PDA

View Full Version : بچوں کو نماز کی عادت کیسے ڈالی جائے؟



بےلگام
07-09-2012, 09:40 AM
ایک مسلمان گھرانے کا ماحول بچے کو ایک ڈیڑھ سال کی عمر میں رکوع و سجود، اذان اور نماز سے آشنا کر دیتا ہے۔ گھر کا ماحول نمازی ہوگا تو بچہ لاشعوری طور پر اس کو زندگی کا ایک جزو سمجھے گا۔ پھر جس بچے کی تربیت کے لئے دعا اور دوا کا اہتمام نکاح کے رشتے میں جڑنے کے ساتھ ہی شروع ہو گیا تھا، لازماً اللہ تعالی ایسے ماں باپ کے لئے آسانیاں فراہم کر دے گا۔

کسی چیز کو بغیر سوچے سمجھے مقدس قرار دے دینا انسان کے لئے ایک (شیطانی) پھندا ہے۔ سیدنا سلیمان علیہ الصلوۃ والسلام

نماز جتنی اہم عبادت ہے، شیطان کو اس کی پابندی اتنی ہی گراں گزرتی ہے۔ وہ نماز کو مشکل ترین کام بنا کر مسلمانوں کو رب سے دور کرنا چاہتا ہے، اسی لئے نفس پہ اس کی ادائیگی گراں گزرتی ہے۔ والدین کو چاہیے کہ وہ خود اپنی نمازوں کی حفاظت کریں۔ "بے شک نماز بے حیائی اور برائی سے روکتی ہے۔" مرد حضرات خود باجماعت نماز کی پابندی کریں، لڑکوں کو مسجد میں محبت اور شفقت سے لے جائیں۔ ننھے لڑکے کو مسجد سے محبت، انس اور تعلق پیدا کروانا چاہیے۔ جس طرح بچہ باپ کے ساتھ باہر جانے اور کچھ حاصل کرنے کے شوق میں خوشی خوشی بازار جاتا ہے بالکل اسی طرح مسجد جا کر خوشیوں کے حصول اور کچھ پالینے کی آرزو پیدا کی جائے۔

اللہ تعالی سے محبت اور شکر گزاری کے جذبات پیدا کرنا والیدن کی ذمہ داری ہے۔ جو بچہ اپنے رب کا شکر گزار ہو کر آسودگی کی دولت پا لیتا ہے، اسی کے والدین کامیاب ہیں۔ نماز کو بچے کے ذہن میں اس حقیقت کا حصہ بنایا جائے کہ جو نعمتیں، خوشیاں ملی ہیں، اسے ان کا شکریہ ادا کرنا ہے اور پھر مزید چیزیں بھی تو مانگنی ہیں۔ بچے کو روزمرہ کی ننھی منی آرزوئیں اپنے رب کے سامنے پیش کرنے کا سلیقہ سکھایا جائے۔ ہر مشکل کام میں اسے اللہ سے مدد مانگنے کا، اللہ سے قربت کا احساس دلایا جائے۔

نماز کی پابندی کروانے کے سلسلے میں یہ ضروری ہے کہ اسے ابتدا میں یعنی تین سال کی عمر ہی سے ضرور اپنی نماز ادا کرنے کے دوران اپنے ساتھ رکھا جائے۔ دن میں پانچ مرتبہ نماز کی ادائیگی اس کی آنکھوں کے سامنے اور شعور کے اندر، رچ بس جائے۔ اسی عمر میں نماز کے کلمات یاد کروانے شروع کر دیے جائیں۔ جتنے بھی کلمات ترجمے کے ساتھ یاد ہو جائیں، انہی کے ساتھ نماز کی ادائیگی شروع کروائی جائے۔ لڑکے تو مسجد میں جا کر رکوع و سجود کرنے کے عادی ہو جاتے ہیں۔ لڑکیوں کو بھی گھر میں اس کی مکمل پہچان کروائی جائے۔ شروع میں بچے کو ایک نماز اور وہ بھی صرف فرض کی عادت ڈالی جائے اور یہ فجر کی نماز ہے۔ بچہ چاہے جس وقت بھی سو کر اٹھے، اسے معلوم ہو جائے کہ اٹھنے کے بعد پہلا کام نماز کا ہوتا ہے۔ پہلے وضو اور نماز پھر ناشتہ۔۔۔۔ صبح اپنے رب کے حضور حاضری کا تصور اس کے لازمی معمولات کا حصہ بن جائے۔ پھر پوری نماز فجر کی فرض و سنت کے ساتھ پابندی کروائی جائے۔
دوسری نماز جس کی پابندی آسان ہے وہ مغرب کی نماز ہے۔ چند ماہ ان دو نمازوں کی پابندی ہو۔ پھر بتدریج باقی نمازیں اور رکعتوں کے لحاظ سے بھی پہلے صرف فرائض، پھر سنت موکدہ کی پابندی کروائی جائے۔ چار پانچ سال تک مکمل توجہ، شعور، اور دعا و یقین کے ساتھ کی جانے والی یہ محنت انشاء اللہ کبھی رائیگاں نہ جائے گی۔

بےباک
07-09-2012, 10:58 AM
بہت خوب عادل نذیر ، نماز کے لیے بہت اچھا مضمون شئیر کیا ، واقعی ایک اچھا سبق اس میں موجود ہے ،ہمیں نماز کی ہر حال میں پابندی کرنی چاہیے اور اولاد کو بھی اس پر عمل کی تلقین کرنی چاھیے ، آمین
جزاک اللہ خیر
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اور عادل نذیر بھائی آپ کا سارا مضمون نماز کے بارے تھا ، تو آپ اس شعر کو نیچے سے ہٹا دیں ، اس سے غلط مطلب بن جاتا ہے

ذرا خود پڑھو ،،

غضب کیا تیری یا د نے. مجھے آ ستایا نماز میں
میرے سجدے بھی وہ قضا ہوئے،جو ادا کئے تھے نماز میں

اس کو تبدیل کر لیں ، کیونکہ آپ نماز کا سمجھا رہے ہیں ، اور شعر اس کے الٹ ہو گیا ہے ،شکریہ

اذان
07-09-2012, 11:09 AM
جزاک اللہ
بہت اچھی شئیرنگ ہے
شکریہ مرزا ویرجی

بےلگام
07-09-2012, 11:30 AM
ششکریہ آپ سب کا جو اس قابل آپ سمجھتے ہیں
بابا جی اس کو میں کیسے ختم کروں ۔ نہیں سمجھ آ رہا جی

pervaz khan
07-09-2012, 01:23 PM
جزاک اللہ
بہت اچھی شئیرنگ ہے

بےباک
07-09-2012, 09:17 PM
جہاں سے ذاتی پروفائل بنتی ہے ، وھاں دستخط میں جا کر اس کو تبدیل کریں ، عادل نزیر کے نام کو کلک کریں ، اور وھاں پر آپ کو آپ کو دکھائی دے جائے گا ، تبدیل کر لیں ،

بےلگام
07-09-2012, 11:10 PM
نہیں مل رہا بابا جی پلیز آپ ہی کردے جی

سیما
07-13-2012, 04:52 AM
جزاک اللہ
بہت اچھی شئیرنگ ہے عادل بھائی

بےلگام
07-13-2012, 08:44 AM
شکریہ آپ سب کا جی