PDA

View Full Version : مسواک ! ایک اہم سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم



سرحدی
07-03-2012, 10:35 AM
مسواک ، ایک اہم سنت رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ

اللہ پاک نے ہماری ہدایت وراہ نمائی کے لیے انبیا ورسل اور کتب سماویہ کا سلسلۃ الذہب حضرت آدم علیہ السلام سے شروع فرما کر ہمارے محبوب فداہ ابی وامی حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن مجید پر ختم فرما دیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن مجید کی آیت ﴿لتبین للناس﴾کے حکم پر عمل کرتے ہوئے مکمل تفسیر وتشریح فرمانے کے ساتھ ﴿ما اٰتکم الرسول فخذوہ﴾ کے تحت دین وشریعت کی اور بھی بہت سی باتیں بتلائی ہیں جن پر عمل کرنے سے ایک انسان فلاح دارین وشفاعت کا مستحق ہو سکتا ہے۔

اوراتباع سنت کی ترغیب دی کہ ”علیکم بسنتی و سنۃ الخلفاء الراشدین المھدیین․“ ( مشکوٰة)

”تم پر میری او رمیرے تربیت یافتہ صحابہ خلفاء راشدین کی سنت کو مضبوط تھامنا ضروری ہے۔ “ اور سنتوں کو رواج دینے کی بڑی فضیلت بیان فرمائی کہ ”من احیاء سنتی عند فساد امتی فلہ اجر مائة شہید“ ( مشکوٰة)

”جو فساد امت کے زمانے میں ایک سنت زندہ کرے گا اس کو سو شہیدوں کا ثواب دیا جائے گا۔“ ایک شہید خدا کے لیے خلوص سے جان دینے والے کا اتنا ثواب ہے کہ اس کے جسم کے خون کا قطرہ زمین پر گرنے سے پہلے اس کی مغفرت کر دی جاتی ہے ۔ (الحدیث) فی زمانہ اہم سنتوں کے ساتھ ایک خاص، بلکہ بہت اہم سنت مسواک سے عام طور پر جو لاپرواہی وبے اعتنائی برتی جارہی ہے اس کو احیائے سنت کی نیت سے لوگوں کو ترغیب وتوجہ دلانے کی غرض سے فضائل مسواک والی چند احادیث کا ترجمہ پیش خدمت ہے۔

٭… حضرت ابوایوب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا چار چیزیں پیغمبروں کی سنتوں میں سے ہیں۔
حیاء۔ خوش بو۔ نکاح۔ مسواک۔ (ترمذی شریف)
گویا ان سنتوں پر عمل کرنا سب نبیوں کی سنتوں کو زندہ کرنا ہے۔

٭… حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا” اگر مجھے یہ خیال نہ ہوتا ہے کہ میری امت مشقت میں پڑ جائے گی تو میں ان کو ہر نماز کے وقت مسواک کرنے کا حکم دیتا۔“ (مسلم شریف)

٭… حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا” مسواک منھ کو صاف کرتی ہے او رالله تعالیٰ کی خوش نودی کا ذریعہ ہے۔“ (نسائی شریف)
اس وقت تو سبھی اطباء و حکماء کا مشورہ ہے کہ مسواک منھ کو بالکل صاف کرنے کے ساتھ بد بو وغیرہ سے روکتی ہے ۔ ہاضمہ کے نظام کو درست کرتی ہے، بلغم، صفرہ وغیرہ کو دور کرتی ہے۔

٭… حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” مسواک کرکے دو رکعتیں پڑھنا بغیر مسواک کے 70 رکعتیں پڑھنے سے افضل ہے۔“(رواہ البزار، مجمع الزوائد)
ہمارے پاس پاکٹ کے لیے جگہ ہے ، سیل فون کے لیے جگہ ہے ، پن کے لیے جگہ ہے، گاڑی کی چابیوں کے لیے جگہ ہے ، دستی کے لیے بھی جگہ ہے ، اگر نہیں ہے تو ایک بالشت کی مسواک کے لیے جگہ نہیں ہے ۔ وا أسفاہ․
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے ایک لمبی روایت ہے کہ جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا” دس چیزیں انبیاء علیہم السلام کی سنتوں میں سے ہیں“ او راس میں اہمیت کے ساتھ مسواک کو شمار فرمایا ہے۔( مسلم شریف)

٭… حضرت ابو امامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ”جب بھی جبرئیل میرے پاس آتے مجھے مسواک کرنے کی تاکید کی، یہاں تک کہ مجھے اندیشہ ہونے لگا کہ مسواک زیادہ کرنے کی وجہ سے میں اپنے مسوڑھوں کو چھیل نہ ڈالوں۔“ (مسند احمد) اللہ اکبر کبیرا، مسواک کی اتنی تاکید بتلائی ہے کہ فرشتوں سے ملاقات کے لیے مسواک ضروری ہے۔ او رمخلوقات سماویہ ملائکہ مقربین کی پسندیدہ چیز ہے۔ بلکہ پچھلی حدیث میں گزر چکا ہے کہ رب العالمین کی بھی پسندیدہ چیز ہے۔

٭… حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دن یا رات میں جب سو کر اٹھتے وضو کرنے سے قبل مسواک فرماتے۔ ( ابوداؤد) اس سے اندازہ لگائیے کہ مسواک صرف نمازوں کے اوقات میں کیے جانے والے وضو کے ساتھ خاص نہیں ہے، بلکہ دن رات میں جب بھی وضو کرے مسواک کرنی چاہیے۔

٭… حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :” جب بندہ مسواک کرکے نماز کے لیے کھڑا ہوتا ہے تو فرشتہ اس کے پیچھے کھڑا ہو جاتا ہے او راس کی تلاوت خوب دھیان سے سنتا ہے، پھر اس کے بہت قریب آجاتا ہے یہاں تک کہ اس کے منھ پر اپنا منھ رکھ دیتا ہے اور قرآن کریم کا جو لفظ اس نمازی کے منھ سے نکلتا ہے سیدھا فرشتہ کے پیٹ میں پہنچتا ہے (اور اس طرح فرشتوں کا محبوب بن جاتا ہے) اس لیے تم اپنے منھ قرآن کریم کی تلاوت کے لیے صاف ستھرے رکھو، یعنی مسواک کا اہتمام کرو۔“ ( رواہ البزار، مجمع الزوائد)

٭… حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تہجد کے لیے اٹھتے تو مسواک سے اپنے منھ کو اچھی طرح رگڑ کر صاف کرتے۔ ( مسلم شریف)

٭… حضرت شریح رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے پوچھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب گھر میں تشریف لاتے تو سب سے پہلے کیا کام کرتے؟“
انہوں نے فرمایا” سب سے پہلے آپ مسواک کرتے تھے۔“ (مسلم شریف) ہم اپنے بارے میں غور کر لیں کہ ہم کس سے ابتدا کرتے ہیں؟

٭…حضرت زید بن خالد جہنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر سے کسی نماز کے لیے اس وقت تک نہیں نکلتے تھے جب تک مسواک نہ فرمالیتے۔ (طبرانی، مجمع الزوائد)

٭…حضرت ابو خیرہ صباحی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں اس وفد میں شامل تھا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں پیلو کے درخت کی لکڑیاں مسواک کرنے کے لیے توشہ میں دیں۔ ہم نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم)! ہمارے پاس ( مسواک کے لیے ) کھجور کے درخت کی ٹہنیاں موجود ہیں لیکن ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس اکرام اور عطیہ کو قبول کرتے ہیں۔ ( طبرانی، مجمع الزوائد)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ کھجور، نیم ودیگر لکڑیوں کو بھی مسواک کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔ لیکن بہتر زیتون اور پیلو کے درخت کی ہے ، آج کل پیلو کی مسواک رائج ہے ۔ اس سے یہ بات بھی سمجھ میں آتی ہے کہ مسواک کا ہدیہ لیتے دیتے رہنا چاہیے۔

٭… حضرت عطاء ابن ابی رباح رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ابتدا میں مسواک کی لمبائی ایک بالشت ہونی چاہیے، لیکن بعد میں کم ہو جانے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے۔ (سنن کبریٰ:40/1)

٭…حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مسواک پکڑنے کا مسنون طریقہ مروی ہے کہ مسواک دائیں ہاتھ میں اس طرح سے پکڑی جائے کہ انگوٹھا اور چھوٹی انگلی مسواک کے نیچے او رباقی انگلیاں اوپر ہوں۔

٭… حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کانوں پر مسواک رکھتے اور ہر نماز کے وقت مسواک کرتے تھے۔ ( بذل المجہود:3/1)

ملاعلی قاری فرماتے ہیں کہ مسواک میں ستر فوائد ہیں، ان میں سے ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ اس کی برکت سے موت کے وقت کلمہ یاد آجاتا ہے، اس کے برعکس افیون میں ستر نقصانات ہیں، ان میں سے کم تر نقصان یہ ہے کہ موت کے وقت کلمہ یاد نہیں آتا۔ (مرقاة المفاتیح:3/2)

مسواک کے اخروی فوائد
٭…رب کی خوش نودی کا ذریعہ ہے۔
٭… فرشتے اس سے خوش ہوتے ہیں۔
٭…اتباع نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہے۔
٭… نماز کے ثواب کو بڑھاتی ہے۔
٭… شیطانی وسوسے دور ہو جاتے ہیں۔
٭… قبر میں مونس ہے۔
٭…اس کی برکت سے قبر وسیع ہو جاتی ہے۔
٭… موت کے وقت کلمہ یاد دلاتی ہے۔
٭… جسم سے روح سہولت سے نکلتی ہے۔
٭…فرشتے مصافحہ کرتے ہیں۔
٭… قلب کی پاکیزگی ہوتی ہے۔
٭…مسواک کرنے والے کے لیے حاملین عرش استغفار کرتے ہیں۔
٭…مسواک کرنے والے کے لیے انبیا علیہم السلام بھی استغفار کرتے ہیں۔
٭… مسواک کے ساتھ وضو کرکے نماز کو جائیں فرشتے پیچھے چلتے ہیں۔
٭…شیطان اس کی وجہ سے دور اور ناخوش ہوتا ہے۔
٭…مسواک کا اہتمام کرنے والا پل صراط سے بجلی کی طرح گزرے گا۔
٭…اطاعت خداوندی پر ہمت اور قوت نصیب ہوتی ہے۔
٭…نزع میں جلدی ہوتی ہے۔
٭… جنت کے دروازے اس کے لیے کھل جاتے ہیں۔
٭…دوزخ کے دروازے اس پر بند کر دیے جاتے ہیں۔
٭… ملک الموت اس کی روح نکالنے کے لیے اسی صورت میں آتے ہیں جس طرح اولیاء اللہ اور انبیاء علیہ السلام کے پاس آتے۔
٭…دنیا سے رخصت ہوتے وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوض کوثر کی رحیق مختوم پینے کا شرف حاصل ہوتا ہے۔

مسواک کے دنیوی فوائد
٭…منھ کی پاکیزگی۔
٭…موت کے علاوہ ہر مرض کی شفا۔
٭…نگاہ کی روشنی بڑھاتی ہے۔
٭…مسوڑھوں کو مضبوط کرتی ہے۔
٭…بلغم کو دور کرتی ہے۔
٭…جسم کو تن درست رکھتی ہے۔
٭…حافظہ کو قوی کرتی ہے۔
٭… بال اُگاتی ہے۔
٭… جسم کارنگ نکھارتی ہے۔
٭… اس پر مداومت سے غربت دور ہوتی ہے۔
٭… زبان کی فصاحت ودانش بڑھتی ہے۔
٭… کھانا ہضم کرتی ہے ۔
٭…منی کی افزائش ہوتی ہے۔
٭…بڑھاپا جلد آنے نہیں دیتی۔
٭… کمر کو قوی کرتی ہے۔
٭… عقل کو تیز کرتی ہے۔
٭… چہرہ کو بارونق بناتی ہے۔
٭… درد سر کو دور کرتی ہے۔
٭… فاضل رطوبات کا ازالہ واخراج کر دیتی ہے۔
٭…داڑھ کے درد کو دفع کرتی ہے۔
٭…دانتوں کو چمک دار بناتی ہے۔
٭…اس کی برکت سے حصول رضا میں آسانی ہوتی ہے۔
٭…کثرت اولاد کا باعث ہے۔
٭… قضائے حوائج میں سہولت اورمدد دیتی ہے۔ (بحوالہ انوار الباری:109-189/6)

اللہ تعالیٰ تمام مسلمانوں کو دیگر سنتوں کے ساتھ مسواک کی سنت کو بھی زندہ کرنے کی توفیق نصیب فرمائے #
نقشِ قدم نبی کے ہیں جنت کے راستے
اللہ سے ملاتے ہیں سنت کے راستے

pervaz khan
07-03-2012, 11:33 AM
جزاک اللہ بہت اعلی شئیرنگ ہے

گلاب خان
07-03-2012, 08:34 PM
بھت عمدھ بھت خوب ماشااللہ