PDA

View Full Version : توبہ توبہ



گلاب خان
07-01-2012, 10:36 PM
مجھے تم سے محبت ‘ توبہ توبہ
یہ گستاخی یہ جرأت ‘ توبہ توبہ
اُٹھا رکھا ہے سر پر آسماں کو
مگر بارِ امانت ‘ توبہ توبہ
چلا ہے شیخ میخانے کی جانب
مجھے کر کے نصیحت ‘ توبہ توبہ
سلگتا ہے ابھی تک ذرّہ ذرّہ
ترے عاشق کی تُربت ‘ توبہ توبہ
سرِ بازار رُسوائی کے ڈر سے
ہوئے عشاق رخصت ‘ توبہ توبہ
بڑی مدت کے بعد آنا ہوا ہے
مگر جانے میں عُجلت ‘ توبہ توبہ
نہ پوچھو کس لئے روتا ہے واصفؔ
’’گناہوں پر ندامت‘‘ ، توبہ توب

نگار
08-17-2012, 02:59 AM
بہت خوب جناب شکریہ