PDA

View Full Version : حمام کا مالک ۔ ملک ریاض



بےباک
06-10-2012, 09:12 AM
http://express.com.pk/images/NP_LHE/20120610/Sub_Images/1101543590-1.jpg
http://express.com.pk/images/NP_LHE/20120610/Sub_Images/1101543590-2.gif
ایکسپریس نیوز 10 جون 2012

بےباک
06-10-2012, 09:37 AM
http://ummat.com.pk/story/wp-content/uploads/2012/06/120610-s1.gif
http://ummat.com.pk/story/wp-content/uploads/2012/06/120610-s1a.gif
http://ummat.com.pk/story/wp-content/uploads/2012/06/120610-s2.gif
http://ummat.com.pk/story/wp-content/uploads/2012/06/120610-s2a.gif

بےباک
06-11-2012, 10:57 AM
http://ummat.com.pk/2012/06/11/images/news-09.gif

بےباک
06-11-2012, 11:00 AM
http://ummat.com.pk/2012/06/11/images/news-12.gif
http://ummat.com.pk/2012/06/11/images/news-18.gif

بےباک
06-11-2012, 11:05 AM
http://ummat.com.pk/story/wp-content/uploads/2012/06/120611-s2.gif
http://ummat.com.pk/story/wp-content/uploads/2012/06/120611-s2a.gif

بےباک
06-11-2012, 11:20 AM
جسٹس افتخار اور ایک نئی یلغار (1)...نقش خیال…عرفان صدیقی
مصحفی کے اس طرحدار شعر کی خوبصورتی مجھے اکسا رہی ہے ورنہ میں جانتا ہوں کہ کدورتوں اور نفرتوں سے بہری اس بے ذوق جنگ کا اس شعر سے کوئی ناتا نہیں۔ چلی بھی جا جرس غنچہ کی صدا پہ نسیم کہیں تو قافلہ نوبہار ٹھہرے گا باد نسیم کا غنچوں کے چٹکنے کی دلربا آواز کے تعاقب میں چلتے چلے جانا، چلتے چلے جانا کہ کہیں تو رنگ و خوشبو سے لدی اس بہار تازہ کا قافلہ رکے گا اور لمبے ہجر کی ماری لطیف ہوا لذت وصل سے ہمکنار ہوگی، کیا اچھوتا خیال ہے اور کس عمدگی سے ادا ہوا ہے۔ ایک تازہ یلغار کی زد میں آئی عدلیہ، بعض دلوں کی چمنیوں سے اٹھتا بغض و کدورت کا دھواں اور بعض خزاں رسیدہ چہروں پر یکایک کھل اٹھنے والی بشاشت سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ سب کچھ وہی نہیں جو دکھائی دے رہا ہے، کہانی کے پس پردہ بھی ایک کہانی موجود ہے۔ اس کہانی کے مشاق اور ہنر مند کردار بھیس بدلنے کی زبردست صلاحیت رکھتے ہیں لیکن بدلتے موسموں کے تیور ایسے ہیں کہ اپنے چہرے پر کئی چہرے چڑھا لینے کی قدرت رکھنے والے فنکار بھی اپنی شناخت کو چھپا نہ پائیں گے۔ بہر رنگے کہ خواہی جامہ می پوش من انداز قدت رامی شناسم تو چاہے جس بھی رنگ کی پوشاک پہن لے اور جو بھی بھیس بنا لے، میں تجھے تیرے قد و قامت کے انداز سے پہچان جاتا ہوں۔ سو شاید چہرے بے نقاب ہونے کی رت آگئی ہے۔ جرس غنچہ کی صدا پہ سفر کرتی باد نسیم کو قافلہ نو بہار کی کوئی منزل ملے نہ ملے، اسلام آباد کے سٹیج کا یہ تازہ ناٹک بہرحال لکھے گئے سکرپٹ تک محدود نہیں رہے گا۔ بظاہر کہانی اس قدر ہے کہ بحریہ ٹاؤن کے مالک، ملک ریاض حسین نے اپنے درجنوں مقدمات سے نجات پانے یا اپنے من پسند فیصلے حاصل کرنے کے لئے پاکستان کے چیف جسٹس عزت مآب افتخار محمد چودھری پر بھی وہی نسخہ آزمانے کی کوشش کی جو وہ راولپنڈی اور گردو نواح کے پٹواریوں، گرداوروں اور تحصیل داروں پر آزماتے رہے ہیں۔ فائل کو پہئے لگانے، کی حکمت عملی سے ملک صاحب نے کبھی انکار نہیں کیا۔ وہ نجی محفلوں میں ہی نہیں، ٹی وی پروگراموں میں بھی عملیت پسندی کے اس فلسفے کا کھلا اظہار کرتے رہے ہیں۔ ان کی اس بات میں خاصا وزن بھی ہے۔ کرپشن سے لت پت اس ملک میں جہاں پٹواریوں سے سیکریٹریوں اور وزراء یا شاید ان سے بھی ذرا اوپر کی سطح تک، چھوٹے بڑے دہانوں والی شارک مچھلیاں اپنے بھیانک جبڑے کھولے جھپٹ رہی ہوں، بحریہ ٹاؤن جیسے منصوبے کو صاف شفاف طریقے سے آگے بڑھانا آسمان میں تھگلی لگانے کے مترادف ہے۔ یہاں تو فٹ پاتھ پر ریڑھی لگانے اور گلی کی نکڑ پر کھوکھا چلانے والے کو بھی کوچہ و بازار کے ارباب اختیار کی مٹھی گرم کرنا پڑتی ہے۔ سو ملک صاحب نے جو کچھ پایا، بنایا اور کمایا، سب زمینی حقائق کے گہرے شعور اور ان کی عملیت پسندی کا ثمر ہے۔ درجنوں مقدمات سے زچ، بحریہ ٹاؤن نے برسوں پہ محیط اپنی آزمودہ اور کامیاب حکمت کار کے تحت جسٹس افتخارمحمد چوہدری کے قلعے میں نقب لگانے کے لئے ان کے صاحبزادے ارسلان افتخار کوشیشے میں اتارا۔ بعد کی کہانی کے خاصے اجزاء منظر عام پر آچکے ہیں۔ خلاصئہ کلام یہ ہے کہ مبینہ طور پر ارسلان افتخار پر کم و بیش بتیس کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کی گئی۔ کوئی فائدہ حاصل نہ ہوا تو پیمانہ چھلک گیا۔ جس پر ملک صاحب نے اس سرمایہ کاری کے شواہد بعض صحافیوں اور اعتزاز احسن کو دکھائے۔ سنڈے ٹائمز کی کرسٹینا لیمب کو بھی یہ سٹوری دی گئی۔ پہلی سوچ یہ تھی کہ یہ دھماکہ عین اس دن ہو جس دن جسٹس افتخار محمد چوہدری ایک بڑا عالمی اعزاز وصول کرنے لندن میں موجود ہوں لیکن کسی وجہ سے یہ منصوبہ ترک کردیا گیا۔ چیف جسٹس نے میڈیا کی سرگوشیاں سنتے ہی معاملے کا سویو موٹونوٹس لیا اور پھر ضابطہ اخلاق کی پاسداری کرتے ہوئے خود بینچ سے الگ ہوگئے۔ امکان ہے کہ اب نسبتاً بڑا بینچ اس مقدمے کی سماعت کرے گا اور اہل پاکستان کو توقع ہے کہ عدلیہ اپنی عزت و حرمت کا پرچم سربلند رکھتے ہوئے قانون و انصاف کے تقاضوں پہ کوئی آنچ نہیں آنے دے گی۔ لیکن سوالات کا ایک جنگل ہے کہ پھیلتا چلا جا رہا ہے۔ کہانی الجھی ہوئی ہے اور بقول افتخار عارف کہانی آپ الجھی ہے کہ الجھائی گئی ہے یہ عقدہ تب کھلے گا جب تماشا ختم ہوگا تماشا ختم ہونے میں ابھی کچھ دیر لگے گی۔ لوگ کہتے ہیں، کیا ارسلان کو ایک منصوبے کے تحت جال میں پھانسا گیا؟ اس پہ نوازشات کی بارش کی گئی۔ ہر ایک چیز کا ریکارڈ رکھا گیا۔ یہاں تک کہ وڈیو فلمز بنائی گئیں۔ اتنی محنت مشقت اور سرمایہ کاری اس لئے نہیں ہوسکتی کہ فلم ریلیز کئے بغیر کسی ڈبے میں بند کردی جائے۔ جڑا ہوا سوال یہ پوچھا جاتا ہے کہ کیا ارسلان افتخار اتنا ہی سادہ و معصوم تھا کہ نوازشات کی اس برسات میں جل تھل ہوتا رہا اور اسے کچھ اندازہ نہ ہو پایا کہ بحریہ ٹاؤن اس پر اس قدر مہربان کیوں ہو گیا ہے؟ آج کل تو جب کوئی آدمی دونوں ہاتھوں سے مسکراتے ہوئے ذرا جھک کر مصافحہ کرے تو ماتھا ٹھنکتا ہے کہ ضرور اسے کوئی کام ہے۔ ارسلان افتخار کیوں نہ بھانپ سکا کہ نوازش ہائے بے جا کا سبب کیا ہے؟ پھر ایک نئے سوال کی کونپل پھوٹتی ہے کہ جب ارسلان کی نااہلی عیاں ہوگئی تھی اور وہ بحریہ ٹاؤن کو کسی طرح کا کوئی ریلیف دینے میں کامیاب نہیں ہوسکا تھا بلکہ چار درجن کے لگ بھگ تمام مقدمات کے فیصلے بحریہ ٹاؤن کے خلاف آئے تو ارسلان پر سرمایہ کاری کا سلسلہ کیوں جاری رہا؟ پاؤ بھر دودھ نہ دینے والی بانجھ بھینس کی کھرلی میں کئی برس تک لذیز چارہ کیوں ڈالا جاتا رہا؟ ملک صاحب خود بھی کہتے ہیں اور پاکستانی قوم بھی یہ سمجھتی ہے کہ عزت مآب چیف جسٹس کا اس کھیل سے دور کا واسطہ بھی نہ تھا لیکن پھر یہ چبھتا ہوا سوال کہ ایک زیرک اور جہاں دیدہ شخص اپنے بیٹے کے طور اطوار سے اس قدر بے خبر اور لا تعلق کیسے رہا؟ ہماری تہذیب و معاشرت میں تو والدین بچوں کی آنکھوں میں جھانک کر، ان کے دلوں کی دھڑکنیں تک پڑھ لیتے ہیں۔ پھر یہ سوال کہ اگر ارسلان افتخار کے لئے ایک جال بنا گیا تو کیا ملک ریاض حسین یہ جال بننے والے گروہ میں شامل ہیں؟ اگر شامل ہیں تو ان کا مفاد کیا ہے؟ پاکستان کا سب سے موثر اور سب سے مقتدر کاروباری ہوتے ہوئے، ایک عظیم الشان بزنس رکھنے والا شخص کیوں چاہے گا کہ وہ اپنی ذات اور اپنے کاروبار کو ایک بڑے خطرے سے دوچار کرتے ہوئے اس طرح کی مہم جوئی کا آلہ کار بنے؟ کاروباری لوگ بنیادی طور پر حکمت کے ساتھ راستہ تراشنے والے مصلحت کیش ہوتے ہیں۔ بارودی سرنگیں بچھانا اور دھماکے کرنا ان کی فطرت میں نہیں ہوتا۔ ملک ریاض حسین کی تو پوری زندگی اس فلسفے سے عبارت رہی ہے؟ تو کیا ارسلان کی طرح ملک صاحب بھی کسی جال میں آگئے؟ اگر ایسا نہیں تو پھر یہ سوال کہ ملک ریاض حسین جیسے ہنر کار اور بحریہ ٹاؤن جیسا مثالی جہان نو آباد کرنے والے بہترین منصوبہ ساز نے جس کے لئے 32 کروڑ روپے کا کڑوا گھونٹ بھر کر سب کچھ بھول جانا کوئی مشکل کام نہ تھا۔ اپنی ذات اپنے خاندان اور اپنے اربوں کھربوں کے کاروبار کو داؤ پر کیوں لگادیا؟ اور پھر سب سے بڑا سوال کہ کیا پس پردہ بیٹھے کچھ زخم خوردگان کے لئے افتخار محمدچوہدری اسی طرح ناقابل برداشت ہوگیا ہے جس طرح وہ روسیاہ ڈکٹیٹر کے لئے ہوگیا تھا؟ (جاری ہے)
۔۔۔۔۔۔

جسٹس افتخار اور ایک نئی یلغار(2)...نقش خیال…عرفان صدیقی
ملک ریاض حسین ایک کشادہ دست اور فراخ دل انسان ہیں۔ غریبوں، مسکینوں، یتیموں، بیواؤں اور حاجت مندوں، کی بہت بڑی تعداد اُن کے سائبان خیر تلے پرورش پارہی ہے۔ سیاق و سباق سے قطع نظر، بحریہ ٹاؤن اُن کی انتظامی صلاحیتوں، اُن کے ذوق اور اُن کی ہنر مندی کا ایسا شاہکار ہے جس کی نظریں عالمی سطح پر بھی کم کم ہی ملتی ہیں۔ اُن کی فراخ دلی اور کشادہ دستی ہی کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ وہ اپنے راستے کی رکاوٹیں دور کرنے اور کاروباری معاملات کو رواں رکھنے کے لئے سرکار کے ہر ادنیٰ و اعلیٰ اہلکار کو منہ مانگی قیمت دینے کے لئے تیار رہتے ہیں۔ بڑے بڑے عہدوں پہ بیٹھے لوگ اُن کی اس کشادہ دستی سے فیض یاب ہوتے اور اُن کی راہوں کے کانٹے چنتے رہتے ہیں۔ ریٹائرمنٹ کے بعد بھی ملک صاحب کی مروت ان کی دست گیری کرتی رہتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اپنے دور ملازمت میں جاہ وجلال کی حشر سامانیاں دکھانے اور سمندروں میں ایک تلاطم سا اٹھا دینے والے بڑے بڑے فوجی افسران، آج بحریہ ٹاؤن کی شاداب چراگاہوں میں منہ مارہے ہیں۔ ملک صاحب دوستوں کے دوست ہیں لیکن دشمنوں سے دشمنی کرتے ہوئے بھی کبھی آپے سے باہر نہیں ہوتے۔ قربت، بے تکلفی یا راز ونیاز میں تھوڑے یا زیادہ فرق کے ساتھ تقریباً تمام قد آور سیاسی شخصیات سے ان کا میل جول ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ پاکستان میں سیاسی موسم بڑی تیزی سے بدلتے رہتے ہیں۔ لہٰذا وہ بہار اور خزاں کی ساری رُتوں سے رابطے قائم رکھتے ہیں۔ پاکستان میں ایک کامیاب کاروباری شخصیت کے لئے یہ سب کچھ ناگزیر ہے۔ سیاستدانوں اور مقتدر بیوروکریسی کے ساتھ اس تعلق کی بنیاد محبت نہیں، ضرورت ہوتی ہے۔ لیکن بہت سے لوگوں کو محسوس ہوا کہ 2008ء میں پیپلزپارٹی کی حکومت بننے کے بعد ملک صاحب کسی طور صدر آصف علی زرداری کے بہت قریب آگئے بلکہ اُن کے حلقہٴ خاص کی سب سے نمایاں کرسی پہ جابیٹھے۔ اُن کا رشتہ و تعلق دوسرے سیاستدانوں بالخصوص میاں شہباز شریف اور کسی حد تک میاں نواز شریف سے بھی رہا لیکن عملاً وہ اپنا روایتی توازن قائم نہ رکھ سکے اور اُن کا پلڑا پوری طرح صدر آصف علی زرداری کی طرف جھک گیا۔ بلاشبہ وہ اس عہد کے بادشاہ گر بن گئے اور اسلام آباد میں اُن کا گھر نہ صرف قومی سیاست کی کارگاہ بلکہ ہواؤں کو مرضی کا رُخ دینے والی زور آور ایجنسیوں کی آماجگاہ بھی بن گیا۔ ملک صاحب غیرمحسوس طور پر ایک ایسے منطقے میں جانکلے جہاں اُنہیں مافوق الفطرت صلاحیتیں حاصل ہوگئیں۔ اب وہ پھونک سے کسی ہاتھی کو مکھی اور کسی مکھی کو ہاتھی بناسکتے تھے۔ اُنہیں اپنی اس نو دریافت قوت سے کھیلنے میں مزا آنے لگا۔ وہ کھیلتے رہے اور توازن بگڑتا چلا گیا۔ اس سارے عرصے میں شاید وہ بھول گئے کہ جادو نگریاں بڑی بے رحم ہوتی ہیں اور الہ دین کے چراغ والا جن، اپنے اہداف و مقاصد بھی رکھتا ہے۔ یہی سبب ہے کہ لوگ ملک صاحب اور ارسلان افتخار کے معاملے کو دو افراد کے درمیان کاروباری تنازعہ یا لین دین کا مسئلہ نہیں سمجھتے۔ اگر یہ باور بھی کرلیا جائے کہ ملک صاحب نے اپنے کچھ کام نکالنے کے لئے ارسلان افتخار پر کروڑوں کی سرمایہ کاری کی تو بھی ملک صاحب کو جاننے والوں کے لئے یہ بات ناقابل یقین ہے کہ وہ ان نوازشات کی اتنی عمدگی کے ساتھ دستاویز بندی کریں گے۔ پیشہ ور لوگوں سے وڈیوز تیار کرائیں گے اور ایک ایسے وقت میں جب انتہائی اہم مقدمات عدالت کے روبرو ہیں، وہ ایک خاص پلان کے تحت برطانوی اور پاکستانی اخبار نویسوں کو ایسی خوفناک اسٹوری لیک کردیں گے۔ بیس کروڑ روپے ملک صاحب کی تجوری میں وہی حیثیت رکھتے ہیں جو اونٹ کے منہ میں زیرہ۔ وہ اس زخم کو بھلا کر اپنی افتاد طبع اور روایت کے مطابق کوئی نیا راستہ نکال سکتے تھے۔ جیسا کہ میں نے کل عرض کیا تھا، ”یہ بات بھی ہضم ہونے والی نہیں کہ ایک دھیلے کا کام نہ کراسکنے والے ارسلان پر، کئی برسوں پر محیط کروڑوں کی سرمایہ کاری کیوں کی جاتی رہی“۔ سو ملک صاحب کے حوالے سے تمام تر خوش گمانیوں کو بروئے کار لاتے ہوئے بھی نہایت نوکیلے سوالوں کے جواب نہیں مل پارہے ہیں۔ جب واضح اور تسلی بخش جواب نہ ملیں تو بدگمانیاں اگتی ہیں، شکوک و شبہات سراٹھاتے ہیں، سازشوں کی فصل لہلہاتی ہے اور چوپال بھانت بھانت کی بولیوں سے چھلکنے لگتے ہیں۔ بلاشبہ جسٹس افتخار محمد چوہدری، کچھ دلوں میں کانٹے کی طرح کھٹکتے ہیں۔ ایک تحریری معاہدے کے باوجود ایک سال تک مشرف کے عتاب کا نشانہ بننے اور آمریت کے قلعے پر پہلی کاری ضرب لگانے والے افتخار محمد چوہدری اور دیگر جج صاحبان کو بحال نہ کرنا اور ڈوگر عدلیہ سے دل لگا لینا، اس حکومت کی سوچ کی ترجمانی کررہا تھا۔ لانگ مارچ کے نتیجے میں 15/مارچ 2009ء کی شب، پچھلے پہر کی ڈوبتی ساعتوں میں ججوں کی بحالی کا اعلان، حکومت کا اختیاری فیصلہ نہ تھا۔ اُس نے آج تک اس عدلیہ کو کھلے دل سے تسلیم نہیں کیا۔ این آر او سے وزیراعظم کی سزا تک درجنوں فیصلے حکمرانوں کو پسند نہیں آ ئے۔ اور وہ عدلیہ سے جنگ آزما ہیں۔اسی دوران لاپتہ افراد کے حوالے سے چیف جسٹس کی حالیہ فعالیت بھی زور آور بارگاہوں پر یقیناً گراں گزری ہے۔ اڈیالہ جیل کے گیارہ قیدیوں کا معاملہ بھی کچھ قوتوں کو آسانی سے ہضم نہیں ہوا۔ کوئٹہ میں بیٹھ کر جناب چیف جسٹس نے یہاں تک کہہ دیا کہ بیشتر لاپتہ افراد کا کھرا ایف سی کی طرف جاتا ہے۔ یہ بھی پیش نظر رہے کہ پی پی پی کی مخلوط حکومت کے دائیں بائیں بیٹھے لوگ وہی ہیں جنہوں نے 12/مئی کا خونیں المیہ رقم کیا تھا اور جو افتخار چوہدری کے خلاف کیلوں جڑے ڈنڈوں والے جلوس نکالتے تھے۔ سو اختیار اور اقتدار کی بارگاہیں اسی طرح کی بو باس سے بھرگئی ہیں جو 9/مارچ2007ء کو راولپنڈی کے آرمی ہاؤس میں آبیٹھی تھی۔ تب ڈکٹیٹر بھول گیا تھا کہ تقدیریں قادر مطلق کے ہاتھ ہوتی ہیں اور آج تین برس سے بس گھولتی اور افتخار چوہدری کو کسی گرداب کی نذر کردینے کی آرزومند قوتیں سرگرم ہوگئی ہیں کہ بحریہ ٹاؤن اور ارسلان چوہدری کے معاملے کو کھینچ تان کر جسٹس افتخار محمد چوہدری تک لے جائیں اور اُس نئی عدلیہ کے قلعے کا وہ مرکزی ستون گرادیا جائے جس نے کرپٹ، بدعنوان اور بدنظم حکمرانوں اور خودسر قوتوں کو کسی حد تک لگام ڈال رکھی ہے۔ بحریہ ٹاؤن اور ارسلان چوہدری کا یہ معاملہ ان افتخار بیزار عناصر کے لئے ایک ”جواز“ بنتا جارہا ہے۔ پہلے وزیراعظم کے ایک مشیر باتدبیر، جو تب پرویز مشرف کی ہمنوائی میں جسٹس افتخار چوہدری پہ کوڑے برسارہے تھے، گویا ہوئے کہ افتخار چوہدری کو مستعفی ہوجانا چاہئے۔ پھر حامد میر کے کیپٹل ٹاک میں معقول بات کرنے والے ندیم افضل چن نے ملک صاحب کو اپنا آئیڈیل قرار دیتے ہوئے اسی نوع کا مطالبہ کیا۔ پھر پنجاب کے گورنر سردار لطیف کھوسہ نے یہی راگ الاپا۔ قومی اسمبلی میں، حج اسکینڈل کے شہرت یافتہ حضرت حامد سعید کاظمی نے یہی مطالبہ کرڈالا۔ راجہ ریاض نے بھی بقدر توفیق حصہ ڈال دیا۔ کیا یہ سارا کھیل اسی مطالبے کے لئے کھیلا گیا؟ اور کیا ملک ریاض حسین کو استعمال کرلیا گیا؟ ملک صاحب کا دعویٰ ہے کہ جب انہوں نے صدر زرداری کو اعتماد میں لیا تو صدر نے انہیں اس سے روکا۔ ہمارے پاس اس دعوے کی تردید یا تصدیق کا کوئی ذریعہ نہیں۔ اگر ملک صاحب کا یہ سارا مقدمہ، اُن کی ذاتی سوچ اور صرف اُن کے اپنے فیصلے پر منحصر ہے تو بھی پیپلزپارٹی کو افتخار بیزار حکمت عملی کے لئے بہانہ مل گیا ہے۔ اُردو کا محاورہ ہے ”بلی کے بھاگوں چھینکا ٹوٹا“۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ محض اتفاق یا خوش قسمتی سے کسی کی مراد بر آئے۔ پی پی پی مسلسل عدلیہ کی طرف جھپٹ رہی تھی۔ اب اس نے ایک بودا سا جواز تراش لیا ہے لیکن جس قادر مطلق نے،9/مارچ 2007ء کو، آرمی ہاؤس میں، کئی باوردی جرنیلوں کے نرغے میں آئے ہوئے افتخار چوہدری کو”حرف انکار“ کا حوصلہ دیا تھا، یقیناً وہ اب بھی اُسے تنہا نہ چھوڑے گا۔ ارسلان افتخار اور ملک ریاض کے ساتھ بلا رو و رعایت، دستور و قانون کے مطابق سلوک ہونا چاہیے۔ ہر ایک کو اپنے اپنے قصور کے مطابق سزا ملنی چاہیے لیکن وکلاء برادری اورسول سوسائٹی کو ایک بار پھر اپنا کردار بھی ادا کرنا چاہیے۔ اگر 9/مارچ 2007ء کی مکروہ تاریخ اپنے آپ کو دہرانے چلی ہے تو وکلاء اور سول سوسائٹی کو بھی اپنی تابندہ و درخشندہ تاریخ دہرانے کیلئے کمربستہ ہوجانا چاہئے۔ افتخار چوہدری کے خلاف تازہ یلغار اپنے اندر ایک طوفان سمیٹے ہوئے ہے۔ اُسے تنہا چھوڑ دینا، پاکستان کو منہ زور اور خونخوار عفریتوں کا جنگل بنادینے کے مترادف ہوگا۔

بےباک
06-12-2012, 09:36 PM
http://ummat.com.pk/story/wp-content/uploads/2012/06/120612-s1.gif
http://ummat.com.pk/story/wp-content/uploads/2012/06/120612-s1a.gif
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
http://ummat.com.pk/story/wp-content/uploads/2012/06/120612-s21.gif
http://ummat.com.pk/story/wp-content/uploads/2012/06/120612-s2a.gif
،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،، ،،،،
http://ummat.com.pk/story/wp-content/uploads/2012/06/120612-s3.gif
http://ummat.com.pk/story/wp-content/uploads/2012/06/120612-s3a.gif

بےباک
06-12-2012, 09:52 PM
عدلیہ کا ڈان ارسلان افتخار ہے ‘ ملک ریاض

http://dunyanews.tv/news/2012/June/06-12-12/news_big_images/84727_84993771.jpg
چیف جسٹس بتائیں کہ رات کے اندھیرے میں مجھ سے کتنی ملاقاتیں ہوئی ہیں؟ ۔۔۔۔۔۔۔۔
احمد خلیل کی رہائشگاہ پر وزیراعظم اور چیف جسٹس کی ملاقات ہوئی ۔۔۔۔۔۔۔۔
کیا ارسلان مجھے نہیں جانتا اور کیا ان ملاقاتوں میں موجود نہیں تھا؟ ۔۔۔۔۔۔۔
بحریہ ٹان پروجیکٹ ڈبویا گیا تو ذمہ دار سپریم کورٹ ہو گی ۔۔۔۔۔۔۔۔
بحریہ ٹان کے سر براہ کا پریس کانفرنس سے خطاب ۔۔۔۔۔۔۔
اسلام آباد ‘(اردو ویب نیوز) ارسلان افتخار کیس کے مرکزی کردار اور بحریہ ٹان کے سر براہ ملک ریاض نے کہا ہے کہ میں آج قرآن پاک لیکرآیا ہوں، آج کے بعد میں کوئی کاروبا رنہیں کرونگا،ہماراپروجیکٹ بھی ڈبویاگیاتوذمہ دارسپریم کورٹ ہوگی،اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران ملک ریاض نے چیف جسٹس آف پاکستان سے تین سوال کئے کہ رات کے اندھیرے میں کتنی ملاقاتیں ہوئی ہیں،کیا ارسلان مجھے نہیں جانتا اور کیا ان ملاقاتوں میں موجود نہیں تھا؟۔انہوں نے کہا کہ میں غریب آدمی تھا پیسہ نہ ہونے کی وجہ سے آٹھ،آٹھ کلو میٹر پیدل چلتا تھا ،بیٹی کے علاج کیلئے بھی میرے پاس رقم نہیں تھی لیکن آج میرے پاس جو کچھ ہے وہ اللہ کی دین ہے اور میرے75فیصداثاثے فلاحی مقاصدکیلئے استعمال ہورہے ہیں۔میں بلیک میل ہوتارہاہوں،میری طرح اوربھی بزنس مین بلیک میل ہوتے رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ چیف جسٹس کی میں آج بھی عزت کرتا ہوں،میں نے اپنے کالموں میں ہمیشہ چیف جسٹس پاکستان کی حمایت کی ہے لیکن ارسلان افتخار “ڈان”ہے۔آج میں سپریم کورٹ انصاف خریدنے نہیں گیاتھا حقائق بیان کرنے گیا تھا ،انہوں نے کہا اگلے ہفتے مزید ایک پریس کانفرنس کروں گا جس میں مزید بم گراؤں گا۔ ملک ریاض نے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار چوہدری کے بیٹے پر الزامات کی بارش کردی۔ انہوں نے قرآن ہاتھ میں لے کر چیف جسٹس سے پوچھا کہ وہ بتائیں رات کے اندھیرے میں ان سے کتنی ملاقاتیں کیں ۔ انہوں نے قرآن پاک کا نسخہ ہاتھ میں لے کر چیف جسٹس سے تین سوال کئے، ملک ریاض کا کہناتھا کہ چیف جسٹس بتائیں کہ رات کے اندھیرے میں چیف جسٹس سے ان کی کتنی ملاقاتیں ہوئیں۔ ملک ریاض کا کہنا تھا کہ ان ملاقاتوں میں ارسلان افتخار اور رجسٹرار سپریم کورٹ بھی موجود تھے۔ انہوں نے سوال کیا کہ چیف جسٹس نے ارسلان کیس میں ثبوت دیکھنے سے کیوں انکار کیا۔ ملک ریاض نے بتایا کہ ان کے پارٹنر احمد خلیل کی رہائشگاہ پر وزیراعظم اور چیف جسٹس کی ملاقات ہوئی، جس میں سپریم کورٹ کے ایک اور جج بھی شریک تھے۔ ملک ریاض نے کہا کہ چیف جسٹس معصوم ہوں گے لیکن ارسلان افتخار معصوم نہیں، انہوں نے الزام عائد کیا کہ ایف آئی اے کو کہا گیا کہ مجھے قتل کے مقدمے میں ملوث کیا جائے۔ ملک ریاض نے کہا کہ وہ انتہائی غریب آدمی تھے اپنی محنت سے کامیابی حاصل کی۔ تریسٹھ برس میں کبھی تھانے تک نہیں گیا۔ ملک ریاض کا کہنا تھا کہ پنجاب میں چوہدری نثار پیچھے پڑے ہیں تو ادھر یہ لوگ ،،،، ملک ریاض نے کہا کہ عدلیہ کا ڈان ارسلان افتخار ہے۔ ان کا کہناتھا کہ انہوں نے رشوت نہیں دی بلیک میل ہوئے ہیں، ملک ریاض نے کہا کہ انہیں جیل بھیج دیا جائے اور وہ مرنے کیلئے بھی تیار ہیں،ملک ریاض نے کہا کہ وقت آنے پر مزید اہم انکشافات کریں گے۔
http://www.youtube.com/watch?feature=player_embedded&v=uJ0DvztGrLw

بےباک
06-13-2012, 09:04 AM
http://ummat.com.pk/2012/06/13/images/news-03.gif

بےباک
06-13-2012, 06:58 PM
ملک ریاض کو اظہارِ وجوہ کا نوٹس

سپریم کورٹ نے بحریہ ٹاؤن کے سابق سربراہ ملک ریاض کی منگل کو کی جانے والی پریس کانفرنس پر انہیں توہینِ عدالت میں اظہارِ وجوہ کا نوٹس جاری کر دیا ہے۔

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق ازخود نوٹس میں سپریم کورٹ کی طرف سے کہا گیا ہے کہ ملک ریاض کی پریس کانفرنس میں عدلیہ اور ججوں کو نہ صرف سکینڈلائز کیا گیا بلکہ ان کا تمسخر بھی اڑایا گیا۔
عدالت نے نوٹس میں کہا کہ کیوں نہ ان کے خلاف توہینِ عدالت کی کارروائی کی جائے۔

سپریم کورٹ کے جج شاکر اللہ جان کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے بدھ کو اس از خود نوٹس کیس کی سماعت کی۔

اظہار وجوہ کا نوٹس آئین کے آرٹیکل 204 اور توہینِ عدالت ایکٹ کے سیکشن تین اور سپریم کورٹ رولز کے سیکشن سترہ کے تحت جاری کیا گیا۔

جسٹس شاکر اللہ جان کی سربراہی میں تین رکنی بینچ تشکیل دیا ہے۔ جو بدھ کو اس معاملے کی سماعت کرے گا۔

عدالت نے ملک ریاض کو جمعرات کو عدالت میں پیش ہونے کو کہا ہے۔

جسٹس شاکر اللہ جان چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے بعد سپریم کورٹ کے سینیئر ترین جج ہیں۔

ملک ریاض نے اپنی نیوز کانفرنس میں موقف اختیار کیا تھا کہ چیف جسٹس آف پاکستان افتخار محمد چوہدرے کو ارسلان افتخار کے ملک ریاض سے مالی فوائد حاصل کے کے معاملے کا پہلے سے علم تھاآ ان کا الزام تھا کہ ڈاکٹر ارسلان افتخار نے پوری سپریم کورٹ کو یرغمال بنایا ہوا ہے۔ تاہم بعد ازاں سپریم کورٹ کے رجسٹرار فقیر حسین نے اس بات کی تردید کر دی تھی۔

پاکستان کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے جمعہ کو سپریم کورٹ کا فُل کورٹ اجلاس طلب کر لیا ہے۔

سپریم کورٹ کے ذرائع کے مطابق اس اجلاس میں بحریہ ٹاؤن کے سابق سربراہ ملک ریاض کی پریس کانفرنس میں چیف جسٹس اور سپریم کورٹ پر عائد کیے گئے الزامات بھی زیرِ بحث آئیں گے۔

بدھ کی صبح چیف جسٹس کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے جج صاحبان کا ایک غیر رسمی اجلاس منعقد ہوا ہے جس میں ملک ریاض کی پریس کانفرنس کا معاملہ زیرِ بحث آیا۔

کلِک ملک ریاض کے الزامات، رجسٹرار سپریم کورٹ کی تردید

کلِک ارسلان افتخار، ملک ریاض کی عدالت میں پیشی

سپریم کورٹ کے ذرائع کے مطابق جج صاحبان نے اس پریس کانفرنس کی ویڈیو ریکارڈنگ طلب کی ہے اور فل کورٹ اجلاس میں اس کا جائزہ لیا جائے گا۔

اس سے قبل سپریم کورٹ کے رجسٹرار ڈاکٹر فقیر حسین نے بی بی سی اردو کو بتایا تھا کہ اس اجلاس میں سپریم کورٹ، ہائی کورٹس اور ماتحت عدالتوں میں زیر التوا مقدمات کو فوری نمٹانے کے علاوہ انتظامی امور بھی زیر غور آئیں گے۔

اُنہوں نے کہا کہ چونکہ عدالتوں میں سولہ جون سے گرمیوں کی چھٹیاں ہو رہی ہیں اس لیے ان امور کو نمٹانے کے لیے یہ اجلاس طلب کیا گیا ہے۔

بےباک
06-14-2012, 10:39 AM
http://www.youtube.com/watch?v=cKPDt9UhBMw&feature=related

دنیا نیوز پر خاص انٹرویو ،13 جون 2012

بےباک
06-14-2012, 01:01 PM
چیف جسٹس کا پیر بھی ’کھیل‘ میں شریک تھا: ریاض ملک
اسلام آباد ( لالہ رخ فاروق) سپریم کورٹ آف پاکستان میں توہین عدالت کے الزام میں طلب کیے جانے کے بعد ریاض ملک نے پاکستانی عوام کے سامنے نئے انکشافات کا ایک ڈھیر لگا دیا اور انہوں نے جہاں چیف جسٹس آف پاکستان پر نئے الزامات لگائے وہاں انہوں نے یہ بھی انکشاف کیا کہ شہباز شریف کو پچاسی کروڑ روپے آشیانہ سکیم کے نام پر بھی انہوں نے ادا کیے تھے اور اس پورے کھیل میں چیف جسٹس کے ایک پیر حکیم وہاب بھی شامل تھے۔ تاہم ریاض ملک نے یہ نہیں بتایا کہ انہوں نے اتنی بڑی رقم پنجاب حکومت کو کیوں فراہم کی تھی اور کیونکر شہباز شریف نے ایک پرایؤیٹ بزنس مین سے اتنی رقم وصول کی جو کہ ہاؤسنگ پراجیکٹ کے نام پر لی گئی تھی اور اس کے بدلے میں شہباز شریف نے ان کیا فائدہ دیا۔

اس انٹرویو میں ملک ریاض کا یہ بھی کہنا تھا کہ پاکستان میں سیاستدانوں کو پیسے دیے بغیر کوئی کام نہیں ہوتا لہذا کوئی بھی کام کرانا ہو اس کے لیے پیسے خرچ کرنے پڑتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جہاں انہوں نے شہباز شریف کو پچاسی کروڑ روپے ان کے پراجیک کے نام پر ادا کیے وہاں راولپنڈی میں کوئی بھی جائیداد کا ایک کاغذ بغیر رشوت کے نہیں ملتا اور اس کے لیے چوہدری نثار کا سکہ چلتا ہے اور ان کی مرضی کے بغیر کوئی پتہ نہیں ہلتا۔ ان کا کہنا تھا کہ کوئی چوہدری نثار کی حکومت میں کاغذ کا ایک ٹکڑا بغیر پیسے دیے لے کر دکھائے۔

ان کا کہنا تھا کہ چوہدری نثار علی خان ان سے اس بات پر ناراض تھے کہ وہ کے حلقوں میں سکول کھلوا رہے ہیں اور سٹرکیں بنوا رہے ہیں۔ انہوں نے چوہدری نثار پر بھی الزامات لگائے تھے کہ ایک طرف وہ ڈیفنس ہاؤسنگ سوسائٹی کے خلاف تقریریں کرتے ہیں اور دوسری طرف وہ ڈی ایچ اے سے دو پلاٹ بھے لے چکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ چوہدری نثار کی والدہ نے ایک خط جنرل مشرف کو لکھا تھا کہ وہ انہیں معاف کردیں تو ان کا بیٹا کبھی سیاست نہیں کرے گا۔ ریاض ملک نے دو گھنٹے تک دنیا نیوز ٹی وی کے دو مقبول اینکرز مبشر لقمان اور مہر بخاری کو ایک انٹرویو دیا جس میں انہوں نے کھل کر باتیں کیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں جب تک آپ پیسے نہیں دیتے کوئی آپ کا کام نہیں کرتا۔

منگل کو کی گئی ہنگامہ خیز پریس کانفرنس کے بعد اگر کوئی کسر باقی رہ گئی تھی تو ریاض ملک نے وہ پوری کر دی اور پہلے سے بڑھ کر انہوں نے مزید الزامات لگائے اور یہ الزامات اس وقت لگائے گئے ہیں جب سپریم کورٹ انہیں عدالت میں توہین عدالت کے الزام میں جمعرات کو پیش ہونے کے لے طلب کر چکی ہے جس سے پتہ چلتا ہے کہ وہ واقعی اپنی ساری کشتیاں جلا چکے ہیں اور کسی قسم کے نتائج کے لے بھی تیار ہیں۔

مختلف سوالات کا جواب دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ جنرل اسلم بیگ سے لے کر اب تک ان کے پاس کئی راز ہیں جو ان کے سینے میں دفن ہیں۔ چیف جسٹس پر حملے کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ باقی چھوڑیں چیف جسٹس کا پیر حکیم وہاب بھی اس کھیل میں شریک تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ حکیم وہاب کا چیف جسٹس کے گھر میں بہت احترام ہے۔ جب چیف جسٹس ہاورڈ ایک ایوارڈ لینے گئے تھے تو ان کے ساتھ اعتزاز احسن اور اطہر من اللہ کے علاوہ ان کے ساتھ حکیم وہاب بھی تھے۔ ملک ریاض کا کہنا تھا کہ باقی تو چھوڑیں حکیم وہاب بھی ان کے گھر پر آئے تھے اور انہوں نے ذاتی طور پر انہیں یقین دہائی کرائی تھی کہ وہ پریشان نہ ہوں، ان کے کیسز پر کام ہو رہا ہے اور سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا۔ اس وجہ سے انہوں نے ارسلان پر بھی یقین کر لیا تھا کہ سب کچھ ٹھیک ہوجائے گا اور ان کے کیسز بھی سیٹل ہو جائیں گے۔

اس طرح ملک ریاض کا کہنا تھا کہ ارسلان احمد خلیل کا دوست تھا اور اس نے احمد خلیل کے ذریعے ہی ان کے داماد کو پیغامات بجھوائے تھے کہ وہ پریشان نہ ہوں اور ان کے مقدمات سیٹل ہوں گے۔ ملک ریاض کے بقول ارسلان نے احمد خلیل کو اپروچ کیا تھا اور احمد خلیل ان کے داماد کا بھی دوست تھا اور یوں یہ سلسلہ شروع ہوا اور ارسلان کو پیسوں کی سپلائی شروع ہو گئی تھی۔

ایک سوال کے جواب میں ملک ریاض کا کہنا تھا کہ انہیں چھ ماہ قبل علم تھا کہ ان کا کام پیسے خرچ کرنے کے باوجود نہیں ہوگا لہذا انہوں نے پہلے اعتزاز احسن کو چیف جسٹس کے پاس بھیجا جس پر کوئی حرکت نہیں ہوئی۔ اس کے بعد انہوں نے پاکستانی صحافیوں اور اینکرز سے مل کر اس سکینڈل کے بارے میں بتانا شروع کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اب کسی سے نہیں ڈرتے چاہیے سپریم کورٹ انہیں پھانسی ہی کیوں نہ لگا دے، وہ ہر سزا کے لیے تیار ہو کر جمعرات کے روز عدالت جائیں گے جہاں انہیں پریس کانفرنس میں عدالت کے بارے میں متنازعہ گفتگو کرنے پر طلب کیا گیا ہے۔

ملک ریاض کا کہنا ہے کہ چیف جسٹس ہو سکتا ہے کہ معصوم ہوں اور انہیں ان باتوں کا علم نہ ہو کہ ان کا بیٹا کیا حرکتیں کر رہا تھا۔ تاہم جب اعتزاز نے انہیں بتایا تو بھی انہوں نے کچھ نہیں کیا اگرچہ انہوں نے اعتزاز کو کہا تھا کہ وہ اسے چیک کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اس سارے معاملے کو کوئی ایشو نہیں بنانا چاہتے تھے۔ انہوں نے ساری عمر کوئی تھانہ کہچری نہیں دیکھا لیکن اب وہ بھی دیکھ لیا تھا۔ انہوں نے پہلی دفعہ تریسٹھ سال کی عمر میں سپریم کورٹ دیکھی کیونکہ اسے سے پہلے وہ کبھی کسی عدالت میں نہیں گئے تھے اور اگر وہ عدالت گئے ہیں تو اپنی ساری کشتیاں جلا کر گئے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ چیف جسٹس کو چاہیے تھا کہ وہ ان کے مقدمات نہ سنتے لیکن پھر بھی انہوں نے منگل کو ان کے خلاف کسیز کو سنا اور ایف آئی اے کو ہدایت کی کہ ان کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کیا جائے۔ اس طرح ملک ریاض کا کہنا تھا کہ ان کے اکلوتے بیٹے پر کار ریس میں مرنے والوں کی قتل کی ایف آر ائی کٹوائی گئی تھی جس کی ہدایت چیف جسٹس نے کی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں بتایا جائے کہ بھلا کیسے ان کے بیٹے پر قتل کی ایف آئی آر ہو سکتی ہے جو کہ وہاں موقع پر موجود نہیں تھا اورنہ ہی اس کی کار سے کوئی ہلاکت ہوئی تھی تو پھر اس پر قتل کی ایف آئی آر کیوں درج کرائی گئی تھی ۔ اس کے بعد ہی وہ بلیک میل ہونا شروع ہوگئے تھے اور ارسلان نے ان سے پیسے بٹورنا شروع کر دیے اور وہ مسلسل ارسلان کے ہاتھ میں بکتے چلے گئے اور اس نے کھل کر انہیں لوٹا۔

ایک سوال کے جواب میں ملک ریاض کا کہنا تھا کہ انہیں جیل سے مت ڈرایا جائے کیونکہ وہ پھانسی تک لگنے کو تیار ہیں اور اب انہیں کسی کا کوئی ڈر نہیں رہا۔

ملک ریاض کا بار بار کہنا تھا کہ پاکستان میں اب بغیر پیسے کے کوئی کام کرا کے دکھائیں۔ انہوں نے چیف جسٹس کے بارے میں کہا کہ وہ معطلی کے دنوں میں ان سے رات کو ملتے رہے ہیں اور چیف جسٹس کے نام صدر زرداری کے پیغامات لے کر جاتے رہے ہیں۔ ان کا دعویٰ تھا کہ چیف جسٹس اس بات پر تیار تھے کہ وہ پیپلز پارٹی حکومت کے لیے اپنی عدالت میں کوئی غیر ضروری مسائل کھڑے نہیں کریں گے۔ ملک ریاض کا کہنا تھا کہ ایک طرف تو یہ بات طے تھی کہ چیف جسٹس حکومت کے کسی پیغام رساں سے نہیں ملیں گے اور دوسری طرف وہ رات کو ان سے ملاقات کرتے تھے جس میں وہ حکومت کے پیغام لاتے تھے۔ ملک ریاض کا یہ بھی کہنا تھا کہ چیف جسٹس نے اپنے ہمدرد دوست وکیلوں سے یہ بات کیوں چھپائی تھی کہ وہ ریاض ملک کے ذریعے صدر زرداری سے رابطے میں تھے جس سے ان کی خراب نیت کا پتہ چلتا ہے۔

ریاض ملک نے کہا رجسٹرار سپریم کورٹ ڈاکٹر فقیر حسین نے فون کر کے چیف جسٹس افتخار چوہدری کے بیٹے ارسلان کو بلوچستان ہاؤس میں ایک کمرہ لے کر دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب وہ اور ارسلان عدالت میں ایک ملزم کی طرح پیش ہو رہے ہیں تو پھر رجسٹرار سپریم کورٹ بھلا کیسے فون کر کے ارسلان کے لیے بلوچستان ہاؤس میں کمرے بک کرا رہے ہیں اور کیوں ایک ملزم کے لیے سپریم کورٹ کا ادارہ اپنا اثر و رسوخ استعال کر رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب چیف جسٹس نے ارسلان کو گھر سے نکال دیا ہے تو پھر رجسٹرار کس کے کہنے پر ارسلان کو کمرے لے کر دے رہا ہے اور وہ اس معاملے میں ایک ملزم کی کیوں حمایت کر رہا ہے اور اپنے دفتر کو استعمال کر رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ابھی بھی چیف جسٹس اپنے بیٹے کی مدد کر رہے ہیں حالانکہ وہ پہلے کہتے تھے کہ انہوں نے اپنے بیٹے کوگھر سے نکال دیا ہے۔

اس اثناء میں سپریم کورٹ نے ریاض ملک کو جمعرات کو عدالت میں توہین عدالت پر طلب کر لیا ہے اور پریسں کانفرنس کا بھی ریکارڈ طلب کر لیا گیا ہے جس میں ریاض ملک نے چیف جسٹس پر بہت سنگین الزامات لگائے ہیں جس نے پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ توقع کی جارہی کہ جمعرات کا دن عدالت کے اندر ہنگامہ خیز ہوگا کیونکہ ملک ریاض یقنناً عدالت میں وہی جارحانہ رویہ اختیار رکھیں گے جو انہوں نے اپنی پریس کانفرس اور مہر بخاری اور مبشر لقمان کو دیے گئے انٹریوں میں روا رکھا جس سے اندازہ ہورہا تھا کہ آنے والے دنوں میں یہ سکینڈل مزید ڈرامائی رخ اختیار کرنے والا ہے۔

اذان
06-15-2012, 12:52 AM
پاکستان کی عدالت عظمیٰ نے چیف جسٹس ،جسٹس افتخار محمد چودھری کے بیٹے ڈاکٹر ارسلان افتخار اور رئیل اسٹیٹ ٹائیکون اور بحریہ ٹاؤن کے (کاغذوں میں سابق) سربراہ ملک ریاض حسین سے متعلق ازخود نوٹس کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری کردیا ہے اور اس میں اٹارنی جنرل کو ان دونوں اور موخرالذکر کے داماد کے خلاف سخت کارروائی کا حکم دیا ہے۔

عدالت عظمیٰ کے جج جسٹس جواد ایس خواجہ نے چودہ صفحات پرمشتمل تفصیلی فیصلہ لکھا ہے اور ان کے ساتھ بنچ میں شامل جسٹس خلجی عارف حسین نے اضافی نوٹ لکھا ہے۔ان دونوں فاضل جج صاحبان ہی نے اس کیس کی سماعت کی ہے۔پہلے چیف جسٹس بھی اس بنچ میں شامل اور اس کے سربراہ تھے لیکن بعض حلقوں کی جانب سے اعتراض کے بعد انھوں نے خود کو اس سے الگ کر لیا تھا۔

جسٹس جواد ایس خواجہ نے جمعرات کو جاری کردہ تحریری فیصلے میں لکھا کہ ''ہمیں توقع ہے اٹارنی جنرل ریاستی مشینری کو حرکت میں لائیں گے تاکہ ملک ریاض حسین ،ڈاکٹر ارسلان اور سلمان علی خان سمیت جن لوگوں نے بھی غیر قانونی اقدام کا ارتکاب کیا ہے،ان کے خلاف قانون کی پوری طاقت کی ساتھ کارروائی کی جاسکے''۔

فیصلے کے مطابق:''اس کیس میں نہ صرف سپریم کورٹ کی ساکھ کو داؤ پر لگا دیا گیا بلکہ چیف جسٹس اور عدلیہ کے خلاف بھی الزامات عاید کیے گئے۔رشوت لینا اور دینا گناہ اور لینے اور دینے والا دونوں ہی گناہ گار اور جہنمی ہیں''۔فیصلے میں ملک ریاض حسین کی جانب اشارہ تھا،جنھوں نے سپریم کورٹ میں اپنے خلاف دائر مقدمات کا اپنے حق میں فیصلہ کرانے کے لیے ان کے بہ قول ڈاکٹرارسلان افتخار پر سرمایہ کاری کی تھی۔

عدالت نے اپنے مختصر حکم نامے میں اس کیس کا ازخود نوٹس لینے کی وجوہ بھی بیان کی ہیں اور کہا ہے کہ سپریم کورٹ سے متعلق غلط ادراک و تاثر کا توڑ کرنے کے لیے سوموٹو نوٹس ضروری تھااور میڈیا میں رپورٹس کے ذریعے عدالت عظمیٰ کے بارے میں غلط تاثر پھیلانے کی کوشش کی گئی تھی۔

عدالت نے قراردیا ہے کہ ''ملک ریاض حسین نے رشوت کے ذریعے انصاف کو خریدنے کی کوشش کی اور دولت کے ذریعے ہر چیز کو خریدنے کی ان کی عادت رہی ہے۔انھوں نے عدالت عظمیٰ کی ساکھ کے بارے میں شکوک وشبہات بھی پھیلانے کی کوشش کی''۔

عدالت نے فیصلے میں صحافتی اخلاقیات کے بعض پہلوؤں کا ذکر کیا ہے اور کہا ہے کہ صحافیوں کو کسی اسٹوری کو شائع کرنے سے پہلے اس کی تصدیق کے عمل میں احتیاط کا مظاہرہ کرنا چاہیے اور میڈیا کو کسی اسٹوری کو نشر کرنے سے پہلے اس کے تمام پہلوؤں کو ملحوظ رکھنا چاہیے۔

فیصلے کے مطابق میڈیا میں عدالت کے خلاف بے بنیاد الزامات عاید کیے گئے۔اس لیے میڈیا کو اپنی اعتباریت اور شہرت کے حوالے سے زیادہ محتاط روی کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔عدالت نے ملک ریاض کے ایک بیان کا بھی حوالہ دیا ہے جس میں انھوں نے کہا تھا کہ ''انھوں نے ڈاکٹر ارسلان کو مبینہ طور پر چونتیس کروڑ روپے کی رقم دی تھی لیکن اس کے بدلے میں ان کی جانب سے انھیں سپریم کورٹ کی جانب سے کوئی حمایت نہیں ملی''۔

واضح رہے کہ ملک ریاض حسین نے دوروز پہلے ایک نیوزکانفرنس کی تھی جس میں انھوں نے چیف جسٹس اور سپریم کورٹ کے بارے میں توہین آمیز بے سروپا باتیں کی تھیں جس پر عدالت عظمیٰ نے ان کے خلاف توہین عدالت کا نوٹس جاری کرتے ہوئے آج جمعرات کو اظہار وجوہ کے لیے طلب کر لیا تھا۔

پاکستان کے بعض سیاسی اور صحافتی حلقوں کا کہنا ہے کہ ملک ریاض کو عدالت عظمیٰ اور اس کے چیف جسٹس کے خلاف حالیہ مہم میں ارباب اقتدار اور خاص طور پر صدر آصف علی زرداری کی پس پردہ حمایت حاصل تھی کیونکہ وہ ان کے بغیر ایک قدم نہیں چل سکتے لیکن ان سے کہیں منصوبہ بندی میں سنگین غلطی ہوگئی ہے جس کی وجہ سے وہ دوسروں کے لیے کھودے گئے گڑے میں خود ہی گر گئے ہیں اور آنے والے وقت میں ان کی مشکلات میں اضافہ ہوسکتا ہے۔

بےباک
06-15-2012, 10:56 AM
http://ummat.com.pk/2012/06/15/images/news-03.gif

انجم رشید
06-16-2012, 06:09 PM
السلام علیکم
بہت بہت شکریہ بھای معلومات دینے کا ابھی کچھ لکھنے کا وقت نہیں آیا عدالت اپنا کام کر لے

بےباک
06-28-2012, 06:56 AM
http://ummat.com.pk/2012/06/28/images/news-05.gif
http://ummat.com.pk/2012/06/28/images/pic-04.jpg

pervaz khan
06-28-2012, 03:32 PM
بہت عمدہ شئیرنگ ہے شکریہ جناب

انجم رشید
06-29-2012, 09:49 AM
السلام علیکم ۔
بہت بہت شکریہ بھائی
ویسے یہ بات تو پہلے دن سے ہی واضع تھی کہ اس سازش کے پیچھے کون ہے شکریہ