PDA

View Full Version : سلطان نور الدین زنگی



pervaz khan
06-27-2012, 07:20 PM
شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے۔
اسلام علیکم
نور الدین زنگی سلطنت کے بانی عماد الدین زنگی کا بیٹا تھا) عماد الدین زنگی سلجوقی حکومت کی طرف سے شہر موصل کا حاکم تھا۔ جب سلجوقی حکومت کمزور ہوگئی تو اس نے زنگی سلطنت قائم کرلی اورعیسائیوں کو شکستوں پر شکستیں دیں (جس نے تاریخ میں بڑا نام پیدا کیا۔ نور الدین فروری 1118ء میں پیدا ہوا اور 1146ء سے 1174ء تک 28سال حکومت کی۔اس نے عیسائیوں سے بیت المقدس واپس لینے کے لیے پہلے ایک مضبوط حکومت قائم کرنے کی کوشش کی اور اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے گرد و نواح کی چھوٹی چھوٹی مسلمان حکومتوں کو ختم کرکے ان کو اپنی مملکت میں شامل کرلیا۔مصر پر قبضہ کرنے کے بعد نورالدین نے بیت المقدس پر حملہ کرنے کی تیاریاں شروع کردیں۔ بیت المقدس کی مسجد عمر میں رکھنے کے لیے اس نے اعلیٰ درجے کا منبر تیار کروایا۔ اس کی خواہش تھی کہ فتح بیت المقدس کے بعد وہ اس منبر کو اپنے ہاتھوں سے رکھے گا لیکن خدا کو یہ منظور نہ تھا۔ نورالدین ابھی حملے کی تیاریاں ہی کررہا تھا کہ زنگی کو حشیشین نے زہر دیا۔جس سے ان کے گلے میں سوزش پیدا هو گئی جو کہ ان کی موت کا باعث بنی15 مئی 1174ء کو ان کا انتقال ہوگیا۔ انتقال کے وقت نورالدین کی عمر 58سال تھی۔نور الدین زنگی ان خوش نصیب انسانوں میں شامل ہے جنہیں خواب میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا دیدار نصیب ہوا ہے۔یہ واقعہ 557 کا ہے اور اس کا حوالہ (صفہ 156 جلد 3 بخاری شریف (عنوان گنبد خضراء کے حالات)) میں ہے۔557 ھجری میں سلطان نور الدین زنگی نےجب کہ وہ عیسائیوں کے ساتھ صلیبی جنگ عظیم میں مشغول تھا،خواب دیکھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم دو گربہ چشم آدمیوں کی طرف اشارہ فرما رہے ہیں ”انجلنی و انقذنی من ھذین“چونک کر سلطان کی آنکھ کھل گی اور فوراً تیز رو سانڈنیاں منگوا کرچند ہمراہی ساتھ لئے۔نہ دن دیکھا نہ رات رواں دواں سولہ دن میں مصر سے مدینہ شریف پہنچا اور جتنے بھی بیرونی باشندے مدینہ شریف میں مقیم تھے سب کی دعوت کی یہ میدان اب بھی ”دارالضیافۃ“ کے نام سے مشہور ہے۔سلطان نے ان پر گہری نگاہ ڈالی مگر وہ دو شخص نظر نہ آئے جو خواب میں دکھائے گے تھے۔پو چھا کیا اور کوئی بھی باقی ہے؟ معلوم ہوا کہ دو مغربی درویش گوشہ نشین باقی رہ گے ہیں۔چنانچہ وہ بلوائے گے ان کو دیکھتے ہی سلطان نے پہچان لیاکہ انہیں کی طرف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اشارہ فرمایا تھا۔ان کو لئے ہوئے سلطان ان کی قیام گاہ پر آیا دیکھا کہ ادھر ادھر چند کتابیں پڑی ہوئی ہیں زمین پر ایک معمولی ٹاٹ پڑا ہواہے اور اس پر مصلیٰ بچھا ہوا ہے۔اور چند برتن رکھے ہیں جن میں کچھ اناج ہے۔بادشاہ خاموش سوچ رہا تھا کہ خواب کا کیا مقصد ہے،حیران تھاکچھ سمجھ نہ سکادفعتاً اس کے قلب میں القا ہوا اور اس نے بچھا ہوا ٹاٹ اور مصلیٰ اٹھا لیا دیکھا تو اس کے نیچے گڑھا ہے جس پر پتھر رکھا ہوا ہے۔پتھر اٹھایا تو دیکھا کہ گھونس کی طرح سرنگ کھودی گئی ہےاور وہ سرنگ اندر ہی اندر جسم انوار(مبارک) کے قریب پہنچ گی ہے۔یہ دیکھ کر سلطان رحمتہ اللہ علیہ غصہ سے لرزنےلگا اور سختی سے تفتیش حال کرنے لگا۔آخر دونوں نے اقرار کیا کہ وہ نصرانی ہیں جو اسلامی وضع میں یہاں آئے ہیں اور ان کے عیسائی بادشاہ نے جسد محمدی صلی اللہ علیہ وسلم نکال لانے کے لئے ان کو بھیجا ہے۔ان حالات کو سن کر بادشاہ رحمتہ اللہ علیہ کی عجیب کیفیت ہوئی وہ تھر تھر کانپنے اور رونے لگا۔آخر ان دونوں کو اپنے سامنے قتل کرا دیا اور مخمس دیوار کے گردا گرد اتنی گہری خندق کھدوائی کہ پانی نکل آیا پھر لاکھوں من سیسہ پگھلوا کر اس میں ڈلوایا اور سطح زمین تک سیسہ کی زمین دوز ٹھوس دیوار قائم کر دی کہ کسی رخ جسد مطہر(مبارک) تک کوئی دشمن رسائی نہ پا سکے۔

بےباک
11-23-2012, 12:55 PM
زبردست جناب ،بہت خوب
http://www.geourdu.com/wp-content/uploads/2012/05/sultan-nooruddin-zangi.jpg

pervaz khan
11-23-2012, 03:56 PM
بہت بہت شکریہ جناب

نگار
11-23-2012, 09:52 PM
زبردست ، خوبصورت اور معلوماتی شیئرنگ پہ آپ کا بہت بہت شکریہ

pervaz khan
11-24-2012, 04:41 PM
بہت بہت شکریہ جناب