PDA

View Full Version : بھرے بھڑولے



گلاب خان
07-01-2012, 10:42 PM
ایہہ بن سَن موتی انمول
ہنجو سانبھ کے رکھناں کول
شہر دے بوہے کُھل جاون گے
پہلے دل دا بُوا کھول
جس دے ناں دی ڈھولک وجدی
اوسے یار نوں کہندے ڈھول
جو کیتا توں چنگا کیتا
دبیّ رہن دے‘اگ نہ پھَول
میرے ورگا مِل جاوے گا
پہلے اپنے ورگا ٹول
سونے ورگی اے جوانی
اینویں نہ مِٹی وِچ رول
اَج تے پتھر وی پچھدا اے
کیہہ چاہناں اے واصفؔ ‘بول
فرہنگ : :: ہنجو : آنسو ، سانبھ : سنبھال ، بوہے : د روازے،
ڈھول :محبوب ، چنگا : ا چھا ، ورگا : جیسا ، ٹول : تلاش کرنا ، رول : ضائع کرنا
شرح و تفہیم

ایہہ بن سَن موتی انمول
ہنجو سانبھ کے رکھناں کول
(یہ انمول موتی بن جائیں گے،اِن آنسوؤں کو سنبھال کر رکھنا)
آنسو ایک قیمتی خزانہ ہیں۔اس شعر میں اِس خزانے کی حفاظت کا درس دیا جا رہا ہے ۔ آنسو شب بیداری کا حصہ بھی ہیںاور خاصہ بھی۔ انہیں دن کی روشنی سے بچاکر رکھنے کاحکم ہے … کہ اِن موتیوں کی قدرو قیمت بوقتِ نیم شب ہے۔ دن کی روشنی میں انہیں دنیا داروں میں ظاہر کرنا درحقیقت ان موتیوں کو مٹی میں رول دینے کے برابر ہے۔ ممکن ہے کہ دنیا دار‘ظاہر پرست … نامحرم لوگ …اپنی محدود حسابی کتابی سمجھ بوجھ کے مطابق اِن کی وجوہات تلاش کرنے کی کوشش کریں…یعنی کچھ مول لگانے کی کوشش کریں … مگر اس طرح وہ موتی انمول نہ رہ پائیں گے۔ آنسو بارگاہِ اَزلی میں پہنچنے والے سفیر ہوتے ہیں‘اس لئے ان کی تکریم ضروری ہے اور مخلوق کے سامنے ان کی نمائش ان انمول موتیوں کی بے قدری کاباعث ہے ۔اگر یہ آنسو ضبط کی کان میں محفوظ و محصور رکھے جائیں تو یہی قطرے ہیرے موتی بنتے ہیں۔ موتی جیسے آنسو درد کی عطا ہیں اور… درد عطائے رحمانی ہے۔ سوزِ دلِ پروانہ … حدِّ ادراکِ مگس سے باہر ہے۔ اس شعر میں ہمیں یہ سبق دیا جارہاہے کہ اس انمول نعمت کو دُنیاکے سامنے نہ لٹایاجائے ، بلکہ اِخلاص کے ساتھ صرف محبوبِ حقیقی کی بارگاہ میں پیش کیا جائے۔ اِخلا ص … ایک کے ساتھ ایک ہوجانے کانام ہے۔ اپنی ذات کی وحدت تک پہنچنے کا وسیلہ محبوب کی ذات ہے …اور بارگاہ ِمحبوبِ حقیقی میں پیش کرنے کیلئے وہی موتی درکار ہیں جو …اَز روئے سورۃ الرحمٰن …کسی انسان و جنّ کے ادراک کے لمس سے ناآشنا ہوں۔
آنسو زبانِ حال میں جزو کی کل سے جدائی کی داستان بھی ہے ۔کتاب ِ عشق میں جدائی سے بڑا کوئی دکھ نہیں ہوتا…آنسو قطرے اور قلزم کی داستانِ فراق کا ایک پہلو بھی ہے۔یہ وہ قطرہ ہے جو قلزم کی یاد میں ٹپکتا ہے۔
دل کو سمندر کہا جاتا ہے اور موتی سمندر کی گہرائیوں میں ہی بنتے ہیں۔آنسو بھی ایسا قطرہ ہے کہ جسے اگر دل کے سمندر میں سنبھال کر رکھا جائے تو یہ انمول گوہرِ نایاب کی صورت ظاہر ہوتے ہیں …وگرنہ وقت سے پہلے ان کا اظہار انہیں ضائع کر دیتا ہے۔
شمع کے بھی آنسو ہوتے ہیں۔وہ اپنے آنسو پاس رکھتی ہے اور دوسروں کو روشنی دیتی ہے یعنی ذاتی دکھ کو ضبط کر کے اسے آفاقی روشنی میں بدل دیتی ہے۔
اس موضوع پر حضرت واصف علی واصف ؒ کی کتاب ’’قطرہ قطرہ قلزم‘‘ میں درج ایک مضمون ’’موتی‘‘ سیر حاصل تفہیم دیتاہے۔
شہر دے بوہے کُھل جاون گے
پہلے دل دا بُوا کھول
(شہر کے دروازے کھل جائیں گے،پہلے اپنے دل کا دروازہ کھولو)
باطن کی دنیا امکانات دَر امکانات کی دنیا ہے اور اس دنیا کا راستہ انسان کے اپنے ہی دل سے گزرتا ہے۔جب تک اپنے دل کا دروازہ وَا نہ کیا جائے‘ حقیقت تک رسائی ممکن نہیںہوتی۔ دل کا قفل جس چابی سے کھلتا ہے ‘وہ محبت ہے۔
کثرت کا تعلق صفات سے ہے‘ وحدت کا تعلق دل سے ہے۔ اپنے دل کے دروازے کو کھولناکثرت سے وحدت کی طرف ہجرت کرنا ہے۔ اسی دروازے سے داخل ہو کرانسان اپنی ذات کا عرفان حاصل کر سکتا ہے ۔دل تک رسائی دراصل خود شناسی کا مقام ہے ۔حضرت واصف علی واصف ؒ اپنی کتاب ’’قطرہ قطرہ قلزم ‘‘ میں فرماتے ہیں:
’’ جزو اگر خود شناس ہو جائے تو اُسے کُل شناس ہونے میں دیر نہیں لگتی‘‘ اس شعر میں شہرسے مراد شہرِ علم Aبھی ہے … اور جب تک درِ علم ؑ وا نہیں ہوتاشہر ِ علم ؐ تک معنوی رسائی پانامحال ہے ۔درِ علم ؑ تک رسائی کیلئے محبت کی گزرگاہ سے گزرنا ہوگا… اپنے دل کی راہ داری سے گزرناہوگا…اور دل کے کواڑ کھولنے کیلئے لازم ہے کہ نفرت ‘ حسد ‘ تعصب اور بغض ایسا زنگ دور کیا جائے۔
جس دے ناں دی ڈھولک وجدی
اوسے یار نوں کہندے ڈھول
(جس کے نام کی ڈھولک بج رہی ہے‘اسی دوست کو محبوب کہتے ہیں)
ڈھول پنجابی زبان کا ایک انتہائی خوبصورت استعارہ ہے جس سے محبوب کو تشبہیہ دی جاتی ہے۔دل کی دھڑکن بھی ڈھولک کی تھاپ کی مانند ہے… اورجو محبوب اس دل میں بسا ہوتاہے‘ یہ ڈھولک اسی محبوب کے نام کی ہوتی ہے ۔باطنی حوالے سے دیکھیں تو مجاز ایک پردہ ہے‘جس کے پیچھے مرتعش ایک ہی روحِ حقیقت ہے۔ ہر ذرۂ موجود کا دِل اُسی صدائے ’’کن ‘‘کے زیروبم سے مرتعش ہے۔ کُن … آوازہ ٔ خالق ہے … بغرض ِ تخلیق … بسلسلہ ِ عرفانِ خود… اِس’’ کُن‘‘ کی کُنہہ بے پایاں محبت ہے۔ خالقِ واحد ویکتاکا محبوبِ حقیقیAبھی ایک ہی ہے۔ صدائے کُن کی ڈھولک جس کارن بج رہی ہے وہ عربی ڈھول ہے ۔یہ کائنات اسمِ محمدAکی تشریح ہے اور موجودات محوِ نعت !!
جو کیتا توں چنگا کیتا
دبیّ رہن دے‘اگ نہ پھَول
(تم نے جو کچھ کیا ‘اچھا کیا… دبی ہوئی آگ کو مت کریدو)
اہل ِ باطن کا کہا ہوا لفظ لفظ … معنی در معنی کتاب ہوتاہے ۔ اہلِ باطن کے کہے ہوئے لفظ کے قریب تھوڑا سا توقف اور تفکر کیا جائے تو وہ اپناباطن کھولنے لگتاہے ۔ مجاز کی بجائے حقیقی حوالے سے دیکھاجائے تو اس شعر کے پہلے مصرعے کی تفہیم حضرت واصف علی واصفؒ کے اس مشہورِ زمانہ قول سے ہوتی ہے کہ ’’جو کرتا ہے اللہ کرتا ہے اور اللہ جو کرتا ہے صحیح کرتا ہے‘‘ مندرجہ بالا شعر یہ بیان کر رہا ہے کہ حضرت ِ عشق نے نارِ عشق کی چنگاری انسان کے پیکر ِخاکی میں رکھ دی اور اسے ہجرو فراق کے سفر پر روانہ کر دیا… اور یہ سفر بھی کیا خوب سفر ہے … ہر لحظہ حیرت کاجہاں ہے جو ورق در ورق صاحب ِ عشق کی نظروں میں کھل رہاہے… یہ سفر جو بیک وقت عرفانِ خود بھی ہے اور عرفان ِ خدا بھی … اسی سوزِ دروں کی قوت سے جاری و ساری ہے جسے اقبالؒ نے قوت ِ عشق کہااور حضرت ِ واصف ؒ نے آتشِ ہجراں اور سوزشِ لرزاں کہا۔ بدن میں دبی ہوئی عشق کی یہ چنگار ی ہولے ہولے اس خاک کوخاکستر کر دیتی ہے اور اس خاکی کارشتہ جوہرِ نوری سے قائم ہوجاتاہے۔ شعر کے دوسرے مصرعے میں سالک کیلئے سبق ہے … کہ نارِ عشق کی اس چنگاری کواپنے خاکی وجود میں دبائے رکھو…سلوک کے ضبط اور ضابطے کے پیرائے میں چلتے رہو۔ سوزِ عشق دھیرے دھیرے اس پیکرِ خاکی کو کیمیا کرتاہے‘ جیسے مٹی کے برتن کو سلگتی ہوئی آگ پکاتی ہے ۔بھڑکتی ہوئی آگ سے ہر طرح کاظرف تڑخ جاتا ہے۔جب تک خاکی پیکر کا برزخ قائم ہے ‘ اہلِ خرد بھی اہل ِجذب سے فیض کے ایک رابطے میں ہیں۔ اسی لگائو اور سلگائوکے دم سے ہر دور میں داستان ِ فراق و وصال کا بھرم قائم ہے ۔
سلگتا ہے ابھی تک ذرّہ ذرّہ
ترے عاشق کی تربت‘ توبہ توبہ
میرے ورگا مِل جاوے گا
پہلے اپنے ورگا ٹول
(میرے جیساتو مل جائے گا،پہلے اپنے جیسا (اپنا آپ)تلاش کرو)
اس شعر میں مرشدِ کامل مرید سے کہہ رہا ہے کہ تُو اپنی طلب میں صادق ہو جا‘ اپنی طلب کو نکتۂ کمال تک پہنچا دے تو مرشدِ کامل بھی اپنی تمام تر حقیقتوں کو نکتۂ کمال پر لا کر مریدِ صادق کی تشنگی مٹائے گا …وگرنہ حجابات حائل رہیں گے۔ اس شعر میں مرید کو اِخلاص اور طلبِ صادق کی ترغیب دلائی جا رہی ہے۔ اِس کی مزید تفہیم حضرتِ اقبالؒ کے اس شعر سے بھی ہوتی ہے :
اپنے من میں ڈوب کر پا جا سراغِ زندگی
تو اگرمیرا نہیںبنتا‘نہ بن‘اپناتو بن
اس شعر میں … من عرف نفسہ‘ فقد عرف ربّہ‘ …(جس نے اپنے نفس کو پہچان لیا اس نے اپنے رب کو پہچان لیا) کی بہت خوبصورت تفہیم موجود ہے۔ حدیث مبارک ہے … المومن مراۃ المومن …(مومن مومن کاآئینہ ہے )…اس شعر میںاس راز کی طرف بھی اشارہ ہے کہ خود آئینہ بنے بغیرکسی آئینہ رُو کامشاہدہ ممکن نہیں۔
سونے ورگی اے جوانی
اینویں نہ مِٹی وِچ رول
(یہ جوانی سونے جیسی قیمتی ہے،اس کو مٹی میں مت ضائع کرو)
قیمتی جوانی سے مراد قیمتی مہلتِ عمر بھی ہے اور یہ مہلت اس لئے ہے کہ انسان اس مہلت میں اُس ’’مخفی خزانہ‘‘ کو تلاش کرے جو اس کے اپنے اندر چھپاہوا ہے ‘ نہ کہ صرف ظاہری مشغولیات و لذاتِ وجود ہی کے پیچھے بھاگنے میں ہی اس عمر کوضائع کیا جائے۔
اس شعر کے اصلاحی پہلو کی تفہیم شیخ سعدی ؒ کے اس مصرعے سے بھی ہوتی ہے کہ:
در جوانی توبہ کردن شیوۂ پیغمبری
یعنی جوانی میں توبہ کرنا اور نا پسندیدہ مصروفیات ِ زندگی سے گریز کرنا ایک پسندیدہ فعل ہے کیونکہ بڑھاپے میں تو انسان کے پاس محدود Optionsہی ہوتے ہیں۔ اسی بارے میں حضرت واصف علی واصفؒ کا ایک قول راہنمائی کرتا ہے کہــ’’جوانی اگر حدود و قیود میں رہے تو بڑھاپا فاصلے پر ہی رہتا ہے‘‘
اَج تے پتھر وی پچھدا اے
کیہہ چاہناں اے واصفؔ‘بول
(آج تو پتھر بھی پوچھ رہا ہے…واصفؔ!بتائو کیا چاہتے ہو)
کلام ِ پاک میں ارشاد خداوندی ہے … ’’ میرا ذکر کرو ‘ میں تمہارا ذکر کروں گا‘‘ ایک حدیثِ قدسی کامفہوم یوں ہے کہ بندہ نوافل کے ذریعے میرا قرب حاصل کرتا ہے تو میں اس کی زبان بن جاتاہوں ُ جس سے وہ بولتاہے، میں اس کے کان بن جاتاہوں‘ جس سے وہ سنتاہے ، میں اس کے ہاتھ بن جاتاہوں‘ جس سے وہ کام کرتاہے اور میں اس کے پائوں بن جاتاہوں ‘ جس سے وہ چلتاہے۔
کتابِ محبت میں محبوب ِ مجازی کو صنم سے تشبیہ دی جاتی ہے ، مجازکی بے رُخی استعارہ ڈھونڈنے نکلتی ہے تو پتھر تک جاپہنچتی ہے۔اُدھر محب وفورِ شوق میںتشبیہہ سے نکلتاہوا تنزیہہ کی حقیقت تک پہنچ جاتاہے۔ یہ دیکھ کر صنم اپنی بے نیازی سے کنارہ کش ہونے کی کوشش کرتاہے … متوجہ ہوتاہے … مگر اسی اثنا محب راہِ طلب میں بے طلب ہو چکا ہوتاہے …روح اور بُت کی کشاکش سے نجات پاچکاہوتاہے… اور بارگاہِ ناز میں باریاب ہوچکاہوتاہے۔شہنشاہ کا مہمانِ خاص … ہر خاص وعام کیلئے خودمطلوب کا درجہ حاصل کر چکا ہوتاہے۔ مخفی خزانے کے راز آشنا کو خزانوں کی چابیاں عطا کر دی جاتی ہیں … اوروہ مخلوق کو عطا کرنے کی حالت میںآ جاتا ہے ۔ طالب ِ حق پر ایک وقت ایسا آتا ہے کہ مخلوق کو خود اُس کی طلب لاحق ہوجاتی ہے ۔ سنگ دل ہو… یا دلِ سنگ …اُس کے ذِکر میں محو ہوجاتے ہیں