PDA

View Full Version : ایمانی اخوت و وحدت!



سرحدی
06-19-2012, 12:17 PM
ایمانی اخوت و وحدت

مفتی خالد محمود

مسجد نبوی کی تعمیر مکمل ہوچکی تھی، دعوت و تبلیغ کا مرکز قائم ہوچکا تھا، حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت انس بن مالک رضی اللہ کے گھر میں تشریف فرما تھے اور حضرت انس رضی اللہ عنہ جو اس وقت دس سال کے بچے تھے، مدینہ کی گلیوں میں دوڑتے پھر رہے تھے، کبھی ایک انصاری کے گھر جاتے کبھی دوسرے کے گھر جاکر اطلاع دیتے کہ! سرکارِ دو جہاں ( میرے ماں باپ ان پر قربان) تاجدارِ مدینہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یاد فرمایا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے گھر میں تشریف فرما ہیں۔ یہ پیغام سنتے ہی ہر ایک حضرت انس کے گھر کی طرف دوڑ پڑا۔ حضرت انسؓ اپنے گھر واپس پہنچے تو وہاں ایک بڑا مجمع جمع ہوچکا تھا، اس میں مہاجرین بھی تھے، انصار بھی رضی اللہ عنہم۔
رحمت اللعالمین صلی اللہ علیہ وسلم نے مہاجرین کی طرف دیکھا، وہ مہاجرین جن کا تعلق مکہ مکرمہ جیسے مقدس شہر سے تھا جسے بلد امین ہونے کا شرف حاصل تھا، جہاں تجلیات ربانی کا مرکز بیت اللہ تھا، جہاں ان کے خاندان تھے، ان کے عزیزو اقارب اور رشتہ دار تھے، جہاں ان کے مکانات تھے، جائیداد تھی، ان کا مال واسباب تھا، مگر وہ اپنا سب کچھ قربان کرکے صرف دولت ایمانی کو اپنے سینے میں چھپائے اور دل سے چمٹائے اسی سرمایہ گرانمایہ کی حفاظت کے لیے مکہ مکرمہ کو چھوڑ کر مدینہ منورہ آئے تھے کہ مکہ میں اس دولت ایمانی کے لٹیرے بہت زیادہ تھے۔ مکہ میں رہتے ہوئے اس کی حفاظت ممکن نہ تھی۔اس نعمت خدا وندی کی حفاظت کے لیے وہ کئی سال مصائب و شدائد کے ایسے طوفانوں سے گزرے تھے جن کا ایک معمولی سا ریلا بلند سے بلند ہمت رکھنے والے کو متزلزل کرنے کے لیے کافی تھا۔ مگر وہ طوفان کے تھپیڑوں کا مقابلہ کرتے ہوئے، اپنے ایمان کی حفاظت کرتے ہوئے ساحلِ سلامتی تک پہنچ چکے تھے۔ وہ تکلیفوں اور ایمانوں اور امتحانوں کی بھٹی میں تپ کر کندن بن چکے تھے۔
نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے چہروں کی طرف دیکھا آپ نے محسوس کیا کہ ان خوددار اور غیور انسانوں کے عزائم محکم ، حوصلے فلک بوس، ارادے اٹل اور اپنے مقاصد کی قدوسیت پر ایمان غیر متزلزل ہے، ان کے سامنے زندگی کا کوئی بھی نقشہ آجائے ان کے پائے استقامت میںکوئی فرق نہیں آئے گا۔ یہ اپنے وطن سے اس لیے نہیں نکلے کہ ان کو اپنی زمینوں اور مکانات کے بدلے یہاں زمینیں اور مکانات مل جائیں۔ بلکہ ان کی بے قراری ، ان کا اضطراب صرف اس لیے ہے کہ انسان جلد سے جلد حقیقی انسان بن جائے وہ اپنا مقام و مرتبہ پہچان لے اور اسلام قبول کرکے اپنا مقصد زندگی اپنالے۔
مہاجرین ؓ کا جائزہ لے کر خاتم الانبیاء، رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے انصارؓ کی طرف نگاہ التفات کی، یہ جماعت اگرچہ بہت پہلے دامن رسالت سے وابستہ نہیں ہوئی تھی بلکہ آغوش اسلام میں پناہ لیے ان کو بہت ہی تھوڑا عرصہ گزرا تھا مگر انہوں نے شانِ فداکاری کا جس طرح شاندار مظاہرہ کیا تھا۔ اور جانثاری کا جو اعلیٰ نمونہ پیش کرکے آفتاب رسالت اور ان کے درخشندہ ستاروں کے لیے دیدۂ و دل فرش راہ کیے تھے اس نے ثابت کردیا تھا کہ وہ کسی بھی خصوصیت میں مہاجرین ؓ سے پیچھے نہیں۔
محسن انسانیت صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں جماعتوں کا جائزہ لیا اور آپ کے چہرۂ انور پر اطمینان بھری مسکراہٹ پھیل گئی چہرہ انور اور زیادہ منورہ ہوگیا۔
آپ نے محبت و شفقت سے لبریز آواز میں ارشاد فرمایا!
'' اے انصار ! یہ مہاجرین تمہارے بھائی ہیں''
یہ شفقت بھری آواز انصار کے کانوں میں رس گھول گئی اور انہوں نے مسرت سے جھومتے ہوئے کہا!
'' یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم ) آپ نے سچ فرمایا یہ ہمارے بھائی ہیں''۔
اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے باقاعدہ ایک مہاجر اور ایک انصار کے درمیان رشتۂ اخوت قائم کرکے ان کو آپس میں بھائی بھائی بنادیا۔ مہاجرین و انصار رضی اللہ عنہم نے اس طرح کھلے دل سے اس رشتۂ اخوت کو قبول کیا کہ وہ آپس میں حقیقی بھائی معلوم ہونے لگے اور آخر تک اس رشتہئ اخوت کو انہوں نے نبھایا۔
اگرچہ اس سے پہلے بھی انصار اپنے بے مثال ایثار و قربانی کا مظاہرہ کرچکے تھے۔ اور مہاجرین کے لیے اپنا سب کچھ قربان کردینے کے لیے تیار تھے اور مہاجرین بھی ہر طرح کی زندگی گزارنے اور حالات کا مقابلہ کرنے پر کمر بستہ تھے۔ مگر ختم رسل اور دانائے سبل صلی اللہ علیہ وسلم جوحکمت و دانائی اور رشد و ہدایت کا منبع اور سرچشمہ تھے جو اپنی چشم بصیرت سے حقیقتوں کا جائزہ لیتے اور دل کی گہرائیوں کا مطالعہ فرمالیا کرتے تھے۔ آپ نے اندازہ لگایا کہ انسان کتنی ہی بلندیوں پر پہنچ جائے اور روحانی و اخلاقی ترقی کے کتنے ہی مدارج طے کرے مگر اس کی فطرت کی تخلیق جس انداز میں ہے اس کے ہاتھوں مجبور ہوکر وہ خوشی اور یگانگی کے متعین سہاروں سے بے نیاز نہیں رہ سکتا۔
فطرت کی اس تسکین اور روح کی اس پیاس کا سامان آپ نے مہیا کیا اور ان میں رشتہ مؤدت واخوت قائم فرمایا اور اس رشتہ سے اس بے کلی اور بے اطمینانی کا پہلے سے علاج کردیا گیا جس کا اجنبیت و بیگانگی کے احساس سے پیدا ہونے کا امکان تھا۔ سعد بن ربیع رضی اللہ عنہ انصار مدینہ میں سب سے زیادہ دولت مند تھے وہ حضرت انس رضی اللہ عنہ کے مکان سے نکلے، ان کے چہرے پر خوشی رقصاں تھی، ان کے ساتھ مشہو رمہاجر صحابی حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ تھے۔ حضرت سعدؓ نے حضرت عبد الرحمن ؓ کا ہاتھ پکڑا ہوا ہے اور اپنے گھر کی طرف لے جارہے ہیں۔ گھر میں داخل ہوئے اور سعد ؓ نے عبد الرحمن ؓ کو اپنے گھر کی ایک ایک چیز دکھانا شروع کی، جب گھر کی ہر چیز دکھاچکے اور کچھ باقی نہ رہا جو دیکھنے سے رہ گیا ہو تو بڑے احترام سے سعدؓ نے عبد الرحمن ؓ کو اپنے گھر بٹھایا، اور گویا ہوئے۔
'' بھائی عبد الرحمنؓ! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو میرا بھائی بنایا ہے، آج سے میں اور تم بھائی ہیں۔ یہ میرا مکان ہے اور یہ میرا مال و اسباب، اس میں سے آدھا تمہارا ہے اور آدھا میرا۔''
خاموشی سے حضرت عبد الرحمنؓ نے ان کی بات سنی اور ابھی کچھ کہنا ہی چاہتے تھے کہ سعدؓ دوبارہ بول اُٹھے!
'' اور ہاں سنو! میری دو بیویاں ہیں، میں ان میں سے جسے تم پسند کرو طلاق دے دیتا ہوں، آپ اس سے شادی کرلیجیے اور اپنا گھر آباد کیجیے۔''
ایثار و قربانی کی انتہا تھی حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے تشکر آمیز نظروں سے ان کو دیکھا، اور ان کے ایثار سے متاثر ہوکر جذبات سے مغلوب آواز میں کہا:
'' میرے بھائی سعدؓ ! یہ گھر یہ مال و اسباب، یہ پاک دامن بیویاں، یہ سب تمہاری ملکیت ہیں، یہ سب آپ کو مبارک ہو، اللہ تعالیٰ آپ کو اس جذبہ و ایثار کا بہتر بدل عطا فرمائے، مجھے تو صرف بازار کا راستہ بتادیجیے۔ ''
ان دونوں میں کیا رشتہ تھا، کون سی شناسائی تھی، کون سا جذبہ تھا، کون سی غرض یا مفاد وابستہ تھا جو اس طرح دونوں کو ایک دوسرے کے لیے ایثار و قربانی پر ابھار رہا تھا، کیا یہ معلم اخلاق صلی اللہ علیہ وسلم کا اعجاز تربیت نہیں، یہ کوئی ایک مثال نہیں، بلکہ ہر مہاجر و انصار کے درمیان تقریباً اسی جذبہ و ایثار کا اظہار ہورہا تھا۔
یہ ایثار کہاں تک پہنچا اور اس نے کیا کیا کرشمے دکھائے، آج کوئی سنتا ہے تو عقل حیران رہ جاتی ہے۔ اور حیرت و استعجاب سے عقل سوال کرتی ہے کیا یہ ممکن ہے؟ کیا ایسا ہوسکتا ہے؟ لیکن یہ ہوا ایک دو نہیں کتنے ہی ایسے واقعات رونما ہوئے جن میں ایثار و ہمدردی کا جذبہ عروج اور بلندی کی آخری حدود کو چھوتا دکھائی دیتا ہے۔
اس پر بھی غور کیجیے کہ یہ ـصرف رشتۂ اخوت ہی نہیں تھا بلکہ آپ نے اس بے نظیر مثال کو قائم فرماکر اصل میں ان بتوں کو پاش پاش کردیا جو حسب و نسب قوم و برادری، ملک و وطن، تہذیب و ثقافت کی کوکھ سے جنم لیتے ہیں۔ آپ نے مہاجرین و انصار کو نسب، قوم، برادری ، وطن ، تہذیب، معاشرت، معیشت کے اختلافات کے باوجود اخوت کی ایک لڑی میں پروکر یہ بتادیا کہ ان چیزوں کی اسلام میں نہ کوئی حقیقت ہے اور نہ کوئی گنجائش۔ یہی وہ لوگ تھے جو پہلے ایک دوسرے سے نا آشنا تھے، جن میں سے ہر ایک کو اپنے آپ پر ناز تھا۔ دوسرے کو دیکھنا اسے گوارہ نہ تھا مگر اس اخوت کے بعد کی حالت کا نقشہ یہ تھا۔ مولانا مناظر احسن گیلانی نے جس کی تصویر کشی ان الفاظ میں کی ہے:
'' قریشی سردار انصاری کسان کے آگے جھکا ہوا تھا، وہ اس کے ہاتھ چومتا تھا، اور یہ ان کے قدم لیتا تھا، یہ اس کو اپنا سب کچھ بلکہ تم نے سنا ہوگا کہ طلاق دے کر ایک بیوی تک دینے پر اصرار کرتا تھا اور وہ شکریہ کے ساتھ انکار کرتا تھا اور یوں مخلوقات بلکہ اپنے خود ساختہ مخلوقات کے پنجوں سے آزاد ہوکر مدینہ والوں نے اپنے کھوئے ہوئے رب کو پالیا تھا اس کے بعد منادی کرادی گئی کہ اب دنیا ایک ہے، ان کا معبود ایک ہے، ان کا رسول ایک ہے، ان کی کتاب ایک ہے ، ان کا کعبہ ایک ہے۔'' (النبی الخاتم)
اسی حقیقت صادقہ کو نبی ٔ رحمت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اس خطبہ میں بیان فرمایا جسے منشور انسانیت ہونے کا شرف حاصل ہے ، آپ نے فرمایا:
''لوگو! تم سب کا رب بھی ایک ہے اور تم سب کا باپ بھی ایک ہے، اس لیے کسی عربی کو کسی عجمی پر، کسی سرخ کو سیاہ پر اور کسی سیاہ کو سرخ پر کوئی پیدائشی برتری حاصل نہیں، ہاں برتر و افضل وہی ہے جو تقویٰ و پرہیز گاری میں برتر ہو، ہر مسلمان دوسرے کا بھائی ہے اور تمام مسلمان ایک برادری ہے۔''
آپ کو یہ اندیشہ تھا کہ فتوحات کا جو سلسلہ جاری ہے اور حکومت و سلطنت کا جو سیلاب مسلمانوں کی طرف بڑھتا چلا آرہا ہے کہیں یہ ان کی یگانگت اور اتحاد کو پارہ پارہ نہ کردے اور یہ ایک دوسرے کے خون کے پیاسے نہ بن جائیں، یہ احساس ایک درد بن کر ابھرا اور آپ نے اس موضوع پر اپنی بھر پور توانائی صرف کردی اور انتہائی درد بھرے لہجے میں ارشاد فرمایا!
'' اے لوگو! تمہارا خون، تمہارا مال اور تمہارا ننگ و ناموس اسی طرح ایک دوسرے پر حرام ہے جس طرح یہ دن (٩ ذی الحجہ جمعہ کا دن) یہ مہینہ (ذو الحجہ) اور یہ شہر (مکہ مکرمہ) تم سب کے لیے قابل حرمت ہے۔''
''اے لوگو! تم کسی پر ظلم نہ کرنا، میرے بعد گمراہ نہ ہو جانا کہ ایک دوسرے کی گردن کاٹنا شروع کردو۔''
رسول رحمت صلی اللہ علیہ وسلم نے اخوت و مودت کا یہ رشتہ ان حالات میں قائم کیا جب انسان مختلف ٹکڑوں میں بٹا ہوا اور بکھرا ہوا تھا۔ اور ان بکھرے ہوئے اجزاء کو جمع کرنا ایک دشوار ترین امر تھا۔ مگر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جس خوبی سے اپنا فرض ادا کیا اور ان بکھرے ہوئے موتیوں کو جس طرح ایک لڑی میں پرو دیا اور تزکیہ اخلاق کا وہ پاکیزہ عملی مظاہرہ فرمایا کہ سب باہم شیرو شکر ہوگئے اور ہر ایک محسوس کرنے لگاکہ یہ الفت و محبت اور انسیت و مودت نعمت خدا وندی ہے۔
مولاناابو الکلام آزاد تحریر کرتے ہیں:
'' دنیا میں کوئی کام انسانوں کے لیے اس سے زیادہ مشکل نہیں کہ بکھرے ہوئے انسانی دلوں کو ایک رشتہ الفت میں پرودے اور یہ کام تقریباً ناممکن ہوجاتا ہے، جب معاملہ ایسے انسانوں کا ہو، جو صدیوں سے باہمی جنگ و جدل کی آب و ہوا میں پرورش پاتے رہے ہوں اور جن کے نفسیاتی سانچوں میں باہمی آمیزش و ائتلاف کا کوئی ڈھنگ باقی نہ رہا ہو۔''
'' پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا ظہور ایسے ہی لوگوں میں ہوا تھا، مگر ابھی ان کی دعوت پر دس بارہ ہی برس گزرے تھے کہ مدینہ میں ایک ایسا گروہ پیدا ہوگیا جو اس اعتبار سے بالکل ایک نئی قسم کی مخلوق تھا۔ وہ جب تک مسلمان نہیںہوئے تھے، باہمی کینہ و انتقام کے مجسمے تھے، لیکن جونہی مسلمان ہوئے محبت و سازگاری کی ایسی پاکی و قدوسیت ابھر آئی کہ ان کا ہر فرد دوسرے کی خاطر سب کچھ قربان کردینے کے لیے مستعد ہوگیا۔''
'' فی الحقیقت یہی وہ تزکیۂ اخلاق کا عمل ہے ، جو ایک پیغمبرانہ عمل تھا اور جو پیغمبر اسلام کی تعلیم و تربیت نے انجام دیا۔ اس سے معلوم ہوا کہ مسلمانوں کی باہمی الفت ایک ایسی نعمت ہے جسے خدا نے اپنا خاص انعام قراردیا ہے۔ افسوس ان پر، جو اس نعمت سے محرومی پر قانع ہوگئے۔ اور اس کے لیے اپنے اندر کوئی جلن محسوس نہیں کی۔ آج باہمی الفت کی جگہ باہمی مخاصمت مسلمانوں کی سب سے بڑی پہچان ہوگئی ہے۔ اسی کو انقلاب حال کہتے ہیں۔'' (ترجمان، جلد دوم ص٦٩۔ا٧٠)
مدینہ منورہ میں اس بھائی چارہ اور اخوت کا رشتہ قائم کرکے جس برادری کی تشکیل کی جارہی تھی اس کی بنیاد عقیدہ کی وحدت پر رکھی جارہی تھی اور وہ تھا اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کا عقیدہ ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان اور آپ کی محبت و عقیدت کا عقیدہ ، نوعِ انسانی کے لیے ہمدردی کے جذبہ کا عقیدہ ، عدل و مساوات اور انسانیت کی خدمت کا عقیدہ ۔
مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے باشندوں میں بنیادی طور پر لسانی وحدت اور اوپر جاکر نسبی وحدت اگرچہ پائی جاتی تھی مگر اس کے باوجود زبانوں اور لہجوں کا بہت زیادہ اختلاف تھا، معاشرت، بودو باش اور تہذیب و تمدن کا بھی خاـصا فرق تھا، ذریعہ معاش کا بھی فرق تھا کہ مکہ مکرمہ کے باشندے تجارت پیشہ لوگ تھے جبکہ اہل مدینہ زراعت سے وابستہ تھے۔ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے باسیوں کا اختلاف تو تھا ہی خود مدینہ منورہ کے دو بڑے قبائل اوس و خزرج آپس میں ملنے کے لیے تیار نہیں تھے لیکن اسلام نے ان تمام اختلافات کو دور کرکے انہیں ایک لڑی میں پرودیا اور دینی رشتہ قائم کردیا، اس دینی رشتہ کے مقابلے میں وہ نسبی رشتوں کو بالائے طاق رکھ دیا کرتے تھے۔ اس کا اندازہ اس معمولی سے واقعہ سے لگایئے کہ جب غزوہ بدر کے قیدیوں میں حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ کے بھائی ابو عزیر کی مشکیں ایک انصاری صحابی باندھ رہے تھے اور حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ وہاں سے گزرے تو کہا ذرا کس کے باندھنا موٹی اسامی ہے فدیہ کی رقم زیادہ وصول ہوگی تو بھائی نے حضرت مصعب کی طرف دیکھا اور کہا آپ تو میرے بھائی ہیں آپ سے تو امید تھی کہ میری سفارش کروگے تو حضرت مصعب رضی اللہ عنہ نے کہا تم میرے بھائی نہیں جو تمہیں باندھ رہا ہے وہ میرا بھائی ہے۔
یہ بھائی چارگی دین کے رشتہ سے تھی اور اسی دینی وحدت پر اس برادری کی بنیاد رکھی جارہی تھی ۔ آج مختلف وحدتوں کو معیار بنالیا گیا ہے، وحدت کا لفظ دل و دماغ کو بھاتا ہے کیوں کہ اس لفظ میں کشش ہے اور اس کے مفہوم میں اجتماعیت اور آپس میں جوڑ کی مہک آتی ہے مگر یہ جوڑ اسی وقت ہوگا جب وحدت کی بنیاد منفی نہ ہو، اگر وحدت کسی جارحانہ جذبہ پر اپنی برتری اور دوسروں کی تحقیر پر مبنی ہو تو ایسی وحدت کسی دوسرے کے وجود کو برداشت نہیں کرتی پھر ایک وحدت دوسری وحدت سے ٹکراتی ہے جس کے نتیجہ میں فساد برپا ہوتا ہے ، انسانی خون کی ندیاں بہتی ہیں، دوسروں کی زندگی کے چراغ گل کیے جاتے ہیں، پھر اس وحدت کے سایہ میں پلنے والا انسان خونخوار درندہ بن جاتا ہے، خواہ وہ وحدت برادری کی بنیاد پر ہو ، لسانی بنیاد پر ہو، ملک کی بنیاد پرہو، یا تہذیب پر مبنی ہو۔
اسلام نے ان تمام وحدتوں کے بتوں کو پاش پاش کردیا ہے اور صرف دو وحدتوں کا سبق دیا ہے ۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے خطبہ میں ارشاد فرمایا:
'' ان ربکم واحد و ان اباکم واحد '' کہ تمہارا رب بھی ایک ہے اور تمہارا باپ بھی ایک ہے، یہ ہے اسلام کا سبق وحدت رب یعنی وحدت ایمانی اور وحدت اَب یعنی وحدت انسانی یہ دو ہی اصل وحدت ہیں اور یہ دونوں وحدتیں معصوم ترین، غیر مضر اور مثبت و تعمیری وحدتیں ہیں کہ تمام نسل انسانی ایک آدم کی اولاد ہیں، اس اعتبار سے تمام انسان قابل احترام اور لائق محبت ہیں اور چوں کہ ان سب کا پیدا کرنے والا اور پرورش کرنے والا بھی ایک ہے اس لیے بھی انسان توجہ اور الفت و مؤدت کا مستحق ہے۔
مگر افسوس آج یہی سبق بھلادیا گیا ہے نہ وحدت انسانی کا لحاظ ہے اور نہ وحدت ایمانی کا خیال بلکہ ہم نے کہیں زبان و قوم اور کہیں رنگ و نسل ، کہیں ملک و وطن اور کہیں تہذیب و تمدن کو بنیاد بنا رکھا ہے جس کے نتیجہ میں ہر جگہ انتشار، بگاڑ، فساد برپا ہے، انسانیت خود انسان کے ہاتھوں ذلیل و رسوا ہورہی ہے۔ جو اسلامی تعلیمات کے سراسر منافی ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں ان تمام مصنوعی وحدتوں اور اکائیوں سے نکال کر حقیقی وحدت ایمانی سے وابستہ کردے کہ یہ وحدت ایمانی ہمیں مربوط بھی رکھے گی اور مضبوط بھی، یہی وحدت ہمیں باعزت بھی رکھے گی اور محفوظ بھی ، اللہ تعالیٰ ہمیں اس وحدت کی قدر کرنے کی توفیق عطا فرمائے، اور ہمیں نہ صرف یہ کہ اس وحدت کو اپنانے بلکہ اس کے داعی اور علمبردار بننے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین