PDA

View Full Version : تھیلیسیمیا ۔ایک مہلک بیماری ۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان



بےباک
06-25-2012, 01:37 PM
تھیلیسیمیا ۔ایک مہلک بیما ری...سحر ہونے تک…ڈاکٹر عبدالقدیرخان

8/ مئی بروز منگل میں نے مہمان خصوصی کے طور پر بین الاقوامی تھیلیسیمیا دن کے فنکشن میں شرکت کی جس کا پاکستان تھیلیسیمیا ویلفیئر سوسائٹی، راولپنڈی اور تھیلیسیمیا اوےئرنیس اور پریونٹیشن پاکستان (تھیلیسیمیا کے بارے میں معلومات اور تدارک) نے انتظام کیا تھا۔ بعد میں بیان کردہ ادارہ نوجوان اور قابل خاتون عائشہ عابد چلا رہی ہیں۔ یہ فنکشن پاکستان کونسل آف نیشنل آرٹس کے نہایت ہی خوبصورت بڑے آڈیٹوریم میں منعقد کیا گیا تھا اور آج کل اس ادارے کے سربراہ ہمارے نہایت قابل اور ہر دلعزیز ڈرامہ آرٹسٹ توقیر ناصر ہیں۔ میں نے ان کے لاتعداد ڈرامے دیکھے ہیں، ماشاء اللہ غضب کی اداکاری کرتے ہیں۔ یہ عنوان چونکہ نہایت ہی اہم ہے اور اس کا ہزاروں پاکستانیوں کی صحت و بہبود سے تعلق ہے، میں ایک میڈیکل ڈاکٹر نہ ہونے کے باوجود اس موضوع پر لکھنے کی جسارت کر رہا ہوں تاکہ جنگ کے قارئین تک اس اہم موضوع اور مہلک بیماری کے بارے میں معلومات پہنچا دوں تاکہ وہ احتیاطی تدابیر اختیار کرکے اس مہلک بیماری سے بچنے کیلئے اقدامات کرسکیں۔ عام لوگوں کے پاس نہ ہی کتابوں کی دستیابی ہے اور نہ ہی وہ یہ معلومات انٹرنیٹ پر پڑھ سکتے ہیں۔ یہ کالم ایک نہایت آسان اور سستا ذریعہ معلومات ہے۔
میں عرض کروں کہ پنڈی میں قائم تھیلیسیمیا سینٹر سے میرا بیس سالہ تعلق ہے۔ یہ سینٹر اس وقت کے سرجن جنرل فہیم احمد خان، جنرل ریاض احمد چوہان، جنرل محمد سلیم، جنرل سی ایم انور اور کئی سینئرتجربہ کار، ماہر ڈاکٹروں نے مل کر قائم کیا تھا۔ جنرل فہیم اور جنرل چوہان نہایت قابل معالج اور عزیز دوست ہیں۔ 1992 میں پنڈی میں چھوٹا سینٹر قائم کیا گیا تھا جہاں خون کی بیماروں کو فراہمی اور خون میں لوہے کی زیادہ مقدار دور کرنے کا انتظام کیا گیا تھا۔ مجھے اس سینٹر کا افتتاح کرنے کا اعزاز حاصل ہے۔ اب یہ ادارہ ایک این جی اوکی حیثیت سے وزارت صحت کی نگرانی میں کام کررہا ہے اور نہایت ہی احسن کام کررہا ہے۔ یہ ادارہ بین الاقوامی تھیلیسیمیا انٹرنیشنل فیڈریشن سائپرس کا ممبر ہے۔
میں اب آپ کو اس مہلک بیماری، اس کے لگنے کی وجوہات اور اس کے سدباب کے بارے میں کچھ معلومات دینا چاہتا ہوں۔ میں نے یہ معلومات A.D.A.M. Medical Encyclopedia, Atlanta (GA) سے حاصل کی ہیں جو2011ء میں شائع ہوا تھا اور اس پر 2012ء ماہ جنوری میں نظرثانی کی گئی ہے اور ڈاکٹر طاہرہ ظفرصاحبہ کے تھیلیسیمیا پرمضمون سے جو پاکستان تھیلیسیمیا ویلفیئر سوسائٹی کے خبرنامہ نمبر 44 ، جنوری2010ء تا مئی2011ء سے حاصل کی ہیں۔
تھیلیسیمیا (بحیرہ روم انیمیا) کی ایک موروثی بیماری ہے جو نسل در نسل بچوں میں منتقل ہوجاتی ہے۔ اس وقت پاکستان میں تقریباً 90 لاکھ افراد اس سے متاثر ہیں اور ان میں ہر سال تقریباً 6 ہزار مریضوں کا اضافہ ہورہا ہے۔ اس بیماری کی دو قسمیں ہیں، تھیلیسیمیا مائنر (یعنی صغیرہ) اور تھیلیسیمیا میجر (یعنی کبیرہ)۔ ذرائع ابلاغ اور روزمرہ میں عموماً تھیلیسیمیامیجر کا ذکر ہوتا ہے۔ یہ دونوں اقسام کی بیماریاں جو نسل در نسل چلتی ہیں اور والدین سے منتقل ہوتی ہیں۔ عوام کو یہ یاد رکھنا چاہئے کہ اس بیماری کاکھانے پینے، رہائشی علاقے، تعلیم، آبائی پیشہ، کمپیوٹر، جراثیم، آب و ہوا، ساتھ رہنا، کپڑوں وغیرہ سے کوئی تعلق نہیں ہے اور اہم بات یہ ہے کہ ٹی بی، نزلہ زکام کے برعکس یہ بیماری (بغیر ازدواجی تعلقات کے) ایک شخص سے دوسرے شخص کو نہیں لگتی۔ تھیلیسیمیاکی دونوں اقسام صرف اور صرف والدین سے ہی ان کے بچوں میں منتقل ہوتی ہیں۔ اگر والدین صرف والد یا والدہ کو تھیلیسیمیا مائنر(صغیرہ) ہو تو بچوں میں صرف تھیلیسیمیا مائنر کی منتقلی ہوتی ہے اور یہ چانس ہر حمل میں 50 فیصد ہے۔ ایسی شادی کے نتیجے میں تھیلیسیمیامائنر(صغیرہ) ہے تو ان کے بچوں میں سے کچھ کو تھیلیسیمیا مائنر ہوسکتا ہے جبکہ کچھ بچے نارمل رہتے ہیں۔ ان نارمل بچوں میں تھیلیسیمیامیجر یا مائنر منتقل نہیں ہوگا۔ البتہ نہایت غیرمتوقع طور پر اور شومئی قسمت سے چند بچے تھیلیسیمیامیجر کا شکار ہوسکتے ہیں، یہ صرف اتفاق کی بات ہے۔
تھیلیسیمیاچاہے صغیرہ ہو یا کبیرہ یہ پیدائش کے وقت موجود ہوتا ہے مگر یہ پیدائش کے بعد کسی حالت میں بھی نہیں لگ سکتا۔ اہم راز یہ ہے کہ تھیلیسیمیا صغیرہ تا زندگی صغیرہ ہی رہتا ہے اور تھیلیسیمیا کبیرہ ہمیشہ کبیرہ ہی رہتا ہے، یہ ایک دوسرے میں تبدیل نہیں ہوتے۔ ڈاکٹروں کے مطابق تھیلیسیمیا کو وہ بیماری کے زمرے میں شمار نہیں کرتے۔ اس کو وہ خون کی ایک کیفیت کہتے ہیں اور جن لوگوں کو تھیلیسیمیاہوتی ہے ان کو وہ تھیلیسیمیا کا مریض کہنا مناسب نہیں سمجھتے کیونکہ اکثر و بیشتر افراد میں اس کی علامت بالکل نظر نہیں آتی۔ ان میں تھیلیسیمیاکی تشخیص خون کے ایک خاص ٹیسٹ کے ذریعے ہوتی ہے۔ تھیلیسیمیا کی اہمیت یہ ہے کہ اگرچہ یہ لوگ بذات خود تندرست ہوتے ہیں لیکن یہ مرض ان کی آئندہ نسلوں میں منتقل ہوسکتا ہے ایسے لوگوں کو کیریر یا بردار کہتے ہیں۔ تھیلیسیمیا صغیرہ اکثر و بیشتر کسی قسم کی علامت ظاہر نہیں کرتا ، ایسے افراد عام طور پر بالکل تندرست نظر آتے ہیں اور ان کو اس مرض کے شکار ہونے کا احساس نہیں ہوتا اور بے خبری ہی صورت حال کو بے حد خطرناک بنا دیتی ہے کیونکہ اگر دو تھیلیسیمیا صغیرہ والے افراد بے خبری میں شادی کرلیں تو ان کو نہایت ہی تلخ تجربہ ہوتا ہے کہ نومولود کو تھیلیسیمیا میجر ہوجاتا ہے اس لئے اس بات کا ادراک انتہائی ضروری ہے کہ ظاہری صحت تھیلیسیمیا سے پاک ہونے کی قطعی ضمانت نہیں ہے۔
دیکھئے اس مرض سے خود کو محفوظ کرنے کے لئے یہ انتہائی ضروری و لازمی ہے کہ دو تھیلیسیمیا صغیرہ سے متاثرہ افراد آپس میں شادی نہ کریں جو معاشرے کو تھیلیسیمیاکبیرہ سے پاک کرسکتا ہے۔ ڈاکٹر کہتے ہیں کہ اگرچہ تھیلیسیمیاکبیرہ سے پاک معاشرے کاحصول ممکن ہے لیکن تھیلیسیمیا صغیرہ سے نجات ناممکن ہے۔ یہ کیفیت پیدائش سے موت تک رہتی ہے اس سے نجات ممکن نہیں ہے۔ ڈاکٹر کہتے ہیں کہ اہمیت تھیلیسیمیاصغیرہ کے موجود ہونے یا نہ ہونے کی نہیں ہے اہم بات یہ ہے کہ تھیلیسیمیا صغیرہ والے دو افراد آپس میں شادی نہ کریں تاکہ بچوں میں تھیلیسیمیاکبیرہ منتقل نہ ہونے پائے۔تھیلیسیمیاکبیرہ سے متاثرہ بچے شروع میں بالکل عام بچوں کی طرح ہوتے ہیں لیکن جلد ہی اینیمیا(خون میں سرخ ذرات کی کمی)، ہڈیوں کی ساخت میں خرابی، خاص طور پر چہرے میں، تھکن، جسم کے بڑھنے میں کمی یا فقدان، سانس کا پھولنا اور جلد کا پیلا ہونا شامل ہے۔
بیماری کے علامات اور ٹیسٹ:۔
طبعی معائنہ سے علم ہوجاتا ہے کہ اگر کوئی فرد اس مرض کا شکار ہے تو اس کی تلّی پر سوجن یا ورم ہوتا ہے یا سائز بڑا ہوجاتا ہے اور خون کا ٹیسٹ بتاتا ہے کہ خون کے سرخ ذرات کی شکل بگڑی ہوتی ہے اور ان کی شکل غیر معمولی ہوتی ہے۔
تھیلیسیمیاکا علاج:۔
یہ نہایت ہی تکلیف دہ اور مہنگا علاج ہوتا ہے۔ تھیلیسیمیاکبیرہ کے مریض کو باقاعدگی سے انتقال خون کی ضرورت پڑتی ہے جو مہنگا کام ہے اور مریض کی زندگی کے ہزاروں قیمتی لمحات اسپتال میں گزرتے ہیں۔ تھیلیسیمیاکبیرہ کے لئے جو مناسب علاج استعمال میں ہے اس میں انتقال خون، تلی کا آپریشن، فولاد کی زیادتی کا تدارک وغیرہ شامل ہیں۔ اس سے مریض کو آرام، جسمانی حالت بہتر بنانے اور بیماری کی علامات کو کنٹرول کرنے میں مدد ملتی ہے۔ اس بیماری سے مستقل طور پر جان چھڑانے کے لئے مریض کی ہڈیوں کے گودے کو کسی صحتمند فرد کی ہڈیوں کے گودے سے تبدیل کرنا بہت مددگار ثابت ہوتا ہے۔ اس میں 15 سے 20 لاکھ روپیہ خرچ آیا ہے لیکن یہ علاج 100 فیصد کامیاب نہیں ہوا ہے جن مریضوں میں یہ طریقہ کامیاب ہوتا ہے ان کو عمر بھر دوائیں بھی لینا پڑتی ہیں۔ جن مریضوں کو باربار خون بدلنا پڑتا ہے ان کے بدن میں فولاد کی مقدار بڑھ جاتی ہے جو دل، جگر اور پٹھوں کے لئے سخت مضر ہوتا ہے۔
9مئی2012ء کے روزنامہ نیوز میں شاہینہ مقبول صاحبہ نے اس موضوع پر ایک اچھا تفصیلی مضمون شائع کیا ہے جس میں 8مئی کو منعقد ہونے والے تھیلیسیمیا فنکشن میں ہونے والی تقاریر کا حوالہ دیا اور خاص طور پر ڈاکٹر محمدطاہر کی تقریر کا حوالہ دیا جس میں انہوں نے بتایا کہ اس مرض سے نجات حاصل کرنے کے لئے عوام کو مصمم ارادے اور معلومات کی دستیابی لازمی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عوام کو اس بارے میں تمام معلومات پہنچانا چاہئے۔ اس کے خطرات سے آگاہ کرنا چاہئے اور شادی سے پہلے اسکریننگ کو لازمی قرار دینا چاہئے۔ اگر خاندانی یا روایتی رواج کی وجہ سے شادی ہوئی ہے تو حاملہ کے بچے کا تین ماہ میں ٹیسٹ کرانا لازمی ہے اگربچہ میں یہ مرض پایا جائے توبچے کی خاطر، والدین کی زندگی کی خاطر حمل کا اسقاط کرادینا چاہئے یہ مذہب کے خلاف نہیں ہے۔
اس قسم کے علاج پر عمل کرکے اٹلی، یونان اور قبرص نے اس بیماری کا مکمل خاتمہ کردیا ہے۔ صوبہ سرحد (خیبرپختونخوا) میں آپس کی شادیوں کی وجہ سے اس بیماری سے متاثرہ افراد کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ اگر ٹیسٹ دو افراد میں تھیلیسیمیا صغیرہ کی موجودگی بتادیں تو ان کو شادی سے روکا جائے، یورپ میں ایسے افراد کے درمیان شادی قانوناً ممنوع ہے۔ اس سے تھیلیسیمیاکبیرہ سے متاثر ہونے کے خطرات ختم ہوجاتے ہیں۔
میری تمام مخیر و مالدار حضرات ، قومی و صوبائی اسمبلیوں کے ممبران، سینیٹ کے ممبران سے بہت بہت صدق دل سے درخواست ہے کہ وہ دل کھول کر
Pakistan Thalassemia Welfare Society Regd, Tipu Road, Opposite Rawalpindi Medical College, Rawalpindi, Phone: 0092-51-5780749
کو اپنے عطیات کراس کردہ چیک کے ذریعے بھجوادیں۔ زکوٰة بھی ان کو ہی دیجئے کہ آپ کے یہ عطیات ہزاروں افراد کی تکالیف دور کرنے اور ان کی زندگی بہتر بنانے میں بہت مفید اور مددگار ثابت ہوں گے۔
،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،
بشکریہ جنگ

بےباک
06-25-2012, 01:43 PM
ادارتی صفحہ

تھیلیسیمیا ۔مزید معلومات ...سحر ہونے تک…ڈاکٹر عبدالقدیرخان

میں نے مہلک بیماری تھیلیسیمیا پر اسی روزنامہ میں21 مئی کو ایک معلوماتی مضمون تحریر کیا تھا۔ اس کو قارئین نے بے حد سراہا اور مجھے لاتعداد پیغامات موصول ہوئے کہ میں نے عوام کو اس مہلک بیماری کے بارے میں معلومات بہم پہنچا دی تھیں۔ یہ مہلک بیماری ہے، تکلیف دہ ہے، علاج بہت مہنگا اور تکلیف دہ ہوتا ہے اور اگر مناسب علاج نہ کیا جائے تو موت واقع ہوجاتی ہے۔ لیکن قبل اس کے کہ میں تھیلیسیمیا پر مزید لکھوں، میں 28 مئی یعنی یوم تکبیر پر کچھ تبصرہ کرنا چاہتا ہوں۔ آپ نے دیکھا کہ میرا کالم28 مئی کو شائع ہوا لیکن میں نے اس موضوع پر ایک لفظ بھی نہیں لکھا بلکہ اپنے کراچی کے دورہ کے بارے میں بات چیت کی۔ یہ حقیقت ہے کہ میرے رفقائے کار اور میں نے ملک کو دنیا کی ساتویں اور اسلامی دنیا کی پہلی ایٹمی قوّت بنایا لیکن اب یہ پرانی کہانی ہے، یہ واقعہ 14 سال پرانا ہے۔ ہماری نفسیات یہ ہے کہ ہم ابھی تک سیکڑوں سال پرانی باتوں کو پکڑ کر بیٹھ جاتے ہیں اور حال اور مستقبل سے آنکھیں بند کرلیتے ہیں۔ ہمارے اس ملک کو ناقابل تسخیر دفاعی صلاحیت دینے کا یہ نتیجہ نکلا کہ یہاں چور، ڈاکو، راشی، نااہل لوگ اور کم و بیش تمام ہی اداروں نے ایک کھلا لوٹ کا بازار گرم کردیا۔ اب باہری حملہ کا خطرہ نہ تھا تو تمام توجہ ملک کو لوٹنے پر مبذول کردی، عوام کو ناقابل برداشت تکالیف میں ڈال دیا، امن و امان کو ختم کردیا، صنعتوں کو تباہ کردیا، لوڈشیڈنگ سے زندگی اجیرن کردی۔ حقیقت یہ ہے کہ ایٹمی صلاحیت کی ڈھال نے سیاست دانوں اور دوسرے اداروں کو بلاخوف و خطر ملک کو تباہ کرنے کا موقع دے دیا اور اب میرے رفقائے کار اور میں یہ بار بار سوچنے پر مجبور ہیں کہ کیا ہماری محنت اور کامیابی ایک غلط اقدام تو نہ تھا۔ بہت سنجیدگی سے سوچنے پر بھی بار بار یہی خدشات و شکوک بار بار دل میں آرہے ہیں۔ قوم اور سیاست داں اور ہمارے خود ساختہ محافظ بے غیرت ہوگئے ہیں۔ ملک پر جارحانہ کارروائیاں جاری ہیں اور محافظین اےئرکنڈیشنڈ گھروں میں بیٹھے، بلٹ پروف گاڑیوں میں بیٹھے دادِعیش دے رہے ہیں اور تمام عہد جو کئے تھے اور حلف اٹھائے تھے ان کو ردّی کی ٹوکری میں ڈال دیا ہے۔ خدا جانے آئندہ 5 سال میں یہ ملک سالم بھی رہے گا کہ نہیں، یہی خیال و فکر تباہ کررہی ہے۔ آئیے پھر اب تھیلیسیمیا بیماری کے بارے میں کچھ مزید معلومات پر بات کرتے ہیں۔ مجھے جو پیغامات موصول ہوئے ہیں ان میں سے دو بہت اہم اور معلومات سے پُر ہیں۔ میں ان پر ہی تبصرہ کروں گا۔ ملتان میں مقیم اور امریکہ سے تعلیم یافتہ میرے عزیز دوست ڈاکٹر عبدالرشید سیال اور کراچی سے میرے نہایت عزیز دوست، کامیاب صنعت کار اور نہایت مخیر، فرشتہ خصلت انسان منیر بھائی (ایس ایم منیر) کی جانب سے جناب کاشف مُلّا نے دو پیغامات بذریعہ ای میل روانہ کئے ہیں۔ ڈاکٹر سیال نے تھیلیسیمیا کے علاج کے بارے میں نہایت ہی امید افزا طریقہ کارِ علاج بیان کیا ہے۔ ڈاکٹر سیال نے کئی اہم کتابیں میڈیکل مضامین پر تحریر کی ہیں اور اب ملتان میں مقیم ہیں۔ انہوں نے لکھا ہے ”جیسا کہ آپ کو علم ہے کہ نہ ہی میں ہماٹولوجسٹ (خون کے اجزا اور افعال کا مطالعہ کرنے والا) اور نہ ہی ماہر کینسر، لیکن میں نے اپنے پاس آنے والے تمام مریضوں کی بیماریوں کا کھلے دماغ سے مطالعہ کیا ہے۔ تقریباً 30 سال پیشتر میں نے اس ہربل (یعنی جڑی بوٹی) دوا کا اثر دیکھا جو ایک حکیم صاحب نے ایک کینسر کے مریض کو دی تھی۔ اس دوا نے وہ اثرات نہیں دکھائے جو عموماً کینسر کی دواؤں کے ہوتے ہیں لیکن اس نے یقینا ان مضر اثرات کو روک دیا تھا جو کینسر کے علاج کی دواؤں سے ہوتے ہیں یعنی نہ ہی بال گرے، خون دینے کا وقفہ بڑھ گیا، جلد کی رنگت تبدیل ہونے سے رُک گئی اور خواہش خوراک یعنی بھوک بھی اچھی ہوگئی۔ میں نے یہ دوا اپنے کئی مریضوں کو دی اور اس کے نہایت حیران کن و مثبت نتائج سامنے آئے۔ 1988 میں میرے ریسپشنسٹ (Receptionist) کی بہن کو تھیلیسیمیا کا مرض لاحق تھا اور بستر مرگ پر تھی۔ ہر ممکن طریقہ سے اس کی جان بچانے کی خاطر میں نے اس کو یہ جڑی بوٹی پر منحصر دوا دینا شروع کردی اور خدا کی قدرت دیکھئے کہ نہ صرف اس کی صحت چند ہی ہفتوں میں بہت بہتر ہوگئی بلکہ آغا خان اسپتال میں کئے گئے ٹیسٹ سے تصدیق ہوگئی کہ وہ اب تھیلیسیمیا مرض سے نجات حاصل کرچکی تھی۔ الحمدللہ۔ اس تجربہ کے بعد میں نے اپنے تمام تھیلیسیمیا کے مریضوں کو یہ دوا دینا شروع کردی اور نتائج نہایت ہی مثبت ظاہر ہوئے اور چند ہفتوں کے علاج سے تھیلیسیمیا صغیرہ کے مریض بالکل صحتیاب ہوگئے اور تھیلیسیمیا کبیرہ کے مریضوں کو خون دینے کے وقفہ میں اضافہ ہوتا گیا۔ اس دوا کا (پودے کا) نام Fegonia Critica ہے اور پورا پودا ہی قابل استعمال ہے اور خصوصاً مارچ اور اپریل میں حاصل کئے ہوئے پودے بہت بااثر ہوتے ہیں۔ غالباً اس دوا کا اثر جسم کے Stem cells (یعنی خام خلیہ جس سے مخصوص خلئے تشکیل پاتے ہیں) پر ہوتا ہے اور ساتھ ہی بیماریوں سے محفوظ رکھنے کا اَثر رکھتا ہے۔ صاف کیا ہوا کڑوا الکولائڈ (نائٹروجن آمیز مرکبات جیسے مارفین، کونین وغیرہ) کا تھیلیسیمیا پر کوئی اثر نہیں ہوتا اور نہ ہی کینسر کے علاج میں کوئی مدد ملتی ہے مگر اس نے نہایت حیرت انگیز اور ناقابل یقین مفید اور صحت مندانہ اثرات ہیپا ٹائٹس سی کے مریضوں کے علاج میں دکھائے ہیں۔ ڈاکٹر عبدالرشید سیال سے ای میل arseyal@gmail.com اور فون نمبر 03216326571 پر رابطہ قائم کیا جاسکتا ہے اور مزید رہنمائی حاصل کی جاسکتی ہے۔ دوسری ای میل مجھے جناب کاشف مَلا نے روانہ کی ہے جو تھیلیسیمیا فیڈریشن آف پاکستان، سندھ چیپٹر کے افسر تعلقات عامہ ہیں اور کاشف اقبال تھیلیسیمیا کےئرسینٹر (KITCC) کے ٹرسٹی اور جوائنٹ سیکرٹری ہیں جو کراچی میں 1996ء میں اقبال صاحب نے قائم کی تھی جب ان کا 16سالہ بیٹا اس بیماری کا شکار ہوگیا تھا۔ اقبال صاحب اس ادارے کے چےئرمین تھے۔ میرے نہایت عزیز دوست، کامیاب صنعت کار اور نہایت ہمدرد و مخیّر و فرشتہ خصلت انسان جناب ایس ایم منیر (میرے لئے صرف منیر بھائی) اس ادارے کے سرپرست اعلیٰ ہیں اور دوسرے عزیز دوست بھوپال کے ہی سینیٹر عبدالحسیب خان، تیسرے نہایت عزیز دوست صنعت کار، مخیّر اور فرشتہ خصلت جناب سردار یٰسین ملک ہیں۔ ان کے ساتھ عزیز دوست میاں زاہد حسین اور محترم جناب خالد تواب اور دوسرے مشہور صنعت کار اور مشہور شخصیات اس کے ٹرسٹی ہیں۔ جناب کاشف ملا کی دلچسپی اور مخلص کارکن کی وجہ یہ ہے کہ ان کا پانچ سالہ بیٹا اس بیماری سے متاثر ہے۔ کاشف ملا ٓ صاحب نے بہت تفصیلی معلومات روانہ کی ہیں اور ان میں KITCC کی کارکردگی اور قابل تحسین خدمات کے بارے میں مطلع کیا ہے۔ انہوں نے بتایا ہے کہ ایران، قبرص، یونان اور اٹلی میں قوانین کی مدد سے اس بیماری کو روکنے اور ختم کرنے میں جو مدد ملی ہے اس کی روشنی میںKITCC اور چند دوسری NGO ادارے چند برسوں سے کوشش کررہے ہیں کہ اس طرح کے قوانین ہمارے یہاں بھی نافذ کردیئے جائیں جن سے اس بیماری کا خاتمہ کیا جاسکے اور اس میں خاص طور پر شادی سے پہلے دولھا، دلہن اور نوجوانوں کا تھیلیسیمیا کی موجودگی یا غیر موجودگی کا ٹیسٹ لازمی قرار دینا چاہئے مگر بدقسمتی سے ابھی تک کچھ نمایاں کامیابی نہیں ہوئی کیونکہ ہمارے منتخب نمائندے اپنے مفاد کے بل تو چند منٹ میں اتفاق رائے سے پاس کرلیتے ہیں مگر عوام کی صحت کے بارے میں اہم بلوں کو پسِ پشت ڈال دیتے ہیں۔ دوم یہ کہ اندرون ملک اور دور دراز علاقوں میں ٹیسٹ کی سہولتیں موجود نہیں ہیں اور پھر ہمارے روایتی کردار کے اچھے معاملات میں بھی فوراً اختلافات کھڑے کرکے اس اہم معاملہ کو ختم کردیتے ہیں۔ اس وقت بھی متعدد اہم ادارے جو تھیلیسیمیا کے مرض کے بارے میں بل پیش کرنا چاہتے ہیں آپس میں ہی بحث و مباحثہ میں مشغول ہیں۔ میرے عزیز دوست سینیٹر عبدالحسیب خان نے پہلا اقدام کیا اور ان کی ہدایت پر KITCC کے ماہرین اور فاطمید (Fatimid)فاؤنڈیشن کے ماہرین نے مل کر بل کا ابتدائی ڈرافٹ تیار کیا جس پر متعدد متعلقہ اداروں کے ماہرین سے ان کی تجاویز اور مشورے طلب کئے۔ ان کی موجودگی میں ایک کانفرنس منعقد کی گئی اور فائنل یعنی حتمی ڈرافٹ تیار کیا گیا۔ یہ اہم واقعہ 28/اپریل2012ء کو ظہور پذیر ہوا اور یہ کانفرنس فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹریز کے دفتر میں منعقد ہوئی۔ اب یہ حتمی بل سندھ کے وزیر صحت اور عزیز دوست صغیر احمد (صغیر بھائی) اور سینیٹر عبدالحسیب خان (میرے حسیب میاں) کے ذریعے سندھ اسمبلی، قومی اسمبلی اور سینیٹ میں منظوری کے لئے پیش کیا جائے گا۔ معاملہ بے حد اہم اور فوری توجہ کا محتاج ہے۔ اُمید ہے کہ قومی نمائندے اتنی ہی تیزی اور تندہی سے اس کو پاس کرالیں گے جس طرح وہ اپنے مفاد کے بل پاس کرتے ہیں۔ اس بل کے چند اہم نکات آپ کی خدمت میں پیش کرتا ہوں: (1) اس بل کا ہرگز یہ مقصد نہیں کہ عوام پر کسی قسم کا مالی یا اخلاقی دباؤ ڈالا جائے بلکہ یہ ہے کہ ان کو اس بیماری کے مہلک نتائج سے آگاہ کیا جائے اور ان کو زندگی بھر کی تکلیف و مصارف سے محفوظ رکھا جائے۔ (2) تمام مرد حضرات کے لئے یہ ٹیسٹ شادی سے پہلے لازمی قرار دیا جائے گا۔ (3) اگر مرد میں اس مرض کے اثرات موجود ہوں تو جس خاتون سے شادی کا ارادہ ہو اس کا ٹیسٹ کرانا لازمی ہوگا تاکہ بیماری خطرناک حیثیت اختیار کرکے بچوں میں منتقل نہ ہو۔ (4) اس بل سے بیماری سے متاثرہ افراد کے درمیان شادی پر پابندی کا مقصد نہیں بلکہ ان کو اس کے نتائج اور مہلک و تکلیف دہ اثرات کے بارے میں اہم خطرات سے آگاہ کرنا ہے۔ (5) تمام افراد کے قومی شناختی کارڈوں میں تھیلیسیمیا کے ٹیسٹ کا اندراج لازمی ہونا چاہئے اور یہ اطلاع ’بی‘ فارم میں بھی اندراج ہونی چاہئے۔ خاص طور پر نکاح سے پہلے یہ لازمی ہونا چاہئے۔ (6) تھیلیسیمیا کے ٹیسٹ کے بغیر نکاح کرنا جرم ہوگا اور نکاح خواں کو سخت سزا دی جائے گی۔ دیکھئے عام روایت یہی ہے کہ قوانین بن جاتے ہیں مگر ان پر عمل نہیں ہوتا اور یہ صرف اس وقت ممکن ہے جب متعلقہ ادارے اس پر سنجیدگی سے عمل کریں اور کرائیں۔ اس میں حکومت کی مکمل حمایت، ایک اہم کارآمد صحت کی تعلیم کا پروگرام، عوام کو آگاہ کرنے کا پروگرام، افراد کے ٹیسٹ اور اعلیٰ، کارآمد ٹیسٹ لیبارٹریز بہت ضروری ہیں اس کے ساتھ ہی زنانہ صحت و بیماریوں سے متعلق بھی ماہرین کی خدمات کی ضرورت ہے۔ یہ جناب کاشف مَلا ٓ کی روانہ کردہ ای میل کا مختصر تجزیہ تھا۔ اس مرض کے مہلک و تباہ کن اثرات کو مدنظر رکھ کر میں تمام والدین اور نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں سے درخواست کروں گا کہ خدا کے لئے شادی سے پہلے تھیلیسیمیا کی موجودگی، غیرموجودگی کے ٹیسٹ ضرور کرالیں۔ اگر آپ نے اس مرض سے متاثرہ افراد کو دیکھا ہو تو پھر آپ خوف و دہشت سے کانپنے لگیں گے، لیکن اگر آپ سستی احتیاطی تدابیر اختیار کرلیں تو پھر ہرگز ڈرنے اور پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔ آپ خوشحال زندگی گزار سکتے ہیں۔
،،،،،،،،،،،،،،،
بشکریہ جنگ

بےباک
06-25-2012, 01:46 PM
http://www.urdugalaxy.com/media/article/files/Health/Thalassemia_a.gif
http://www.urdugalaxy.com/media/article/files/Health/Thalassemia_b.gif
http://www.urdugalaxy.com/media/article/files/Health/Thalassemia_c.gif

بےباک
06-25-2012, 02:02 PM
http://3.bp.blogspot.com/-nTIRbVkDSto/TVpKR_IJVWI/AAAAAAAAADk/9Zsrv6BZmRQ/s1600/l_gene.therapy-ms.gif


تھیلیسیمیا (Thalassemia) ایک موروثی بیماری ہے یعنی یہ والدین کی جینیاتی خرابی کے باعث اولاد کو منتقل ہوتی ہے۔ اس بیماری کی وجہ سے مریض کے جسم میں خون کم بنتا ہے۔

جینیاتی اعتبار سےتھیلیسیمیا کی دو بڑی قسمیں ہیں جنہیں الفا تھیلیسیمیا اور بی ٹا تھیلیسیمیا کہتے ہیں۔ نارمل انسانوں کے خون کے ہیموگلوبن میں دو الفا alpha اور دو بی ٹا beta زنجیریں chains ہوتی ہیں۔ گلوبن کی الفا زنجیر بنانے کے ذمہ دار دونوں جین (gene) کروموزوم نمبر 16 پر ہوتے ہیں جبکہ بی ٹا زنجیر بنانے کا ذمہ دار واحد جین HBB کروموزوم نمبر 11 پر ہوتا ہے۔

الفا تھیلیسیمیا کے مریضوں میں ہیموگلوبن کی الفا زنجیر alpha chain کم بنتی ہے جبکہ بی ٹا تھیلیسیمیا کے مریضوں میں ہیموگلوبن کی بی ٹا زنجیرbeta chain کم بنتی ہے۔ اس طرح خون کی کمی واقع ہو جاتی ہے۔

مرض کی شدت کے اعتبار سے تھیلیسیمیا کی تین قسمیں ہیں۔ شدید ترین قسم تھیلیسیمیا میجر کہلاتی ہے اور سب سے کم شدت والی قسم تھیلیسیمیا مائینر کہلاتی ہے۔ درمیانی شدت والی قسم تھیلیسیمیا انٹرمیڈیا کہلاتی ہے۔

ایک طرح کا تھیلیسیمیا کبھی بھی دوسری طرح کے تھیلیسیمیا میں تبدیل نہیں ہو سکتا یعنی الفا تھیلیسیمیا کبھی بھی بی ٹا تھیلیسیمیا میں تبدیل نہیں ہو سکتا اور نہ ہی بی ٹا کبھی الفا میں۔ اسی طرح نہ تھیلیسیمیا مائینر کبھی تھیلیسیمیا میجر بن سکتا ہے اور نہ ہی میجر کبھی مائینر بن سکتا ہے۔ اسی طرح انکے مرض کی شدت میں اضافہ یا کمی نہیں ہو سکتی۔


تھیلیسیمیا مائینر

تھیلیسیمیا مائینر کی وجہ سے مریض کو کوئ تکلیف یا شکایت نہیں ہوتی نہ اسکی زندگی پر کوئ خاص اثر پڑتا ہے۔علامات و شکایات نہ ہونے کی وجہ سے ایسے لوگوں کی تشخیص صرف لیبارٹری کے ٹیسٹ سے ہی ہو سکتی ہے۔ ایسے لوگ نارمل زندگی گزارتے ہیں مگر یہ لوگ تھیلیسیمیا اپنے بچوں کو منتقل کر سکتے ہیں۔ تھیلیسیمیا مائینر میں مبتلا بیشتر افراد اپنے جین کے نقص سے قطعاً لاعلم ہوتے ہیں اور جسمانی ، ذہنی اور جنسی لحاظ سے عام لوگوں کی طرح ہوتے ہیں اور نارمل انسانوں جتنی ہی عمر پاتے ہیں۔

تھیلیسیمیا مائینر میں مبتلا خواتین جب حاملہ ہوتی ہیں تو ان میں خون کی کمی واقع ہو سکتی ہے۔

تھیلیسیمیا میجر

کسی کو تھیلیسیمیا میجر صرف اسی صورت میں ہو سکتا ہے جب اسکے دونوں والدین کسی نہ کسی طرح کے تھیلیسیمیا کے حامل ہوں۔

تھیلیسیمیا میجر کے مریضوں میں خون اتنا کم بنتا ہے کہ انہیں ہر دو سے چار ہفتے بعد خون کی بوتل لگانے کی ضرورت پیش آتی ہے۔ ایسے بچے پیدائش کے چند مہینوں بعد ہی خون کی کمی کا شکار ہو جاتے ہیں اور انکی بقیہ زندگی بلڈ بینک کی محتاج ہوتی ہے۔ کمزور اور بیمار چہرے والے یہ بچےکھیل کود اور تعلیم دونوں میدانوں میں پیچھے رہ جاتے ہیں اور معاشرے میں صحیح مقام نہ پانے کی وجہ سے خود اعتمادی سے محروم ہوتے ہیں۔ بار بار خون لگانے کے اخراجات اور ہسپتالوں کے چکر والدین کو معاشی طور پر انتہائ خستہ کر دیتے ہیں جس کے بعد نامناسب علاج کی وجہ سے ان بچوں کی موت واقع ہو جاتی ہے۔

ترقی یافتہ ممالک میں بہترین علاج کے باوجود یہ مریض 30 سال سے 40 سال تک ہی زندہ رہ پاتے ہیں۔ پاکستان میں ایسے مریضوں کی عمر لگ بھگ دس سال ہوتی ہے۔ اگر ایسے بالغ مریض کسی نارمل انسان سے شادی کر لیں تو انکے سارے بچے لازماً تھیلیسیمیا مائینر کے حامل ہوتے ہیں۔

وراثت مرض

اگر والدین کسی بھی قسم کے تھیلیسیمیا کے حامل نہ ہوں تو سارے بچے بھی نارمل ہوتے ہیں۔
اگر والدین میں سے کوئ بھی ایک تھیلیسیمیا مائینر کا شکار ہو تو انکے 50 فیصد بچے تو نارمل ہوں گے جبکہ بقیہ 50 فیصد بچے تھیلیسیمیا مائینر میں مبتلا ہوں گے۔ یعنی یہ ممکن ہے کہ ایسے کسی جوڑے کےسارے بچوں کو تھیلیسیمیا مائینر ہو یا چند بچوں کو ہو یا کسی بھی بچے کو نہ ہو۔
اگر دونوں والدین تھیلیسیمیا مائینر کا شکار ہوں تو 25 فیصد بچے نارمل، 50 فیصد بچے تھیلیسیمیا مائینر میں مبتلا جبکہ 25 فیصد بچے تھیلیسیمیا میجر میں مبتلا ہوں گے۔
اگر والدین میں سے کوئ بھی ایک تھیلیسیمیا میجر کا شکار ہو تو انکے سارے کے سارے بچے تھیلیسیمیا مائینر میں مبتلا ہوں گے۔
اگر والدین میں سے کوئ بھی ایک تھیلیسیمیا میجر کا شکار ہو اور دوسرا تھیلیسیمیا مائینر کا شکار ہو تو انکے 50 فیصد بچے تھیلیسیمیا مائینر میں مبتلا ہوں گےجبکہ بقیہ 50 فیصدبچے تھیلیسیمیا میجر میں مبتلا ہوں گے۔
اگر دونوں والدین تھیلیسیمیا میجر کا شکار ہوں تو سارے کے سارے بچے بھی تھیلیسیمیا میجر میں مبتلا ہوں گے۔

پاکستان میں تھیلیسیمیا مائینر کی شرح

حکومتی سطح پر پاکستان میں اسکے لیئے کوئ سروے نہیں کیا گیا ہے لیکن بلڈ بینک کے اعداد و شمار سے اندازہ ہوتا ہے کہ پاکستان میں بی ٹا تھیلیسیمیا پایا جاتا ہے اور بی ٹا تھیلیسیمیا مائینر کی شرح 6 فیصد ہے یعنی سن 2000 میں ایسے افراد کی تعداد 80 لاکھ تھی۔ جن خاندانوں میں یہ مرض پایا جاتا ہے ان میں لگ بھگ 15 فیصد افراد تھیلیسیمیا مائینر میں مبتلا ہیں۔

کراچی میں قائم تھیلیسیمیا کے علاج اور روک تھام سے متعلق ادارے عمیر ثنا فاﺅنڈیشن کے تیار کردہ تحریری مواد کے مطابق اس وقت پاکستان میں تھیلیسیمیا میجر کے مریضوں کی تعداد ایک لاکھ سے زیادہ ہے اور ہر سال ان مریضوں میں 6 ہزار کا اضافہ ہورہا ہے۔
احتیاطی تدابیر

تھیلیسیمیا مائینر یا میجر کے افراد کی آپس میں شادی نہیں ہونی چاہیئے۔ جن خاندانوں میں یہ مرض موجود ہے انکے افراد کو اپنے خاندان میں شادی نہیں کرنی چاہیئے۔
اگر ایسے افراد شادی کر چکے ہوں تو وہ بچے پیدا کرنے سے پہلے ماہرین سے ضرور مشورہ کریں۔
اگر ایسے افراد شادی کر چکے ہوں اور حمل ٹھہر چکا ہو تو حمل کے دسویں ہفتے میں بچے کا تھیلیسیمیا کا ٹیسٹ کروایں۔

تشخیص

خون کا ایک ٹیسٹ جسے ہیموگلوبن الیکٹروفوریسز (Hemoglobin electrophoresis) کہتے ہیں اس بیماری کی تشخیص کر سکتا ہے۔ تھیلیسیمیا کی تشخیص کے لیئے یہ ٹیسٹ زندگی میں ایک ہی دفعہ کیا جاتا ہے اور چھ ماہ کی عمر کے بعد کیا جاتا ہے۔ اگست 2011 میں کراچی میں آغا خان ہسپتال کی لباریٹریاں یہ ٹسٹ 1420 روپیہ میں کرتی تھیں۔

چھ ماہ سے زیادہ عمر کے نارمل افراد میں ہیموگلوبن کی تین قسمیں ہوتی ہیں۔ ہیموگلوبن A سب سے زیادہ ہوتا ہے یعنی 96%۔ ہیموگلوبن A2 صرف 3% ہوتا ہے جبکہ ہیموگلوبن F محض ایک فیصد ہوتا ہے۔ ہیموگلوبن A2 اور ہیموگلوبن F میں beta chain نہیں ہوتی. ہیموگلوبن A2 دو الفا اور دو ڈیلٹا زنجیروں سے ملکر بنتا ہے جبکہ ہیموگلوبن F دو الفا اور دو گاما زنجیروں پر مشتمل ہوتا ہے اور اسے α2γ2 سے ظاہر کرتے ہیں۔ پیدائش سے پہلے بچے کے خون میں 95% تک ہیموگلوبنF ہوتا ہے مگر 6 مہینے کی عمر تک اسکی مقدار کم ہوتے ہوتے ایک فیصد تک رہ جاتی ہے اور اسکی جگہ ہیموگلوبن A لے لیتا ہے۔ ( A برائے adult اور F برائے foetal۔)

تھیلیسیمیا مائینر کے حامل افراد میں ہیموگلوبن A2 کی مقدار بڑھ کر 3.5-7% ہو جاتی ہے۔

تھیلیسیمیا مائینر کے حامل افراد کے خون کے خلیئے یعنی RBC جسامت میں چھوٹے ہوتے ہیں۔ اس حالت کو microcytosis کہتے ہیں۔
تھیلیسیمیا میجر میں مبتلا بچوں کی تلی (spleen) بہت بڑی ہوتی ہے جسکی وجہ سے انکا پیٹ پھولا ہوا ہوتا ہے۔

علاج

تھیلیسیمیا ایک جینیاتی بیماری ہے اور یہ ساری زندگی ٹھیک نہیں ہوتی۔
اگر خون کی کمی ہو تو تھیلیسیمیا مائینر کے حامل افراد کو روزانہ ایک ملی گرام فولک ایسڈ (Folic acid) کی گولیاں استعمال کرتے رہنا چاہیئے تاکہ ان میں خون کی زیادہ کمی نہ ہونے پائے۔ خواتین میں حمل کے دوران اسکی اہمیت بہت بڑھ جاتی ہے۔

بی ٹا تھیلیسیمیا میجر میں مبتلا افراد کو ہر دو سے چار ہفتوں کے بعد خون چڑھانے کی ضرورت پڑتی ہے۔ ایک بوتل خون میں تقریباً 250 ملی گرام لوہا (Iron) موجود ہوتا ہے جسے انسانی جسم پوری طرح خارج نہیں کر سکتا۔ بار بار خون کی بوتل چڑھانے سے جسم میں Iron کی مقدار نقصان دہ حد تک بڑھ جاتی ہے اور اسطرح Hemosiderosis کی بیماری ہو جاتی ہے جو دل اور جگر کو بہت کمزور کر دیتی ہے۔ اس لیئے بار بار خون لگوانے والے مریضوں کو iron chelating دوائیں استعمال کرنی پڑتی ہیں جو جسم سے زائید iron خارج کر دیتی ہیں۔ ایسی ایک دوا کا نام desferrioxamine ہے جو ڈرپ میں ڈال کر لگائ جاتی ہے۔ اسکی قیمت تقریباً 5000 روپیہ ماہانہ پڑتی ہے۔ یہ ہفتے میں پانچ دن لگانی پڑتی ہے اور ہر ڈرپ آٹھ سے دس گھنٹے میں ختم ہوتی ہے۔


جسم سے آئرن کم کرنے کے لیئے کھانے کی گولیاں بھی دستیاب ہیں مگر وہ بہت مہنگی پڑتی ہیں مثلاً deferasirox) Exjade) اور (Ferriprox (deferiprone


اگر تلی (spleen) بہت بڑی ہو چکی ہو تو جراحی کے ذریعے اسے کاٹ کر نکال دیتے ہیں۔

تھلیسیمیا میجر کا علاج ہڈی کے گودے کی تبدیلی bone marrow transplant سے بھی ہو سکتا ہے جس پر 15 سے 20 لاکھ روپے خرچ ہوتے ہیں۔

الفا تھیلیسیمیا میجر میں مبتلا بچے کم عمری میں ہی مر جاتے ہیں۔
روک تھام

قبرص (Cyprus) میں پیدا ہونے والے ہر 158 بچوں میں ایک تھیلیسیمیا میجر کا شکار ہوتا تھا لیکن شادی سے پہلے اسکریننگ ٹیسٹ لازم قرار دیئے جانے کے بعد اب یہ تعداد تقریباً صفر ہو گئی ہے۔ اسی طرح ایران اور ترکی میں بھی شادی سے پہلے اسکریننگ کرانا لازمی ہے۔
تھیلیسیمیا اور ملیریا

نارمل انسانوں کی بہ نسبت تھیلیسیمیا مائینر کے حامل افراد ملیریا کا کم شکار ہوتے ہیں۔ تھیلیسیمیا ان علاقوں میں زیادہ پایا جاتا ہے جہاں ملیریا زیادہ پایا جاتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بشکریہ وکی پیڈیا


تھیلیسیمیا سے بچاو ممکن ہے! ڈاکٹر ثاقب حسین انصاری ۔روزنامہ جسارت
تھیلیسیمیاخون کی ایک موروثی بیماری ہی، جس کی دو قسمیں ہیں:تھیلیسیمیا میجر اور تھیلیسیمیا مائنر۔ تھیلیسیمیا مائنرکوئی علامت ظاہر نہیں کرتا، مگر جب والدین تھیلیسیمیا مائنرکا شکار ہوں تو پیدا ہونے والے بچوں میں اس بات کا قوی امکان ہوتا ہے کہ وہ تھیلیسیمیا میجر کا شکار ہوں۔ تھیلیسیمیامیجر میں خون بننے کا عمل رک جاتا ہی، نتیجتاً ایسے بچوں کے جسم میں خون کی شدید کمی ہوجاتی ہے اور انہیں ساری زندگی انتقال خون(Blood Tranfusion)کی ضرورت پیش آتی ہے۔ اس انتقالِ خون اور ادویات کے استعمال میں ماہانہ6000 روپے خرچ ہوتے ہیں جو کہ ایک غریب آدمی کے بس سے باہر ہوتا ہے۔ اس بیماری کا واحد علاج خون کے بنیادی خلیات کی پیوند کاری (Bone marrow Transpalantation)ہی، جس پر تقریباً 18سے 20 لاکھ روپے خرچ ہوتے ہیں۔ اس طریقہ علاج سے صرف صاحبِِ ثروت افراد ہی استفادہ کرسکتے ہیں، جب کہ بیشتر مریضوں کی زندگی کا انحصار انتقالِ خون اور جسم سے فولاد نکالنے کی ادویات پر ہوتا ہے۔ تھیلیسیمیاایک موروثی جینیاتی(Genetic) بیماری ہی، جو کہ ماں اور باپ دونوں سے یکساں طور پر بچوں میں منتقل ہوتی ہے۔ اگر والدین تھیلیسیمیامائنر کا شکار ہوں تو ہر حمل میں 25 فیصد امکان دنیا میں آنے والے بچے میں تھیلیسیمیا میجر کا ہوتا ہے۔تھیلیسیمیا کی بیماری میں جسم میں لال خون کے ذرات نہیں بنتے جس کی وجہ سے بچے میں خون کی شدید کمی واقع ہوجاتی ہے۔ عام طور پر اس مرض کی علامات بچے میں چار ماہ کی عمر سے ظاہر ہونا شروع ہوجاتی ہیں۔ متاثرہ بچے کو ہر پندرہ دن بعد انتقالِ خون اور جسم سے زائد فولاد کے اخراج کے لیے ادویات کی ضرورت تاحیات رہتی ہے۔ تھیلیسیمیا موروثی بیماری ہونے کی وجہ سے ان گھرانوں میں زیادہ پایا جاتا ہے جہاں خاندانی شادیوں کا رواج ہے۔ تھیلیسیمیا مائنر عام طور پر کوئی علامات پیدا نہیں کرتا اور اسی بے خبری میں تھیلیسیمیامائنر کے حامل دو افراد شادی کرلیں تو بسا اوقات یہ تلخ حقیقتتھیلیسیمیا میجر کے بچے کی صورت میں ان کے سامنے آتی ہے۔ ملک میں تھیلیسیمیا کا مرض شدت اختیار کررہا ہی، سرکاری سطح پر اس سلسلے میں اب تک کوئی سروے نہیں کیا جاسکا اور نیشنل ڈیٹا بیس موجود نہ ہونے کی وجہ سے تھیلیسیمیا سے متاثرہ افراد کی صحیح تعداد کا کوئی علم نہیں، تاہم غیر سرکاری سطح پر کیے جانے والے کئی سروے کی روشنی میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ ایک محتاط اندازے کے مطابق تھیلیسیمیا میجر سے متاثرہ بچوں کی تعداد پاکستان میں80 ہزار سے تجاوز کرچکی ہی، اور ایک کروڑ افراد تھیلیسیمیا مائنر کا شکار ہیں، جب کہ ہر سال 6 ہزار بچیتھیلیسیمیا میجر کے مرض کے ساتھ پیدا ہورہے ہیں۔ تھیلیسیمیاجیسے موروثی مرض سے متعلق عدم آگہی کی وجہ سے ہی اس مرض کے پھیلنے کی شرح میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ زندگی بھر ساتھ رہنے والے اس مہلک مرض سے بچاو کا واحد حل شادی سے قبل تھیلیسیمیا جین کی موجودگی کا پتا چلانے کے لیے خون کا آسان اور سادہ ٹیسٹ کرانا ہے تاکہ آنے والی نسلوں میں اس بیماری کی شرح کو روکا جاسکے۔ اب وقت آگیا ہے کہ معاشرے کا ہر باشعور فرد تھیلیسیمیا کے مسئلے کو سنجیدگی سے لے اور اس کے تدارک کی بھرپور کوشش کرے۔ بالخصوص میڈیا اس ضمن میں اپنا کردار ادا کری، کیونکہ ایک صحت مند معاشرہ ہی مضبوط پاکستان کی بنیاد ہی، اور صحت مند معاشرے کے قیام کا شعور بیدار کیے بغیر خوشحال اور ترقی یافتہ پاکستان کا خواب شرمندہ¿ تعبیر نہیں کیا جاسکتا۔ وہ خواتین جن کے یہاں تھیلیسیمیا میجر سے متاثرہ بچہ موجود ہے انہیں چاہیے کہ دورانِ حمل دسویں سے بارہویں ہفتے CVS(Chorionic Villous Sampling) Prenatalٹیسٹ کروائیں جس سے آنے والے بچے میں تھیلیسیمیا کی جین کی موجودگی کا پتا چلایا جا سکتا ہے ،اور تھیلیسیمیامیجر کے جین کی موجودگی کی صورت میں سولہویں ہفتے سے قبل اسقاطِ حمل کروالیں۔ اس سلسلے میں ممتاز عالم دین مفتی تقی عثمانی صاحب کا فتویٰ بھی موجود ہی، جس کی روشنی میں یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ اس قسم کا اسقاط نہ صرف جائز ہے بلکہ آنے والی نسل کو اس مہلک بیماری سے بچانے کے لیے بھی ضروری ہے۔ سرکاری سطح پر شادی سے قبل تھیلیسیمیا کی اسکریننگ کے لیے قانون سازی وقت کی اہم ضرورت ہے۔ یونان، اٹلی، ایران، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات نے محض اس قانون سازی کی بدولت اپنے ملک کو اس مہک بیماری سے محفوظ کیا ہے۔ لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ: تھیلیسیمیا کے مریضوں کی تعداد جاننے کے لیے National Data Registry قائم کیا جائی، تھیلیسیمیا میجر سے متاثرہ بچوں کے لیے محفوظ خون جو کہHepatitis B,C HiV Aids,Syphilis,Malaria سے پاک ہو، کی پورے ملک میں یکساں فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔ پاکستان کو تھیلیسیمیا سے محفوظ بنانے کے لیے شادی سے قبل تھیلیسیمیا کے اسکریننگ ٹیسٹ کے لیے قانون سازی کی جائے۔ نکاح نامے میں ایک نئی شق کا اضافہ کیا جائے جس میں دولہا کے تھیلیسیمیا اسٹیٹس کا ذکر ہو۔ عمیر ثناءفاونڈیشن گزشتہ 10سال سے ملک سے تھیلیسیمیا کے خاتمے کی جدوجہد کررہی ہے۔ اس مقصد کے لیے ہم نے تھیلیسیمیا پری وینشن سینٹر بھی قائم کیا ہے۔ اب تک اس مرض سے متاثرہ تقریباً 150خاندانوں کی بلڈ اسکریننگ کی جاچکی ہی، جب کہ پیدا ہونے والے بچے میں تھیلیسیمیا کے مرض کی ممکنہ تشخیص کے لیے حاملہ خواتین کا CVS(Chorionic Villous Sampling) کیا جاتا ہے۔ عمیر ثناءفاونڈیشن تھیلیسیمیا کی300 سے زائد بچوں کے علاج معالجے کے اخراجات اٹھا رہی ہی، جب کہ تھیلیسیمیا کے مرض سے متاثرہ 25 سے زائد بچوں کے بون میرو ٹرانسپلانٹیشن میں بھی کلی و جزوی معاونت کرچکی ہے اور یہ سلسلہ ہنوز جاری ہے۔ عمیر ثناءفاونڈیشن کی پری وینشن ٹیم نے پہلے مرحلے میں سندھ بھر کے لیے مفت تھیلیسیمیااسکریننگ ٹیسٹ کا اعلان کردیا ہی، اور سندھ کے بعد دوسرے صوبوں میں تھیلیسیمیا کے خاتمے کے لیے اپنی خدمات انجام دے گی۔ یہاں یہ امر پیش نظر رہے کہ حکومت پولیو کے خاتمے کے لیے اپنی جو خدمات انجام دے رہی ہی، وہ یقینا خوش آئند ہی، تاہم یہ امر بھی پیش نظر ہونا چاہیے کہ پولیو کے مرض سے بچہ صرف جسمانی معذوری کا شکار ہوتا ہے جب کہ تھیلیسیمیا کے مرض میں مبتلا بچے جو بون میرو کرانے کی صلاحیت نہیں رکھتے وہ بالآخر اپنی زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ اس مہلک مرض سے نجات اور اس کے خاتمے کے لیے حکومتی سطح پر بھی سنجیدہ اور ٹھوس اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔