PDA

View Full Version : جرائم کی روک تھام



نجم الحسن
07-02-2012, 01:08 PM
ہمارے پیارے ملک پاکستان میں بڑھتے ہوئے جرائم کو کیسے روکا جا سکتا ہے ، اس لیے کہ
1:مجرم اپنے جرم میں اکیلا مجرم نہیں ہے ، بلکہ اس کے جرم میں اس کا خاندان بھی شریک ہے ،کیونکہ بچپن میں اسی خاندان نے اس کی صحیح تربیت نہیں کی ۔
2: اس کے جرم میں معاشرہ بھی شریک ہے کیونکہ چور کو معاشرہ نے ذہین کا نام دیا ہے ۔ اور قاتل کو شجاع کا لقب دیا اور حیلہ کرنے والے کو عالم بنا دیا ،
3: اس جرم میں حکومت بھی شریک ہے ،معلوم ہونے کے باوجود اس کے جرائم کی روک تھام نہیں کرتی ،
اب ہمیں کیا کرنا ہے ،
اولا : اولاد کی صحیح تربیت ،
دوئم :نیک اور صالح افراد کو معاشرے میں متحرک رکھنا ۔
سوم: مجرموں اور انتظامیہ سے رابطوں کے بعد بات چیت کر کے ان کی اصلاح کی کوشش کرنا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس کام کے لیے اردو منظر کے ساتھیوں کے لیے ایک پیغام ہے کہ ہر ساتھی اپنی اپنی رائے سے نوازے تاکہ ہم بہتر معاشرہ کی تشکیل دے سکیں اور جرائم سے بچاؤ کے لیے اپنی اولاد کو تربیت دے سکیں ، شکریہ
آپ کی آرا کا منتظر ہوں ،

بےباک
07-04-2012, 10:04 AM
نجم الحسن صاحب آپ کا موضوع وقت کا اہم موضوع ہے ،
واقعی اولاد کی تربیت گھر سے ہوتی ہےاور معاشرہ سے بھی،
ہمارے ارد گرد معاشرہ میں اب جرم کو جرم سمجھا ہی نہیں جاتا ، بلکہ اسے ہنر مندی کہا جاتا ہے ۔یا ہوشیاری
اور اب معاشرہ چونکہ انتظامی شعبے سے مایوس ہے کہ وہ اپنی کارکردگی نہیں دکھاتا جس کی وجہ سے مجرم رشوت دے کر باھر آ جاتا ہے
اور جو بندہ اس کے جرم کو روکنے کی کوشش کرتا تھا وہی مجرم اس کا جانی دشمن بن جاتا ہے ، اس لیے رفتہ رفتہ معاشرہ نے اس قسم کے معاملات میں دخل اندازی کرنا بند کر دی ، جس کی وجہ سے جرائم پنپ رہے اور مجرمین پھیلتے جاتے ہیں ، گلی کوچوں میں آپ کے ارد گرد بےشمار بندے ہیروئن بیچ رہے ہوتے ہیں گلی کی نکر میں کھڑے ہو کر ، اور کوئی شریف آدمی ان کو روکنے کی ہمت نہیں کر پاتا ، صرف اور صرف اس وجہ سے کہ غنڈے گرفتاری کے آدھ گھنٹے بعد وہیں اس کے سامنے کھڑے ہوتے ہیں اور کہتے ہیں ،آپ نے ہمارا کیا بگاڑ لیا ، اب آپ ہماری دشمنی کو بھگتو ،
یہ وہ عوامل ہیں جس سے جرم پھیلتا ہے ،

سرحدی
07-05-2012, 09:34 AM
محترم جناب نجم الحسن صاحب آپ نے ایک اچھے موضوع پر قلم اٹھایا ہے، اس کے ساتھ ساتھ بے باک بھائی نے بھی معاشرہ کو بگاڑنے والے عوامل کا تذکرہ کرکے اس کے سدباب کی طرف اپنے مضمون میں اشارہ دیا ہے۔
یہاں پر میں عرض کروں گا کہ واقعتا معاشرہ میں بگاڑ ابتداء میں اپنے ہی گھر سے شروع ہوتا ہے اور والدین بچوں کے رہن سہن اور اس کے حلقہ احباب کی طرف توجہ نہیں کرتے، پھر جب وہ بے راہ روی کا شکار ہوتا ہے تو والدین سر پیٹتے رہ جاتے ہیں، لیکن اس میں قصور صرف والدین کا ہی نہیں بلکہ لادینیت اور برائی کی سرپرستی بھی ہے، انسان کے مزاج میں اللہ تعالیٰ نے خیر اور شر کا مادہ ڈالا ہے اب شیطان کا کام اس کو شر کی طرف راغب کرنے کا ہوتا ہے لیکن جو بندہ اللہ تعالیٰ کا خوف دل میں رکھے وہ کبھی شیطان کے بہکاوے میں نہیں آتا۔ ہاں! اگر بالفرض کبھی کوئی کوتاہی ہوجائے تو اپنے آپ کو مجرم سمجھتے ہوئے فورا اللہ تعالیٰ سے اپنی غلطی کی معافی بھی مانگتا ہے۔ یہ سب کچھ اس کو کس نے سکھایا، یہی وہ نکتہ ہے جس پر کسی معاشرہ کی اصلاح ہوسکتی ہے اور وہ ہے اسلام کو اپنے سینے سے لگانا، اسلام کا وضع کردہ بھائی چارے کا قانون جس میں انسان اپنے آپ کو قربان کرکے اپنے مسلمان بھائی کو سکھ پہنچاتا ہے، اسلام ہمیں تعلیم دیتا ہے کہ ایک مسلمان کی جان ، مال ، عزت سب کچھ دوسرے پر حرام ہے۔ یعنی اس کی جان کو مال کو عزت کو نقصان پہنچانے کو اسلام ناجائز کہتا ہے اور اس کی اجازت کسی کو نہیں دیتا کہ وہ کسی دوسرے مسلمان کی حق تلفی کرے۔ اسی جذبہ کو بیدار کرنے کی ضرورت ہے کہ بھائی مسلمان کا مسلمان سے رشتہ بھائی چارے کا ہے، اور اس رشتہ کو بنانے والا اللہ تعالیٰ ہے جس نے تمام مخلوقات کو پیدا فرمایا ہے۔ اسی طرح ہمدردی کا جذبہ صرف اپنے مسلمان بھائی سے ہی نہیں رکھا جاتا بلکہ ان ذمی غیر مسلموں سے بھی ہے جو ہمارے ملک میں ہمارے ماتحت ہیں جو سرکشی پر نہ اُترتے ہوں، ان کے ساتھ بھی اچھائی کا معاملہ کرنے کا ہمیں درس ملتا ہے، بس فرق اتنا ہے، کہ ہمدردی کے جذبہ میں اتنا نہ ڈوب جائیں کہ اپنا دین ہی بھلا بیٹھیں۔
اللہ تعالیٰ ہمیں ایک دوسرے سے محبت کرنے اور ایک دوسرے کا حق ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔