PDA

View Full Version : معاشرہ کے سلگتے مسائل اور جرائم ۔ 1



نجم الحسن
07-05-2012, 10:20 AM
http://www.dorsisbakery.com/images/products/white_bread.jpg
معاشرہ کے سلگتے مسائل اور جرائم ،
اللہ تعالی نے انسان کو اس دنیا میں بھیجا اور انسان کو اس دنیا میں بہت سی چیزوں کی ضرورت ہے ، کچھ ضرورتیں تو انسان کو فطری ہیں ، آج ہم چند فطری ضرورتوں کا تذکرہ کریں گے ،
ان فطری ضرورتوں میں کھانا کی ضرورت پڑتی ہے اور ہمارا معاشرہ میں کھانا کتنے لوگوں کو میسر ہے ،اور جن لوگوں کو کھانا میسر ہے ، کیا ان کو کھانا خالص ملتا ہے ،
روٹی پر بات کرتے ہیں ، ہمارے عوام الناس سفید روٹی شوق سے کھاتے ہیں ۔اگر اس روٹی کی حقیقت معلوم ہو جائے تو کھانا چھوڑ دیں ۔ ملتان سے سفید پہاڑ ہے وھاں سے سفید مٹی لا کر اس آٹے میں ملائی جاتی ہے ، تاکہ سفید روٹی تیار ہو سکے ،
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
باقی قسط اگلے حصے میں بیان کی جائے گی ، شکریہ اور مع السلام

بےباک
07-05-2012, 10:47 AM
خؤب بات آپ نے بیان فرمائی ،شکریہ اس اہم مسلہ کو بیان کرنے سے کئی باتیں سامنے آئی ہیں ،آپ کے مضمون میں انوکھی بات سمجھ آئی ہے ، جن کو ایلوکسن میسر نہیں وہ ملتانی سفید مٹی ملاتے ہیں ،
اس سلسلے میں میں نے یہ مضمون کہیں پڑھا تھا اور میرے پاس محفوظ تھا ،
آپ سب سے شئیر کرتا ہوں ،آپ بھی پڑھیے اور سوچیے کہ ہمارے اردو گرد بیماریاں کیسے گھیرا ڈال رہی ہیں ،
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
غیر ضروری کیمیائی مواد کا استعمال مضر اثرات اور بیماریوں کی جڑ ہے۔ یہ بنی نوع انسان کیلئے ایک عذاب اور لمحہ فکریہ بن گیا ہے۔ سفید آٹا جس کیلئے اتنا بڑا بحران وجود میں آیا ہے‘ اس میں سفید کرنے والا کیمیکل ملایا جاتا ہے جسے ایلوکسن (alloxan) کہا جاتا ہے۔ یہ جز انسانوں میں ذیابیطس کا موجب ہے۔ یہ انسانوں کیلئے تباہ کن ہے۔ سفید آٹے کی روٹی کھانے سے ذیابیطس کی بیماری لاحق ہونے کے خطرات بہت زیادہ بڑھ جاتے ہیں۔ روٹی‘ چپاتی‘ نان‘ ڈبل روٹی اور بَن ہماری غذا کا جزو ہیں‘ سفید اور خوبصورت بنانے کے طریقے میں اس کیمیکل کا استعمال بڑے پیمانے پر لبلبے کو ناکارہ کرنے اور ذیابیطس کا موجب ہے۔ اس کی معلومات سائنسدانوں کو کئی سالوں سے ہے یہاں تک کہ اس کا استعمال لیبارٹری میں چوہوںمیں ذیابیطس پیدا کرنے کیلئے کیا جاتا ہے۔ آٹا جو کہ ایک بنیادی غذا اور ضرورت ہے اسے سفید کرنے والے ایلوکسن سے پوری انسانیت کا نقصان ہو رہا ہے۔ یہ عمومی طور پر زہر دینے کے برابر ہے۔
ایلوکسن یورک ایسڈ کا Derivativeہے۔ یہ لبلبہ میں Blood-Cells کو Damage کرتا ہے۔ یہ ٹھوس طور پر ثابت ہوجاتا ہے کہ ایلوکسن ذیابیطس کرتا ہے جیسا کہ کولیسٹرول دل کی شریانوں کو تنگ کرتا ہے اور عارضہ قلب کا موجب ہوتا ہے۔
ذیابیطس دنیا میں ایک وباء کی طرح پھیل رہی ہے۔ اس میں کثرت سے کھانا‘ مرغن غذا کا استعمال‘ موٹاپا ‘ ورزش کا نہ ہونا بھی وجوہات میں شامل ہیں۔ یہ انسانیت پر کیمیائی جنگ ہے۔ یہ بیماری اکثر گھرانوں میں سرایت کر گئی ہے۔ انتہائی ضروری ہے کہ اس کا نوٹس لیا جائے۔ ڈاکٹر حضرات‘ سائنسدان خاص طور پر ارباب عقل و شعور اس معاملے کو سلجھائیں اور اس کا سد باب کریں۔ آٹے کی خوبصورتی ایک سفید موت بن گئی ہے۔ ذیابیطس سے بینائی دوران خون‘ گردے‘ قلب اور جگر متاثر ہوتا ہے۔ لوگ ڈایالسس پر آجاتے ہیں‘ بازور اور خاص طور پر ٹانگیں کٹ جاتی ہیں۔ یہ حس رکھنے والے حضرات کیلئے ایک امتحان ہے۔ آئیے ہم سب مل کر اس چیز سے سب انسانوں کو آگاہ کریں۔
خالص آٹے کا استعمال‘ سفید کرنے والے بلیچنگ ایجنٹ ایلوکسن سے بہتر ہے۔ آنتوں کیلئے خالص گیہوں کافی بہتر ہے ۔ اس سے کینسر کا بھی امکان کم ہو جاتا ہے۔ یہ Refined اور غیر فطری غذا ہم سب کیلئے مضر ہے۔ آئیے ہم سب صحتمند زندگی اور اپنی نسل کے تابناک مستقبل کیلئے کام کریں۔ ہمارے محکمہ زراعت و صحت کو ہنگامی طور پر اس کیلئے تحقیق کا انتظام کرنا چاہیے۔ کہیں یہ بے حسی ہم کو ڈس نہ لے اس لئے اس سے پہلے کہ مکافات عمل ہمیں گھیر لے اس سے بچاﺅ کیلئے سوچ‘ غور و فکر اور تحقیق لازمی ہے۔

انجم رشید
07-07-2012, 01:50 PM
السلام علیکم ۔
نجم صاحب اچھا موضع شروع کیا ہے آپ نے
ہر جاندار کو زندہ رہنے کے لیے تین چیزوں کی ضرورت ہے 1 آکسیجن 2 پانی 3 غزا اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا یہ تین چیزیں ہمیں میسر ہیں اور ان کی کوالٹی کیا ہے ۔
آکسیجن دنیا بھر میں اور خاص کر تیسری دنیا کے ممالک میں ہوا آلود ہے جس سے پھپھڑوں کی بیماری عام ہے انسان نے کیا کیا نہیں کیا فضا کو آلود کرنے میں وطن عزیز میں جو کچھ جس کا دل چاہتا ہے کر رہا ہے سب سے زیادہ خرابی کا سبب گاڑیاں اور فیکٹریاں ہیں گاڑیاں اتنا دھواں چھوڑ رہی ہیں کہ روڈ پر نکلنا بہت مشکل نظر آتا ہے ہر ملک میں قانون موجود ہے ہر ملک کی کوشش ہے کہ گاڑیاں کم سے کم آلودگی پھیلایں لیکن یہاں کوی پوچھنے والا نہیں
فیکٹریوں میں نہ جانے کیا کیا جلا جاتا ہے لیکن ان پر کوی پابندی نہیں اور تو اور کیسی نے آج تک قوم کو یہ بتانے کی کوشش ہی نہیں کی کہ یہا دھواں ہمارے لیے کتنا نقصان دہ ہے یہ ایک زہر ہے جو ہمیں آہستہ آہستہ چاٹ رہا ہے
کوی کچھ بتانے والا نہیں ہم کوڑے کو آگ لگا دیتے ہیں حالنکہ یہ بہت نقصان دہ ہے سب سے زیادہ نقصان دہ پلاسٹک ہے پابندی ہونے کے باوجود پلاسٹک کا ستمال ختم نہیں ہوا پلاسٹک کے شاپر میں تیار کھانا بھی خراب ہو جاتا ہے اور جلنے پر انسان کو کینسر بھی ہو جاتا ہے ۔
درخت جو ہوا کو فیلٹر کرتے ہیں ان کو بے دردی سے کاٹا جا رہا ہے کوٰی بھی پوچھنے والا نہیں عوام تو عوام یہاں حکومت خود درختوں کی تباہی لا رہی ہے آپ ہر طرف دیکھ سکتے ہیں کیسے درخت کاٹے جاتے ہیں ہمارے شہر فیصل آباد کے بلکل ساتھ ایک بہت بڑا باغ تھا پہلے اس کو کمپنی باغ کہتے تھے بعد میں جناح پارک کا نام رکھ دیا کس کا رقبہ تقریبا چار کیلو میٹر تھا ہم سب بچپن میں گرمیوں میں وہاں چلے جاتے تھے آج اس باغ میں ہر طرف سرکاری عمارتیں بن گی ہیں بہت کم حصہ باغ کا رہ گیا ہے ۔
پانی ۔
صاف پینے کا پانی ملنا محال ہو گیا ہے پہلے ہر طرف میٹھا پانی پایا جاتا تھا آج صورت حال بہت خراب ہے پانی اتنا گندہ ہے کہ پینے کے کیا کپڑے دھونے کے قابل بھی نہیں ہے اس کی کی وجوہات ہیں یہاں ہمارے شہر میں ہر طرف فیکٹریاں ہیں ملیں ہیں ان کا نکاسی کا کوی پروگرام نہیں کی علاقوں میں یہ پانی گلیوں محلوں میں پھر رہا ہے مٹی جو پانی کو جذب کرتی ہے اور ساتھ ساتھ فلٹر بھی کرتی ہے اب وہ آلودہ پانی فلٹر کرنے سے قاصر ہے کیونکہ اتنا پانی زمین فلٹر کیسے کرے حکومت نے سیم نالے تو بنا دیے لیکن ان کا پانی بھی دریاؤں میں ہی ڈال رہے ہیں جو فصلوں میں جا کر مختلف بیماریاں پیدہ کرنے کا سبب بن رہا ہے دریاے روای کا حال ہی دیکھ لیں اب یہ دریا نہیں رہا ایک گندہ نالہ بن گیا ہے ۔
اس پانی سے یرقان سے لے کر نہ جانے کون کون سی بیماریاں پھیل رہی ہیں ۔
غزا
اب خوراک کا تو اللہ ہی حافظ سے پہلے تو آج کا تیار کردہ بیج انتہای نقصان دہ ہے جو نہ جانے بکٹیریا سے لیکر کن کن چیزوں سے تیار ہو تا ہے جس کا واحد مقصد زیادہ فصل پیدہ کرنا ہے جو صحت کے لیے انتہای خطرناک ہے پھر ان پر دواؤں کا چھڑکاؤ اور کھاد کا استمال ہے کچھ ہارمونز بھی استمال ہوتے ہیں جو فصل کو راتوں رات تیار کر دیتے ہیں میری آنکھوں دیکھا حال ہے کہ رات کو ٹماٹر بلکل سبز تھا اور صبح وہ بلکل تیار تھا ایسے ہی پلاسٹک کے شاپر میں پیک کھیرے ایک انگلی کے برابر تھے لیکن صبح وہ بلکل تیار تھی یہی حال باقی خوراک کا ہے ۔
گوشت میں مرغی ہی کو لے لیں جو چند ماہ میں تیار ہو جاتی ہے کوی بھی حلال چوپایا یا پرندہ گوشت خور نہیں ہوتا لیکن آج مرغیوں کو مرغیوں کے گوشت سے یا مچھلی کے گوشت سے تیار شدہ خوراک دی جاتی ہے
جس میں پروٹین بہت زیادہ ہوتے ہیں اور جانور بہت جلد بڑا ہو جاتا ہے ہارمون کا استمال بھی بے دریغ کیا جاتا ہے اب آپ خود ہی سوچیں یہ کتنا نقصان دہ ہے جب کہ قانون قزرت میں گھاس خور جانور گوشت نہیں کھاتے تو پھر ہماری صحت پر کیا اثر ہوتا ہوگا اپر سے انجکشن کا رواج عام ہو گیا ہے کوی زیادہ دودھ دینے کے لیے انجیکشن لگوا رہا ہے کوی کیسی اور کام کے لیے مادہ جانور کو انجیکشن لگوا رہا ہے اب یہ دودھ اور پیدہ شدہ بچہ کھانے کے کتنا قابل ہو گا آپ خود ہی سوچیے ۔
رہی سہی کسر ملاوٹ کرنے والے پوری کر رہے ہیں نہ جانے کس کس چیز کا استمال ہو رہا ہے لوگوں کی صحت تباہ ہو رہی ہے لیکن یہ مادہ پرست انسان باز نہیں آرہے شاید ان کے خیال میں یہاں ہی رہنا ہے اس دنیان میں موت تو ان کو آنی نہیں کیا کریں گے یہ لوگ حرام کی دولت جمع کرکے اس اولاد کے لیے جس نے ان کے لیے کل دعا بھی نہیں مانگنی
وسلام
فی امان اللہ