PDA

View Full Version : میڈیکل ریسرچ



لاجواب
06-19-2012, 04:45 PM
http://www.struggle.com.pk/wp-content/uploads/2012/06/money-science.jpg
سرمائے کی پیداکردہ لالچ اور ہوس کا ایک اہم شعبہ دواسازی ہے جو کسی طور بھی ایسے سبھی مریضوں کو دوائی دینے کی نیت اور ارادے سے محروم ہے‘ جو اسے خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتے۔ایڈزکی وباء پر قابو پانے،یااس کا مقابلہ کرنے کیلئے درکار ادویات کی کمی،خاص طورپر افریقہ میں،اس بات کی واضح غمازی کرتی ہے کہ سرمایہ دارانہ نظام اس سفاک بیماری کے شکار ضرورتمندوں کی ضرورت کی تکمیل کرنے کے ارادے اور عمل سے یکسر قاصر ہے۔ لیکن دیکھنے سمجھنے کی بات یہ ہے کہ اس کیلئے دوائیوں کی تیاری کے سلسلے میں منافعوں کی ہوس کیا کردار ادا کرتی ہے۔بڑی عالمی دواساز اجارہ داریاں اپنی صنعت میں ریسرچ اور ڈیویلپمنٹ کے بارے میں ایک جیسے برے ریکارڈکی حامل ہیں۔ایڈز کے مریض اپنے علاج پر ہر سال ہزاروں لاکھوں ڈالرخرچ کرسکتے ہیں۔جن کو استعمال کرکے وہ اپنی زندگی کا سلسلہ برقراررکھ سکیں۔2003ء میں جب Fuzeonنامی دوا متعارف کرائی گئی تو اس کی قیمت پر لوگوں کی چیخیں نکل گئیں۔یہ دوائی ایڈز کے مریض کو سال بھر کے علاج کیلئے 20,000ڈالر میں پڑتی تھی۔اس دواکو بنانے والی عالمی اجارہ داریRocheکے چیئرمین اور چیف ایگزیکٹو فرانز ہومر نے دوائی کی زیادہ قیمت کا جواز پیش کرتے ہوئے کہا’’کہ ہم جو بھی نئی دواتیارکرتے ہیں تو اس خدمت کامناسب معاوضہ بھی اپنا استحقاق سمجھتے ہیں۔یہ نئی دوا ایک بہت بڑا کارنامہ ہے۔ میں تویہ سمجھنے سے قاصر ہوں کہ یہ کیسا سماج ہے جو نئی ایجادات کا خوشدلی سے خیرمقدم ہی نہیں کرتا‘‘۔
مگر جناب فرانزکا موقف نیم دلی کا حامل ہی تھا۔ دواساز کمپنیوں کا دوائی بنانے کا جذبہ کسی طوراور کبھی بھی علاج نہیں رہاہے بلکہ نقدکمائی چلا آرہا ہے۔ایک دواسازکمپنی کیلئے ایڈز کا شکار کوئی بھی انسان کسی طور ایک ’’مریض ‘‘نہیں ہوتا بلکہ ایک ’’گاہک‘‘ ہوتاہے۔ادویات سازی کی عالمی صنعت کا یہ ہمیشہ سے مالیاتی مفادرہاہے کہ ان کا گاہک بار بار ان کی ادویات سے مستفید ہوتارہے۔
چنانچہ منافعوں اور کمائی کی اس نفسیاتی کیفیت کی وجہ سے ایسی ریسرچ پر توجہ ہے نہ ارادہ نہ کوشش کہ جس سے بیماری یا مریض کا شافی و کافی علاج ہو جائے۔بیشتر دواسازتحقیقی ادارے ایسی نئی anti-retroviralدوائیاں تخلیق و ایجاد کرنے پر زور صرف کررہے ہیں کہ جن کے مریض انہیں ساری عمر استعمال کرنے پر مجبور ہو جائیں۔http://www.struggle.com.pk/wp-content/uploads/2012/06/img283_size2_thumb1.jpg
ابھی کچھ عرصے سے ایڈزکے علاج کیلئے ایک ویکسین تیار کرنے کی ضرورت پر زور دیا جارہاہے جوکہ ایک موثرمائیکرو بائی سائیڈ microbicide ہو۔تاہم اس مقصد کیلئے زیادہ تر فنڈز حکومت یا پھر غیر منافع بخش گروپوں کی طرف سے مہیا کیے جا ر ہے ہیں۔دواساز صنعت اس مہلک و سفاک بیماری سے نمٹنے کیلئے کوئی فنڈنگ نہیں کررہی ہے۔وہ ایسا کریں بھی کیوں؟کرہ ارض پر کوئی بھی کمپنی کسی ایسے کام پر کبھی سرمایہ نہیں لگائے گی جس سے ان کے کاروبار کو کوئی فائدہ نہ ہو۔ایسے تو وہ کاروبار کرنے سے رہ جائیں گے۔
اسی قسم کے مسائل ہمیں ادویات کی تحقیق کے دوسرے شعبوں میں بھی نظر آتے ہیں۔کینسر جیسے موذی اور مہلک مرض کے علاج کیلئے 2007ء کے شروع میں ایک قابلِ تحسین پیش رفت سامنے آئی تھی۔یونیورسٹی آف البرٹا کے محققین نے دریافت کیا کہ ایک واحد اور اکلوتا مالیکیول DCAکینسر کے خلیوں میں mitochondria(جوخلیے کا پاورہاؤس ہوتا ہے)کو دوبارہ سرگرم کر سکتا ہے۔اوریوں وہ اس بیماری کا باعث بننے والے خلیوں کو ویسے ہی مرنے میں مدد دیتا ہے جیسے عام خلیے مرتے ہیں۔لیبارٹری کے تجربات سے یہ بات ثابت ہوئی کہ DCAکینسر کی بیشتر قسموں کے خلاف بہترین طورپر موثر وکارگر ہے۔جس سے اس بات کے واضح اور یقینی امکانات سامنے آگئے کہ کینسر کا حقیقی علاج دریافت ہونا اب کوئی مسئلہ نہیں رہا۔دہائیوں سے DCAکو mitochondria کے نظام میں خرابی پیداہوجانے کے شکار مریضوں کے علاج کیلئے بروئے کار لایا جارہاہے۔چنانچہ انسانی جسم پر اس کے مثبت وموثر اثرات پہلے بھی واضح اور عیاں تھے۔جس کی مددسے اس شعبے میں ترقی کے عمل کو سمجھنے اور طے کرنے میں آسانی میسر آگئی۔
مگرDCAکو کلینیکل سطح پر سمجھنے،پرکھنے اور بروئے کار لانے کیلئے جو رکاوٹ سامنے آئی وہ ’’فنڈز‘‘کی فراہمی تھی۔اس عدم دلچسپی یا عدم فراہمی کی وجہ سیدھی سادی یہ ہے کہ DCA کے جملہ حقوق محفوظ نہیں(patent) اور ایساہوبھی نہیں سکتا۔ اس مالیاتی خامی کی وجہ سے عالمی دواساز کمپنیاں اس دواکو بنانے کیلئے سرمایہ فراہم کرنے کا کوئی خطرہ اٹھانے کیلئے تیار نہیں ہیں کیونکہ یہ دواکسی طور بھی ان کیلئے منافعوں کا وسیلہ نہیں بن سکتی۔چنانچہ انہیں اس سے کوئی دلچسپی نہیں کہ یہ دوا بنے یا نہ بنے۔کینسر کا علاج اور خاتمہ ہویا نہ ہو۔اس حوالے سے تحقیق کرنے والوں سے معذرت کر لی گئی کہ اگر وہ اپنے کام کو جاری رکھنے میں اتنے ہی شوقین ہیں تو اس کیلئے درکار رقم کا بھی خودہی بندوبست کریں۔چنانچہ اس بارے میں جو کچھ ہورہاہے وہ انتہائی معمولی نوعیت کا ہے مگر اس کے باوجود اس کے جو
نتائج سامنے آرہے ہیں وہ انتہائی حوصلہ افزا اور قابلِ تحسین ہیں۔مگر پچھلے دوسالوں سے،جب سے یہ نئی معرکۃ الآراتحقیق سامنے آئی ہے،اس پر مزید مطالعہ اور تحقیق کا سلسلہ جاری وساری ہے۔اس پر کام کرنے والی شخصیات حکومت اور غیر منافع بخش اداروں سے فنڈز کیلئے باربار بھیک مانگنے پر مجبور ہیں اور وہ بھیک مانگ بھی رہے ہیں۔مگر تاحال انسان دوستی کے نام پر قائم کسی بھی غیر منافع بخش ادارے نے اس کیلئے ایک دھیلا بھی فراہم نہیں کیا ہے۔
حقوق محفوظ نہ ہوسکنے والے (non-patentable) کے حامل کسی بھی دریافت ہونے والے موثر علاج(دوائی) کیلئے سرمائے کی عدم فراہمی کا یہ المیہ صرف DCAتک ہی محدود نہیں ہے۔اس کے مقابلے کیلئے فطری متبادل علاج (Alternative Medicine)کے نام پر ایک بہت بڑی و بھاری صنعت قائم ہو چکی ہے۔راقم الحروف سمیت کئی لوگوں کواس متبادل علاج کی وکالت کرنے والوں کے نقطہ نظرپر کئی تحفظات ہیں۔رچرڈز ڈاکنز نے اس کیفیت کو کچھ یوں بیان کیاہے ’’اگر علاج کی کوئی بھی تکنیک دوبار استعمال سے مریض کو تشفی کرادیتی ہے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ یہ شافی ہے،چنانچہ یہ متبادل قرارنہیں پائے گی بلکہ یہ’’ اصل دوا‘‘قرارپائے گی‘‘۔لیکن اس قسم کے عمومی بیان اور وضاحت سے سرمایہ داری نظام کی طرف سے سائنس کے ساتھ روارکھے جانے والے سلوک کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا اور نہ اس کو جائز قراردیاجاسکتاہے۔
non-patentableمتبادل دوائیوں کی تصدیق کیلئے کیے جانے والے تجربات کیلئے درکار فنڈز کی فراہمی سے انکار کے دوتباہ کن اثرات سامنے آرہے ہیں۔ایک تو ہم سب اجتماعی طورپر اندھیرے میں ہیں کہ کون کون سے موثر علاج کے ممکنات موجود ہیں۔دوسرا یہ کہ گلی گلی پھرتے ہوئے سانپوں کا تیل بیچنے والے یہ جدید سیلز مین متبادل طریق علاج کو مہان اور شافی قراردیتے ہوئے بیچتے چلے جارہے ہیں۔