PDA

View Full Version : نیٹو دستوں کے لیے پاکستانی سپلائی روٹ بحال



بےباک
07-04-2012, 09:07 AM
http://dawnurdu.files.wordpress.com/2012/05/nato-tankers-khi-ppi-670.jpg%3Fw%3D670%26h%3D350

پاکستان اور امریکا کے مابین ہونے والی ایک ڈیل کے نتیجے میں اسلام آباد نے نیٹو سپلائی روٹ کی بحالی کا اعلان کر دیا ہے۔گزشتہ سات ماہ سے اس روٹ کی بندش کی وجہ سے پاک امریکا تعلقات میں واضح کشیدگی پائی جاتی تھی۔

اس فیصلے سے قبل امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن نے اپنی پاکستانی ہم منصب حنا ربانی کھر کو فون کر کے سلالہ چیک پوسٹ کے واقعے میں پاکستانی فوجیوں کی ہلاکت پر معذرت کا اظہار کیا۔

گزشتہ برس نومبر میں سلالہ چیک پوسٹ پر نیٹو کے ایک فضائی حملے کے نتیجے میں چوبیس پاکستانی فوجی شہید ہو گئے تھے۔ اس حملے کے بعد اسلام آباد حکومت نے افغانستان میں تعینات اتحادی افواج کے لیے سامان کی ترسیل کے لیے زمینی راستہ احتجاجاﹰ بند کر دیا تھا۔ حکومت پاکستان نے واشنگٹن سے کہا تھا کہ جب تک اس واقعے پر معافی نہیں مانگی جاتی، تب تک یہ سپلائی روٹ نہیں کھولا جائے گا۔

سلالہ چیک پوسٹ کے واقعے کے بعد سات ماہ تک جاری رہنے والے پاک امریکا مذاکرات کے دوران کئی اتار چڑھاؤ دیکھے گئے۔ تاہم منگل کو امریکا کی طرف سے باقاعدہ معافی کے بعد اس زمینی راستے کو دوبارہ کھولنے کا اعلان کر دیا گیا۔

امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن نے اپنی پاکستانی ہم منصب کے ساتھ ٹیلی فون پر بات چیت کے بعد ایک بیان بھی جاری کیا، جس میں انہوں نے کہا، ’پاکستانی فوج نے جو نقصان اٹھایا ہے، ہمیں اس پر افسوس ہے۔ ہم پاکستان اور افغانستان کے ساتھ قریبی طور پر کام کرنے کے لیے پر عزم ہیں تاکہ ایسا کوئی واقعہ دوبارہ رونما نہ ہو‘۔

امریکی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ پاکستان کی طرف سے نیٹو روٹ کی بحالی کا فیصلہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ اسلام آباد حکومت افغانستان اور علاقائی سطح پر امن کی کوششوں میں عالمی برادری کے ساتھ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس روٹ کی بحالی سے افغانستان سے غیر ملکی افواج کے انخلاء میں بھی سہولت رہی ہے اور رہے گی۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے بقول حنا ربانی کھر نے ہلیری کلنٹن کے ساتھ گفتگو کے دوران انہیں یہ باور کرایا کہ نیٹو روٹ کی بندش کی وجہ ٹرانزٹ فیس میں اضافہ نہیں تھا بلکہ یہ پاکستان کی ریاستی خود مختاری کا مسئلہ تھا۔ روئٹرز کے مطابق حنا ربانی کھر نے کہا کہ نیٹو سپلائی پر کوئی ٹرانزٹ فیس نہیں لی جائے گی۔

مغربی دفاعی اتحاد نیٹو کے سربراہ آندرس فوگ راسموسن نے بھی نیٹو سپلائی روٹ کی بحالی کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ افغانستان میں قیام امن اور استحکام کے لیے پاکستان اپنا اہم کردار ادا کر رہا ہے۔

امریکا اور پاکستان کے مابین اس ڈیل کے اعلان کے ساتھ ہی طالبان نے نیٹو سپلائی لائن پر دوبارہ حملوں کی دھمکی دی ہے۔ کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے ایک ترجمان نے روئٹرز کو بتایا کہ وہ ’کسی کو بھی پاکستانی سرزمین کو ایسے مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیں گے، جن سے افغان عوام کو نقصان پہنچتا ہو‘۔
وفاقی کابینہ میں فیصلے کی توثیق کے بعد نیٹو سپلائی بحال کر دی جائے گی اور پاکستان ٹرانزٹ فیس بھی وصول نہیں کرے گا۔

سرحدی
07-05-2012, 09:39 AM
پاکستانی مسلح افواج کے 24 جوانوں کی شہادت، نتیجہ صرف معذرت!!
عافیہ صدیقی نے (بقول امریکہ) صرف بندوق تھانی، مقدمہ چلا، 80 برس قید!!
خونِ مسلم کی ارزانی!!!!!

tashfin28
07-06-2012, 09:23 PM
نیٹو سپلائی کی دوبارہ کھولنے کا پاکستانی فيصلہ اور امريکی موقف

امریکی حکومت اور انتظامیہ نیٹو کی سپلائی لائن کو دوبارہ کھولنے کے متعلق پاکستانی قابل ستائش فیصلے کی بہت قدر کرتے ہيں۔ ايک محفوظ ، پرامن اور خوشحال افغانستان اور خطے ميں ہمارے مشترکہ مقاصد کے حصول کی جانب يہ پاکستانی فيصلہ ہمارے باہمی تعاون اور جاری کی کوششوں کا ايک ٹھوس اظہار اور مثال ہے۔ امریکہ اور پاکستان کا باہمی تعاون ہمارے بہت سے مشترکہ مفادات کو آگے بڑھانے کے لئے جاری رہےگا اور دونوں ممالک مل کر کام کرتے رہیں گے اس مد ميں بڑھتی ہوئی تجارت اور سرمایہ کاری کے ساتھ ساتھ ہمارے عوامی سطح پرتعلقات کواورمضبوط راستے پر استوار کرنا شامل ہے۔ امریکی حکومت سنجیدگی سے پاکستان کے ساتھ ایسے تعلقات کے ليے پرعزم ہےجو پائیدار، اسٹریٹجک، اور احتیاط سے واضح مساوی بنيادوں پرمبنی ہو کيونکہ ايسے تعلقات سے ہمارے دونوں ممالک اور خطے کی سلامتی اور خوشحالی میں اضافہ کو يقينی بنايا جاسکتا ہے۔

امریکی حکومت کو بھر پور یقین ہے کہ ایک بار پھر ہم دونوں ممالک کے درميان ایک مضبوط، مثبت، اور باہمی مفاد پر مبنی تعلقات کیطرف گامزن ديکھ سکتے ہيں۔ ہم اس حقیقت سے اچھی طرح واقف ہیں کہ حالیہ ماضی میں ہمارے تعلقات کچھ نادانستہ طور پر ہونے والے واقعات کی وجہ سے بحران کا شکار رہے ہے۔ وقت کی يہ ايک اہم ضرورت ہے کہ ہم صورتحال کی سنجیدگی کو سمجھنے کی کوشش کريں، جو ہم سے تقاضا کررہی ہے کہ ہم اپنے اختلافات کو پس پشت ڈال کر اپنےوسائل کو خطے میں پائیدار امن کو یقینی بنانے کے لئے ایک مشترکہ گراونڈ پر اکٹھا ہرنے کيلۓاستعمال ميں لےآئيں۔

آخر کار، ہم دونوں ممالک کو ایک ساتھ کام کرنے کی اشد ضرورت کو نظر انداز نہیں کر سکتے تاکہ انتہاپسندی کی لعنت کا مقابلہ کرسکيں جس نے دونوں پاکستان اور افغانستان کے پرامن معاشروں کو يرغمال بنايا ہوا ہے۔ ہمارا حتمی مقصد خطے ميں دیرپا امن اور استحکام کو یقینی بنانا اور علاقے کوترقی کی راہ پر ڈالنے کا ہے۔ پاکستان اور امریکہ صرف اعتماد کی بنیاد پر استوار مشترکہ تعاون اور تعلقات ہی کے ذریعے ہی اس مقصد کو حاصل کر سکتے ہیں۔

یہ انتہا پسند نہايت سرگرمی سے پاکستان اور افغانستان میں معصوم لوگوں کے خلاف سنگین جرائم کے ارتکاب میں ملوث رہے ہیں۔ ہميں سمجھنا چاہيۓ کہ اگر ہم اپنے درميان مسائل کو حل کرنے ميں ناکام ہوتے ہيں تو ہم ان انتہاپسندوں اورعسکریت پسند کو انسانيت کے خلاف اپنے دہشت گردی، ظالمانہ، اور بربريت کی برے ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے لئے ایک بہترين موقع فراہم کرتے ہيں۔

نیٹو سپلائی کی دوبارہ کھولنے کےفيصلہ پر امريکہ ميں پاکستانی سفير شہری رحمان نے بجا طور پر اس بات کی نشاندہی کرتے ہوے کہا "ہم وزير خارجہ کلنٹن کے بيان کا خير مقدم کرتے ہیں اوراميد رکھتے ہیں کہ ہمارے ممالک باہمی تعلقات کے بہتری کی جانب گامزن ہونگے- ميں پر اميد ہوں کہ دونوں ممالک کئی اہم معاملات پر متفق ہو سکتے ہیں جن ميں خاص طور پر خطے ميں امن کی بحالی بھی شامل ہے۔"


تاشفين – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ
digitaloutreach@state.gov
www.state.gov
https://twitter.com/#!/USDOSDOT_Urdu
http://www.facebook.com/USDOTUrdu