PDA

View Full Version : پاکستان کا مجرم امریکا کا ہیرو



بےباک
06-21-2012, 09:20 PM
پاکستان کا مجرم امریکا کا ہیرو


متین فکری
ڈاکٹرشکیل آفریدی کا قصہ تو اس وقت سے چل رہا تھا جب امریکا نے اسامہ بن لادن کو شہید کرنے کے لیے ایبٹ آباد میں فوجی کارروائی کی تھی اور یہ انکشاف ہوا تھا کہ قبائلی علاقوں کے ایک ڈاکٹر نے اسامہ کے کمپاﺅنڈ تک رسائی حاصل کرنے کے لیے پولیو ویکسین کی جعلی مہم چلائی تھی اور مطلوبہ معلومات حاصل کرنے کے بعد یہ معلومات سی آئی اے کو فراہم کی تھیں۔ یہ شخص درحقیقت سی آئی کے تنخواہ دار ایجنٹ کے طور پر کام کر رہا تھا اور اس نے ملک وقوم سے غداری کرتے ہوئے محض اپنے مالی مفاد کے لیے قومی سلامتی کو داﺅ پر لگا دیا تھا۔ قطع نظر اس بات کے کہ پاکستان نام نہاد دہشت گردی کے خلاف برپا کردہ امریکی جنگ میں امریکا کا حلیف اور اتحادی بناہوا تھا لیکن اس کی آزادی وخود مختاری اور قومی سلامتی کے بھی کچھ تقاضے تھے جن کا لحاظ کرنا ضروری تھا اور ڈاکٹرشکیل آفریدی نے ان تقاضوں کی صریحاً خلاف ورزی کی تھی چنانچہ رازافشا ہونے پراسے گرفتار کرلیا گیا ۔ یہ گرفتاری سی آئی اے کے ایک پاکستانی ایجنٹ کی گرفتاری تھی اس کا معاملہ ریمنڈ ڈیوس سے مختلف تھا جو ایک امریکی شہری تھا اور پاکستان میں ارتکاب جرم پر پکڑا گیا تھا۔ امریکا ہو یا برطانیہ یا دیگر مغربی ممالک وہ اپنے شہریوں کی بیرون ملک سلامتی کو اپنے قومی وقار کا مسئلہ بنا لیتے ہیں اور ان کی حفاظت کے لیے بہت کچھ کرگزرتے ہیں۔ دیکھا جائے تو یہ نہایت مستحسن بات ہے اور ہرخود دار قوم کو ایسا کرنا چاہیے۔ امریکا نے قتل جیسے سنگین جرم میں ملوث اپنے ایک شہری کو بیرون ملک سزا سے بچانے کے لیے جو حربے آزمائے اور جس طرح پاکستان پر ہمہ پہلو دباﺅ ڈالا وہ اگرچہ غیراخلاقی غیرقانونی اور بلاجواز تھا لیکن بہرکیف اس کا ایک قابل توجہ اورقابل تقلید پہلو یہ بھی تھا کہ اس نے اپنے ایک شہری کی جان بچانے کے لیے پوری قوت کھپا دی تھی اور اسے بحفاظت نکالنے میں کامیاب رہا تھا۔ ریمنڈ ڈیوس بلاشبہ ایک مجرم اور دو پاکستانی جانوں کا قاتل تھا پاکستان میں دم خم ہوتا تو وہ اسے قانون کے مطابق سزا دے سکتا تھا یہ اس کا حق تھا لیکن طاقت ور کمزوری کی اخلاقیات بالکل مختلف ہوتی ہیں۔ طاقتور اپنی ناجائز بات بھی منوا لیتا ہے اورکمزور اپنی جائز بات منوانے کا بھی حوصلہ نہیں رکھتا۔ اب پاکستان نے اپنے ہی ایک شہری کو اس کے سنگین جرم پرسزا دی ہے تو امریکا اس پر اس لیے پیچ و تاب کھا رہا ہے کہ اس پاکستانی شہری نے اسے فائدہ پہنچانے کے لیے اپنی قوم سے غداری کی تھی۔ امریکا نے اس پاکستانی مجرم کو اپنے ہاں ایک ہیرو کا درجہ دے دیا ہے اسے قومی اعزاز سے نوازنے کا اعلان کیا ہے۔ وہ اسے امریکی شہریت دے کر اپنی سرزمین پر دباﺅ ڈال رہا ہے وہ تو ڈاکٹر شکیل آفریدی کی گرفتاری پر ہی معترض تھا اور اسے ابتداء ہی میں پاکستان سے نکال کر لے جانا چاہتا تھا لیکن چوک ہو گئی اور اب اسے طویل قید و جرمانہ کی سزا ملنے پر ہاتھ مل رہا ہے۔ کہاجا رہا ہے کہ پاکستان کی امداد میں کٹوتی کی ایک وجہ جہاں ناٹو سپلائی میں تعطل ہے وہیں دوسری وجہ شکیل آفریدی کو ملنے والی سزا بھی ہے اسے یہ سزا قبائلی علاقوں میں نافذ فرنٹیئر کرائمز ریگولیشن (ایف سی آر) کے تحت دی گئی ہے ۔ طرفہ تماشا دیکھیے کہ اس سزا پر ہمارے سزا یافتہ وزیراعظم بھی معترض ہیں وہ چاہتے ہیں کہ ڈاکٹر شکیل آفریدی کا کیس عام عدالتوں میں چلایا جائے جہاں مقدمہ لٹکا رہے اور کوئی فیصلہ نہ ہو سکے پھر کسی بہانے اسے امریکا فرار کرا دیا جائے۔ ہمارے ان ہی سزا یافتہ وزیراعظم نے ایبٹ آباد میں امریکا کی فوجی کارروائی کو فتح مبین قرار دیا تھا لیکن عسکری قیادت اس فتح مبین کو ہضم نہ کرسکی اور امریکا کے ساتھ اس کے تعلقات بگڑتے چلے گئے۔ ڈاکٹرشکیل آفریدی کو ایف سی آرکے تحت سزا سے اندازہ ہوتا ہے کہ فوج نے اس فتح مبین کا سبب بننے والے کم ازکم ایک مجرم کو تو اس کے عبرتناک انجام تک پہنچا دیا ہے۔ سچ پوچھیے تو پاکستان میں ایسے مجرموں کی کمی نہیں ہے جو امریکا کے نزدیک ہیرو کا درجہ رکھتے ہیں وہ پاکستانی شہری ہوتے ہوئے امریکا کے لیے کام کر رہے ہیں وہ پاکستان میں امریکی مفادات کی نگرانی کر رہے ہیں۔ جب سے ناٹو سپلائی معطل ہوئی ہے وہ انگاروں پرلوٹ رہے ہیں۔ وہ اس بات پر بھی معترض ہیں کہ پاکستان سپلائی کھولنے کے لیے بھاری فیس کا مطالبہ کیوں کررہا ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ ڈاکٹرشکیل آفریدی نے کوئی جرم نہیں کیا۔ وہ مسلسل پاکستان کو ڈراتے رہتے ہیں کہ اگر اس نے امریکا کی ہاں میں ہاں نہ ملائی تو بھوکوں مرجائے گا اور اس کی جان کے لالے پڑ جائیں گے۔ پاکستانی حکمران واقعی حالت خوف میں ہیں اسی لیے پوری قوم کا مطالبہ ہے کہ پاکستان ایک مرتبہ ہمت کر کے اس حالت خوف سے نکل آئے اور دہشت گردی کے خلاف امریکی جنگ سے لاتعلقی کا اعلان کر دے پھر جو ہو سو ہو۔ اٹھ باندھ کمر کیا ڈرتا ہے پھر دیکھ خدا کیا کرتا ہے ۔

pervaz khan
06-22-2012, 07:07 PM
پاکستان کے جتنے غدار چور ڈاکواور جس پر کوئی مذہبی حد لاگو ہو وہ امریکہ کا ہیرو بن جاتا ہے۔ لیکن تاریخ گواہ ہے کہ جس کو امریکہ ہیرو بناتا ہے اس کو اپنا مطلب نکالنے کے بعد زیرو بنا دیتا ہے