار کو اپنے کالم میں اس طرف اشارہ کیا ہے تاہم انہوں نے بھی اس بارے میں مکمل بات نہیں کی اور اشاروں کنایوں میں بات کی کہ ان کا اشارہ کس طرف ہے اور کون حکومتی سازش کا شکار ہونے والا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ انصار عباسی بھی ان صحافیوں میں شامل تھے جنہیں پراپرٹی کنگ نے بلا کر ثبوت دکھائے تھے۔

دی نیوز کے گروپ ایڈیٹر شاہین صہبائی نے پنتیس منٹ کے اپنے ایک ویڈیو انٹرویو میں پوری تفصیل سے اس سکینڈل پر روشنی ڈالی ہے۔ یہ علیحدہ بات ہے کہ انہوں نے اسے حکومت کی سازش سے تعبیر کیا ہے اور بچ بچا کر بات کرنے کی کوشش کی ہے جس کا مطلب یہ تھا کہ سارا سکینڈل بھی سامنے آجائے اور ان پر کوئی بات بھی نہ آئے۔شاہین صہبائی نے اسے ’فیملی گیٹ‘ سکینڈل کا نام دیا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ایک مشہور برٹش خاتون صحافی جو پاکستان کے بارے میں سکینڈل چھاپتی رہتی ہیں کے ساتھ بھی اس پراپرٹی کنگ کی بات چیت ہوئی ہے اور اسے وہ تمام ثبوت حوالے کیے گئے تھے تاکہ وہ لندن میں سنڈے ٹائمز میں وہ سکینڈل چھاپ سکے۔ تاہم یہ سکینڈل اب تک نہیں چھپ سکا کیونکہ بتایا جارہا ہے کہ اس خاتون رپورٹر کے ساتھ یہ بات باقاعدہ تحریری طور پر طے ہوا ہے کہ وہ اس وقت شائع کرے گئی جب اسے کہا جائے گا۔ ایک وقت یہ بھی پلان کیا گیا تھا کہ اس سکینڈل کو اس وقت چھاپا جائے جب چیف جسٹس لندن میں اپنا ایوارڈ لینے کے لیے پچھلے ہفتے گئے تھے۔ تاہم بعد میں اعتزاز احسن کی مداخلت سے بات وقتی طور پر رک گئی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔
بشکریہ۔ٹاپ سٹوری آن لائن

KHURSHEED AHMAD
06-06-2012, 12:26 PM
Now it is time to show real faces